Translater

13 مارچ 2025

بھارت ٹیکس کٹوتی کرنے پر رضامند !

امریکہ کے صدر ڈونالٹ ٹرمپ نے کہا بھارت اپنے ٹیکس میں مناسب کٹوتی کرنے کے لئے رضامند ہو گیا ہے کیوں کے بھارت امریکہ پر بہت زیادہ ٹیکس لگاتا ہے ۔جس سے وہاسامان فروخت کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ٹرمپ نے گزشتہ جمعہ کو اول حافظ یعنی صدر کے افیشل آفس سے دئے گئے بیان میں کہا کے اقتصادی ،مالی اور تجارتی نظریہ سے ہمارے دیش کو دنیا کے تقریباً ہر دیش نے پوری طرح سے ٹھگا ہے کناڈا میں کس کو اور پھر آپ پیچھے لائن میں چلے جاہئے ۔بھارت ہم پر بہت زیادہ ٹیکس لگاتا ہے ۔آپ بھارت میں بہت زیادہ چیزیں نہیں فروخت کرسکتے ۔یہ تقریباً پابندی لائق ہے ۔ہم اندر بہت کم تجارت کرتے ہیں ۔ٹرمپ نے کہا کے ویسے اس بات پر راضی ہو گئے کے اب وہ اپنے ٹیکس میں کٹوتی کرنا چاہتے ہیں کیوں اب کوئی تو ان کے کئی کی پول کھول رہا ہے ۔انہوں نے کہا چین کے ساتھ بھی یہی بات ہے ۔دیگر ملکوں کے ساتھ بھی یہی بات ہے ۔اور یوروپی یونین اس دیش کا بہت زیادہ بیجا استعمال کر رہے ہیں ۔ٹرمپ کا یہ تبصرہ صنعت وا تجارت وزیر پیوش گوئل کی ہم منصب ہاورڈ لوبیٹنک کے ساتھ تجارتی بات جیت کےلئے امریکہ دورے کے بعد سامنے آئی ہے ۔ٹرمپ نے اس ہفتے تیسری مرتبہ بھارت کے ذریعہ لگائے گئے ہائی ٹیکس کی تنقید کی ہے ۔ڈونالٹ ٹرمپ نے دعویٰ کیا بھارت امریکی چیزوں پر نئے ٹیرف کم کیا ہے ۔ڈونالٹ ٹرمپ نے دعوی کیا بھارت امریکی چیزوں پر ٹیرف کم کرنے پر راضی ہو گیا ہے ۔اس بیان پر کانگریس نے سرکار پر تلخ نکتہ چینی کی ہے ۔کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے کہا کے اگر ٹرمپ کی بات صحیح ہے تو مودی سرکار سرینڈر ہے اور اس سے بھارت کی معیشت زیادہ اتھل پتھل ہو جائے گی ۔کانگریس نے پردھان منتری سے اس مسلے پارلیمنٹ میں جواب دینے کی مانگ کی ہے ۔پون کھیڑا نے آگے کہا کے پی ایم مودی کے امریکہ کے آگے ہتھیار ڈالنے سے نہ صرف بھارت کی ساکھ کمزور ہوئی ہے ۔اور بین الاقوامی ستح پر بھارت کے وزیر اعظم کے عہدے کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے ۔بھارت سرکار کو بتانا چاہئے کے آخر بھارت نے کیا رضا مندی دی ہے ؟ادھر زرائع بتاتے ہیں کے ٹیرف پر بات جیت شروع ہو چکی ہے ۔ایسے میں اس کی تفصیلات پر بات کرنا جلد بازی ہوگی ۔بھارت نے یو اے ای ،سویٹز رلینڈ ،ناروے ،آسٹریلیا کے ساتھ باہمی سمجھتے کے تحت مناسب طور پر لگائے جانے والے ٹیرف کو کافی کم کیا ہے ۔ایسی بات جیت یوروپی یونین اور یو کے ساتھ بھی ہو رہی ہے ۔ (انل نریندر)

بھارت کی جیت پر پاک کا ردعمل!

بھارت نے چیمپین ٹرافی 2025 کے فائنل میں نیوزی لینڈ کو ہراکر12 سال بعد یہ خطاب اپنے نام کر لیا ہے ۔رویندر جاڑیجا نے 49 ویں آخری گیند پر چوکا لگاکر یہ جیت دلائی ۔دبئی کی دھیمی پچ پر نیوزی لینڈ کے 251 کے رنوں کے ٹارگیٹ کا پیچھا کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا ۔لیکن ٹیم انڈیا کے کپتان روہت شرما نے 83 گیندیں کھیل کر76 رن کی شاندار پاری مضبوط بنیاد رکھی ۔باقی کام بھارت کے سپینرس ورون چکرورتی ،کلدیپ یادو ،روندر جڑیجا ننے پورا کر دیا۔اس بار کی چیمپن ٹرافی کی میزبانی پاکستان کر رہا تھا ۔لیکن بھارت کے پاکستان جانے کے انکار کے بعد کچھ میچ دبئی میں شفٹ کرنے پڑے تھے ۔بھارت نے اپنے سارے میچ دبئی میں ہی کھیلے تھے ۔بھارت کے اس رخ کو لیکر پاکستان کے لوگ خاصی ناراضگی جتا رہے تھے ۔بھارت سے کھیلنے کے لئے پاکستانی ٹیم کو دبئی جانے سے پہلے پاکستان کے سابق اسپینر ثقلین مشتاق نے کہا تھا ،مجھے امید ہے کے انہیں ٹھیک سے سبق سکھائے گے ۔لیکن پاکستان نہ تو بھار ت کو ہرا پایا ،نہ ہی ٹورنمنٹ میں ٹک پایا ۔میزبان ہونے کے باوجود فائنل میچ اپنے گھر میں نہیں کرا پایا ۔بھارت کی جیت پر پاکستان کے سابق کرکیٹر ثقلین مشتاق نے ایک نیوز چینل سے کہا کے اس جیت کا کریڈٹ میں بھارت سے لینا نہیں چاہتا ۔لیکن دنیا بھر کے جتنے بھی کرکٹ بورڈ ہیں ،انہیں آئی سی سی سے پوچھنا چاہئے کیا ساری چیزیں منصفانہ طریقہ سے دور ہیں ؟کون لاڈلا ہے ،کون نہیں کیا اسی طرح آگے بھی کرکٹ چلے گا ؟آگے بھی اسی طرح ایشیا کپ ہے اب اس کا ماڈل کیا ہوگا؟کھیل کی روح نکل کائے گی اور کرکٹ پھر باوور کا گیم ہو جائے گا ۔دراصل ثقلین کا کہنا ہے کے ٹیم انڈیا کو کہیں ٹریول نہیں کرنا پڑا اور سارے میچ دبئی کے ایک اسٹیڈیم میں ہی کھیلنے کا فائدہ ملا۔وہیں پاکستان کے سابق کپتان الضمام الحق نے کہا ٹھیک ہے کچھ چیزیں بھارت کے حق میں تھیں ۔لیکن اس کے باوجود ساری ٹیموں کو ہرانا اور اس طرح کھیلنا ،کریڈٹ تو جاتا ہے روہت نے خود بھی اچھا کھیلا اور ٹیم کو بھی اچھے سے سنبھالا ۔الضمام نے کہا کی جو ثقلین کی بات کر رہا ہے اس میں سچائی ہے ۔پہلے ان چیزوں کو لیکر صرف پاکستان شور مچاتا تھا لیکن اب دوسرے دیشوں کے کھیلاڑیوں نے بھی اعراض جتایا ہے ۔بھارت کی جیت میں کلی طور پر پرفامنس اچھی رہی ۔ٹی وی کے اسی شو میں پاکستان کے سابق کپتان وقار یونس نے کہا مجھے لگتا ہے کے کلدیپ یادو نے کمال کیا ہے ۔ہم لوگوں کو لگ رہا تھا کے کلدیپ کو روہت 20 اوور کے بعد لگائے گا لیکن اس کو پہلے لاکر حیرت زدہ کر دیا ۔مجھے نہیں لگتا کے نیوزی لینڈ کے آف سپینرس کو امید رہی ہوگی کے کلدیپ آئے گا ۔کلدیپ کو لانا بڑھیا واقعی حکمت عملی تھی ۔وسیم اکرم نے روہت شرما کی تعریف کرتے ہوئے کہا کے روہت نے پچھلے 4 برسوں میں پاوور پلے میں 70 چکے مارے ہیں ۔آج بھی روہت بغیر مزید کوشش کی بلا رکاوٹ بلے بازی کر رہے تھے ۔پاکستان کے کرکٹ بورڈ سابق چیئرمین اور کمینٹریٹر رمیز راجا نے کہا بھلے آپ کہلیں کے بھارت کو ایک پچ پر کھیلنے کا فائدہ ملا لیکن جیت کے لئے اچھا کھیلنا ہوتا ہے بھارت نے بغیر کوئی میچ ہارے خطاب جیت لیا۔بھارت اب بہت آگے نکل چکا ہے۔4-5 اسپینروں کا ستعمال کرنا اتنا آثان نہیں ہوتا ۔کلدیپ یادو نے کمال کیا ہے ۔اس کے بعد نیوزی لینڈ اپنے آپ کو سنبھال نہیں پایا اور ساری بھارتیہ کرکرٹ ٹیم کو شاندار جیت کے لئے بدھائی دیتے ہیں ۔ (انل نریندر)

11 مارچ 2025

نشانے پر رام مندر!

پاکستانی خوفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے تعلق رکھنے والے ببر خالصہ انٹر نیشنل کے فرار دہشت گرد لجر مسیح کو کوشامبی سے گرفتار کیا گیا ہے ۔یوپی ایس ٹی ایف اور پنجاب پولس نے جوائنٹ کارروائی میں مسیح کو دبوچہ آئی ایس آئی و بی کے آئی کے عشارہ پر مسیح نے پریاگراج میں مہا کنبھ کے دوران بڑا دھماکہ کرکے دیش کو دہلانے کی سازش رچی تھی ۔حلانکہ سخت حفاظتی انتظام کے چلتے اپنے منصوبے میں کامیاب نہیں ہوا ۔آتنکی کے پاس سے گولے ،ڈیٹونیٹر،روسی پستول ،13 کارتوس،سفید دھامکو پاﺅڈر برآمد ہوا ہے ۔امرتسر میں رہنے والا لجر پاکستان میں بیٹھے آئی ایس آئی کے ہینڈ لرو کے رابطہ میں تھا ۔اور فرضی پتے پر چندر نگر کلونی میں کے نام سے بنا آدھار کارڈ بھی برآمد ہواہے ۔آدھار میں لکھے گئے پتے پر رہہ رہے لوگوں کے مطابق وہاں لیجر مسیح نام کا کوئی شخص نہیں رہتا ہے ۔گزشتہ دنوں امریکہ میں مقیم خالصتانی دہشت گرد گروپنت سنگھ پنو نے مہاکنبھ میں حملہ کی دھمکی دی تھی اس کے بعد سینٹرل ایجنسیوں کے ساتھ یو پی پولس چوکنا تھی ۔ڈی جی پی پرشانت کمار کے مطابق لجر پریاگراج بھی گیا تھا لیکن وہ سخت چوکسی کے سبب شہر میں داخل نہیں ہو سکا ۔تازہ اطلاع کے بعد اسے بدھوار کی رات قریب 3:15 بجے دبوچ لیا گیا ۔لجر بی کے آئی کے جرمن ماڈول کی سورن سنگھ عرف جیہن فوجی کا قریبی اور اسلحہ اور ڈرگ کا بڑا سپلائر ہے اور وہ اس معاملے میں امرتسر جیل میں بند تھا ۔اس کے پتا کلوندر نے دھرم بدلکر اسائی مذحب اپنا لیا تھا ڈی جی پی نے بتایا کے مسیح کو پاکستان میں بیٹھے اس کے آقاءڈرون کے ذریعہ گولہ بارود و ہتھیار دستیاب کراتے تھے ان کا استعمال مسیح اور اس کاساتھی آتنکی حملوں میں کرتے تھے ۔پنجاب میں پولس چوکیوں پر ہوئے حملے کی ذمہ داری پر خالصہ انٹر نیشنل کے جرمنی میں مقیم سرغنہ جیون فوجی عرف سورن سنگھ نے لی تھی ۔مشتبہ دہشت گرد پکڑے جانے کے بعد رام مندر کے چاروں طرف سکورٹی بڑھا دی گئی ہے رات بھر گشت کے ساتھ چیکنگ بھی بڑھائی گئی ہے ۔اس کے ساتھ کمپلیکس سے لگے بھون کو کسی بھی مشتبہ کو دیکھنے پر پولس کو فوراً مطلع کرنے کو کہا گیا ہے ۔پچھلے سال 2005 میں رام جنم بھومی پر فدائی حملہ ہوا تھا ۔آتنکی پنچ کوسی پریکرما کے راستے سے ہوتے ہوئے کمپلیکس کے قریب پہنچ گئے اور دھماکہ کر احاطہ میں داخل ہوئے تھے ۔حلانکہ سکورٹی کرمچاریوں نے انہیں مار کر ان کے منصوبوں پر پانی پھیر دیا تھا ۔حملے سر سبق لیکر ایک بار پھر حفاظتی انتظامات مضبوط کئے جا رہے ہیں احاطہ کے چاروں طرف خاص کر رات کے وقت چوکسی بڑھا دی گئی ہے اور پیرا ملیٹری فورس کے جوان رات میں گشت کے لئے لگائے گئے ہیں ۔پاکستانی ایجنسی آئی ایس آئی اپنی خورافاتی حرکتوں سے باز آنے والی نہیں ہے ۔ہمیں سخت چوکسی برتنی ہوگی ۔اور مکمل الرٹ رہنا ہوگا۔ (انل نریندر)

ہم ہر طرح کی جنگ کےلئے تیار ہیں !

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ٹیرف بڑھانے کے فیصلہ پر جوابی حملہ کرتے ہوئے چین نے امریکہ کو خبردار کیا ہے ۔کے وہ کسی بھی طرح کی جنگ کے لئے تیار ہے ۔ٹرمپ نے سبھی چینی سامان پر ٹیرف بڑھانے کا اعلان کیا ہے اور اس اعلان کے بعد سے یہ دنیا کی بڑی معیشتوں میں ٹریڈ وار کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔اس کے فوراً بعد ہی چین نے امریکہ ذراعتی سامان پر 10 سے 15 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کر ڈالا۔چینی سفارت خانہ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لیکھا ہے چاہے ٹیرف وار ہو، ٹریڈ وار ہو یا پھر کوئی دوسری جنگ ،امریکہ اگر جنگ چاہتا ہے تو ہم اس کو انجام تک پہنچانے کے لئے لڑنے کو تیار ہیں ۔ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سے چین کی جانب سے یہ سب سے تلخ بیان ہے اور ایسے موقع پر آیا ہے جب نیشنل پیپلز کانگریس کا سالانہ اجلاس بیجنگ میں ہوا ہے ۔بدھوار کو چین کے وزیراعظم ینگ لی کیانگ نے اعلان کیا کے چین اس سال اپنے ڈیفنس خرچ میں 7.2 فیصد کا اضافہ کرے گا ۔پوری دنیا میں تیزی سے تبدیلیاں ہو رہی ہیں جنہیں اس صدی میں کبھی نہیں دیکھا گیا۔ حلانکہ ڈیفنس بجٹ میں یہ اضافہ امید کے مطابق پچھلے سال کے اعلان سے میل کھاتا ہے ۔بیجنگ میں نیتا چین کی عوام کو ایک پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔انہیں بھروسہ ہے دیش کی معیشت ٹریڈ وار کے خطروں کے باوجود بڑھ سکتی ہے ۔ایسا لگتا ہے کے چین امریکہ کے مقابلہ سے معیشت کو مظبوط اور امن پسند دیش کی شکل میں پیش کرنا چاہتا ہے ۔چین نے پہلے بھی کہا ہے کے وہ جنگ کے لئے تیار ہے ۔پچھلے سال اکٹوبر میں صدر شی جن پنگ نے تعیوان کے چارو طرف ملیٹری ریہلسر کے دوران فوجیوں کو جنگ کے لئے تیار رہنے کے لئے کہا تھا ۔واشنگ ٹن میں چینی صفارت کھانے نے ایک دن پہلے وزارت خارجہ کے بیان کا حوالہ دیا ہے ۔جس میں کہا گیا ہے ڈرگ کی اسمگلنگ کے لئے امریکہ پر بے وجہ الزام مڑھ رہا ہے ۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق چینی سامان کی درا¿مدات امریکی ٹیرف بڑھانے کے لئے فنٹا نل کا اشو ایک بے وجہ بہانہ ہے ۔دھمکی سے ہم ڈرنے والے نہیں ہیں ۔اور دبنگ کا ہم پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔دباﺅ ،زبردستی یا دھمکیاں ،چین سے نمٹنے کا صحیح طریقہ نہیں ہے چین کے تلخ رد عمل پر امریکی وزیر دفعہ نے ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں کہا ہم تیار ہیں ،جو امن چاہتے ہیں ۔انہیں جنگ کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے ۔یہیں وجہ ہے امریکہ اپنی فوج کو مضبوط کر رہا ہے اور ڈفینس یونٹ بہال کر رہا ہے ہم ایک خطرناک دنیا میں رہ رہے ہیں ،ٹیکنا لوجی کو زیادہ اڈوانس کر رہے ہیں ۔وہ امریکہ کی جگہ لینا چاہتے ہیں ۔انہوںنے کہا کے فوجی طاقت بنائے رکھان اور کسی کشیدگی سے بچنے کا اہم طریقہ ہے اگر ہم چین یا دیگر ملکوں کے مابین جنگ کو روکنا چاہتے ہیں تو ہمیں طاقتور ہونا پڑےگا اور صدر ٹرمپ جانتے ہیں اسی سے امن قائم ہوگا ۔ان کے چین کا صدر شی جن پنگ سے تعلق ہے ہم چین کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے ہیں ۔اور صدر ٹرمپ نے ان تاریخی موقع کو اس کے لئے استعمال بھی کیا ۔ (انل نریندر)

08 مارچ 2025

ٹرمپ کی ٹیرف اسٹرائک !

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھارت اور چین سمیت دیگر ملکوں کی طرف سے اونچا ٹیکس (ہائی ٹیرف)لگائے جانے کی نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے بیحد نا مناسب قرار دیا ہے ۔ٹرمپ نے ساتھ ہی اعلان کیا دو اپریل سے جوابی ٹیکس لگائے جائے گے ۔انہوںنے جوابی ٹیکس کو لیکر اپنی دلیل رکھی یہ ٹیرف دوسرے دیشوں سے آنے والے سمان پر لگانا چاہتے ہیں ۔جو وہ دیش سے ہونے والی ایکس پورٹ پر لگاتے ہیں ۔ٹرمپ نے امریکی کانگریس (پارلیمنٹ)کے جوائنٹ سیشن کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا دیگر ملکوں سے ہمارے خلاف ٹیکس لگائے گئے ہیں اور اب ہماری باری ہے ہم ان دیشوں کے خلاف اس کو استعمال کریں ۔یوروپی یونین ،چین برازیل ،بھارت ،میکسکو اور کناڈا کیا آپ نے ان کے بارے میں سنا ہے ایسے بہت سے دیش ہیں جو ہمارے مقابلے میں ہم سے بہت سے زیادہ ٹیکس وسولتے ہیں یہ بلکل نہ مناسب ہے اپنی دوسری میعاد میں کانگریس کو پہلی بار خطاب کرتے ہوئے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کے بھارت ہم سے 100 فیصد سے زیادہ آٹو ٹیکس وسول کرتا ہے ہم بھی ایسا کرنے جا رہے ہیں یعنی 2 اپریل سے ہندوستانی سمان پر ڈونالڈ ٹرمپ ریسی پروکل ٹیرف پالیسی لاگو کر دیگا ۔اپنے 44 منٹ کی تقریر میں ٹرمپ نے کہا انہوںنے 43 دن میں جو کیا وہ کئی سرکاریں اپنے اپنے 4 یا 8 سال کے عہد میں نہیں کر سکیں ۔چلئے اپ آپ کو بتاتے ہیں ریسی پروکل لفظ کا مطلب کیا ہوتا ہے۔اور یہ کوئی دیش کسی دوسرے دیش پر کب لگاتا ہے ؟ریسی پروکل کا مطلب ہوتا ہے جیسے کو تیسا والی پالیسی ۔اسے ایسے سمجھئے کے وہ دیش بھی اسی طرح کا ایسا ٹیکس یا کاروباری پابندی ہے جو ایک دیش دوسرے دیش پر لگاتا ہے ۔جب وہ دیش بھی اسی طرح کا ٹیکس یا پابندی پہلے دیش پر لگاتا ہے ۔مطلب اگر ایک دیش دوسرے دیش کے سامان پر 100 فیصدی ٹیکس لگاتا ہے تو دوسرا دیش بھی اتنا ہی ٹیکس لگا سکتا ہے اس کا مطلب تجارت میں بیلینس بنانا ہوتا ہے اس سے یہ یقینی کرنا کے کوئی دیش دوسرے دیش کے سامان پر 100 فیصدی ٹیکس لگاتا ہے تو دوسرا دیش اسی طرح کا ٹیکس لگا سکتا ہے ۔اس کا مقصد تجارت میں توازن بنائے رکھنا ہوتا ہے جو یہ یقینی کرتا ہے کو کوئی دیش دوسرے دیش کے سامان پر زیادہ ٹیکس نہ لگائے ۔ریسی پروکل ٹیرف کی شروعات 19 ویں سدی میں ہوئی تھی 1860 میں برطانیہ ،فرانس کے بیچ ایک معادہ ہوا تھا جس میں ٹیرف کم کئے گئے تھے اس کے بعد 1930 کی دہائی آئی جب امریکہ نے امیوٹ ہولے ٹیرف ایکٹ لاگو کیا جس سے عالمی تجارت متاثر ہوئی اور مندی بڑھی ۔حال ہی میں ٹرمپ انتظامیہ نے چین ،یوروپی یونین اور دیگر ملکوں پر ٹیکس لگائے جس کے جواب میں ان ملکوں نے بھی امریکی سامان پر ٹیکس لگائے ہیں ۔بھارت اس برننگ مثلے سے کیسے نپٹے گا یہ دیکھا باقی ہے ۔اگر ٹرمپ بھارت پر 100 فیصد ٹیکس لگاتا ہے تو یقینی طور سے بھارت کی معیشت پر اس کا بھاری اثر پڑے گا دیکھان یہ ہے کے بھارت سرکار اس نئی چنوتی کا کیا حل نکالتی ہے تاکہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ (انل نریندر)

آکاش آنند :عرش سے فرش پر !

بہوجن سماج پارٹی کی چیف مایاوتی میں اپنے بھتیجے آکاش آنند کو نہ صرف پارٹی کے سبھی عہدوں سے ہٹایا بلکہ اب پارٹی سے بھی باہر کر دیا انہوںنے پیر کو ایکس پر جانکار دی ان کا کہنا ہے ایک دن پہلے سبھی عہدوں سے ہٹائے جانے پر آکاش نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا ۔آکاش کے بیان کو اپنی سسر ک دباﺅ میں آنے والا مفاد پرست اور غیر مشنری بتایا ۔آکاش آنند کو 2019 میں پارٹی کا قومی کنوینر بنایا گیا تھا اور 2023 آتے آتے رستوں میں کھٹاس بڑھی تھی ۔آکاش آنند نہ صرف پارٹی کے عہدوں سے ہٹائے گئے بلکہ پارٹی سے بھی باہر کا راستہ دکھا دیا ۔آکاش آنند مایا وتی کے سب سے چھوٹے بھائی آنند کمار کے بیٹے ہیں وہ 2017 میں لندن سے پڈھائی کے بعد بی ایس پی کے کام کاج سے جڑے ہوئے تھے ۔وہیں 2017 میں ٹھاکروں اور دلتوں کے درمیان لڑائی کے وقت وہ سہرسہ گئے تھے ۔2019 میں لوک سبھا چناﺅ کے بعد آکش کو بی ایس پی کا قومی کنوینر بنایا گیا تھا لیکن وہ پارٹی کو جیت دلانے میں ناکام رہے ۔حال ہی میں دہلی اسمبلی چناﺅ میں آکاش پارٹی کے انچارج تھے ۔لیکن سیٹ جیتنا تو دور کی بات ہے بلکہ پارٹی ووٹ شیئر میں بھی کافی گراوٹ آئی تھی ۔مایاوتی میں پچھلے سال لوک سبھا چناﺅ سے پہلے بھی پارٹی کی ذمہ داری سے ہٹا دیا تھا اور دلیل دی گئی تھی کے ابھی انہیں سیاسی دور پر پختہ ہونے کی ضرورت ہے ۔لیکن آکاش کو تب بھی ہٹایا گیا تھا جب وہ حکمراءبھاجپا پر سیدھا اور تلخ حملہ کر رہے تھے ۔لکھنو¿ میں اتوار کو بی ایس پی کی میٹنگ کے بعد بیان جاری کیا گیا ۔کاشی رام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہی آکاش آنند سبھی عہدوں سے ہٹایا گیا اور سسر اشوک سدھارتھ کو پارٹی سے نکال دیا گیا ہے ۔اشوک سدھارتھ نے پارٹی کو پورے دیش میں دو گروپ میں بانٹ کر کمزور کیا ہے ۔مایاوتی کو پلٹ کر جواب دینا وہ بھی ایکس پر اور اس پر نازیب طریقہ سے یہ تمام جدوجہد کے بعد حکمرانی کی اونچائیوں تک پہنچی مایاوتی کو مشکل آزمائش اور لمبی لڑائی ہونے کا لوکا چھوپا سندیش دینا ۔پارٹی کی مانے تو مایاوتی کو آکاش آنند کی یہ دونوں باتیں کھل گئیں اور یہیں آکاش آنند کو پارٹی سے باہر جانے کی سبب بنیں ۔بہوجن سماج پارٹی میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے مایاوتی کے اس فیصلے سے نہ صرف ان کی پارٹی کے لوگوں کو بلکہ سیاسی تجزیہ نگاروں کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے ۔آکاش آنند پارٹی کے نوجوان چہرہ ہیں حلانکہ ذمہ داری کے عہدے پر رہتے ہوئے پارٹی کی پرفارمنس نیچے آ رہی ہے ۔مایاوتی کے ساتھ ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کے وہ کبھی بھی سڑک پر نہیں اترتی ہے ۔سیاست کی گہری سمجھ رکھنے والے اپوزیشن پارٹیوں کے نیتا بھی مانتے ہیں کے اب کھل کر سیاست کرنے کے مایاوتی کے دن دبارہ نہیں آنے والے خاص کر بھاجپا کے خلاف جاریانہ رخ رکھنے کے رویہ کو بہن نے بہت پہلے ہی کنارے کر رکھا ہے ۔وہ بھاجپا کے دباﺅ میں ہے ایسا لگتا ہے کے آج بہوجن سماج پارٹی کی سیاسی زمین خسک گئی ہے ان کا ووٹ شیئر ،ووٹ بینک سبھی گرتا نظر آ رہا ہے ۔چناﺅ پر چناﺅ بسپا کی حالت دن بہ دن بدتر ہوتی جا رہی ہے آکاش آنند کا یہ کہنا کی مشکل متحان ہے اور لڑائی لمبی ہے ۔اس بار کو اچھی طرح واضع کرتی ہے کے بسپا میں اب بہت کچھ ہونے والا ہے دیکھنا ہے مایاوتی کے کور حمایتی پارٹی کے لئے کتنے فائدے مند رہتے ہیں یہ پارٹی کے اندر گھمسان کی شروعات ہے ۔ (انل نریندر)

06 مارچ 2025

شیئر بازار جعلسازی اور مادھوی بچ!

شیئر بازار میں جعلسازی اور قوائد خلاف ورزی کے الزامات میں آخر کار قانونی کارروائی شروع ہو گئی ہے ۔مادھوی بچ پر پچھلے کافی عرثے سے الزام لگتے رہے ہیں لیکن جب تک وہ عہدے پر تھیں تب کسی طرح کی نہ کوئی جانچ ہوئی نہ کوئی قانونی کارروائی۔بھارت کی پہلی خاتون سےبی چیف بچ پر امریکہ و امریکہ کی بڑی ریسرچ اینڈ انویسٹ منٹ کمپنی ہنڈن برگ ریسرچ نے بھی مفادات کے ٹکراﺅ کے الزامات لگائے ہنڈن برگ ریسرچ میں بچ اور ان کے پتی دھول بچ پر آفشور اٹیٹیز میں سرمایہ لگانے کے الزام لگائے تھے جو مبینہ طور پر ایک فنڈ ایڈکیئر کا حصہ تھی اڈانی گروپ کا چیئر مین گوتم اڈانی کے بڑے بھائی ونود اڈانی نے بھی سرمایہ لگایا بچ میاں بیوی نے سارے الزامات کو مسترد کر دیا تھا ۔تازہ معاملہ ایک اسپیشل عدالت نے کرپشن ایس سی بی کو شیئر بازار میں مبینہ جعلسازی اور انویسمنٹ قانون کی خلاف ورزی کے سلسلہ میں شیئر بازار ریگولیٹری سیبی کی سابق چیئرمین مادھوی بچ اور دیگر حکام کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے ۔ممبئی میں واقعہ ایس ایس بی عدالت کے جج شکتی کانت ایکناتھ راﺅ بانگر نے سنیچر کو پاس حکم میں کہا کے پہلی نظر میں قوائدی چوک اور مالی ملی بھگت کے ثبوت ہیں جنکی جانچ کی ضرورت ہے حکم میں کہا گیا ہے ۔کے قانون اسفورمنٹ ایجنسیوں اور سیبی کی لاپرواہی کے سبب مجرمانہ دفعات کے تقازوں کے تحت جوڈیشیئل مداخلت کی ضرورت ہے ۔عدالت نے کہا کے وہ اس جانچ کی نگرانی کرے گی اور 30 دنوں میں پوزیشن ریپورٹ بھی مانگی گئی ہے۔بچ کی میعاد 28 فروری کو ختم ہو گئی سیبی نے کہا ہے کی سیبی کے سرکاری آئینی فرائض کی تعمیل کرنے میں ناکام رہے بچ کو جعلسازی کی سہولت دی اور زابطوں کو پورا نہیں کرنے والی کمپنی کو انداراج کی اجازت دے کر کارپوریٹ کو دھوکا دھڑی ہونے دی۔شکایت کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔عدالت کے حکم کے بعد سیبی نے بیان جاری کر کہا جن حکام کا ذکر ہے وہ کمپنی کی اندراج کے وقت اپنے عہدوں پر نہیں تھے پھر بھی انہوںنے بنا نوٹس جاری کیا یا سیبی کو ثبوتوں کو ریکارڈ پر رکھنے کا موقع دیا بغیر شکایت کے منظوری دے دی ۔سیبی نے کہا جواب دے ایک تلف اور عادتن لاپرواہ کی شکل میں جانا جاتا ہے ۔اس کی پچھلی اپیلوں کو عدالت نے خارچ کر دیا اور کچھ معاملوں میں جرمانہ بھی لگایا ان حکام پر بھی مقدمہ درج ہوگا ۔ڈایئرکٹر چیف ایکزیگٹیو سندر رمن رام مورتی ،بی ایس ای کے اس وقت کے چیئرمین و پبلک ڈائریکٹرپرمود اگروال ،سیبی کے تین مستقل ممبر اشونی بھاٹیہ ،اننت نارائن ،کملیش چندر،وارنیہ ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کے کیس آگے بڑھتا ؟ کیا سچائی سامنے آ پائے گی یا ہر بار کی طرح لیپا پوتی ہو جائے گی۔ببئی اسٹاک ایکس جینج برا حال ہے پچھلے 28 سال میں سب سے نچلی ستح پر اسٹاک مارکیٹ ڈاﺅن ہوئی ہے اب تک لاکھوں کروڑوں کا نقصان ہو چکا ہے۔چھوٹے سرمایہ کار تبح ہو گئے ہیں کیاانہیں انصاف ملے گا ؟ امید کی جاتی ہے کے سخت اقدامات سے اسٹاک مارکیٹ سدھرے گی۔ (انل نریندر)

طالبہ کے پتا کا حملہ آور گرفتار !

کاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کے دوران ایک دلت نابالغ طالبہ کے والد پر قاتلانہ حملہ کے الزام میں خودساختہ اپنے آپ کو ہندو وادی و...