Translater

11 جنوری 2017

پرنب مکھرجی کی تشویش واجب ہے

نوٹ بندی کالے دھن اور کرپشن کے خلاف بیشک ایک بڑا قدم ہے مگر صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کی وارننگ پر بھی غور کرنا ضروری ہے کہ اس قدم سے طویل المدت ملنے والے فائدے کی توقعات میں غریبوں کو ہورہی تکلیفوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتالیکن سرکار کو اس پر غور کرنا ضروری ہے۔ گورنروں اور لیفٹیننٹ گورنروں کے لئے نئے سال کے اپنے خطاب میں بصد احترام پرنب مکھرجی نے دوہرایا ہے کہ نوٹ بندی کالے دھن اور کرپشن کے خلاف ایک بڑا قدم ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے جزوی مندی آسکتی ہے۔ اقتصادی ترقی کے دم پر مضبوط فیصلے لے رہی مرکزی حکومت کے لئے جی ڈی پی میں اضافے کے اندازے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نوٹ بندی سے دیش کو کچھ سیکٹروں میں نقصان بھی ہورہا ہے۔ سی ایس او نے رواں مالی سال کیلئے 7.1 فیصدی کی ترقی شرح کا اندازہ لگایا ہے جو کہ ایک سال پہلے 7.6 فیصدی کے مقابلے کم ہے۔ مگر ماہر اقتصادیات اور پرائیویٹ اکنامک ایجنسیاں اس اعدادو شمار سے اتفاق نہیں رکھتیں۔ ان کی مانیں تو جب حتمی طور پر اعدادو شمار آجائیں گے تو ترقی شرح کی تصویر ویسی نہیں رہے گی، جیسی بتائی جارہی ہے۔ ان سبھی کی دلیل ہے کہ جب نوٹ بندی کے اثر کو شامل نہیں کیا گیا تھا تو پھر جی ڈی پی اضافے کے اعدادو شمار صحیح کیسے ہوسکتے ہیں؟ ان ایجنسیوں کی نظر میں دیش کی ترقی شرح 6 سے 6.6 فیصدی کے درمیان رہے گی۔ یہاں یہ بھی قابل ذکر ہے کہ رواں مالی سال کے لئے جی ڈی پی میں اضافے کے اندازے میں زیادہ تر اعدادو شمار اپریل سے اکتوبر تک ہی شامل کئے گئے ہیں۔ مطلب ہے کہ نوٹ بندی کے بعد ملک کی معیشت پر اس کا کیا اثر پڑا اس کا اندازہ اس میں شامل نہیں ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ 9 نومبر کو 500 اور 1000 کے پرانے نوٹوں کو چلن سے ہٹانے کا اعلان کیا تھا اس کے بعد سے ہی ماہرین اقتصادیات نے کہا تھا کہ اس قدم کا معیشت پر منفی اثر پڑے گا اور ترقی شرح میں 2 فیصدی تک ہی گراوٹ آسکتی ہے۔ اسٹیٹ بینک کا تجزیہ ہے کہ فروری کے آخر تک ہی حالات 90 فیصد تک بہتر ہوپائیں گے۔ غریب اور محروم طبقے کے لئے دو مہینے کا وقت کافی مشکل ہوتا ہے۔ جیسا کہ صدر جمہوریہ نے کہا ہے، وہ زیادہ انتظار نہیں کرسکتے۔ اس لئے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ ایک ایسی پہل، جس میں ترقی کا دور رس نظریہ شامل ہو کا حصہ دار بننے سے جنتا و حاشیئے پر گئے لوگ نہ ٹوٹ پائیں۔ 
(انل نریندر)

پنجاب میں اسمبلی چناؤ کی بساط بچھ چکی ہے

پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ کے اعلان کے بعد دیش کی نظریں سب سے زیادہ اہم ریاست اترپردیش اور پنجاب پر ٹک گئی ہیں۔ پنجاب کے لوگوں کے پاس اپنے من کی بات کہنے کے لئے چناؤ کمیشن نے 30 دن کا وقت دیا ہے۔ پنجاب میں عام طور پر اکالی۔ بھاجپا اتحاد بنام کانگریس کے درمیان مقابلہ ہوتا رہا ہے لیکن اس مرتبہ عام آدمی پارٹی کے چناؤ دنگل میں کودنے کے بعد مقابلہ سہ رخی بنتا نظر آرہا ہے۔ 4 فروری کو ہونے والے اسمبلی چناؤ میں انہی تینوں کے درمیان سخت ٹکر ہوگی۔ پہلے ہم اکالی دل کی بات کرتے ہیں۔ 10 سال میں اقتدار کا سکھ اٹھا چکی شرومنی اکالی دل کے لیڈروں نے پچھلے 6 مہینوں کے دوران یہ سب کچھ کرنے کی تمام کوشش کی ہے جو انہوں نے پچھلے ساڑھے نو سال کے دوران نہیں کی تھی۔ پارٹی کی دیہی علاقوں میں مضبوط بنیاد ہے بھاجپا کے ساتھ اتحاد سے وزیر اعظم نریندر مودی کے چہرے کا فائدہ بھی ہے۔ ہرمندر صاحب۔ سورن مندر کا ڈیولپمنٹ سہ رخی مقابلے میں حریف ووٹوں کا امکانی بٹوارے کا بھی پارٹی کو فائدہ مل سکتا ہے۔ دوسری طرف اس اتحاد کے سامنے چنوتیاں بھی کم نہیں ہیں۔ اینٹی کمبینسی سے لڑنا ہوگا۔ نشے کا کاروبار اور نوٹ بندی کے بعد بڑھتی بے روزگاری، قانون و نظم بڑے چیلنج ہوں گے۔ کیپٹن امریندر سنگھ کانگریس کی اس جنگ کی قیادت کررہے ہیں۔
نوجوت سنگھ سدھو اگر کانگریس میں شامل ہوتے ہیں تو ماحول میں کانگریس کو مضبوطی ملے گی اور اس کا مینڈیٹ بڑھے گا۔ ڈرگس کاروبار ، قانون و نظام، بے روزگاری اور نابھا جیل و پٹھانکوٹ حملے جیسے اشو پر کانگریس کے سامنے چنوتیاں کم نہیں ہیں۔ کانگریس کے مختلف گروپوں کو متحد کرنا، پارٹی نیتاؤں کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنا، دیہی علاقوں میں پارٹی کا اثر بڑھانا اور اقتدار مخالف ووٹروں کے بٹوارے کو روکنا ہوگا۔ کچھ چنوتیاں اکالی دل کے ساتھ نوجوت سنگھ سدھو کی تھوڑی نجی رنجش بہت گہری ہے جس کا فائدہ کانگریس کو ضرور ملے گا۔ دوسری طرف ان کی زبان عاپ پارٹی کو بھی بخشنے والی نہیں ہوگی کیونکہ سدھو نے عاپ کی کچھ ایسی حرکتیں دیکھی ہیں جس کے بعد وہ چپ نہیں رہے گا۔ عام آدمی پارٹی کو اکالی دل اور کانگریس سے ناراض لوگوں کی شخصیت کے بجائے اشوز پر مبنی سرکار کا متبادل دینے والی پارٹی کی شکل میں ابھرنے کا موقعہ ملے گا۔ 
نئی پارٹی ہونے سے جنتا میں نظام حکومت کو لیکر کسی طرح کی ناراضگی یا بے چینی نہیں ہوگی لیکن پنجاب میں تنظیم کا محدود دائرہ ہے۔ دہلی میں کیجریوال سرکار کی کارگزاری ، عاپ سے الگ ہوئے باغیوں سے بچنا ، پارٹی میں ایک بااثر چہرے کی فی الحال کمی ہے یہ ہیں کچھ چنوتیاں کیجریوال کے سامنے۔ کل ملا کر پنجاب میں اسمبلی چناؤ کی بساط بچھ چکی ہے دیکھیں چناوی کمپین کیسی رہتی ہے؟
(انل نریندر)

10 جنوری 2017

چناؤ سے 3 دن پہلے بجٹ پر اپوزیشن کا اعتراض

پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ شروع ہونے کے تین دن پہلے پیش ہونے والے عام بجٹ کو لیکر سیاسی گھماسان شروع ہوچکا ہے۔ اپوزیشن نے الیکشن کمیشن سے عام بجٹ کو چناؤ بعد پیش کرنے کی مانگ کی ہے جبکہ سرکار نے تاریخ بدلنے سے انکار کرتے ہوئے کہا بجٹ یکم فروری کو ہی پیش ہوگا۔ اپوزیشن پارٹیوں کے ایک نمائندہ وفد نے چناؤ کمیشن سے ملاقات کرکے مانگ کی ہے کہ یکم فروری کو بجٹ پیش کرنے کی سرکاری تیاری کو روکا جائے۔ وہ مانتے ہیں یہ چناؤ ضابطہ کی خلاف ورزی ہوگی۔ اس کے لئے کئی پارٹیوں نے صدر جمہوریہ کو بھی خط لکھا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ بجٹ اس وقت پیش کیا جائے گا جب دیش کی پانچ ریاستوں میں پولنگ کی تیاری چل رہی ہوگی۔ ان پارٹیوں کو ڈر ہے کہ مرکزی سرکار اس بجٹ میں عوام کو لبھانے والی پالیسیوں و اسکیموں کو اس طرح سے پیش کر سکتی ہے جس سے رائے دہندگان متاثر ہوسکیں۔ کانگریس، سپا، بسپا، ترنمول کانگریس اور ڈی ایم کے، جنتادل (یو) ، آر ایل ڈی کے نیتا اپنی اس مانگ کو لیکر الیکشن کمیشن گئے۔ کانگریس کے لیڈرغلام نبی آزاد نے کہا کہ ہمیں بجٹ اجلاس سے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ چناؤ کے درمیان بجٹ پیش کرنے پر اعتراض ہے۔ غور طلب ہے کہ ٹھیک پانچ سال پہلے جب یوپی ، اتراکھنڈ، پنجاب، گووا اور منی پور میں اسمبلی چناؤ کے پروگرام اعلان ہوئے تھے تب پارلیمنٹ میں حکمران اپوزیشن بھاجپا نے یوپی اے سرکار کو عام بجٹ کی تاریخ بدلنے کیلئے مجبور کردیا تھا۔ اب موجودہ اپوزیشن کانگریس کی طرح بھاجپا سرکار کیلئے مورچہ کھولتے ہوئے چناؤ کمیشن سے مداخلت کرنے کی اپیل کی تھی۔ دباؤ میں جھکتے ہوئے اس وقت کی یوپی اے سرکار نے سال2012ء میں سابقہ اعلان تاریخ یکم مارچ کی جگہ16 مارچ کو بجٹ پیش کیا تھا۔ ان کی بات میں دم ہوسکتا ہے لیکن قانونی طور سے بجٹ کو روکنا کس حد تک ممکن ہو پائے گا یہ کہنا مشکل ہے زیادہ تر ماہرین مان رہے ہیں کہ ریاستوں کے چناؤ کیلئے مرکزی بجٹ کو روکنا ممکن نہیں ہے۔ ایسی کوئی مثال نہیں ہے لوک سبھا چناؤ کے معاملے میں یہ ضرور ہوتا ہے کہ بجٹ تو پیش کیا جانا یا روک دیا جانا ہے اس کی جگہ صرف انترم بجٹ پیش ہوتا ہے اور ایک بار جب عام چناؤ کا پروسیس ختم ہوجاتا ہے تو مکمل بجٹ پارلیمنٹ کے اندر پیش کیا جاتا ہے۔ اپوزیشن پارٹی یہی روایت اسمبلی چناؤ کے معاملے میں بھی چاہتی ہیں۔ ویسے اس بار کا عام بجٹ سرکار کیلئے کافی اہم ہے۔ اس بار بجٹ کی پوری روایت کو بدلا جارہا ہے۔ بجٹ فروری کے آخری دن پیش ہونے کی بجائے مہینے کے پہلے دن ہی پیش ہوگا۔ جہاں تک لوک لبھاون پالیسیوں کا معاملہ ہے تو ہمیں نہیں لگتا اس میں زیادہ گنجائش ہے۔ حال ہی میں وزیر اعظم نے نئے سال کے موقعہ پر کئی لوک لبھاون اسکیموں کا اعلان کردیا ہے ان پر بھی اپوزیشن پارٹیوں نے اعتراض کیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے دیش کے نام پیغام نہیں دیا بلکہ ایک طرح سے منی بجٹ پیش کیا ہے۔ مرکزی سرکار نے اپوزیشن پارٹیوں کے اعتراض کو دیکھتے ہوئے اٹارنی جنرل کی رائے لینا کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ چناؤ پروگراموں کے اعلان کے باوجود بجٹ پیش کرنے میں کوئی آئینی یا قانونی اڑچن نہیں ہے مگر اپوزیشن کے پارٹیوں کے اعتراض کو دیکھتے ہوئے سرکار اٹارنی جنرل سے مشورہ کرے گی اور اپنا موقف چناؤ کمیشن کے سامنے رکھے گی۔ آخری فیصلہ چناؤ کمیشن کو کرنا ہے۔
 (انل نریندر

اکھلیش کانگریس سے اتحاد کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں

یوپی میں چناؤ سے عین پہلے سماجوادی پارٹی میں رسہ کشی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ باپ ۔ بیٹے میں یہ لڑائی اگر ختم ہوجائے اور سمجھوتہ ہوجائے جس کے امکانات روز بروز گھٹتے جارہے ہیں تو اور بات ہے نہیں تو پارٹی دو گروپوں میں بٹتی نظر آرہی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اکھلیش اور ملائم الگ الگ چناؤ لڑیں گے؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو کس کا پلڑا بھاری ہوگا؟ سی ووٹر کے تازہ سنیپ پول کے مطابق سبھی نوجوان عمر اور ذات پات کے زیادہ تر حمایتی اکھلیش یادو کے خیمے کے ساتھ ہیں مگر اقتدار کی دوڑ میں بنے رہنے کے لئے اکھلیش کو کانگریس کا ساتھ بھی ضروری ہوگا۔ اگر کانگریس اور راشٹریہ لوک دل کے ساتھ اکھلیش یادو گروپ کا تال میل ہوتا ہے تو اب بھی وہ چناؤ جیت کر سب کو چونکا سکتے ہیں۔ اس کنبہ جاتی جھگڑے نے ملائم سنگھ یادو کو بہت کمزور کردیا ہے اور ان کے روایتی ووٹروں نے بھی مشکل کی گھڑی میں ان کا ساتھ چھوڑ کر اکھلیش کا دامن پکڑ لیا ہے۔ تازہ سروے میں اکھلیش حمایتی سپا کے پالے میں 24.9 فیصد ووٹر ہیں۔ ملائم حمایتی سپا کو 3.4فیصد لوگوں کا ہی ساتھ مل سکتا ہے۔ سروے میں کانگریس کو 5.8 لوگوں کی حمایت ملے گی۔ باقی پارٹیوں کی بات کریں تو سروے میں بھاجپا 30.2 فیصد، بسپا 24.2 فیصد نے حمایت کی ہے۔ 2014 ء کے لوک سبھا چناؤ میں سپا کو 22.4 فیصد ووٹ ملا تھا۔ کانگریس کو7.5 فیصد ووٹ ملا تھا۔ ان دونوں کو ملا کر 30 فیصد ووٹ ملا تھا۔ اگر یہی ٹرینڈ رہا تو اتحاد چناؤ جیت سکتا ہے۔ اکھلیش یادو اترپردیش کے سب سے مقبول لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں اور پورے تنازع سے سب سے زیادہ فائدہ انہی کو ہوا ہے۔ یادو خاندان کے جھگڑے سے دوسری پارٹیوں کے ووٹ میں کوئی خاص اضافہ ممکن نہیں دکھائی دے رہا ہے لیکن سپا میں دو گروپ ہونے اور پانچ فیصدی ووٹ کٹنے سے وہ دوسرے نمبر پر آگئی ہے۔ اس معاملے سے سپا کے اندازاً ووٹ بٹنے سے اکھلیش گروپ بی جے پی سے دوسری نمبر پر آجاتا ہے لیکن کانگریس۔ آر ایل ڈی کے ساتھ آنے سے اتحاد پوری ریاست میں سب سے زیادہ ووٹ لے سکتا ہے۔ سروے کے مطابق سپا کا ووٹ کانگریس میں شفٹ ہوجائے گا لیکن کانگریس کا ووٹ سپا کو جائے گا اس میں تھوڑا شبہ ہے کیونکہ سروے کے مطابق سپا کے غیر یادو اور مسلم ووٹروں نے اشارہ دے دیا ہے کہ جھگڑے کے بعد بھی دوسری پارٹی بسپا کو ووٹ دینے کے بارے میں وہ سوچ سکتے ہیں۔ مسلمانوں کے18 فیصد کے قریب ووٹ ہیں اور ان کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ بی جے پی کو کیسے ہرایاجاسکتا ہے؟ سپا ۔ کانگریس اتحاد یا پھر بہوجن سماج پارٹی؟ ان میں سے کس کو ووٹ جا سکتا ہے۔ 
(انل نریندر)

08 جنوری 2017

کیپٹن کول نے پھر چونکایا

اپنی ٹائمنگ اور فیصلے سے حریف ٹیم کو چونکانے کا ہنر رکھنے والے کیپٹن کول مہندر سنگھ دھونی نے اس مرتبہ تو سبھی کو اپنے فیصلے سے تعجب میں ڈال دیا ہے۔ یہ تعجب نہیں تو اور کیا تھا کہ رانچی جیسے شہر سے نکل کر دیش دنیا میں اپنی بڑھیا چھاپ چھوڑنے والے دھونی نے اچانک اعلان کردیا کہ وہ ٹی ۔ٹوئنٹی اور ونڈے کی کپتانی چھوڑ رہے ہیں۔ دھونی نے آسٹریلیا کے ساتھ ٹیسٹ سیریز میں ہی ٹیسٹ کرکٹ سے الوداع کہہ دیا تھا۔ مہندر سنگھ دھونی نے ٹی۔ٹوئنٹی اور ونڈے کی کپتانی چھوڑ کر پھرثابت کردیا کہ وہ ایک ایسے سنجیدہ کھلاڑی ہیں جو اپنے لئے نہیں دیش کے لئے کھیلتے ہیں اور ٹیم انڈیا کے مفاد میں کوئی بھی فیصلہ لے سکتے ہیں۔ کھیل اور یا پھر کوئی اور دیگر میدان ہو اصل لیڈر وہ ہے جو اپنے سے بھی بہتر قیادت کنندہ کو پہچان سکے اور وقت رہتے مرضی سے اپنے آپ چھوڑ دے۔ دھونی کو یہ احساس ہوگیا تھا کہ آنے والا وقت وراٹ کوہلی کا ہے اور اب وقت آگیا تھا کہ وہ کپتانی چھوڑ کر کوہلی کو آگے کریں۔ ایسا نہیں تھا کہ دھونی پر کپتانی چھوڑنے کا کوئی دباؤ تھا، وہ چاہتے تو کچھ دن اور رک سکتے تھے۔ انگلینڈ کے ساتھ 15 تاریخ کو پنے میں ہونے والا پہلا ونڈے میچ بطور کپتان ان کا 200 واں میچ ہوتا۔ ظاہر ہے کہ پچھلے کچھ میچوں میں ان کا بلہ ان کا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ اس کی تصدیق ان کا پچھلا ونڈے اور ٹی۔ ٹوئنٹی ریکارڈ کرتا ہے۔ سال2012ء سے 2016ء کے درمیان ہرسال ان کاکرکٹ رن ریٹ اوسط گرتا گیا۔سال2012ء میں جہاں اوسط 65.50 تھا جو لڑکتے ہوئے سال2016ء میں محض27.80 پر آگیا جبکہ وراٹ کوہلی ونڈے میں مسلسل کامیابی کا پرچم لہرا رہے ہیں۔ سال 2016ء میں کوہلی نے10 میچ کھیلے جن میں 92.37 کی اوسط سے 739 رن بنائے۔ دھونی بہرحال ہندوستانی کرکٹ کے بدلتے خاکہ اور ایک حد تک اس کی مقبولیت کی علامت ہیں۔ ان کی کپتانی میں ہندوستانی کرکٹ ایلٹ دائرے سے باہر نکال کر عام آدمی کا کھیل بنا۔ دھونی نے فیصلہ ضمیر کی آواز سے کیا ہے۔انہیں لگتا ہے کہ یہ فیصلہ بالکل ٹھیک ہے اور وہ اب دباؤ سے آزاد ہوکر کھل کر کھیل سکیں گے۔ 2019ء کے ولڈ کپ تک دیش کی سیوا کرسکیں گے۔ مہندر سنگھ دھونی نے یہاں تک پہنچنے کے لئے سخت جدوجہد کی ہے۔ حال ہی میں مجھے ان کی سوانح حیات پر مبنی فلم ’ایم ۔ ایس دھونی ،دی انٹولڈ اسٹوری‘ دیکھنے کو ملی۔ انہوں نے جتنی محنت اور مشقت کی یہ تمام کھلاڑیوں کے لئے مثال ہے۔ ایک شہر سے نکل کر وہ ساری دنیا میں مقبول ہوئے۔ بھارتیہ کرکٹ دھونی کی خدمات کو لمبے عرصے تک یاد رکھے گا۔ کرکٹ کو ان کے اشتراک کیلئے سرکار کو انہیں سمانت کرنا چاہئے۔
(انل نریندر)

سدیپ بندواپادھیائے کی گرفتاری پر واویلہ کیوں

مغربی بنگال میں مبینہ روز ویلی چٹ فنڈ گھوٹالہ میں ترنمول کانگریس کے ایم پی اور لوک سبھا میں پارٹی کے لیڈر سدیپ بندو اپادھیائے کی گرفتاری سے سیاسی ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے۔ ان کو سی بی آئی نے منگل کو گرفتار کیا۔ معاملہ میں پارٹی کے ایک اور ایم پی تپسپال کی گرفتاری کے بعد یہ پہلی بار ہے جب سدیپ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ روز ویلی گروپ پچھلے دو سال سے سی بی آئی اور دیگر جانچ ایجنسیوں کے راڈار پر تھا۔روز ویلی گھوٹالہ قریب6 ہزار کروڑ کا ہے جو پونجی گھوٹالوں میں سب سے بڑا ہے۔یہ شاردہ گھوٹالہ سے کم سے کم 16 گنا بڑا ہے۔ سی بی آئی کے مطابق روز ویلی نے سرمایہ کاروں سے قریب17 ہزار کروڑ روپے ٹھگے۔ سی بی آئی نے اپنی ابتدائی چارج شیٹ میں روز ویلی کے چیف گوتم کٹو کو بنیادی ملزم بتایا ہے۔ گوتم کی 700 ایکڑ کی اسٹریٹ 12 ریاستوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہے اس کے پاس 150 کاریں جس میں کئی لگژری کاریں شامل ہیں۔ ہندوستانی سیاست کا یہ وہ مرحلہ ہے جس میں یہ چلن عام ہوتا جارہا ہے کہ اپنی حریف پارٹیوں کے لیڈروں کے کرپشن کو بڑھا چڑھا کر پروپگنڈہ کرتے ہیں لیکن جب ان کے کسی نیتا پر کرپشن کا الزام لگتا ہے اور اسے گرفتار کیا جاتا ہے تو اس کارروائی کو مرکزی سرکار کی طرف سے ٹارچر بتایا جاتا ہے۔ اس سے ناراض مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے مرکزی سرکار پر بدلے کے جذبے سے کام کرنے کا الزام لگایا ہے۔ سی بی آئی کا کہنا ہے ان کے پاس ترنمول کانگریس کے دونوں لیڈروں کے خلاف پختہ ثبوت ہیں لیکن ممتا کا کہنا ہے کہ جن نیتاؤں نے نوٹ بندی کی مخالفت کی مودی سرکار انہیں سبق سکھانے کی منشا سے ایسے قدم اٹھا رہی ہے۔ کچھ دلائل کو صحیح نہیں مانا جاسکتا۔ مغربی بنگال میں چٹ فنڈ کمپنیوں کی دھوکہ دھڑی پچھلی کئی دہائیوں سے چل رہی تھی۔ شاردہ گھوٹالہ میں بھی کئی نیتاؤں پر الزام لگے تھے ان میں ترنمول کے کچھ لیڈروں پر انگلی اٹھ رہی تھی۔ یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ جب چٹ فنڈ کمپنیوں کے ذریعے چھوٹی سرمایہ کاری پر روک ہے تو یہ کمپنیاں کس کی شہ پر چل رہی تھیں۔ روز ویلی اکیلی ایک ایسی کمپنی نہیں ہے جس پر غریب لوگوں کے پیسے کی دھوکہ دھڑی کا معاملہ درج ہے۔ سہارہ گروپ کے چیف کو بھی ایسا ہی گھوٹالہ کے الزام میں دو سال سے زیادہ جیل میں رہنا پڑا۔ مغربی بنگال میں ہی شاردہ گھوٹالہ سے جڑے کئی لوگوں پر قانونی شکنجہ کس رہا ہے پھر اگر سی بی آئی نے ترنمول کے کچھ لیڈروں کو اس میں شامل پایا ہے یا ان کمپنیوں کو شہ دینے میں ان کا ہاتھ دیکھا ہے تو اس جانچ کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے منصفانہ طور سے پورا ہوجانے دینے میں کسی کو کیوں پرہیز یا اعتراض ہو؟ ویسے بھی اگر سی بی آئی غلط کرتی ہے تو عدالت بیٹھی ہے۔
(انل نریندر)

07 جنوری 2017

پانچ ریاستوں میں اسمبلی چناؤ : مودی کی پالیسیوں پر ریفرنڈم

پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ کی تاریخوں کا اعلان ہوگیا ہے۔ ان انتخابات کو اگر 2019ء کے لوک سبھا چناؤ کا سیمی فائنل کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ان انتخابات کی نہ صرف دیش بھر میں اپنی اہمیت ہے بلکہ یہ امکانی سیاست کی سمت اور حالات طے کریں گے۔ کچھ لوگ اسے وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں کا ریفرنڈم سروے بھی کہہ رہے ہیں۔ یہ کچھ حد تک طے کریں گے کہ مودی کے عہد کا آدھا وقت پورا ہونے پر انہیں کتنی عوامی حمایت حاصل ہے؟ لوک سبھا چناؤ کے ان اسمبلی انتخابات وزیر اعظم نریندر مودی کے لئے سب سے بڑی چنوتی ثابت ہونے جارہے ہیں۔ دراصل ان انتخابات کے ساتھ نہ صرف مودی کی ساکھ داؤ پر لگی ہے بلکہ ان کے سب سے بڑے فیصلے نوٹ بندی پر بھی ایک طرح سے ریفرنڈم ہوگا۔ اس کے علاوہ ان انتخابات کا اثر 6 مہینے بعد ہونے جارہے راشٹرپتی چناؤ پر بھی دکھائی دے گا کیونکہ اگر ان پانچ ریاستوں میں کم سے کم تین ریاستوں میں بھاجپا کی سرکار نہیں بنتی تو اسے راشٹرپتی چناؤ کے وقت دقتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر جنتا کا فیصلہ سرکار کی امیدوں کے مطابق آیا تو اسے کئی اور بڑے قدم اٹھانے کا حوصلہ ملے گا، لیکن اگر ایسا نہیں ہوا تو مستقبل میں مودی سرکار بڑے فیصلے لینے میں شاید ہی قباحت کرے۔ یوپی میں 24سال سے اکثریت کا انتظار کررہی بھاجپا کیلئے یہ خواب کوتعبیر کرنے کا موقعہ ہوگا۔ بہار میں ملی ہار سے مودی کی ساکھ پر لگیدھبے کو بھی یوپی کی جیت سے دھویا جاسکتا ہے۔ یوپی چناؤ میں نہ صرف مودی کی ساکھ داؤ پر ہے بلکہ ریاست کی ایس پی اور بی ایس پی جیسی پارٹیوں کا وجود بھی سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ بھاجپا ایک بار پھر مودی کے کرشمے کے سہارے اترپردیش میں اقتدار پانے کی کوشش کررہی ہے۔ پارٹی مودی کی زیادہ سے زیادہ ریلیاں کراکر مرکز کی پالیسیوں کی بدولت میدان میں اترنے کا ارادہ ظاہر کرچکی ہے۔ اس کی وجہ کوئی مضبوط علاقائی چہرہ نہ ہونا بھی ہے۔ دیش کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں پچھلی تین دہائیوں سے سپا ۔ بی ایس پی کی حیثیت سے علاقائی پارٹیوں کا دبدبہ رہا ہے۔ وزیر اعلی اکھلیش یادو کا نہ صرف شخصی وقار بھی داؤ پر ہے بلکہ سپا کے سیاسی مستقبل کا بھی سوال بن گیا ہے۔ کنبے کے جھگڑوں کے سبب پارٹی کی ساکھ کو دھکہ لگا ہے۔
اکھلیش کے حمایتیوں کا خیال ہے کہ اکھلیش پہلے سے زیادہ طاقتور ہوکر ابھرے ہیں اور وکاس کے نام پر چناؤ لڑ کر سائیکل پر سوار ہوتے ہیں یا نہیں یہ بھی ابھی طے ہونا باقی ہے۔ جہاں تک مایاوتی کا سوال ہے بسپا پہلے کی طرح مایاوتی کے اکیلے شو پر منحصر ہے۔ پارٹی دلت۔ مسلمان فارمولے پر جیتنے کی کوشش کرے گی۔ کانگریس کے لئے بھی یہ چناؤ بیحد اہم ہے۔ ان چناؤ کے نتائج پر کانگریس کا مستقبل ہی نہیں وجود بھی ٹکا ہوا ہے۔ پارٹی کے لئے کرو یا مرو والی بات ہے۔ یوپی ، پنجاب، اتراکھنڈ، گووا اور منی پور ان سبھی جگہ کانگریس کی ساکھ داؤ پر لگی ہے۔ حالانکہ یوپی کو چھوڑ کر باقی جگہوں پر پارٹی فی الحال ٹھیک ٹھاک پوزیشن میں ہے۔ آنے والے چناؤ میں کانگریس کو اتراکھنڈ میں اپنے قلعہ کو بچانا ہے وہیں پنجاب اور گووا میں اقتدار کی واپسی کی کوشش کرنی ہوگی۔ یوپی کیلئے بڑی چنوتی اپنے کارکردگی کو سدھارنے کی ہے۔ اس سے بھی بڑی چنوتی بی جے پی کو اقتدار میں آنے سے روکنا ہے۔ منی پور میں جہاں کانگریس کے سامنے نارتھ ایسٹ میں اپنا گڑھ بچانا ہے وہیں بی جے پی کانگریس مکت منی پور کے ٹارگیٹ سے میدان میں اترچکی ہے۔ آسام میں جیتنے کے بعد پہلی بار نارتھ ایسٹ میں اپنے دم پر سرکار بنانے کے بعد بی جے پی کو منی پور میں پہلی بار اچھے امکانات نظر آرہے ہیں۔ گووا میں بھاجپا کو اینٹی کمبینسی سے نمٹنا پڑے گا۔ پارٹی نے کسی بھی وزیر اعلی کو پروجیکٹ نہیں کیا ہے جس سے حریف پارٹیوں کو ان کے موجودہ وزیر اعلی لکشمی کانت پارسیکر کے ذریعے حملہ کرنے کا موقعہ مل گیا ہے۔ فیڈریشن کے باغیوں کی پارٹی کی مشکلیں بڑھ گئی ہیں۔ یہ پارٹی بی جے پی کو سبق سکھانے اور ہرانے کے مقصد سے ہی بنی ہے۔ عام آدمی پارٹی میں یہاں سابق افسر شاہ ایلوس گومس کو اپنا وزیر اعلی کا امیدوار بنایا ہے۔ 
گومس کو گووا میں ایماندار افسر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ پنجاب میں عام آدمی پارٹی کے میدان میں اترنے سے مقابلہ سہ رخی ہوگیا ہے۔ ابھی تک پنجاب کے اقتدار کے لئے اکالی ۔ بی جے پی محاذ اور کانگریس کے درمیان مقابلہ ہوتا رہا ہے۔ عاپ سیدھے اکالیوں کو ٹارگیٹ کررہی ہے اور کانگریس کو مقابلے سے باہر مان رہی ہے۔ عاپ اور کانگریس دونوں کے لئے یہ وجود بچانے کی لڑائی ہے۔ وہیں اکالی دل کو اپنی 10 سال کی ناراضگی سے لڑنا ہے۔ ان پانچ ریاستوں میں سب سے زیادہ اہم یوپی مانا جارہا ہے۔ اس صوبے کی دیش میں اپنی سیاسی اہمیت ہے ساتھ ہی دیش کا سب سے بڑا پردیش ہونے کے سبب یہ بہت حد تک مستقبل کی بنیاد بھی بتائے گا۔ بڑی ریاست ہونے کی وجہ سے اترپردیش کا چناؤ سات مرحلوں میں ہوگا اس وجہ سے چناؤ کا عمل دو مہینے سے بھی زیادہ لمبا ہوجائے گا۔ اس درمیان 26 جنوری ،بسنت پنچمی جیسے تہوار بھی آئیں گے۔ ساتھ ہی مرکزی بجٹ (عام)؟ بھی پیش ہوگا اور جب تک چناؤ کے نتیجے آئیں گے ہولی کی مستی دروازے پر دستک دے رہی ہوگی۔ چناؤ کمیشن کے سامنے سپریم کورٹ کے اس حکم کو بھی عمل میں لانے کی چنوتی ہوگی جس میں مذہب ،نسل، زبان اور ذات کے چناوی استعمال پر روک لگی ہے۔
(انل نریندر)

نر پیندر مشر ابنام چمت رائے!

شری رام جنم بھومی ٹرسٹ میں چھڑا دے کو لیکر کی گئی چوری کے تنازعہ میں ایک نیا موڑ آگیا ہے ۔ رام مندر ٹرسٹ سے استعفی کے بعد چمت رائے کا ایک نو...