Translater

11 جنوری 2017

پرنب مکھرجی کی تشویش واجب ہے

نوٹ بندی کالے دھن اور کرپشن کے خلاف بیشک ایک بڑا قدم ہے مگر صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کی وارننگ پر بھی غور کرنا ضروری ہے کہ اس قدم سے طویل المدت ملنے والے فائدے کی توقعات میں غریبوں کو ہورہی تکلیفوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتالیکن سرکار کو اس پر غور کرنا ضروری ہے۔ گورنروں اور لیفٹیننٹ گورنروں کے لئے نئے سال کے اپنے خطاب میں بصد احترام پرنب مکھرجی نے دوہرایا ہے کہ نوٹ بندی کالے دھن اور کرپشن کے خلاف ایک بڑا قدم ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے جزوی مندی آسکتی ہے۔ اقتصادی ترقی کے دم پر مضبوط فیصلے لے رہی مرکزی حکومت کے لئے جی ڈی پی میں اضافے کے اندازے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نوٹ بندی سے دیش کو کچھ سیکٹروں میں نقصان بھی ہورہا ہے۔ سی ایس او نے رواں مالی سال کیلئے 7.1 فیصدی کی ترقی شرح کا اندازہ لگایا ہے جو کہ ایک سال پہلے 7.6 فیصدی کے مقابلے کم ہے۔ مگر ماہر اقتصادیات اور پرائیویٹ اکنامک ایجنسیاں اس اعدادو شمار سے اتفاق نہیں رکھتیں۔ ان کی مانیں تو جب حتمی طور پر اعدادو شمار آجائیں گے تو ترقی شرح کی تصویر ویسی نہیں رہے گی، جیسی بتائی جارہی ہے۔ ان سبھی کی دلیل ہے کہ جب نوٹ بندی کے اثر کو شامل نہیں کیا گیا تھا تو پھر جی ڈی پی اضافے کے اعدادو شمار صحیح کیسے ہوسکتے ہیں؟ ان ایجنسیوں کی نظر میں دیش کی ترقی شرح 6 سے 6.6 فیصدی کے درمیان رہے گی۔ یہاں یہ بھی قابل ذکر ہے کہ رواں مالی سال کے لئے جی ڈی پی میں اضافے کے اندازے میں زیادہ تر اعدادو شمار اپریل سے اکتوبر تک ہی شامل کئے گئے ہیں۔ مطلب ہے کہ نوٹ بندی کے بعد ملک کی معیشت پر اس کا کیا اثر پڑا اس کا اندازہ اس میں شامل نہیں ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ 9 نومبر کو 500 اور 1000 کے پرانے نوٹوں کو چلن سے ہٹانے کا اعلان کیا تھا اس کے بعد سے ہی ماہرین اقتصادیات نے کہا تھا کہ اس قدم کا معیشت پر منفی اثر پڑے گا اور ترقی شرح میں 2 فیصدی تک ہی گراوٹ آسکتی ہے۔ اسٹیٹ بینک کا تجزیہ ہے کہ فروری کے آخر تک ہی حالات 90 فیصد تک بہتر ہوپائیں گے۔ غریب اور محروم طبقے کے لئے دو مہینے کا وقت کافی مشکل ہوتا ہے۔ جیسا کہ صدر جمہوریہ نے کہا ہے، وہ زیادہ انتظار نہیں کرسکتے۔ اس لئے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ ایک ایسی پہل، جس میں ترقی کا دور رس نظریہ شامل ہو کا حصہ دار بننے سے جنتا و حاشیئے پر گئے لوگ نہ ٹوٹ پائیں۔ 
(انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

یو اے ای کے براقح نیوکلیئر پلانٹ پر حملہ

متحدہ عرب امارات (یو اے ای ) کے القفرہ علاقہ میں قائم براقح نیوکلیئر پاور پلانٹ کے کمپلیکس میں پیر کے روز ایک ڈرون حملہ ہوا ۔ اور اس کے بعد ...