Translater

22 جون 2019

اقتصادی سست روی و بڑھتی بے روزگاری مودی کےلئے بڑی چنوتی

مودی سرکار 2-کے سامنے کئی بڑی چنوتیاں ہیں ان میں خاص ہے روزگار کا مسئلہ اور صنعتی پیداوار بڑھانا ویسے تو ایکسپورٹ بڑھانا اور کنزور مانسون کے اندیشہ سے زرعی سیکٹر کو بھی مضبوط رکھنا شامل ہے سرکار کو اب تیزی سے کام کرنا ہوگا ۔پچھلے تین مہینے چناوی ماحول اور چناوی ضابطے کی وجہ سے کئی کام رکے ہوئے ہیں دیش میں 2017-18میں بے روزگاری شرح کل دستیابی لیبر کا تناسب6.1فیصد ہے۔پچھلے 45سال میں سب سے زیادہ رہی عام چناﺅ سے ٹھیک پہلے بے روزگاری سے وابسطہ اعداد و شمار پر مبنی یہ رپورٹ باہر آگئی تھی اب سرکار کی طرف سے جاری انڈیکس کی تصدیق بھی ہو گئی ہے ۔نوکری نہ ملنے کی وجہ سے اگر پڑھے لکھے نوجوانوں کو خود کشی جیسے قدم اُٹھانے پر مجبور ہونا پڑے تو یہ سرکار اور سماج دونوں کے لئے سنگین تشویش کا موضوع ہے کوئی ہفتہ ایسا نہیں گزرتا جب کام نہ ملنے پر نوکری چلے جانے کی وجہ سے نوجوانوں کے جان دینے کی خبر نہ ملتی ہو ۔بڑی تعداد میں ایسے نوجوان نوکری کے لئے در در بھٹک رہے ہیں ۔یہاں تک پہنچنے کے لئے لاکھوں روپئے لگائے کوئی انجینر کو یا ڈاکٹر دہلی میں ہی ایک بی ٹیک کی ڈگری یافتہ انجینر نے پل سے چھلانگ لگا کر اس لئے جان دے دی کہ اسے نوکر نہیں مل رہی تھی ۔کچھ مہینے پہلے راجستھان کے الورضلع میں چار نوجوانوں نے ٹرین کے سامنے کود کر اجتماعی خود کشی کر لی تھی ۔اس طرح کے واقعات نے بے روزگاروں کے درد کو سامنے لا دیا ہے ۔اس طرح کے واقعات بتا رہے ہیں کہ ہماری سرکاریں روزگار مہیا کرانے کے محاض پر ایک دم ناکام ثابت ہوئیں ہیں وزیر اعظم نریندر مودی نے عہدہ سنبھالتے ہی بجٹ سے پہلے مالیات و دیگر وزارتوں کے سینر افسران کے ساتھ تبادلہ خیالات کئے تھے جس میں سست پڑی میعشت کو رفتار دینے اور روزگار پیدا کرنے کو ذہن میں رکھتے ہوئے حکومت کے سو دن کے ایجنڈے کو قطعی شکل دی جا رہی ہے وزیر اعظم کے ذریعہ دو اعلیٰ سطحی کیبنیٹ کمیٹیوں کا بنایا جانا یہ بتاتا ہے کہ معاشی معاملوں میں سرکار کا مشن موڑ میں لانے کی کوشش ہو رہی ہے ایک پانچ نفری کمیٹی اقتصادی محاز کا مطالعہ کر کے اس کے مطابق پالیسیاں مرتب کرئے گی تو دوسری دس نفری کمیٹی روزگا اور ٹیلنٹ ڈبلیپمینٹ کو اسٹڈی کر کے رپورٹ پیش کرئے گی صاف ہے کہ ان دونوں کمیٹیوں کے قیام کا مقصد معاشی ترقی کو رفتار دینے سرمایہ کاری کے لئے ماحول بہتر بنانے کے ساتھ اہل آبادی کو فن کی ٹرینگ کے ذریعہ اہل بنانے اور ان کے لئے روزگا ر کے موقعہ بڑھانے کل ملا کر دیش کی معیشت کو سبھی سمتوں میں رفتار دینا ہے دیش کی اہم اقتصادی چنوتیوں سے وزیر اعظم واقف ہیں دنیا کے سب سے تیزی سے ڈبلیپ ہونے والے دیش کا مقام بنائے رکھنا یقینی اس وقت مودی سرکار کی اہم چنوتیوں میں سے ایک ہے ۔حالانکہ ہندوستانی معیشت کی پوری بنادیں مضبوط ہیں امید ہے کہ وزیر اعظم کی قیادت میں تشیکل کمیٹیاں اسے تیز رفتار دینے کا راستہ بنانے والی ثابت ہوں گی ۔خود وزیر اعظم نریندر مودی نے سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ دیا تھا جسے پورا کرنے کا وقت آگیا ہے۔

(انل نریندر)

مظفر پور کے آئی سی یو میں ٹی وی چینل

مظفر پور میں دماغی بخار سے معصوم بچوں کی موت کا سلسلہ جاری ہے ۔بدھوار کو ایس کے ایم سی ایم اسپتال میں علاج کے دوران پانچ بچوں نے دم توڑ دیا ۔موتیہاری میں بھی پانچ بچوں کی موت کی خبر ملی ہے ۔دماغی بخار سے اب تک مرنے والے بچوں کی تعداد 156تک پہنچ گئی ہے جبکہ مختلف اسپتالوں میں متعدد بچوں کا علاج پی آئی سی یو میں چل رہا ہے ۔شہر کے دونوں اسپتالوں میں ہر گھنٹے چیخ پکار مچی ہوئی ہے ۔فاقہ کشی کے مارے بچے جس طرح چمکی بخار کے شکا رہو کر مرتے جا رہے ہیں وہ حقیقت میں ڈرانے والا سلسلہ ہے ۔میڈیا نے اس بے حد تکلیف دہ واقعہ کو جس طرح سے پیش کیا ہے وہ بھی کم بے چین کرنے والا نہیں ہے ۔خاص طورپر ان نیوز چینلوں کا رول پر تو سوالیہ نشان لگ رہے ہیں ۔کہا جا رہا ہے کہ انہوںنے اس سانحہ کے کوریج میں کم از کم بے حسی کا ثبوت دیا ہے ۔بہت سے ٹی وی صحافیوں نے تو صحافت کی اخلاقیت اور ضابطوں کی پرواہ تک نہیں کی ۔وہ برابر لکشمن ریکھا کر رہے ہیں ۔ نہ تو انہیں مریضوں سے ہمدردی تھی اور نہ ہی ان کی پرائیوسی کے تئیں کوئی سنجیدگی کا احساس اور تو اور انہوںنے اپنے پیشے کے بھروسہ کی بھی پرواہ نہیں کی ۔نیوز چینل کے صحافی اچانک پیدا ہوئی ایک منفی جذبے سے رغبت پاکر اس سانحہ کے کوریج میں کود پڑے ۔اچھی بات ہے کہ انہوںنے اس سانحہ کو کوریج کے لائق سمجھا یہ بھی صحیح ہے کہ میڈیا کوریج کے سبب مرکزی اور ریاستوں حکومتوں کو حرکت میں آنا پڑا یہ سب کو معلوم ہے کہ اسپتال کے آئی سی یو میں داخلہ کے کچھ قواعد ہوتے ہیں۔
جوتے پہن کر اپنی کیمرہ ٹیم کو آئی سی یو میں داخل کر ڈاکٹروں اور نرسوں سے یوں سوال و جواب نہیں کر سکتے ۔جیسا کہ کچھ ٹی وی چینلوںنے کیا ہے اگر اس دوران کئی بچے اس لئے مر جاتے چونکہ ڈاکٹر نرسوں سے سوال و جواب کر رہے تھے تو اس کا ذمہ دار کون ہوتا؟اگر ایک اینکر نے یہ غلطی کی تو کیا یہ ضروری تھا کہ دوسرا اینکر بھی اس غلطی کو دہرائے ؟درا صل اسے انہوںنے مقبولیت اور کامیابی کا فارمولہ مان لیا انہیں تو ثابت کرنا تھا کہ وہ سب سے تیز ،قابل اور با ہمت ہیں ۔اس لئے انہوںنے وہاں موجود ہر ملازم نرس یا ڈاکٹر کو ان اموات کے لئے قصوروار ٹھہرانا تھا ۔لہذا وہ ان پر ٹوٹ پڑے بھلے ہی سہولیات کی کمی یا بد انتظامی کے لئے وہ ذمہ ہوں نہ ہوں کیونکہ ٹی وی جنرلسٹ پردھان منتری وزیر اعلیٰ ریاستی حکومت اور مقامی انتظامیہ کی نا کامی پر اُٹھانے سے ڈرتے تھے ۔انہیں کٹگھرے میں کھڑا کرنے سے کتراتے تھے اس لئے ڈاکٹر نرس ان کے لئے نرم نشانہ بن گئے وہ انہیں پر پل پڑے اور انہیں کھلنایک ثابت کرنے میں لگے یہاں تک کہ ان کے کام میں رکاوٹ تک ڈالنے لگے ۔سچ تو یہ ہے کہ کل کچھ نیوز چینلوںنے مظفر پور کانڈ کو اپنے لئے ایک ایونٹ بنا لیا ۔ایک اصلاح پسند میڈیا ایونٹ جس میں اپنی ساکھ بہتر بنانے کا ایک ادارہ تھا اور ٹی آر پی بنانے کا فارمولہ بھی ۔ٹی وی کوریج میں رپورٹنگ کم نظر آئی اور شور اور بھڑکنا زیادہ ،سنسنی اس کا سب سے بڑا سبب تھی اگر رپورٹر کی جگہ اینکر نے لے لی تھی تو اس کا مطلب یہ بھی تھا کہ وہ رپورٹنگ نہیں شو کر رہے تھے ۔شو کو ہٹ کرنے کے لئے جو بھی مسالہ چاہیے ہوتا ہے اینکر وہی تیار کر رہے تھے رپورٹنگ نہیں تھی اس کو بھلایا جا چکا تھا اس لئے واقعہ کے پہلے اس میں کوئی رپورٹ نہیں نظر آتی ۔وہ یہ نہیں بتاتے کہ مظفر پور میں فاقہ کش بچوں کے واقعات اور حالت افریقہ کے سب سے زیادہ بھکمری کے شکار ملکوں سے بھی بد تر کیوں ہے؟انہوںنے پندرہ سال سے سرکار پر قابض نیش کمار سرکار کے ناکارہ پن کی دھجیاں کیوں نہیں اڑائیں ؟انہوںنے سوال نہیں کیا کہ انتظامیہ اتنا سست اور لا پرواہ آخر کیوں بنا رہا ؟جبکہ ہرسال اس طرح کی موتیں ہوتی رہتی ہیں ؟کیا انہیں یہ نہیں پوچھنا چاہیے تھا کہ ریاست میں پبلک ہیلتھ کی حالت اس طرح کیوں چرمرا گئی ہے ۔ہیلتھ بجٹ میں ایک مشت کٹوتی کیوں کی گئی؟پوچھنا چاہیے تھا کہ مگر پوچھا نہیں کیونکہ یہ حکمراں پارٹیوں کے لئے پریشانی کا سبب بنتی آیوشمان بھارت ہیلتھ بیما یوجنا کی تعریف میں گھنٹوں بحث ٹی وی چینل کروا سکتے ہیں مگر یہ نہیں پوچھتے کہ ایسے موقعوں پر ان کی اہمیت کیا ہے ؟

(انل نریندر)

21 جون 2019

کرپٹ اور کام چور بابوﺅں کی خیر نہیں

وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے دوسرے عہد میں صاف کر دیا ہے کہ ان کی حکومت کرپشن کے خلاف کارروائی کرنے سے گریز نہ کرنے کی پالیسی پر چلے گی ۔اس کا ثبوت ہم کو اس وقت ملا جب ان کی حکومت نے وزارت مالیات کے بارہ کرپٹ اور داغ دار ساکھ والے انکم ٹیکس افسران کو بنیادی قواعد کی دفعہ 50(جے )کے تحت جبراََ ریٹائر کر دیا۔یہ قدم قابل تعریف تو ہے ہی بلکہ اس سے سرکاری محکموں میں وسیع کرپشن کو برداشت کرتے رہنے کا جو سلسلہ تھا اس پر روک لگی ہے ۔یہ سبھی افسر انکم ٹیکس میں چیف کمشنر ،پرنسپل کمشنر س اور کمشنر جیسے عہدوں پر تعینات تھے تکلیف دہ پہلو یہ بھی ہے کہ ان میں سے کئی افسروں پر مبینہ طور پر کرپشن ناجائز اور بے حساب اثاثہ بنانے کے علاوہ جنسی استحسال جیسے سنگین الزام تھے۔پیغام سے صاف ہے کہ مودی سرکار میں نکمے اور کام چور سرکاری بابوﺅں کی اب خیر نہیں ہے ۔ان افسروں کے خلاف وصولی کرنا ،رشوت لینا ،اپنے عہدے اور اختیارات کا بے جا استعمال کرنے کے بھی سنگین الزامات تھے جبکہ ایک افسر کو اپنی نا اہلیت کے سبب نوکری چھوڑنی پڑی اب سرکاری بابوﺅں کے کام کاج پر گہری نظر رکھی جائے گی ۔وہ دن گئے جب سرکاری عہدے پر بیٹھے افسر موج مستی کاٹ سکیں حالانکہ اس سے پہلے 2017میں بھی سرکار نے کچھ کرپٹ اور نکمے افسران کو زبردستی ریٹائر کر دیا تھا ۔لیکن کرپشن اور دھاندھلے بازی میں پھنسے اتنے سارے افسران کے خلاف اجتماعی کارروائی کا یہ پہلا ہی معاملہ ہے ۔یوں تو مشتبہ افسران کو ضروری ریٹائر منٹ دئے جانے کا قاعدہ دہائیوں پہلے سے ہی نافذ العمل ہے ۔اتنی بڑ ی کارروائی پہلی بار ہوئی امید کرتے ہیں کہ ایسے افسروں کے خلاف کارروائی آگے بھی ہوتی رہے گی یا تو سرکاری بابو سدھر جائیں نہیں تو عہدے پر رہنا مشکل ہو سکتا ہے ۔یہ کسی سے چھپا نہیں کہ عام شہری ان سرکاری بابوﺅں کی کاہلی کے سبب کتنے پریشان ہیں ۔کوئی بھی سرکاری محکمہ ہو چاہے پیدائش یا موت ان کا سرٹیفکٹ دینے والا بابو ہو چاہے وہ بجلی پانی کے دفتر میں بیٹھا ہو اس کے پاس آنے والے شہریوں کو رشوت لیئے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا ۔سرکاری سیکٹر کے بارے میں یہ عام رائے بن گئی ہے کہ خاص کر رسوخ دار عہدوں پر کرپشن اور اختیارات کا بے جا استعمال کو روک پانے کا کوئی موثر نظام نہیں ہے۔ابھی تک کرپٹ سرکاری بابوﺅں کے خلاف زیادہ تر معاملاتی شعبہ ذاتی کارروائی ہوتی ہے اور ان کی نوکری کم و بیش بنی رہتی ہے ۔برسوں تک مقدمہ اور کارروائی چلتی رہتی ہے جس سے سرکارکو وقت اور پیسے کی بربادی دونوں ہی برداشت کرنی پڑتی ہے جبراََ ریٹائر کئے گئے افسران کی بچ ہوئی نوکری کی تنخواہ اور سہولیات کے فائدے بھی نہیں ملیں گے ۔اس سے بھی بڑ ی بات یہ ہے کہ اپنی داغ دار ساکھ سے وہ زندگی بھر باہر نہیں نکل پائیں گے ۔یہ سچ ہے کہ سچائی کے راستہ پر چلنا مشکل ہے لیکن دیش کے لئے یہ کرنا ضروری ہے ۔تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ہمارے سماج اور سسٹم میں کرپشن اتنی گہر ی جڑیں جما چکا ہے جنہیں جڑ سے دور کرنا تقریباََ نا ممکن ہے ۔اس پر کنٹرول کیا جا نا چاہیے سرکار کے اس قدم کے لئے وزیر اعظم کو بدھائی ۔

(انل نریندر)

اوم برلا کا نام لے کر مودی-شاہ نے پھر چونکایا

مودی شاہ کی جوڑی نے ایک بار پھر سب کو چونکایا ہے۔لوک سبھا اسپیکر کے عہدے کے لئے کئی نام چل رہے تھے ۔لیکن کوٹہ (راجستھان)لوک سبھا سیٹ سے مسلسل دوسر ی مرتبہ چنے گئے ایم پی اوم برلا کا نام لے کر وزیر اعظم نریندر مودی نے صاف اشارہ دیا کہ اب مختلف سطحوں پر نئی نسل ہی آگے مورچے پر نظر آئے گی ۔56سالہ برلا کا نام آگے کرنے کی نئی سوچ و نئی پیڑھی کو بڑھانے کا بھی اشارہ مانا جا سکتا ہے ۔بھاجپا کی حکمت عملی کی ٹیم کے ایک ممبر نے کہا کہ مودی دور میں سلیکشن و نامزدگی کے لئے ایک ہی شرط ہے استعمال اور ترقی پسندی ۔برلا نے پردے کے پیچھے کئی اہم رول نبھائے ہیں۔و ہ پارٹی کی کرائسئس مینجمنٹ ٹیم میں بھی شامل رہے ہیں ۔پارٹی کے لئے اہم چناﺅ میں پردے کے پیچھے سے انتظام کی ذمہ داری بھی انہیں ملتی رہی ہے ۔صدارتی چناﺅ کی پوری خانہ پوری ان کے گھر سے ہی کی گئی نائب صدر چناﺅ میں بھی ان کوہی اہم ذمہ داری دی گئی تھی انہیں کئی ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں کواڈنیشن ٹیم میں شامل کیا گیا ۔لوک سبھا میں وہ پارٹی کے وہپ بھی رہے ہیں ۔برلا کو جاننے والوں کا کہنا ہے کہ ان کے برتاﺅ میں تو نرمی ہی ہے ۔بلکہ ایکشن میں جاحریت ہے ۔وہ خطرہ لینے سے ڈرتے نہیں بلکہ اس کا مقابلہ کرتے ہیں ۔بڑی ذمہ داری کے پیچھے ان کے اس کردار میں بھی اہم رول رہا ہے ۔راجستھان لمبے عرصے کے بعد بھاجپا کی مرکزی سیاست کا پاور سینٹر بنا ہے ۔سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے دور میں جسونت سنگھ کے پاس ڈیفنس مالیات اورمحکمہ خارجہ تھا۔اسی دور میں وسندھرا راجے مرکز میں وزیر رہیںاور پھر راجستھان کی وزیر اعلیٰ بنیں ۔بھیرو سنگھ شیخاوت راجستھان کے وزیر اعلیٰ سے نائب صدر بنے 2014میں جب مودی بھاجپا کے نئے لیڈر کے طور پر ابھرے تو چوطرفہ چونکانے والے فیصلے دیکھنے کو ملے ۔اور سب سے بڑی تبدیلی اقتدار پارٹی میں ہوئی اب بدلے ماحول میں سنگھ اور تنظیم سے جڑے نیتا اقتدار میں نئی ساجھے داری کے ساتھ ابھرے ہیں اس میں راجیندر سنگھ شیخاوت کو کیبنٹ وزیر بنا کر مودی نے ڈریم پروجکٹ آبی طاقت کا ذمہ سنوپا سنگھ اور تنظیم سے جڑے اوم برلا کو لوک سبھا اسپیکر بنایا گیا ہے ۔عام طور پر مانا جاتا ہے کہ نچلے ایوان یعنی لوک سبھا کو چلانے کے لئے کافی تجربہ کار اسپیکر کی ضرورت ہوتی ہے ۔اس اہم ذمہ داری کو نبھانے کے لئے ایسے تجربے کار نیتا درکار ہوتے ہیں ۔جو آئینی کاموں اور قواعد اور قانون میں ماہر ہوتا ہے ۔کوئی نیتا اس میں تبھی ماہر مانا جاتا ہے جب وہ کئی بار پارلیمنٹ کے کسی ایوان کا ممبر بن چکا ہو ۔17ویں لوک سبھا میں راجستھان کے کوٹہ سے ایم پی اوم برلا نئے اسپیکر بن گئے ہیں ۔اب تک وہ صرف دو بار ممبر رہے ہیں حالانکہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب کوئی کم پارلیمانی تجربہ والا شخص اس عہدے پر بٹھایا گیا ہو اس سے پہلے کئی مرتبہ ایک یا دو بار بنائے جا چکے ہیں ۔شری اوم برلا ،سمترا مہاجن جیسے اسپیکر کی کرسی سنبھال رہے ہیں ہم انہیں اس عہدے پر چنے جانے کی مبارکباد دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ ایوان کو ٹھیک ٹھاک ڈھنگ سے چلائیں گے۔

(انل نریندر)

20 جون 2019

نا جائز ہتھیاروں کی دستیابی دہلی پولس کےلئے چنوتی

دہلی میں پچھلے دنوں میں فائرنگ میں اضافہ ہوا ہے ۔جو سب کے لئے باعث تشویش ہے دیش کی راجدھانی میں کھلے عام بد معاش گولی چلا رہے ہیں ۔اور تو اور یہ عناصر پولس پر بھی گولی چلانے سے نہیں ڈرتے ان حالیہ واقعات پر دہلی پولس کے پولس کمشنر امولیہ پٹنائک کا کہنا ہے کہ نا جائز ہتھیاروں کے کارخانے شہر کے قریب آگئے ہیںجسے جرائم پیشہ کے لئے ہتھیار خریدنا آسان ہو گیا ہے ۔دہلی پولس کے ذریعہ ضبط ہتھیاروں کی تعداد پچھلے دو سال میں دوگنی ہو گئی ہے پٹنائک نے کہا کہ پولس نے 2016میں 947ہتھیار ضبط کئے تھے جن کی تعداد 2017میں بڑھ کر 1410ہو گئی ہے ۔وہیں 2018میں 1950ہتھیار ضبط ہوئے پولس نے اس سال 31مئی تک 1169ہتھیار ضبط کئے ہیں جبکہ 2018اور 2017میں اس میعاد کے دوران ضبط ہتھیاروں کی تعداد بہ سلسلہ 842اور 517تھی۔دہلی پولس کے سئینر افسر نے بتایا کہ دہلی میں باہر سے ہتھیار لائے جا رہے ہیں اور یہ غلط ہاتھوں میں پڑ رہے ہیں ۔بدمعاشوںکے لئے پڑوسی ریاستوں میں جا کر ہتھیاروں تک پہنچ آسان ہو گئی ہے ۔یہ تشویش کا باعث ہے اس برس دوارکا موڑ پر فائرنگ جیسے حالایہ واقعات نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔پچھلے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات فائرنگ کے چار واقعات ہوئے جن میں پانچ لوگ مارے گئے ان واقعات کے چلتے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے دہلی کے لیفنیٹ گورنر انل بیجل اور وزارت داخلہ سے قومی راجدھانی میں لاءاینڈ آرڈر کی صورت حال کا جائزہ لینے کی درخواست کی جبکہ پولس کمشنر پٹنائک نے دعوی کیا کہ حالانکہ جرائم میں ہتھیاروں کے استعمال میں کمی آئی ہے ۔اور اس کے چلتے 2016میں استعمال 957کے مقابلے میں 2017میں یہ گھٹ کر 851اور 2018میں 812رہ گئی ۔سال 2018میں ایسے معاملوں کی تعداد 354اور 334رہی پولس کمشنر کا کہنا ہے کہ دہلی پولس کے سامنے چنوتی یہ ہے کہ ناجائز ہتھیاروں کے کارخانے راجدھانی کے قریب منتقل ہو چکے ہیں انہوں نے کہا کہ پہلے ہتھیار مدھیہ پردیش جیسے دور دراز علاقوں سے خرید ے جاتے تھے اب یہ کارخانے بلند شہر ،میرٹھ ،بریلی جیسے علاقوں میں منتقل ہو چکے ہیں ۔اس طرح ہتھیاروں تک پہنچ بدمعاشوں کے لئے آسان ہو گئی ہے ۔ہمارے لئے یہ ایک چنوتی ہے ۔ہتھیاروں تک جرائم پیشہ کے پہنچنے سے دہلی کے قانون و نظم پر سیدھا اثر پڑ رہا ہے ۔حد تو یہ ہے کہ اب بات بات پر گولیاں چل جاتی ہیں ۔دہلی کے حالات اس معاملے میں زیادہ دھماکہ خیز بنتے جا رہے ہیں ان بگڑے حالات میں دہلی پولس کے لئے قانون و انتظام کو کنٹرول میں رکھنا بڑی چنوتی ضرور ہے ۔

(انل نریندر) 

نہ حکمراں فریق ،نہ اپوزیشن ،صرف منصفانہ

17ویں لوک سبھا کے آغاز پر سرخیوں میں اور سرپرست کا احساس دلانے والے لال کرشن اڈوانی ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی،ایچ دی دیو گوڑا کی کمی محسوس ہوئی تو کچھ ایسے چہرے پھر نظر آئے جو ایوان میں اپنی دلیلوں سے لوہا منوا لیتے تھے ۔265نئے چہرے ایوان کے تازگی پن کا احساس ضرور کرا رہے ہیں ۔نو تشکیل 17لوک سبھا کے پہلے دن پیر کے روز ایوان میں بھارت کی تہذیب نظر آئی پورے ایوان میں تہوار جیسا ماحول تھا چونکہ مختلف پارٹیوں کے نئے منتخب نمائندے رنگ برنگی لباس ،روایتی شال اور پگڑیاں پہنے ایوان میں حلف لینے کے لئے آئے تھے ۔وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کرتا پاجامہ اور واسکٹ والے اپنے عام لباس میں آئے تھے ۔مرکزی وزیر پرہالاد جوشی ،گری راج سنگھ اور جے کے ریڈی بھگوا لباس پہن کر ایوان میں شامل ہوئے کچھ ایم پی میتھلی پوشاک میں آئے تو کچھ ریاست کی تہذیبی پہچان مانا جانے والا آسامی گمچھا اوڑھ رکھے تھے ۔وائی ایس آر کانگریس کے ممبران نے شمالی لباس پہنا ہوا تھا ۔جس پر پارٹی کے چیف وائی ایس آر جگن ریڈی کی تصویر تھی ۔ایوان کے نیتا ہونے کے سبب سب سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی نے حلف لیا ۔اس کے بعد وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں صاف کر دیا کہ لوک سبھا کے اندر حکمراں فریق نمبروں کی طاقت میں بھلے ہی زیادہ ہوں لیکن اپوزیشن کی آواز کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا ۔وزیر اعظم نے اپوزیشن کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ ان کا کہنا تھا عوامی جمہوریت میں حکمراں فریق ،اپوزیشن سے زیادہ اہمیت منصفانہ کی ہوتی ہے ۔سرکار اپوزیشن کے ساتھ منصفانہ طریقہ سے کام کرئے گی ۔اپوزیشن نمبروں کی فکر نہ کریں ۔آپ کا ایک ایک لفظ قیمتی ہے ۔نمبروں کی تعداد بھول کر اپوزیشن ممبران دیش کی سیوا میں سرکار کا تعاون کریں ۔وزیر اعظم نے امید جتائی کہ اپوزیشن بے باکی سے بولیں گے ۔اور ایوان کی کارروائی میں ساجھے داری کریں گے ۔انہوںنے ممبران سے کہا کہ وہ لوگ مثبت رویوں کے ساتھ عوام کی آواز اٹھانے کا کام کرتے رہیں گے ۔نئے ساتھی جب جڑتے ہیں تو نئی امنگ،نیا جوش ،کے ساتھ نئے سپنے جڑتے ہیں۔بھارت کی جمہوریت کی خصوصیت اور طاقت کا تجربہ ہم ہر چناﺅ میں کرتے ہیں اس بار خاص یہ رہا کہ آزادی کے بعد سب سے زیادہ خواتین نمائندوں کو چنا گیا ۔اور سب سے زیادہ پولنگ ہوئی کئی دہائیوں کے بعد ایک حکومت کو مکمل اکثریت کے ساتھ اور پہلے سے زیادہ سیٹوں کے ساتھ عوام نے خدمت کا موقعہ ہمیں دیا ہے ۔مودی نے کہا کہ جب ہم پارلیمنٹ میں آتے ہیں تو ہمیں حکمراں اور اپوزیشن کو بھول جانا چاہیے ۔اور ہمیں منصفانہ جذبے سے اشوز کے بارے میں سوچنا چاہیے ۔دیش کے وسیع مفاد میں کام کرنا چاہیے ۔ہم وزیر اعظم کی تقریر کا خیر مقدم کرتے ہیں چناﺅ مہم کے دوران جو تلخی پیدا ہوئی تھی اس پر مرہم لگانے کی وزیر اعظم کوشش کر رہے ہیں اور یہ سندیش دے رہے ہیں کہ چناﺅ میں جو کچھ ہوا اسے بھول جاﺅ اور مل کر عوام کے مسائل کو اُٹھاﺅ ۔اس مرتبہ بڑی تعداد میں نئے نوجوان چہرے آئے ہیں جو اپنے ساتھ نئی امیدیں نیا جوش لائے دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں وزیر اعظم اور حکمراں پارٹی اپوزیشن کو کتنی عزت دیتی ہے ۔اور تلخی پہلے کی طرح جذبے سے کام نہیں کرتی ۔

(انل نریندر)

19 جون 2019

بھارت کی پاک پر بادشاہت قائم

ان دنوں انگلینڈ اور ویلز میں کرکٹ کا ورلڈ کپ ٹورنامینٹ چل رہا ہے ۔سبھی کرکٹ شائقین کی نظریں 16جون کو لندن کے اولڈ ریفورڈ کرکٹ گراﺅنڈ میں لگی تھیں وجہ تھی ہندوستان پاکستان میچ یہ میچ سب سے زیادہ مقبول تھا ورلڈ کپ ہم جیتیں یہ نہ جیتیں لیکن پاکستان سے جیتنا ضروری تھا ۔اور ہوا بھی ویسے میچ میں بھارت نے بیٹنگ کرتے ہوئے336/5کا وسیع اسکور کھڑا کر دیا روہت شرما نے شاندار انڈر پریشر 140رن بنائے اوپنگ میں ان کا ساتھ لوکیش راہل نے دیا ۔شکھر دھون کے زخمی ہونے سے یہ ڈر تھا کہ پاکستان کے تیز گیند بازوں کے سامنے روہت کےساتھ کون اوپنگ کرئے گا؟لیکن راہل چنوتی پر کھرے اترے اور انہوں نے 57رن بنا کر بھارت کو ایک مضبوط شروعات دی کپتان وراٹ کوہلی جب 70رن پر کھیل رہے تھے تب انہیں لگا کہ تیز گیند باز محمد عامر کا باﺅنسر ان کے بلے سے لگ کر وکٹ کیپر سرفراز احمد کے پاس پہنچا پاکستان نے اپیل کی لیکن امپائر نے انگلی نہیں اُٹھائی کوہلی نے امپائر کی طرف دیکھا تک نہیں اور وہ کرچ چھوڑ کر چلے گئے ۔حالانکہ ایکشن ریپلے سے صاف ہو گیا کہ کوہلی نے غلطی کی کیونکہ کیمرے میں صاف نظر آرہا تھا گنید اور بلے میں تال میل نہیں ہوا کوہلی کو بعد میں پتہ چلا تو وہ ہندوستانی پویلن میں اپنے بلے کو دیکھ رہے تھے جس سے ہلکی آواز آرہی تھی ۔ممکنہ طور پر وہ اسی آواز سے ہی غلط فہمی میں پڑ گئے ۔بعد میں مہندر سنگھ دھونی نے بھی ان کے بلے کی اس کمی کو دکھایا کوہلی نے جلد بازی کی تھی۔انہیں امپائر کے فیصلے کاانتظار کرنا چاہیے تھا ۔اگر پاکستان ڈی آر ایس وی لیتا تو پتہ چل جاتا کہ بال کا بیٹ سے کوئی کنکشن نہیں ہوا ۔پاکستانی کپتان سرفراز احمد نے میچ میں کئی غلطیاں کیں پاکستان کو اکلوتہ ورلڈ کپ دلانے والے کپتان اور اب پاکستان کے وزیر آعظم عمران خان نے ٹاس سے پہلے سرفراز سے صاف کہا تھا کہ آپ کو ٹاس جیتنا ہے اور پہلے بلے بازی کرنی چاہیے لیکن پاکستانی کپتان سرفراز نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ پاکستان دوسری پاری میں رنوں کا پیچھا نہیں کر سکتا پھر بھی پہلے گنید بازی کا فیصلہ کیا اور آدھی ہار تو اس فیصلے سے ہی ہو گئی تھی باقی ہمارے گیند بازوں نے پوری کر دی ۔قسمت نے بھی ہمار ا ساتھ دیا میچ کے دوران بھارت کو تب جھٹکا لگا جب سنیر گیند باز بھونیشور کمار کے نسوں میں کھنچاﺅ آگیا اور وہ 2.4اوور کے بعد میدان چھوڑ کر چلے گئے ۔ان کی جگہ وجے شنکر آئے اور انہوںنے پہلی بار پر ہی اوپنر انجمام الحق کو چلتا کر دیا اور اوپنر جوڑی توڑ دی باقی کسر کلدیپ اور ہاردیک پانڈیا نے پوری کر دی ۔میچ میں اتنا رومانچ تھا جس نے مس کیا وہ پچھتا رہا ہوگا ۔بھارت اور کسی سے جیتتا یا نہیں لیکن پاکستان کو ہرانا بہت ضروری تھا ایک طرح سے مانوہم نے ورلڈ کپ جیت لیا ہو ۔ٹیم انڈیا نے بہت اچھا کھیل کھیلا اور کل ملا کر ورلڈ کپ جیتنے کی مضبوط دعویدار ہے۔

(انل نریندر)

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...