Translater

04 جون 2011

با با رام دیو بنام انا ہزارے

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

4 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
بابا رام دیو اپنا جن آندولن 4 جون سے کرنے پر اڑیل ہیں۔ حالانکہ حکومت ہند نے ہمت نہیں ہاری ہے اور بابا کے سامنے سرنڈر کر کے پرنام کرلیا ہے لیکن بابا ہیں کہ مانتے ہی نہیں۔ ایک نہیں کئی وزیر بابا کو منانے میں لگے ہوئے ہیں لیکن بابا کی تیاریاں زور شور سے چل رہی ہیں جو آج پوری کر لی جائیں گی۔ دہلی کے رام لیلا میدان میں ہونے جارہے بابا کے ستیہ گرہ کی تیاریوں کو سن کر میں حیران رہ گیا۔ بابا کے لئے اسپیشل ٹینٹ لگا ہے۔جس میں صوفہ، کولر، ایل سی ڈی، ڈی ٹی ایم کنکشن کی سہولت ہے۔ ستیہ گرہ کیلئے پنڈال ساؤنڈ اور اسٹیج کیلئے کاریگر ہری دوار اور رشی کیش سے بلائے گئے ہیں۔ بابا جس اسٹیج پر بیٹھیں گے اس پر ایک بار میں 250 لوگ بیٹھ سکیں گے۔ تحریک کے دوران دیش بھر میں قریب ڈیڑھ لاکھ سے دو لاکھ لوگوں کے آنے کی امید ظاہر کی جارہی ہے۔ اس کے لئے خصوصی پنڈال بنایاگیا ہے۔ پنڈال میں قریب 800 پنکھے،100 کولر لگے ہوں گے۔ پورے پنڈال میں 750 لاؤ اسپیکر لگے ہوں گے۔ ایک طرف بابا کے حمایتیوں میں زبردست جوش ہے تو دوسری طرف انا ہزارے نے بھی اعلان کردیا ہے کہ وہ بھی بابا رام دیو کے ساتھ ہیں۔ بیرونی ممالک میں جمع کالی کمائی دیش میں لانے اور اسے قوم کی املاک اعلان کروانے والے بابا رام دیو کو انا ہزارے نے کہا کہ وہ سرکار کے جھانسے میں نہ آئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ5 جون کو بابا سے ملنے جائیں گے۔ انا نے ممبئی سے بھیجے پیغا م میں کہا کہ سرکار وعدے تو کرتی ہے لیکن اسے پورا نہیں کرتی۔ سرکارنے مجھے دھوکہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا وہ جب بابا سے ملیں گے تو ان سے کرپشن کے خلاف ایک ساتھ لڑائی لڑنے کی بات کریں گے۔ انا کا کہنا ہے کہ جب وہ مرن برت پر بیٹھے تھے تو سرکار نے ان کو منانے کے لئے پہلے تو سارے وعدے مان لئے لیکن بعد میں سب سے پلٹ گئی۔ ویسے بھی انا اور بابا کی شخصیت میں فرق ہے۔
منموہن سرکار بابا کے آگے سرخم کیوں ہورہی ہے؟ جہاں تک ہم سمجھ پائے ہیں بابا کے تو اشو انا کے مقابلے سرکار کے لئے آسان ہیں، انا کا لوک پال بل بدعنوانی مٹانے کیلئے انتہائی سخت قدم اٹھانے کے لئے تھا جبکہ بابا تو کالی کمائی دیش میں واپس لانے کی مانگ کررہے ہیں۔ سرکار اس لئے بھی بابا کو زیادہ اہمیت دے رہی ہے کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ بابا کے پیچھے آر ایس ایس اور بھاجپا ہیں۔ اگر انہیں ایک اور بھاجپا سے توڑنا ہے تو تھوڑا دکھاوا تو کرنا ہی پڑے گا تبھی تو بھارت سرکار کے چار چار وزیر بابا کو منانے کے لئے پہنچ جاتے ہیں۔ بابا کی تحریک سے بھارت سرکار زیادہ خوفزدہ ہے ۔ دہلی کے رام لیلا میدان کے علاوہ بابا کی تحریک دیش کے 624 ضلعوں میں ایک ساتھ چلے گی۔سرکار کو ڈر ہے کہ اس میں کروڑوں لوگ شامل ہوسکتے ہیں اور ان کو اپنی حمایت دے سکتے ہیں۔ کہیں یہ 1974 کی جے پی تحریک کی طرح تحریک نہ بن جائے؟ سرکار اچھی طرح جانتی ہے کہ دیش میں بدعنوانی، مہنگائی، بیروزگاری، بڑھتی قیمتوں سے لوگ بری طرح پریشان ہیں اور وہ اپنا غصہ نکالنے کا بہانا تلاش ہرے ہیں۔ کہیں جنتا کو بابا کی تحریک وہ موقعہ نہ دے دے۔ اس لئے مرکزی سرکار دن رات یہ کوشش کررہی ہے کہ بابا اپنی تحریک ٹال دیں۔ بابا کو یہ بھی فائدہ ہوگا کہ انہوں نے انا ہزارے کا ڈرامہ دیکھا ہے اور یہ بھی دیکھا ہے کہ کس طرح ان کی سرکار نے ہوا نکال دی ہے۔ بابا اور ان کے حمایتیوں کی یہ کوشش ہوگی کہ 4 جون سے رام لیلا میدان میں ’اپ ٹانگ یوگ کیمپ‘‘ ہی نہ لگنے دیا جائے بلکہ بھارت سرکار کو جھکانے کیلئے سارا دباؤ یہیں سے پڑے۔ باقی دیکھیں بابا کی ریلی میں کیا ہوتا ہے؟
Tags: Anil Narendra, Anna Hazare, Baba Ram Dev, Corruption, Daily Pratap, Manmohan Singh, Vir Arjun

کنی موجھی ،اے راجا کے بعد دیا ندھی مارن کا نمبرآئے گا

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

4 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
برسوں تک شری رام کو گالی دینے والے ایم کروناندھی اور ان کے خاندان نے تاملناڈو اور مرکز میں مغلوں کی طرح اقتدار کا فائدہ اٹھایا ہے اور اتنا پیسہ بنالیا ہے جس کا کوئی حساب کتاب نہیں ہے۔سر پر جب شری رام کی مار پڑتی ہے تو اچھے اچھے دھرندرچت ہوجاتے ہیں۔ کروناندھی کے خاندان کے بھی برے دن شروع ہوگئے ہیں۔ سابق وزیر مواصلات اے ۔ راجہ کے بعد ان کی ممبر پارلیمنٹ بیٹی کنی موجھی کے بدعنوانی کے الزامات میں جیل جانے کے بعد ان کے خاندان کا ایک اور فرد مرکزی وزیر کپڑا دیاندھی مارن کا اب نمبر آنے والا ہے۔ ان کے خلاف ایک غیر سرکاری تنظیم سینٹر فار پبلک لیٹی گیشن نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی ہے۔ اس عرضی میں کہا گیا ہے کہ دیاندھی مارن کی جانب سے ملیشیا کے میکسز گروپ کی حمایت لئے جانے سے متعلق دستاویز اسے عدالت میں پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس گروپ نے مئی2004 سے مئی 2007 کے درمیان مارن کے ٹیلی کمیونی کیشن وزیر رہنے کے دوران چنئی کی ٹیلی کام کمپنی ایئر سیل کو خرید لیا تھا۔ الزام ہے کہ وزیر مواصلات رہتے ہوئے شیوا گروپ کی کمپنی ایئر سیل کو امریکی لائسنس دینے کا معاملہ اٹکا دیا تھا۔ ٹیلی کمیونی کیشن وزارت کے رویئے سے ناراض ہوکر اس کمپنی کے مالک سی شیو شنکر ایئر سیل کو میکسز گروپ کو بیچنے کے لئے مجبور ہوگئے تھے۔ میکسز گروپ کے مالک ملیشیا کے بزنس ٹائیکون ٹی آنند کرشن ہیں۔ الزام ہے کہ میکسز گروپ کے ایئر ٹیل کے بعد مارن خاندان کے زیر کنٹرول سن ٹی وی نے بھاری سرمایہ کاری کرتے ہوئے اس کی20 فیصد حصے داری خرید لی۔ مارن کے عہد میں ایئرسیل کو 14 لائسنس دئے گئے۔
ادھر ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کی جانچ کررہی سی بی آئی نے قومی ٹیلی کمیونی کیشن پالیسی میں 2001 ء سے ہوئی دھاندلیوں کی پڑتال کے لئے ایک ایف آئی آر درج کی ہے۔ اس سے اے۔ راجا سے پہلے رہے ٹیلی کمیونی کیشن وزیر دیا ندھی مارن بھی جانچ کے دائرے میں آگئے ہیں۔ قابل ذکر ہے تہلکہ میگزین نے اس معاملے کا خلاصہ کیا تھا۔ حالانکہ مارن نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے میگزین کو قانونی نوٹس بھیجا ہے۔ سی بی آئی کے ترجمان دھارنی مشر نے کہا کے سی بی آئی نے 2001 سے2007 کے درمیان ٹیلی کمیونی کیشن پالیسی میں ہوئی جعلسازیوں کے تعین کے لئے نامعلوم لوگوں کے خلاف یہ جانچ رپورٹ درج کرائی گئی ہے۔ اس کا مقصد اس وقت کی اٹل بہاری واجپئی سرکار کے ذریعے پاس کردہ ’پہلے آؤ پہلے پاؤ‘ اسکیم کی سہولت کا ٹیلی کمیونی کیشن پالیسی میں تعمیل ہوئی ہے یا نہیں یہ معلوم کرنا ہے۔
2006 ء میں جب دیا ندھی مارن ٹیلی کمیونی کیشن وزیر ہوا کرتے تھے تب انہوں نے اپنے خاندان کے سن ٹی وی نیٹورک کو فائدہ پہنچانے کیلئے اسپیکٹرم الاٹمنٹ میں عہدے کا بیجا فائدہ اٹھایا تھا۔ دیا ندھی مارن کے عہد میں ٹیلی کمیونی کیشن سیکٹر میں درپردہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی حد 49 فیصدی سے بڑھا کر74 فیصدی کردی گئی تھی۔ ایئر سیل میں 74 فیصدی شیئر ہولڈر میکسز نے اپنی کمپنی ایسٹرو کے ذریعے مارن بھائیوں کے سن ٹی وی نیٹورک نے600 کروڑ روپے سے زیادہ رقم کی سرمایہ کاری کی تھی۔مارن نے ٹیلی کمیونی کیشن وزیر رہتے ایئر سیل کے لائسنس اور اسپیکٹرم سے متعلق درخواستوں کو منظوری نہیں دی تھی۔ اس کے چلتے ایئر سیل کے مالک شیو شنکر نے مارن خاندان کے قریبی میکسز کو اپنے 74 فیصدی شیئر بیچ دئے تھے۔ سی بی آئی افسران کا ماننا ہے کہ شیو شنکر پر اس سودے کو لیکر بھاری دباؤ تھا۔
Tags: 2G, A Raja, Aircel, Anil Narendra, CBI, Corruption, Daily Pratap, Dayanidhi Maran, DMK, kani Mozhi, Sun TV, Vir Arjun

03 جون 2011

ایک اوربہادر قلم کا سپاہی آتنک کی بلی چڑھا

 
Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
3  جون 2011 کو شائع
انل نریندر
ایک اور قلم کا سپاہی آتنکواد کی بلی چڑھ گیا۔ پاکستان کا ایک بہادر صحافی سید سلیم شہزاد ہفتے بھر سے لا پتہ تھا۔ منگلوار کو پنجاب صوبے سے اس کی لاش برآمد ہوئی۔ لاش کی حالت دیکھ کر لگ رہا ہے کہ مارنے سے پہلے اسے بری طرح سے پیٹا گیا ہے۔ لاپتہ ہونے سے دو دن پہلے شہزاد نے ایک مضمون میں پاکستانی بحریہ کے کچھ افسروں اور آتنکی تنظیموں القاعدہ کی سانٹھ گانٹھ کا ذکر کیا تھا۔ سید سلیم شہزاد40 سال کے تھے۔ وہ اپنے پیچھے بیوی عقیلہ، دو لڑکے فحاد14 سال، اورسید8 سال و ایک بیٹی امینہ 12 سال کو چھوڑ کر آتنک واد کی بلی چڑھ گئے۔شہزاد ایشیا ٹائمز( آن لائن) اخبار ہانگ کانگ کے پاکستانی بیورو چیف تھے۔ شہزاد نے دو کتابیں ان سائٹ القاعدہ اینڈ طالبان دی بی آرڈ بن لادن اینڈ 9/11 بھی لکھی تھیں۔ شہزاد نے کچھ وقت کیلئے ٹائمس آف انڈیا کے لئے بھی رپورٹنگ کی تھی۔
سید سلیم شہزاد کی لاش منگلوار صبح لاہور سے قریب200 کلو میٹر اولم قصبے کے سرائے عالمگیر علاقے سے ایک نہر سے ملی۔ پاس ہی میں اس کی کار لاوارث حالت میں کھڑی ملی اور لاش پر اذیتوں کے نشان صاف تھے۔ اطالوی نیوز ایجنسی کے لئے بھی کام کرنے والے شہزاد اکثر اپنی رپورٹنگ میں پاکستان۔ افغانستان کے دہشت گردوں ، پاکستانی اداروں کے ساتھ ان کے روابط کے بارے میں لکھتے رہتے تھے۔ لاپتہ ہونے سے2 دن پہلے شہزاد نے اپنے ایک آرٹیکل میں پاکستانی بحریہ کے کچھ افسروں اور دہشت گرد تنظیم القاعدہ کی سانٹھ گانٹھ کے بارے میں مفصل طور پر ذکر کیا تھا۔ شہزاد آئی ایس آئی کے نشانے پر کافی وقت سے تھے۔ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی آئی ایس آئی دے چکی تھی۔ ایک چینل جی او ٹی وی نے ایک کالی سفید تصویر دکھائی جس میں شہزاد کے چہرے پر ٹارچر کئے جانے کے نشان صاف دکھائی دے رہے تھے۔ 27 مئی کو شہزاد نے آرٹیکل لکھا جس کا عنوان تھا’’ القاعدہ ہیڈ وانڈ آف پاکستان اسٹرائک سیریا‘‘ ٹائمس آن لائن میں یہ لکھا گیاتھا ۔ اس مضمون میں انہوں نے بتایا تھا کہ پی این ایس مہران بحری اڈے پر 22 مئی کو القاعدہ کا جو حملہ ہوا تھا تب القاعدہ اور بحریہ کے افسروں کے درمیان بات چیت کے ٹوٹنے کے بعد ہوا تھا۔ القاعدہ چاہتا تھا کہ پاکستانی بحری افسر ان کے کچھ حمایتی جو پاکستانی بحریہ کے قبضے میں ہیں انہیں چھوڑا جائے۔ القاعدہ آتنکی روابط کے چلتے گرفتار کئے گئے بحریہ کے ملازمین کی رہائی چاہتا تھا۔ ایتوار کی شام کو اسلام آباد میں واقع اپنے گھر سے نکلنے کے بعد یہ صحافی لا پتہ ہوگیا تھا۔ وہ بحریہ کے مہران بحری اڈے پر آتنکی حملے سے متعلق ایک ٹی وی پروگرام میں حصہ لینے کے لئے ’’دنیا‘‘ نیوز چینل کے دفتر جا رہے تھے۔
پاکستانی میڈیا میں ایسی خبریں آئی تھیں کہ ملک کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے انہیں اغوا کرلیا ہے۔ کئی انٹر نیشنل صحافی تنظیموں اور انسانی حقوق تنظیموں نے پاک سرکار سے شہزاد کا پتہ لگانے کی اپیل کی تھی۔ شہزاد کے قتل کی ذمہ داری ابھی تک کسی دہشت گرد تنظیم نے نہیں لی ہے۔ شہزاد کی موت سے پتہ چلتا ہے پاکستان میں قلم کے سپاہی اپنی جان ہتھیلی پر لیکر زندہ ہیں۔ ہم مسٹر سید سلیم شہزاد کو سلام کرتے ہیں اور ان کے کنبے کے افراد کو کہنا چاہتے ہیں کہ وہ دکھ کی اس گھڑی میں تنہا نہیں ہیں، ہم ان کے ساتھ ہیں۔
Tags: Anil Narendra, Daily Pratap, ISI, Islamabad, Journalist Killed in Pakistan, Pakistan, Vir Arjun

بھلر تو بہانہ ہے اصل نشانہ اسمبلی انتخابات ہیں


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
3 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
یہ انتہائی بد قسمتی کی بات ہے کہ ہمارے دیش میں سلامتی اور قانون و نظم سبھی کا ووٹ بینک پالیٹکس کباڑہ کررہی ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک آتنک وادی صرف آتنک وادی ہوتا ہے جس کا واحد مقصد ہوتا ہے اپنے مقصد کی تکمیل۔ اس کے لئے وہ نہ تو سامنے والے کے مذہب کو دیکھتا ہے اور نہ ہی شخصیت کو۔ایک دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ ان کا مذہب ہے تو بندوق یا بارود۔ تازہ تنازعہ دویندر سنگھ بھلر کو لیکر ہے۔ صدر کی جانب سے دویندر پال سنگھ بھلر کی رحم کی عرضی خارج کئے جانے کے بعد کچھ سیاسی پارٹیوں کو آنے والے اسمبلی انتخابات کے لئے اپنی اپنی سیاست چمکانے کا موقعہ مل گیا ہے۔ پنجاب میں اگلے سال فروری میں چناؤ ہونے ہیں۔ حالانکہ پچھلی ڈیڑھ دہائی میں پنجاب میں کوئی بڑی دہشت گردانہ واردات نہیں ہوئی ہے لیکن علیحدگی پسندی اور 1984ء کے دنگوں سے وابستہ اشو چناؤ کے دوران ہمیشہ سر اٹھا لیتے ہیں۔ خاص کر کچھ یوروپی ملکوں اور امریکہ میں بسے خالصتانی نظریات کے حمایتی ہمیشہ ایسے مسئلوں کی تلاش میں رہتے ہیں جس سے پنجاب میں پھر علیحدگی پسندی کا دور شروع کیا جاسکے۔ ان کی مدد کو ہمیشہ آئی ایس آئی جیسی تنظیم تیار بیٹھی رہتی ہے۔ بیشک پنجاب کی جنتا نے علیحدگی پسندی کو سرے سے مسترد کردیا ہے اور امن چین خراب ہونے نہیں دیا لیکن پھر بھی کچھ مذہبی مسئلے پنجابیوں کے طبقے کے لئے ایک دکھتی رگ کی طرح ضرور رہے ہیں۔ بھلر پر ہوئے فیصلے نے جو برسوں بعد اچانک آگیا ہے نے پھر سے بحث چھیڑ دی ہے جس کا اثر آگے دکھائی دے سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگلے کچھ مہینوں میں یہ مسئلہ مزید گرما سکتا ہے کیونکہ کچھ سیاسی پارٹیاں چناؤ مہم کیلئے اسے بھنانے کے لئے لگی ہوئی ہیں۔
پھانسی کی سزا کا انتظار کررہے بھلر کی رحم کی عرضی کو خارج ہونے کے بعد سکھوں کے مختلف پنتھک گروپ بھی ساتھ ہوگئے ہیں۔ اس طرح کی درجن بھر تنظیموں نے میٹنگ کرکے رحم کی اپیل خارج کرنے کے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو سنگین نتائج بھگتنے تک کی دھمکی دے ڈالی ہے۔ ان انجمنوں کا کہنا ہے کہ پیشے سے الیکٹرانک انجینئر اور گورو نانک دیو انجینئرنگ کالج کا سابق پروفیسر بھلر سے خالصتانی نظریات کے تھے۔ اس نے سرگرم طور سے کسی بھی آتنکی واردات میں حصہ نہیں لیا۔ دہلی بم کانڈ میں بھی اس کے خلاف کوئی گواہ نہیں تھا بعد میں عدالت میں وہ اپنے بیان سے پیچھے ہٹ گیا تھا۔ دہلی بم کانڈ کے فوراً بعد بھلر جرمنی بھاگ گیا تھا لیکن وہاں پناہ نہیں ملی اور اس کی حوالگی کرکے بھارت لایاگیا اور اس کی سزا بدلنے کے حق میں یہ دلیل بھی دی جارہی ہے کہ دہلی ہائیکورٹ کے فیصلے کو قائم رکھنے کے وقت سپریم کورٹ کی ڈویژن بنچ یا عدالت متفق نہیں تھی۔ تین ججوں میں سے ایک نے اسے الزام سے بری الزماں قراردیا اور آئینی ماہرین کہتے ہیں کہ اس کی سزا کو عمر قید میں بدلنے کیلئے یہ آئینی شق وجہ بن سکتی ہے۔
بم دھماکے کے قصوروار خالصتان لبریشن فورس کے آتنکی دویندر سنگھ بھلر کی رحم کی عرضی خارج ہونے کے بعد ویسے اب اس کے لئے آئین میں کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔ صدر کی جانب سے رحم کی اپیل خارج ہونے کے بعد ہندوستانی آئین میں قصوروار ثابت ہونے والے شخص کی سزا کے خلاف اپیل کرنے کے اختیارات ختم ہوجاتے ہیں۔ دیکھنا اب یہ ہے کہ مرکزی سرکار اس پیچیدہ مسئلے پر کیا قدم اٹھاتی ہے؟
Tags: Anil Narendra, Bhullar, Daily Pratap, Delhi Bomb Case, Khalistan, Punjab, Sikh Terrorist, Terrorist, Vir Arjun

02 جون 2011

غریب کو ہی مار دو، غریبی اپنے آپ ختم ہوجائے گی

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
2جون 2011 کو شائع
انل نریندر
ہمیں لگتا ہے کہ یوپی اے کی منموہن سنگھ سرکار نے یہ پالیسی بنائی ہے کہ غریب کو ہی مار دو،غریبی اپنے آپ ہی دور ہوجائے گی۔اگر ایسا نہ ہوتا تو کمر توڑ مہنگائی پر کچھ تو قابو پانے کی کوشش یہ سرکار کرتی؟ الٹا اب پھر پیٹرول و ڈیزل کے دام اور مٹی کے تیل کے دام بڑھانے کی تیاری چل رہی ہے۔ یہ حال تب ہے جب عالمی بازار میں کچے تیل کی قیمت فی بیرل گھٹی ہے۔ وزیر پیٹرول جے پال ریڈی نے منگلوار کو دہرہ دون میں کہا کہ غیر ملکی خام تیل کے مقابلے گھریلو بازار میں پیٹرول کی قیمتیں ابھی بھی کم ہیں اور تیل بیچنے والی کمپنیوں کو ابھی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور یہ فی لیٹر 4 روپے سے اوپر کا بتا رہے ہیں۔ جے پال ریڈی اسی دن انڈین آئل کمپنی کے چیئرمین آر ایس بوٹالا نے پریس کانفرنس کی اور بتایا کہ کم قیمت پر پروڈکس بیچنے کی وجہ سے کمپنی کا حقیقی منافع 2009-10 کی بہ نسبت گھٹا ہے۔ کمپنی کو 2009-10 میں 10221 کروڑ روپے کا منافع ہوا تھا جو گھٹ کر اختتام پذیر مالی سال کی آخری سہ ماہی میں 3905 کروڑ16 لاکھ روپے رہا۔ یعنی یہ حقیقی منافع کی بات کرہرے ہیں جبکہ وزیر موصوف کمپنی میں گھاٹے کی بات کررہے ہیں۔ بین الاقوامی منڈی میں دیگر کرنسیوں کی بہ نسبت ڈالر کی قیمت مضبوطی کی وجہ سے خام تیل کے دام99 ڈالر فی بیرل آگئے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ پچھلے ماہ کے آغاز میں خام تیل کی قیمتیں 34 ماہ میں سب سے اونچے پائیدان 115 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھیں۔ قارئین کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ پاکستان میں اس وقت پیٹرول کے دام صرف17 روپے فی لیٹر ہیں جبکہ انڈونیشیا جیسے ملکوں میں پیٹرول کی قیمت اس سے بھی کم ہے۔
ان تیل کمپنیوں نے دیش کے غریب درمیانے طبقے اور ملازمین طبقے کی ناک میں دم کررکھا ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان بڑی بڑی تیل کمپنیوں کی مالی جانچ کرائی جائے؟ آخر ان کے خرچوں کا حساب کیا ہے؟ان کی عیاشی کی وجہ سے جنتا کیوں پس رہی ہے؟ دراصل یہ نورتن کمپنیاں ہی دیش کو لوٹ رہی ہیں۔ آج تک سرکار نے یہ کبھی نہیں بتایا کہ پرائیویٹ فیکٹر میں پیٹرول ، ڈیزل کی کتنی کھپت ہوتی ہے۔ ہمارا اندازہ ہے تیل کی کھلی کھپت میں سرکاری و ان نو رتن کمپنیاں ریلوے ، ایئر لائنس ان میں 70 سے80 فیصدتیل کی کھپت ہوتی ہے۔ حکومت اپنے کوٹے میں 10 فیصد کمی کیوں نہیں کرتی۔ بار بار قیمتیں بڑھا کر مہنگائی بڑھانے سے باز آئے۔ جنتا کو یہ بھی سرکاری طور سے بتایا جائیکہ آج کل بک رہے پیٹرول دہلی میں 63.37 پیسے فی لیٹر ہے اس میں سرکاری ٹیکس کتنے ہیں؟ سرکار کی لاگت کیا آتی ہے جسے وہ 62 روپے پر فروخت کرتی ہے؟
ماہر اقتصادیات ڈاکٹر منموہن سنگھ سے دیش کو بہت امیدیں تھیں لیکن انہوں نے سب پر پانی پھیر دیا ہے۔ وزیر اعظم سے تو زیادہ حساس ہمارا سپریم کورٹ ہے جس نے حال ہی میں ایک فیصلے میں کہا کہ فری مارکیٹ مسائل کا حل نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے جدید معیشت کی پالیسیوں اور اصلاحات اور نجی کرن اور عالمی کرن کی زبردست تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فری مارکیٹ کی فارن سسٹم پر دوبارہ نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ جسٹس سدرشن ریڈی اور جسٹس ایس این نجر کی ڈویژن بنچ نے صاف کہا سرکار فری مارکیٹ کے نام پر اپنی اس آئینی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتی جس کے تحت اس نے عوامی بہبود کے لئے کام کرنا ضروری ہے۔ بغیر ریگولیٹری والہ مستثنیٰ سسٹم میں بازار وسیع طور پر ناکامی کی طرف بڑھ جائیں گے۔
Tags: Anil Narendra, Daily Pratap, India, Manmohan Singh, Petrol Price, Poor, Poverty, Vir Arjun

ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کے 14 ویں ملزم کریم مورانی بھی تہاڑ پہنچے

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
2جون 2011 کو شائع
انل نریندر
بالی ووڈ فلموں کے پروڈیوسر اور کنگ خان عرف شاہ رخ خان کے دوست کریم مورانی بھی آخر کار شکنجے میں آہی گئے۔ سی بی آئی کی سپیشل عدالت کے جج او پی سونی نے مورانی کی ضمانت درخواست کو خارج کردیا ہے اور انہیں جیل بھیجنے کا فرمان سنا دیا۔ ضمانت کے لئے سماعت کے دوران ملزم کی جانب سے ایک مہینے سے بھی کم وقت میں 7 عرضیاں لگائے جانے پر عدالت نے سخت رویہ اپنایا ہے۔ جج موصوف نے کہا ایسا لگتا ہے جان بوجھ کر قانونی ٹال مٹول کا راستہ اپنایا گیا۔ مورانی 6 مئی سے لیکر23 مئی تک میڈیکل کے نام پر عدالت میں حاضر نہیں ہوئے جبکہ11 مئی کو سونپی گئی رپورٹ میں ان کی طبیعت بہتر بتائی گئی تھی۔ مورانی کو جیل بھیجنے کے ساتھ ہی چارج شیٹ میں شامل سبھی 14 ملزمان تہاڑ جیل پہنچ چکے ہیں۔ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کے 14 ملزم یہ ہیں اے راجہ، سدھارتھ بوہرا، سابق ٹیلی کمیونی کیشن سکریٹری، آر کے چندولیہ۔ پرائیویٹ سکریٹری اے راجہ، ونود گوئنکا،سوان ٹیلی کام پرموٹر، ڈی بی گروپ کے شاہد عثمان بلوا، سریندر تیپارہ اور ریلائنس کے گوتم دوشی، راجیو اگروال وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔
الزام کے مطابق ڈی بی ریلٹی لمیٹڈ سے 200 کروڑ روپے کسے گاؤں فروٹس اینڈ ویجیٹیبل پرائیویٹ لمیٹڈ اور وہاں سے سنے یگ میڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذریعے کلیگنر ٹیوی پرائیویٹ لمیٹڈ کو ملے۔ پیسہ سوان ٹیلی کام کو اسپیکٹرم الاٹمنٹ کے بدلے دیا گیا تھا۔ سی بی آئی کے مطابق سودے بازی میں سب سے بڑا کردار کریم مورانی کا ہی رہا جنہوں نے 6 کروڑ روپے کا فائدہ اٹھایا۔ سماعت کے دوران سی بی آئی نے کہا کہ مورانی کو معلومات تھی یہ پیسہ رشوت کا ہے۔ انہوں نے قرض لیکر کلیگنر کو قرضہ دیا جبکہ سنے یگ غیر مالیاتی کمپنی بھی نہیں ہے۔ ڈی بی ریلٹی کے اکاؤنٹینٹ ستیش اگروال نے بتایا کہ کسے گاؤں کو200 کروڑ روپے23 دسمبر 2000 ء سے لیکر 11 اگست2009ء کے درمیان بغیر کسی سمجھوتے کے ہی دے دئے گئے۔ اس کے بعد یہ پیسہ وہاں سے سنیگ میں چلا گیا۔
سی بی آئی عدالت میں ایک طرف مورانی کی ضمانت پر بحث ہورہی تھی تو دوسری طرف فلمی ہیروئنوں کی موجودگی سے عدالت میں ہلچل مچ گئی۔ آنے والی فلم ’آل ویز۔کبھی کبھی‘ کی اداکارہ زویا مورانی اس وقت جذباتی ہوگئیں جب اس کے والد کو جیل بھیج دینے کا فرمان سنا دیا گیا۔ کورٹ روم میں وہ کبھی اپنی ماں کو تاکتی رہیں تو کبھی اپنی بہن کو تو کبھی اپنے والد کو آنسو بھری آنکھوں سے دیکھتی رہیں۔ جب پولیس مورانی کو حوالات میں لے جانے لگی تو زویا زمین پر بیٹھ کر بہت دیر تک روتی رہی۔ آخر کار ایک خاتون نے آکر اس کو تسلی دلائی تب جاکر وہ اپنے آپ کو سنبھال سکی۔ عدالت میں ایک اور اداکارہ بھی آئی ہوئی تھی وہ تھی خوشبو۔ خوشبو کنی موجھی اور اے راجہ سے ملنے آئی تھیں۔ اب سب ملزمان کی تہاڑ میں محفل لگے گی۔
Tags: 2G, A Raja, Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, DB Reality, Karim Morani, Reliance Telecom, Shah Rukh Khan, Swan Telecom, Vir Arjun

01 جون 2011

پاکستان کا تو وجود ہی خطرے میں پڑنے لگا


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

1جون 2011 کو شائع
انل نریندر
پاکستان کا تو وجود ہی خطرے میں پڑنے لگا ہے کیونکہ طالبان نے خبردار کردیا ہے کہ پاکستان کے نیوکلیائی ٹھکانوں پر حملے کرنے کاکوئی منصوبہ نہیں ہے ان کا تو مقصد پاکستان کے نیوکلیائی ہتھیاروں سمیت ملک پر قبضہ کرنے کا ہے۔ طالبان نے اسامہ بن لادن کے مارے جانے کا بدلہ لینے کیلئے پاکستان میں تشدد پر مبنی مہم چھیڑ رکھی ہے۔ طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کہا کہ طالبان کا اب مقصد پاکستان اور اس کے ہتھیاروں پر قبضہ کرنا ہے۔ کراچی کے بحریہ کے بڑے اڈے پر طالبان نے پورے تال میل کے ساتھ حملہ کیا تھا۔ ایک انگریزی جریدے ’دی وال اسٹریٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق جب اس مسئلے پر میگزین کے نمائندے نیطالبان کے ترجمان سے ٹیلی فون پر بات کی تو احسان نے کہا پاکستان نیوکلیائی اہلیت رکھنے والا واحد مسلم ملک ہے اور طالبان کا ارادہ ہتھیاروں کو تباہ کرنے کا نہیں بلکہ پورے ملک اور نیوکلیائی ہتھیاروں کو اپنے قبضے میں لینے کا ہے۔
طالبان کی دھمکی کو معمولی طریقے سے نہیں لیا جاسکتا۔ پچھلے دنوں کراچی کے بحری اڈے مہران پر مٹھی بھر آتنک وادیوں کو کامیابی اس لئے ملی کیونکہ پاکستانی فوج میں طالبان نواز افسران بیٹھے ہوئے ہیں۔ پاکستانی بحریہ کے ساتھ غیر فوجی مبصر عائشہ صدیقی نے ڈان اخبار کے ساتھ ایک بات چیت میں کہا کہ بحریہ کا یہ اڈہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ بحریہ اور ایئر فورس دونوں میں انتہا پسندوں کی پوری طرح گھس پیٹھ ہے۔ وہ کہتی ہیں بحریہ میں آتنک وادیوں کی گھس پیٹھ ایک پرانی داستان ہے۔ عائشہ کا یہ تبصرہ ایسے وقت آیا جب ڈیفنس ماہرین کا تجزیہ ہے کہ پاکستانی بحریہ و ایئر فورس اور بری فوج تینوں میں طالبان داخل ہوچکے ہیں تو مہران ہوائی اڈے پر ان کی مدد سے ہی طالبان کویہ حملہ کرنے میں مدد ملی۔ جس جگہ حملہ ہوا تھا اس سے مشکل سے 24 کلو میٹر دور نیوکلیائی ہتھیاروں کا ڈپو تھا۔ پی این ایس مہران پاکستان کے سب سے اہم بحری ایئر بیس میں سے ایک ہے۔ بغیر اندرونی شخص کی مدد کے آتنک وادیوں کو اس اڈے میں ایئر کرافٹ کی موجودگی کا پتہ نہیں لگ سکتا تھا۔ جس طرح سے وہ دو گھنٹے ڈٹے رہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پختہ معلومات کے ساتھ آئے تھے۔
آج جب پاکستان خانہ جنگی جیسے حالات سے لڑ رہا ہے تو طالبان کی دھمکی ایک ڈراؤنی حقیقت میں نہ بدل جائے؟ پردے کے پیچھے پاکستان میں اصل اقتدار چل رہا ہے۔ پاک فوج آتنکیوں کے مقابلے پست نظر آرہی ہے۔ عام پاکستانی نہ توفوج پر اب یقین رکھتا ہے اور نہ ہی پاکستانی سیاستدانوں پر۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سرکاراسلام آباد سمیت مٹھی بھر بڑے شہروں تک محدود رہ گئی ہے۔حالات اتنے خراب ہیں اس کا اندازہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی وارننگ سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ ہمیشہ بات چیت سے مسائل کو سلجھانے کی پہل کرنے والے منموہن سنگھ کو پڑوسی دیش کو سنبھل کر چلنے کی وارننگ دینی پڑی۔ پاکستان کو طالبانی ہاتھوں میں جانے سے فی الحال صرف امریکہ ہی روک سکتا ہے۔ امریکہ کی دونوں پاکستان اور افغانستان میں موجودگی ہے اس سے پہلے کے طالبان کے ہاتھ پاکستانی ایٹمی ہتھیار لگیں امریکہ کو بلا تاخیر ان ہتھیاروں کو اپنے قبضے میں لے لینا چاہئے۔ ایسا کرنے کے بعد کم سے کم ایک بہت بڑا خطرہ تو ٹلے گا اور بعد میں دیکھا جائے گا۔
Tags: Anil Narendra, Asif Ali Zardari, Daily Pratap, ISI, Manmohan Singh, Nuclear Arms, Osama Bin Ladin, Pakistan, Taliban, Vir Arjun, Yousuf Raza Gilani

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...