Translater

02 اپریل 2016

کیا مغربی بنگال میں پھر چلے گا ’’دیدی‘‘ کا جادو

آنے والے اسمبلی چناؤ میں مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کا محض سیاسی کیریئر ہی داؤ پر نہیں ہے بلکہ ان کی پارٹی میں ان کا راج کتنا ٹکے گا یہ بھی چناؤ کے نتیجوں پر منحصر ہے۔ممتا کی جیت جہاں انہیں پارٹی کے سب سے بڑے نیتا کے طور پر مضبوط کرے گی وہیں ان کی پارٹی اور ریاست میں بڑھ رہی ناراضگی کتنی بھاری ہے اس کا بھی پتہ چلے گا۔ ٹی ایم سی اب تک ممتا بنرجی کی ایماندارساکھ بتاتی آرہی ہے لیکن کچھ وزرا اور ممبران اسمبلی کے پیسے لیتے ہوئے اسٹنگ سامنے آنے کے بعد سے اس ساکھ پر بھی سوالیہ نشان لگنے لگے ہیں۔ اگر ٹی ایم سی ہارتی ہے تو ممتا کی ایماندار مانی جارہی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔ ممتا کو ایک کڑک ایڈمنسٹریٹر کہا جاتا ہے لیکن لوک سبھا چناؤ میں ٹی ایم سی پر یہ الزام بھی لگے کہ اپنے چناؤ میں گڑبڑیاں کرا کر لوک سبھا کی 34 سیٹیں جیتیں۔ اس پر اس بار چناؤ کمیشن کافی سخت دکھائی پڑ رہا ہے اور مبینہ طور پر ممتا کے اپنے حکام کو ادھر ادھر بھی کررہا ہے۔ اگر ترنمول کانگریس چناؤ میں اچھا نہیں کرتی تو سوال بھی اٹھے گا کہ پہلے چناؤ میں گڑبڑی کا الزام صحیح تھا۔ وہیں پارٹی کے اندر ممتا کی ساکھ ایک تانا شاہ یعنی ڈکٹیٹر کی ہے اگر ٹی ایم سی ہاری یا بہت کم مارجن سے جیتی تو ممتا کے ایک اچھے راج پر سوال اٹھنے لگیں گے۔ ویسے اگر اے بی پی نیوز نیلسن کے تازہ سروے پر آجائے تو مغربی بنگال میں ایک بار پھر دیدی کا ہی جادو چلے گا۔ سروے کے مطابق بنگال کی 294 ممبری اسمبلی میں ترنمول کانگریس 178 سیٹیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھرے گی۔
وہیں ان کی قریبی حریف کانگریس اور لیفٹ پارٹیوں کے اتحاد کو110 سیٹیں ملنے کا امکان بتایا گیا ہے۔ بنگال میں بھاجپا کو محض 1 سیٹ ملنے کی بات کہیں گئی ہے جبکہ دیگر پارٹیوں کو5 سیٹیں آسکتی ہیں۔ سال2011ء میں ٹی ایم سی نے 184 سیٹیں جیت کر ریاست میں پہلی بار حکومت بنائی تھی۔ پول کے مطابق ریاست کے58 فیصدی لوگ ممتا بنرجی کے کام کاج سے مطمئن ہیں جبکہ37 فیصدی لوگ خراب مانتے ہیں۔ وہیں50فیصدی لوگ مانتے ہیں کہ کرپشن کے سبب دیدی کی ساکھ پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ 62 فیصدی لوگ ممتا بنرجی کو بطور سی ایم پسند کرتے ہیں مگر ممتا اکثریت لے آتی ہیں تو پارٹی میں ان کا قد بڑھ جائے گا۔ کوئی انہیں چیلنج کی ہمت شاید ہی دکھائے۔ ساتھ ہی راجیہ سبھا میں بھی ترنمول کانگریس اپنا دبدبہ بنائے رکھے گی۔
(انل نریندر)

سہارا بیل پر سبل اور سپریم کورٹ بینچ میں تلخ بحث

سرمایہ کاروں کے کروڑوں روپے لوٹانے میں ناکام رہے سبرت رائے 10 ہزار کروڑ کی ضمانت رقم جمع نہیں کرانے کے سبب پچھلے 2 سال سے تہاڑ جیل میں بند ہیں۔ انہیں عدالت نے 4 مارچ 2014 کو جیل بھیجا تھا۔ سپریم کورٹ نے پچھلے سال جون میں کہا تھا کہ سہارا گروپ کو سرمایہ کاروں کو36 ہزار کروڑ روپے لوٹانے ہوں گے۔ سہارا کا معاملہ منگلوار کو پھر سپریم کورٹ پہنچا۔ سہارا چیف سبرت رائے کی بار بار ضمانت کی اپیل پر کورٹ نے سخت رویہ اپنالیا۔ چیف جسٹس کی سبراہی والی تین ججوں کی بنچ نے سہارا کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے کہا کہ ضمانت چاہئے تو پیسہ لائیے۔اس کے لئے کورٹ نے سے بی کو سہارا کی ان 86 پراپرٹیوں کو بیچنے کی اجازت دے دی ہے جن کے مالکانہ حق کو لیکر کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ سہارا کئی بار وقت دینے کے باوجود پراپرٹی بیچ کر سرمایہ کاروں کی رقم واپس کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس سے پہلے منگلوار کو سماعت کے دوران سہارا گروپ کی طرف سے پیش ہوئے وکیل کپل سبل نے کئی دلیلیں رکھیں۔ اس پر چیف جسٹس ناراض ہوگئے۔ دلیلوں کے دوران سبل نے کہا کہ سہارا چیف سبرت رائے کو جیل میں دو سال سے زیادہ ہوگئے ہیں جبکہ ان کے خلاف کوئی کیس بھی نہیں ہے اور نہ ہی توہین عدالت کی کارروائی کی گئی ہے۔ 
آپ بھلے ہی ریسیور مقرر کردیجئے، لیکن دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی شخص بغیر قصور کے جیل میں رہے۔ اس پر ناراضگی جتاتے ہوئے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے کہا کہ آپ بحث کیجئے، ہمیں بھاشن نہ دیں۔دنیا میں ایسا کوئی شخص نہیں ہوتا کہ کوئی شخص کہے کہ ان کے پاس 1.87 لاکھ کروڑ روپے ہیں، لیکن وہ ضمانت کیلئے 10 ہزار کروڑ روپے نہیں دے سکتا۔ ہم نے سبرت رائے کو پورا موقعہ دیا اور مدد بھی کی لیکن وہ ہر بار یہی کہتے رہے کہ پراپرٹی کے لئے خریدار نہیں مل رہے ہیں۔ہم ریسیور مقرر کرنے پر آپ کو سنیں گے۔ آپ پراپرٹی بیچنے میں ناکام رہے ہیں۔ ریسیور مقرر کرنا ہی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اس پر کپل سبل نے کہا ہمارے موکل سبرت رائے کو جیل میں اور سہولیات ملنی چاہئیں۔ اس پر بینچ نے کہا زیادہ سہولیات۔۔۔ کس لئے؟ آپ کہہ رہے ہیں کہ بازار دھیما ہے کوئی خریدار نہیں مل رہا ہے پھر سہولیات کیوں چاہئیں۔ اس کے بعد بینچ نے سیبی سے کہا کہ وہ40 ہزار کروڑ روپے اکٹھا کرنے کے لئے سہارا گروپ کی پراپرٹی بیچنا شروع کردیں لیکن اگر متعلقہ علاقہ کے سرکل ریٹ کے 50 فیصدی دام کی قیمت بولی ملے تو اس پراپرٹی کی فروخت نہ کی جائے۔ معاملے کی اگلی سماعت27 اپریل کو ہوگی۔
(انل نریندر)

31 مارچ 2016

منیش سسودیا نے دیا عام آدمی کا بجٹ

دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے پیر کو دہلی کا اب تک کا سب سے بڑا 46 ہزار 600 کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا۔ سسودیا دہلی سرکار میں وزیر خزانہ بھی ہیں۔ اس بجٹ کو اگر عام آدمی کا بجٹ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ہم یہ اس لئے کہہ رہے ہیں کہ اس بجٹ میں سماج کے تقریباً سبھی طبقات کا خیال رکھا گیا ہے۔ حکومت نے خاص طور پر تعلیم اور صحت پر توجہ دی ہے جس کا خیر مقدم ہونا چاہئے۔ تعلیم ، ہیلتھ و ٹرانسپورٹ میں کل پلان مد کا 57 فیصد خرچ کرنے کی سہولیت رکھ کر قریب 2 گھنٹے کی میرتھن بجٹ تقریر میں سسودیا نے یہ صاف کیا کہ عام آدمی پارٹی کی سرکار میں وسائل بڑھانا اور اصلاحات کے تقاضہ بھی ڈیولپمنٹ ہے۔ انہوں نے کہا جنتا کی سانجھے داری ، بزنس کو آسان کر اور الیکٹرانک پرزوں کے استعمال کی بدولت سرکاری خزانے کی بربادی روکے گی۔ حکومت نے تعلیم پر زور دیکر یہ صاف کردیا ہے کہ وہ پرائیویٹ اسکولوں کی منمانی پر لگام لگانے کی سمت میں گامزن ہے۔ وہ ہر حال میں سرکاری اسکولوں کا اسٹینڈرڈ پرائیویٹ اسکولوں کے برابر لانا چاہتی ہے اور اس سمت میں دہلی سرکار نے کچھ قدم بھی اٹھائے ہیں۔ محلہ کلینکوں کی تعداد بڑھا کر حکومت نے ہیلتھ کے سیکٹر میں نچلے اور مختلف طبقات کو سستا علاج دینے کی کوشش لائق تحسین ہے۔ اس کے علاوہ ہسپتالوں میں بستروں کی تعداد بڑھانے کی اسکیم بڑھا کر جنتا کا پرائیویٹ ہسپتالوں پر انحصار کم کرنا چاہتی ہے ساتھ ہی سرکار کی کوشش ہے کہ سسٹم ایسا ہو کہ ہر شخص کو نہ صرف صحیح وقت پر علاج مہیاہوسکے بلکہ وہ سستا بھی ہو۔ پبلک ٹرانسپورٹ دہلی کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ 2 ہزار نئی بسوں کی خریداری کا پلان یہ ظاہر کرتا ہے کہ سرکار دہلی کے ٹرانسپورٹ سسٹم خاص کر پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کو اور مضبوط کرنا چاہتی ہے۔ایسا کرنے سے ایک طرف جہاں لوگوں کو آنے جانے میں آسانی ہوگی وہیں سڑکوں پر پرائیویٹ گاڑیوں کا بوجھ بھی کم ہوگا۔ ساتھ ہی ای رکشا پر سبسڈی کی رقم 15 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے کے اعلان سے آلودگی کم کرنے کے لئے سرکار کی تشویشات کا بھی پتا چلتا ہے۔ عورتوں کی سلامتی ایک بڑھی چنوتی ہے اس کو مضبوط کرنے کیلئے مارشل تعینات کرنے اور بسوں میں سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ تمام اسمبلی حلقوں میں محلہ ڈیفنس ٹیم بنانے کی پلاننگ سے پتا چلتا ہے کہ سرکار ہر قیمت پر سبھی شہریوں کی سلامتی کے تئیں سنجیدہ ہے۔ دہلی سرکار نے پہلے بجلی اور پانی پر راحت دینے کے بعد اب ویٹ میں دہلی والوں کو کئی چیزوں پر راحت دی ہے۔ یہ راحت عام جنتا کیلئے ہی نہیں بلکہ اس سے دہلی کے کاروباری بھی خوش ہوں گے۔ ویٹ کے غیر یکساں سسٹم کی وجہ سے دیش کی دوسری ریاستوں میں کاروبار شفٹ ہورہا تھا اور ویٹ کی شرحوں میں کمی لانے سے اسے روکا جاسکتا ہے اور دہلی کا کاروباری پھر سامنے آئے گا۔ وزیر موصوف نے بتایا کہ دہلی کے کاروباریوں کے لئے جہاں ایک طرف کارروائی کو آسان اور جدید بنایا جارہا ہے وہیں دوسری طرف عام جنتا کے ہاتھوں میں نگرانی کی کمان بھی دی جارہی ہے۔ وزیر خزانہ نے کئی نئی اسکیموں کا بھی اعلان کیا۔ اسکولوں میں 5500 ٹیچروں کی بھرتی کی جائے گی۔ گیس ٹیچروں کو پکا کرنے کے لئے 9623 اسامیاں نکالی جائیں گی۔ کام کاجی خاتون کے لئے تین نئے ہاسٹل بنائے جائیں گے۔ ایک ہزار محلہ کلینک کے لئے ٹنڈر کارروائی شروع۔ 100 نئے کلینک، پولی کلینک کھولے جائیں گے۔ 2017ء تک دہلی کے ہر گھر کو صاف پانی پہنچانے کا نشانہ رکھا گیا ہے۔ ٹنڈر مافیہ کا راج ختم کیا جائے گا۔ کل ملاکر منیش سسودیا کا یہ بجٹ عام آدمی کا بجٹ کہا جائے گا۔
(انل نریندر)

اسرائیلی یرغمالوں کے بدلے قصاب کو چھڑانے کا پلان تھا

داؤد گیلانی عرف ڈیوڈ ہیڈلی سے 26/11 ممبئی حملے کے معاملے میں جرح کے دوران کئی سنسنی خیز انکشافات سامنے آرہے ہیں۔ ممبئی سیشن کورٹ کے اسپیشل جج جی۔ اے۔سادھو کی عدالت میں جرح کے تیسرے دن ہیڈلی نے بتایا کہ ممبئی حملے کے دوران چاباڈ ہاؤس میں گھسے آتنکیوں کو اسرائیلی یرغمالوں کے بدلے زندہ پکڑے گئے اجمل قصاب کو رہا کرانے کی ہدایت کراچی سے ملی تھی۔لشکر طیبہ کے دہشت گرد ڈیوڈ ہیڈلی نے جمعہ کو 26/11 معاملے میں جرح کے دوران یہ انکشاف کیا۔ اس سے26/11 آتنکی حملے کے ایک دوسرے سازشی ابو جندال کے وکیل وہاب خاں جرح کررہے ہیں۔ امریکہ سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سماعت میں شامل ہوئے ہیڈلی نے کہا کہ آئی ایس آئی سے وابستہ رہے لشکر کمامنڈر ساجد میر نے اسے یہ بات بتائی تھی۔ ہیڈلی کے مطابق میر نے دہشت گردوں سے کہا تھا کہ اسرائیلی یرغمالوں کے بدلے اجمل قصاب کو رہا کرنے کی شرط رکھی جائے لیکن قصاب کو چھوڑ کر باقی سارے دہشت گرد مارے گئے۔ ہیڈلی نے اپنی پیدائش کے بعد17 برس لاہور میں گزارے پھر وہ امریکہ آگیا۔ ممبئی حملے میں گرفتار ہیڈلی کا سب سے بڑا انکشاف یہ تھا کہ لشکر کی سازش کو پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی پوری مالی، فوجی اور اخلاقی حمایت حاصل تھی۔ تاج اوبرائے ٹرائیڈنٹ( تاج ہوٹل)لیوپورڈ کیفے،نریمن ہاؤس ایک مقامی اسٹیشن کی ہیڈلی نے ٹوہ لینے کی بات بھی قبول کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ان کی صلاح پر سدھی ونائک مندربحریہ اڈے کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ہیڈلی نے یہ بھی بتایا کہ 26/11 حملے کے کچھ ہفتوں بعد اس وقت کے وزیر اعلی یوسف رضا گیلانی ان کے گھر پر آئے تھے۔ 25 دسمبر 2008 ء کو ان کے والد کا انتقال ہوگیا تھا وہ ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے۔ ہیڈلی نے بتایا کہ لشکر طیبہ کی جانب سے بالاصاحب ٹھاکرے کو قتل کرنے کی بھی کوشش کی گئی تھی۔ لشکر کے لڑاکے کو گرفتار کرلیا گیا تھا لیکن یہ بھاگ نکلا تھا۔ ا س نے کہا کہ وہ دو بار شیو سینا بھون گیا تھا۔ ہیڈلی کا کہنا ہے کہ وہ ٹھاکرے کو امریکہ بلانے کی پلاننگ کررہا تھا لیکن وہاں ان کو قتل کرنے کا کوئی پلان نہیں تھا۔ اس نے پھر دوہرایا کہ گجرات میں ماری گئی عشرت جہاں لشکر طیبہ کی فدائین حملہ آور تھی۔زکی الرحمان لکھوی نے عشرت کے مارے جانے کی جانکاری اسے دی تھی۔ تحور حسین رانا لشکر سے اس کے رشتوں کے بارے میں جانتا تھا۔
(انل نریندر)

30 مارچ 2016

اتراکھنڈ کی سیاست میں نیا موڑ

اتراکھنڈ میں 15 سال کے اندر4 حکومتیں اور 8 وزرائے اعلی کی رخصتی ہوئی۔ یہ سیاسی عدم استحکام کی صورتحال اتراکھنڈ میں بیاں ہوتی ہے۔ ریاست میں پہلی مرتبہ صدر راج نافذ ہوا ہے تو اس کے لئے ایک اسٹنگ آپریشن، بھاجپا اور کانگریسی سبھی ذمہ دار ہیں۔ مرکز کی سفارش پر ایتوار کے روز صدر نے وہاں راشٹرپتی راج لگادیاہے۔ اسمبلی بھی معطل کردی گئی ہے۔ ریاست میں 9 کانگریسی ممبران کے باغی ہونے کے بعد یہ حالات بنے ہیں۔ ہریش راوت کی رہنمائی والی کانگریس سرکار کو28 مارچ کو اکثریت ثابت کرنی تھی۔ وزارت داخلہ کے مطابق ہریش راوت کی نیوز چینل ’’پلس‘‘ کے چیف امیش کمار کے ذریعے کئے گئے اسٹنگ میں ہریش راوت کا بیڑا غرق کردیا۔ اسٹنگ میں راوت کو ممبران اسمبلی کو خریدتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ جانچ کے لئے یہ سی ڈی ایف ایس ایل لیب چنڈی گڑھ بھیجی گئی۔ جہاں یہ صحیح پائی گئی۔یہ ٹھیک ہے کہ ہریش راوت سرکار کو اکثریت ثابت کرنے کے لئے دی گئی میعاد سے ایک دن پہلے اتراکھنڈ میں اسمبلی کو معطل کرکے صدر راج لگانے کا مرکز کا فیصلہ تھوڑا چونکانے والا ضرور ہے لیکن اس فیصلے اور حالات کے لئے ریاست کی کانگریس کی اندرونی کھینچ تان اور شش و پنج، متر گھات اور موقعہ پرستی کوئی بھی کم ذمہ دار نہیں ہے۔ یہ پورا واقعہ اقتدار کے لئے کسی بھی حد تک چلنے جانے کی ایک اور تکلیف دہ مثال ہے۔ آج کانگریس بھلے ہی صدر راج لگانے کو جمہوریت کا قتل بتائے لیکن قریب چار سال پہلے وجے بہوگنا کو وزیر اعلی بنا کر اسی نے اس صورتحال کی کہانی لکھی تھی۔ صرف یہ ہی نہیں لاکھوں لوگوں اور مظاہرین کی جدوجہد سے بنے اتراکھنڈ میں اقتدار حاصل کرنے کیلئے تب بولیاں لگانے کی بات کی جانے لگی تھی، بلکہ اتراکھنڈ کی کانگریس سرکار کو جلد ہی پریوار واد، گروپ بندی اور باہری بنام پہاڑی کی اندرونی لڑائی میں بھی تبدیل ہوتے دیکھاگیا۔ اتراکھنڈ میں سیاسی بحران گہرا ہوگیا ہے۔ ریاست میں صدر راج کا اعلان کردیا گیا ہے جس سے بی جے پی اور کانگریس کے باغی خوش ہیں۔ کانگریس کے 9 ممبران کی ممبر شپ منسوخ کرنے کو کانگریس صحیح قدم قراردے رہی ہے لیکن دونوں ہی فریقین عدالت چلے گئے ہیں۔سیاسی اتھل پتھل کے بیچ ہر کوئی آئین کی دہائی دے رہا ہے۔ جہاں بی جے پی اتراکھنڈ میں کانگریس پر آئین سے کھلواڑ کا الزام لگا رہی ہے وہیں کانگریس بی جے پی اور مرکزی سرکار پر آئین کا قتل کرنے کا الزام لگا رہی ہے۔ آئینی ماہرسبھاش کشیپ صدر راج کو جہاں آئینی قدم بتا رہے ہیں وہیں سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ایڈوکیٹ کے۔ ٹی۔ ایس۔ تلسی اسے آئین کی دھجیاں اڑانا قرار دے رہے ہیں۔ سبھاش کشیپ نے کہا کہ دفعہ356 کے تحت اگر صدر مطمئن ہوجائیں کہ ریاست آئین کے مطابق نہیں چل رہی ہے تو وہ صدر راج لگا سکتے ہیں اور اتراکھنڈ میں بھی یہی ہوا ہے۔ یہ پوری طرح جائز ہے۔ انہوں نے اسپیکر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر 18 مارچ کو اتراکھنڈ اسمبلی میں ممبران نے کراس ووٹنگ کی مانگ کی تھی تو اسپیکر کو کراس ووٹنگ کرانی چاہئے تھی۔ دوسری طرف کے ۔ٹی۔ ایس ۔ تلسی کا کہنا ہے کہ صدر راج لگانے کا قدم مرکز کا تاناشاہی بھرا رویہ ہے۔ انہوں نے کہا سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اگر گورنر نے اکثریت ثابت کرنے کی میعاد طے کردی ہے تو انتظار کیا جانا چاہئے۔ پیر کو فلور آف دی ہاؤس میں جو بھی ہوتا اس کے بعد ہی کوئی قدم اٹھانا آئینی ہوتا۔لیکن فلور ٹیسٹ کے بغیر صدر راج تھونپنا غلط ہے۔ اب آگے کیا ۔صدر راج لگادیا ہے لیکن اسمبلی معطل نہیں کی گئی ہے۔ اگر کسی وقت گورنر کو یہ لگتا ہے کہ کسی پارٹی کے پاس اکثریت ہے اور وہاں سرکار بن سکتی ہے تو وہ نئی سرکار بنانے کے لئے انہیں مدعو کرسکتے ہیں۔ اگر انہیں لگتا ہے اس کا امکان نہیں رہ گیا ہے تو پھر وہ اسمبلی کو بھنگ کرکے نئے چناؤ کا اعلان کرسکتے ہیں۔کل ملاکر ہریش راوت کی اقلیتی سرکار کا جوڑ توڑ سے اقتدار میں بنا رہنا جتنا ٹریجڈی بھرا ہوتا اس موڑ پر بھاجپا کا وہاں سرکار بنانا یا اس سمت میں سوچنا بھی اتنا ہی بدقسمتی والا فیصلہ ہوگا۔ تازہ ترین اطلاع ہے کہ صدر راج کا معاملہ اتراکھنڈ ہائی کورٹ میں چلا گیا جہاں عدالت نے سماعت کرتے ہوئے ایک بڑا فیصلہ کیا ہے کہ ہریش راوت31 مارچ کو اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کریں۔ اس دوران 9 باغی ممبران بھی موجود رہیں گے۔ اس سے اتراکھنڈ کی سیاست میں ایک نیا موڑ آگیا ہے۔ اب سرکار کی ایوان میں اگنی پریکشاہوگی اس کے بعد ہی اتراکھنڈ کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔
(انل نریندر)

کیا وجے مالیہ کو بھارت لایا جاسکتا ہے

سرکاری بینکوں سے بھاری بھرکم قرض لے کر نہ چکانے والے صنعت کار وجے مالیہ کے خلاف سرکار اپنی حکمت عملی بنانے میں سنجیدگی سے جٹ گئی ہے۔جہاں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے مالیہ کو قرض دینے والے بینکوں کے حکام سے پوچھ تاچھ شروع کردی ہے وہیں وزارت مالیات نے بینکوں کے ساتھ مل کر مالیہ اور ان جیسے دیگر قرضداروں کے خلاف سختی برتنے کی حکمت عملی پر غور کیا ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ بھلے ہی 2 اپریل کو وجے مالیہ سے پوچھ تاچھ کی تیاری کررہا ہو لیکن انہیں لیکر جانچ ایجنسی کا پچھلا تجربہ کافی تلخ رہا ہے۔ ڈیڑھ دہائی پہلے نوٹسوں کی خلاف ورزی کو لیکر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اب بھی مالیہ کے خلاف کارروائی شروع کرنے کو لیکر جدوجہد میں لگا ہوا ہے۔ ’’فیرا‘‘ کے تحت بھیجے گئے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے چار نوٹسوں پر مالیہ نے نہ توتوجہ دی تھی اور نہ ہی پوچھ تاچھ کے لئے حاضر ہوئے ۔ ای ڈی کے ایک سینئرافسر نے بتایا کہ وجے مالیہ نے فارمولہ I- ورلڈ چمپئن شپ میں کنگ فشر برانڈ کے اشتہار پر60 کروڑ روپے خرچ کئے تھے۔ یہ چمپئن چپ 1996,1997 اور 1998 میں ہوئی تھی۔اس کے لئے ہندوستانی ایجنسیوں سے ضروری اجازت نہیں لی گئی تھی۔ اسے اس وقت کے غیر ملکی کرنسی قانون کی خلاف ورزی مانا گیا تھا اور ای ڈی نے انہیں پوچھ تاچھ کے لئے چار نوٹس بھیجے تھے لیکن مالیہ نے انہیں نظر انداز کیا۔ ’’فیرا‘‘ کے تحت ای ڈی کے نوٹس کو نظر انداز کرنا بھی ایک کرائم ہوتا ہے۔ ویسے مالیہ لندن میں جاکر بیٹھ گئے ہیں۔ مالیہ کو واپس بھارت لانا خاصہ مشکل ہوسکتا ہے۔ برطانیہ اور بھارت کے درمیان حوالگی معاہدے کے باوجود اس معاملے میں حوالگی کروانا آسان نہیں لگتا۔ سینئر وکیل مجید مینن نے بتایا کہ برطانوی حکام کو مطمئن کرنا مشکل ہے۔ ان کی سرزمیں پر موجود کوئی غیر ملکی اس مالی کرائم کے لئے بھگوڑا مانا جاسکتا ہے جو اس نے اپنے دیش میں کیا ہے۔ 
قانونی ماہرین کے مطابق دوہرے جرائم کی دفعہ حوالگی کی کارروائی شروع کرنے میں مددگار ہوسکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ملزم پر ایسے کرائم طے ہوں، جو دونوں ملکوں میں کرائم مانے جاتے ہوں۔ سی بی آئی مالیہ کے قرض ادا نہ کرنے کے معاملے کی جانچ کررہے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ جب تک کسی ہندوستانی عدالت سے غیر ضمانتی وارنٹ حاصل نہیں کرتی معاملہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اور اس میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ مالیہ کو واپس لانے میں منی لانڈرنگ کا معاملہ بھارت کے لئے ایک آزادانہ داؤ ہوسکتا ہے کیونکہ دونوں ملکوں میں کرائم ہے۔ حالانکہ کوئی گارنٹی نہیں ہے ۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے گزشتہ برسوں میں للت مودی کے خلاف ایک غیر ضمانت وارنٹ حاصل کیا تھا۔ للت کے خلاف 2012ء میں منی لانڈرنگ کا معاملہ ہے کل ملا کر مالیہ کو واپس لانا سرکار کیلئے ایک کڑی آزمائش ہوگی۔
(انل نریندر)

29 مارچ 2016

ڈاکٹر پنکج نارنگ کے قتل کا ذمہ دار کون

پریم اور بھائی چارگی کے رنگوں میں لڈو کا رنگ گھل جانے سے اس سال کی ہولی کچھ زیادہ ہی بدرنگ ہوگئی۔ اترپردیش میں جہاں ہولی نے اس سال 47 لوگوں کی جان لے لی وہیں دہلی کے ایک ڈاکٹر کو ہڑدنگیوں نے بے رحمانہ طریقے سے پیٹ کر موت کی نیند سلا دیا۔ وکاس پوری کی گلی میں دھیمی موٹر سائیکل چلانے کی بات کہنے پر ملزمان نے ایک ڈاکٹر کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔ اس واردات کے بارے میں کچھ الگ الگ بیان سامنے آئے ہیں لیکن جو اہم بات ابھر کر سامنے آتی ہے اس کے مطابق سڑک پر ایک معمولی کہا سنی نے انتہائی پر تشدد رنگ لے لیا کہ ایک فریق نے لاٹھیوں اور لوہے کی چھڑوں سے مسلح چھوٹی موٹی بھیڑ اکھٹی کرلی۔ جس نے پیٹ پیٹ کر ڈینٹسٹ ڈاکٹر پنکج نارنگ کو مار ڈالا۔ یہ ایک ایسا معاملہ تھا جس شانتیسے سلجھایا جاسکتا تھا لیکن اس نے جس طرح کا مشتعل رخ اختیار کرلیا ویسے واقعات اب اتفاقی نہیں بلکہ عام ہوگئے ہیں۔ چھوٹی ہولی کے دن دہلی میں مارے گئے ڈاکٹر نارنگ کا قصور بس اتنا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ گلی میں کرکٹ کھیل رہے تھے۔ اس دوران گیند پاس سے گزر رہے بائک سوار کو جا لگی جس پر دونوں میں جھگڑا ہوا، اس کے کچھ دیر بعد ہی بائیک والے نے اپنے درجن بھر ساتھیوں کے ساتھ ڈاکٹرکے گھر پر حملہ بول دیا اور اسے لاٹھی ڈنڈوں سے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔ ڈینٹسٹ پنکج نارنگ کے بے رحمانہ قتل کے بعد سوشل میڈیا میں افواہوں نے طول پکڑ لیا۔ وارادت کو فیس بک، ٹوئٹر اور دیگر سائٹس پر مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی تھی۔ پولیس کے ساتھ ساتھ خفیہ محکمے کے بھی کان کھڑے ہوگئے۔ نتیجتاً سنیچر کو خود پولیس افسروں کو آگے آنا پڑا اور سوشل سائٹس پر چل رہی افواہوں پر غور نہ کرنے کی صلاح دینی پڑی۔پولیس افسروں نے بتایا کہ اس واردات میں جو 9 ملزم پکڑے گئے ہیں ان میں سے 5 ہندو ہیں، مسلمان ملزم اترپردیش کا ہے نہ کہ بنگلہ دیش کا، جیسا کہ میڈیا میں افواہیں پھیلی ہوئی ہیں۔ واردات میں شامل 9 ملزمان کو پکڑا جاچکا ہے جن میں 4 نابالغ اور 1 خاتون شامل ہے۔ غصے یا رنجش میں جان لینے کی یہ واردات پہلی بار نہیں ہوئی ہے۔ روزانہ کہیں نہ کہیں اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں۔ کبھی سگریٹ نہیں دینے پر تو کبھی پراٹھا نہیں دینے جیسی چھوٹی بات پر قتل کردیا جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ لوگوں میں اتنا غصہ کیوں ہے؟ جو لوگ قانون ہاتھ میں لینے سے باز نہیں آتے ۔ اس کا سیدھا جواب ہے اس بھیڑ بھاڑ والے شہر میں لوگ بیحد کشیدگی میں رہتے ہیں۔ ایسے میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر بیحد غصے میں آکر ایسی واردات انجام دے جاتے ہیں۔
(انل نریندر)

نر پیندر مشر ابنام چمت رائے!

شری رام جنم بھومی ٹرسٹ میں چھڑا دے کو لیکر کی گئی چوری کے تنازعہ میں ایک نیا موڑ آگیا ہے ۔ رام مندر ٹرسٹ سے استعفی کے بعد چمت رائے کا ایک نو...