Translater

25 جولائی 2015

اور اب شانتاکمار کا لیٹر بم

للت مودی معاملے اور ویاپم گھوٹالے پر اپوزیشن کے زبردست حملوں سے مقابلہ آرا مودی حکومت کی مشکلیں انہی کی پارٹی بھاجپا کے سینئر ایم پی نے اور بڑھا دی ہیں۔اسے بھاجپا میں پھوٹ کا پہلا بلبلا مانا جاسکتا ہے۔ 80 سالہ شانتا کمار نے پارٹی صدر امت شاہ کو خط لکھ کر ویاپم جیسے کرپشن کے معاملوں سے نمٹنے کیلئے پارٹی میں لوکپال کی مانگ کی ہے۔ انہوں نے دو ٹوک کہا کہ اس طرح کے معاملوں سے ہم سب کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔ ہماچل پردیش سے بھاجپا کے بزرگ لیڈر نے کچھ ریاستوں پر الزام لگاتے ہوئے راجستھان کی وزیر اعلی وسندھرا راجے و للت مودی تنازعہ اور مہاراشٹر کی وزیر اعلی پنکجا منڈے پر لگے کرپشن کے الزامات کی طرف اشارہ کیا۔ ہماچل کے سابق وزیر اعلی نے ایک پالیسی کمیٹی کو لوکپال کی طرح کام کرنا چاہئے تاکہ وہ سرکار میں لیڈروں کے برتاؤ پر نظر رکھے۔ خط میں لکھے ہر ایک لفظ کو واجب قراردیتے ہوئے شانتا کمار نے کہا کہ ان کی پارٹی نے قابل فخر کارنامے انجام دئے ہیں۔ چناؤ میں بھاری کامیابی کے بعد ایک سال تک کامیابی سے سرکار چلی لیکن اب کچھ جگہوں پر داغ لگنے لگے ہیں۔ شانتا کمار نے اپنی پارٹی کے اس خط پر ناراضگی کے باوجود کہا کہ انہیں اٹھائے گئے کچھ اشوز پر کافی وزرا کی حمایت ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مبینہ طور سے کچھ لیڈروں پر کرپشن کے الزامات کے چلتے بھاجپا کی ساکھ خراب ہوئی ہے۔ پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کی کارروائی شروع ہونے سے ٹھیک پہلے سامنے آئے شانتا کمار کے اس خط میں پارٹی اور سرکار دونوں میں ہلچل ہونا فطری ہے۔ کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ شانتا کمار ان سینئر لیڈروں میں سے ہیں جو نئے دور میں بھاجپا کے اندرخود کو نظرانداز ہوتا محسوس کررہے ہیں۔اب چونکہ بھاجپا کے بہت سے طاقتور لیڈر کرپشن یا غیراخلاقی برتاؤ کے الزامات سے گھرے ہوئے ہیں اور اس کے نتیجے میں پارٹی کے لئے سیاسی مشکلیں کھڑی ہوئی ہیں تو اس کے بیچ لیٹر بم کا دھماکہ کر شانتا کمار نے جوابی چال چلی ہے۔ ممکن ہے کہ ان باتوں و دلیلوں میں کچھ سچائی بھی ہو اس کے باوجود یہاں قابل غور موجودہ حالات ہیں جو شانتا کمار کو اپنی بھڑاس نکالنے کیلئے موزوں محسوس ہوئے۔ بھاجپا لیڈر شپ کیلئے غور کرنے لائق یہ ہے کہ یہ حالات حقیقی ہیں یا نہیں؟ شانتا کمار ہماچل پردیش کے وزیر اعلی اور واجپئی سرکار میں وزیر رہ چکے ہیں، فی الحال وہ صرف ایم پی ہیں۔ پارٹی سے بھارتیہ جن سنگھ کے زمانے سے جڑے ہوئے ہیں اس لئے یہ خط اگر ان کی ذاتی ناراضگی کا اظہار ہے تب بھی بھاجپا کے لئے مناسب ہوگا کہ اس میں لکھی باتوں پر وہ توجہ دے۔ خاص کر ان کی اس تجویز پر کہ پارٹی کے اندر لوکپال مقرر کیا جانا چاہئے، جو کرپشن کی شکایتوں کی جانچ کرے۔
خیال رہے کہ پچھلے پانچ برسوں میں دیش میں کرپشن کا اشو انتہائی اہم رہا ہے۔ اس کو نظرانداز کرنے کی کانگریس پارٹی بہت بھاری قیمت چکائی ہے۔ اس لئے بھاجپا کو اس سے سبق لیناچاہئے۔ وہی غلطیاں نہیں دوہرانی چاہئیں۔ سرکار کا ہنی مون پیریڈ پورا ہوچکا ہے اب پارٹی کے اندر ناراضگی کی آوازیں سامنے آنے لگی ہیں۔ بھاجپا لیڈر شپ کو ان کو سنجیدگی سے لینا چاہئے نہ کہ یہ کہہ کر ٹال دیا جائے کہ یہ تو اپنے ذاتی وجوہات سے پارٹی پر الزام لگا رہے ہیں۔
(انل نریندر)

بی آر ٹی کوریڈور ختم کرنے کا دہلی حکومت کا صحیح فیصلہ

ہم عام آدمی پارٹی سرکار کے ذریعے مول چند سے امبیڈکر نگر تک بنے بس ریپٹ ٹرانزٹ(بی آر ٹی) کوریڈور کو ختم کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ یہ ہماری رائے میں ایک صحیح فیصلہ ہے۔ ایسا نہیں کہ بی آر ٹی کا سسٹم خراب ہے۔ دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بی آر ٹی کوریڈور کامیاب ہوئے ہیں۔ خود نائب وزیر اعلی منیش سسودیہ بھی اس بات کو مانتے ہیں کہ بی آر ٹی اور اس کی جیسی اسکیموں کا بنیادی مقصد تھا پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کا فروغ ہو اور اچھی ٹرانسپورٹ سہولت کیلئے ضروری ہے کہ الگ الگ طرح کے پبلک ٹرانسپورٹ کو ڈیولپ کیا جائے تاکہ کاروں پر انحصار کم ہو سکے۔ لیکن دہلی میں پرائیویٹ گاڑیوں کی بڑھتی تعداد اور سڑکوں کے تنگ ہونے کے سبب دہلی میں بی آر ٹی فیل ہوگئی ہے۔ شیلا سرکار نے دہلی میں 14 نئے بی آر ٹی کوریڈور بنانے کو منظوری دی تھی ان میں سے7 پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی) اور 7 ڈیمٹس کو بنانے تھے۔ اس کوریڈور کی بھاری مخالفت کے باوجود کانگریس سرکار نے قدم واپس کھینچ لئے تھے۔ 
بھاجپا توشروع سے ہی بی آر ٹی کوریڈور کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ بی آر ٹی پر سڑک بیچ میں بنا ٹریک حادثوں کا سبب بن رہا ہے۔ ٹریک کے دونوں طرف بسیں اور دیگر گاڑیوں کے چلنے سے بس مسافروں کیلئے ٹریک تک پہنچنا مصیبت بھرا ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پر 13 لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ ٹریفک جام کے سبب امبیڈکر نگر سے چراغ دہلی تک کی دوری طے کرنے میں گاڑی چلانے والوں کو 40 منٹ سے زیادہ کا وقت لگ رہا ہے۔ اس کوریڈور کے نام پر کروڑوں روپے کا گھوٹالہ ہوا ہے۔ اس پر راجدھانی میں جتنی بحث ہوئی شاید ہی کسی اور کوریڈور کیلئے ہوئی ہو۔ بی آر ٹی سے ہاتھ کھینچ لیا جانا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اس کو لیکر شہر میں زبردست ناراضگی کا لاوہ پھوٹ چکا تھا۔ وہ صحیح تھا ۔سرکار کا اندازہ ہے کہ اس متنازعہ کوریڈور کو ہٹانے میں قریب35 کروڑ روپے خرچ ہوں گے جبکہ بنانے پر 150 کروڑ روپے کا خرچ آیا تھا۔ مقصد جو بھی رہا ہو لیکن تجرباتی حالت یہ تھی کہ اس کوریڈور کا فائدہ کم نقصان زیادہ ہورہا تھا۔ منیش جی نے کہا کہ وہ اس کا صحیح مطالع کرکے ہی آگے بڑھیں گے۔ ہم دہلی سرکار کے اس فیصلے کو صحیح مانتے ہیں۔ متبادل سسٹم پر توجہ دینی ہوگی تاکہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھ نہ ٹوٹے۔
(انل نریندر)

24 جولائی 2015

پارلیمنٹ میں بحث سے کیوں بھاگ رہی ہے کانگریس

جیسا کہ اندیشہ تھا منگل کے روز پارلیمنٹ کا مانسون سیشن ہنگامے کے ساتھ شروع ہوا۔ عوام سے وابستہ تمام اہم بل لگتا ہے کانگریس کہ منفی رویئے کے چلتے پاس نہ ہو پائیں گے۔ یہی نہیں آل پارٹی میٹنگ میں بنی مانسون سیشن کو ٹھیک ٹھاک چلانے کے تمام امکانات کو ختم کرتے ہوئے کانگریس نے اپنا یرغمال کا انداز ظاہرکردیا ہے۔اپنے منفی اور اڑیل رویئے سے پارلیمنٹ کے دو سیشن کے قیمتی وقت بلی چڑھ چکا ہے۔ کانگریس جہاں مانسون سیشن کو بھی نہ چلنے دینے پر اڑی ہے وہیں اس کی کچھ حمایتی پارٹیاں اس کے اڑیل رویئے سے پریشان ہیں۔ دبے الفاظ میں کہہ رہے ہیں کہ سیشن چلنے دو۔ حکمراں پارٹی بھی یہی کہہ رہی ہے کہ سشما سوراج ، وسندھرا اشو پر وہ بحث کے لئے تیار ہے لیکن کانگریس اس بات پر اڑی ہوئی ہے کہ پہلے ان کے استعفے ہونے چاہئیں پھر بحث ہوگی۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر کانگریس بحث کرنے سے کیوں کترا رہی ہے؟ اگر بحث ہوگی تو بھی وہ اپنی بات رکھ سکتے ہیں اور تمام حقائق پیش کر الزام ثابت کرسکتے ہیں۔ محض الزام لگانا ایک بات ہے اور اسے ثابت کرنا دوسری بات ہے۔ محض الزامات پر استعفیٰ لینا انصاف پر مبنی نہیں مانا جاسکتا۔ کانگریس کے اس منفی رویئے کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ بھاجپا نے بھی کانگریس کے کچھ وزرائے اعلی پر کرپشن کے الزام لگا کر ان کے استعفے کی مانگ کر ڈالی۔ اترا کھنڈ، آسام، گوا وغیرہ ریاستوں کے وزرائے اعلی کو بھاجپا نے بھی زد میں لے لیا ہے۔ پارلیمنٹ کی ایک منٹ کی کارروائی پر 2 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ ہوتا ہے اس حساب سے پورے دن میں تقریباً جنتا کی گاڑھی کمائی کے 12 کروڑ روپے برباد ہورہے ہیں۔ جنتا نے ان ممبران کو اپنے مسائل رکھنے کیلئے چنا ہے نہ کہ پارلیمنٹ کو سیاسی اکھاڑا بنانے کیلئے۔ یہاں ممبران پارلیمنٹ جہاں ٹی وی کیمرہ دیکھتے ہیں ہنگامہ کرنا شروع کردیتے ہیں۔ ہم سبھی کو ایک صلاح دینا چاہتے ہیں کہ سرکار کے چینلوں دور درشن، لوک سبھا ٹی وی، راجیہ سبھا ٹی وی، کسان چینل پران ممبران پارلیمنٹ کی ہر اشو پر بحث کرا لیجئے اور ان میں وہ اپنی اپنی بات رکھیں اور پارلیمنٹ کواصل مقصد کے لئے چلائیں۔ جنتا سے جڑے اشوز کو اٹھایا جائے اور ان پر بحث ہو۔ یہ ٹھیک ہے کہ پارلیمنٹ کو ٹھیک طور سے چلانے کی ذمہ داری حکمراں فریق کی ہوتی ہے لیکن اپوزیشن کے اڑیل رویئے کے سبب پارلیمنٹ ٹھپ ہے۔ ہم حکمراں فریق سے بھی درخواست کرنا چاہتے ہیں کہ وہ بھی ہر اشو پر اپنا اڑیل رویہ نہ اپنائے۔ اپوزیشن کی جائز مانگ کو تسلیم کرے۔ حکومت ایوان کے اندر اور باہر بار بار یہ بات دوہراتی رہی ہے کہ سبھی اشوز پر وہ بحث کے لئے تیار ہے اور راجیہ سبھا میں اپنے نمبروں کی طاقت کا بیجا استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن نے ٹھان لی ہے کارروائی ٹھیک طور سے تب تک نہیں چلنے دی جائے گی جب تک بھاجپا نیتاؤں کے استعفے نہیں ہوتے۔ راجیہ سبھا میں جب کانگریس کے نیتاؤں نے جارحانہ احتجاج کی کارروائی شروع کی تو اس وقت بھی لیڈر آف دی ہاؤس نے ڈپٹی چیئرمین سے فوری بحث شروع کرانے کی اپیل کی۔ لیکن کانگریس بحث سے بھاگتی رہی۔ اس سیشن میں عارضی بل جوینائل انصاف (بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ) بل2014 ، بے نامی لین دین (روک تھام) ، ترمیمی بل 2015، لوک پال اور لوک آیکت اور دیگر متعلقہ قانون (ترمیم بل) سمیت کئی اہم بل التوا میں ہیں۔ سرکار کے پارلیمانی انتظام کو اس تعطل کا کتنا سہرہ جائے گا یہ تو ہم کہہ نہیں سکتے لیکن یہ ضرور ہے کہ دیش کے ووٹروں کے ذریعے ٹھکرائی کانگریس پارلیمنٹ میں بھی الگ تھلگ پڑتی جارہی ہے۔ کیا ہم ’’نور ورک ،نو پے‘‘ اصول ان ممبران پارلیمنٹ پر بھی لاگو کردینا چاہئے؟
(انل نریندر)

بہار میں اکتوبر۔ نومبر میں ہوسکتے ہیں چناؤ

بہار کے انتہائی اہمیت کے حامل اسمبلی چناوی سنگرام کئی مرحلوں میں ہونے کا امکان ہے۔ بہار میں اسمبلی چناؤ اکتوبر کے آخر سے نومبر کے آغاز تک ہوسکتے ہیں۔ چناؤ کمیشن کے ذرائع کے مطابق چناؤ پروگرام کو قطعی شکل دینے سے پہلے ریاست کی چناوی مشینری کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لئے کمیشن کی ایک ٹیم بہار جائے گی۔ اس سے پہلے مختلف اشوز پر باریکی سے کام کیا جارہا ہے۔چیف الیکشن کمشنر نسیم زیدی اور انفورمیشن کمشنر اچل کمار جیوتی کے اگلے مہینے کے افتتاح میں پٹنہ جانے کا امکان ہے۔ ممکن ہے کہ چناؤ کمیشن اکتوبر کے آخر میں تہواری سیزن ہونے سے پہلے چناؤ کرانے کی گنجائش دیکھ رہا ہے۔ اس چناؤ میں بھاجپا اور اس کے حریف جنتا پریوار کا کافی کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ بہار میں 243 پارلیمانی اسمبلی کی میعاد 29 نومبر کو ختم ہورہی ہے اور نئے ایوان کی تشکیل اس سے پہلے ہو جانا چاہئے۔ چناؤ طے تاریخ سے پہلے 6 مہینے کے اندر کرائے جاسکتے ہیں۔ اس بار بھاجپا کے ساتھ جنتادل (یو)۔ آر جے ڈی اتحاد دونوں کی ہی ساکھ داؤ پر لگی ہے۔ دہلی میں اسمبلی چناؤ میں کراری شکست کے بعد بھاجپا کو بہار سے کافی امید ہے۔ وہیں نتیش کمار کی جنتادل (یو) اور لالو پرساد یادو کے آر جے ڈی کے ایک ساتھ آنے کے بعد اس اتحاد کا مستقبل کسوٹی پر ہے۔ بہار چناؤ کے بعد تاملناڈو، مغربی بنگال، کیرل، آسام میں اسمبلی چناؤ ہونے ہیں۔ بہار اسمبلی چناؤ کے لئے مہا گٹھ بندھن کی طرف سے مشترکہ کمپین کا خاکہ تیار ہوگیا ہے۔ جنتادل (یو) ، آر جے ڈی، کانگریس اور این سی پی اگلے ماہ سے مشترکہ چناؤ مہم کی شروعات کریں گے۔ ذرائع کی مانیں تو آر جے ڈی اور جنتادل (یو ) کے ساتھ کچھ جگہوں پر کانگریس بھی اسٹیج شیئر کرسکتی ہے۔ حالانکہ اس کی سرکاری طور پر تصدیق ہونا باقی ہے۔ ادھر وزیر اعلی نتیش کمار پر جے پرکاش نارائن اور کرپولی ٹھاکر جیسے سماج وادی لیڈروں کے سپنے کو توڑنے کا الزام لگاتے ہوئے بھاجپا صدر امت شاہ نے گذشتہ ہفتے بھاجپا کا بگل پھونکا۔ راجیہ کے مختلف حصوں کے لئے پریورتن بوتھ کو ہری جھنڈی دکھانے سے پہلے پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان سے آر جے ڈی کی ریلی میں امت شاہ نے کہا نتیش کمار نے اقتدار کے لئے کانگریس سے ہاتھ ملا کر اپنے راہ عمل جے پرکاش نارائن اور کرپوی ٹھاکر جیسے سماجوادیوں کا سپنا توڑا۔ شاہ نے اس موقعے پر160 رتھوں کو ہری جھنڈی دکھائی جسے انہوں نے دوت (وزیر اعظم نریندر مودی کا نمائندہ) بتایا تھا۔ یہ رتھ بہار کے مختلف حصوں میں جائیں گے۔ مرکز میں این ڈی اے سرکار کے دوران ہوئے وکاس کے پیغام کو پھیلائیں گے۔ ساتھ ہی نتیش کمار و لالو پرساد یادو کے گٹھ جوڑ کا پردہ فاش کریں گے۔ جسے بھاجپا نے موقعہ پرست قراردیا ہے۔ یاد رہے کہ حال ہی میں ختم ہوئے بہار ودھان منڈل پریشد چناؤ میں بھاجپا کو اچھی کامیابی ملی ہے۔ این ڈی اے نے14 جبکہ جے ڈی یو اتحاد کو 8 سیٹوں پر ہی کامیابی مل سکی تھی۔ بھاجپا اس نتائج سے بہت حوصلہ افزا ہے۔ مقابلہ کانٹے کا ہوگا۔
(انل نریندر)

23 جولائی 2015

دہلی پولیس اوردہلی حکومت میں ٹکراؤ

راجدھانی کے آنند پربت علاقے میں لڑکی مناکشی کے بے رحمانہ قتل کے بعد وزیر اعلی اروند کیجریوال اور دہلی کے پولیس کمشنر بھیم سین بسی کی سرخیوں میں چھائی ملاقات کے بعد سرکار اور دہلی پولیس میں خلیج مزید چوڑی ہوتی لگتی ہے۔اس کی تصدیق کرتا ہے بسی کا بیان اور کیجریوال کا ویڈیو۔ دہلی سکریٹریٹ میں پیر کوہوئی اس میٹنگ کے بعد بسی نے کہا کہ پولیس کسی دباؤ میں کام نہیں کرتی۔ وہیں وزیر اعلی کے مطابق دہلی پولیس بے جان ہوگئی ہے۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی ملاقات میں کیا ہوا اس کی مفصل جانکاری دہلی سرکار کے وزیر داخلہ ستیندر جین نے دی۔ میٹنگ میں موجود رہے جین نے بتایا جو اطلاع کیجریوال نے مانگی اسے پولیس کمشنر نے یہ کہتے ہوئے کہ’’ آپ میرے باس نہیں ہیں‘‘ کے انداز میں دینے سے انکار کردیا۔ پولیس کمشنر بسی نے مناکشی کے معاملے میں 5 لاکھ روپے کا معاوضہ دینے کے اشو پر بھی مناکشی جیسی دیگر 500 متاثرین کے رشتے داروں کو بھی معاوضہ دینے کی مانگ کر ڈالی۔ اس پر وزیر اعلی نے کہا کہ آپ اسے اپنے باس (پردھان منتری مودی) کو فہرست سونپیں اور ان سے معاوضہ دلوائیں۔ اس پر بسی نے کہا کہ ان معاملوں کے لئے ان کے پاس وقت نہیں ہے۔ جین کے مطابق وزیر اعلی نے یہ بھی پوچھا کہ بار بار دہلی کے صرف چنندہ پولیس افسران کو ہی ایس ایچ او کیوں بنایا جاتا ہے؟ کیجریوال نے اور بھی جانکاریاں مانگیں۔ خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم کی شکایتوں کی فہرست اور شکایتوں پر کتنے مقدمے درج ہوئے ان معاملوں کی تفصیل بھی دی جائے جو درج نہیں کئے گئے اور جو درج کئے گئے ان کی تازہ پوزیشن کیا ہے؟ موبائل نمبر بیٹ کے ساتھ بیٹ کانسٹیبل کی فہرست ، ایس ایچ او نہ بننے والے انسپکٹروں کی فہرست۔ ادھر پولیس کمشنر نے بتایا کہ وزیر اعلی کے ذریعے دہلی پولیس کو ’’ٹھلا‘‘ کہنے کے اشو کو میٹنگ میں اٹھایاگیا تھا۔ اس طرح کے لفظ کا استعمال دہلی پولیس کے لئے زبردست بے عزتی کی بات ہے۔ بسی نے کہا ہم کسی شخص کے آگے نہیں جھکیں گے۔ اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ جس طرح شارے عام بیحد بے رحمانہ اور دلیری سے مناکشی کا قتل کیا گیا اس سے محفوظ دہلی کے دعوؤں پر سنگین سوال اٹھے ہیں۔ یہی نہیں دیش کی راجدھانی میں جس طرح مسلسل جرائم کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں وہ سبھی کیلئے تشویش کا باعث ہونا چاہئے۔ اگر پولیس کے طریقہ کار میں بہتری کو لیکر دہلی سرکار کے پاس بھی کچھ صلاح یا تجاویز ہیں تو انہیں کیجریوال کو پولیس کمشنر اور لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ سے شیئر کرنا چاہئے لیکن جس طرح عام آدمی پارٹی اور ان کی سرکار اس مسئلے کو سیاسی رنگ دینے اور اس کے ذریعے دہلی پولیس پر اپنا کنٹرول کرنے کی مانگ کو جائز ٹھہرانے میں لگی ہے اس سے حالات کو بہتر کرنے میں شاید کوئی مدد ملے۔ شری کیجریوال کا یہ بیان پوری طرح سیاسی لگتا ہے کہ اگر پی ایم کے پاس وقت نہیں ہے تو وہ پولیس کو انہیں سونپ دیں۔ کیا کیجریوال کو پتہ ہیں کہ دہلی پولیس کے کام کاج پر نظر رکھنے کیلئے مرکزی وزیر داخلہ اور داخلہ سکریٹری اور لیفٹیننٹ گورنر موجود ہیں؟ اگر عام آدمی پارٹی کے لفظوں میں فی الحال مودی کی پولیس ہے بھی تو اسے کیجریوال کی پولیس بنا دینا کوئی حل نہیں ہے۔
(انل نریندر)

ایسے وحشی درندے سچے مسلمان نہیں ہوسکتے

اسلام میں رمضان کے مہینے کو اسلامی کلنڈر کے دیگر سبھی مہینوں کی بہ نسبت سب سے زیادہ مقدس مانا جاتا ہے۔ رمضان ماہ کے تقدس کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام کا سب سے مقدس اور اہم کتاب یعنی ’’قرآن‘‘ اسی ماہ میں نازل ہوا تھا لیکن انسانیت کے دشمن اور ان خودساختہ مسلمانوں نے اس مقدس مہینے کو بھی اپنے وحشیانہ نظریئے کا شکار بنانے سے نہیں بخشا۔ میں بات کررہا ہوں خطرناک آتنک وادی تنظیم اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) کی ۔ آئی ایس کو عراق اور شام کے بڑے علاقے پرکنٹرول کئے ہوئے ایک برس ہوچکا ہے۔ اس دوران خود کو مسلمان بتانے والے اور اسلام کے نام پر لڑنے والے آئی ایس لڑاکو نے اپنے مبینہ خودساختہ خلیفہ ابو بکر البغدادی کی قیادت میں دہشت کا بدترین اور وحشی پن کی وہ تاریخ رقم کی ہے جس نے دنیا کے اب تک کے دہشت گردی کے سبھی ریکارڈوں کو توڑدیا ہے۔ یہ نہ تو سچے مسلمان ہیں اور نہ ہی یہ اسلام کی خاطر لڑ رہے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ عید کے دن بھی سینکڑوں کا قتل نہ کرتے۔ آئی ایس نے عراق کے شیعہ اکثریتی صوبے میں عید کے جشن کو ماتم میں بدل دیا۔ صوبے کے بھیڑ بھاڑ والے شہر میں دہشت گردوں نے دھماکوں سے بھرا ٹرک اڑادیا جس میں115 لوگوں کی موت ہوگئی۔ تقریباً پونے دو سو لوگ زخمی ہوگئے۔ اسے دہائی کا سب سے بڑا حملہ بتایا جارہا ہے۔ عید کے دن ہوئی اس واردات سے تمام اسلامی ملکوں میں غصہ اور ناراضگی ہے۔ ذرا مقدس رمضان کے مہینے میں ان آئی ایس آتنک وادیوں کا اسکور کارڈ تو دیکھئے۔ رمضان کے مہینے میں314 آتنکی حملے ہوئے اور 163 خودکشی حملے کئے گئے۔2988 لوگوں کو موت کے گھاٹ ان حملوں کے ذریعے اتارا گیا اور 3696 بے قصور مسلمان زخمی ہوئے۔ کیا یہ وحشی مسلمان ہیں؟ کیا یہ اسلام کی لڑائی لڑ رہے ہیں؟ خود کو مسلمان بتانے والے اور اپنی آئیڈیالوجی کے علاوہ دیگر لوگوں کو جہنمی یا نرک بھوگنے کا حقدار بتانے والے ان راکھشسوں نے قتل عام، اغوا، زر فدیہ ، آبروریزی اور اجتماعی آبروریزی جیسے کئی گھناؤنے کام انجام دئے اور دیتے جارہے ہیں۔ جن کا اسلام اور انسانیت سے دور دور کو کوئی واستہ نہیں ہے۔ لیکن سوچی سمجھی بین الاقوامی سازش کے تحت آئی ایس کے دہشت گرد اپنی طاقت اور پیسے کے بل پر نہ صرف آئے دن دہشت کا نئے سے نیا گھناؤنا جرم کرتے جارہے ہیں بلکہ خوف اور دہشت پھیلانے کی حکمت عملی کو اپنی کامیابی کا اہم ہتھیار سمجھتے ہوئے ایسی کئی دہشت ناک واردات کے ویڈیو اور ان کی تصاویر بھی مختلف ذرائع کے ذریعے شائع کررہے ہیں۔ غور طلب ہے کہ آئی ایس نے عراق کے اقلیتی فرقے یزیدی فرقے کی سینکڑوں لڑکیوں کا اغوا کر انہیں اپنی قید میں رکھا ہوا ہے۔ انہیں بطور جنسی تسکین استعمال کررہے ہیں۔ غور کرنے کا موضوع یہ ہے کہ جس اسلام میں خواتین کو بے پردہ دیکھنے تک کی مردوں کو اجازت نہ ہو اس اسلام کے خود کو پیروکار کہنے والے مظلوم و نہتی لڑکیوں سے ایسا سلوک کریں تو یہ کونسے اسلام کی بات کرتے ہیں۔ انہیں تو اپنے آپ کو مسلمان کہنے کا بھی حق نہیں ہے۔
(انل نریندر)

22 جولائی 2015

بربریت کی نئی حدیں ہی طے ہورہی ہیں

آنند پربت علاقے میں شارے عام ایک لڑکی مناکشی کو جس بے رحمی سے قتل کردیا گیا اس سے جہاں دہلی میں لا اینڈ آرڈر پر سوالیہ نشان تو لگتا ہی ہے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی سوال اٹھتا ہے کہ ملزمان کو کسی سے ڈر نہیں لگتا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ دہلی میں بدمعاشوں کے حوصلے بلند ہیں اور انہیں اب کسی کا بھی ڈر نہیں رہا۔ آنند پربت کی واردات کو جس طریقے سے انجام دیاگیا وہ ملزمان کی بربریت کی ایک اور مثال ہے۔مناکشی عرف الکا کے رشتے داروں نے 10 اکتوبر 2013 ء کو آنند پربت تھانے میں ایس ایچ او اور 15 اکتوبر 2013 ء کو سینٹرل ڈسٹرکٹ ڈپٹی کمشنر کو ایک تحریری شکایت میں صاف لکھا ہے کہ اس کے پڑوس میں رہنے والے جوگی کی بیوی ششی بالا اور اس کے بیٹے ایلواور سنی ان کی بیٹی الکا کے ساتھ گالی گلوچ کرتے ہیں، تیزاب پھینکنے کی دھمکی دیتے ہیں، ان کے ساتھ مار پیٹ بھی کی گئی، الکا کا خاندان امن پسند ہے۔ پڑوس میں رہنے والے ان جرائم پیشہ ذہنیت کے ان لوگوں کے گھر بدمعاشوں اور غنڈوں کا آناجانا ہے۔اس کے بعد پولیس نے دونوں ملزمان بھائیوں کے خلاف چھیڑ خانی کا معاملہ درج کرلیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ پولیس اور لوگوں نے بتایاکہ جب مناکشی شام کو بازار سے لوٹ رہی تھی تو ایلو اور سنی نے بڑی بے رحمی سے مناکشی کے چہرے ، سینے اور پیٹ میں چاقوؤں سے تابڑ توڑ قریب 35 بار حملہ کیا۔ بتایا جاتا ہے دونوں ملزم بھائیوں نے بازار گئی مناکشی کا پیچھا کیا۔ 
بچنے کے لئے مناکشی ایک عمارت کی بالکنی میں آگئی لیکن دونوں لڑکوں نے اسے وہاں دبوچ لیا اور اس پر چاقوسے تب تک حملے کئے جب تک وہ بے ہوش نہیں ہوگی۔ مناکشی کو بچانے آئی اس کی ماں کو بھی نہیں بخشا گیا اور اس پر بھی حملے کئے گئے۔ یہ واردات بگڑتے قانون و نظم کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کے گرتے معیار کی بھی جیتی جاگتی مثال ہے۔ ایک ماں اپنے بچوں کو اچھی عادتیں سکھاتی ہے لیکن جب ماں ہی کسی غلط کام میں اپنے بچوں کے ساتھ شامل ہو تو سمجھا جاسکتا ہے کہ سماجی نظام کا تانا بانا کس طرح سے بکھر گیا ہے۔ حیرانی اور دکھ کی بات یہ بھی ہے کہ دہلی والوں میں اتنی انسانیت نہیں بچی کہ وہ ایک لڑکی کا اس طرح سے بربریت آمیز قتل ہوتے دیکھتے رہے لیکن بچانے کے لئے ایک بھی شخص آگے نہیں آیا۔ یہی تو وجہ ہے کہ جرائم پیشہ کھلے عام جرائم کرتے ہیں اور صاف نکل جاتے ہیں کوئی انہیں روکنے والا نہیں۔ پولیس ہر وقت واردات کی جگہ نہیں ہوسکتی۔ کچھ تو سہارا جنتا کو بھی دینا پڑے گا۔ ویسے چونکانے والی حقیقت یہ بھی ہے کہ اب ان جرائم پیشہ کو پولیس کا ڈر نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے کچھ دنوں میں پولیس والوں کو بھی بدمعاشوں نے نشانہ بنایا۔ جہاں پولیس کا خوف پھر سے پیدا کرنا ہوگا وہیں ہماری عدالتوں کو ان جرائم پیشہ افراد سے سخت برتاؤ کرنا چاہئے۔ پولیس گرفتار کرلیتی ہے اور عدالتیں انہیں آسانی سے ضمانت دے دیتی ہیں تاکہ وہ پھر سے جرائم کریں ۔ سارا کا سارا ڈھانچہ ہی بگڑا ہوا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ دہلی کو محفوظ کیسے بنائیں؟
(انل نریندر)

نر پیندر مشر ابنام چمت رائے!

شری رام جنم بھومی ٹرسٹ میں چھڑا دے کو لیکر کی گئی چوری کے تنازعہ میں ایک نیا موڑ آگیا ہے ۔ رام مندر ٹرسٹ سے استعفی کے بعد چمت رائے کا ایک نو...