Translater

04 اپریل 2015

مرکزی وزیر گری راج سنگھ پھر تنازعات میں پھنسے

مودی حکومت کے بڑ بولے وزیر گری راج سنگھ ایک مرتبہ پھر تنازعات میں گھر گئے ہیں۔ پہلے بھی بے تکے بیان دے چکے گری راج سنگھ نے کانگریس صدر سونیا گاندھی کے بارے میں غیر ضروری اور بے تکا تبصرہ کیا۔ انہوں نے منگل کے روز اخبار نویسوں سے کہا تھا ’’اگر راجیو گاندھی نے کسی نائیجیریا خاتون سے شادی کی ہوتی اور اگر سونیا گاندھی گوری چمڑی والی نہیں ہوتیں تو کیا کانگریس ان کی لیڈر شپ قبول کرلیتی‘‘حاجی پور میں کئے گئے اس بیہودہ اور نسلی تبصرے سے سیاسی بونڈر مچنا ہی تھا۔ گری راج سنگھ نے بیٹھے بٹھائے مصیبت مول لے لی۔ اس پر تعجب نہیں کہ حریف سیاسی پارٹی ان کے بیان کواشو بنانے میں جٹ گئی ہے۔ اس سے پہلے انہی گری راج سنگھ نے کانگریس نائب صدر راہل گاندھی پر بھی طنز کسا تھا۔ گری راج نے راہل پر کہا تھا ’’راہل سرگرم سیاست سے چھٹی لیکر غائب ہوگئے ہیں۔ وہ تو لاپتہ ملیشیائی طیارے کی طرح ہوگئے ہیں جسے کوئی تلاش نہیں کرپا رہا ہے۔ تصور کریں ہماری جگہ کانگریس اقتدار میں ہوتی اور راہل وزیر اعظم بن گئے ہوتے اور 47 دنوں سے زیادہ غائب ہوجاتے‘‘۔ گری راج سنگھ کے بیان پر کانگریس سمیت تمام سیاسی پارٹیوں اور خاتون انجمنوں نے تلخ مذمت کی ہے۔ نائیجریا نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی رائے زنی برداشت نہیں کی جائے گی۔ نائیجریائی ہائی کمیشن نے گری راج سنگھ کے تبصرے پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے ان سے معافی مانگنے کو کہا ہے۔ نگراں ہائی کمشنر او بی اوکونگور نے کہا کہ اس بارے میں وزارت خارجہ میں شکایت درج کرائی جاسکتی ہے کیونکہ سنگھ کا تبصرہ بیحد خراب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں وزیر موصوف اپنا تبصرہ واپس لیں اور نائیجریائی عوام سے معافی مانگیں۔ کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے کہا کہ مودی کے وزرا اور بھاجپا کے ممبران پارلیمنٹ کے درمیان بے شرمی کی حدیں توڑنے کی دوڑ سی لگی ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم کو خوش کرنے کے چکر میں وہ اپنا آپا کھو بیٹھے ہیں۔ سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا نے کہا کہ اس خاتون کے بارے میں بولنے کا یہ کیسا طریقہ ہے جس نے زندگی میں دکھ سہے اور دیش کے لئے اپنے عزیزوں کو کھو دیا ہے۔جب حکومت و اس کے وزیر ان کا احترام نہیں کرسکتے ہیں تو دیگر خواتین کے تئیں ان کا کیا رویہ ہوگا۔ معاملے کے طول پکڑنے کے بیچ بھاجپا پردھان امت شاہ کی سخت پھٹکار کے بعد گری راج سنگھ نے بیان پر افسوس جتایا ہے۔ خاص طور پر نائیجریا کی ناراضگی کے بعد امت شاہ نے گری راج سے فون پر بات چیت کرکے ان کو پھٹکارلگائی اور سوچ سمجھ کر بولنے کی نصیحت دی۔ مگر پارٹی نے گری راج کے خلاف کسی طرح کی کارروائی کے اشارے نہیں دئے ۔ کانگریس میں وزیر گری راج کو برخاست کرنے اور وزیر اعظم نریندر مودی سے اس مسئلے پر اپنا موقف واضح کرنے کو کہا ہے۔ آرجے ڈی چیف لالو پرساد یادو نے خواتین انجمنوں سے گری راج سنگھ کو چوڑی پہنانے کی اپیل کی ہے۔ بڑی بات نہیں کہ پارلیمنٹ کا سیشن شروع ہونے پر گری راج کے بیان کو لیکر ہنگامہ ہوا۔ کیونکہ معاملہ مودی سرکار کے وزیر کا ہے اس لئے اسے اشو بنانے کی کوشش ہورہی ہے۔ گری راج سنگھ پہلے ایسے لیڈر نہیں جنہوں نے اپنے بیان سے مودی سرکار کی کرکری کرائی ہو۔ ایسے نیتا رہ رہ کر سامنے آتے رہے ہیں۔ افسوسناک یہ ہے کہ ایسے بیانات پر خود وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے ناراضگی ظاہر کرنے کے باوجود پارٹی و حکومت کے لیڈر صبر و تحمل کا ثبوت دینے کے تئیں سنجیدہ نہیں دکھائی دے رہے ہیں اور وزیر اعظم کے لئے درد سر بنے ہوئے ہیں۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ بڑی تعداد میں ایسے لیڈر ہیں جو پبلک زندگی میں بھی حریف پارٹیوں کے لیڈروں کے تئیں ناپسندیدہ اور نازیبا الفاظ کا استعمال کرنے میں قباحت نہیں کرتے۔ گری راج سنگھ پر سخت کارروائی ہونی چاہئے، محض معافی مانگنے سے کام نہیں چلے گا۔ یہ چوتھی بار ہے جب انہوں نے اوٹ پٹانگ بیان دیا ہے۔ ایسے نیتا وزیر کے عہدے کے حقدار نہیں ہیں۔
(انل نریندر)

سنبھالیں اپنی جیب، ڈھلائی پر سروس ٹیکس نافذ ہوگیا ہے

یکم اپریل سے کئی اہم تبدیلیاں ہوگئی ہیں جو سیدھے آپ کی جیب پر اثر ڈالیں گی۔ کھانے پینے کی چیزوں، خاص کر ڈبہ بند یا پروسیسٹ غذائی سامان میں مہنگائی کا ایک اورجھٹکا جھیلنے کیلئے تیار رہنا چاہئے چونکہ بدھوار سے عام بجٹ اور ریل بجٹ میں شامل اعلانات نافذ العمل ہو جائیں گے۔ ان چیزوں کی ڈھلائی پر سروس ٹیکس لگادیا گیا ہے۔ ابھی تک کھانے پینے کی سبھی چیزوں کو اس دائرے سے باہر رکھا گیا تھا لیکن اس بجٹ میں حکومت نے چاول، دال، آٹا، دودھ اور نمک کو چھوڑ کر دیگر سبھی غذائی اجناس پر سروس ٹیکس لگادیا ہے۔ حالانکہ ایسے ریستوارں میں کھانا پینا مہنگا نہیں ہوگا کیونکہ اس پر لگنے والا سروس ٹیکس ابھی نہیں بڑھے گا۔ سروس ٹیکس کی کچھ تجاویز کو چڑیا گھر ،عجائب گھروں اور پارکوں میں داخلہ ٹکٹ سستے ہوجائیں گے جبکہ بزنس کلاس میں ہوائی سفر ،میوچیل فنڈز و چٹ فنڈ میں سرمایہ کاری مہنگی ہوجائے گی۔ اس کے ساتھ ہی پلیٹ فارم ٹکٹ 5 روپے کی جگہ10 روپے کا ہوجائے گا جبکہ ریل سفر کیلئے ٹکٹ اب 120 دن پہلے بک کرایا جاسکے گا۔پی این جی اور سی این جی کی قیمتوں میں کٹوتی ہوگئی ہے کیونکہ قدرتی گیس کی قیمتیں گھٹ گئی ہیں۔پراپرٹی کی خریداری بھی مہنگی نہیں ہوگی کیونکہ اس پر سروس ٹیکس فی الحال پرانی شرحوں یعنی 12.36 فیصد پر برقرار رہے گا۔ بجٹ پارلیمنٹ میں پاس ہونے اور صدر جمہوریہ کی اس پر منظوری کے بعد ہی اس پر 14 فیصدی کی نئی شرح نافذ ہوگی۔ ابھی اس کی نافذالعمل شرح 12.36 فیصد ہے۔ لائف انشورنس اسکیم، سینئر سٹی زن پنشن، بیمہ اسکیم، ایمبولنس سروس، پھلوں و سبزیوں کی خوردہ پیکنگ پر بھی کوئی سروس ٹیکس نہیں لگے گا۔ وہیں دوسری طرف ہوائی سفر مہنگا ہوجائے گا کیونکہ اب ٹکٹ کی 60 فیصدقیمت پر سروس ٹیکس لیا جائے گا جو ابھی 40 فیصد قیمت پر لگتا تھا۔ اکونومی کلاس کو چھوڑ کر دیگر کلاس ٹکٹ پر سروس ٹیکس کے معاملے میں چھوٹ کا تناسب گھٹایا جارہا ہے۔ میوچل فنڈ کے ایجنٹوں کے ذریعے دی جارہی خدمات، لاٹری ٹکٹوں کی مارکٹنگ، شعبہ جاتی طریقے پر چلائے جارہے پبلک ٹیلی فون، ہوائی اڈے و اسپتالوں سے ٹیکس فون عمدہ کلاس سروس ٹیکس کے دائرے میں ہوں گے۔ جہاں تک چٹ فنڈ سے متعلق سروس ٹیکس کی ادائیگی ، ٹیکس، کمیشن یا اس طرح کی دیگر رقوم حاصل کرنے والے چٹ فنڈ فور مین کے ذریعے کیا جائے گا۔ وزیر خزانہ جیٹلی نے صرف چاول، دال، آٹا، دودھ، نمک کی ڈھلائی کو ہی سروس ٹیکس سے چھوٹ دی ہے۔ باقی غذائی اجناس پر سروس ٹیکس دینا ہوگا۔ مطلب چائے کی پتتی سے لیکر، جیم، جیلی جیسے فوڈ پروسس پروڈیکٹس ہوں یا آلو، پیاز، چنا، مصور کی ڈھلائی،سبھی پر سروس ٹیکس لگے گا۔ ظاہر ہے کہ اس سے قیمتیں بڑھیں گی۔ رہی سہی کثر بے موسم بارش پوری کردے گی کیونکہ ککڑی، کھیرا، توری، لوکی، میتھی، پالک وکریلی کی فصل تباہ ہوگئی ہے۔
(انل نریندر)

03 اپریل 2015

جمہوریت کی کمی سے ڈھائی برس میں بکھر گئی ’آپ‘ پارٹی

دہلی کی حکومت پر حال ہی میں برسراقتدار آئی عام آدمی پارٹی نے نیا گھمسان یقینی طور سے پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے لیکن جس طرح سے پارٹی میں رسہ کشی جاری ہے وہ سبھی کیلئے باعث تشویش ہے۔ دیش میں الگ طرح کی سیاست کا آغاز کرنے اور سوراج لانے کا دعوی کر،وجود میں آئی عام آدمی پارٹی کا کنبہ اپنی ہی پارٹی میں سوراج اور جمہوریت نہ ہونے کی وجہ سے محض ڈھائی برس میں بکھر رہی ہے۔ جن لوک پال تحریک سے نکلی اس پارٹی نے اپنے جنم سے ٹھیک پہلے سماجی کارکن انا ہزارے کو چھوڑدیا تھا تو اب پارٹی کے بانی ممبر پرشانت بھوشن ، یوگیندر یادو بھی پارٹی سے باہر ہونے کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ غور طلب ہے کہ کئی سینئر لیڈر پہلے ہی پارٹی کا ساتھ چھوڑ کر دوسری پارٹیوں کا دامن تھام چکے ہیں۔ سنیچر کو ہوئی قومی کونسل کی میٹنگ میں یوگیندر یادو، پرشانت بھوشن اور ان کے ساتھ ہی آنند کمار اور اجیت جھا کو بھی قومی ایگزیکٹو کونسل سے باہر کرنے کا فیصلہ یقینی طور سے افسوسناک ہے۔ عام آدمی پارٹی کی تشکیل رائج سیاست کے طور طریقے بدلنے اور نیا سیاسی کلچر قائم کرنے کے مقصد سے ہوئی تھی۔کئی بار اس کی باندگی بھی دیش کی جمہوریت میں اصولوں اور اقدار کا بڑا مول ہے۔ صبر اور برداشت اور دوسرے کے تئیں احترام اس کی بنیاد ہے۔زبانی نرم گوئی کی خلاف ورزی یہاں قطعی ناقابل قبول ہے لیکن عام آدمی پارٹی کے تنازعے میں جس طرح کی زبان کا استعمال ہو رہا ہے اسے قابل ملامت ہی کہا جاسکتا ہے۔خاص طور سے اس شخص کے منہ سے جو ایک ریاست کے وزیر اعلی کے آئینی عہدے پر فائض ہو۔ عام آدمی پارٹی اتنی جلدی اعلانیہ مقاصد سے بھٹک جائے گی،رسہ کشی اور نجی غرور کا شکار ہوجائے گی یہ تصور شاید ہی کسی نے کیا ہوگا۔ تمام رضاکار چاہتے تھے کہ پارٹی میں اٹھائے گئے اندرونی جمہوریت کے سوالوں پر غور ہو، ساتھ ہی پارٹی کا اتحاد بھی بنا رہے لیکن ان کو ان سنا کردیا گیا۔ یوگیندر یادو ،پرشانت بھوشن کو سیاسی معاملوں کی کمیٹی سے پہلے ہی ہٹا دیا گیا تھا۔ قومی ایگزیکٹو کونسل میں 8 کے مقابلے11 ووٹ سے یہ فیصلہ ہوا۔ صاف تھا کہ یہ ایگزیکٹو کی میٹنگ کی عام رائے نہیں تھی۔ اروند کیجریوال کی ضد کے دباؤ میں یہ فیصلہ ہوا تھا۔ قومی کونسل کی میٹنگ میں یہ فیصلہ جس طرح سے ہوا وہ جمہوری عمل کا مذاق ہی کہا جائے گا۔ جن پر پارٹی مخالف سرگرمیوں کا الزام لگایا گیا۔ انہیں اپنا موقف رکھنے کا موقعہ تک نہیں دیا گیا۔ کونسل کے ممبران کو زبردستی باہر ہی روک دیا گیا۔ کچھ لیڈروں سے مار پیٹ بھی کی گئی۔ عام آدمی پارٹی اور اس کے عہدیداران کے لئے سخت امتحان کی گھڑی ہے۔ نہ صرف عوام سے کئے گئے وعدوں پر کھرا اترنے کی بلکہ اپنے گھٹیانظریئے اور برتاؤ سے اسے خاکے میں کھرا اترنے کی جہاں سے متبادل لیڈروں کا وجود ابھرتا ہے۔ ان کی پارٹی کے اندرونی تعطل کا مسئلہ ہو یا دہلی میونسپل کارپوریشنوں کے تئیں برتاؤ کا ہو، کیجریوال صبر و تحمل کے ضروری پہلو کو کھوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ کبھی خود کو چھوٹا بڑا بھائی ماننے والے اروند کیجریوال ۔ یوگیندر یادو کے درمیان خلیج اتنی گہری ہو گئی ہے کہ اسے بھرنا ممکن نہیں لگتا۔ انتظار بٹوارے باقاعدہ اعلان ہونے کا ہے۔ کم و بیش یوگیندر گروپ بھی مان چکا ہے کہ الگ ہونا طے ہے۔ اب ٹیم یادو کی کوشش یہی ہے کہ متبادل سیاست دینے کے دعوے سے نکلی عام آدمی پارٹی کو ٹیم کیجریوال کے پالے میں جانے نہ دیا جائے۔14 اپریل کو بلائی گئی میٹنگ اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ میٹنگ میں شکتی پردرشن کرکے یوگیندر یادو آپ پر اپنا دعوی ٹھونک سکتے ہیں۔ جمہوریت کی کمی میں محض ڈھائی برس میں بن کے بکھر گئی عام آدمی پارٹی۔
(انل نریندر)

سلمان نہیں،میں چلا رہا تھا کار: ڈرائیور

اداکار سلمان خاں کے ہٹ اینڈ رن معاملے میں ایک نیا ڈرامائی موڑ آگیا ہے۔ پیر کو ممبئی کی سیشن عدالت میں سلمان خاں کے ڈرائیور اشوک سنگھ نے ستمبر2002ء میں ہوئے کار حادثے کا الزام خود پر لے لیا۔ اشوک سنگھ کا کہنا ہے کے ہٹ اینڈ رن حادثے کے وقت سلمان خاں نہیں بلکہ وہ خود گاڑی چلا رہے تھے۔ اس حادثے میں ایک شخص کی موت ہوگئی تھی، دیگر 4 افراد زخمی ہوگئے تھے۔ 28 ستمبر2002ء کو نشے کی حالت میں سبسٹی باندرا میں ایک بیکری میں اپنی لینڈ کروزر گاڑی کو گھسانے دینے کے ملزم سلمان خاں نے پچھلے ہفتے عدالت کو بتایا تھا کہ سنگھ کار چلا رہا تھا۔ ڈرائیور اشوک سنگھ پیر کو پہلی بار عدالت میں اپنا بیان درج کراتے ہوئے کہا کہ گاڑی کا پچھلا ٹائر پھٹنے سے ہوئے حادثے کے وقت کار وہ خود چلا رہا تھا نہ کہ سلمان خاں۔ یہ پہلا موقعہ تھا جب سلمان خاں نے انکشاف کیا تھا۔ 22 سالہ ڈرائیور اشوک سنگھ بچاؤ کے گواہ کے طور پر عدالت میں پیش ہوئے تھے اور سلمان کے بیان سے پوری طرح ملتا جلتا ہی بیان دیا۔ واقعہ کی تفصیل رکھتے ہوئے سنگھ نے کہا کہ ایک ٹائر پھٹا اور کار بائیں طرف گھسٹتی چلی گئی۔ میں نے کار کے اسٹیرنگ ویل کو گھمانے کی کوشش کی تھی لیکن یہ مشکل تھا۔ اس کے بعد میں نے بریک لگانے کی کوشش کی لیکن تب تک کار بیکری کی سیڑھیوں پر چڑھ چکی تھی۔ سلمان خاں کے وکیل سری کانت شیواڈے کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے سنگھ نے کہا میں صدمے کی حالت میں تھا اور سلمان بھائی بائیں طرف بیٹھے تھے۔انہوں نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ جام ہوگیا تھا۔ میں اپنی طرف سے اترا جو دروازہ دائیں طرف تھا۔ سرکاری وکیل کے ایک سوال کے جواب میں سنگھ نے اس بات سے انکار کیا کہ وہ سلمان کے لئے اپنی جان تک قربان کرنے کو تیار ہیں لیکن اس نے قبول کیا کہ وہ ان کے خاندان کے تئیں وقف ہیں۔ایک دوسرے سوال پر اس نے کہا کہ اسے پتہ تھا کہ حادثے میں ایک شخص کی موت ہوگئی ہے اور کئی دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ اس نے ایک جرم کیا ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ جب اسے پتہ تھا کہ خان کو غلط طریقے سے سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو اتنے وقت تک وہ کیوں چپ رہا؟ سنگھ نے کہا اسے پتہ نہیں تھا کہ کیا کرنا ہے، سنگھ نے کہا کہ سلیم خاں کے ذریعے صلاح دینے کے بعد وہ عدالت میں آیا ہے۔ وہ اب بھی خاں پریوار کے لئے کام کررہا ہے۔ ایک سوال پر سنگھ نے اس بات سے انکار کیا کہ اگر گاڑی100 سے140 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہو تو ٹائر پھٹے گا۔ سنگھ کا بیان کانسٹیبل رویندر پاٹل کے بیان سے بالکل الٹ ہے جس کی معاملے کی سماعت کے دوران ہی ٹی بی سے موت ہوچکی ہے۔ اس معاملے میں سلمان پر غیر ارادتاً قتل کا مقدمہ چل رہا ہے جس میں قصوروار ثابت ہونے پر انہیں10 برس تک کی قید ہوسکتی ہے۔
(انل نریندر)

02 اپریل 2015

جموں وکشمیر میں پرانے زخم بھرے نہیں، نئی مصیبتیں کھڑی ہوگئیں

سرزمیں پر جنت کہی جانے والی کشمیر وادی میں ان دنوں پھر چاروں طرف تباہی کا منظردکھائی دے رہا ہے۔ کشمیرکا دور دراز علاقہ پانی کے بھراؤ کی سنگین حالات کی کہانی بیاں کررہا ہے۔تمام بازار بند ہیں اور لوگ اپنے گھروں کی بالائی منزل میں بیٹھ کر چاروں طرف جمع پانی کو دیکھ کر خوفزدہ ہیں۔ کہیں یہ پچھلے ستمبر کی تباہی کی شروعات تو نہیں ہے؟ بارش مسلسل ہورہی ہے اور رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ محکمہ موسمیات نے 3 اپریل تک موسم خراب رہنے کی پیش گوئی کرکے لوگوں کی دھڑکنیں بڑھا دی ہیں۔ لوگ کنبوں سمیت محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کررہے ہیں۔ ڈل جھیل کے پانی کی سطح میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اس کے باوجود جھیل کے کنارے شکارے والے سیاحوں کا انتظار کررہے ہیں۔ کشمیر وادی میں تازہ سیلاب کی صورتحال اتنی سنگین فی الحال تو نہیں ہے لیکن اس سے شہریوں کے دل میں گزشتہ ستمبر 2014ء کے خوفناک ترین سیلاب کی یادیں تازہ ہوگئی ہیں۔پچھلے سیلاب میں جس حد تک تباہی ہوئی تھی اور کشمیر وادی کا ہر شہری کسی نہ کسی طرح سے متاثر ہوا تھا اس کے اثر کو اب بھی محسوس کیا جارہا ہے۔ اس لئے سرینگر میں جب جہلم ندی سیلاب کے خطرے کے نشان سے نیچے بہہ رہی تھی، تبھی لوگوں نے محفوظ مقامات پر جانا شروع کردیا تھا۔ مسلسل بارش سے پیر کی صبح جہلم ندی کی آبی سطح خطرے کے نشان سے اوپر چلی گئی تھی۔ اور ندی کے قریب رہنے والے لوگوں کو وہاں سے ہٹانے کا کام شروع کردیا گیا۔ کشمیر کے دیہی علاقوں میں سیلاب کا اثر پہلے سے ہی شروع ہوگیا تھا۔ کئی راستے سیلاب کی وجہ سے بند ہوگئے ہیں اور کچھ لوگوں کے مرنے کی خبریں بھی آئی ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ ستمبر کے واقعے سے سبق لے کر انتظامیہ اس مرتبہ کافی چوکس ہے اور تیزی سے راحت رسانی اور بچاؤ کا کام ہورہا ہے۔ جموں وکشمیر میں آئے سیلاب سے بچاؤ اور راحت کی کمان مرکزی حکومت نے سنبھال لی ہے۔ صوبے کے حالات پر وزیر اعظم نریندر مودی کی سیدھی نظر ہے۔وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے ریاست کے وزیر اعلی مفتی محمد سعید سے بات کر حالات کا جائزہ لیا۔ وزیر داخلہ نے مفتی کو با آور کیا ہے کے راحت سامان کم سے کم وقت میں جہازوں کے ذریعے صوبے کے متاثرہ علاقوں میں پہنچایا جائے گا۔ سرینگر میں پھنسے سیاح جلد سے جلد اپنے خاندانوں سمیت واپس لوٹنے کی جگت میں ہیں۔ کئی ہوٹلوں کی ایڈوانس بکنگ کینسل ہوچکی ہے۔ تمام مکان ساڑھے تین فٹ پانی سے گھرے ہوئے ہیں۔پانی کی نکاسی کے لئے پمپ سیٹ لگائے گئے ہیں ،لیکن وہ کافی نہیں ہیں۔ بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بنا ہوا ہے۔ جموں کا علاقہ بھی بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔ حال ہی میں اقتدار سنبھالنے والی مفتی محمد سعید اور بھاجپا اتحادی حکومت کے لئے یہ چنوتی بن کر آئی ہے کہ وہ کتنی جلد اور زیادہ سے زیادہ متاثرہ لوگوں کو امداد پہنچا سکتے ہیں؟ محفوظ نکال سکتے ہیں۔ اس فوج پر جس پر پتھراؤ کرتے کشمیری اب اسی کے سہارے ہیں۔ فوج پوری طرح بچاؤ و راحت کے کاموں میں لگی ہوئی ہے۔ جموں و کشمیر میں پرانے زخم بھرے نہیں کہ نئی مصیبتیں سر پر آگئی ہیں۔
(انل نریندر)

دھار اور مونگیر کے غیر قانونی ہتھیاروں سے بڑے ہیں جرائم

راجدھانی میں تیزی سے بڑھتے جرائم کے گراف کو دیکھ کر گھبراہٹ ہونا فطری ہی ہے۔ پچھلے سال کے مقابلے اس سال راجدھانی میں جرائم 100 فیصدی سے زیادہ بڑھے ہیں۔ تیزی سے بڑھتے جرائم کے پیچھے غیر قانونی ہتھیاروں کی آسانی سے دستیابی بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ دھر پکڑ والے ہتھیاروں کی بڑھتی تعداد بھی اس طرف اشارہ کرتی ہے۔ چھوٹے بدمعاشوں سے لیکر منظم ڈھنگ سے واردات انجام دینے والے ان کا بخوبی استعمال کررہے ہیں۔ بہار کے مونگیر اور مدھیہ پردیش کے دھار علاقے سے سپلائر راجدھانی دہلی میں بیحد کم داموں پر مانگ پر یہ ہتھیار سپلائی کررہے ہیں۔ جون 2014ء میں تو پولیس نے میڈ اِن مونگیر اے ۔ کے 47 بندوق تک پکڑ لی تھی۔ پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ طمنچے (کٹا) کا چلن اب کافی پرانا ہوگیا ہے۔ بدمعاش طمنچہ کے بجائے میگزین والی دیسی پستول کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جہاں تک کوالٹی کی بات ہے تو مونگیر اور دھار میں بنے ہتھیار غیر ملکی پستول کو ٹکر دے رہے ہیں۔ دہلی این سی آر کے سپلائروں کا مونگیر اور دھار کے غیر قانونی ہتھیار بنانے والے گروہوں سے سیدھا تعلق ہے۔ یہ لوگ خود ہتھیار جاکر لاتے ہیں جبکہ کئی بار انہیں کوریئر(اسلحہ لانے) والے بھی اسے لیکر آتے ہیں۔ پکڑے گئے ہتھیار سپلائروں نے انکشاف کیا ہے کہ گروہ جس طرح کے ہتھیاروں کی مانگ کرتے ہیں انہیں بیحد کم داموں پر دستیاب کرا دیا جاتا ہے۔ چونکانے والی بات تو یہ بھی ہے کہ بہار اور مدھیہ پردیش کے جنگلوں میں چل رہی فیکٹروں میں بننے والے ہتھیاروں کی سپلائی نکسلی اور پاکستانی آتنک وادیوں تک کو بھی ہوتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا خلاصہ اس وقت سامنے آیاتھا جب کچھ وقت پہلے دہلی پولیس نے پاکستانی آتنکی تنظیم لشکر طیبہ کے ایک دہشت گرد کو گرفتار کیا تھا۔اس سے پوچھ گچھ پر پتہ چلا تھا کہ ان کو ہتھیار سرحد پار سے لانے میں کافی پریشانی ہوتی ہے۔ اب بھارت میں کچھ غیر قانونی فیکٹریوں سے ہی ان کو موٹی رقم دے کر ہتھیار مل جاتے ہیں۔ خیال رہے کہ علی پور کے بختاور پور میں واقع فارم ہاؤس میں غیر قانونی ہتھیاروں کا ذخیرہ برآمد ہوا تھا۔پکڑے گئے تین ملزمان سے پوچھ گچھ پر پتہ چلا تھا کہ غیر قانونی ہتھیاروں کی فیکٹری سنبھالنے والے پاکستانی آتنکی تنظیموں سے وابستہ ہیں۔ پولیس کے ذرائع بتاتے ہیں کہ اسی طرح سے ماؤ وادیوں اور نکسلیوں کو بھی بہار اور مدھیہ پردیش کے جنگلوں میں بننے والے ہتھیار سپلائی ہورہے ہیں۔ میں ڈبل بیرل کی شاٹ گنج اور سنگل بیرل کی گن بھی ہے۔ ماؤ وادی سب سے زیادہ انہی گن کا استعمال کرتے ہیں۔ کچھ عرصے پہلے اسپیشل سیل کے ذریعے دہلی کے کشمیری گیٹ پر واقع بس اڈے سے پکڑی گئی درجن بھر گنوں کے بعد یہ بھی خلاصہ ہوا کہ گن کا استعمال یوپی ۔ ہریانہ باہوبلی ہی نہیں بلکہ وہ لوگ بھی کرتے ہیں جن کو کمپنیوں میں سکیورٹی گارڈ کی نوکری کرنی ہوتی ہے۔ ایسے سکیورٹی گارڈ کے پاس نہ تو ہتھیاروں کا لائسنس ہوتا ہے اور نہ ہی گن ہوتی ہے، پچھلے پانچ برسوں میں ناجائز ہتھیاروں کی سپلائی سب سے زیداہ ہورہی ہے۔ پچھلے 7-8 برسوں میں بدمعاشوں کے ہتھیار بھی بدلے ہیں۔
(انل نریندر)

01 اپریل 2015

دنیا کی نمبرون بیڈ منٹن کھلاڑی سائنا نہوال

دونوں دن پہلے کرکٹ ورلڈ کپ میں ٹیم انڈیا کی ہار سے دیش کے کھیل شائقین میں چھائی مایوسی سنیچر کے روز کچھ حد تک ضرور دور ہوگئی۔کرکٹ کے سیمی فائنل میں ہندوستان جمعرات کو آسٹریلیا سے ہار کر باہرہوگیا تھا لیکن سنیچر کو ہی ایک دوسرے کھیل بیڈ منٹن میں جشن منانے والی خبر آئی۔ ہندوستان کی نمبرون خاتون شاٹلر سائنا نہوال نے ورلڈ بیڈ منٹن شپ میں اپنا دبدبہ ثابت کردیا اور دنیا کی نمبرون کھلاڑی بن گئیں۔ سائنا نہوال نے ورلڈ رینکنگ میں نمبرون پر پہنچنے والی پہلی خاتون بیڈمنٹن کھلاڑی بن کر تاریخ رقم کردی۔ سائنا نے نمبرون کے تاج پر اس وقت قبضہ جما لیا جب ان کی قریبی حریف اسپین کی کیرولینامارن یہاں انڈیا اوپن سپر سیریز سیمی فائنل میں ہارگئیں۔ پرکاش پڈکون نمبر ون کھلاڑی رہ چکے ہیں ۔لیکن خاتون ٹیم میں سائنا نے ایسا کرکے نئی تاریخ رقم کرڈالی۔ لیکن جشن کا مزہ تب اور بڑھ گیا جب سائنا نے سٹی فورڈ کمپلیکس کوڈ میں چل رہے چیونکس ۔سنرائز انڈیا اوپن سپر سیریز کے فائنل میں جگہ بنائی۔ ہندوستان کے ایک اور کھلاڑی کے۔ سری کانت نے بھی فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔ یوں تو سائنا سیمی فائنل کھیلے جانے سے پہلے ہی دنیا کی نمبر ون کھلاڑی بن گئیں تھیں۔ ویسے سرکاری طور پر رینکنگ اگلے ہفتے جاری ہوگی لیکن چارل کی ہار سے سائنا کا نمبر ون بننا طے ہے۔ دوسری سیٹ موجودہ ورلڈ چمپئن مارن کو، تیسرے سیٹ تھائی لینڈ کی ریٹنا چوک رن تانون نے21-19 ،21-23 ، 22-20 سے ہرایا۔ دوسرے سیمی فائنل میں سائنا نے چمپئن کی طرح کھیلتے ہوئے یوئی ہاشی مولی کو صرف گیموں میں21-15 ، 21-11 سے ہرایا۔ یہ جاننا بھی کم دلچسپ نہیں ہے کہ 2 سال پہلے ہاشی مولی نے سائنا کو ہراکر انڈیا اوپن سے باہر کردیا تھا۔ سائنا سیمی فائنل میں ہارتی تو بھی ان کے 75761 پوائنٹ ہوتے۔آخری چار میں پہنچنے کیلئے انہیں 6420 پوائنٹ ملیں گے۔ کیرولینا کو بھی سیمی فائنل میں پہنچنے کے 6420 نمبر ملے جس سے ان کا کل ٹوٹل 73618 ہوگیا۔ لندن اولمپک میں تانبے کا میڈل جیتنے والے سائنا نے اپنے کیریئر میں اب تک14 بین الاقوامی خطاب جیتے ہیں۔ حال ہی میں وہ آل انگلینڈ چمپئن شپ فائنل میں پہنچنے والی پہلی خاتون ہندوستانی بنی تھیں۔ رینکنگ کے بارے میں پوچھے جانے پر سائنا نے کہا فی الحال میرا پلان نمبر ون رینکنگ پر نہیں ہے ، میں ابھی تمام ٹورنامنٹوں میں کھیلنے اور جیتنے پر اپنے آپ کو مرکوز کررہی ہوں۔ انہوں نے کہا میں اچھا کھیل کھیلنا چاہتی ہوں اور ان کھلاڑیوں کو ہارانا چاہتی ہوں جن سے ہار رہی تھی۔ میں اس طرح سے ہارنا نہیں چاہتی جیسے پچھلے تین برسوں میں ہاری ہوں۔ میں لگاتار اچھا کھیلنا چاہتی ہوں۔ رینکنگ برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے اور اس کے لئے زیادہ تر اچھا کھیل کا مظاہرہ ضروری ہوتا ہے۔ سائنا نمبر ون رینکنگ کو بنائے رکھنا چاہتی ہوں گی ہم انہیں اس شاندار کارنامے پر مبارکباد دینا چاہتے ہیں۔ کچھ حد تک ورلڈ کپ کرکٹ میں ہار کا غم کچھ کم ضرور ہوا ہے۔
(انل نریندر)

نر پیندر مشر ابنام چمت رائے!

شری رام جنم بھومی ٹرسٹ میں چھڑا دے کو لیکر کی گئی چوری کے تنازعہ میں ایک نیا موڑ آگیا ہے ۔ رام مندر ٹرسٹ سے استعفی کے بعد چمت رائے کا ایک نو...