بھارت میں ایک کہاوت ہے’ وناش کالے وپریت بدھی ‘یعنی جب آپ کا دماغ خراب ہوتا ہے تو آپ کی سب سے پہلے بدھی بھرشٹ ہوتی ہے ۔ یہی حال ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کے وزیر دفاع پیٹر ہیگسیتھ کا ۔ انہوں نے تازہ بیان دیا ہے جس سے لگتاہے کہ ٹرمپ کا اگلانشانہ کیوبا ہے ۔ پیٹر ہیگسیتھ نے حال ہی میں گوانتا ناموبے کا دورہ کیا اور کیوبا کو سخت الفاظ میں وارننگ دے ڈالی ۔ہیگسیتھ نے کیوبا کو صاف کر دیا کہ امریکہ کے خلاف کسی بھی طرح کی دھمکی برداشت نہیں کی جائے گی ۔انہوں نے مزید صاف کیا کہ تحران کے بعد یا ساتھ ساتھ کیوبا بھی ٹرمپ کے نشانہ پر ہیں ۔لگتا ہے کہ ٹرمپ اپنے پڑوسی ملک کیوبا کے خلاف جنگ چھیڑنے کے موڈ میں ہیں۔ ایران جنگ میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں اور باہر نکلنے کے لئے بے تاب ہیں اور اب کیوبا کو قبضانے کی دھمکی دے رہے ہیں ۔انہوں نے کیوبا کی اینرجی سپلائی کاٹنے کے بعد اب ایئر کرافٹ کیریئر یو ایس ایس نمیٹیج کو پورے کیریئر گروپ کے ساتھ تعینات کر دیا ہے ۔یہ تعیناتی ٹھیک اسی طرح کی ہے جسے انہوں نے وینزویلا پر حملہ کرنے سے پہلے وہاں کے صدر نکولس مادورو کو ہٹانے کے لئے چاروں جانب تعینات کیا تھا ۔کیوبا پر حملے کی تیاری میں امریکہ نے کیوبا کے 94 سالہ سابق صدر رائل کاسترو پر قتل کا الزام بھی لگایاہے اس کے بعد قیاس آرائیاں بھی تیز ہو گئی ہیں کہ امریکہ کی تختہ پلٹ فہرست میں اگلانام کیوبا کا ہوسکتا ہے ۔امریکہ میں کسی وقت پریشر پالیسی کی وجہ سے کیوبا دہائیوں کا سب سے بڑا ایندھن اور بجلی بحران پیدا کرنے والا ہوگیا ہے ۔اسی درمیان ٹرمپ اور ان کے افسران مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ 66 سال سے اقتدار میں موجود کمیونسٹ سرکار کا خاتمہ ہونا چاہیے ۔ وائٹ ہاؤس نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساحل سے 144 کلو میٹر دوری پر کسی باغی دیش کو برداشت نہیں کرے گا ۔اب یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ رائل کاسترو کو کوئی فوجی کاروائی چلاکر مادورو کی طرح گرفتار کرکے امریکہ لاسکتا ہے ۔انہیں امریکہ لاکر ان پر مقدمہ چلا سکتا ہے ۔اس سال کے آغاز میں ایک ایگزیکٹو حکم میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ کیوبا میں روس کا سب سے بڑا غیر ملکی جاسوسی سنٹر موجود ہے ۔بائیڈن انتظامیہ نے چین پر بھی الزام لگایا تھا کہ اس نے امریکہ کے ساحلوں سے صرف 90 میل دوری پر واقع اس کمیونسٹ جزیرہ پر جاسوسی سنٹر کھول رکھا ہے ۔یہی نہیں ٹرمپ انتظامیہ نے قریب 30 سال پرانے ایک معاملے کو اچانک تازہ کرکے کیوبا کے سابق صدر رائل کاسترو پر سنگین الزام لگا دیا ۔اصل میں 1996 میں سمندر میں پھنسے لوگ اور کیوبا سے بھاگ کر امریکہ آنے والے پناہ گزینوں کی مدد کرنے والی ایک آرگنائزیشن چھوٹے شہری ریگولیشن کے ذریعے ریسکیو مشن چلارہا تھا اس کے دو شہری جہازوں کو کیوبا سے فوجی جہازوں نے مار گرایا اس میں 4 امریکی شہریوں کی موت ہو گئی تھی اس واردات کے بعد دونوں ملکوں کے رشتوں میں مزید کشیدگی بڑھ گئی تھی ۔اب تین دہائی بعد امریکی افسران نے سابق کیوبائی صدر رائل کاسترو پر قتل ،سازش رچنے اور جہاز گرانے سے وابستہ الزامات لگائے ہیں ۔رائل کاسترو کیوبا کی سیاست کے سب سے طاقتور چہروں میں سے ایک ہیں ۔انہوں نے اپنے بھائی فیدل کاسترو کے بعد دیش کی سیاست سنبھالی تھی ۔اب سوال ہے کہ آخر 30 سال بعدا س معاملے کو کیوں اٹھانا چاہتا ہے ؟
(انل نریندر)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں