Translater
08 دسمبر 2021
آسام رائفلس کی بھاری چوک !
نا گالینڈ کے ووٹنگ کے تریو علاقے میں سنیچر کی شام چار بجے آسام رائفلس کے جوانوں کی فائرنگ کے واقعے میں اب تک 17لوگوں کی جان جا چکی ہے اس میں ایک فوج کا جوان بھی شامل ہے ہم جانچ کر رہے ہیں یہ کہنا غلط پہچان کی وجہ سے ہوا یا کوئی اور وجہ ہے وہیں ناراض دیہاتیوں نے اتوار کو آسام رائفلس کے کیمپ پر حملہ بول دیا جوابی کاروائی میں تین اور شہریوں کی مو ت ہوگئی اور حملے میں فوج کا ایک جوان بری طرح زخمی ہو گیا تھا جس نے بعد میں دم توڑ دیا ادھر ، آسام رائفلس کے افسر کہتے ہیں کہ ہم انتہا پسند سر گرمیوں کو لیکر خفیہ اطلاع ملی تھی اسی بنیاد پر اسپیشل آپریشن کا پلان بنایا تھا مگر جو واقعہ ہوا اور اس کے بعد جو دنگا بڑھکا اسے لیکر بہت دکھ ہے معاملے کی اعلیٰ سپہی جانچ کی جا رہی ہے مارے گئے سبھی شہریوں کا پیر کی صبح انتم سنسکار کر دیا گیا اطلاع کے مطابق یہ واردات سنیچر کو میانمار سے لگے مون ضلع کے تری اور موٹنگ گاو¿ں کے درمیان ہوا جب گھات لگا کر بیٹھے آسام رائفلس کے جوانوں نے ایک کوئلہ کھدان میں مزدوروں کو واپس ان کے گاو¿ں لے جا رہے تھے تو ایک گاڑی پر فائرنگ کر دی گئی جس میں 13لوگوں کی مو ت ہوگئی اور کئی زخمی ہوگئے بلا شبہ سرحدی ریاستوں میں انتہا پسند تنظیموں کے سبب سیکورٹی فورسیز کو چوکس ہو کر کام کرنا پڑتا ہے لیکن اس سب کے درمیان ایک بڑا سوال ہمیشہ بنا رہتا ہے کہ ان کے آپریشن کے سبب مقامی لوگوں کو نقصان نہ ہو پھر یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ نارتھ ایسٹ کی ریاستوں میں اسپیشل مصلح اختیار ایکٹ جیسے قانون کے سبب سیکورٹی فورسیز کو زیادہ اختیار بھی ملے ہوئے جن کے بیجا استعمال کی شکایت ملتی رہتی ہے ۔ نا گالینڈ کے مقامی لوگ اکثر سیکورٹی فورسیز پر باغی گروپووں کے خلاف اپنی انتہا پسند مخالف کاروائیوں میں انہیں غلط طریقے سے نشانہ بنانے کا الزام لگتے رہے ہیں ویسے نارتھ ایسٹ میں 2008-9کے بعد تشدد میں کمی آئی ہے مگر ان ایس سی این جیسے کوئی علیحدی پسند اب بھی سرگرم ہیں چونکہ نا گا لینڈ پہلے سے ہی سورش زدہ علاقہ ڈکلیئر ہے اس لئے یہ یقینی کیا جا نا چاہئے کہ اس واقعے کے بعد بد امنی و عدم استحکام پھیلانے والے عناصر بے لگام نہ ہونے پائیں ایسے عناصر کے ساتھ ان نیتاو¿ں سے بھی خبردار رہنا ہوگا جو اس واقعے کو لیکر سیاسی روٹیاں سینکنے کی کوشش میں لگی ہیں ۔ یہ پہلی بار نہیں جب سیکورٹی فورسیز سے غلطی ہوئی ہو پختہ جانکاری کے کمی کے علاوہ علیحدگی پسند و دہشت گردی کے خلاف کاروائیوں کی خانہ پوری کو نظر انداز کئے جانے کے سبب ایسی غفلت پہلے بھی ہوئی اس کے چلتے صرف بے قصور لوگوں کی جانیں ہی نہیں بلکہ کئی بار سیکورٹی فورسیز کو کافی نقصان ہوا اور انہیں جان گنوا نی پڑی ظاہر ہے میانمار کے ساتھ بات چیت کے ذریعے بھارت مخالف سر گرمیوں کو ختم کرنے کی کوشش تیز کرنے کی ضرورت ہے ، تاکہ ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہو اس واقعے سے ناراض مقامی لوگوں نے توڑ پھوڑ آتش زنی کی ہے لیکن ایسے وقت سمجھداری سے کام لینے کی ضرورت ہے تاکہ مفاد پرست اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کر پائیں ۔
(انل نریندر)
07 دسمبر 2021
ایودھیا کیلئے پہلی تیرتھ یاترا ٹرین روانہ !
وزیر اعلی اروند کیجریوال نے مر کزی حکومت پر الزام لگا یا کہ مکھیہ منتری تیرتھ یو جنا کے تحت ایودھیا روانہ ہونے والے یا تریوں کیلئے سفدر جنگ ریلوے اسٹیشن پر منعقد پروگرام روک دیا ۔عام آدمی پارٹی کے ایم پی سنجے سنگھ نے ریل منتری سے سوال کیا کہ پروگرام میں اڑچن کس کے حکم پر ڈالی گئی ؟ اس سے پہلے قریب ایک ہزار یا تریوں کے ساتھ ریلوے اسٹیشن سے ایودھیا کیلئے جانے والی پہلی ٹرین پر جاکر وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے تیرتھ یا تریوں سے ملا قات کر خو شی ظاہر کر تے ہوئے کہا کہ بڑھا پے میں کسی کو تیرتھ یا ترا کا موقع مل جائے تو اس کی خوشی کا ٹھکا نہ نہیں رہتا ۔ کو رونا دور میں ملتوی اس تیرتھ یوجنا کو دوبارہ شروع کیا گیا اس کےلئے دہلی سرکار نے صفدر جنگ ریلوے اسٹیشن پر پر وگرام کیا تھا لیکن مر کزی حکومت نے ایسا کر نے سے منع کر دیا ۔ کیجریوال نے ٹویٹ کرکے کہا کہ مر کز کو ایسا نہیں کر نا چاہیے ۔ اسٹیشن پر خوشی کا ماحول تھا تیر تھ یاتریوں نے جم کر جے شری رام کے نعرے لگائے اور اس یوجنا کی تعریف کی اور کہا کہ ہم اروند کیجریوال اور دہلی سرکار کے حکام کے ذریعے تیر تھ یا ترا کے انعقاد کیلئے مبا رک با د دیتے ہیں اور یہ ایک شبھ کا م ہے اور ایودھیا کی یا تر اکا تو الگ ہی اہمیت ہے ۔ جے شری رام
(انل نریندر)
ممبر اسمبلی خو دکو قانون سے بالا تر مانتے ہیں!
الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پر دیش کے سابق ممبر اسمبلی حسرت اللہ شیر وانی کی ضما نت عرضی خارج کر دی ہے ۔ کاس گنج کی سیشن عدالت نے شیر وانی کو پولیس حوالات میں ایک شخص پر حملہ کرنے کا قصو روار قرا ر دیا تھا جج محمد اسلم نے شیر وانی کی ضما نت عرضی خارج کر تے ہوئے کہا کہ ممبر اسمبلی اور سیا سی لوگ خود کو قانون سے بالا تر مانتے ہیں اس مسئلے کو ہلکے میں نہیں لیا جا سکتا اور اس سے سختی سے نمٹے جانے کی ضرور ت ہے اپیل کنندہ شیر وانی 30اکست 2012کو واردات کے وقت ممبر اسمبلی تھے عدالت نے کہا کہ قانو ن کے بے جا استعمال کا اشو اسمبلی میں اٹھا نا ان کی ذمہ داری تھی اس کے بجائے انہوں نے قانون کو ہی اپنے ہا تھ میں لے لیا اور متا ثر کو حوالات میں ڈلوا دیا یہ حرکت پولیس مشینری کا بجا استعمال ہے اس لئے ان کی حر کت ہمدردی برتنے لائق نہیں ۔ قابل ذکر ہے اپر ضلع و سیشن جج نے 25اگست 2021کو اپیل کنندہ شیر وانی اور دیگر سات لوگوں کو اقدام قتل کے جرم میں قصو ر وار قرار دیا تھا اور دو سال سخت جیل کی سزا سنا ئی تھی اور ایک ایک ہزار روپے جرمانہ بھی۔ مقدمے کے مطابق اسی معاملے میں شمشا دنا می شخص کو پولیس نے حوالات میں ڈالا تھا 30اگست 2012کو شیر وانی اپنے رشتہ داروں اور حمایتیوں کے ساتھ تھانے پہونچے اور پولیس کو شمشادکی بری طرح پٹائی کر نے کو کہا ا س کے بعد شیر وانی اور اس کے حمایتیوں نے شمشا دکی پٹائی کی لیکن کسی طرح مداخلت سے شمشاد کی جان بچ گئی ۔ اس واردات کے بعد شمشاد نے اپیل کنندہ اور دیگر سات لوگوں کے خلاف 14ستمبر 2012کو کاس گنج تھا نے میںاس معاملے کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کر ائی ۔ عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اپیل کنند ہ شیر وانی کے دباو¿ میں آکر گوا ہ جھگ گئے عدالت نے ضمانت اپیل پرسما عت 10جنوری 2022تا ریخ مقر ر کر دی ۔
(انل نریندر)
سپریم کورٹ نے پھا نسی کی سزا 30 سال قید میں بدلی !
سپریم کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں قتل کے جرم میں مجرم قرار دو قصور واروں کے پھا نسی کی سز ا کو قید میں بدل دیا ۔ عدالتوں کو قصورواروں میں اصلاح پر غور کر نے مجبو ر کیا ہے ۔ بھلے ہی قصور وار خاموش رہے اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے جائیداد تنا زعے میں بھا ئی کے کنبے میں سات لوگوں کو قتل کرنے کے جرم میں دو قصور واروں شیر دل خان اور مبارک خان کی پھا نسی کی سزا سپریم کورٹ نے ختم کر دی یہ فیصلہ جسٹس ایل کے نا گیشور راو¿ اور بی آر گوئی اور بی بی نا گرتن کی بنچ نے ملزمان کی طرف سے پھا نسی کی سزا کے خلا ف داخل نظر ثانی عرضی پر سنا یا ۔ نچلی عدالت ،ہائی کورٹ اور یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے دونوں قصور واروں کے جرم کو گھنا و¿نا مانتے ہوئے مو ت کی سز ا سنا ئی تھی لیکن قصور واروں نے سزا کے خلا ف نظر ثانی عرضی داخل کی تھی جو 2015سے سپریم کورٹ میں لٹکی پڑی تھی اس پر نظر ثانی کر تے ہوئے عدالت نے کہا کہ یہ قانون تک کا اصول ہے کہ کسی بھی ملزم کو مو ت کی سزا دیتے وقت ان میں سدھرنے کے امکانا ت کو دیکھا جائے گا۔ اور اس چلتے سز اکو کم کرنے کیلئے اہم ترین پہلو کی طرح لیا جائے گا۔ عدالت کا فرض ہے کہ وہ سبھی حقا ئق پر ضروری جانکاری لے اور ملزمان میں اصلاحا ت کے امکانات کو دھیان میں رکھتے ہوئے ان کی پھا نسی کی سزا پر غور کرے بنچ نے کہا کہ اس معاملے میں نچلی عدالت اور ہائی کورٹ اور سپریم کو رٹ کے فیصلوں کا تجزیہ کرنے سے پتا چلتا ہے قصو رواروں کو سزا جرم کے گھنا و¿نے پن کو دیکھتے ہوئے دی گئی ہے ۔ملزمان میں اصلا حات کے امکانا ت پر غور نہیں ہوا اور نہ ہی ریا ستی حکومت نے ایسا کوئی ثبوت پیش کیا جس سے ثابت ہو کہ ملزما ن نے اصلا ح کا کوئی امکان نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس نے ملزمان کی سماجی اور اقتصا دی پس منظر پر غور کیا ہے۔ ان کے خلاف کوئی سابقہ جرم کا کوئی الزام نہیں ہے۔ یہ معاملہ 6جون 2007کا ہے جس میں جھارکھنڈ کے لو ہر ڈگا ضلع میں دونو ں ملزمان نے پروپرٹی کے جھگڑے کے چلتے اپنے بھا ئیوں کے بچوں سمیت پورے گھر کے آٹھ ممبروں کو مار ڈالا تھا ۔ نچلی عدالت سے لیکر سپریم کورٹ تک نے دونوں کو پھا نسی کی سزا سنا ئی تھی ۔ اس معاملے میں کل 11ملزمان تھے جن میں سے نچلی عدالت نے سات کو بری کر دیا تھا اور چار ملزمان صدام خان ،وکیل خان کی پھا نسی کی سزا عمر قید میں بدل دی تھی۔ اب باقی مو ت کی سزا پائے افراد کو بھی سپریم کورٹ نے پھا نسی کی سزا پر مہر لگا دی تھی لیکن اپنے ہی فیصلے پر نظر ثانی کر تے ہوئے دونوں کی سزا کو 30سال قید میں بدل دیا ۔
(انل نریندر)
05 دسمبر 2021
غریب بستیوں میں بے روزگاری !
دہلی کی غریب بستیوں میں رہنے والی ایک بڑی آبادی سے 36.01فیصدی لوگ بے روزگار ہیں یہی نہیں اس میں 48فیصدی ایسے ہیں جن کے گھر کا مہانہ خرچ دس ہزار روپئے سے بھی کم ہے بے روزگاری کے لئے ان لوگوں نے 11وجوہات بتائی ہیں جن میں سب سے زیادہ 24فیصدی نے کوویڈ اور اس کے خطرے کو ذمہ دار بتایا جبکہ 22فیصدی لوگوں نے کوویڈ کے چلتے سفر کرنے پر لگی پابندی کو بھی ذمہ دار مانا یہ اعدادو شمار دہلی سرکار کی طرف سے شہری غریب بستیوں میں سماجی اقتصادی صورتحال ، اسکل میپنگ ، بے روزگاری کو لیکر کرائے گئے اسٹڈی میں سامنے آیا ہے دہلی سرکار کے اقتصادی اور ٹیلی ڈائریکٹریٹ کی جانب سے مشرقی دہلی کے دس بڑی شہری بستیوں میں جولائی سے ستمبر2021کے درمیان اسٹڈی میں اسٹڈی کرائی یہ رپورٹ 50سے 60گھروں کے 20400لوگ جن کی زیادہ تر عمر 45برس تھی بات چیت کی بنیا دپر طیار کر دہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے بے روزگار ہونے والوں نے سب سے زیادہ عورتوں میں 60.61فیصد کل مردوں میں سے 21.05فیصد بے روزگار ہیں اس میں سب سے زیادہ 21سے 25برس والے 64.41 فیصدی نوجوان بے روزگار ہیں اسٹڈی میں لوگوں نے مہانہ کہ بے روزگاری کے چلتے گھر کا خرچ چلانا مشکل ہو گیا ہے ۔ اوسطاً 4سے پانچ لوگوں کے کنبے کے لوگ ہی محدود آمدنی پر خرچ چلا رہے ہیں ۔
بلوچستان کے گوادر میں عورتوں کی تحریک !
پاکستان کے بلوچستان صوبے کے گوادر میں 15نومبر سے جاری سرکار مخالف مظاہروں میں تشدد کے اندازے کے تحت عمران خان کی سرکار نے سیکورٹی بڑھا دی ہے بدھوار کو ایک حکم جاری کر ریاست کے الگ الگ اضلاع میں سیکورٹی فورسیز کو گوادر بھیجنے کے لئے حکم دیا گیا ہے یہ تحریک مبینہ طور پر چین پاکستان ایکونمک کوریڈور کے خلاف ہونے والی چین نے بھی مسترد کر دیا ہے اس نے کہا ہے کہ انٹر نیشنل میڈیا اسے چین کے خلاف بتا کر اس تحریک کو بڑھاوا دے رہا ہے جو فرضی نیوز ہے ایسی رپورٹس کی سی پی ای سی کے اہم ترین پروجیکٹ گوادر بندرگاہ پر چینی ٹرولرس کو مچھلی پکڑنے کے لئے اختیار دینے کے سبب مظاہر ے ہو رہے ہیں ان رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد چینی وزارت خارجہ نے یہ بیان جاری کیا ہے اس کے ترجمان ماو¿ لیزین نے کہا کہ کچھ میڈیا میں گوادر علاقے میں چینی مخالف مظاہروں کی رپورٹ بے بنیاد ہے خواتین نے گوادر کے حق میں ریلی نکالی جسے شہر کے تاریخ میں عورتوں کی سب سے بری ریلی بتائی جا رہی ہے گوادر کے ایک سینئر صحافی نے بہرم بلوچ نے ریلی میں شامل ہونے والوں کی تعداد کے لحاظ اس ریلی کو تاریخی بتایا ہے کچھ عورتوں کا کہنا ہے کہ وہ مجبور ہو کر اپنے گھروں سے باہر نکلتی ہیں کیونکہ مچھلی پکڑنے ٹرولر کے ذریعے نا جائز طور سے ایران سرحد پر پابندی کے بعد ان کے شوہروں کا روزگار ختم ہو گیاہے اور وہاں بے تحاشہ ظلم ہو رہا ہے ہم بھوکے ہیں ہم بے روزگار ہیں ہمارے پاس ہیلتھ اور تعلیم تک نہیں پہونچ رہی ہے یہاں نہ پانی نہ بجلی اور کچھ لوگ اپنی طاقت دکھا چکے ہیں اور اب اہم اپنی طاقت دکھائیں گے ۔
(انل نریندر)
یو پی اے جیسی کوئی چیز نہیں رہی !
مغربی بنگال جیتنے کے بعد اب ممتا بنرجی دیش بھر میں وزیر اعظم نریندر مودی کے مقابلے پر ایک متحدہ محاذ یا اپوزیشن بنانے میں لگ گئی ہیں ۔ گوا سے ہریانہ تک کے نیتاو¿ں کو پارٹی میں شامل کرنے کے علاوہ وہ الگ الگ ریاستوں کا دورہ کر رہی ہیں ممتا نے بدھ کے روز ممبئی میں کانگریس پر بڑا کٹاش کیا کہا کہ اب یو پی جیسے کوئی چیز نہیں رہی انہوں نے کہا کہ اپوزیشن حکمت عملی بنانے کے لئے ایک مشاورتی کونسل بنائی جائے اس میں سول سو سائٹی کی اہم شخصیتوں کو شامل کیا جائے لیکن افسوس اس بات کا ہے اسکیم کامیاب نہیں ہو پائی اسے عمل میں لانا ضروری نہیں سمجھا گیا ممتا نے کہا کہ چل رہے علاقائی پرستی کے خلاف کسی بھی لڑائی کی شکل میں ایک مضبوب متبادل راستہ بنایا جانا چاہئے ممتا نے سول سو سائٹی کے کچھ ممبران سے بات بھی کی اور کہا کہ اگر سبھی علاقائی پارٹیاں ایک ساتھ آجاتی ہیں تو بھاجپا کو ہرانا آسان ہوگا ہم کہنا چاہتے ہیں” بھاجپا ہٹاو¿، دیش بچاو¿“حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا بی جے پی کا اکیلے کوئی مقابلہ کر سکتا اکیلے وہی مقابلہ کر سکتا ہے اسے کرنا پڑے گا حا ل ہی میں ممتا بنرجی نے مغربی بنگال کے باہر کئی دورے کئے ہیں اور اپوزیشن کے لیڈروں سے ملی ہیں سیاسی ماہرین اسے ممتا کی اپوزیشن کی سیاست میں کانگریس کی جگہ لینے کے طور پر کوشش کی جگہ دیکھ رہی ہیں در اصل 2004میں بنے سیاسی حالات کے جواب میں کانگریس لیڈر شپ میں یو پی اے بنا تھا تب سے یو پی اے نے کئی چنوتیوں کا سامنا کیا ہے شروعات میں لیفٹ پارٹیاں اس کا اہم حصہ تھیں لیکن سال 2008میں وہ اس سے الگ ہو گئیں یہیں نہیں یو پی اے کے کئی اتحادی پارٹیوں نے اپنی بات منوانے کے لئے دباو¿ کی سیاست کا استعمال کیا۔ 2004سے 2014تک کے درمیان کانگریس لیڈر شپ میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کی سرکار بنی لیکن سرکار کا حصہ رہی کئی اتحادی پارٹیاں ساتھ چھوڑ گئی ہیں ۔ 2009کے چناو¿ میں یو پی اے نے غیر متوقع جیت حاصل کی وہیں 2014میں نریندر مودی کی قیادت میں لڑی بھاجپا کے سامنے اتحاد کو زبردست ہار ملی ۔ مغربی بنگال کا چناو¿ جیتنے کے بعد سے ممتا نے ایک نیا بدلاو¿ نظر آرہا ہے تو کیا یو پی اے اب نہیں ہے ؟ کانگریس کی لیڈر شپ میں اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگوں میں ٹی ایم سی شامل ہو تی رہی لیکن حال ہی میں ٹی ایم سی نے دوری بنانے کی کوشش کی ہے اتنی ہی پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے پہلے جب کانگریس کی لیڈر شپ نے اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ ہوئی تو ٹی ایم سی نے اس سے دوری بنالی اور ٹی ایم سی کے نیتا ڈائریک اوبراو¿ن نے تو ٹویٹ کر صا ف کیا کہ ٹی ایم سی کانگریس کی اتحادی نہیں ہے ۔ ممتا کے بیانوں سے صاف ہے انہیں کانگریس سے ناراضگی ہے لیکن یہ ناراضگی جائز ہے اور کیا اپوزیشن میں کانگریس کی جگہ لینے کی کوشش زیادہ ہے ایسا ہو سکتا ہے کہ ممتا بنرجی کے مشیر کار پرشانت کشور نے انہیں سمجھا دیا ہے کہ وہی اپوزیشن کے اتحاد کا مرکز اور لیڈر شپ کر سکتی ہیں اور وہ اسی کے لئے کوشش کر رہی ہیں ۔ شاید ممتا کے دماغ میں یہ چل رہا ہو کہ بھلے ہی کانگریس بڑی پارٹی ہو لیکن اپوزیشن کی لیڈر شپ کرنے کا موقع اسے دیا جائے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کانگریس کو نظر انداز کر کوئی بی جے پی کے خلاف کوئی اثر دار اتحاد بنایا جا سکتا ہے ؟
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
زندہ ہیں مجتبیٰ خامنہ ای ؟
پچھلی 28 فروری سے جب سے امریکہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان والے افراد کی شہادت ہوئی تھی ...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...