Translater
08 جون 2023
کرپشن کا سیتو !
بہار میںبھاگلپور میں گنگا ندی پر 1710کروڑ کی لاگت سے بن رہے ابوانی گھاٹ -سلطان گنج سڑک پل کا بڑا حصہ تاش کے پتوں کی طرح ڈھہہ گیا اور یہ گنگا میں سما گیا۔پل کے چار پیلر کے ساتھ اس کے اوپر کا قریب 200میٹر ندی میں گر پڑا ۔ یہ حادثہ اتوار کی شام قریب 6بجے پیش آیا اس وقت تعمیر کا کام بند ہو چکا تھا۔اور مزدور پل سے جا چکے تھے ۔جس وجہ سے کوئی ناگہانی موت نہیں ہوئی ۔ حالاںکہ ایک گارڈ لاپتہ ہے ۔پل کے گرنے کی ویڈیو وائرل ہونے او ر اپوزیشن کی جانب سے کرپشن کے الزام لگائے جانے کے بعد بہار سرکار نے دعویٰ کیا کہ پل خود سے نہیں گرا بلکہ ڈیزائن میں خامی کے سبب اسے منظم طریقے سے گرایاگیا۔ وہیں بہار بھاجپا صدر سمراٹ چودھری نے کہا کہ پوری نتیش حکومت کرپشن میں ملوث ہے ۔اور ان کے پا س ریاست کی ڈیولپمنٹ کیلئے وقت نہیں ہے وہ گھومنے میں مصر وف ہیں۔ یہ دوسری بار ہے جب پل کا حصہ گرا ہے ۔اپریل 2022میں بھی پل کے ایک حصے کے 26اسپیم ڈھہہ گئے تھے۔ اس کے بنانے میں کرپشن کے سنگین الزام لگے تھے ۔ یہ کیبل پر جھولتا ہوا پل ہے جس کی لمبائی 3160کلو میٹر ہے ۔ کھگڑیا ضلع کے اوگووائینی گھاٹ میں بنائے جارہے اس پل سے نارتھ بہار سیدھا جھارکھنڈ سے جڑ جائے گا۔ یہ پل نتیش کمار کا ڈریم پروجیکٹ بتا یا جاتا ہے نتیش نے 2014میں اس کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ اور مئی 2015میں اس پر کام شروع ہوا تھا۔ پل کو نومبر 2019میں ہی تیار ہونا تھا۔لیکن اس کے بعد سے چھ بار اس کی مدت بڑھائی جا چکی ہے ۔نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو اور شاہراہ محکمہ کے علاوہ چیف سیکریٹری امرت نے دعویٰ کیا کہ پچھلے سال ایک حصہ گرنے کے بعد آئی آئی ٹی رڑکی سے اس کا معائنہ کرایا گیا تھااس کی رپورٹ ابھی آنی باقی ہے ۔پل کا ڈیزائن کی اسٹڈی کرنے والے ماہرین نے کہا کہ اس میں سنگین خامیاں ہیں ۔اس پر سرکار نے فیصلہ دیا کہ فائنل رپورٹ تک انتظار نہ کیا جائے اس لئے ان کے کچھ حصوں کو گرانے کا فیصلہ کیا گیا ۔فائنل رپورٹ آنے پر کیس درج کرایس پی سنگلہ کنسٹرکشن کمپنی کو بلیک لسٹ کیا جائے گا۔ گنگا ندی میں اتنا ملبہ گرا دو سو میٹر کے دائرے میں پانی کی لہر بھی رک گئی ہے۔ندی میں کل 34پلرہیں ۔
(انل نریندر)
امت شاہ کی محنت رنگ لائی ؟
برج بھوشن شرن سنگھ کے خلا ف آندولن کررہے پہلوان ساکشی ملک اور ونیش پھوگاٹ ناردن ریلوے میں اپنی ڈیوٹی جوائن کرلی ہے ۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے احتجاجی پہلوانوں کو قانون کے مطابق انصاف دلانے کا بھروسہ دلا یا ہے ۔سنیچر کی رات 11بجے وزیر داخلہ امت شاہ نے ونیش پھوگاٹ ،ساکشی ملک اور بجرنگ پونیاسمیت کچھ اور پہلوانوں کے ساتھ ملاقات کی اوران کی شکایتوں کو سنا تھا۔ ذرائع کے مانے تو ریلوے نے ساکشی اورونیش کو ڈیوٹی جوائن کرنے کا الٹیمیٹم دے دیا تھا۔ اس کے بعد وزیر داخلہ نے ان سے کہا کہ وہ پہلے ڈیوٹی جوائن کریں اور پھر ان سے ملنے آئیں ان کے ساتھ انصاف ہوگا۔ وزیر داخلہ امت شاہ کی یقین دہانی کے بعد انہوںنے ڈیوٹی جوائن کرلی ۔ انہوںنے برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف لگائے گئے الزامات کے بارے میں تفصیل سے بتایا اس کے امت شاہ انہیں آندولن ختم کرنے کی درخواست کی تھی اور کہا کہ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد پولیس جانچ کر رہی ہے اور ان کو انصاف ملے گا۔ اور قصوروار پائے جانے والے کو سزا ملے گی۔ بجرنگ پونیا کو سونی پت میں ہوئی کھاپ پنچایت کی میٹنگ میں شامل ہوئے اس میٹنگ میں ان کا لب و لہجہ نرم دکھائی دیا ۔ انہوںنے اتنا ہی کہا کہ آندولن کا اگلا مرحلہ پنچایت میں ہی طے ہوگا۔ کھاپ پنچایت میں 9جون تک برج بھوشن شرن سنگھ کو گرفتار کرنے کا الٹی میٹم دیا ہوا ہے اس کے بعدکھاپ پنچایت کی میٹنگ ہوگی ۔اتوار کی کھاپ پنچایت میٹنگ میں ونیش ،ساکشی ،ملک شامل نہیں ہوئے مانا جا رہا ہے کہ امت شاہ کی یقین دہانی کے بعد آندولن دھیما پڑ جائے گا۔ اور بجرنگ پونیا بھی اپنی ڈیوٹی جوائن کرلیںگے۔ سونی پت میں اتوار کو پہلوان جلد ہی اپنی خود مہا پنچایت کریںگے ۔ہریانہ سے سونی پت ضلع کے منڈلانہ میں پہلوانوں کی حمایت میں سرو سماج سمرتھن پنچایت کوخطاب کرتے ہوئے پونیا نے مقررین سے کسی بھی فیصلے کا اعلان نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اگلے تین چار دنوںمیںپہلوان مہا پنچایت ملائیںگے۔ ہم ایک پنچایت کریںگے اس بارے میں جگہ طے ہوگی۔ ہم اس پنچایت کیلئے سب کو ساتھ لانا چاہتے ہیںکہ ہم نہیں چاہتے کہ ہم بٹیں۔ اس پنچایت میں جمو ں کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک اور راشٹریہ لوک دل کے چیف جینت چودھری بھی موجود تھے تو کہ یہ سمجھا جائے کہ پہلوانوں کا آندولن ختم ہو گیا ہے؟امت شاہ نے ایک جھکٹے میں مہینوں سے چلا آرہا آندولن منٹوںمیں ختم کردیا ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ امت شاہ اپنی یقینی دہانی پر کھرے اتریںگے ۔اور قصورواروں کو سزا ملے گی۔ بہت کچھ منحصر کرتا ہے کہ دہلی پولیس اپنی رپورٹ میں کیا کہتی ہے ؟ اگر اس نے برج بھوشن کے خلاف الزامات کی تصدیق کردی تو یقینی طور سے وہ گرفتار ہوںگے اور قانون اپنا کام کرےگا۔لیکن اگر پولیس کی جانچ رپورٹ میں برج بھوشن شرن سنگھ کو کلین چیٹ مل گئی تو معاملہ یہیں ختم ہو جائے گا۔
(انل نریندر)
06 جون 2023
راہل کے بیان پر اتنا ہنگامہ کیوں؟
کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے واشنگٹن ڈی سی کے نیشنل پریس کلب میں پریس میٹ میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مسلم لیگ پوری طرح سے سیکولر پارٹی ہے ۔ان سے پوچھا گیا کہ کیا کیرل میں انڈین یونین مسلم لیگ سے کانگریس کا اتحاد سیکولرزم کے خلاف نہیں ہے؟ اور اس میں کوئی سیکولرزم کے خلاف جیسا کوئی نظریہ نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ جس شخص نے یہ سوال بھیجا ہے اس نے مسلم لیگ کے بارے میں ٹھیک سے نہ جانا نہ پڑھا ہے ۔ واشنگٹن پریس کلب میں راہل گاندھی نے بھارت سے وابسطہ کئی سوالوں کے جواب دئے ۔پریس کانفرنس سب کے بس کی بات نہیں ہے وہاں اتنے تلخ سواب پوچھے جاتے ہیں کہ اچھے اچھوں کی ہوا نکل جاتی ہے ۔خیر ان کے یوکرین روس جنگ کے بارے میں بھارت کے موقف کے بارے میں سوال پوچھا گیا تھا۔ راہل نے مودی سرکار کی پالیسی کی حمایت کی انہوںنے مسلم لیگ اور کیرل کی سیاسی علاقائی سیاسی پارٹی ہے ۔ اس لئے کانگریس کی رہنمائی والے یوڈی ایف میں وہ شامل رہتی ہے ۔ راہل گاندھی نے امریکہ دورے میں جو کچھ بیان دیا ہے اسے لیکر بی جے پی خفا ہے اور ان پر سنگین الزام لگارہی ہے ۔بی جے پی نیتا امت مالیہ نے نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ وائناڈ میں مقبول بنے رہنے کیلئے یہ راہل گاندھی کی مجبوری ہے کہ وہ مسلم لیگ کو سیکولر کہیں مالیہ نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ جناح کی مسلم لیگ سیکولر مذہب کی بنیاد پر بھارت کی تقسیم کیلئے ذمہ دار ہے ۔اور راہل گاندھی اسے سیکولر کہہ رہے ہیں ۔راہل گاندھی بھلے ہی کم پڑھے لکھے ہیں یہاںتو چالاکی سے کام کر رہے ہیں۔امت مالیہ کے اس ٹویٹ کے جواب میں کانگریس کی ترجمان سپریہ شرینیٹ کے لکھا ہے ، ہیلو فرضی خبر کے سوداگر آپ کو آدھی رات تک جاگتے دیکھ اچھا لگا ۔پون کھیڑا نے بھی جواب دیا کہا ©،ان پڑھ ہو بھائی؟ کیرل کی مسلم لیگ اور جناح کی مسلم لیگ میں فرق معلوم نہیں جناح والی مسلم لیگ جس کے ساتھ تمہارے سابقہ لیڈروں نے اتحاد کیا دوسری والی مسلم لیگ جس کے ساتھ بھاجپا نے اتحاد کیا تھا۔2012میں ناگپور نگر نیگم چناو¿ میں میئرکا عہدہ حاصل کرنے کیلئے بی جے پی کے ذریعے انڈین یونین مسلم لیگ کی حمایت لینے کا بھی حوالہ دیا ہے۔ کارپوریشن میں بی جے پی 62سیٹیں جیتی تھی 185والے ہاو¿س میں اکثریت لینے 73ممبران کی کی ضرورت بی جے پی نے مسلم لیگ کے دو ممبروں اور دس آزاد ممبروں کی بدولت اکثریتی نمبر حاصل کیا تھا۔ بھارت کی تقسیم کے بعد پاکستان کا گٹھ بندھن چلانے والی آل انڈیا مسلم لیگ کو بھنگ کر دیا تھا۔پاکستان کے قیام کے بعد محمد علی جناح دیش کے گورنر جنرل بنے تھے مسلم لیگ نے پاکستان کو 6وزیر اعظم دئے ۔کیرل کی انڈین یونین مسلم لیگ لمبے عرصے تک کانگریس اتحاد کی ساجھیدار ہے اور کیرل میں اپوزیشن یودی ایف اتحاد کا حصہ ہے اس وقت کیرل اسمبلی میں مسلم لیگ کے 18ممبرا سمبلی ہیں۔
(انل نریندر)
ایف آئی آر میں لگے برج بھوشن پر سنگین الزام !
جب ایک مہینے تک پہلوان ونیش پھوگاٹ ،ساکشی ملک اور بجرنگ پونیا دہلی کے جنتر منتر پر دھرنا مظاہرے پر بیٹھے تو کبھی روتے ہوئے کسی سبکتے ہوئے بار بار ڈر کا ذکر کیا جنسی اذیت کے خلاف آواز اٹھانے کی قیمت کا اپنے کریئر کے ختم ہونے کا اور یہاں تک کہ اپنی جان جانے کا ڈر ،اب جب مہیلا پہلوانوں کے ذریعے اپریل میں درج کرائی گئی جنسی اذیت پر ایف آئی آر میں معلومات سامنے آئیں ہیں تو اس میں بھی ہر صفحے پر ڈ ر کا ذکر ہے۔اینڈین ایکسپریس نے مسلسل دو دن پہلے صفحے پر ایف آئی آر کی تفصیل شائع کی ہے۔ عورتوں کے خلاف تشدد کے کئی معاملوں پر کام کرچکی سپریم کورٹ کی سینئر وکیل وریندا گروور نے کہا کہ نابالغ سمیت سبھی عورتوں کی تفصیلا ت میں ان کی اذیت رسانی کیلئے بار بار طاقت اور اقتدار کے غلط استعمال کا تذکرہ ہے جو آئی پی سی اور پوکسو دونوں کے تحت جرائم کی کٹیگری میں آتا ہے ۔ کشتی فیڈریشن کے چیئر مین اور بی جے پی کی ایم پی برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف ایک نابالغ سمیت 7خواتین پہلوانوں نے دو ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ جس میں برج بھوشن کے علاوہ کشتی فیڈریش کے کئی پہلوانوں نے ان کے ساتھ کا م کر رہے ایک سینئر ممبر کے خلاف اذیت میں وابستگی یعنی ساتھ دینے کا الزام لگایا ہے۔ برن بھوشن شرن سنگھ اور کچھ ممبر نے سبھی الزاموں سے انکار کیا ہے ۔ سپریم کورٹ میں سینئر سکیل اندرا جیسن کے مطابق ایک شخص کے خلاف کئی عورتوں کی شکایتیں اور ان میں ایک طرح کا پیٹرن سامنے آنا اس شخص کے کردار کے بارے میں بتاتا ہے ۔ساتھ ہی شکایت کنندگان کے الزامات کو بھی پختگی دیتا ہے یہ دو ایف آئی آر خواتین پہلوانوں کے تھانے جانے پرنہیں بلکہ ان کی سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرنے پر سپریم کورٹ نے دہلی پولیس کو نوٹس دئے جانے کے جواب میں دائر ہوئی ہے ۔ ایف آئی آر میں جنسی اذیت رسانی سے متعلق دفعات 354،354A،354B، 354Dکے علاوہ پوکسو قانون کے دفعہ (10) اگریویٹیڈ سے سیکسول اسالٹ (یعنی سنگین جنسی زبردستی ) ہے ۔ ان دفعات میں عورت کی رضامند ی کے بغیر جنسی ارادے سے اسے چھونے کی کوشش کرنا ،اس سے جنسی تعلق بنانے کی مانگ کرنا ،فحشی باتیں کرنا،باربار پیچھا کرنا وغیر شامل ہے ۔ایف آئی آر سال 2012سے 2022کے درمیان ہوئی جن الگ الگ جنسی چھیڑ چھاڑ کے واقعات کی تفصیل ہے ان میں کئی ایک جیسی باتیں دکھائی دیتیں ہیں۔ اندراجیسن کے مطابق شکایتوں میں یکسانیت بھر ان کی سچائی کاثبوت نہیں مانا جا سکتا لیکن واردات کی تصدیق کیلئے تہہ تک جانا ضروری ہے ۔اور ثبوتوں اور حقائق کے بغیر کسی معاملے میں جرم ثابت کرنا آسان نہیں ہوگا۔وریندا گروور کے مطابق اس تحقیقات کیلئے برج بھوشن کا بیان لیناکافی نہیں ہے بلکہ ان کی حراست ضروری ہے وہ کہتی ہیں کہ ایف آئی آرمیں جو تفصیل ہے اس کی تصدیق کیلئے پولیس حراست میں پوچھتاچھ کرنا کال ریکارڈ نکالنا گواہوں کے بیان لینے ،فون ضبط کرنے جیسے قدم اٹھانے کی سخت ضرورت ہے جسے کرنے کیلئے دہلی پولیس دلچسپی نہیں رکھتی ۔ تفصیل میں کشتی فیڈریشن کے انتظامیہ میں 12سال سے چیئر مین ہونے کی وجہ سے ان کی بالا دستی اور طاقت کا بار بار ذکر ہے ۔۔
(انل نریندر)
01 جون 2023
اپوزیشن اتحاد کا راستہ !
آنے والے لوک سبھا چناو¿ میں بھاجپا کے خلاف اپوزیشن اتحاد ممکن ہوگا یانہیں یہ کانگریس کے رویہ پر منحصر کرے گا۔ ممتا بنرجی ،شردپوار اور نتیش کمار چاہتے ہیں کہ یکساں نظریہ والی پارٹیاں لوک سبھا کی 543میں 474سیٹوں پر اکیلا امید وار کھڑا کریں۔ تلنگانا ،آندھراپردیش ،کیرل کو چھوڑ کر اس فارمولے کے مطابق کانگریس کے حصے میں 249سیٹیں آتیں ہیں۔ ایسے میں کانگریس اگر دل بڑا نہیں کرے گی تو اپوزیشن اتحاد ناممکن ہے ۔ دراصل اپوزیشن اتحاد کو لیکر 12جون کو نتیش کی رہنمائی میں پٹنہ میں اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ ہے جس میں راہل گاندھی بھی شامل ہوںگے ۔جے ڈی یو ، ٹی ایم سی چاہتی ہے کہ آنے والے لوک سبھا چناو¿ سے پہلے کانگریس لچیلا رویہ دکھاتے ہوئے تلنگانا،دہلی ،آندھراپردیش اور کیرل کو چھوڑکر انہیں سیٹوں پر دعویٰ کرے جہاں پارٹی پچھلے چناو¿میں پہلے یا دوسرے نمبر پر رہی تھی۔ اس فارمولے کو چھوڑ کر کانگریس کے ہاتھ 244سیٹیں ہی آئیں گی۔ اور پچھلی چناو¿ میں پارٹی کو چار ریاستوں کو چھوڑ کر بھاجپا سے سیدھے مقابلے پر چناو¿ لڑی اور دوسرے مقام پر رہی جبکہ پارٹی کو 52سیٹوںپر ہی کامیابی ملی تھی۔ اپوزیشن اتحاد کے بہانے سے بڑا داو¿ نتیش کمار چل رہے ہیں۔اوروزیر اعظم بننے کی خواہش ہے اس لئے نتیش اپوزیشن اتحاد کے ساتھ جنتا دل پریوار کو بھی متحد کرنا چاہتے ہیں۔ بہار میں بھاجپا سے دوری بنانے کے بعد اتحاد کیلئے نتیش کی آر ایل ڈی ،سپا ،جی ڈی ایس ،لوک دل اور آر جے ڈی سے کئی دور کی بات چیت ہوئی ہے ۔ نتیش کو لگتا ہے کہ اگر اتحاد ہو جاتا ہے تو اس کااثر اترپردیش ،بہار ،ہریانہ اور کرناٹک میں بڑھے گا۔ جنتا دل پریوار میں اب پی ایم عہدے کے دعویدار نہیں ہیں۔ مولائم سنگھ اب نہیں ہیں،لالو پرساد یادو بیمار ہیں اور دیو گوڑا عمر دراز ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی دوسری پیڑھی کا سارا پلان ریاست کی سیاست پر ہے۔ کرناٹک چناو¿ سے پہلے کانگریس سرینڈر کی پوزیشن میں تھی۔ اس سے پہلے اپوزیشن اتحاد کیلئے ہوئی ملاقات میں اس کا موقف بہت نرم رہا حالاںکہ کرناٹک کے نتیجے کے بعد پارٹی اتحا د کیلئے شرط رکھ رہی ہے ۔ اس نے اشارہ دیا ہے کہ اس کا عآپ ،ڈی آر ایس ،کیرل کی لیفٹ پارٹیوں سے سمجھوتہ نہیں ہو سکتا ہے ۔ اسی شرط کے پیش نظر نتیش ممتا ،پوار نے سمجھوتے کیلئے 474سیٹوں کا فارمولہ پیش کیا ہے ۔جنتا دل یوکے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پٹنہ کی ریلی میں بات نہیں بنیں تو اپوزیشن اتحاد مشکل ہو جائے گا۔ اس کا کہنا ہے کہ 12جون کی اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ بہت اہم ہے ۔ ممتا ،نتیش اور شرد پوار چاہتے ہیں کہ کانگریس اس میٹنگ میں 474سیٹوں میں سے 274سیٹوں پر لڑنے کیلئے راضی ہوجائے ۔ اگر کانگریس اس کیلئے تیار نہیں تو اپوزیشن اتحا د کی کوشش بیکار ہو جائے گی۔ جنتا دل یوکے ذرایع کا کہنا ہے کہ مرکز میں اقتدار بدلنے کی سب سے زیادہ ضرورت کانگریس کو ہے ایسے میں کانگریس کو ہی اپنی بڑی فراخدلی دکھانی چاہیے۔
(انل نریندر)
مشن 2024:450سیٹوں کا ٹارگیٹ !
آنے والے لوک سبھا چناو¿ میں اقتدار کی ہیٹرک لگانے کیلئے بھاجپا نے میگا پلان تیار کیا ہے۔ پارٹی کا پلان لوک سبھا کی 3-5سیٹوں کا گروپ بناکر چناو¿ تک اس کی تین سطحی نگرانی اور ذمہ داری طے کرنے کی ہے۔ چناو¿ ہونے تک اے بی سی تین زمروں کے لیڈر خود سے جڑے گروپ کی سیٹوں پر طے کی گئی ذمہ داری نبھائیںگے ۔ اس سلسلے میں اتر پردیش ،اتراکھنڈ کی 85سیٹوں کو 3-5لوک سبھا گروپ میں بانٹنے اور ذمہ داری طے کرنے کا کام پورا ہو چکاہے ۔ ان میں ایک کٹیگری میں مرکزی وزراءاور قومی عہدیداران کوبی کٹیگری میں سینئر لیڈروں اور دوسرے ریاستوں کے ممبران پارلیمنٹ شامل ہوں گے ۔اور سی کٹیگری میں مقامی لیڈروں کو رکھا گیا ہے۔ اگلے سال30جنوری کو پارٹی کا مہا سمپرک ابھیان کے ساتھ ہی تینوں کٹیگری کے نیتا 8ماہ تک اپنے کلسٹر یعنی گروپ سے جڑے رہیںگے۔ پارٹی کے ذرائع کے مطابق ان میں اے کٹیگری کے نیتا اقتدار مخالف لہر کو پہچاننے اور اسے درست کریںگے۔ ساتھ ہی ان پر تنظیمی کاموں کو بھی پورا کرنے اور ریلیاں کرنے اور مقامی لوگوں کی پریشانیاں دور کرنے کی کوشش کریںگے ۔ سی کٹیگری میں شامل نیتا زمین پر کام کرنے کے ساتھ پارٹی کے پروگرام کا انعقاد کریںگے ۔ جبکہ بی جے پی کے نیتا ان پروگراموں کی نگرانی کریںگے ۔ آنے والے چناو¿میں پارٹی کے پاس تلنگانا کوچھوڑ کرآگے بڑے راجیہ نہیں ہیں ۔ایسے میں پارٹی کی چنوتی جیتی ہوئی 303سیٹیں بر قرار رکھنے اور یہاں ہونے والے نقصان کو پورا کرنے ان 144سیٹوں سے پوری کرنے سے کی ہے جہاں پارٹی دوسرے یا تیسرے نمبرپر رہی تھی ۔پارٹی نے ان سیٹوں کو کلسٹر بنانے میں نشان دہی کی ہے ۔ 29مئی 2019کو وزیر اعظم کی حلف برداری بھی تھی اس لئے 9برس مکمل ہونے پر 30مئی کو تقریب منائی جائے گی ۔ اور اس دن بھاجپا کے بڑے نیتا مرکزی وزراءدیش بھر میں پریس کانفرنس کریںگے۔ اور 31مئی کو وزیر اعظم نے اجمیر میں ریلی کی ہے بھاجپا اپنے میگا پلان کا اعلان کرے گی۔ بھاجپا ذرائع کے مطابق میگا پلان تاریخی ہوگالیکن پارٹی کے قیام سے اب تک کا سب سے بڑا جن سمپرک کا پروگرام بڑے سطح کا ہوگا۔ اس پلان میں آنے والے ایک مہینے میں دیش بھر کے ووٹروں تک پہنچا جائے گا۔ اس لئے 543لوک سبھا سیٹوں کیلئے بوتھ لیول ،پردھان اور ضلع پرمکھ اور لوک سبھا ایم پی راجیہ سبھا ایم پی اور پردیش صدور جنتا کے درمیان جائیں گے۔ در اصل سرکار کے 9سال پورے ہونے کے مو قع کو 2024کے عام چناو¿ کی تیاری سے جوڑا گیا ہے ۔ 28مئی کو نئے سنسد بھون کا افتتاح پر آنے والی دسمبر میں ایودھیا میں رام مندر گربھ گرہ میں موجود رام للا کی مورتی لگانے کی یوجنا اسی تیاری کا حصہ ہے ۔ بھاجپا کو لگتا ہے کہ شمالی بھارت میں اس کی پوزیشن سینچری پوائنٹ یعنی زیادہ حد سے اوپر پہنچ چکی ہے ۔ اب اسے جنوبی ریاستوں اور شمال مشرق کی طرف توجہ دینی ہوگی ۔ کرناٹک چناو¿ ہارنے سے سائیکلوجیکل طور پر مانا جا رہا ہے کہ بھاجپا کی سیٹیں کم ہوں گی ۔لیکن وزیر داخلہ امت شاہ نے مثال دی ہے کہ پچھلی بار بھی کرناٹک ،راجستھا ن ،مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ چناو¿ ہارنے کے بعد بھی بھاجپا نے 2019کے لوک سبھا چناو¿ میں چاروں ریاستوںمیں اچھی کامیابی حاصل کی تھی۔اس لئے کرناٹک کی ہار کا اثر لوک سبھا چناو¿ پر نہیں پڑے گا۔
(انل نریندر)
30 مئی 2023
جوڈیشل افسران کی ترقی پر روک !
سپریم کورٹ نے گجرات کی نچلی عدالت کے 68جوڈیشری حکام کی ترقی پر روک لگا دی ہے ۔ جسٹس ایم آر شاہ اور جسٹس روی کمار پر مشتمل بنچ نے کہا کہ جن جوڈیشل حکام کو ترقی دی گئی فی الحال انہیں ان کے پرانے عہدے پر ہی واپس بھیجا جائے جن کی ترقی پر روک لگی ہے ۔ان کی ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کو قصوروار ٹھہرانے اور سزا سنانے والے جج ہری ہسمکھ بھائی ورما بھی شامل ہیں۔ غور طلب ہے کہ مختلف ضلع عدالتوںمیں ترقی کیلئے گجرات ہائی کورٹ نے سفارش کی تھی۔ اسے نافذ کرنے کیلئے گجرات حکومت نے نوٹیفیکیشن جاری کردیا تھا۔ اسی پر بنچ نے روک لگائی ہے اور بنچ نے مدعہ لین کو بھی نوٹس جاری کردیا ہے ۔اور کہا کہ ہائی کورٹ کیلئے جاری نوٹس اور ضلع جوڈیشری کے حکام کو ترقی دینے کیلئے ریاستی حکومت کا حکم غیر قانونی ہے اور اس عدالت کے فیصلے کے بر عکس ہے اس لئے اسے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ہم ترقی لسٹ پر عمل کیلئے روک لگاتے ہیں اور ترقی پانے والے متعلقہ ججوں کو ان کے عہدے پر ہی واپس بھیجا جاتا ہے ۔ بنچ نے یہ بھی صاف کیا کہ موجودہ التویٰ حکم ان اسامیوں پر بھی لاگو ہوگا جن کے نام میرٹ لسٹ میں پہلے 68امیدواروں میں نہیں ہے ۔ اب اس معاملے کی سماعت وہ بنچ کرے گی ۔ جسے چیف جسٹس سونپیں گے ۔ کیوں کہ جسٹس شاہ 15مئی کو ریٹائر ہوگئے۔ جج صاحبان گجرات میں 68ضلع ججوں میں ترقی کو چنوتی دی گئی تھی۔ دراصل ان ججوں کی ترقی 65فیصد کوٹہ قائدے کے مطابق کی گئی تھی۔ جسے سینئر سول جج کیڈر کے دو حکام نے چنوتی دی تھی ۔عرضی گزاروں نے کہا کہ بھرتی قواعد کے مطابق ضلع جج کا عہدہ اہلیت اور سینئرٹی کے اصول اور اہلیت امتحان پاس کرنے کی بنیاد پر 65فیصد ریزرویشن رکھتے ہوئے بھرا جاتا ہے ۔اور سینئرٹی کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوںنے جوڈیشل حکام نے 200میں سے 135.5اور 140.5نمبر حاصل کئے تھے اس کے باوجود کم نمبر لانے والے امید وارں کو جج مقرر کردیاگیا ۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ ہائی کورٹ اور ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عدالت نوٹس جاری کرنے سے پہلے ہی ہائی کورٹ نے ضلع ججوں کی ترقی کردی تھی اور نوٹس جاری ہونے کے وقت یہ فائل گجرات کے پاس لٹکی ہوئی تھی۔ اس کے بعد ایک ہفتے اندر ہی ریاستی حکومت نے مختلف ججوں کو ترقی دینے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیاتھا ۔ اعتراض کے بعد سپریم کورٹ نے اس پر روک لگا دی ہے۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
اور اب ایران بنام یوکرین
مغربی ایشیا کی دو بڑی لڑائیاں اب ایک دوسرے سے وابستہ دکھائی دے رہی ہیں ۔ایک طرف پچھلے کئی ماہ سے امریکہ ایران کے درمیان کشیدگی اور فوجی کارو...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...