Translater
09 مئی 2023
جنتر منتر پر دنگل جاری!
سپریم کورٹ نے احتجاجی پہلوانوں کی عرضی پر سماعت یہ کہتے ہوئے بند کردی کہ انہیں سیکورٹی دے دی گئی ہے جنہوںنے برج بھوشن کے خلاف جنسی اذیت کے الزامات لگائے ہیں۔ عدالت نے آگے کہا کہ اس پر ایک ایف آئی آر درج بھی ہو چکی ہے ۔ عرضی گزاروں کو اس پر آگے کی کاروائی کیلئے ہائی کورٹ یا نچلی عدالت میں جانا چاہئے ۔ جمعرات کو جب یہ فیصلہ آیا اسی رات کو پہلوانوں کے ساتھ دہلی پولیس کی جھڑپیں بھی ہوئیں اس میں کئی پہلوانوںکو چوٹیں بھی آئیں دہلی پولیس کا دعویٰ ہے کہ پہلوانوں نے الزامات سے متعلق کوئی ثبوت نہیں دیا ہے ۔ لیکن انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس نے اپنی ایک رپورٹ میں انڈین کشتی فیڈریشن کے صدر برج بھوشن سنگھ پر لگے جنسی اذیتوں کے الزامات کی تفصیل شائع کی ہے ۔ روپورٹ کے مطابق برج بھوشن شرن سنگھ پر الزامات لگانے والی سات میں سے دو خاتون پہلوانوں نے پولیس کودی گئی شکایت میں کئی بار جنسی استحصال کئے جانے کا بھی ذکر کیا ہے ۔اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ شکایتیں 21اپریل کو دہلی کے کناٹ پلیس پولیس اسٹیشن میں دی گئی تھیں ۔ ان میں سے کم سے کم آٹھ واقعات کا ذکر ہے ۔ شکایت کنندگان نے دعویٰ کیا ہے کہ برج بھوشن شرن سنگھ نے ان کی سانس پرکھنے کے بہانے انہیں غلط طریقے سے چھوا اور جنسی اذیت پہچائی ۔ شکایت کنندگان کا کہنا ہے کہ ان واقعات کی وجہ ان جنسی و ذہنی استحصال ہوا ۔ اپنی شکایت میں ایک خاتون پہلوان نے بھوشن سنگھ پر کم سے کم پانچ الگ الگ موقعوںپر جنسی چھیڑ چھاڑ کے الزامات لگائے ہیں۔ ایک واقعہ 2016کے ایک ٹورنامنٹ کے دوران کا ہے جب ایک ریستو راں میں مبینہ طور پر برج بھوشن سنگھ نے ایک لیڈی پہلوان کو بلاکر غلط طریقے سے اس کی چھاتی اور پیٹ کو چھوا تھا ۔اپنی شکایت میں لیڈی پہلوان نے کہا کہ وہ اس حرکت کے بعد دو دن تک کھانا نہیں کھا پائی اور اس کی وجہ سے اس نیند خراب ہوئی تھی اور وہ ٹینشن میں آ گئی ۔خاتون پہلوان کا الزام ہے کہ بھوشن سنگھ نے 21اشوک روڈ پر اپنے بنگلے پر بلایا اور اسے غلط طریقے سے چھوا اسی برج بھوشن سنگھ کی پارلیمنٹری رہائش گاہ میں انڈین ریسلنگ فیڈریشن کا دفتر بھی ہے خاتون پہلوانوں نے الزام لگایا کہ پہلے دن برج بھوشن سنگھ نے اس کی رانوں اور کندھوں کو چھوا اور دوسرے دن اس کی چھاتی پیٹ تو وہ یہ کہتے ہوئے غلط طریقے سے چھوا کہ وہ اس کی سانس کی جانچ کر رہے ہیں۔ ایسے الزام کئی پہلوانوں نے بھی لگائے ۔سوال اب یہ ہے کہ اگر ان خاتون پہلوانوںنے ایسے سنگین الزام لگائے ہیں تو پولیس کو ان کی بلاتاخیر جانچ کرے اگر الزامات میں سچائی ہے تو برج بھوشن شرن سنگھ کو فوراً گرفتار کرکے مناسب کاروائی کرنی ہوگی۔ آج جنتر منتر پر بیٹھے پہلوانوں کو ہر طبقے سے حمایت ملتی جا رہی ہے ۔ اس سے پہلے کوئی اور ناگزیں واقعہ رونما ہو مسئلے کا حل نکالنا چاہیے۔
(انل نریندر)
04 مئی 2023
مہاراشٹر میں ایکناتھ شندے سرکار کا مستقبل ؟
ایکناتھ شندے کی قیادت میں شیو سینا میں پچھلے سال ہوئی پھوٹ اور 16ممبران اسمبلی کی اہلیت پر سپریم کورٹ کی آئینی بنچ کے آنے والے فیصلوں کو لیکر قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے ۔ بڑی عدالت کے امکانی فیصلے میں مہاراشٹر کی سیاست میں ایک اور زلزلہ آنے یا آنے کے بارے میں بحث چھڑی ہوئی ہے۔ لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ اپوزیشن لیڈر اجیت پوار سرکار بچانے کیلئے کیا اس کی حمایت کریںگے؟ بحث وزیر اعلیٰ بدلنے اور دل بدل پھر شروع ہونے کو لیکر بھی چل رہی ہے۔ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیو سینا کے لیڈ ر سنجے راو¿ت نے پچھلے دنوں پیش گوئی والے انداز میں کہا کہ یہ سرکار ٹکنے والی نہیں ہے اور اس کا ڈیتھ وارنٹ جاری ہو چکا ہے اب صرف ایک بات طے ہونی ہے کہ اس پرکون دستخط کرتا ہے ۔ اس سے کچھ دن پہلے سجنے واو¿ت نے کہا تھا کہ دل بدل کا دوسرا سیزن پھر شروع ہونے والا ہے ۔ حالاںکہ ایسی پیش گوئی صرف سنجے راو¿ت کی ہی نہیں کئی اور لیڈر بھی ایسا کہہ رہے ہیں۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ سرکار کے کمزور ہونے دعوے کیوں کئے جارہے ہیں؟ اس کے پیچھے دو وجہ بتائی جا رہی ہیں۔ پہلی وجہ موجودہ سرکار کے سامنے موجود قانونی اڑچنیں ہیں اور دوسری وجہ پارٹی لائن سیاست ہے۔ سنجے راو¿ت کے سرکار گرجانے والے بیان کے بعد ان کی ادارت میں چھپ رہے شیو سینا کے ماو¿تھ پیس اخبار سامنا میں منگلوار کو 25اپریل کو ایک اداریہ چھپا جس میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے وزیر اعلیٰ کا عہدہ چھوڑ دیںگے۔ اس اداریہ میں نائب وزیر اعلیٰ دیوندر فڑنویس پر طنز کسا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ بننے کی امید پالے فڑنویس کے ساتھ پچھلی بار جو ہوا لگتا ہے اس سے ابھی تک وہ سنبھل نہیں پائے ہیں اور اب وکھے پاٹل یا اجیت پوار کے نام کا تذکرہ جاری ہے ۔ اداریہ میں لکھا گیا ہے کہ شندے گروپ وزیر اعلیٰ کی کرسی بچانے کیلئے بیتاب ہے وزیر اعلیٰ بدلنے جانے کی امکان کے بارے میں این سی پی کے سینئر لیڈ ر چھگن بجھبل سے جب پوچھا گیا تو انہوںنے بھی اس امکان سے انکار نہیں کیا ۔ان کا کہنا تھا بد قسمتی سے سپریم کورٹ کا فیصلہ اگر شندے کے خلاف گیا تو وزیر اعلیٰ بدلے جا سکتے ہیں لیکن سرکار نہیں کرے گی۔ بجھبل کا کہنا تھا کہ ہمنے اخبار میں پڑھا ہے کہ 16ممبران اسمبلی کی قسمت کا معاملہ سپریم کورٹ میں التویٰ ہے اس میں 16ممبران کے خلاف فیصلہ ہوگا تویہ ہار جائیںگے اور ڈس کوالیفائی ہو جائیںگے یعنی ان کی ممبری چلی جائے گی۔ ان ممبران اسمبلی میں ایکناتھ شندے بھی شامل ہیں اگر وہ ڈس کوالیفائی ہوںگے تووہ وزیر اعلیٰ کی کرسی چھوڑ دیںگے اور اگران کی جگہ نیا وزیر اعلیٰ بنادیا جاتا ہے تو موجودہ حکومت کے پاس 165ممبران کی حمایت بر قرار رہے گی۔ 16کے ڈس کوالیفائی ہونے کے بعد بھی 149ممبر اسمبلی رہ جائیںگے اس لئے وزیر اعلی تو بدلا جائے گالیکن حکومت برقرار رہے گی۔
(انل نریندر)
اروند کیجریوال کا شیش محل !
وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے سی ایم ہاو¿س کے تجدید اور تزئین کاری پر کروڑوں روپے خرچ معاملے نے طول پکڑ لیا ہے ۔ اس مسئلے پر جہاں راج نیواس و دہلی سرکار کے درمیان ٹھن گئی ہے وہیں بھاجپا نے اس اشو کو کیجریوال کو گھیرنے کا من بنا لیا ہے ۔اور بھاجپا کے ذریعے ڈاکٹر ہرش وردھن کی قیادت میں وزیر اعلیٰ کے رہائش گاہ کے قریب بے میعادی بھوک ہڑتال و دھرنا دینے کا فیصلہ کیا لیکن پہلے ہی دن بارش نے کھیل بگاڑ دیا اور وہ دھرنا شروع نہ ہو پایا اور ٹینٹ گڑے کے گڑے رہ گئے۔ بھاجپا کا مطالبہ ہے کہ وزیر اعلی اپنے شیش محل جیسے بنگلے کو میڈیا کے ذریعے سے دہلی کے سبھی شہریوں کو دیکھنے کا موقع دیں ۔ بھا جپا پردیش صدر ویرندر سچدیوا نے کہاکہ دہلی سرکار ایک مبینہ کرپٹ سرکار ہے ۔جو صرف اپنے لیڈروں کے مفادات کی تکمیل اور ووٹ بینک بنانے کیلئے کام کرتی ہے۔اس حکومت نے تعلیمی انقلاب کی بات کی تھیتو وہاں اسکول روم گھوٹالہ کیا اور پبلک ٹرانسپورٹ کی بات کریں تو میٹرو کے چوتھے فیز کو لٹکا دیا اور بس خریدنے میں گھوٹالہ کیا ، ہیلتھ سیکٹر میں کورونا دور تک گھوٹالے کئے اور دہلی کو محلہ کلینک جیسا چھلاوا دیا ۔ اسی طرح مفت بجلی پانی کے نام پر بجلی چھوٹ گھوٹالہ کیا۔ انہوںنے کہا کہ یہ حیرت انگیز ہے کہ اتنے گھوٹالے کرکے بھی وزیر اعلیٰ کا من نہیں بھرا اور انہوںنے اپنے راج محل کی مانند بنگلے کو لیکر بھی ایسے ٹائم میں گھوٹالہ کیاجب دہلی میں کورونا اپنے سنگین شکل میں تھا۔ روزانہ سیکڑوں لوگوں کی جانیں جا رہی تھی۔ ویرندر سچدیوا کا کہناتھا کہ وزیر اعلیٰ اپنے شیش محل کے مانند بنگلے کو میڈیا کے ذریعے سے دہلی کے سبھی شہریوں کو دیکھنے کا مو قع دیں۔ ادھر وزیر اعلیٰ کے رہائش گاہ کے بیوٹی فیکیشن پر کروڑوں خرچ کے معاملے میں راج نیواس اور دہلی سرکار آمنے سامنے ہیں ۔ دہلی کے ایل جی وی کے سکسینہ نے اس معاملے میں نوٹس لیکر حکام کو رہائش گاہ کو خوبصورت بنانے پر ہوئے خرچ کی مکمل ریکارڈ کو محفوظ رکھنے اور 15دن میں رپورٹ دینے کو کہا اس پر دہلی سرکار کی وزیر پی ڈبلیوڈی آتشی نے کہا کہ ایل جی کو بنگلہ خرچ سے متعلق دستاویز جمع کرانے کے حکم کو غیر آئینی قراردیا اور انہوںنے ایل جی وی کے سکسینہ نے دہلی سرکار کو کھلا چیلنج کیا ہے ۔ کہا کہ راج نیواس کے بیوٹی فیکیشن پر محض 15کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ ایل جی کا کہنا تھا کہ راج نیواس سب کیلئے کھلا ہے کوئی بھی آکر دیکھ سکتا ہے ۔ ادھر بھاجپا مسلسل مانگ کر رہی ہے کہ وزیر اعلیٰ کے رہائش گاہ کو دیکھنے کی اجازت کم سے کم میڈیا کو ملنی چاہئے تاکہ اس کے ذریعے عام جنتا دیکھ سکے کہ 45کروڑ روپے کے خرچ سے گھر کو کیسے شیش محل بنایا گیا ہے۔ بنگلے کی مرمت کو لیکر کچھ نئے دستاویزات سامنے آئے ہیں اور بھاجپا نے دعویٰ کیا کہ اس کی تزئین کاری میں سرکاری رہائش گاہ کے آپ پاس اور مکان بھی آ سکتے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت موجودہ سی ایم ہاو¿س کا رقبہ 4.27ایکڑ سے بڑھا کر 7.45ایکڑ کئے جانے کی تیاری ہے ۔اس بارے میں بھاجپا کے ترجمان ہریش کھرانا نے یہ دعویٰ کیا ہے۔
(انل نریندر)
02 مئی 2023
کرناٹک کی کرسی پر کون بیٹھے گا؟
کرناٹک میں چناو¿ کمپین میں مشکل سے دس گیارہ دن بچے ہیں اور سیاسی پارٹیوں میں گھمسان اپنے شباب پر ہے ۔ بی جے پی نے پوری طاقت جھونک دی ہے۔پی ایم مودی ،راجناتھ سنگھ ،امت شاہ ،جے پی نڈا اور کئی دیگر مرکزی وزیر اور پارٹی کے نیتاو¿ں نے چناو¿ کمپین میں اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے ۔ وہیں کانگریس کی طرف سے پرینکاگاندھی واڈرا،ملکارجن کھڑگے ، جے بی ایف کی طرف سے ایچ ڈی دیو گوڑا کمپین کو رفتار دے رہے ہیں۔ زہریلے سانپ اور وش کنیا جیسے الفاظ بھی دیگر اشوز کو ہوا دے رہے ہیں۔ اے بی پی سی ووٹر کے تازہ سروے کے مطابق کرناٹک میں کانگریس نمبر ون ہونے جارہی ہے ۔اور اس کے سروے کے مطابق کانگریس کو 40فیصد ووٹ کے ساتھ اسے 107-119کے درمیان سیٹیں مل سکتیں ہیں۔ جبکہ بی جے پی کا ووٹ شیئر 35فیصد ہے اس کے حصے میں 74سے 86سییٹیں آ سکتی ہےں ۔ جبکہ جے ڈی ایس تیسرنمبر پر 17فیصد ووٹ شیئر کے ساتھ 23سے 25سیٹیں لے سکتی ہے۔ بھاجپا اور کانگریس کے سامنے جو چنوتیاں ہیں وہ ایک دم الگ ہیںدونوں پارٹیوں میں سے کسی کی بھی کوئی غلطی ان کے لئے سانپ اور سیڑھی کا کھیل بن سکتی ہے ۔ چناو¿ کے تیسرے دعویداد جنتا دل سیکولر بھاجپا اور کانگریس میں سے کسی کے لڑکھڑانے کا انتظار کر رہی ہے تاکہ وہ کنگ نہ سہی کنگ میکر تو بن سکے ۔ جے ڈی ایس کی خواہش کی تکمیل اس بات پر منحصر کرتی ہے کہ ریاست کی سیاست کے بڑے دعویداروں یعنی کانگریس اور بی جے پی اپنی چنوتیوں کا سامنا کیسے کرتی ہیں۔ اگربھاجپا یا اس کے ممبر اسمبلی اقتدار مخالف لہر و کرپشن کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں تو کانگریس ایسی زمین پر چل رہی ہے جو پوری طرح محفوظ نہیں ہے ۔ کچھ ہفتے پہلے ریاست کے سامنے جتنے متنازعہ معاملے تھے اب اتنے اشو نہیں بچے ہیں۔ مثال کے طور پر ترمیم شدہ ریزرویشن پالیسی کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا ہے کیوں کہ سپریم کورٹ نے اس پر ناراضگی جتائی ہے ۔ حالاںکہ مرکزی وزیر امت شاہ نے کئی جگہوں پر مسلمانوں کیلئے ریزرویشن کو ختم کرنے کو صحیح ٹھہرایا اور تنازعہ میںپھنسانے کیلئے کانگریس کے سامنے گیند ڈال دی ہے ۔ امت شاہ نے ایک ریلی میں یہ بھی کہا کہ اگر کرناٹک میں کانگریس کی سرکار بن جاتی ہے توریاست میں فرقہ وارانہ جھگڑے ہوں گے ۔ حالاںکہ سیاست تجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ کرناٹک میں فرقہ وارانہ اشو اس وقت انتہا پر ہے ۔ امت شاہ کے علاوہ باقی لیڈروں کے بیانوںمیں اچانک تبدیلی ہونا کافی اہم ہے ۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ ریاست میں تینوں بڑی پارٹیاں بڑی احتیاط کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ 10مئی کو ہونے والا چناو¿ طے کرے گا کہ اگلے پانچ سال تک کرناٹک میں کون راج کرے گا۔
(انل نریندر)
آنند موہن کی رہائی پر واویلا!
سابق ایم پی و بہار کے دبنگ لیڈر آنند موہن کی 15سال بعد رہائی پر نہ صر ف بہار بلکہ پورے دیش بھر میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا ۔ گوپال گنج کے ڈی ایم جی کرشنا قتل کانڈ میں ملی سزا (14سال) سے ڈیڑھ سال سے زیادہ پچھلی اتوار کو سہرسہ جیل سے باہر نکلے سابق ایم پی آنند موہن نے اس بات سے سرے سے انکار کردیا کے حکمراں جماعت نے چناوی فائدے کیلئے قانون بدل کران کو جیل سے چھڑایا؟ یہ بالکل غلط بات ہے ۔ میری رہائی کی مخالفت کرنے والے دو اصل آئین اور کورٹ کو نظر انداز کررہے ہیں اور اس کی توہین کررہے ہیں۔ خیال رہے کہ بھاجپا و جی کرشنیا کا پریوار آنند موہن کی رہائی کی یہی وجہ بتا رہے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کی بنیادی روح ،یکسانیت کے حق پر مبنی ہے یہ خاص اور عام میں کوئی فرق نہیں کرتی ۔ ہر عادمی کو چاہے وہ ہارے کی جان کی قیمت کو ایک مانتی ہے ۔ سب کے لئے ایک ہی طرح کا انصاف اور قانون کی بات کرتی ہے۔ لیکن رسمی طور سے ایسا نہیں کہ کسی ریاست میں کوئی 9سال کی سزا کے بعد چھٹا ہے توکہیں 11یا 16سال میں رہا ہوتا ہے۔ یہ ایک اتفاق نہیں ہے ۔سپریم کورٹ مسلسل ریاستوں کو اس میں یکسانیت لانے کی بات کہتی رہی ہے۔ دراصل گوپال گنج کے ضلع مجسٹریٹ ڈی کرشنیا کے قتل میں پہلے پھانسی پھر عمر قید کی سزا کاٹ رہے آنند موہن کو بہار سرکار نے جیل مینو میں تبدیلی کر رہا کیا ہے۔ سرکار نے سرکاری ملازم کی قتل والی دفعہ کو ہٹا دیا ہے جس میں آنند موہن کی رہا ئی ممکن ہو سکی ہے۔ سرکار لاکھ دلیلیں دے کسی بھی شخص کی رہائی جیل میں اس کے چال چلن اور اس کی ڈسپلن کی بنیاد پر طے ہوتی ہے ۔مگر آنند موہن کی ساکھ ریاست میں کیسی رہی ہے یہ حقیقت دنیا جانتی ہے ۔ یہی وجہ کہ ریاست میں اس مسئلے پر سیاست جم کر ہو رہی ہے۔ نکتہ چینی کرنے والوں کی دلیل ہے کہ بدمعاش سے سیاستداں بنے آنند موہن کی رہائی راجپوت برادری کو خوش کرنے کی کوشش ہے جو برسوں سے ان کی رہائی کی مانگ کررہی تھی ۔ دوسری طرف اپوزیشن پارٹیاں خاص طور سے دلت مفادات کی نمائندگی کرنے والوں نے اس فیصلے پر سخت نکتہ چینی کی ہے ۔ان کا دعویٰ ہے کہ یہ انصاف کرکمزور کرتی ہے ۔ اور ذات پات پر مبنی تشدد کے جرائم پیشہ کو ایک خطرناک پیغام بھی جاتا ہے ۔ آنند موہن کی رہائی نے بہار میں بھی مینڈیٹ کو بھی تقسیم کردیا ہے۔ یہ سماج کے کچھ طبقے اسے صلح اور معافی کی نظر میں ایک قدم مانتے ہوئے ان کی رہائی کی حمایت کررہے ہیں وہیں سچائی اور انصاف کے ساتھ دھوکہ اور دلت برادری کے حقوق کی خلاف ورزی کی شکل میں دیکھتے ہیں ۔یہ مسئلہ کچھ زیادہ ہی پولرائز ہو گیا ہے جس میں سبھی کی سیاست تیور سامنے دکھائی دینے لگے ہیں۔
(انل نریندر)
27 اپریل 2023
بہار میں ریت کی ناجائز کھدائی !
ماحولیات پر نظر رکھنے والی اقوام متحدہ کی انجمن یو این ای پی کے مطابق پانی کے بعد لوگوں کے استعمال میں آنے والا دوسرا قدرتی وسائل ریت اور کنکری ہے ۔دنیا بھر میں ہر سال پچاس بلین ٹن ریت اور کنکری کا استعمال تعمیراتی کام میں ہوتا ہے ۔کچھ دہائی پہلے تک ریت کی کھندائی گھاٹوں کے پاس رہنے والے غریب خاندان کا کام تھا ۔عام طور پر وہی لوگ بیل گاڑیوں اور بگّی پر لاد کر اسے شہر اور قصبات میں فروخت کیا کرتے تھے ۔ٹریکٹر اور ٹرک سے بھی ریت کی خرید نے پر اس کی ڈھلائی اور مزدوری کا یہ خرچ چکانا ہوتا تھا ڈیمانڈ بڑھنے کے ساتھ ہی ریت کی بھی قیمت طے ہونے لگی ہے ۔پھر شروع ہوئی اس پر بالا دستی کی لڑائی ۔واقف کاروں کا دعویٰ ہے بہار میں سرکار کو بھی بڑا منافع نظر آنے لگا ہے اور اس نے ریت کی کھدائی کے پکّے لائسنس اور نیلامی کے ذریعے اسے کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے ۔ریت اب مفت چیز نہ رہ کر پیلا سونا کہلانے لگا ہے ۔اس دھندے میں بڑی بڑی کمپنیاں شامل ہو گئی ہیں ۔حال ہی میں بہار کی راجدھانی پٹنہ کے بہٹا کے علاقے میں کچھ لوگوں نے پولیس اور محکمہ کھدائی کی لیڈی افسر پر حملہ کر دیا ۔حملہ کرنے والے ریت کی ناجائز کھدائی سے جڑے ہوئے بتائے گئے ہیں اور یہ ٹیم ریت کے ناجائز کاروبار کی جانچ کرنے کیلئے پہونچی تھی ۔اس چھاپہ ماری میں پولیس کے 25 جوان سرکاری ٹیم کی مدد کیلئے موجود تھے ۔اور اتنی بڑی ٹیم کی موجودگی میں ریت کی کھدائی کے کاروبار سے جڑے لوگوں نے سرکاری حکام کے ساتھ مارپیٹ کی اور محکمہ کی لیڈی انسپکٹر کو زمین پر گھسیٹ گھسیٹ کر پیٹا ۔دراصل چھاپہ ماروں نے ریت کی ناجائز کھدائی ۔ٹرکوں پر اوور لوڈنگ کے معاملے میں قریب 50 ٹرکوں کو ضبط کیا گیا تھا ۔اسی کے احتجاج میں کئی ٹرک ڈرائیور کنڈکٹر نے پتھر بازی اور ہنگامہ شروع کر دیا ۔بہار میں سون ندی کے ریت کے علاقے میں تعمیرات کے لحاظ سے بہتر مانا جاتا ہے ۔چونکہ اس میں مٹی کی مقدار کم ہوتی ہے اس لئے اس ندی کے ریت کی مانگ بہت زیادہ ہوتی ہے یہ وہار کے علاوہ پڑوسی ریاستوں تک پہونچایا جاتا ہے ۔پٹنہ ،بھوجپور،روہتاش،اورنگ آباد ،سہارن ،ویشالی علاقے میں ریت مافیہ کے حملوں کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں ۔ریت کا ناجائز کاروبار اتنا بڑا ہے کہ کئی بار دو گروپوں کے درمیان کئی گینگ وار ہو چکی ہیں ۔سال 2022-23 میں ریاست میں ریت کے ناجائز کاروبار کے سلسلے میں 4435 ایف آئی آر درج ہو چکی ہیں ۔2439 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور 20 ہزار سے زیادہ گاڑیوں بھی ضبط کی گئی ہیں ۔اب سرکار کو ریت کھدائی میں منافع نظر آنے لگا ہے اور سرکار نے کھدائی پر ٹیکس لگا کر کمائی کا راستہ تلاش کر لیا ہے ۔بہار میں سال 2016 میں شراب پر پابندی لگنے کے بعد سے ریت کی کھدائی سرکار کیلئے بھی مالی محصول کا ایک بڑا ذریعہ بن گیا ہے ۔بہار کے ریت کھدان وزمین دیکھ بھال محکمہ کے مطابق پچھلے مالی سال یعنی 2022-23 میں سرکار نے ریت کے کاروبار میں 2650 کروڑ روپے کی کمائی کی ۔اس میں اینٹ کا کاروبار بھی ایک چھوٹا ساحصہ شامل ہے ۔
(انل نریندر)
پھر دھرنے پر پہلوان!
دیش کے سرکردہ پہلوان بجرنگ پونیا ،ونیش پھوگاٹ ،ساکشی ملک تین ماہ بعد اتوار کو انڈین کشتی فیڈریشن کے چیئرمین برج بھوشن شرن سنگھ کیخلاف پھر جنتر منتر پر دھرنے پر بیٹھ گئے ہیں ۔پہلوانوں کا الزام ہے کہ شکایت کے باوجود پولیس نے جنسی چھیڑ چھاڑ کی ایف آئی آر تک درج نہیں کی ۔پہلوانوں کے مطابق ایک نابالغ سمیت سات خاتون پہلوانوں نے دو دن پہلے کشتی فیڈریشن کے چیئرمین کیخلاف کناٹ پلیس تھانے میں جنسی چھیڑ چھاڑ اور پاسکو ایکٹ کے تحت شکایت درج کرائی تھی ۔متاثرہ پہلوانوں نے ایک نابالغ پہلوان لڑکی بھی ہے اس لئے فوراً کیس درج ہونا چاہئے ۔بجرنگ نے کہا کیس درج ہونے پر وہ اپنا دھرنا ختم کر دیں گے ۔وہیں وزارت کھیل کے ذرائع نے بتایا جانچ کے درمیان میں وزیر یا افسروں کا کسی سے بات چیت کرنا ٹھیک نہیں تھا ۔اس سے جانچ متاثر کرنے کے الزام لگتے ہیں ۔وزارت نے پہلوانون کی ہر بات مانی ان کے کہنے پر ببیتا پھوگاٹ کو کمیٹی میں رکھا گیا ہے ۔کمیٹی نے کہا کھیل وزارت کی جانب سے میریکام کی رہنمائی والی کمیٹی جانچ رپورٹ پبلک نہ کرنے اور برج بھوشن سرن کیخلاف ایف آئی آر درج نہ کرنے کے چلتے انہیں پھرنے سے دھرنے پر بیٹھنے کیلئے مجبور ہونا پڑا ہے ۔پہلوان اس سے پہلے جنوری میں اسی معاملے کو لیکر دھرنے پر بیٹھے تھے۔تب برج بھوشن سنگھ نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا تھا ۔ونیش پھوگاٹ کا کہنا تھا کہ ہم تین مہینے سے جسمانی اذیت کے دور سے گزر رہے ہیں اب خاتون پہلوانوں کے وقار کا سوال بن گیا ہے ۔وزارت اور نگرانی کمیٹی کے افسران فون نہیں اٹھا رہے ہیں ۔وہی بجرنگ پونیا نے کہا کہ ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا ہے ۔کشتی فیڈریشن اب پھر کام کرنے لگی ہے ۔آفس کھل گیا ہے کیڈر نیشنل کشتی چیمپئن شپ برج بھوشن کے گھر میٹنگیں ہو رہی ہیں ۔یہ ہمارے ساتھ دھوکہ ہے ۔پچھلے بار پہلوانوں نے سیاسی پارٹیوں سے مدد نہیں مانگی تھی ۔لیکن اس بار پہلوانوں نے سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں سے سپورٹ مانگی ہے ۔پچھلی بار کہا تھا کہ کسی پولیٹیکل پارٹی کے نیتا کو اسٹیج پر نہیں آنے دیا جائے گا ۔بجرنگ پونیا نے کہا شکایت کئے ہوئے گھنٹوں گزر چکے ہیں مگر ایف آئی آر تک درج نہیں ہوئی ۔اس بار سبھی کا خیر مقدم ہے ۔چاہے بی جے پی ،کانگریس یا عآپ یا کوئی بھی پارٹی آئے اس کا خیر مقدم ہے ۔کیوں کہ جب پہلوان تمغہ جیتتے ہیں تو کسی پارٹی کا جھنڈا نہیں لہراتا بلکہ ترنگا لہراتے ہیں جب میڈل حاصل کرتے ہیں تو سب مبارکباد دینے کیلئے آتے ہیں نا کہ ایک پارٹی کا کوئی اٹا ہے ۔ہم کسی پارٹی سے نہیں جڑے ہیں بکہ دیش سے جڑیں ہیں۔سبھی دیش واسیوں کا خیر مقدم ہے ۔اگر ہم آج اپنی بیٹیوں کے لئے نہیں لڑیں گے تو کبھی ہم کسی کے خلاف نہیں لڑ سکتے ۔سرکار کو پہلوانوں کی مانگوں پر سنجیدگی سے غور کرکے کوئی تسلی حل نکالنا چاہئے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
پھر پلٹے ٹرمپ : ایران میں ذہنی جنگ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر بڑے حملے کی دھمکی کےبعد ایک بار پھر پلٹ گئے ہیں ۔ٹرمپ کی یہ تو پلٹنے کی عادت بن گئی ہے ۔یہ4تھی مرتبہ بار ہے ج...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...