Translater

06 دسمبر 2014

سابقہ چیف انجینئر یادوسنگھ کی ڈائری سے افسروں و بلڈروں کی نیند اڑی!

نوئیڈا گریٹر نوئیڈا و جمنا ڈولپمنٹ اتھارٹی کے سابق چیف انجینئریادو سنگھ پر انکم ٹیکس محکمے کا شکنجہ کسنے کے بعداب شہر کے کچھ افسروں بلڈروں کی نیند اڑنا فطری ہے۔اونچے رسوخ کے چلتے طویل عرصے تک تعیناتی اور تقرری کے بعد پھر سے غازی آباد میں لوٹ آنا ، غلط فیصلے لینا اور سنگین بے ضابطگیوں کی وجہ سے کچھ افسر ہمیشہ تنازعے میں رہے ہیں۔ کچھ کو سی بی آئی جانچ کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ ذرائع کی مانیں تو چیف انجینئر یادو سنگھ معاملے میں انکم ٹیکس محکمے کی کارروائی سے ضلع انتظامیہ ، جی ڈی اے ،نگرپالیکا، بجلی محکمہ،ہاؤسنگ کاؤنسل، پولیس وغیرہ محکمے کے کئی ملازم اور ریٹائرڈ افسرو ں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ ادھر خبر ہے یادو سنگھ کے کالے کرتوت کی ڈائری بھی سامنے آئی ہے۔ پیر کے روز لاکر سے برآمد ہوئی اس ڈائری میں یادو سنگھ کی تعیناتی و بحالی فرش سے عرش تک پہنچنے کی پوری داستان درج ہے۔اس میں ان کے مددگار افسروں اور نیتاؤں کے نام بھی درج ہیں جو ملائی کھاکر اسے ملائی دار پوسٹنگ دلاتے رہے ہیں۔ انکم ٹیکس کے افسروں نے پیر کو پوری رات اس ڈائری کے سلسلے میں یادو سنگھ اور ان کی اہلیہ کسم لتا سے پوچھ تاچھ کی تھی۔ اس سے پہلے یادو سنگھ کے گھر سے بھی ایک ڈائری برآمد ہوئی جس میں کالی کمائی میں کمیشن کہاں کہاں جاتا تھایہ سب کچھ درج ہے۔پیر کو انکم ٹیکس محکمے کے افسروں نے یادو سنگھ کے سامنے ہی دہلی میں ایک لاکر کھولا تھا۔ اس لاکر سے کاروباری دستاویز کے ساتھ ہی ڈائری برآمد ہوئی تھی۔ اس ڈائری کو پڑھ کر افسر حیرت میں پڑ گئے۔ ڈائری میں لکھنؤ سے لیکر دہلی تک کی سیاست کرنے والے کچھ بڑے لیڈروں اور افسروں کے بارے میں رام کتھا درج ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نیتا اور افسروں نے یادو سنگھ کی بحالی کرنے اور کمائی والے عہدوں پر تقرری کرنے ، کب اور کتنے سروس ٹیکس کی وصولی کی ہے یہ سب درج ہے۔ ہزار کروڑ کے بادشاہ یادو سنگھ نے کالی کمائی کے لئے اپنے بیٹے کا سر نیم تک بدل ڈالا تاکہ بیٹے کی گریٹر نوئیڈا اتھارٹی میں پوسٹنگ میں کسی طرح کی دقت نہ ہو۔ یادو سنگھ کا بیٹا گرینو اتھارٹی میں ایک ملائی دار عہدے پر مقرر ہے۔ اس کا نام یادو سنگھ کے سر نیم سے الگ ہے یعنی یادو سنگھ کے سر نیم میں الگ سنی یادو ہے۔ یادو سنگھ کی کالی کمائی بڑھانے میں شہر کے کئی بڑے بلڈر بھی شامل ہیں جنہوں نے موٹا پیسہ کھلا کر سستے داموں پر یادو سنگھ سے زمین الاٹ کرائی ۔اس سے جڑے کچھ دستاویز بھی ملے ہیں۔ ذرائع نے بتایا چھاپہ ماری کے دوران قریب12 بوروں میں فائلیں رکھی گئی تھیں جن میں زیادہ تر فائلیں بلڈروں کی زمین الاٹمنٹ سے متعلق ہیں۔ یادو سنگھ پرمنی لانڈرنگ کا بھی شکنجہ کس سکتا ہے۔ اس معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ یادو سنگھ کے خلاف منی لانڈرنگ روک تھام قانون کے تحت مقدمہ درج کرنے کی تیاری میں ہے۔ انکم ٹیکس محکمے کی ٹیم کا یادو سنگھ پر شکنجہ کسنے سے بہت سے افسروں کی نیند حرام ہوگئی ہے۔ دیکھیں آگے چل کر کیا کیا چونکانے والے انکشافات سامنے آتے ہیں۔
(انل نریندر)

باباؤں اور ان کے ڈیروں کا معاملہ!

پچھلے کچھ دنوں سے خود ساختہ باباؤں اور ان کے ڈیروں و ان کی سرگرمیاں میڈیامیں چھائی ہوئی ہیں۔ دیش کی مختلف عدالتوں میں ریاستوں میں ان کی سرگرمیوں کی بحث چھڑی ہوئی ہے۔ چلئے ان کے بارے میں بتاتے ہیں۔نابالغ سے بدفعلی کے معاملے میں سوا سال سے جیل میں بندبابا باپو آسا رام کو سپریم کورٹ سے فی الحال کوئی راحت نہیں ملی ہے۔ جسٹس ٹی ۔ایس ٹھاکر کی رہنمائی والی بنچ نے انتم ضمانت کیلئے عرضی کی سماعت ٹالتے ہوئے آسا رام کو میڈیکل بنیاد پر ضمانت دینے سے انکارکردیا ہے۔ انہیں خاص رعایت نہیں دی جاسکتی۔ راجستھان کی جیل میں بند آسا رام نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرکے صحت خراب ہونے کی بنیاد پر ضمانت مانگی تھی۔ پنجاب ۔ ہریانہ ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے ایک مفاد عامہ کی عرضی کیشکل میں داخل کرنے پرکہا تھا کہ سرسہ کے ڈیرا سچا سودا میں ہتھیاروں کی ٹریننگ دی جارہی ہے۔حصار کے ستلوک آشرم میں ہتھیار ملنے کے بعد ہائی کورٹ کو ڈیرا سچا سودا میں ہتھیاروں کی ٹریننگ کی جانکاری دیتے ہوئے فوج کی انٹیلی جنس کی طرف سے ایک ایڈوائزری پیش کی تھی۔ اے سکس کیوٹی نے سبھی ڈیروں کی جانچ کی صلاح بھی دی تھی جسے ہائی کورٹ نے منظور کرلیا تھا۔ ڈیرا سچا سودا سے متعلق رپورٹ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پیر کے روز ہائی کورٹ نے کہا کہ ڈیروں اور آشرموں کو ہتھیاروں اور بارود کا ڈمپنگ گراؤنڈ نہ بنانے دیا جائے۔ایک دوسرے معاملے میں پنجاب۔ ہریانہ ہائی کورٹ نے پنجاب سرکار کو نور محل میں واقع دویہ جوتی جاگرتی سنستھان کے بانی آشوتوش مہاراج کا 15 دن میں انتم سنسکار کرنے کا حکم دیا ہے۔پیر کو مہاراج کی لاش سونپے جانے کی مانگ سے متعلق عرضی پر فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا کہ پنجاب کے ڈی جی پی کی نگرانی میں ایک کمیٹی بنائی جائے جو انتم سنسکار کا انتظام کرے گی۔ ڈاکٹروں کے ذریعے آشوتوش مہاراج کو مردہ قرار دئے جانے کے بعد سنستھان کے منتظم ان کی موت کو ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے مہاراج جی نے سمادھی لی ہے اور وہ دوبارہ زندہ ہوجائیں گے اس لئے انہوں نے آشوتوش مہاراج کی لاش کو 10 مہینے سے فرج میں رکھا ہوا تھا۔ تب سے ان کی لاش فرج میں ہی ہے۔ آشوتوش مہاراج 26 جنوری منگلوار کی رات کو ساڑھے 12 بجے مراقبے میں بیٹھے تھے۔ انہوں نے سانس لینے میں کچھ دقت ظاہر کی تو ڈیرہ منتظمین نے فوراً ڈاکٹروں کی ٹیم کو بلایا جنہوں نے رات کو قریب ڈھائی بجے تک ان کی جانچ کی۔ ان کی نبض اور دل کی دھڑکن بند تھی۔ آخر میں ڈاکٹروں نے مہاراج کو متوفی اعلان کردیا۔ 11 دنوں کی پولیس ریمانڈ پر چل رہے ستلوک آشرم کے رامپال سے پولیس آشرم سے جڑے سچ اور ثبوت اکٹھا کررہی ہے۔ کل ملاکر سارے باباؤں کے ستارے گردش میں چل رہے ہیں اور ان کی چونکانے والی سرگرمیاں اب ابھر کر سامنے آرہی ہیں۔ اگر سارے ڈیروں کی جانچ سختی سے ہوتی ہے تو پتہ نہیں کیا کیا سامنے آتا ہے۔
(انل نریندر)

05 دسمبر 2014

منتری ہو یا سنتری مریاداؤں کی تعمیل کرنی ہوگی!

اپنی ہی سرکار کی ایک وزیر کے متنازعہ الفاظ کی وجہ سے مودی حکومت کی چوطرفہ طور پر کرکری ہوئی۔ پچھلے دو دنوں سے حکمراں اور اپوزیشن میں غذا اور پروسسنگ وزیر مملکت سادھوی نرنجن جوتی کے متنازعہ بیان پرجم کر ہنگامہ چل رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں سادھوی نرنجن جوتی کے استعفے پر اڑی ہوئی ہیں جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے آج راجیہ سبھا میں اپنی طرف سے سرکار کا موقف رکھتے ہوئے ممبران پارلیمنٹ اور وزرا کو سخت نصیحت دی ہے اور ان کا کہنا ہے اب یہ معاملہ ختم ہوجانا چاہئے۔ہوا یوں وزیرمملکت سادھوی نے پیر کے روز دہلی اسمبلی کیلئے چناؤ کمپین کرتے ہوئے ایک ریلی میں لوگوں سے رام زادوں اور حرام زادوں میں سے ایک کو چننے کا متنازعہ بیان دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا دہلی اسمبلی چناؤ میں رائے دہندگان کو طے کرنا ہے کہ وہ رام زادوں کی سرکار بنائیں گے یا حرام زادوں کی؟ سادھوی نے اپنے اس بیان میں اپوزیشن کو بیٹھے بٹھائے ایک اشو دے دیا ہے جس سے سرکار کی کرکری ہوئی ہے۔خود وزیر اعظم بھی بھاجپا پارلیمانی پارٹی میں ان کے بیان کو مسترد کرکے سخت وارننگ دے چکے ہیں اور پارٹی کے بڑبولے لیڈروں کو نصیحت دی کہ وہ بے وجہ بیان دے کر مرکزی سرکار کی کرکری نہ کرائیں۔ مودی نے ایسے بیانات کو تکلیف دہ بتایا ،ساتھ ہی کہا کہ اب میڈیا کے سامنے وہ سرکاری طور پر بیان دیں۔ پچھلے کچھ دنوں سے ہم دیکھ رہے ہیں سیاستداں تہذیب کے دائرے سے باہر نکل کر الٹے سیدھے بیان دے رہے ہیں۔ کسی بھی شخص خاص کر نیتا اور وزیر کو ایسی زبان زیب نہیں دیتی جیسا کہ سادھوی نرنجن جوتی نے اپنے سیاسی حریفوں کے لئے استعمال کی ہے۔ زیادہ پریشانی یہ بھی ہے کہ وہ ایک سادھوی ہیں اور ان سے غیر مہذب الفاظ کی امید نہیں کی جاتی۔ بیشک سادھوی نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اپنے بیان پر افسوس ظاہر کرنے کے ساتھ معافی بھی مانگ لی ہے لیکن اس سے بھاجپا اور سرکار کو جو نقصان ہونا تھا وہ تو ہوہی گیا اس کی وجہ سے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا قیمتی وقت بھی بلا وجہ کی بحث بازی میں ضائع ہوگیا اور ابھی بھی ڈیڈ لاگ برقرار ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ کچھ لیڈر تلخ تیوروں والے ہوتے ہیں اور وہ اپنے سیاسی حریفوں کے خلاف سخت زبان کا استعمال کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں بھدی زبان کا استعمال کرنے کی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ بھاجپا اور مودی سرکار کے لئے بہتر ہوگا کہ وہ اپنی سطح پر یہ یقینی بنائیں کہ مستقبل میں اس طرح کے معاملے سامنے نہ آئیں۔ اگر ایسا ہی ہوتا ہے تو اپوزیشن کو بیٹھے بٹھائے مودی سرکار کی ٹانگ کھینچنے کا جہاں موقعہ ملے گا وہیں سرکار اور بھاجپا کی ساکھ بھی خراب ہوگی۔ اپوزیشن سادھوی کے استعفے پر اڑا ہوا ہے ان کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کرانے کے مطالبے پر بھی اڑیل ہے اور کہا ہے کہ صرف معافی مانگنے سے کام نہیں چلے گا۔ یہ تعطل کیسے ٹوٹے گا یہ منحصر کرتا ہے وزیر اعظم نریندر مودی پر۔ پارلیمنٹ ٹھیک ٹھاک چلے یہ مودی سرکار کا فرض ہے۔ بہتر ہو کہ معاملے کا قابل قبول حل نکال لیا جائے اور سرکار پھر سے پٹری پر آجائے۔
(انل نریندر)

اریب مجیدکی وطن واپسی کہیں کوئی سازش تو نہیں؟

خطرناک آتنکی تنظیم آئی ایس سے جڑنے کے قریب 6 مہینے بعد بھارتیہ شہری اریب مجید کی وطن واپسی کو ہماری سکیورٹی اور خفیہ ایجنسیوں نے سنجیدگی سے لیا ہے تو اس سے سمجھا جاسکتا ہے کہ مجید ان چار لڑکوں میں سے ایک ہے جو شام اور عراق میں جاکر آئی ایس سے جڑے تھے۔ حالانکہ اس دوران ان چاروں لڑکوں کے رشتے داروں نے سکیورٹی ایجنسیوں ،خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ مسلسل تعاون کیا اور اس تال میل کے سبب ہی اریب مجید کی وطن واپسی ہو پائی ہے۔ لیکن این آئی اے کی حراست میں ابتدائی پوچھ تاچھ کے دوران مجید نے لوٹنے کی جووجہ بتائی ہے وہ بہت بھروسے مند نہیں لگتی۔ جو شخص مہینوں تک آئی ایس کی آئیڈیالوجی سے متاثر ہورہا ہو اور جس نے زیادہ سے زیادہ لڑکوں کو اس سے جوڑنے کی کوشش کی ہے، کون مانے گا کہ اس نے کن حالات میں اور کس توقع کی وجہ سے لوٹنے کا فیصلہ کیا ہو؟ جب آئی ایس سے جڑنے کا اسے کوئی افسوس نہیں ہے تب کوئی مانیں بھی کیسے یہ ایک بھٹکے لڑکے کی گھر واپسی ہے۔ اپنے تین دیگر ساتھی انجینئرننگ طلبا کے ساتھ زیارت کے ارادے سے نکلے اریب مجید کی فراری سے لیکر واپسی تک کا واقعہ اتنا مشتبہ اور مضحکہ خیز ہے کہ اس کی جانچ پڑتال ضروری ہے ۔ خاص کر جب اس خطرناک آتنکی تنظیم کے ذریعے بھارت سمیت پورے ساؤتھ ایشیا کو نشانہ بنائے جانے کی خبریں آرہی ہیں۔ پڑوسی پاکستان میں اس کی موجودگی کے پختہ ثبوت ہوں۔ اریب مجید نے پوچھ تاچھ میں انکشاف کیا ہے کہ آئی ایس کوئی مقدس جنگ نہیں لڑ رہی ہے بلکہ اس کی آڑ میں وہ گھناؤنے کام کررہی ہے۔ اس نے جانچ ایجنسیوں کو جانکاری دی ہے کہ وہاں کے لڑاکے جہاد نہیں کررہے ہیں بلکہ وہ تو آبروریزی جیسے کام میں بھی ملوث ہیں۔ این آئی اے کے ایک افسر کے سوال کے جواب میں مجید نے کہا وہاں نہ تو کوئی جہاد ہورہا ہے اور نہ ہی مقدس کتابوں میں لکھی باتوں پر عمل ہورہا ہے۔ آئی ایس لڑاکوں نے وہاں کئی عورتوں سے آبروریزی بھی کی ہے۔ مجید نے یہ بھی بتایا کہ آئی ایس نے اسے کس طرح نظرانداز کیا کہ لڑائی میں حصہ لینے کیلئے بھیجے جانے کے بجائے اس سے ٹوائلٹ کی صفائی کا کام لیا جاتا تھا یا جنگ لڑ رہے لڑکوں کو پانی پلانے کو کہا جاتا تھا۔ بدقسمتی تو یہ ہے دیش کے اندر بھی آئی ایس کے تئیں رغبت کے کچھ اثرات کشمیر وادی سے لیکر اترپردیش ،مغربی بنگال میں ملے ہیں۔ دنیا بھر سے انٹر نیٹ کے ذریعے لڑکوں کی بھرتی اور ٹریننگ کے بعد ان کی پھر اپنے دیش کو واپسی کے واقعات کی مثالیں ہمیں برطانیہ اور دیگر یوروپی ملکوں سے بھی دیکھنے کو ملی ہیں۔ پوری دنیا شش و پنج میں ہے کہ کسی حکمت عملی اور منظم نشانوں کے ساتھ تو انہیں واپس نہیں بھیجا جارہا ہے؟ اریب کے بارے میں تو اس کے ساتھ فرار ساتھیوں نے یہ اطلاع دی تھی کہ وہ شام میں لڑتے ہوئے مارا گیا ہے۔ اب اچانک اس کی واپسی کی گتھی اتنی آسانی سے حل ہوتی نہیں دکھائی پڑتی۔ ہمیں پوری چوکسی برتنی ہوگی۔
(انل نریندر)

04 دسمبر 2014

منک سرکارکی انوکھی پہل کا خیر مقدم ہے!

ہم نے پیر کو ایک ایسا سیاسی نظارہ دیکھا جس کی ہم تعریف کرنے سے گریز نہیں کرسکتے۔تریپورہ میں مارکسوادی قیادت والی منک سرکار نے ریاست کی ترقی میں سیاست سے اوپر اٹھنے کی ایک اچھی مثال پیش کی ہے۔جب انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ریاست آنے کی دعوت دی اور کہا وہ ان کی کیبنٹ کے ممبروں اور ممبران اسمبلی کو اگرتلہ میں خطاب کریں اور انہیں ’گوڈ گورننس‘ کا پاٹ پڑھائیں۔بتاتے چلیں کہ کمیونسٹوں کا آخری قلعہ بچا ہے تریپورہ میں۔ ساؤتھ میں واقع تریپورہ میں وزیر اعظم کو لیفٹ وزیر اعلی کے ذریعے دعوت دینے کی مثال بھارت کی سیاست میں نئی روایت ہے۔ نظریاتی طور سے بھاجپااور مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی دو بالکل الگ بلکہ مسلسل حریف نظریات رکھنے والی پارٹی ہیں۔ مرکز کی بھاجپا حکومت کے کچھ قدموں کے خلاف تریپورہ کے وزیر اعلی منک سرکار نے خاص طور سے سرگرمی دکھائی ہے۔ مثلاً منریگا کو مبینہ طور سے محدود کرنے کی کوششوں کے خلاف وہ سڑکوں پر اترے۔ اس کے باوجود جب وزیر اعظم نریندر مودی بجلی گھر کا افتتاح کرنے تریپورہ گئے تو انہوں نے مناسب سمجھا کہ انہیں اپنے کیبنٹ سے بات چیت کیلئے بلایا جائے۔دیش میں مارکسوادی پارٹی کی سرکار اب صرف تریپورہ میں ہی رہ گئی ہے اور منک سرکار کی یہ پہل آج کے سیاسی ماحول میں الگ ہی معنی رکھتی ہے حالانکہ ایک لیفٹ نظریئے و پارٹی کا وزیر اعلی کا یہ فیصلہ سیاسی طبقے کو ہضم نہیں ہورہا ہے۔ بتایا جاتا ہے دیش بھر میں لیفٹ سیاست کمزور پڑ رہی ہے اور الگ تھلگ پڑنے سے پریشان منک حکومت نے اپنے لئے کوئی الگ سیاسی راستہ تلاش کرنے کی کوشش شروع کردی ہے۔ غور طلب ہے مارکسوادی پارٹی اور بھاجپا کے درمیان سیاسی رشتے کبھی نہیں رہے ہیں۔ دونوں کی سیاست دو نکتوں پر چلتی ہے اور دونوں کے درمیان ہمیشہ چھتیس کا آنکڑا بنا رہتا ہے۔ اس کے باوجود منک سرکار کی یہ پہل بھاجپا کیلئے بھی انوکھی ہے۔وزیر اعلی نے گڈ گورنینس اور سوچھ بھارت مشن سے وابستہ وزیر اعظم کے نظریئے پر براہ راست بات چیت کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ اس سے ایک نئی مثال قائم ہوئی ہے۔ ایسے موقعہ مسلسل ملیں تو سیاسی طور سے اپوزیشن پارٹیوں اور لیڈروں کو ایک دوسرے کے نظریات سمجھنے کا ایک اچھا موقعہ ملے گا۔ مثلاً تریپورہ کی لیفٹ حکومت کو منریگا یا دیگر سماجی فلاحی اسکیموں پر مرکز کے موقف سے شکایت ہے تو اس سے بہتر کیا ہوگا کہ وہ اپنے نقطہ نظر کو سیدھے وزیر اعظم کے سامنے رکھیں؟ اس لئے اپنی ایمانداری اور سادگی کے لئے مشہور منک سرکار کی اس پہل نے سارے ملک کی توجہ اپنی طرف مرکوز کی ہے۔ دراصل یہ ایک ایسا قدم ہے جس سے مرکز اور ریاستی تعلقات کو ٹھیک ٹھاک بنانے کی سمت میں ایک اہم شروعات ہوسکتی ہے۔ سیاسی اختلافات کی وجہ سے مرکز اور ریاستی حکومت کا اکثر ٹکڑاؤ بنا رہتا ہے۔ خاص کر جب مرکز اور ریاستوں میں الگ الگ آئیڈیالوجی کی حکومتیں ہوں۔ منک سرکار نے یہ ثابت کردیا ہے کہ سب سے زیادہ اہم ہے ریاست کی ترقی اور اس کے لئے وہ پارٹی کی روایت ،آئیڈیالوجی سے اوپر اٹھنے کو تیار ہے۔اس پہل کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

مسلسل کرکٹ شخصیات کی موت پر کرکٹ کی سلامتی پر بحث میں تیزی!

آسٹریلیا کے نوجوان بلے باز فلپ ہیوز کی ایک باؤنسر لگنے سے ہوئی موت کو ابھی کرکٹ دنیا بھلا نہیں پائی تھی کہ اسرائیلی کرکٹ ٹیم کے سابق نائب کپتان اور انٹرنیشنل امپائر ہلیل آسکر کی ایک میچ کے دوران سینے میں گیند لگنے سے موت ہوگئی جس سے ساری کرکٹ دنیا صدمے میں ہے۔ اس حادثے کے بعد کرکٹ کھلاڑیوں و امپائروں و کرکٹ شائقین میں ایک طرف ان کی سلامتی اور دوسری طرف باؤنسروں پرپابندی لگانے پر بحث چھڑ گئی ہے۔ ہندوستانی نژاد 55 سالہ آسکر اسرائیل کے ساحلی شہر ایشوداد میں منعقدہ ایک مقامی میچ میں امپائرننگ کررہے تھے اسی دوران بلے بازنے تیز گیند باز کی گیند پر ایک شارٹ لگایااور بال سیدھی نان اسٹرائیکر پر لگے اسٹم سے ٹکراکر امپائرننگ کررہے آسکر کے سینے میں جالگی، جس سے وہ زمین پر گر پڑے اور انہیں دل کا دورہ پڑ گیا۔ آسکر کو فوراً ہسپتال لے جایاگیا وہاں ان کی موت ہوگئی۔اس سے کھلاڑیوں و امپائروں کی سلامتی پر نئے سرے سے بحث چھڑ گئی ہے۔ جہاں تک باؤنسر گیندوں پر پابندی لگانے کا سوال ہے زیادہ تر کھلاڑیوں کا خیال ہے ایسی کوئی پابندی نہیں لگنی چاہئے۔ اس سے کرکٹ بے جان ہوجائے گا۔ ساؤتھ افریقہ کے سینئر تیز گیند باز ایلن ڈونالڈ نے کرکٹ کے اعلی حکام سے باؤنسر پر پابندی نہ لگانے کی اپیل کی ہے۔ اب ساؤتھ افریقہ کے گیند بازکوچ کا کردار نبھا رہے ڈونلڈ نے ایک اخبار سے بات چیت میں کہا یہ واقعہ ایک اتفاقی تھا اور اسے کرکٹ حکام کو کوئی سخت فیصلہ نہیں لینا چاہئے۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے امید ہے فل ہیوز کی دل دہلانے والے واقعے سے کھیلوں کے اعلی افسر یہ نہیں سوچیں گے کھیل کو محفوظ بنانے کا ایک محض طریقہ باؤنسر پر پابندی قائم کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے اگر باؤنسر کو کھیل سے ہٹا دیا جاتا ہے تو گیند اور بلے کے درمیان کوئی مقابلہ نہیں رہ جائیگا۔ تیز گیند باز اپنے باؤنسر کا استعمال بلے باز کو ڈرانے کیلئے کرتا ہے۔ اس سے بلے باز کو پیغام بھیجتا ہے اور اسے سوچنے کے لئے مجبور کرتا ہے اس سے اس کے ٹیلنٹ کا بھی امتحان ہوتا ہے۔ آسٹریلیا کے سابق کرکٹر جیاف لاسن کا خیال ہے کہ کرکٹ میں پھر سے جارحیت لوٹ آئے گی۔ حالانکہ انہوں نے ہیوز کی موت کے بعد پاکستان اور نیوزی لینڈ کے گیند بازوں کی شارجہ ٹیسٹ کے دوسرے دن باؤنسر نہ پھینکنے والے فیصلے کی تعریف کی ہے۔ ادھر آسٹریلیائی کرکٹ کپتان مائیکل کلارک نے 22 سالہ گیند باز سین ایبٹ کی پوری حمایت کی ہے۔ ایبٹ کی باؤنسر بال پر فل ہیوز کی موت ہوئی تھی، تب سے ایبٹ صدمے میں ہے اور ان کی دماغی کاؤنسلنگ کی جارہی ہے۔ کلارک کے مطابق کوئی بھی ایبٹ کو قصوروار نہیں مانتا اور پوری آسٹریلیائی ٹیم اس کے ساتھ ہے اور میدان میں دوبارہ لوٹنے کے لئے ہم اس کی پوری حمایت کریں گے۔ اس ایک حادثے نے ایبٹ کی پوری زندگی کو ہی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بس یہ ایک حادثہ ہی تھا اور اس پورے حادثے کیلئے ایبٹ کو ذمہ دار نہیں مانا جاسکتا۔
(انل نریندر)

03 دسمبر 2014

رشتے داری سے لکھی جائے گی سیاسی کہانی!

سماجوادی چیف ملائم سنگھ یادو جب جمعہ کو پارلیمنٹ پہنچے تو اخبار نویسوں سے ان کے پوتے اور لالو پرساد یادو کی صاحبزادی کی شادی کی خبر پر سوال کر ڈالا۔ نیتا جی کچھ نہیں بولے، بس مسکرا کر رہ گئے۔ ان کی مسکراہٹ میں بنتے رشتے کی چمک صاف دکھائی دے رہی تھی۔ ان کے بغل میں کھڑے ایک سینئر لیڈر جنتا دل (یو) نے چٹکی لی، ’دو یادو مل رہے ہیں مگر چپکے چپکے‘ دراصل خبر آئی ہے کہ ملائم سنگھ یادو کے پوتے تیج پرتاپ اور لالو کی بیٹی راج لکشمی کی شادی ہوسکتی ہے۔ہندوستانی سیاست کے دو دھرندر یادو جلد ہی سمدھی بن جائیں گے۔ دونوں کی رشتے داری پر16 دسمبر کو مہر لگ جائے گی۔ دونوں خاندانوں کے درمیان رشتے داری کا پہلا خیال وزیر اعلی اکھلیش یادو کے دل میں آیا تھا۔ رشتے کی بنیاد غازی آباد کے ایک لیڈر و لالو پرساد یادو کے رشتے دار نے رکھی تھی۔ 27 سالہ تیج پرتاپ سنگھ سپا چیف کے سب سے چہیتے کنبہ جاتی افراد میں شمار کئے جاتے ہیں اس لئے مین پوری پارلیمانی سیٹ سے استعفیٰ دینے کے بعد ملائم سنگھ نے تیج کو ہی اپنے جانشین کے طور پر چناؤ میدان میں اتارا اور وہ ملائم کے بڑے بھائی سورگیہ رتن سنگھ کے پوتے اور سفئی کے سابق بلاک پرمکھ سورگیہ رنویر سنگھ کے صاحبزادے ہیں۔ کچھ وقت سے لالو کو لیکر ملائم کا لہجہ بھی کافی نرم دکھائی پڑ رہا ہے۔3 نومبر کو اپنے سیاسی گورو چودھری نتھو سنگھ کی جینتی پر سپا چیف نے چارہ گھوٹالے میں لالو کے جیل جانے پر بھی افسوس جتایا تھا۔ خاندان کے ذرائع کے مطابق1977 میں بھی لالو اپنے خاندان کا رشتہ ملائم خاندان سے جوڑنا چاہتے تھے لیکن تب کسی وجہ سے بات نہیں بن پائی تھی۔ پارلیمنٹ سیشن میں شامل ہونے آئے ایم پی تیج پرتاپ یادو نے دہلی میں اس رشتے کی تصدیق کی اور کہا ابھی سگائی کی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے۔ حالانکہ ذرائع کا کہنا ہے16 دسمبر کو یہ سگائی ہونے والی ہے اور فروری میں کسی وقت شادی ہونا طے ہے۔عدم استحکام کے سیاسی دور میں ملائم اور لالو دونوں کا ٹارگیٹ یادو برادری کا سب سے بڑا لیڈر بننے کیلئے قومی سطح پر خود کی موجودگی درج کرانا تھا۔1996ء میں جب دیو گوڑا کے ہٹنے کے بعد ملائم سنگھ یادو اور جوتی بسو پی ایم بننے کی دوڑ میں آئے تو صرف لالو پرساد کے ویٹو کی وجہ سے ملائم سنگھ پی ایم نہیں بن پائے۔ یہیں سے دونوں کی سیاسی راہیں الگ الگ ہوگئی تھیں۔ ملائم اور لالو کے درمیان رشتے داری ہوجانے سے دونوں کو کڑوی یادیں بھلانے کا موقعہ مل جائے گا۔ دونوں کنبوں کے بیچ رشتے کے فیصلے سے ہی سیاسی حلقوں میں اس بات کی بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا سابق جنتا دل پریوار متحد ہوگا؟ لالو اور ملائم اگر ایک ساتھ آتے ہیں تو سیاست میں اس کے خاص اثرات ہوسکتے ہیں۔ دونوں خاندان بہار۔ اترپردیش میں اپنا خاص مقام رکھتے ہیں اور اس سے دیش کی سیاست بھی نئی کرونٹ لے سکتی ہے۔ حالانکہ لالو پرساد یادو اور ان کی پارٹی کی بہار میں اب وہ پوزیشن نہیں رہ گئی ہے جو ملائم کی پارٹی سپا کی اترپردیش میں ہے۔ اس کے باوجود ابھی بہار کی سیاست میں آر جے ڈی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
(انل نریندر)

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...