کیا امریکہ ایران پر زمینی حملے کی تیاری کررہا ہے اور سیز فائر کے نام پر ایران کو بے وقوف بنارہا ہے ؟ امریکی وارشپ یو ایس ایس تریپولی بیڑے کی تعیناتی کے بعد یہ سوال پھر اٹھ گیا ہے کہ امریکہ کی اصل نیت کیا ہے ؟ تریپولی کی تعیناتی کے بعد یہ سوال بھی اٹھنا لازمی ہے ۔امریکی فوجی نے سنیچر کو اس نے ایران کی جانب سے لانچ کئے گئے ڈرون کو تباہ کر دینے کا دعویٰ کیا ۔وہیں اب ہرمز میں یو ایس ایس تریپولی کی تعیناتی کی تازہ خبر آئی ہے ۔سوال اٹھتا ہے کہ اب ایران پر زمینی حملہ ہونے جارہا ہے ؟ امریکہ اور ایران کے بیچ امن مذاکرات کہنے کو تو ابھی جاری ہیں لیکن زمین اور سمندر پر جو حالات نظر آرہے ہیں وہ کچھ اور ہی کہانی کی جانب اشارہ کررہے ہیں ۔پچھلے 72 گھنٹوں میں ہوئی کئی فوجی کاروائیوں نے مغربی ایشیا میں نئے سوال کھڑے کر دئیے ہیں ۔سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ صرف ایران پر دباؤ بنارہا ہے یا پھر ہرمز جل ڈروم وسط پر بالادستی حاصل کرنے کی تیاری کررہا ہے ؟ کیوں کہ جو تیاری امریکہ کررہا ہے اسے دیکھ کر تو ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ اب ایران کے آئی لینڈ پر قبضہ کرنے جارہا ہے ؟ ان واقعات کی شروعات اس خبر سے ہوئی جس میں بتایاگیا کہ ایرانی جھنڈے والے چار تیل ٹینکر ہرمز پار کرنے میں کامیاب رہے ہیں ۔یہ جہاز مبینہ طور پر قریب 70 لاکھ بیرل تیل لے کر نکلے تھے اور بندشوں کے باوجود آگے بڑھ گئے ۔لیکن اس کے کچھ ہی گھنٹوں بعدا مریکی انڈو پیسفک کمانڈ نے اعلان کیا کہ اس نے بحر ہند میں ممنوعہ تیل ٹینکر ، ڈیبینا کو روک کر اس پر قبضہ کر لیا ہے ۔فی الحال یہ صاف نہیں ہے کہ قبضہ میں لیا گیا جہاز انہیں 4 ٹینکروں میں سے ایک تھا یا نہیں ۔لیکن ٹائمنگ نے کئی قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے ۔اس مسئلے پر سنبھل ہی رہا تھا کہ اس پر امریکہ نے حملہ کر دیا ۔سنیچر کو ہی امریکی سنٹرل کمان نے دعویٰ کیا کہ اس نے ہرمز کی جانب بڑھ رہے 4 ایرانی حملہ آور ڈرون مار گرائے ۔اس کے فوراً بعد امریکی فوج نے ایران کے گوشک اور کیشم جزیرہ پر موجود ساحلی راہار ٹھکانوں پر حملے کئے ۔یہ پہلی بار نہیں ہے جب کیشم کو نشانہ بنایاگیا ہے ۔لیکن موجودہ حالات میں اس جزیرہ کا نام بار بار سامنے آنا فوجی تجزیہ کاروں کی توجہ کھینچ رہا ہے ۔جواب میں ایران نے بھی کویت اور بحرین کی جانب سات میزائلیں داغی اس میں سے چھ کو امریکہ نے روکنے کا دعویٰ کیا ۔اسی بیچ امریکہ نے یو ایس ایس تریپولی کی بحر عرب اور ہرمز خطہ میں تعیناتی کی ہے۔ یو ایس ایس تریپولی کوئی عام جنگی بیڑا نہیں ہے یہ ایک عمار حملہ آور جہاز ہے ، جس کا مطلب ہے کہ یہ جہاز پانی سے تو حملہ کر ہی سکتا ہے ضرورت پڑنے پر زمین کے بے حد قریب جاکر فوجیوں کو اتار بھی سکتا ہے ۔ایسے جہاز سمندر سے سیدھے فوجی آپریشن چلائے جانے کے لئے بنائے جاتے ہیں ۔ اِدھر کیشم ایران کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اوریہ ہرمز کے مہانے پر موجود ہے ۔اسے نہ ڈوبنے والاایئر کرافٹ کیریئر بھی کہاجاتا ہے ۔ایران نے یہ برسوں سے راڈار سسٹم ، ڈرون بیس ، اینٹی شپ میزائلیں ، انڈر گراؤنڈ سرنگیں اور بحری اڈے بنائے ہوئے ہیں اگر امریکہ اس جزیرہ پر قبضہ کر لیتا ہے تو اسے کئی اسٹریٹجک فائدے مل سکتے ہیں ویسے امریکہ کے لئے کیشم پر قبضہ بالکل بھی آسان نہیں ہونے والاہے ۔اس کا مطلب ہوگا کہ سیدھے انگاروں کو ہاتھ میں لینا ہے ۔کیشم ایرانی زمین سے بے حد قریب ہے اگر امریکہ اپنے فوجیوں کو یہاں اتارتا ہے تو اسے ایران کی میزائلیں، ڈرون اور بحری حملوں اور امکانی گوریلا جنگ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ یو ایس ایس تریپولی کی موجودگی کیشم پر مسلسل حملے اور تیاریوں کو روکنے جیسی کاروائیوں نے یہ بحث تیز کر دی ہے کہ امریکہ ہرمز پر حکمت عملی بڑھت لینے کی کوشش کررہا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ امن بات چیت کرنے کے باوجود مغربی ایشیا میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی دکھائی دے رہی ہے ۔
(انل نریندر)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں