Translater

06 فروری 2016

مسلم مذہبی پیشواؤں کی دہشت گردی کیخلاف پہل کا خیر مقدم ہے

دیش کے مسلم مذہبی پیشواؤں نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب خطرناک دہشت گرد تنظیم آئی ایس بھارت میں اپنے پاؤں پھیلانے کی کوشش کررہی ہے تب یہ قابل غور ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اور قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبھال سے ملاقات کے دوران ان مسلم مذہبی پیشواؤں نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ نوجوانوں کو آئی ایس کے تئیں راغب ہونے سے رکیں گے۔ یہ پہلی بار ہے جب راجناتھ سنگھ آئی ایس اشو پر مسلم مذہبی پیشواؤں سے ملے ہیں۔این ایس اے نے ان پیشواؤں کو بتایا کہ آئی ایس کس طرح سے پڑھے لکھے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ قریب ایک گھنٹے تک چلی اس ملاقات میں مسلم مذہبی پیشواؤں نے حکومت کو پوری طرح سے تعاون دینے کا بھروسہ دیتے ہوئے آئی ایس کی مذمت کی ہے۔میٹنگ میں مرکزی وزیرنے کہا کہ بھارت میں بڑی تعداد میں نوجوان اس دہشت گرد تنظیم آئی ایس اور دوسری طرح کی دہشت گردی کے خلاف سامنے آئے ہیں۔ ان علماؤں کی میٹنگ میں درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ عبدالواحدحسین چشتی ،پیس فاؤنڈیشن آف انڈیا کے مفتی اعجاز ارشد قاسمی، رفیق واثق، ایم ایم انصاری، ایم جے خان اور جمعیت علماء ہند کے نمائندے شامل تھے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ممبر کمال فاروقی نے بتایا کہ ایک بھی شخص کا آئی ایس سے جڑنا تکلیف دہ ہے۔ مسلم سماج اپنی سطح پراس خطرے سے نمٹنے کی کوشش کررہا ہے۔ شیعہ عالم مولانا کلب جواد کا کہنا تھا کہ مسلم فرقہ ہر طرح سے دہشت گردی کے خلاف کھڑا ہے۔ جمعیت علماء ہند کے قومی سکریٹری نیاز فاروقی نے بتایا یہ اچھی بات ہے کہ حکومت نے اس اہم مسئلے پر مسلم انجمنوں کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ شروع کیا ہے۔دہشت گرد تنظیم آئی ایس کی طرف سے ساؤتھ ہندوستان کے نوجوانوں کے زیادہ راغب ہونے کے چلتے سرکار کا فکرمند ہونا فطری ہے اس لئے جلد ہی مرکزی سرکار کرناٹک ،تلنگانہ، آندھرا پردیش، تاملناڈو اور کیرل کے بڑے مسلم لیڈروں سے رابطہ قائم کرے گی تاکہ انہیں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے روکا جاسکے۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ جنوبی ہندوستان کے بڑے مسلم علماؤں سے ملیں گے اور مسلمان نوجوانوں کوکٹر پسندآئیڈیا لوجی سے متاثر ہوکر آئی ایس جیسی خطرناک تنظیم میں شامل ہونے سے روکنے کی اپیل کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اے آئی ایم آئی ایم کے چیف اسد الدین اویسی کو بھی مذہبی کے منفی پروپگنڈے سے جوانوں کو گمراہ ہونے سے روکنے کی اپیل میں شمارکیا جائے گا۔ مرکزی وزرات داخلہ کے اعدادو شمار کے مطابق حال میں بھارت میں آئی ایس سے جڑے زیادہ تر نوجوان ساؤتھ انڈیا کی ان پانچ ریاستوں سے ہیں جو تشویش کا باعث ہے۔ ہندوستانی نوجوان آئی ایس و دیگر دہشت گرد تنظیموں کے چنگل میں پھنس رہے ہیں۔ کچھ تو آئی ایس کی مدد کرنے کے لئے عراق اور شام تک جا پہنچے۔ پچھلے دنوں ایک درجن سے زیادہ ایسے گمراہ عناصر کو گرفتار کیا گیا ہے۔ صاف ہے کہ نوجوانوں کو دہشت گردی کے راستے پر جانے سے روکنے کیلئے اور زیادہ موثر چوکسی اور سرگرمی دیکھانے کی ضرورت ہے۔ مسلم علماء اور مذہبی پیشواتو اپنا کام کررہے ہیں لیکن کیا ہماری سیاسی پارٹیاں بھی اپنا فرض نبھا رہی ہیں؟ بین الاقوامی اسٹیج پر بھارت کی یہ شکایت بھی جائز ہے کہ اقوام متحدہ دہشت گردی کی تشریح متعین نہیں کرسکا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ بھارت کی سیاسی پارٹیاں دہشت گردی سے نمٹنے کے طور طریقوں کو لیکر کیا ایک رائے ہیں؟ دہشت گردی سے موثر ڈھنگ سے نمٹنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ پورا دیش ایک رائے ہو اور مصمم عزم ہو، مسلم علماؤں و مذہبی پیشواؤں نے پہل کی ہے اب باقی لوگوں کی باری ہے۔
(انل نریندر)

دہلی میونسپل کارپوریشن ضمنی چناؤ سے بدل سکتے ہیں سمی کرن

دہلی ہائی کورٹ نے دہلی میونسپل کارپوریشن کے13 وارڈوں میں 3 ماہ کے اندر ضمنی چناؤکرانے کا حکم دیا ہے۔چیف جسٹس جی ۔روہنی و جسٹس جینت ناتھ کی بنچ نے سرکارکی اس دلیل کو مسترد کردیا کہ حالیہ مالی برس میں فنڈ الاٹ کرنا مشکل ہے۔ ایسے میں کارپوریشن کے اگلے برس ہونے والے عام چناؤ ستمبر اکتوبر 2016ء میں کرا لئے جائیں۔ بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آئین میں طے ہے کہ ایک لمبے عرصے تک وارڈوں کے چناؤ نہیں ٹالے جاسکتے۔ خالی سیٹ پر6 مہینے میں چناؤک رانا ضروری ہے۔ ایم سی ڈی کے ضمنی چناؤ سے کارپوریشن کے اندر سمی کرن بدل سکتے ہیں۔ اسمبلی چناؤ میں ہار جیت کے چلتے کونسلروں کی 13 سیٹیں خالی ہوئی ہیں۔ ہائی کورٹ نے اپریل ماہ تک ان پر ضمنی چناؤ کرانے کی ہدایت دی ہے۔ دہلی اسمبلی کے لئے تھوڑے تھوڑے فرق پر ہوئے دو چناؤ نے ایم سی ڈی کی تصویر بدل دی ہے۔ دراصل 2003ء میں ہوئے اسمبلی چناؤ میں کونسلر راجندر گہلوت ،انل شرما، جتیندر سنگھ شنٹی، رام کشن سنگھل، مہندر یادو نے جیت حاصل کی ہے اور یہ ممبر اسمبلی بننے کے بعد کارپوریشن سے مستفی ہوگئے تھے۔2015ء میں ہوئے اسمبلی چناؤ میں انہیں ہار کا سامنا کرنا پڑا اور یہ نہ تو کونسلر رہے اور نہ ہی ممبر اسمبلی۔ اسی طرح2015ء میں اسمبلی کے چناؤ میں عام آدمی پارٹی کی طرف سے لڑے بلیماران سے کونسلر عمران حسین، چھترپور سے کرتار سنگھ تنور، آر کے پورم سے پرمیلا ٹوکس، تغلق آباد سے سہی رام، اتم نگر سے نریش بالمان اور ناگلوئی سے رگھوندر سنگھ شوقین نے جیت حاصل کی ہے۔جیت کے بعدان کی بھی کونسلر سیٹ خالی ہوگئی۔ کونسلر نہ ہونے کے چلتے ان وارڈوں میں ڈیولپمنٹ کا کام ٹھپ ہونے کی شکایتیں بھی آرہی ہیں جن کے چلتے کارپوریشن کی طرف سے خالی پڑی ان سیٹوں پر ضمنی چناؤ ہونا ضروری ہوگیا ہے۔ساؤتھ دہلی میونسپل کارپوریشن میں کونسلر کی 7 سیٹیں خالی ہیں۔ یہاں کئی بار صرف 1 ووٹ سے کئی اہم فیصلے ہوتے رہے ہیں اس لئے یہاں کی 7 سیٹوں پر جیت کر آنے والے امیدواروں سے بھاجپا کی اکثریت پر اثر پڑ سکتا ہے۔ حالانکہ فروری2017ء میں دہلی کی تینوں میونسپل کارپوریشنوں میں چناؤ ہونے ہیں اس لئے اگر اپریل2016ء تک ضمنی چناؤ ہوتے بھی ہیں تو کارپوریشنوں کے کام کاج پر بہت زیادہ اثر پڑنے والا نہیں ہے۔ دہلی پردیش کانگریس کے پردھان اجے ماکن نے ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیجریوال سرکار ان چناؤ سے کیوں ہچکچا رہی ہے۔
(انل نریندر)

05 فروری 2016

کشمیر پنڈت ہوں، دہشت گردی کے خلاف بولتا ہوں اس لئے ویزا نہیں

پاکستان نے بالی ووڈ اداکار انوپم کھیر کو ویزا دینے سے انکار کرکے اپنی ہی کرکری کرائی ہے۔انوپم کھیر 5 فروری کو کراچی میں ہونے والی ساہتیہ کانفرنس میں شامل ہونے والے تھے۔ کھیر نے منگل کو کہا ہوسکتا ہے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی حمایت میں بولتا ہوں ، کشمیری پنڈتوں کی آواز اٹھاتا ہوں ، اس وجہ سے پاکستان نے ویزا دینے سے انکار کردیا ہو۔ کھیر نے کہا کراچی لٹریچر فیسٹیول میں جانے کے لئے 18 لوگوں میں سے مجھے چھوڑ کر باقی سب کو ویزا دے دیا گیا ہے۔ میں پاکستان کے اس رویئے سے دکھی ہوں، وہیں نئی دہلی میں واقع پاکستانی ہائی کمیشن نے کہاکھیر نے ویزا کے لئے درخواست نہیں دی۔ انوپم کھیر نے کہا کہ ہائی کمیشن جھوٹ بول رہا ہے۔ میں یہ اشو وزیر اعظم نریندر مودی کے سامنے اٹھاؤں گا۔ جن لوگوں کو ویزا دیا گیا ہے ان میں سینئر کانگریسی لیڈر سلمان خورشید، صحافی برکھا دت اور اداکارہ نندتا داس شامل ہیں۔ ایل جی وی ٹی رضاکار لکشمی نارائن ترپاٹھی کو بھی ویزا دیا گیا ہے۔ ویسے یہ پہلی بار نہیں جب پاکستان نے انوپم کھیر کو ویزا دینے سے انکار کیا ہو۔ پاکستان پہلے بھی دو بار انوپم کھیر کو ویزا دینے سے انکارکرچکا ہے۔ انوپم نے کہا کہمجھے پتہ نہیں ویزا دینے سے انکار کیوں کیا گیا ہے؟کیا اس لئے مجھے ویزا نہیں دیا گیا کیونکہ میں کشمیری پنڈت ہوں یا میری دیش بھگتی کی وجہ سے؟کیا یہ اس لئے ہے کہ میں اس ملک میں نہیں جاتاوہاں اپنے دیش کی برائی نہیں کرتا، میں دہشت گردوں کی زبان نہیں بولتا،ایسی لاکھوں وجہ ہوسکتی ہیں۔ کراچی فیسٹیول کے لئے انوپم کھیر کو ویزا دینے سے انکار کئے جانے کے بعد پاک ہائی کمیشن کی طرف سے ویزا کے بارے میں دی جارہی صفائی رنگے ہاتھوں پکڑی گئی چوری کو چھپانے جیسی لگتی ہے۔ بھارت اور پاکستان کے اداکار دانشور اور کلچرل ملازمین ایک دوسرے ملکوں میں آتے جاتے ہیں لیکن ایسا ممکنہ طور پر پہلی بار ہوا ہے جب کسی ہندوستانی اداکار کو پاکستان نے ویزا دینے سے انکار کیا ہو۔ انوپم کھیر نے نہ صرف بھارت کے بلکہ بین الاقوامی شہرت یافتہ اداکار ہیں جنہیں کئی قومی ایوارڈ مل چکے ہیں۔ جنہیں حال ہی میں پدم بھوشن سے بھی نوازا گیا ، اس کے ساتھ ہی وہ کشمیری پنڈت بھی ہیں اور سماجی و سیاسی اور کلچرل ایشوز پر کھل کر اپنا نظریہ رکھتے ہیں۔ وہ دہشت گردی اور کشمیری پنڈتوں کو لیکر بھی زیادہ آواز اٹھاتے ہیں لہٰذا کیوں نہیں مانا جانا چاہئے کہ پاکستان میں ان کا آنا ایسے لوگوں کو گوارہ نہ ہو جو کسی طرح کشمیر کو اشو بنائے رکھنا چاہتے ہیں؟ لگتا ہے پاکستان کو خوف تھا کہ انوپم کھیر دہشت گردی اورکشمیری اشو پر وہاں پرزور ڈھنگ سے بھارت کا موقف رکھ سکتے تھے جس سے پاکستان کی اپنے ہی گھر میں تھو تھو ہوتی۔ اس سے یہ بھی سوال تازہ ہوجاتا ہے جو میں بار بار اسی کالم میں اٹھاتا رہا ہوں کہ ہم ان پاکستانی اداکاروں کو اتنے کھلے دل سے بالی ووڈ میں کیوں اینٹری دیتے ہیں۔ کتنی شرم کی بات ہے کہ پاکستان نے آج تک نہ تو لتا منگیشکر یا امیتابھ بچن کو پاکستان آنے کی دعوت دی؟ کیا شیو سینا غلام علی کے پروگرام کی مخالفت کرتی ہے تو کیا غلط کرتی ہے؟ معاملہ چاہے ویزا کا ہو یا دہشت گردی کا پاکستان کی سیاست صاف ہے۔ وہ جو نہیں کرنا چاہتا نہیں کرتا۔ یہ تو ہم ہی ہیں جو بن بلائے ان کے گھر پہنچ جاتے ہیں۔ انوپم کھیر کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ صرف ایک اداکار کی ہی نہیں بلکہ پاکستان میں رہ رہے ان کے پرستاروں کی بھی بے عزتی ہے۔
(انل نریندر)

جموں وکشمیرمیں سرکار بنانے پر سسپنس گہرا ہوا

جموں و کشمیرمیں پچھلے ایک مہینے سے جاری سیاسی بے یقینی طویل المدت کی طرف بڑھتی نظرآرہی ہے۔ پی ڈی پی اور بھاجپا دونوں ہی نئی سرکار بنانے کیلئے گیند ایک دوسرے کے پالے میں ڈال رہے ہیں۔منگلوار کو جموں کے گورنر این این وورا نے پی ڈی پی چیف محبوبہ مفتی سے سرکار کی تشکیل پر بات چیت کی ہے۔ وورا سے ملاقات کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت میں محبوبہ نے کہا کہ اگر نئی حکومت کی تشکیل ہونی ہے تو اس ریاست میں اچھے ماحول اور حوصلہ افزا قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مرحوم والد مفتی محمد سعید نے اپنے سیاسی کیریر کی پرواہ کئے بغیر اس امید کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ اتحاد کیا تھا کہ مرکز جموں و کشمیر کو مشکل حالات سے باہر نکال سکے گا۔ مفتی کا پچھلی 7 جنوری کو انتقال ہوگیا تھا۔ مفتی محمد سعید کے انتقال کے بعد پی ڈی پی نے ابھی تک اپنا اسمبلی پارٹی کانیتا تک نہیں چنا ہے۔پارٹی صدر محبوبہ کوہی نیا لیڈر چنا جانا ہے لیکن اس میں ہورہی تاخیر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ محبوبہ دراصل بھاجپا سے لمبی سودے بازی کررہی ہیں۔ بھاجپا کا خیال ہے کہ محبوبہ اپنے کیڈر کو خوش کرنے کے لئے بھاجپا سے ایسی شرطیں منوانا چاہ رہی ہے جو کم از کم پروگرام سے باہر ہیں اس درمیان بھاجپا نے بھی دیگر متبادل پر غور و خوض شروع کردیا ہے جس میں متبادل سرکار کے ساتھ نئے چناؤ بھی کرانا شامل ہے۔ ادھر نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ نے کہا کہ اگر پی ڈی پی سرکار بنانے کے لئے تیار نہیں ہے تو ریاست میں چناؤ ہونا چاہئے۔ کانگریس ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی کا کہنا ہے کہ پی ڈی پی اور بھاجپا جموں و کشمیر کے عوام کی جمہوری مینڈیٹ کو نظر انداز کررہی ہیں۔ انہیں حکومت کے لئے چنا گیا ہے ایک منٹ کی بھی دیری اچھی نہیں ہے۔ کشمیر کی 87 ممبری اسمبلی میں پی ڈی پی کے 27 ممبر ہیں جبکہ بھاجپا کے25 اور پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کے درمیان کسی طرح کا اتحاد ممکن نظر نہیں آتا۔ کانگریس چھوٹی پارٹیوں اور آزاد کے تعاون سے پی ڈی پی کی سرکار بنوانا تکنیکی طور سے بھلے ہی ممکن ہو لیکن برتاؤ میں یہ تقریباً ناممکن ہے۔ ایسے میں اگر ایک بنے بنائے اتحاد کو یوں لٹکا دیا جائے تو اس کا مطلب صاف ہے کہ پی ڈی پی کی منشا حالات کو وسط مدتی چناؤ کی طرف موڑ نا چاہتی ہے۔ اگر محبوبہ ایک سال کے اندر دوبارہ چناؤ کے بارے میں سوچ رہی ہیں تو یہ مینڈیٹ سے دھوکہ ہے۔ محبوبہ سوچتی ہیں کہ مفتی صاحب کی موت سے انہیں ہمدردی ملے گی اور نئے چناؤ میں وہ شاید اکثریت پا جائیں؟ دوسری طرف اپنا خیال ہے کہ بھاجپا کو اس اتحاد سے کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے ، الٹا نقصان ہی ہوا ہے۔ بھاجپا کا ووٹ بینک جموں کا ہے اور اس گٹھ بندھن میں جموں خطے کو نظر انداز کیا گیا ہے اگر دوبارہ چناؤ ہوتا ہے تو بھاجپا کو شاید اتنی سیٹیں نہ ملیں۔ بہتر ہوگا محبوبہ کو سرکار بنانے دیں اور بھاجپا سرکار میں شامل نہ ہو، باہر سے حمایت دے۔ اس طرح وہ ایک مضبوط اپوزیشن کا کردار بھی نبھا سکتی ہے اور جموں علاقے کے مفادات کی حفاظت بھی کر سکتی ہے۔ اگر محبوبہ کانگریس کے ساتھ سرکار بنانے چاہتی ہے تو بھاجپا کو اسے روکنا نہیں چاہئے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ محبوبہ کو اس میں شبہ نہیں کہ کشمیری عوام ایک خاتون کو بطور وزیر اعلی قبول کرے یا نہیں؟ جو بھی ہو صوبے میں یہ بے یقینی کا دور ختم ہونا چاہئے۔
(انل نریندر)

04 فروری 2016

ٹیم انڈیا نے کنگاروؤں کو ان کے گھر میں ہی دھول چٹائی

سڈنی میں کپتان مہندر سنگھ دھونی کے دھرندروں نے کنگاروؤں کو تیسرے اور آخری ٹی۔20 میچ میں آخری بال پر 7 وکٹ سے مات دے کر نہ صرف ہراکر مقابلوں کو وائٹ واش کیا بلکہ ونڈے میچوں میں ملی 1-4 سے شرمناک ہار کے درد کو بھی کم کر بھارت کا سر اونچا کرگھرواپس ہوگئی۔آسٹریلیا کو ان کے گھر پر ہی ہرانے کی اپنی اہمیت ہے۔ اس جیت کے ساتھ ہی ٹیم انڈی ٹی۔20 رینکنگ میں آٹھویں پائیدان سے نمبرون پر پہنچ گئی ہے۔ بھارت ٹیسٹ میں پہلے ہی نمبرون اور ون ڈے میں نمبر دو پر ہے۔140 سال کی تاریخ میں پہلی بار آسٹریلیا نے اپنی زمین پر 3 یا اس سے زیادہ میچوں کی سیریز کے سبھی میچ ہارے ہیں۔ میچ میں سب اچھا کھیلے لیکن جوہر سریش رینا اور یووراج سنگھ نے آخری اوور میں دکھایا،وہ یا گار بن گیا۔ دونوں نے6 گیندوں پر 19 رن بنا دئے جبکہ جیتنے کے لئے صرف 17 رن چاہئے تھے۔ مہندر سنگھ دھونی آسٹریلیا کے خلاف دو فارمیٹ (ٹی۔20 اور ٹیسٹ ) میں کلین سوئپ کرنے والے ایک واحد ٹیم انڈیا کے کپتان بنے۔ اس سے پہلے ٹیسٹ میں 2013ء میں آسٹریلیا کو بھارت نے 4-0 سے ہرایا تھا۔اس سیریز میں کئی ریکارڈ بھی بنے۔ ویراٹ کوہلی دنیا میں ٹی۔20 کے ایک واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے تیسری مرتبہ کسی سیریز میں مسلسل تین ہاف سنچری لگائی ہیں۔اس شاندار پرفارمینس کی وجہ سے کوہلی ٹی۔20 کے بادشاہ بن گئے۔ ٹیم انڈیا کے ساتھ ہی مہلا کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیا کے خلاف تاریخ بناتے ہوئے پہلی بار 2-1 سے سیریز جیتی۔ ٹیم انڈیا کا اس طرح سے سیریز جیتنا اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ سوا مہینے بعد 8 مارچ سے ٹی۔20 ورلڈ کپ شروع ہونے جارہا ہے۔ ٹیم انڈیا نے آسٹریلیا دورہ پر جس طرح اچھی بلے بازی کرتے ہوئے بھی ایک دو جیتے ہوئے میچ بھی ہار گئی اس سے ٹیم کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ کپتان مہندر سنگھ دھونی کی کپتانی پر بھی سوال اٹھنے لگے تھے۔ کہا جانے لگا تھا کہ بھارت کے جارحانہ کھیل میں جیت دلانے کی صلاحیت نہیں ہے لیکن اشون نے ٹی۔20 میں جس طرح گیند بازی کی اس سے ثابت ہوگیا ہے کہ ٹی ۔20 ورلڈکپ میں بھی جارحانہ کمان ان کے ہاتھوں میں ہی رہنے والی ہے۔ روہت شرما اور وراٹ کوہلی جس لے میں بلے بازی کررہے ہیں اس سے لگتا ہے ٹیم کسی بھی نشانے کو حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس میں ریناکا فارم میں آنا سونی پر سہاگے والی بات بنتی ہے۔ یہ بھی سچائی ہے کہ اشون ۔جڈیجا کی جوڑی آسٹریلیا میں اتنا دھمال مچا سکتی ہے تو وہ گھریلو کرکٹ پر کس کو سامنے ٹکنے دے گی؟ لیکن سب سے اہم کپتان مہندر سنگھ دھونی کا اس رنگت میں آنا ہے جس کے لئے وہ جانے جاتے ہیں۔ دھونی نے ٹی۔20 ورلڈ کپ جیت کر اپنی چمک بکھیری تھی، امید کرتے ہیں کہ 2016 ورلڈ کپ میں بھی تاریخ کودوہرائیں گے۔
(انل نریندر)

پٹھانکوٹ جانچ پر پاک کی پینترے بازی پر حیرانی نہیں ہونی چاہئے

اس پرکسی کو حیرانی نہیں ہوئی کہ پٹھانکوٹ ایئربیس پر دہشت گردانہ حملے کی جانچ میں پاکستان نے نیا پینترا چل دیا ہے۔ اب پاکستان کا کہنا ہے کہ ثبوتوں کی کمی کی وجہ سے اب تک کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ اس کے پہلے بھارت نے پاکستان کو جو ثبوت دستیاب کرائے تھے وہ ناکافی قراردئے گئے ہیں۔ ایسے میں وہ اس سے آگے بڑھنے کے لئے بھارت سے اور ثبوت و سراغ دینے کی مانگ کرے گا۔ پتہ نہیں بھارت اسے اور ثبوت دے گا یا نہیں لیکن اگر وہ ایسا کرتا بھی ہے تو اس کا خدشہ زیادہ ہے کہ وہ بھی آدھے ادھورے قرار دئے جائیں گے۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے ممبئی9/11 حملے کے معاملے میں دئے گئے ثبوت قرار دئے گئے تھے۔ یہ انکشاف ایسے وقت ہوا ہے جب دو دن پہلے وزیر اعظم نواز شریف نے وعدہ کیا تھا کہ جانچ کے نتیجے جلد سامنے لائے جائیں گے اور کہا تھا جانچ کے نتیجے جو بھی ہوگے انہیں دنیا کے سامنے رکھا جائے گا۔ معاملے کی جانچ کررہی 6 نفری پاکستانی ٹیم نے اپنی وزارت خارجہ کو بھارت کی طرف سے ثبوت مانگنے کیلئے خط لکھا ہے۔ بدقسمتی دیکھئے پٹھانکوٹ حملے کے جس ماسٹر مائنڈ جیش محمد کے بانی مسعود اظہر کے خلاف جانچ کی جارہی ہے وہ الٹا پاکستان کو کیسے دھمکا رہا ہے۔ مسعود اظہر نے دھمکی دی ہے کہ اگر پاکستان بھارت کے خلاف دہشت گرد گروپوں کی کارروائی کو بند کرتا ہے تو اسے سنگین نتائج بھگتناہوں گے۔ مسعود نے پشاور سے شائع جہادی میگزین ’القلم‘ میں لکھا ہے کہ میں نے ایک فوج بنائی ہے جو موت سے بے انتہا محبت کرتی ہے۔ اس فوج کو اکھاڑ پھینکنے کی طاقت ہمارے دشمنوں میں نہیں ہے۔ اللہ چاہتا ہے کہ یہ فوج ہمارے دشمنوں کے جشن کا اظہار نہ کرے اور نہ ہی میرے نہ ہونے کا غم کرے۔مسعود اظہر نے پٹھانکوٹ حملے کے بعدپاکستان پر پہلی بار کھل کر بولا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ پاکستان کی مساجد ، مدارس اور جہادیوں کے خلاف کارروائی اس کی ایکتا کے خلاف ہے اور پاکستان کا ایسا کرنا اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مارنے جیسا ہے۔ کیا یہ عجب نہیں ہے کہ پٹھانکوٹ حملے کی سازش پاکستان میں ہی رچی گئی۔ آتنکی وہاں سے آئے اور انہوں نے فون پر بات بھی کی تھی لیکن پاکستان کو اور ثبوت چاہئیں؟ مسعود اظہر کھل کر بھارت کے خلاف زہراگل رہا ہے۔ ابھی تک اس کے بھی کوئی ثبوت سامنے نہیں آئے کہ مسعود اظہر کو نظربند کیا گیا ہے۔ پاکستان کہتا ہے کہ ہم نے اپنے میڈیا میں دہشت گرد تنظیموں کے بیانات کو ٹیلی کاسٹ یا نشر کرنے پر روک لگادی ہے۔ آخر یہ کیسی پابندی ہے جو مسعود اظہر پر نافذ ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان اظہر مسعود ، حافظ سعید، زکی الرحمان لکھوی پر کارروائی کیوں نہیں کرپا رہا ہے؟ بھارت سرکار پتہ نہیں پاکستان پر اتنا بھروسہ کیوں کر بیٹھی ہے؟شاید وہ سمجھتی ہے کہ امریکی دباؤ کے چلتے پاکستان کو ان جہادیوں پر کارروائی کرنے کی مجبوری بن گئی لیکن ایسا ہونے کا امکان بہت کم ہے۔ فوج یہ جہادی خود پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کی دین ہیں اور انہیں زندہ رکھنے اور ہر طرح کی مدد دینا پاکستان کی مجبوری ہے۔ بیشک میاں نواز شریف کچھ بھی کہیں لیکن دنیا جانتی ہے کہ پاکستان میں اصل طاقت کن کے ہاتھوں میں ہے۔ ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی سوچتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ان کے لاہور دورے کے اچھے نتائج سامنے آئیں گے لیکن نواز چاہتے ہوئے بھی بے بس ہیں ۔ پاکستان ایک بار پھر بے نقاب ہوا ہے۔ پاکستان سے بات چیت ہو یا نہ ہو زیادہ ضروری یہ ہے کہ اس کی فوج اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی سرپرستی والی دہشت گرد تنظیم بھارت میں نئے سرے سے کوئی واردات نہ کرپائے اور اگر کرے تو انہیں سچ مچ منہ توڑ جواب دینا ہوگا۔
(انل نریندر)

03 فروری 2016

عدم رواداری پھیلانے کیلئے سعودی عرب سے پاکستان کو فنڈنگ

سعودی عرب اور پاکستان کے آپسی رشتے دنیا جانتی ہے پاک کو سعودی عرب سے بے شمار پیسہ ملتا ہے۔ کہا تو یہاں تک جارہا ہے کہ پاکستان نے جو نیوکلیائی بم بنائے ہیں اس کے لئے پیسہ بھی سعودی عرب نے دیا ہے اور اب غیر مصدقہ ذرائع کے مطابق سعودی عرب پاکستان سے نیوکلیائی بم کی مانگ کررہا ہے تاکہ وہ اپنے دشمنوں کو ڈرانے کیلئے اس کا استعمال کرسکے۔ مذہبی تعلیم کے نام پر سعودی عرب پاکستان کے مدارس کو اربوں روپے دے چکا ہے ۔ ایک سینئر امریکی سینیٹر نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان میں قریب 24 ہزار مدرسوں کو مالی مدد مہیا کراتا ہے اور وہ عدم رواداری پھیلانے کیلئے پیسے کی سونامی بھیج رہا ہے۔ سینیٹر کرس مرفی نے کہاکہ امریکہ کو سعودی عرب کے ذریعے کٹر پسند اسلام کو فروغ دئے جانے پر اپنی موثر خاموش رضامندی کی پوزیشن کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ مرفی نے کہا پاکستان اس بات کی اہم ترین مثال ہے جہاں سعودی عرب سے آرہے پیسے کا استعمال ان مدرسوں کو مددکیلئے کیا جارہا ہے جو نفرت اور دہشت گردی کو فروغ دیتے ہیں۔ انہوں نے سینئر امریکی تھنک ٹینک کونسل آف فورن ریلیشنز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں 24 ہزار ایسے مدرسے ہیں جن میں سے ہزاروں کو ملنے والی اقتصادی مدد سعودی عرب سے آتی ہے۔ کچھ اندازے کے مطابق 1960ء کی دہائی سے سعودی عرب میں سخت وہابی اسلام کے فروغ کی مہم کے تحت دنیا بھر میں مدرسوں اور مساجد کو 100 ارب ڈالر سے زیادہ کی اقتصادی مدد دی ہے۔ مرفی نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے اتحاد کے سبھی مثبت پہلوؤں کی ایک کڑوی سچائی یہ ہے کہ سعودی عرب کا ایک اور پہلو ہے جسے نظرانداز نہیں کرسکتے کیونکہ اسلامی کٹر پسندوں کے خلاف ہماری لڑائی زیادہ مرکوز اور زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو یمن میں سعودی عرب کی فوجی کارروائی کو کم سے کم تب تک حمایت دینا بند کردینی چاہئے جب تک ہمیں یہ یقین نہیں دلا دیا جاتا کہ اس کی کارروائی آئی ایس اور القاعدہ کے خلاف لڑائی پر ہی توجہ مرکوز رہے گی اور جب تک ہم وہابی نظریئے کے سعودی پالیسی کے متعلق کچھ پیش رفت نہیں دیکھ لیتے۔ مرفی نے مطالبہ کیا کہ جب تک اس طرح کی یقین دہانی نہیں کرائی جاتی تب تک امریکی کانگریس کو سعودی عرب کو کسی بھی طرح کی زیادہ فوجی سازو سامان کی فروخت کی منظوری نہیں دینی چاہئے۔ ہم سینیٹر مرفی کو بدھائی دینا چاہتے ہیں کہ انہوں نے سعودی عرب کی اصلیت کو اجاگر کرنے کی ہمت دکھائی۔ ہم یہ بھی مانگ کرتے ہیں وہابی نظریئے کو تھونپنے کے لئے سعودی عرب نے بھارت میں کتنا پیسہ مہیا کرایا اس کی جانکاری سرکار دے۔ سینیٹر مرفی نے آگے کہا کہ ہاؤس آف سعود۔سعودی عرب کے حکمراں شاہی خاندان اور کٹر پسند وہابی مولویوں کے درمیان سیاسی رشتے اتنے ہی پرانے ہیں جتنا پرانا وہ دیش ہے جس کی وجہ وہابی تحریک کے ذریعے اور اس کے لئے اربوں ڈالر کی مدد بھیجی جاتی ہے۔ مرفی نے کہا کہ امریکی لوگ جن شاطر دہشت گرد گروپوں کے بارے میں نام سے جانتے ہیں وہ بنیادی طور پر سنی ہیں اور وہ وہابی اور سلفی تعلیمات سے کافی متاثر ہیں۔ مرفی نے کہا کہ ڈیموکریٹک و ریپبلکن دونوں پارٹیوں کے لیڈروں کو اس بحث کو شدت دینے سے بچناچاہئے اور اس بات پر بھی بحث کرنی چاہئے کہ امریکہ کٹر پسندی کے بیج بونے والوں کے خلاف اسلام کی اصلاح پسند آوازوں کو جیت حاصل کرنے میں کس طرح مدد کرسکتا ہے۔
(انل نریندر)

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...