Translater

04 مئی 2016

خبردار!جو کسی مذہبی گروپ نے اقتدار کو چیلنج دیا

چین کے صدر شی جنگ پنگ نے دیش کے اقتدار پر اپنی پکڑ مضبوط کرلی ہے۔ آئے دن وہ نئے نئے اعلان کررہے ہیں، وارننگ دے رہے ہیں۔ حال ہی میں شی جنگ پنگ نے افسروں سے کہا ہے کہ مذہب کے نام پر بہت سے لوگ چین میں گھس رہے ہیں۔افسروں کو چاہئے کہ ان پر نظر رکھیں۔ لوگ اپنے مذہب کو مانتے رہیں لیکن اقتدار یا حکمراں کمیونسٹ پارٹی کو چیلنج دینے کی کوشش نہ کریں۔ سرکاری میڈیا کے مطابق جگ پنگ نے یہ وارنگ ایک میٹنگ میں دی۔ دنیا کے سب سے بڑی آبادی والے دیش میں مذہب کا مینجمنٹ کیسے کریں؟ موضوع پر یہ میٹنگ بلائی گئی تھی۔ صدر نے اس سلسلے میں بودھ اور عیسائی سمیت سبھی مذاہب کو ماننے والوں کے لئے گائڈ لائن بھی جاری کی تھی۔ جنگ پنگ نے کہا کہ سبھی مذہبی گروپوں اور فرقوں کو چین کی کمیونسٹ پارٹی کی پہلی کا ہی اقتدار تسلیم کرنا ہوگا۔ انہیں اسی سماجی اور سماجوادی سسٹم اور پارٹی کی مذہبی پالیسی کو اپنانا ہوگا۔ جنگ پنگ نے کہا کہ سبھی مذہبی فرقوں کو چین کی تہذیب ،قوانین اور قاعدوں کی تعمیل کرنی ہوگی۔ خود کو چین کی ترقی اور سماجوادی جدیدیت میں لانا ہوگا۔ حالانکہ انہوں نے مذہبی آزادی، مذہبی معاملوں میں دخل نہ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی نے اپنی سماجوادی ساکھ کو ترک کرتے ہوئے اصلاحاتی اقتصادی پالیسی اپنائی ہے پھر بھی ناستک آئیڈیالوجی کو ترجیح دیتی ہے اس کا خیال ہے کہ مذہب کی ترویح اور فروغ دیش کے مستقبل کے لئے خطرہ ہے۔ جنگ پنگ کی وارننگ کواس نظر سے بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ عیسائیوں کی دراندازی کے بعد پولینڈ جیسے ملکوں میں کمیونسٹ اقتدار کا زوال ہوا ہے۔ پچھلی کچھ دہائیوں سے چین میں عیسائی مذہب تیزی سے پھیل رہا ہے۔ یہاں قریب 6.5 کروڑ لوگ اسے مانتے ہیں۔ عیسائی گروپوں نے حال ہی میں الزام لگایا ہے کہ کئی گرجاگھروں سے کراس کا نشان حکومت ے ہٹوادیا ہے۔ شاید اسی مقصد سے چین نے ایک نیا قانون بنا کر غیر ملکی سرکاری انجمنوں (این ڈی او) پر شکنجہ کس دیا ہے۔ اب انہیں ہر وقت پولیس کی نگرانی میں رہنا ہوگا۔ انہیں ملنے والے فنڈ کا ذریعہ بھی بتایا ہوگا۔ تنقید نگاروں نے اسے این جی او پر سرکاری پابندی بتایا ہے جبکہ چینی حکومت نے کہا ہے کہ ایسا کرنا لمبے عرصے سے زیر غور تھا۔ چین میں 7 ہزار سے زیادہ غیر ملکی این جی او کام کررہی ہیں۔ اس پر امریکہ نے کہا کہ اس سے سول سوسائٹی کو جگہ ملنا اور کم ہوگا اور امریکہ کے درمیان تبادلہ میں بھی رکاوٹ آئے گی جبکہ بیجنگ کا کہنا ہے کہ لمبے عرصے سے چین میں غیر ملکی انجمن بنا کسی کنٹرول کے کام کررہی تھی۔ اس نئے قانون نے ان کے برتاؤ کی حدود طے ہوگئی ہیں۔ بھارت میں بھی یہی مسئلہ طول پکڑ رہے ہیں۔ ہماری لیفٹ پارٹیاں خود ساختہ سیکولرسٹوں کا چین کی تازہ سختی پر کیا کہنا ہے؟
(انل نریندر)

کیا گمراہ کرنے والے اشتہارات پر سیلیبریٹی کو قصوروار ٹھہرایا جاسکتا ہے

پچھلے کچھ عرصے سے یہ تنازعہ زوروں پر جاری ہے کہ کیا اشتہارات کے لئے سیلیبریٹی کو قصوروار ٹھہرایا جاسکتا ہے یا نہیں؟ پارلیمنٹ کی اسینڈنگ کمیٹی کی جانب سے گمراہ کرنے والے اشتہارات والے برانڈ کی پبلسٹی کرنے کے لئے جانی مانی ہستیوں کے خلاف سخت سزا دینے والی کارروائی کی سہولت کے درمیان صنعتی دنیا کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس کے لئے صرف سیلیبریٹی پر ہی الزام مڑھ دینا مناسب نہیں ہوگا۔ کنزیومرس معاملوں پر پارلیمانی کمیٹی نے صارفین، تحفظ بل 2015 پر اپنی سفارشتوں میں اس طرح کے امور میں پانچ سال تک کی جیل کی سزا کے علاوہ50 لاکھ روپے تک کا جرمانہ کرنے کی سفارش کی ہے۔ کمیٹی نے صلاح دی ہے کہ پہلی بار کی غلطی کے لئے سیلیبریٹیز پر 10 لاکھ روپے جرمانہ 2 سال کی سزا یا دونوں ہونی چاہئیں۔ دوسری بار ایسا کرنے پر 50 لاکھ روپے جرمانہ 5 سال کی جیل سزا کی سہولت ہونی چاہئے۔ پچھلے سال غذائی ریگولیٹری کمیشن کی جانب سے میگی نوڈلس پر پابندی کے بعد برانڈ امبیسڈروں کی جوابدہی طے کرنے کو لیکرکافی آوازیں اٹھی تھیں۔ دیش میں جانی مانی ہستیوں کا اشتہار بازار قریب 5 ہزار سے 7ہزار 500 کروڑ کا ہے اور تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ غلط اشتہارات کے لئے سیلیبریٹی برانڈ امبیسڈر کو ذمہ دار ٹھہرانے کا برانڈ گوروؤں نے احتجاج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیلیبریٹی کے پاس پروڈکٹ کی کوالٹی جانچنے کی سہولت نہیں ہوتی اس لئے انہیں قصوروار نہیں ٹھہرایا جانا چاہئے۔ پچھلے سال میگی پر پابندی لگانے پر تب برانڈ انڈوز کرنے والوں کی ذمہ داری طے کرنے کی مانگ کی تھی۔ میگی کے ساتھ امیتابھ بچن، مادھوری دیکشت اور پریٹی زنٹا جیسی ہستیاں جڑی تھیں۔ ایم ایس دھنی کو حال ہی میں امرپالی برانڈ کا امبیسڈر کا عہدہ چھوڑنا پڑا جب خریداروں نے سوشل میڈیا پر مہم چھیڑی تھی۔ ایڈ ایجنسی میڈیسن ورلڈ کے چیئرمین سیم بلسارا نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ سیلیبریٹی کو اشتہار کی تھوڑی ذمہ داری دینی چاہئے لیکن پروڈکٹ یا اشتہار کے لئے انہیں قصوروار ٹھہرانا مناسب نہیں ہے۔ یہ تکنیکی مسئلہ ہوتا ہے۔ ٹیلنٹ مینجمنٹ ایجنسی کوان کے ایم ڈی انربان داس نے کہا دیپکا پاڈکون یا رنبیر کپور جیسے بالی ووڈ اسٹار جس پروڈکٹ کو بڑھاوا دیتے ہیں ان کی کوالٹی کے بارے میں انہیں کچھ پتہ نہیں ہوتا۔ اشتہار کی کوالٹی کو جانچنے کے لئے سیلیبریٹی کے پاس ٹیسٹ لیب نہیں ہوتے۔ حالانکہ سبھی اشتہاروں میں ایک کونٹریکٹ ہوتا ہے اور اس میں کوئی غلط دعوی نہیں کیا جاتا اگر غلط دعوی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ سیلیبریٹی بھی دھوکہ دھڑی کا شکار ہے اس لئے انہیں سزا دینا غلط ہے۔ بنیادی ذمہ داری اشتہار دینے والی کمپنی کی ہے۔ حالانکہ برانڈ امبیسڈر کنسلٹنٹ ہریش بجور اسے کمپنی کی طرف سے سیلیبریٹی دونوں کی ذمہ داری مانتے ہیں۔ ان کے مطابق ہستیاں اپنے کرشمے کا استعمال پروڈکٹ کی بکری بڑھانے میں کرتی ہیں اس لئے انہیں احتیاط برتنی چاہئے خاص کر کھانے پینے اور اسکن کیئر جیسی چیزوں کے معاملے ہیں۔ کچھ لوگوں کو مثال کے طور پر اجے دیوگن کا گٹکھا اشتہار کرنے پر اعتراض ہے کیونکہ یہ صحت کے لئے نقصاندہ ہے۔ بتادیں کون کونسا سیلیبرٹی اشتہار کرنے کے لئے ایک دن کا کتنا پیسہ لیتا ہے۔ عامر خان5.7 کروڑ، سلمان خان 3.5 سے 5کروڑ ، شاہ رخ خان، 3.5 سے 4 کروڑ، رنبیر کپور 3 کروڑ اور امیتابھ بچن 2.5 کروڑ ، ٹاٹا موٹرس کا انٹرنیشنل فٹبال کھلاڑی لیون میسی 60 کروڑ رپے لیتا ہے۔ آخر میں بتادیں ملائیکا اروڑہ نے تنازعہ پر کہا کہ اب میں نے طے کیا ہے کہ میں کبھی شراب، سگریٹ یا رنگ گورا کرنے والے پروڈکٹس کا اشتہار نہیں کروں گی اس سے لوگوں پر برا اثر پڑتا ہے۔
(انل نریندر)

03 مئی 2016

ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر سودے میں الزام درالزام کا دور

اگستا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر سودے میں رشوت خوری معاملے میں اٹلی کی عدالت کے فیصلے کے بعد جہاں ایک طرف کانگریس اور بی جے پی میں نوک جھونک بڑھ گئی ہے وہیں سی بی آئی بھی گھوٹالہ کی جانچ میں سرگرم ہوگئی ہے۔ ایجنسی نے 3600 کروڑ روپے کی دھاندلی کو لیکر ملزمان سے دوبارہ پوچھ تاچھ شروع کردی ہے۔ اس سلسلے میں سنیچر وار کو اس وقت کے ڈپٹی ایئرفورس چیف جے ایس گجرال سے پوچھ تاچھ کی اور اس کے علاوہ چیف ایس پی تیاگی کو طلب کیا گیا ہے۔ تیاگی کے بھائیوں کو اس ہفتہ پوچھ تاچھ کے لئے حاضر ہونا ہے کیونکہ ان پر بھی گھوٹالہ میں شامل ہونے کا الزام ہے۔ فی الحال سی بی آئی کی توجہ گھوٹالہ کے اہم دلال کرسچن مشیل کو بھارت لانے پر ہے۔ اس کے خلاف ریڈ کورنرز نوٹس جاری ہے۔ اس کا تازہ ٹھکاہ پتہ لگایا جارہا ہے۔ سی بی آئی کی اٹلی سے چارج شیٹ (ایل آر ) کا پچھلے دسمبر میں ہی جواب مل چکا ہے۔ اس میں گھوٹالہ سے متعلق اہم دستاویز شامل ہیں۔ برطانیہ و برطانوی ورجن آئی لینڈ اور تیونیسیا نے بھی ایل آر کے کچھ حصہ کا جواب دیا ہے۔ دیگر ملکوں سے ایل آر کے جواب کا انتظار ہے۔ رشوت کی رقم کے لین دی کی پوری کڑی کو جوڑنے کے لئے ان دیشوں سے ایل آر کا جواب ضروری ہے۔ بھاجپا نے اس گھوٹالہ کو لیکر تلخ سوال داغنے شروع کردئے ہیں۔ وزیر دفاع منوہر پریکر نے کہا ہے کہ سابقہ یوپی اے سرکار کو اس بابت جواب دینا ہوگا کہ اگستا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر سودے میں کس نے مبینہ طور پر رشوت حاصل کی ہے۔ 
تنازعہ کا سوال یہ ہے کہ اگستا ہیلی کاپٹر سودے میں کس نے پیسہ لیا؟ اطالوی عدالت نے صاف طور سے کہا کہ 125 کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی۔ اس نے کچھ ناموں کا بھی خلاصہ کیا تھا۔اس وقت کی حکومت کو جواب دینے کی ضرورت ہے۔ اگستا سودے میں کرپشن کو لیکر بھاجپا پردھان امت شاہ نے کانگریس صدر سونیا گاندھی پر سیدھا تلخ حملہ کیا ہے۔ کرپشن کے لئے سونیا گاندھی کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بعد جمعہ کو پھر سے شاہ نے چار سوال داغے اور کہا بہانہ بنانے کے بجائے سونیا کو سامنے آکر جواب دینا چاہئے نہ کہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کی طرز پر بھاجپا سوال اٹھائے۔ شاہ نے سونیا نے پوچھا کہ کس کے اشارے پراوریجنل سازو سامان نہیں رہنے کے باوجود اگستا ویسٹ لینڈ کو ٹنڈر بھرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس کے لئے ٹنڈر کی شرطوں سے چھیڑ چھاڑ کی گئی؟ کس کے کہنے پر شرائط میں ردو بدل ہوئی ہے؟ کس کے اشارے پر سودے کو روکنے میں دوری ہوئی؟ کانگریس نے بھاجپا کے الزامات کو جھوٹ کا پلندہ مانتے ہوئے اس کے خلاف سڑک پر تحریک چھیڑنے کی دھمکی دی ہے۔ کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجیوالا نے کہا جھوٹ کا سامراجیہ کھڑا کرکے پارٹی کے خلاف ماحول بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ الٹے انہوں نے مودی حکومت پر گھوٹالے کرنے والی کمپنی ’فن میکینیکا‘ کو آفر دینے اور سابق ایئر فورس ایس پی تیاگی کو بچانے کا الزام لگادیا۔ سرکار کے ساتھ ٹکراؤ بڑھنے کے درمیان کانگریس نے بڑا اعلان بھی کیا ہے۔ پارٹی میں سنیچر کو 6 مئی کو پارلیمنٹ کا گھیراؤ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس گھیراؤ کرنے والے جتھے کی رہنمائی پارٹی صدر سونیا گاندھی، نائب صدر راہل گاندھی کریں گے۔ بھاجپا ترجمان جی وی ایل نرسمہا راؤ نے کہا کہ سونیا گاندھی ، احمد پٹیل اس گھوٹالہ کے کرتا دھرتا ہیں۔ کئی ثبوت ایسے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ سودے کی منظوری دلانے کا کام کانگریس کی سینئر لیڈر شپ نے کیا۔ بھاجپا کے مطابق پورے سودے کو اس طرح سے ڈیزائن کیا گیا تھا کہ دلالی کی موٹی رقم ملے۔ وزارت دفاع نے 12 ہیلی کاپٹروں کی خرید کے لئے 4800 کروڑ روپئے بنیادی رقم رکھی تھی۔ حالانکہ اگستا ویسٹ لینڈ نے اس سے کم قیمت پر ہیلی کاپٹر دینے کی تجویز دی تھی اور قیمت زیادہ رکھنے کا مقصد بھی تھا کوئی امتیاز نہیں برتا جاسکے اور کمپنی کو منمانی رقم دی جاسکے۔ ٹنڈر شرائط کو اس طرح سے توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا تاکہ صرف ایک ہی کمپنی اس کے لئے کوالیفائی کرسکے۔
(انل نریندر)

اتراکھنڈ کے جنگلوں میں فروری سے لگی ہوئی ہے آگ

اتراکھنڈ کے جنگلوں میں گرمی کی وجہ سے بھڑکی آگ تشویش کا باعث بنتی جارہی ہے۔ اتراکھنڈ کے پہاڑوں میں پچھلے 1 ماہ سے آگ سے دہک رہے جنگلوں نے ریاست میں تقریباً دو دہائی پہلے جنگلوں میں لگی اسی طرح کی آگ کی یادیں تازہ کردی ہیں۔13 میں سے 11 اضلاع آگ سے متاثر ہیں۔ آگ کاربیٹ ریزرو کے پاس تک پہنچ گئی ہے۔ رام نگر میں صبح 11 بجے پارک سے لگے ون وکاس نگم کے ڈپو کے پاس جھاڑیوں میں آگ لگنے سے کھلبلی مچ گئی ہے۔ کاربیٹ پارک کے بجرانی زون، رام نگر ، ترائی ویسٹ جنگلات اور پاولگڑھ کنزرویشن کے جنگلوں میں آگ سے بھاری مقدار میں جنگلاتی وراثت جل کر خاک ہوگئی ہے۔ جنگلی جانور بھی اس آگ کے خطرے کی زد میں ہیں اور یہ آگ قدرتی آفت کی شکل لے چکی ہے۔ اس خوفناک آگ کو بجھانے کے لئے حکومت اور انتظامیہ نے پوری طاقت جھونک دی ہے۔ بے قابو آگ کو کنٹرول کرنے کے لئے اب ایئرفورس کو بھی مورچے پر اتار دیا گیا ہے۔ ایئرفورس کے ایم آئی 17 پانی کی بوچھار کر آگ بجھانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ہیلی کاپٹروں نے بھیم تال سے اپنا آپریشن شروع کیا اور یہ بھیم تال جیل سے پانی لیکر متاثرہ علاقہ میں چھڑکا جارہا ہے۔ ایک ہیلی کاپٹر ایک بار میں 5 ہزار لیڈر پانی اٹھا سکتا ہے۔ حکام کے مطابق ریاست کے الموڑہ، پوڑی اور گوچر میں آگ کا اثر زیادہ ہے۔ یہاں این ڈی آر ایف کی ایک یونٹ لگائی گئی ہے۔ ہر ایک یونٹ میں 45 جوان شامل ہیں۔ چیف سکریٹری شتروگھن سنگھ نے بتایا کہ ریاست کے کماؤ اور گڑھوال دونوں زون میں قریب 2269.29 ایکڑ جنگلاتی علاقہ آگ کی زد میں آچکا ہے۔ وہیں چیف جنگلات نگراں بی پی گپتا نے بتایا کہ ریاست میں فروری میں آگ لگنے کا آغاز ہوا تھا۔ اس سال یہاں کہ جنگلوں میں آگ لگنے کی 1082 وارداتیں ہوئیں ہیں۔ بہرحال دھنویں سے لوگ بیمار بھی پڑنے لگے ہیں اوردم گھٹنے کی پریشانی کی شکایت کو لیکر 200 لوگ ہسپتال میں پہنچ چکے ہیں۔ فروری سے دہک رہے جنگل اور زمینی پانی کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہوسکتے ہیں۔ اس سے قدرتی ذرائع کے سوکھنے میں تیزی آئے گی جس سے گاؤں سے بھی لوگوں کی ہجرت بڑھ سکتی ہے۔ جنگلوں سے لگے رہائشی علاقے بھی آگ کی زد میں آرہے ہیں جس سے دیہات میں دہشت کا ماحول ہے۔ آگ کے خوفناک شکل کو دیکھ کر ریاست کے دیہی علاقوں پر کئی اثرات ہوسکتے ہیں۔ اتراکھنڈ کے جنگلوں میں لگی آگ کے بارے میں وزیر اعظم کے دفتر نے گورنر سے مفصل رپورٹ مانگی ہے۔ پی ایم نے اتراکھنڈ کو ہر ممکن مدد کا بھروسہ دلایا ہے۔ اب تک قریب6 لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ امید کریں کہ جلد سے جلد اس خوفناک آگ پر قابو پالیا جائے گا۔ اتراکھنڈ میں کوئی نہ کوئی قدرتی آفت آتی ہی رہتی ہے۔
(انل نریندر)

01 مئی 2016

ترپتی کی حاجی علی کی درگاہ میں گھسنے کی کوشش

مہاراشٹر کے شینگاپور اور کیشور مندر میں عورتوں کو داخلہ دلانے میں کامیاب رہیں بھوماتا برگیڈ کی چیف ترپتی ڈیسائی اب اپنی مہم کو لیکر ممبئی کی مشہور حاجی علی درگاہ پہنچ گئی ہیں۔ جمعرات کو جب ترپتی ممبئی میں واقع حاجی علی کی درگاہ میں پہنچی تو ان کی مخالفت کرنے کے لئے سینکڑوں لوگ موجود تھے۔ سخت پولیس حفاظت کے درمیان تقریباً5 بجے جب درگاہ کی طرف بڑھنے کی کوشش کی تو مخالفین نے انہیں گھیر لیا۔ احتجاج کرنے والوں میں اے آئی ایم آئی ایم اور سماجوادی پارٹی کے رضاکار بھی شامل تھے۔ کچھ دیر بعد پھر ترپتی نے آگے بڑھنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہیں۔ پہلی کوشش میں تو احتجاج اتنا زبردست تھا کہ ڈیسائی کار سے بھی نہیں اتر سکیں۔ سکیورٹی کے لحاظ سے پولیس نے انہیں کار میں ہی بیٹھے رہنے کو کہا۔ کچھ وقت رک کر وہ لوٹ گئیں۔ کئی لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ پبلسٹی اسٹنٹ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ مہاراشٹر کے وزیر محصول و اقلیتی امور رام ناتھ کھنڈسے نے کہا کہ ریاستی حکومت کا کردار صاف ہے کہ عورتوں کو حاجی علی کی درگاہ میں داخلہ ملنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بامبے ہائی کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے اس کی تعمیل ہونی چاہئے۔ مہاراشٹر حکومت نے فروری میں ہی صاف کردیا تھا کہ وہ حاجی علی کی درگاہ میں عورتوں کو داخلہ دینے کی حمایت کرتی ہے۔ حکومت نے ہائی کورٹ میں بھی کہا کہ اس نے عورتوں پر داخلے کی پابندی نہیں لگائی ہے۔ بتادیں کہ پیر حاجی علی شاہ بخاری کی یاد میں ممبئی کے ورلی سمندر کنارے پر ایک چھوٹے سے ٹاپو پر حاجی علی کی درگاہ واقع ہے۔ دیش دنیا سے مسلم اور بڑی تعداد میں ہندو زائرین یہاں زیارت کے لئے آتے ہیں۔1431 ء میں صوفی سنت کی یاد میں اس درگاہ کو بنایا گیا تھا۔ حاجی علی ازبکستان کے شہر بخارہ سے بھارت آئے تھے۔ ترپتی ڈیسائی نے حاجی علی درگاہ میں عورتوں کے داخلے کے مسئلے پر بالی ووڈ ستارے شارہ رخ خان، عامر خان، سلمان خان سے بھی حمایت مانگی ہے۔ 2011 ء میں ٹرسٹ نے حاجی علی درگاہ میں عورتوں کے داخلے پر پابندی لگائی تھی۔ کچھ اور درگاہ ہیں جہاں عورتوں کے داخلے پر پابندی ہے اس میں قابل ذکر ہیں حضرت نظام الدین اولیا ؒ (دہلی)، سرہند شریفؒ (پنجاب) عورتوں کے قبرستان جانے پر بھی روک ہے۔ دوسری طرف خواجہ معین الدین چشتی ؒ (اجمیر) اور کلیر شریف (رڑکی) میں عورتو ں کے داخلے پر کوئی روک نہیں ہے۔ اس سے پہلے ترپتی ڈیسائی نے حال ہی میں احمد نگر ضلع میں واقع شنی شنگنا پور اور ناسک میں بھدیو کیشور مندر میں عورتوں کے داخلے کے لئے کامیاب کمپین چلائی تھی۔ بہت ساتے لوگوں کا نظریہ تھا کہ یہ دھارمک معاملہ ہے اور عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے۔ اس میں علما کی منظوری ضروری ہے۔
(انل نریندر)

مائی لارڈ!سبرت رائے شایدپوری گرمی جیل میں نہیں جھیل پائیں گے

سہارا گروپ کے چیف سبرت رائے کو بدھوار کو بھی سپریم کورٹ سے کوئی راحت نہیں مل سکی۔ اس معاملے میں سبرت رائے اور ان کے گروپ کے دو ڈائریکٹر 4 مارچ 2014 ء سے جیل میں ہیں۔ 19 جون 2015ء کو سپریم کورٹ نے سبرت رائے کی ضمانت عرضی کو مشروط منظوری دی تھی۔ کورٹ نے کہا تھا کہ رہائی کے لئے انہیں 5 ہزار کروڑ روپے کی بینک گارنٹی اور اتنی ہی رقم نقد جمع کرانی ہوگی۔ سہارا گروپ پر الزام ہے کہ اس نے سرمایہ کاروں کے 24 ہزار کروڑ روپے نہیں لوٹائے۔ یہ رقم سہارا نے ایس آئی آر ای سی ایل و ایم ایچ ایف سی ایل کمپنیوں کے ذریعے 2007-08 میں سرمایہ کاروں سے اکھٹا کی تھی۔ سود لگانے کے بعد سہارا پر سرمایہ کاروں کی بقایا رقم36 ہزار کروڑ روپے ہوچکی ہے۔ سماعت کے دوران سبرت رائے کے وکیل راجیو دھون نے کہا دہلی میں تیز گرمی پڑ رہی ہے اس کا اثر تہاڑ جیل میں بھی دکھائی پڑ رہا ہے۔
سبرت رائے کی طبیعت مسلسل بگڑتی جارہی ہے ایسی حالت رہی تو وہ پوری گرمی جیل میں جھیل نہیں پائیں گے اس لئے انہیں پیرول پر ہی صحیح لیکن جیل سے چھوڑ دیا جائے۔ جواب میں چیف جسٹس ٹی۔ ایس ٹھاکر کی سربراہی والی تین نفری بنچ نے کہا کہ ہمیں بھی کسی کوجیل میں بند کرنے سے خوشی نہیں ملتی ہے۔ سبرت رائے کو بھی ہم جیل میں نہیں رکھنا چاہتے ہیں۔ انہیں چھوڑنے میں کوئی دقت نہیں ہے بشرطیکہ سرمایہ کاروں کو پیسہ واپس مل جائے۔ حالات بدلنے چاہئیں۔ ہمارے حکم کی تعمیل ہوتے ہوئے بھی دکھائی دینی چاہئے لیکن ہمیں ایسا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ نہ ہی سرمایہ کاروں کو ان کا پیسہ واپس ملا ہے۔ اس سے پہلے وکیل نے کہا کہ سہارا نے کورٹ کے حکم پر 66 املاک کے کاغذات سیبی کو سونپ دئے ہیں۔ بیچ کر ضمانت کے پیسے اکھٹے کئے جاسکتے ہیں۔ اس بنیاد پر ہم پیرول مانگ رہے ہیں۔ جواب میں جج نے کہا کہ رہائی تبھی ممکن ہے جب پراپرٹی بیچنے کا سیبی کا پلان کامیاب ہوجائے گا۔ سیبی کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ وہ سہارا کی پراپرٹی بیچ کر ضروری رقم وصول کر پائے گی یا نہیں؟ اس کے ساتھ کورٹ نے کہا 66 املاک کو بیچ کر اکھٹے کئے گئے پیسے سے تو ضمانت مل سکتی ہے لیکن اس سے سرمایہ کاروں کے پورے پیسے نہیں لوٹائے جاسکتے ہیں اس لئے سہارا اپنی پراپرٹیوں کی تفصیل بند لفافے میں 11 مئی تک کورٹ کو سونپے تاکہ یہ پتہ لگایا جاسکے کہ سہارا گروپ سرمایہ کاروں کے پورے پیسے لوٹانے کی پوزیشن میں ہے بھی یا نہیں؟ اس سے پہلے سیبی نے سہارا کی پراپرٹی نیلام کرنے کی کارروائی کی اسٹیٹ رپورٹ پیش کی ۔ اس نے بتایا کہ سہارا کی 66 املاک بکری کے لئے تیار ہیں۔ اگلے ہفتے ان کی کارروائی شروع کردی جائے گی۔ اسے 4 ماہ میں پورا کرلیا جائے گا۔ اگلی سماعت اب11 مئی کو ہوگی۔
(انل نریندر)

30 اپریل 2016

اتراکھنڈ میں صدر راج برقرارعدالت نے پوچھے سوال

اترکھنڈ میں صدر راج جاری رہے گا اور 29 اپریل کو اسمبلی میں ہونے والے فلو ر ٹیسٹ پر بھی روک برقرار رہے گی۔ سپریم کورٹ نے بدھوار کواپنی سماعت کے دوران اتراکھنڈ میں صدر راج ہٹانے کے نینی تال ہائی کورٹ کے فیصلے پر لگی روک کو جاری رکھنے کا فیصلہ لیا۔ جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس شیو کیرتی سنگھ کی ڈویژن بنچ نے اپنے فیصلے میں کئی اہم سوال اٹھائے ہیں۔ بنچ نے کہا لاکھ ٹکے کا سوال ہے کہ کیا اسمبلی کی کارروائی کی بنیاد پر مرکزی کیبنٹ اتراکھنڈ میں صدر راج لگانے کی سفارش کرسکتا ہے؟ گورنر کے کردار پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں اور صاف صاف الفاظ میں کہا گیا ہے کہ گورنر نے آرٹیکل 175(2) کے تحت فلور ٹسٹ روکنے کا پیغام بھیجا تھا؟ اور کیا گورنر ایسا کرسکتے ہیں؟ یہ بھی سوال کیا گیا کہ فلور ٹیسٹ میں دیری ہونا کیا صدر راج نافذ کرنے کی بنیاد ہوسکتی ہے؟کیا منی بل گورنر کے پاس بھیجنے میں دیری صدر راج کی بنیاد ہوسکتی ہے؟ ریاست میں بل پاس ہوا تھا یا نہیں، کیا دہلی سے طے کیا جائے گا؟ اس کے علاوہ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اسٹنگ آپریشن صحیح ہے تو بھی یہ صدر راج کی بنیاد نہیں ہوسکتا۔ پہلے ہی ایس آر بومئی اور رامیش پرساد کے سلسلے میں سپریم کورٹ یہ کہہ چکی ہے کہ کسی بھی حالت میں فلور ٹیسٹ ہی ایک راستہ ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ کانگریس سمیت اپوزیشن کی جیت مانی جائے گی۔ مرکزی سرکار کو اس کے لئے اب کافی ہوم ورک کرنا ہوگا اور ایسے ثبوت پیش کرنے ہوں گے جس کی بنیاد پر عدالت کو محسوس ہو کہ حالات بالکل بے قابو ہوگئے تھے اور اس دوران صدر راج ہی ایک واحد حل بچا تھا۔صدر راج والا نوٹیفکیشن کو پارلیمنٹ کی منظوری دلانی ہوگی۔ اس طرح اتراکھنڈ معاملے میں کانگریس کی حمایت میں ساری اپوزیشن کھڑی ہوگئی ہے اس سے تو لگتا نہیں کہ کم سے کم راجیہ سبھا میں مرکزی سرکار اپنے مقصد میں کامیاب ہو پائے گی۔ آئینی ماہرین کا صاف صاف کہنا ہے کہ سرکار کے لئے یہ مجبوری ہے کہ وہ دو ماہ کے اندر نوٹیفکیشن کو پارلیمنٹ میں منظور کروائے۔ نئی سرکارکی تشکیل کا اگر راستہ نکلتا ہے تبھی مرکز پارلیمنٹ کی منظوری کی فضیحت سے بچ سکتا ہے یعنی مرکزی سرکار کے سامنے فلور ٹیسٹ ہی واحد متبادل بچتا ہے، جس کی مانگ اپوزیشن کانگریس کرتی آرہی ہے۔ اگر فلور ٹیسٹ ہوا تو پھر یہ بھی توجہ دینے والی بات ہے کہ اسمبلی اسپیکٹر گووند سنگھ کنجوال نے کانگریس کے 9 ممبران اسمبلی کو ڈسکوالیفائی کردیا تھا۔ اگر کورٹ کا فیصلہ حق میں نہیں آتا تو اسمبلی میں نمبروں کا کھیل پوری طرح بدل جائے گا۔ کانگریس نے ان 9 ممبران کو ڈسکوالیفائی کرانے کے اسپیکر کے فیصلے سے 70 نفری اسمبلی میں تعداد 61 رہ جائے گی۔ کانگریس نے ان 9 باغی ممبران میں راوت کے خلاف بغاوت کر بھاجپا سے ہاتھ ملا لیا تھا اور اگر ان کی ممبر شپ ختم ہوجاتی ہے تو یہ کانگریس کے لئے فائدہ مند ہوگا بھاجپا کے لئے نقصاندہ۔ کانگریسیوں کو امید ہے کہ فیصلہ ان کے حق میں آئے گا۔ بھاجپا یہ امید لگائے بیٹھی تھی کہ معاملہ آئینی بنچ کے حوالے ہوجائے گا لیکن دونوں کی حسرت پوری نہیں ہوئی۔ بھاجپا اور کانگریس اپنے اپنے سطح پر 29 اپریل کو طاقت آزمائی پر لگی ہوئی تھیں اور اسی لحاظ سے حکمت عملی بھی بن رہی تھی۔ لیکن پورے معاملے میں ایک اور تاریخ ملنے کے بعد حالات اب بدل گئے ہیں۔ اب ہفتے بھر تک سیاسی پارٹیوں کی سرگرمیں کا شور رکنے کے آثار ہیں۔ یا یوں کہیں کہ سپریم کورٹ کے ذریعے دی گئی تاریخ ہفتے بھر تک ریاست کی سیاسی سرگرمیوں کے لئے اسپیڈ بریکر بن گئی ہے۔
(انل نریندر)

نر پیندر مشر ابنام چمت رائے!

شری رام جنم بھومی ٹرسٹ میں چھڑا دے کو لیکر کی گئی چوری کے تنازعہ میں ایک نیا موڑ آگیا ہے ۔ رام مندر ٹرسٹ سے استعفی کے بعد چمت رائے کا ایک نو...