Translater

21 ستمبر 2023

40فیصد ممبران پارلیمنٹ پر مجرمانہ مقدمے !

جمہوریت میں پارلیمنٹ کو جمہوریت کا مندر کہا جاتا ہے جہاں سے پورے دیش کیلئے قانون بنانا ہوتا ہے ۔اور اگر پارلیمنٹ میں ایسے ایم پی بیٹھے ہوں جن کے خلاف مجرمانہ معاملے درج ہوں تو آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہماری جمہوریت کتنی مضبوط ہوگی؟ دیش قریب 40فیصد موجودہ ممبران پارلیمنٹ کے خلاف مجرمانہ معاملے درج ہیں ۔ان میں 25فیصدی پر قتل ،اقدام قتل ،اغوا اور خواتین پر زیادتی اور دیگر سنگین جرائم کے معاملے درج ہیں ۔چناو¿ حق نکام (اے ڈی آر ) نے اس کی جانکاری دی ہے ۔ اے ڈی آر کہا کہ لوک سبھا اورراجیہ سبھا کے ہر ایم پی کی پروپرٹی اوسطاً 38.33کروڑ روپے ہے جبکہ 53ارب پتی ہیں۔ ایوسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارم ( اے ڈی آر ) اور نیشنل الیکشن واچ نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی 776سیٹوںمیں سے 763موجودہ ممبران پارلیمنٹ کے حلف ناموں کا تجزیہ کیا ہے ۔ اور یہ اعداد وشمار ممبران پارلیمنٹ سے اپنے پچھلے چناو¿ یا اس کے بعد کا کوئی بھی ضمنی چناو¿ لڑنے سے پہلے دائر کئے گئے حلف ناموں سے نکالے گئے ہیں۔ لوک سبھا کی چارسیٹوں اور راجیہ سبھا کی ایک سیٹ خالی ہے ۔ جبکہ جموں وکشمیر یا راجیہ سبھا سیٹیںابھی عمل نہیں ہیں۔ ایک لوک سبھا ایم پی اور تین راجیہ سبھا ایم پی کے حلف ناموں کا تجزیہ نہیں کیا جا سکا کیوں کہ دستاویز دستیاب نہیں ہیں ۔ تجزیہ کے مطابق 763موجودہ ایم پی میں سے 316( 40فیصد) پر مجرمانہ معاملے جبکہ 194( 25فیصد) موجودہ ایم پی نے اپنے خلاف سنگین مجرمانہ کیسیز کی جانکاری دی ہے ۔ ان میں قتل ،قدام قتل اور خواتین کے خلاف مجرمانہ معاملے ہیں ۔ بھاجپا کے 385ممبران پارلیمنٹ میں سے 139( 36فیصد) کانگریس 85ممبران میں سے 43(53فیصد) ترنمول کانگریس 36ممبران پارلیمنٹ میں سے 14( 39فیصد) آر جے ڈی کے 6ممبران پارلیمنٹ میں سے 5( 85فیصد) بھاجپا کے 8ایم پی میں سے 6(75فیصد ) عام آدمی پارٹی کے 11 ممبران پارلیمنٹ میں سے 3( 27فیصد) وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے 31ممبران میں سے 13(42فیصد) اور این سی پی کے 8ایم پی میں سے 3( 38فیصد) ممبران پارلیمنٹ نے حلف ناموںمیں ان کے خلاف مجرمانہ معاملے درج ہونے کی جانکاری دی ہے ۔ تلنگانا کے ایم پی سب سے امیر ہیں ۔ ہر ایم پی کافی اوسطاً پروپرٹی والا راجیہ تلنگانا ( 24ایم پی ) جن اوسطاً پروپرٹی 262.26کروڑ روپے ہے ۔ اس کے بعد آندھرا پردیش ( 36ایم پی ) ہیں۔جن کی اوسطاً پروپرٹی 150.76کروڑ روپے ہے ۔ اس کے بعد پنجاب (20ایم پی ) آتا ہے جہاں اوسط پروپرٹی 28.94کروڑ روپے ہے۔ (انل نریندر)

چھ گارنٹی پر داو ¿ لگایا !

کرناٹک کی چناوی کامیابی سے گد گد کانگریس پارٹی نے اتوار کو تلنگانا میں ایک بڑی ریلی کی اس کا ویڈیودیکھا ۔ اس ریلی میں ناقابل یقین عوامی سیلاب امڑا ،ایک اندازے کے مطابق 10لاکھ لوگ اس ریلی میں آئے ۔ جہاں تک نظر جاتی تھی بھیڑ ہی بھیڑ دکھائی دیتی ہے ۔ چاروں طرف یہ نظارہ تھا کہ راہل گاندھی تقریرشروع کی اتنے نعرے لگے انہیں دو تین مرتبہ اپنی تقریر روکنی پڑی ۔پارٹی کی ورکنگ کمیٹی کی دو روزہ میٹنگ کے اختتام کے بعد حید ر آبا دکے قریب تنکو گوڑا میں منعقدہ کانگریس کی ریلی میں کانگریس صدر ملکا ارجن کھڑگے ،سابق صدر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی نے ان چھ گارنٹیوں کا ذکر کیا ۔اور کہا کہ پارٹی کی سرکار بننے کے بعد انہیں پورا کیا جائےگا ۔ راہل گاندھی نے ان چھ گارنٹیوں کی تفصیل پیش کرتے ہوئے کہا کہ تلنگا نا میں کانگریس کی سرکار بنتے ہی کیبنیٹ کی پہلی میٹنگ میں اس پر مہر لگے گی ۔ تلنگا نا میں اس سال کے آخر میں اسمبلی چناو¿ ہونے ہیں۔ تلنگا ناکی حکمراں بھارت راشٹر کمیٹی (بی آر ایس) کو بی جے پی رشتہ دار کمیٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راو¿ واور اے آئی ایم آر کے لیڈروں کے خلاف ای ڈی ،سی بی آئی اور انکم ٹیکس کی کاروائی نہیں ہوتی۔ چوںکہ وزیراعظم مودی انہیں اپنا مانتے ہیں۔ کانگریس کے سابق صدر نے بھاجپا ،بی آر ایس اور اے آئی ایم آئی ایم کے درمیان ساجھےداری ہونے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ کانگریس تلنگا نا میں ان تینوںپارٹیوں سے لڑ رہی ہے ۔ ریلی کے دوران کانگریس ورکنگ کمیٹی کے ممبر اور پارٹی کے حکمراں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ بھی موجود تھے ۔ سونیا گاندھی نے یہاں گاندھی نالج اینڈ ٹریننگ سینٹر کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔ انہوںنے ریلی سے خطاب میں کہا کہ ان کا خواب ہے کہ تلنگا نا میں ان کی پارٹی کی سرکار بنے جو سماج کے سبھی طبقوں کیلئے کام کرے گی۔ انہوںنے کہا کہ ہم ہر گارنٹی کو پورا کرنے کیلئے پابند ہیں۔ کانگریس کی پہلی گارنٹی ہے مہا لکشمی یوجنا ؛جس کے تحت خواتین کو ہر ماہ ڈھائی ڈھائی ہزار روپے دینے ،پانچ سو روپے میں گیس سلینڈر دینے اور ریاستی بسوںمیںمفت سفر دوسرا؛ کسانوں کو 15ہزار روپے فی ایکڑ معاوضہ ،کھیتی مزدوروں کو12ہزارروپے سالانہ ،دھان کیلئے 15سو روپے بونس ،تیسرے ؛ ہر گھر کو 200یونٹ بجلی مفت ،اور بے گھر لوگوں کو گھر بنانے کیلئے 5ہزار روپے کی مدد ملے گی،بزرگوں کو 4ہزارروپے ماہانہ پینشن اور 10لاکھ روپے کا راجیو آروکیہ شیر بیمہ کا وعدہ ۔ ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ جتنی بھیڑ ریلی میں اکٹھا ہوئی اس میں سے زیادہ تر ووٹ میں بدلے گی۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ کانگریس کی ریلی اتنی بھیڑ پارٹی کی طاقت کا مظاہر ہ تھا۔ (انل نریندر)

19 ستمبر 2023

بہادری کی مثال جے ہند پاپا!

کرنل من پریت سنگھ کے چھ سالہ بچے کبیر نے فوج کی وردی پہن کر والد کو آخری ودائی دی اور کہا کہ جے ہند پاپا !کشمیر وادی میں دہشت گردوں کے ساتھ مڈبھیڑ میں اہم قربانی دینے والے کرنل من پریت سنگھ کا جمعہ کے روز پنجاب کے موہالی ضلع کے ان کے آبائی گاو¿ںمیں انتم سنسکار کر دیا گیا ۔ ان کے ساتھ ہی دہشت گردوں سے لوہا لیتے ہوئے اپنی جان کی قربانی دینے والے شہید میجر آشیش ڈھوچک کو مکمل فوجی احترام کے ساتھ ہر یانہ ،پانی پت کے ان کے آبائی گاو¿ںمیں ہزاروں لوگوںنے نم آنکھوں کے ساتھ آخری ودائی دی۔ کرنل من پریت سنگھ بہادری کی ایک مثال تھے ۔ 2021میں بھی اندھادھندھ فائرنگ کے دوران دہشت گردوں کو مار گرانے والے اس بہارد کوملٹری میڈل سے نوازا گیا تھا۔ کئی موقعوں پر قابل قدر ہمت نے دشمنوں کے چھکے چھڑائے تھے۔ موہالی کے ہلہ پور کے گاو¿ں کے من پریت سندھ 2003میں فوج کے لیفٹیننٹ کرنل بنے 2005میں انہیں کرنل کے عہدے پر ترقی دی گئی ۔ وہ پریوا ر کی تیسری پیڑھی سے تھے جنہیں فوج میں رہ کر ملک کی خدمت کو اپنا خواب بنایا ۔ کرنل من پریت سال2019سے 2021تک سیکنڈ ان کمان کے طور پر تعینات ہوئے بعد میں انہوںنے کمانڈنگ افسر کی شکل میں کام کیا ان کے ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے ۔ خاندان والوں نے بتایا کہ اگلے ماہ ان کے بیٹے کا جنم دن تھا اور وہ اگلے ماہ چھٹی لیکر گھر آنے والے تھے ۔لیکن اس سے پہلے ہی ان کی شہادت کی خبر آ گئی۔شہید ڈی ایس پی مایوبھٹ کی ترنگے میں لپٹے جسد خاکی کو دیکھ کر پورا گاو¿ں رو پڑا ۔ دہشت گردوں کیلئے دل میں غصہ ہے لوگوں کا کہنا تھا کہ جانبازوں کی قربانی زائع نہیں جائے گی۔ ہمایوں بھٹ 2019بیچ کے افسر تھے ان کے والد غلام حسن بھٹ ڈی آئی جی کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں ۔ ہمایوں کی شادی ایک سال پہلے ہی ہوئی تھی۔ 29دن پہلے وہ پیتا بنے تھے ۔ٹھیک سے وہ اپنے بچے کا چہرہ بھی نہیں دیکھ پائے ۔ دیش سیوا کرتے ہوئے وہ شہید ہو گئے ۔ اننت ناگ میں شہید ہوئے پانی پت کے باشندے میجرآشیش بچپن سے ہی ہمت والے تھے ۔ گھر والوں کا کہنا ہے کہ وہ اسی ہمت سے آتنک وادیوں سے سیدھے بھڑ گئے ۔ انہوںنے اپنی جان کی بھی پروا نہیں کی ۔ گھر والوں کو جہاں ان کی موت کا غم ہے وہیں ان کی شہادت پر فخر بھی ہے ۔ چاچارمیش کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ دشمنوں کو مٹانا ہی اصلی زندگی ہے اسی سال ان کو قابل قدم بہادری کیلئے سروس میڈل سے نوازا گیا تھا۔ اکتوبر کو جنم دن پر گھر کے لوگ نئے گھر میں جانے کی تیاری میں تھے انہیں تبھی چھٹی پر گھر آنا تھا۔ اور سبھی کو نئے گھر میں پرویش کرنا تھا۔ لیکن خواب ادھورا رہ گیا۔ہم تینوں شہیدوں کواپنی شردھانجلی دیتے ہیں اور بھگوان سے پرارتھنا کرتے ہیں کہ ان کے پریواروں کو اس بھاری مشکل کا سامنا کرنے کی ہمت دے ،جے ہند!!! (انل نریندر)

14ٹی وی اینکروں کا بائیکاٹ !

اپوزیشن اتحاد انڈیانے 14ٹی وی اینکروں کے پروگراموں کا مختلف اسٹیجیز ڈیبیٹ پر بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے ۔اتحاد کی میڈیا کمیٹی نے ان صحافیوں کے پروگراموں کو بائیکاٹ کرنے اور ایسے ٹی وی چینلوں یا پلیٹ فارموں پر ان کی بحث میں اپنے نمائندوں کو بھی نہ بھیجنے کا فیصلہ لیا ہے ۔ کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا کا کہنا ہے کہ نفرت بھرے مباحثے سماج کو کمزور کر رہے ہیں۔ انڈیا اتحاد کے اس فیصلے پر بی جے پی صدر جے پی نڈا نے کہا کہ نیوز اینکروں کی اس طرح لسٹ جاری کرنا نازیوں کے کام کرنے کا طریقہ ہے جس میں یہ طے کیا جا تا ہے کہ کس کو نشانہ بنانا ہے ۔ اب بھی ان پارٹیوں کے اندر ایمرجنسی کے وقت کی ذہنیت بنی ہوئی ہے ۔ نیوز چینل آج تک اور انڈیا ٹوڈے اور جی این ٹی کے نیوز ڈائریکٹر سپریا پرساد نے ایکس پر اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے لکھا ہے: میں اس بندشی قدم کی سخت مذمت کرتا ہوں اس ایک طرفہ قدم کو فوراً واپس لیا جانا چاہئے ۔ وہیں این ڈی ٹی وی کے سابق اینکر رویش کمار نے بھی ایکس (ٹویٹر ) پر لکھا ہے کہ سات سال سے میں بائیکاٹ جھیلتا رہا ہوں ،ساتھ گھنٹے بھی نہیں ہوئے ایسا لگ رہا ہے کہ پہلی بار نوسال میں وزیر اعظم پہلی بار پریس کانگریس کر ہی دیںگے ۔ پریس کی آزادی کی حفاظت کیلئے کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے کاروائی کو مناسب بتاتے ہوئے کہا کہ کچھ چینلوںنے پچھلے نو برسوں سے نفرت کا بازار لگا رکھا ہے ۔ اتحاد نے اس نفرت سے بھری کہانی کو جائز نہ ماننے کا فیصلہ کیا ہے جو ہمارے سماج کو نقصان پہنچا رہی ہے ۔ ہم نے یہ فیصلہ بڑے بے دلی سے لیا ہے ۔ اگر آگے چل کر یہ اینکر سدھر جاتے ہیں تو ہم پھر سے ان کے پروگراموں میں شامل ہو سکتے ہیں ۔ہم نے ان کا بائیکاٹ نہیں کیا بلکہ عدم تعاون کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اگر کوئی اینکر نفرت پھیلانے والی بات کرتا ہے جیساکہ آئی این ڈی اے کا الزام ہے تو ان کے شو میں اپوزیشن کے لیڈروں کے شامل نہ ہونے سے کیا حاصل ہوگا۔ اس سوال کے جواب میں سینئر صحافی این کے سنگھ کہتے ہیں کہ اینکر کے بائیکاٹ سے چینلوں کی ساکھ پر ایک طرح کا حملہ کیا گیا ہے ۔کہا گیا ہے کہ تم طرف داری ہو اور جو کچھ نو سال سے ہو رہا تھا لوگ دیکھ رہے ہیں ۔ اینکر کا بائیکاٹ کرنا احتجاج جتانے کا ایک طریقہ ہے ۔وہ بتانا چاہتے ہیں کہ آپ جو کررہے ہیں وہ صحیح نہیں ہو رہا ہے ۔ بہت سے اینکر کسی ایک نیت یا سابقہ رنجش کو لیکر چل رہے ہیں اور ڈیبیٹ کر رہے ہیں ۔ وہ اس میں ایک فریق کی کھال ادھیڑ رہے ہیں اور دوسرے فریق کے ساتھ کھڑے ہیں یا انہیں کچھ نہیں بول رہے ہیں۔ اینکر کا کام ڈیبیٹ کو چلانا ہوتا ہے کسی فریق کی طرف داری کرنا نہیں ہوتا ۔ ادھر کرناٹک کے ہائی کورٹ نے نیوز چینل آج تک کے مشیر ،مدیر و اینکر سدھیر چودھری کے خلاف درج ایف آئی آر کے سلسلے میں کہا کہ پہلی نظرمیں معاملہ بنتا ہے اور اس کی جانچ ہونی چاہئے ۔ حالاںکہ عدالت نے پولیس کو فوری کاروائی نہ کرنے کی ہدایت بھی دی ہے اگلی کاروائی 20ستمبر کو ہوگی۔ (انل نریندر)

14 ستمبر 2023

منظم طریقے سے شادی سسٹم ختم کیا جا رہا ہے !

الہ آباد ہائی کورٹ نے حال ہی میں لیو ان ریلیشن شپ کے ایک معاملے میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے شادی کا نظام جو سیکورٹی ،سماجی اقبالیت اور رواج اور بالادستی ایک شخص کو فراہم کر سکتا ہے وہ لیو ان ریلیشن شپ کبھی نہیں لے سکتا ۔ہندوستانی سماج میں لیو ان ریلیشن شپ یعنی شادی کئے بغیر ایک لڑکا ایک لڑکی ایک ساتھ رہنے پر سوال اٹھاتے رہے ہیں جہاں اس کے حمایتی اسے آئین میں دئے گئے بنیادی حقوق اور پرائیویسی سے جوڑتے ہیں وہیں ایسے رشتوں کی مخالفت کرنے والے مالی اقدار ہندوستانی تہذیب سے اس کو جوڑتے ہوئے اس کو برا کہتے ہیں۔ لیو ان ریلیشن شپ میں رہ رہی ساتھی سے آبروریزی کے ملزم شخص کو ضمانت دیتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک تلخ رائے زنی کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں شادی کی نظام کو تباہ کرنے کیلئے ایک منظم سازش کا م کر رہی ہے جو سماج کو کمزور کرتی ہے ۔ اور ہمارے سماج اور دیش کی ترقی میں رکاوٹ ڈالتی ہے ۔ فلمیں اور ٹی وی سیریل اس میں زیادہ مدد دے رہے ہیں۔ معاملے کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس سدھارتھ کی ڈویژن بنچ نے کہا کہ ہر سیزن میںساتھی بدلنے کے رواج کو مضبوط اور پائیدار سماج کی پہچان نہیں مانا جا سکتا ۔ عدالت نے زور دیکر کہا کہ شادی نظام کسی شخص کو جو سیکورٹی اور مضبوطی فراہم کرتی ہے لیو ان ریلیشن شپ سے اس کی امید نہیں کی جا سکتی ۔ کورٹ کا کہنا تھا کہ شادی شدہ رشتے میں پارٹنر کے ساتھ بے وفائی اور فری لیو ان ریلیشن شپ کو ترقی پسند سماج کے طور پر دکھایا جا تا ہے اور نوجوان اس کے تئیں راغب ہوتے ہیں۔ بنچ کی رائے زنی کی لیو ان ریلیشن شپ کو اس دیش میں نظام شادی کے غیر رائج ہونے کے بعد ہی اسے صحیح مانا جائے گا۔ جیسا کہ کئی خود ساختہ ترقی یافتہ دیشوںمیں ہوتا ہے ۔ جہاں شادی نظام کی حفاظت کرنا ان کیلئے ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے ۔ہم مستقبل میں اپنے لئے ایک بڑی پریشانی کھڑی کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ فلموں اور ٹی وی سیرئلوں میں شادہ شدہ رشتوںمیں ساتھی سے بے وفائی اور آزادنہ ساتھ زندگی کو ایک ترقی پسند سماج کی شکل میں دکھایا جا رہا ہے ۔ نوجوان یہ سب دیکھ کر اسی کی طرف راغب ہو جاتے ہیں ۔ چوںکہ آئندہ کے نتیجوں سے انجان ہوتے ہیں ۔ بنچ کا یہ بھی نظریہ تھا کہ ایسے رشتے بہت پر کشش لگتے ہیں اور نوجوان کو لبھانے لگتے ہیں حالاںکہ جیسے جیسے وقت گزرتا ہے درمیانہ طبقہ سماجی ،اخلاقی تقاضے نظر آنے لگتے ہیں اور اس کے بعد ایسے جوڑو کو احساس ہوتا ہے کہ ان کا رشتہ ختم ہو چکا ہے ۔ ایسے حال ہی میں کئی معاملے سامنے آئے ہیں جب لیو ان ریلیشن شپ میں رہ رہے جوڑو میں مرد سے ساتھی خاتون کا قتل کر دیا جاتا ہے ۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے سماج کو لیو ان ریلیشن شپ کو تسلیم کرنے میں وقت لگے گا۔ (انل نریندر)

مودی کو دنیا میں قد بڑھا ہے !

جی 20-سمٹ کانفرنس میں پہلی بار بنا کسی تنازعہ کے عام رائے بناکر وزیر اعظم نریندر مودی نے پوری دنیا کے لیڈروں کو نہ صرف تعجب میں ڈال دیا بلکہ عظیم الشان و کامیاب میزبانی اور غیر ملکی و قومی سربراہوں سے شخصی ملاقات کے درمیان ان کی باو¿نڈنگ کے بوتے سے پوری دنیا پی ایم مودی کی قائل ہو گئی ہے۔ یہ مودی کی اپنی ساکھ اور حکمت عملی کا ہی نتیجہ تھا کہ اتنے بڑے انعقاد میں نہ تو امریکہ ناراض ہوا نہ یوروپ اور نہ روس ۔ اتنا ہی نہیں چین جیسے حریف دیش کو بھی گھیرنے میں بھارت کی ڈپلومیسی کامیاب رہی ۔ یہ پہلی بار ہے کہ جب بغیر کسی اعتراض کے جی 20-کا اعلامیہ دستاویز جاری ہوا ۔دنیا کے کئی ملکوں کے میڈیانے جی 20-میٹنگ میں بنی عام رائے کو ایک بڑی کامیابی بتایا ہے ۔ غیر ملکی اخبار بھارت کی قیادت میں ہوئے کانفرنس کو ایک بڑا کارنامہ بتا رہے ہیں۔ اقتصادی کوریڈور کی بات کو بھی اہمیت کی دی گئی ہے ۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمس نے لکھا ہے کہ نئی دہلی میں جی20-سمٹ کے مشترکہ ڈکلیئریشن دستاویز میں یوکرین جنگ کو لیکر روس کے جاریحانہ رخ اور اس کے سخت رویہ کی مذمت نہیں کئی گئی ۔ جبکہ گزشتہ برس انڈونیشیا کی بالی شہر میں جی20-کے مشترکہ ڈکلیئریشن دستاویز میں یوکرین پر روسی حملے کے موقف کی ملامت کی گئی تھی۔ اور اس کو اپنی فوج کو یوکرین زمین سے واپس بلانے کی مانگ کی تھی۔ وہیں سعودی اخبار الجزیرہ نے لکھا ہے کہ نئی دہلی جوائنٹ ڈکلیئریشن ایک عام رائے بنانے میں کامیاب رہا ۔ ہندوستانی وزیر اعظم ڈپلومیٹک طورپر گلوبل ساو¿تھ کی ضرورتوں کو جان لینے اور پورا کرنے کیلئے انہیں انوکھے طور سے پیش کیا۔ چینی اخبار گلوبل ٹائمس نے چینی وزیر اعظم لی کونگ کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی اہم طاقتوں کی درمیان چوٹی کانفرنس منعقد کرنے پر وزیراعظم لی نے جی 20-کے اتحاد اور اشتراک کا تجزیہ کیا ۔ جی20-کے مستقل ممبر کے طور پر افریقی فیڈریشن کااستقبال کیا اور اسے اس میں شامل کیا ۔ یہ ایک پہلا حوصلہ افزا اشارہ ہے جو بڑی طاقتور معیشتوں کے درمیان کے عام رائے کو ظاہر کرتا ہے ۔ پاکستان کی بڑی نیوز ویب سائٹ ڈان نے بھی جی 20-سے جڑی خبر کو اہمیت کے ساتھ شائع کیا ۔ ڈان نے امریکہ ،بھارت ،سعودی عرب اور یوروپی یونین کے درمیان ریل اور شپنگ کوریڈور کے اعلان کی خبر کو اہمیت سے چھاپا ہے۔ یہ سمجھو تہ ایسے اہم ترین وقت میں ہوا ہے جب امریکہ کو ایک متبادل ساجھیدار اور سرمایہ کار کے طور پر پیش کرکے عالمی بنیادی ڈھانچے پر چین کے بلیٹ اینڈ روڈ کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔ ایک زمین ایک خاندان،ایک مستقبل کی مودی کی تمنا کو پوری دنیا نے سراہا ہے ۔یقینی طور سے وزیر اعظم نریندر مودی کی کامیاب جی 20-کانفرنس سے شخصی طور پر ان کا قد بڑھا ہے اور دنیا کے ٹاپ لیڈروں میں ان کا نام شامل ہو گیا ہے۔ (انل نریندر)

12 ستمبر 2023

ایڈیٹرس گلڈ ٹیم کو راحت !

یہ کنتی بد قسمتی کی بات ہے کہ دیش میں ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا کے چیئر مین اور ان کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کے ممبران نے اپنی گرفتاری سے بچنے کیلئے سپریم کورٹ میں دستک دینے پڑے ان کا قصور بس اتنا تھاکہ یہ منی پور گئے اور وہاں جو دیکھا اور لوگوں سے بات کی اور اس کی ایک رپورٹ شائع کردی ۔ خیال رہے کہ منی پور مہینوں سے جل رہا ہے تشدد رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔ صحافیوں کی انجمن کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل شیام دیوان کی دلیلیں سننے پر معاملے کو ججوں نے اپنی پاس محفوظ کر لیا اور ایڈیٹرس گلڈ کے چار ممبران کو راحت دیتے ہوئے منی پولیس کو 11ستمبر تک کوئی سخت کاروائی نہ کرنے کا حکم دیا۔ معاملے کی تفصیل دیتے ہوئے دیوان نے کہا کہ ایڈیٹرس گلڈ نے اپنے تین تین ممبران کو منی پور میں بھیجنے کے بعد ایک رپورٹ تیار کی تھی۔گلڈ کے ممبران وہاں 7اگست سے 10اگست 2023کے درمیان چار دنوں کیلئے گئے تھے اور انہوںنے ایک رپورٹ شائع کی ۔ اس رپورٹ میں ایک معمولی سی خرابی تھی جسے 3ستمبر کو ٹھیک کر دیا گیا۔ منی پور میں تشدد کے پیچھے ایک بڑا کردار غلط اور جھوٹی اطلاعات کے مسلسل پھیلانا بھی رہا ۔ مقامی فرقوں کے درمیان خلیج پیدا ہوگئی جسے فیک نیوز ،گمراہکن پروپیگنڈا اور بڑھاتے رہے۔ اس سلسلے میں ایڈیٹرس گلڈ کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے بتایا کہ کیسے دونوں طرف سے مسلسل مخالفانہ منفی مہم چلائی جا رہی ہے ۔ اس رپورٹ پر منی پور پولیس نے ایف آئی آر درج کرلی ۔ جو بے تکی اور قابل اعتراض قدم ہے ۔ اس سے زیادہ افسوس ناک یہ ہے کہ خود وزیراعلیٰ این بیرن سنگھ اس مسئلے پر پریس میں آکر بیان دینا اور شخصی طور پر گلڈ کی رپورٹ کی مذمت کرنا یہ تو حال تب ہے جب این بیرن سنگھ اور ان کی حکومت قانون و نظم بحال کرنے میں ،تشدد کو روکنے میں بالکل ناکارہ ثابت ہوئی ہے۔ آج بھی منی پور میں تشدد تھم نہیں رہا ہے ۔وزیر اعلیٰ رپورٹ سے اپنی عدم اتفاقی رکھ سکتے تھے لیکن مگر وہ صحافیوں کو ملک دشمن اور سسٹم مخالف بتانے لگے تو یہ انتہائی قابل ملامت اور افسوس ناک ہے ۔ ایڈیٹرس گلڈ اپنا کام کر رہی تھی۔ سچائی کو دیکھا رہی تھی اور سچائی دکھانا کب سے ملک دشمنی ہو گیا؟ اقتدار میں بیٹھے نیتاو¿ں کو کڑوا سچ کو نہ صرف سننا ہوگا بلکہ اسے قبول کرنا ہوگا اور اس سے نمٹنا بھی ہوگا۔ این بیرن سنگھ کو چاہئے کہ وہ ایڈیٹرس گلڈ س کے صحافیوں کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لینے کی کاروائی کے ساتھ اس سمت میں صحیح شروع کر سکتی ہے۔ (انل نریندر)

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...