ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے لئے تین دن کے سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے ۔تین ماہ بعد آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسوم اداکی جائیں گی ۔مشہد قبرستان میں سپرد خاک کئے جائیں گے۔ ایران کی سرکار نے سابق لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے لئے تین دن کےسرکاری سوگ اور آخری رسوم ادائیگی کا اعلان کیا ہے ۔فی الحال تاریخ اعلان نہیں ہوئی ہے ۔آخری رسوم اور خراج عقیدت پروگرام اسلامی کلینڈر کے آخری ماہ ذی الحجہ کے آخر میں ہو سکتی ہے ۔یعنی 15 جون کے آس پاس ۔حکام نے بتایا خامنہ ای کی خواہش کے مطابق انہیں مشہد کے امام رضادرگاہ میں دفنایاجائےگا ۔تہران ، قوم اور مشہد میں پروگرام ہوں گے ۔ان شہروں میں وسیع پیمانہ پر آزادانہ جلوس نکالے جائیں گے اور خراج عقیدت محفلیں منعقد کی جائیں گی ۔ایران کے سرکاری ٹی وی چینل آئی آر آئی بی سی بات چیت میں توکل علی جاوید نے کہا کہ تینوں شہروں میں کروڑ وں لوگوں کے شامل ہونے کی امید ہے ۔تہران کے ڈپٹی میئر محمد امین توکلی جاوید نے کہا کہ ایران کے کئی دیگر صوبے بھی تعزیتی پروگرام منعقد کرنا چاہتے ہیں ۔بتایاجارہا ہے تہران میں ہونے والے بڑے پروگرام کم سے کم 24 گھنٹے چلے گا پھر تہران میں ہی 1.5 کروڑ سے دو کروڑ لوگ اپنے شہید سپریم لیڈر کو آخری خراج عقیدت دینے پہنچ سکتے ہیں ۔اتنی بڑی بھیڑ کو سنبھالنے کے لئے انتظامیہ حفاظت اور ٹریفک اور دیگر ضروری انتظامات کی تیاری کررہا ہے ۔یہ فیصلہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے تین ماہ بعد لیا گیا ہے ۔عام طور پر اسلامی روایت کے مطابق کسی شخص کی آخری رسوم موت کے کچھ دنوں کے اندر ہی اداکر دی جاتی ہیں لیکن ایرانی حکام نے پہلے اس پروگرام کو ٹال دیا تھا پھر پہلے کیوں نہیں ادا کی گئی آخری رسوم؟ آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکی اسرائیلی حملے میں وفات پا گئے تھے ۔ان کی شہادت کے بعد مارچ میں ایران کے حکام نے بیان دیا تھا کہ امکانی بھاری بھیڑ اور انتظامات کو لے کر آرہی دشواریوں سے آخری رسوم فوری ادا کرنا ممکن نہیں ہے ۔ ایران کی سرکاری ایجنسی ارنا کے مطابق سرکاری آخری رسوم جون کے وسط میں ادا کی جائے گی ۔حالانکہ اس کی کوئی پختہ تاریخ اور وقت ابھی حکام نے اعلان نہیں کیا ہے ۔آخری رسوم بہت بڑے پیمانہ پر ہوگی اور اس میں ایران کے ساتھ ساتھ کئی مسلم ممالک سے بھی بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوں گے ۔پاکستان ،افغانستان ،بھارت ،بنگلہ دیش سے بھی بڑی تعداد میں لوگوں کے مشہد پہنچنے کی امید ہے ۔آیت اللہ علی خامنہ ای کی رسوم میں کروڑوں لوگ ایک ساتھ اکٹھے ہوں گے ۔یہ بھی خطرہ ہے موقع کا فائدہ اٹھا کر کہیں اسرائیل کوئی الٹی سیدھی حرکت نہ کر دے ۔امریکہ بھی اس موقع کا فائدہ اٹھاسکتا ہے ۔اوپر والاایسے ہونے سے بچائے ۔امید کرتے ہیں اس مقدس موقع کا اسرائیل امریکہ کوئی ناجائز فائدہ نہ اٹھائے گا اور آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسوم میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گا ۔خامنہ ای نے 86 سال عمر پائی ہے ۔وہ تین دہائی سے زیادہ عرصہ تک ایران کے سپریم لیڈر رہے ۔آج جو ایران ہے اس کے پیچھے آیت اللہ خامنہ ای کی دور اندیشی اور ان کی پلاننگ یہ تھیں کہ ہم آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔
(انل نریندر)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں