Translater

17 دسمبر 2013

آخر کب ملے گا نربھیہ کو انصاف؟

16 دسمبر 2012ء کی وہ سردی کی رات سڑک کنارے بغیر کپڑوں کے پڑے پیرا میڈیکل کی طالبہ و اس کا دوست وہ سین آنکھوں کے سامنے ابھی بھی لوگوں کے دلوں میں تازہ ہوگا۔ شاید ہو کبھی اسے بھول پائیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ کل ہی کو تو بات ہے۔ نربھیہ ٹریجڈی کو ایک سال ہوگیا ہے لیکن اس سال میں کیا بدلا؟ بیشک کئی سیکٹروں میں جیسے بہتر پولیسنگ عورتوں کی حفاظت کے لئے اٹھائے گئے اقدام، قانون وغیرہ وغیرہ میں ضرور تبدیلی آئی ہے لیکن درندگی میں کمی نہیں آئی۔ دیش کو ہلا دینے والی وسنت وہار گینگ ریپ کی واردات اور اس کے بعد اٹھائے گئے قدموں کے باوجود ہ دہلی والے نہیں سدھر پائے ہیں۔ دہلی میں اس کے بعد بہت سے بدفعلی کے واقعات ہوئے ہیں جن کی تعداد پچھلے ریکارڈ توڑ گئی ہے۔ یہ جان کار حیرانی ہوگی کہ نربھیہ معاملے کے بعد دہلی میں بدفعلی کے واقعات دوگنا ہوئے ہیں جبکہ چھیڑ خانی کے معاملوں میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ روزانہ تین چار ایسے واقعات، پانچ سات چھیڑ خانی کے کیس درج ہوتے ہیں۔ دوسری طرف اہم بات یہ بھی ہے کہ پہلے جہاں عورتیں لڑکیاں اپنے ساتھ ہوئی ذیادتی کی شکایت سے کترایا کرتی تھیں اور بچتی تھیں وہیں اب وہ اپنے ساتھ ہوئے واقعات کے بارے میں بتانے لگی ہیں۔ یہ نربھیہ معاملے کا ہی اثر مانا جاسکتا ہے کہ راجدھانی کے ہر تھانے میں لیڈیز ڈیکس نے کام کرنا شروع کردیا ہے جبکہ شراب خانوں، سنیما ہال، مال و بس اسٹاپ سے نکلنے والے لورس جوڑوں کو مانگ کے مطابق اب پی سی آر ان کے گھر تک چھوڑتی ہے۔ وہ بدنصیب جینا چاہتی تھی، ہسپتال میں علاج کے دوران گذرے 13 دن میں اس نے اس کا ثبوت بھی دیا لیکن دردناک حادثے نے اسے اتنے درد دئے کے اسے بچانا مشکل ہوگیا تھا۔ سنگاپور جانے سے پہلے اسنے محض تین بار اپنی بات لکھ کر سمجھانے کی کوشش کی۔ تینوں بار اس نے یہ ہی سوال کیا میرے پر حملہ کرنے والے قصورواروں کو سزا ملی یا نہیں؟ لیکن دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ اس واقعہ کو ایک سال گزرنے کے بعد بھی قصورواروں کے مقدمے عدالتوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہائی کورٹ نے بھلے ہی سماعت روزانہ کرنے کا فیصلہ لیا ہو لیکن بچاؤ فریق کے رویئے کے چلتے سماعت لمبی کھنچتی جارہی ہے۔ ملزمان کے وکیل کبھی دستاویز کے ہندی ترجمے کو لیکر معاملہ لٹکا رہے ہیں تو کوئی دوسرا بہانا بنا کر عدالت سے غیر حاضر ہوجاتے ہیں۔ 23 ستمبر سے ہائی کورٹ کی سماعت شروع ہوئی لیکن مقدمہ درج ہونے کے بعد کارروائی نومبر سے شروع ہوپائی تھی۔ سرکاری وکیل نے محض8 دنوں میں جریح پوری کرلی لیکن بچاؤ فریق32 دنوں میں جریح شروع نہیں کرپایا تھا۔ ہائی کورٹ کی جلد سماعت کے فیصلے سے لگ رہا تھا کہ نومبر تک معاملے کا نپٹارہ ہوجائے گا اور 16 دسمبر سے پہلے نربھیہ کے قصورواروں کو سزا مل جائے گی مگر بچاؤ فریق نے ایسا قانونی داؤ چلا کہ اب تک مقدمے میں جریح نہیں ہوپائی۔ اس کے بعد ابھی سپریم کورٹ باقی ہے پتہ نہیں قصورواروں کو کب سزا ملے گی؟ نربھیہ کی قربانی بیکار نہیں جائے گی سسٹم میں بہتری ہورہی ہے لیکن ابھی کافی خامیاں ہیں ان پر سبھی کو توجہ دینی ہوگی۔ دہلی ریپ کیپیٹل آف انڈیا بنتی جارہی ہے۔ اکیلے پولیس قصوروار نہیں سماج بھی اتنا ہی ذمہ دار ہے۔ ضرورت لوگوں کی ذہنیت بدلنے کی ہے۔ عورتوں کے تئیں عزت بحال کرنے کی ہے، کچھ کا خیال ہے ایک بار نربھیہ کانڈ کے قصورواروں کو پھانسی پر لٹکادیا جائے تو شاید حالت میں بہتری آئے لیکن سوال یہ ہے کب لٹکیں گے یہ پھانسی پر؟ اور کب ملے گا نربھیہ کو انصاف؟
(انل نریندر)

دہشت گردوں پر کیس واپس نہیں لے سکتی اکھلیش حکومت!

یہ دکھ کی بات ہے کہ اترپردیش کی سماجوادی حکومت کو عدالتی جھاڑ سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور انہیں ان کی کوئی پرواہ بھی نہیں۔ اکھلیش سرکار کو اکثر پھٹکاریں لگتی ہی رہتی ہیں۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے جہاں دہشت گردی کے واقعات میں ملزمان پر مقدمے چل رہے ہیں ان کو واپس لینے کو لیکر یہ جھاڑ لگائی گئی وہیں سپریم کورٹ نے مظفر نگر اور شاملی فسادات کے بعد راحت کیمپ میں رہنے والے 39 بچوں کی موت کے معاملے میں تشویش جتاتے ہوئے یوپی سرکار کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ کیمپ میں رہنے والوں کے لئے سردی کے پیش نظر تمام سہولیات مہیا کرائے۔ چیف جسٹس پی ۔سداشیوم اور جسٹس رنجن گوگئی کی بنچ نے معاملے کو بیحد سنجیدگی سے لیتے ہوئے کہا بچوں کی موت کے سلسلے میں میڈیا رپورٹ کی سچائی کا پتہ لگایا جائے۔ دوسرا کرارا جھٹکا الہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعے19 لوگوں کے خلاف دہشت گردی کے معاملے واپس لینے کے اس کے فیصلے کو منسوخ کرنا ، ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کے خلاف مرکزی دفعات کے تحت معاملے درج ہوئے ہیں اس لئے مرکزی حکومت کی اجازت کے بغیر ریاستی سرکار معاملے واپس نہیں لے سکتی۔ جسٹس دیوی پرساد سنگھ، جسٹس اجے لامبا اور جسٹس اشوک پال سنگھ کی بنچ نے یہ فیصلہ دیتے ہوئے صاف کیا کہ دہشت گردی کے واقعات یا ملک کی بغاوت کے الزامات کے مقدمے واپس لینے کے لئے ٹھوس اسباب ہونے چاہئیں۔ اگر سرکار بغیر کوئی وجہ بتائے مقدمے واپس لینے کا فرمان دیتی ہے تو سرکاری وکیل کو اپنی آزادانہ رائے رکھنی چاہئے۔ 96 صفحات کا یہ فیصلہ ایک بنچ کے معاملے سے جڑا ہے اس سے پہلے معاملے کی سماعت کررہی ایک بنچ نے چار قانونی سوال طے کرتے ہوئے جواب کے لئے معاملے کو سب بنچ کو بھیجا تھا۔ ریاستی سرکار کے لئے یہ ایک سیاسی جھٹکا تو ہے ہی کیونکہ وہ مظفر نگر فسادات کے بعد سماجوادی پارٹی اقلیتوں کا بھروسہ جیتنے کی پرزور کوشش کررہی ہے اس فیصلے سے اقلیتیں تو خوش نہیں ہوں گی ساتھ ہی سرکار مخالف طاقتوں کو اپنی سازشیں رچنے کا موقعہ ضرور مل جائے گا۔ ریاستی سرکار اقلیتوں کی خوش آمدی میں لگی ہوئی ہے کیونکہ اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ بے قصور مسلم لڑکوں کے خلاف درج معاملے واپس لے لے گی۔ اسی سلسلے میں اس نے2007ء میں لکھنؤ ، وارانسی اور فیض آباد میں ہوئے فسادات کے سلسلے میں گرفتار 19 لوگوں کے خلاف معاملے واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔ آتنک واد دیش کے لئے سب سے بڑے خطروں میں سے ایک ہے لیکن پورے کانڈ میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہماری سیاسی لیڈر شپ ووٹ بینک پالیٹکس کے چلتے ان برننگ اشوز سے نمٹنے کے لئے کتنی سنجیدہ ہے۔ یہ صحیح ہے کہ کسی بے قصور لڑکے کو محض فائل کی خانہ پوری کرنے کے لئے زبردستی کسی معاملے میں خاص کر آتنکی و ملک کی بغاوت کیس میں قطعی پھنسایا نہیں جانا چاہئے لیکن ملزم بے قصور ہے یا قصور وار یہ طے کرنا عدالتوں کا کام ہے۔ اکھلیش سرکار کی اپنی غیر جانبدارانہ ساکھ کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایسے معاملوں کو عدالتوں پر چھوڑ دیں۔ بار بار پھٹکار سے تو اترپردیش کی سماجوادی پارٹی بے نقاب الگ ہورہی ہے اور چاروں طرف سے وہ اپنے اوپر تھو تھو کروا رہی ہے۔
(انل نریندر)

15 دسمبر 2013

تیسری بار ڈاکٹر ہرش ودھن کے ہاتھ سے چیف منسٹر کی کرسی پھسلی!

اپنی اپنی رائے ہوسکتی ہے میری رائے میں بی جے پی نے دہلی میں مینڈیٹ کو ایک طرح سے انکار کردیا ہے۔بی جے پی کے سی ایم امیدوار ڈاکٹر ہرش وردھن نے لیفٹیننٹ گورنر کو آگاہ کردیا ہے کہ ان کی پارٹی کیونکہ اکثریت میں نہیں ہے اس لئے سرکار بنانے میں لاچار ہے اور انہوں نے دہلی کے شہریوں سے سرکار نہ بناپانے کے لئے معذرت کی اور کہا کہ صدر نے لیفٹیننٹ گورنر کو صاف ہدایتیں دی ہوئی ہیں کہ سرکار بنانے کا دعوی پیش کرنے والی پارٹی کو 7 دن کے اندر ایوان میں اکثریت ثابت کرنی ہوگی کیونکہ بھاجپا کے پاس اکثریت نہیں ہے تو وہ بھلا کیسے سرکار بنا سکتی ہے۔ سیاست میں نمبر اور شفافیت و صاف ستھری ساکھ کی دہائی دیتے ہوئے انہوں نے کہا بھاجپا کسی دیگر پارٹی میں توڑ پھوڑ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی اور نہ ہی ایسی سرکار میں۔ بھاجپا نے وسیع معیار اور اونچے سیاسی پیمانے تو قائم کردئے ہیں لیکن آئے ہوئے اقتدار کو ٹھکرادیا۔ دہلی میں 15 سال اپوزیشن میں بیٹھنے کے بعد شاید بی جے پی کو بیٹھنے کی عادت سی ہوگئی ہے ۔ یہ ہی تو فکر ہے کانگریس اور بی جے پی میں ۔ کانگریس تو اقتدار چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتی چاہے اس کے لئے کچھ بھی کرنا پڑے۔ بی جے پی اقتدار لینے کو تیار نہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ ڈاکٹرہرش وردھن کے پاس اکثریت نہیں تھی لیکن اگر وہ اقلیتی حکومت بنا لیتے اور حلف لے لیتے تو شاید تاریخ میں اپنا نام درج کرا لیتے۔ سبھی چنے ہوئے نمائندے ممبر اسمبلی بن جاتے۔ حلف لینے کے بعد وہ لیفٹیننٹ گورنر کو خط لکھتے کہ ہم چاہتے ہیں کہ طاقت آزمائی کے بعد اگر ہمیں اکثریت ملتی ہے تو یہ دو تین قدم اٹھائے جائیں۔ بجلی کے شرحوں میں 30 فیصد کٹوتی ، پانی کے بلوں میں راحت اور 9 گیس سلنڈروں کی جگہ12 وغیرہ وغیرہ۔ اکثریت ثابت کرنے کی جب باری آتی تو ممکن تھا کچھ بھی ہوسکتا تھا۔ نہ تو کانگریس اور نہ ہی آپ کے ممبر اسمبلی اور نہ ہی دہلی کی جنتا 6 مہینے میں دوبارہ چناؤ چاہتی ہے۔ ممکن ہے پولنگ کے دن کانگریسی ممبران اسمبلی میں کسی نہ کسی بہانے واک آؤٹ کرجاتے۔ کچھ بھی ہوسکتا تھا مان لو اکثریت ثابت نہ ہوتی تو استعفیٰ دے دیتے اور جنتا سے کہہ سکتے تھے کہ ہم تو عوام کے مفاد میں بہت کچھ قدم اٹھانا چاہتے تھے لیکن کانگریس اور آپ نے ہمیں ایسا کرنے سے روکا۔ دوبارہ چناؤ میں پارٹی کی پوزیشن اور مضبوط ہوتی۔ بی جے پی کو سرکار بنانی چاہئے تھی۔ اس نظریئے کے بہت سے بی جے پی کے ممبران بھی ہیں۔ دہلی بی جے پی پردھان وجے گوئل تو کھل کر بول رہے ہیں بی جے پی کو راجدھانی میں سرکار بنانے کی کوشش رکھنی چاہئے۔ ان کا کہنا ہے پارٹی کے چنے ہوئے زیادہ تر نمائندہ چناؤ نہیں چاہتے۔ اس کے علاوہ جنتا بھی دوبارہ چناؤ کے موڈ میں نہیں۔اور آپ پارٹی سے بات کرنی چاہئے ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس چناؤ میں جیتے ہوئے زیادہ تر پارٹی امیدوار ان سے گزارش کررہے ہیں کہ دہلی میں دوبارہ چناؤ نہ ہونے دینے کے لئے کوشش جاری رکھنی چاہئے۔ بی جے پی کو سرکار بنانی چاہئے۔ اکثریت نہ ملنے کے باوجود بھاجپا کے ممبران کا یہ بھی دباؤ تھا کہ وہ سرکار بنائے لیکن پارٹی اعلی کمان کے آگے ان کی ایک نہ چلی۔ ایسے ممبران کی تعداد ایک درجن سے زیادہ بتائی جارہی ہے۔ بدھوار کی رات دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کی دعوت پر جمعرات کو بھاجپا کے اسمبلی پارٹی کے لیڈروں سے رابطے میں رہے حالانکہ اسمبلی پارٹی کے لیڈر ڈاکٹر ہرش وردھن صبح ہی چھتیس گڑھ کے لئے روانہ ہوگئے تھے لیکن ممبران نے اپنے پردیش سطح کے لیڈروں سے خواہش ظاہر کی۔ا ن لیڈروں نے پردیش پردھان وجے گوئل سے کہا کہ سرکار بناکر بھاجپا کو جنتا کے وعدے پورے کرنے چاہئیں اور وہ اقلیتی سرکار میں بہتر انتظامیہ دے سکتے ہیں۔ جب اکثریت ثابت کرنے کی بات آئے گی تو ڈاکٹر ہرش وردھن یہ ایوان میں ثابت کردیں گے ۔دہلی کے شہریوں کو مہنگائی سے تھوڑی راحت دی جاسکتی تھی لیکن دوسری پارٹیوں کے ممبران نے ان کا ساتھ نہیں دیا اس لئے وہ استعفیٰ دینے پر مجبور ہیں۔ یہ تیسرا موقعہ ہے جب ڈاکٹر ہرش وردھن کے ہاتھ سے دہلی کے وزیر اعلی کی کرسی پھسلی ہے۔ اس سے پہلے بھی دو بار انہیں وزیر اعلی بننے کا موقعہ ملنے والا تھا لیکن آخری وقت میں پانسہ پلٹ گیا۔ پہلی بار ڈاکٹر ہرش وردھن کا مکھیہ منتری بننے کا موقعہ اس وقت آیا جب سال 1993 سے98 تک چلی بھاجپا سرکار کے حالات بگڑنے لگے تھے اس وقت صاحب سنگھ ورما کو کرسی گنوانی پڑی تھی۔ اس وقت طے ہوا تھا ڈاکٹر ہرش وردھن کو وزیر اعلی بنایا جائے گا لیکن آخری وقت پر پروفیسر وجے کمار ملہوترہ کو دہلی کے وزیر اعلی کا امیدوار اعلان کردیا گیا۔ اس وقت بھی پارٹی کی جیت کے پورے آثار تھے لیکن نتیجہ الٹا ہوا۔ دوسرا موقعہ 2008 ء میں آیا ۔ تب بھی ڈاکٹر صاحب کے ہاتھ سے کرسی کھسک گئی۔ سیاست کا آخری پڑاؤ اقتدار ہوتا ہے اس لئے تو آپ سیاست میں آتے ہو بھلے ہی آپ کی سرکار گر جاتی ہے لیکن آپ کو کوشش تو کرنی چاہئے تھے۔ تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ کانگریس پارٹی چھ مہینے کے اندر دہلی میں پھر سے اسمبلی چناؤ نہیں کروانا چاہے گی۔ چناؤ میں زبردست ہار کے غم سے کانگریس ابھی نکل نہیں پائی ہے اور دوبارہ چناؤ کے اندیشے نے پارٹی کے لئے لیڈر شپ کا بحران کھڑا کردیا ہے۔ کانگریس کسی بھی قیمت پر چناؤ کے لئے عام آدمی پارٹی کو بغیر شرط کے حمایت دینے کی پہل بھی کررہی ہے۔ 
دراصل نگراں وزیر اعلی شیلا دیکشت سمیت پارٹی کے تمام سرکردہ لیڈروں کے چناؤ ہارنے کے سبب کانگریس پردیش یونٹ میں لیڈر شپ کا بحران کھڑا ہوگیا ہے۔ ذرائع کی مانیں تو شیلا جی کی لیڈر شپ میں پارٹی دوبارہ چناؤ میدان میں نہیں اترنا چاہتی۔ ساتھ ہی چار ریاستوں میں پردیش پردھانوں کو بدلنے کے پارٹی ہائی کمان کے فیصلے کو عمل میں لانے کے لئے دہلی راہ کا روڑا بن رہی ہے۔ کانگریس اعلی کمان موجودہ پردھان جے پی اگروال کی جگہ ایسا لیڈر بنانا چاہتی ہے جس کی لیڈرشپ میں چناؤ لڑا جاسکے۔ موجودہ حالات میں اگر دہلی میں مستقبل قریب میں اسمبلی چناؤ ہوتے ہیں تو کانگریس کو اتنی سیٹیں بھی نہ ملیں۔ رہی بات بھاجپا کی تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے دوبارہ چناؤ میں اسے واضح اکثریت مل جائے؟ اگر چھ مہینے بعد معلق اسمبلی آئی تو؟ دہلی کی گدی تک نریندر مودی کو پہنچانے کی خاطر بھاجپا لیڈر شپ نے ڈاکٹر ہرش وردھن اور پارٹی کی دہلی یونٹ کو داؤ پر لگادیا ہے۔ ہوسکتا ہے وہ صحیح ثابت ہوں اور یہ غلط ہے سیاست میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ اس غیر یقینی سیاسی حالات کے چلتے دہلی کی جنتا مہنگائی کی مار سے پس رہی ہے اور مہنگائی اور بڑھے گی۔
(انل نریندر)

14 دسمبر 2013

دہلی کی جنتا کے مینڈیٹ کی توہین کررہے ہیں کیجریوال!

یہ ٹھیک ہے اسمبلی چناؤ میں دہلی کی عوام نے کانگریس سرکار کے خلاف منفی مینڈیٹ دیا ہے اور ساتھ ہی ووٹ دیا ہے لیکن ووٹ دیتے وقت یہ نہیں سوچا کہ کانگریس کی جگہ کون لے گا؟ اگر وہ عام آدمی پارٹی کو اکثریت دے دیتے یا بھاجپا کوچار پانچ سیٹیں زیادہ دے کر جتاتے آج دہلی میں سیاسی شش و پنج کے حالات نہ دیکھنے پڑتے۔ آج سبھی پریشان ہیں جو جیتا ہے وہ بھی اور جو ہارا ہے وہ بھی۔ اسمبلی چناؤ میں کسی کو اکثریت نہ دے کر چناؤ جیتے ممبران اسمبلی کو تو الجھن میں ڈال دیا ہے ساتھ ہی وہ امید وار بھی کم پریشان نہیں جو چناؤ ہار گئے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے جیتے ہوئے امیدواروں میں کچھ تو ایسے بھی ہیں جن کو جیت کے بعد ان کے حمایتی جب مبارکباد دینے آتے ہیں تو ان کے پاس چائے پلانے کے لئے پیسہ تک نہیں ہے۔وہ امیدلگائے بیٹھے ہیں کہ ’آپ‘ پارٹی سرکار بنائے اور انہیں اقتدار کا ذائقہ لینے کو ملے گا۔ جو ہارے ہیں انہیں یہ پریشانی ستا رہی ہے کہ انہیں دوبارہ ٹکٹ ملے گی یا نہیں؟ سیاسی گلیاروں میں بڑی پارٹیاں سرکار بنانے کو لیکر گیند ایک دوسرے کے پالے میں ڈال رہی ہیں۔ بھاجپا نے تو لیفٹیننٹ گورنر کو لکھ کر دے دیا ہے کہ وہ سرکار نہیں بنانا چاہتی کیونکہ جنتا نے اسے واضح اکثریت نہیں دی۔ اب عام آدمی پارٹی کے پالے میں گیند ہے۔ ان سب کے درمیان جنتا ایک الگ ہی رائے لیکر چل رہی ہے کہ اکثریت نہ ملنے کے باوجوددہلی کی کرسی تو’ آپ‘ کو ہی دینے کے حق میں ہے۔ عام جنتا دہلی میں دوبارہ چناؤ کرانے کے حق میں نہیں ہے۔ لوگوں کی رائے ہے کہ سیاست میں تجربہ حاصل کرنے کے لئے عام آدمی پارٹی کوکرسی ضرور سنبھالنی چاہئے۔ اروند کیجریوال کے نہ حمایت لینے نہ دینے کابیان جنتا کے گلے نہیں اتر رہا ہے۔ نہ وہ حمایت دینے کو تیار ہے نہ لینے کو تیار اور نہ ہی اقلیتی حکومت بنانے کو تیار۔ یہ سیاست ہے یا لوگوں کو گمراہ کر ووٹ لینے کے بعد ذمہ داری سے بھاگنا ہے؟ یہ سوال آپ کے خلاف آنے والے دنوں میں دونوں کانگریس اور بھاجپا اپنے سوالوں کی لسٹ میں شامل کریں گی۔ جمہوریت میں مینڈیٹ سب سے اہم ہوتا ہے نہ صرف جنتا کی یہ مانگ ہے کہ بالکل آپ ہی کی آئینی ذمہ داری بنتی ہے آئین میں اقلیتی حکومت کا ذکر ہے لیکن صرف جنتا کی بھلائی کے مفاد کے لئے کام کرنے والی بھاجپا اور آپ دوبارہ چناؤ کی بات کر لوگوں کو کروڑوں روپے اور وقت اور وسائل کی بربادی کی طرف تو جھونک رہے ہیں بلکہ اپنے جنتا سے کئے وعدوں سے بھی بھاگ رہے ہیں۔ کانگریس کے سابق ایم ایل اے مکیش شرما کا کہنا ہے دونوں ہی پارٹیوں نے جنتا سے جھوٹے وعدے کئے تھے جنہیں وہ پورا نہیں کرسکتیں اس لئے سرکار بنانے سے بچ رہے ہیں۔ ان پارٹیوں کی ضد کی وجہ سے جنتا کو مہنگائی جھیلنی پڑے گی جو راحت کی امید لے کر انہوں نے عام آدمی پارٹی کو ووٹ دیا تھا وہ امید بھی ٹوٹتی نظر آرہی ہے۔ اگر سرکار بنا کر عام آدمی پارٹی محض دو یا تین وعدے بھی پورے کردے تو جنتا کو راحت مل جائے گی۔ بجلی کے داموں میں کٹوتی اور 700 لیٹر پانی مفت دستیاب کرانا ان میں شامل ہے۔ لیکن کیجریوال جانتے ہیں کہ بجلی کے بل 30 فیصد کم کرنا ، فری پانی دینا جیسے وعدے وہ پورے نہیں کرسکتے اس لئے اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ رہے ہیں۔ کانگریس نے بھی کہہ دیا ہے کہ وہ آپ کی سرکار کی حمایت کرسکتی ہے پھر انہیں سرکار بنانے میں قباحت کیوں ہے؟ 28 ممبروں کے باوجود وہ لوک سبھا چناؤ سے پہلے کام کرکے دکھائیں نہ کہ جنتا کی مینڈیٹ کی توہین کرے۔ 
(انل نریندر)

لال، نیلی بتی اسٹیٹس سمبل بن گئی ہے!

دیش کو آزاد ہوئے ساڑھے چھ دہائی گزر چکی ہیں لیکن انگریزوں اور سامنت شاہی کی علامت لال بتی کے رتبے کا چلن آج بھی چل رہا ہے۔ لال یا نیلی بتی والی گاڑیوں میں چلنا ایک اسٹیٹس سمبل بن گیا ہے جو ہمیں سامنتی کلچر کی یاد دلاتا ہے۔ یہ خوشی کی بات ہے سپریم کورٹ نے ایسی حکم دیا ہے جس سے عام شہری کو راحت اور خوشی محسوس ہوگی۔ حالانکہ اس کو لیکر سپریم کورٹ نے ناراضگی جتائی ہے۔ ویسے یہ پہلا موقعہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی سپریم کورٹ دونوں مرکز اور ریاستی سرکاروں کو لال بتی اور سائرن والی گاڑیوں کے بیجا استعمال پر جھاڑ پلا چکی ہے ۔ اب اس نے ہدایت دی ہے کہ گاڑیوں میں لال بتی کا استعمال آئینی اور اعلی عہدوں پر بیٹھے لوگوں کو ہی کرنا ہوگا۔ ان میں صدر ، وزیر اعظم، کیبنٹ وزیر،کچھ سینئرافسر اور کچھ سینئر جج آتے ہیں۔ اس حکم کو سختی سے نافذ کرنے کے لئے سپریم کورٹ نے کہا ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ریاستی سرکاریں اس فہرست میں بدلاؤ نہیں کرسکتیں ۔ یعنی منمانی ڈھنگ سے لال بتی نہیں بانٹ سکتیں۔ اب تک ہوتا رہا ہے کہ ہر ریاستی سرکار اتنی فراغ دلی سے لال بتی بانٹتی تھی کہ تقریباً ہر سیاسی رسوخ والا آدمی چھوٹا بڑا سرکاری افسر لال بتی کی گاڑی میں گھومتا تھا۔ دراصل لال یا نیلی بتی رسوخ اور رتبے کی علامت بن گئی ہے۔ ایسی گاڑیوں میں بیٹھے لوگوں کو اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ ان کی وجہ سے عام آدمی کو کبھی کبھی سخت پریشانی جھیلنی پڑتی ہے۔ دہلی میں تو غیر متوقع طور پر تھوڑی سختی کے سبب ڈر ہے ورنہ ریاستی اور ضلع سطح پر کسی بھی پارٹی کا ضلع پردھان یا کسی ضلع کا ڈپٹی کلکٹر بھی لال بتی کی گاڑی کا سائرن بجاتے ہوئے سڑکوں پر دکھائی دے جاتا تھا۔ سپریم کورٹ نے بھی وہی بات کہی ہے جو اس سے پہلے کئی بار کہی جاچکی ہے کہ گاڑی پر لال بتی دراصل ایک اسٹیٹ سمبل بن گئی ہے اور اس کا استعمال لوگ یہ دکھانے کے لئے کرتے ہیں کہ وہ عام آدمی نہیں بلکہ خاص آدمی ہیں۔ عدالت نے یہ ریمارکس دیا ہے کہ لال بتی انگریزوں کے راج کا بوجھ ہے جسے ہم آج تک ڈھو رہے ہیں۔ بھارت میں کرپشن کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ عام آدمی اور خاص آدمی یا وی آئی پی کے درمیان بڑا فرق موجود ہے جو جمہوریت کے بنیادی جذبے کے منافی ہے۔ حقیقت میں اس سسٹم نے آزاد بھارت کے شہریوں کو دو طبقوں میں بانٹ دیا ہے حالانکہ جب سے یہ معاملہ نوٹس میں آیا ہے یہ بحث چل رہی ہے کہ آخر کنہیں وی آئی پی یا اہم شخصیت مانا جائے۔ آئینی طور پر دیکھیں تو یہ دائرہ کافی بڑا ہوجاتا ہے کیونکہ اس میں صدر ،نائب صدر، لوک سبھا سپیکر،پردھان منتری، اپوزیشن لیڈر، کیبنٹ منتری، چیف جسٹس، چیف الیکشن کمشنر اور سی اے جی سمیت تمام آئینی اداروں کے سربراہ آجاتے ہیں۔ یہ ہی حال نیلی بتی والی گاڑیوں کا ہے جنہیں پولیس فوج ،فائر سروس سے متعلق گاڑیوں کے لئے مجاز کیا گیا ہے لیکن اس کا بھی بیجا استعمال نہیں روکا جاسکا۔ جس دیش میں ٹریفک قواعد کوتوڑنے والے 100-50روپے دیکر چھوٹ جاتے ہوں وہاں بہت کچھ بدلنے کی ضرورت ہے۔ اب یہ ضروری ہے کہ مرکزی سرکار آئینی ادارے اور تمام ریاستی سرکاریں دیش کے ہر حصے میں اس حکم کی سختی سے تعمیل کرائیں۔ تبھی بھارت کی جمہوریت سے اس سامنتی ملاوٹ کو دور کیا جاسکتا ہے۔
(انل نریندر)

13 دسمبر 2013

شکست کے بعدکانگریس میں اندر اور باہر لیڈر شپ پر اٹھے سوال!

جیسا کہ میں نے اسی کالم میں اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ چار ریاستوں میں کراری ہار سے کانگریس کے اندر اور اس کے ساتھیوں میں لیڈر شپ کے خلاف بغاوتی آوازیں اٹھنے لگیں گی۔ ویسا ہی اب دیکھنے کو مل رہا ہے۔ آخر ہار کی ذمہ داری کسی کو تو لینی پڑے گی اس سے بھی زیادہ اہم شاید یہ ہے کہ 2014ء کے عام چناؤ کے لئے کانگریس کی قیادت کون کرے گا؟ پہلے بات کرتے ہیں کانگریس کے اندر اس شرمناک ہار کے بعد اٹھی بغاوت کی آوازیں۔ اگر ہم دہلی سے شروع کریں تو سابق وزیر اعلی شیلا دیکشت نے ہار کی سب سے بڑی وجہ پارٹی کے سینئر لیڈروں سے تعاون نہ مل پانے کو بتایا۔ان کا اشارہ صاف طور پر دہلی پردیش کانگریس کے پردھان جے پرکاش اگروال کی جانب ہے۔ یہ صحیح ہے کہ دہلی اسمبلی چناؤمہم میں اکیلی شیلا جی ہی دن رات ریلیوں میں تقریر کرتی نظر آئیں۔ اس کے پیچھے جے پرکاش اور شیلا جی کے درمیان کافی عرصے سے 36 کا آنکڑا بھی ایک وجہ تھی۔ جے پرکاش کا کہنا تھا کہ شیلا جی ہمیشہ اپنی مان مانی کرتی تھیں اور کہیں بھی انہوں نے انہیں ساتھ لینے کی کوشش نہیں کی۔ راجستھان سے بھی اشوک گہلوت حمایتی اب کھل کر نائب صدر راہل گاندھی پر یہ کہتے ہوئے الزام لگا رہے ہیں کہ پولنگ سے ٹھیک پہلے سی پی جوشی کا نام آگے بڑھا کر وہ کیا سندیش دینا چاہتے تھے؟ لیکن سب سے تلخ حملہ پارٹی کے سینئر لیڈر منی شنکر ایئر نے کیا۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے 2014 کے لوک سبھا چناؤ میں خدشہ ظاہر کرتے ہوئے یہ کہہ کر سنسنی پھیلادی کے کچھ وقت پہلے اپوزیشن میں بیٹھنا پارٹی کے لئے اچھا رہے گا۔ ایئر نے پارٹی میں زبردست تبدیلی کی وکالت کر تنظیم میں انقلابی سطح پر قدم اٹھانے کی صلاح دی ہے۔ حالیہ ریاستی اسمبلی چناؤ میں زبردست شکست کے بعد کانگریس میں خود محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے اور اس تجویز کو ناکافی مانتے ہوئے ایئر نے کہا کہ اب کافی دیر ہوچکی ہے ان کا کہنا تھا دیش کے32 لاکھ پنچایت نمائندوں میں ایک تہائی کانگریسی ہیں۔ 10 لاکھ کیڈر کی پارٹی دیش میں دیگر کسی پارٹی کو دھول چٹا سکتی ہے لیکن جب اس کا استعمال نہیں ہوگاتو نتیجے اسی طرح کے آئیں گے۔ نچلی سطح کی لیڈر شپ تبدیلی کے لئے کارروائی ہونی چاہئے لیکن چاپلوسی کے کانگریسی کلچر کے چلتے ہمیں شبہ ہے کہ پارٹی میں کچھ خاص تبدیلی ہوگی۔لیکن معاملہ جوں کا توں رہے گا اور پارٹی دگوجے سنگھ جیسے چاپلوس لیڈروں کے دم خم پر چلتی رہے گی اور ٹوٹے گی۔ اب بھی دگوجے سنگھ کہہ رہے ہیں کہ اسمبلی چناؤ کے نتائج راہل گاندھی کے خلاف ریفرنڈم نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا اسمبلی چناؤ عام چناؤ سے الگ ہوتے ہیں اور انتخابات میں کانگریس کو ہوئے نقصان کو 2014ء میں لوک سبھا چناؤ میں اس کی ہار کا اشارہ نہیں مانا جاسکتا۔ اشو الگ ہوتے ہیں۔ اسی درمیان ایک سرکردہ لیڈر ستیہ ورت چترویدی نے اپنا تلخ تبصرہ کیا ہے کہ کانگریس کے جو خراب حالات بنے ہیں اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ اعلی کمان چاپلوسوں کی زیادہ سنتا ہے۔ سبھی جانتے ہیں کانگریس میں اعلی کمان کا مطلب پارٹی چیف سونیا گاندھی ہیں۔ ایسے میں ستیہ ورت نے ایک طرح سے سونیا گاندھی کو ہی آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ متنازعہ تبصروں کیلئے مشہور ستیہ ورت کا مدھیہ پردیش کی سیاست میں کافی دبدبہ رہا ہے۔ اسی وجہ سے تنظیم کی قومی لیڈر شپ نے انہیں لگاتار نظر انداز کیا ہے۔ انہوں نے مدھیہ پردیش میں پارٹی کی ہار کی ذمہ داری سیدھے طور پر دگوجے سنگھ پر چھوڑی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فی الحال دو سال سے کانگریس لیڈر شپ سے بار بار کہا جارہا ہے کہ مدھیہ پردیش کی جنتا دگوجے سنگھ کو سب سے زیادہ ناپسند کرتی ہے لیکن کانگریس لیڈر شپ ان لوگوں کی بات نہیں سنتا جو کڑوی باتیں سنتے ہیں۔ مدھیہ پردیش میں کانگریس کو نقصان پہنچانے والے دگوجے سنگھ کو پورے چناؤ میں سب سے زیادہ اہمیت دی گئی۔ جس آدمی کو سب سے زیادہ ناپسند کیا جاتا ہے اسے سب سے زیادہ اہمیت دے کر آخر کانگریس لیڈر شپ کرنا کیا چاہتی ہے؟ ستیہ ورت کہتے ہیں کہ اگر جوتر ادتیہ سندھیا کو چناؤ مہم کی کمان سونپی جاتی تو بہتر نتیجے آتے۔ وہ کہتے ہیں کیا دگی کے نام کانگریس لیڈر شپ نے مدھیہ پردیش کی جاگیر لکھ دی ہے؟ ادھر مرکز میں بھی کانگریسیوں نے پارٹی لیڈر شپ کی ناک میں دم کردیا ہے۔ منموہن سرکار کے خلاف آندھرا پردیش کے ناراض ممبران نے اپنی ہی سرکار کے خلاف عدم اعتمادکا نوٹس دے دیا ہے۔ انہوں نے اس غیرمقبول سرکار کو گرانے کے لئے نمبر بھی اکھٹے کرنے کا کام شروع کردیا ہے۔ وجے واڑہ سے کانگریس ایم پی ایل راج گوپال نے کہا کہ ہمیں آندھرا پردیش اور ریاست کے باہر سے کچھ ایم پی کی حمایت ملی ہے۔ یہ تحریک عدم اعتماد ایک غیر مقبول سرکار کے ذریعے تلنگانہ بل کو پارلیمنٹ میں پیش ہونے سے روکنا ہے۔ اب بتا کرتے ہیں یوپی اے سرکار کی اتحادی اور حمایتی پارٹیوں کی ان میں ڈی ایم کے ، ترنمول کانگریس جیسی اتحادی پارٹیاں پہلے ہی الگ تھلگ وجوہات سے یوپی اے سے باہر ہوچکی ہیں۔ تمام کوششوں کے باوجود جنتادل (یو) بھی اب یوپی اے کنبے سے جڑنے سے کترارہی ہے۔ بیجو جنتا دل بھی یوپی اے سے دوری بنائے رکھنے کی سوچ رہی ہے۔ دہلی میں عام آدمی پارٹی کی تاریخی جیت سے تیسرے مورچے کے لئے حوصلہ پارہی علاقائی پارٹیوں کو نئی آکسیجن مل گئی ہے۔ این سی پی کے چیف شرد پوار اس بار بھی نہیں چوکے۔ انہوں نے کہا کانگریس جب سنکٹ کے دور میں آتی ہے تو وہ ایسی ہی چالیں چلتی ہے۔ انہوں نے بغیر نام لئے کانگریس کے یووراج پر طنز کسا اور کہہ دیا لیڈر شپ کی کمزوری کی وجہ سے کانگریس چناؤ ہارتی ہے۔ ایسے میں وقت رہتے کانگریس لیڈر شپ کے بارے میں دوبارہ سے نظرثانی کرنی چاہئے۔ دیش چاہتا ہے لیڈر شپ مضبوط اور پائیدار ہو۔ تاریخ انور نے راہل گاندھی کا نام لے کر کہہ دیا اس ہار پر راہل گاندھی کو منتھن کرنا چاہئے کیونکہ کانگریس نے چناؤانہی کی غیر اعلانیہ قیادت میں لڑے تھے۔ اس لئے ہار کی ذمہ داری انہیں لینی چاہئے۔ان چناؤ نتیجوں کے نفع نقصان کیلئے کانگریس تو ذمہ دار ہے ہی اور یہ ہی اب دیش کا موڈ ہے کہ لوگ کانگریس کے خلاف ہیں۔ ان چاروں ریاستوں میں لوگوں نے کانگریس کو مسترد کردیا ہے۔ لوگ بھلے ہی ماننے کو تیار ہوں نہ ہوں ان چناؤ کا بڑا اثر آنے والے2014ء لوک سبھا چناؤ میں پڑنے والا ہے۔ لیکن اس سیاسی واقعے سے یوپی اے کی کانگریسی اتحادی پارٹیاں سہم گئی ہیں۔ انہیں لگنے لگا ہے کانگریس کے ساتھ ہی چپکے رہے تو ان کا بھی سیاسی وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اسی کے چلتے کانگریس کے کئی ساتھیوں نے اب الگ راستے پر چلنے کا متبادل تلاشنا شروع کردیا ہے۔کل ملا کر کانگریس کے اندر کانگریس کی اتحادی پارٹیوں نے کانگریس لیڈر شپ کی قابلیت پر سوال کھڑے کرنے شرو ع کردئے ہیں۔ دیکھیں 100 سال کی پرانی اس بڑی پارٹی کو مستقبل میں صحیح لیڈر شپ ملتی ہے یا یوں ہی یہ پارٹی دھرے پر چلتی رہے گی۔
(انل نریندر)

12 دسمبر 2013

حالیہ اسمبلی انتخابات میں بھاجپا کی جیت کیامودی فیکٹر کو جاتی ہے؟

چار ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتیجے آنے کے بعد اب یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ کیا یہ نتائج بی جے پی کے پی ایم اِن ویٹنگ نریندر مودی کی لہر کی وجہ سے آئے ہیں یا پھر اس کا سہرہ ان چار ریاستوں کے موجودہ وزرائے اعلی اور اِن ویٹنگ وزرائے اعلی کو جاتا ہے؟ یہ سوال اس لئے اٹھا ہے کیونکہ نریندر مودی نے ان چار ریاستوں میں زور دار طریقے پر چناؤ مہم میں حصہ لیا لیکن ایکطرفہ جیت تین ریاستوں میں ملی۔ چوتھی ریاست دہلی جہاں مودی نے بہت محنت کی۔ پارٹی اکثریت تک نہیں لاسکی۔ یہ ہی نہیں بلکہ دہلی میں تو پارٹی کا ووٹ فیصد پچھلے اسمبلی چناؤ سے بھی گھٹ گیا؟ سب سے پہلے تو ہمارا خیال ہے کہ لوک سبھا چناؤ نہیں جہاں مودی کی مقبولیت کا امتحان ہونے والا ہے یہ اسمبلی انتخابات ہیں جو ریاستی سرکاروں کی کارگزاری، ساکھ، وزیر اعلی کی مقبولیت ، مقامی اشوز پر لڑا گیا نہ کے نریندر مودی کی شخصیت پر لڑا گیا۔ کانگریس تو یہ کہے گی کہ بی جے پی مودی کی لہر کی وجہ سے نہیں کامیاب ہوئی۔ مدھیہ پردیش کے جوتر ادتیہ سندھیہ نے ریاست میں بی جے پی کی جیت کا سہرہ مودی کے سر باندھنے سے انکار کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جیت کی اصلی وجہ مودی نہیں شیو راج سنگھ چوہان ہیں۔ اسی طرح کی بات دگوجے سنگھ، نتیش کمار نے بھی کہی۔ حیرانی اس بات کی ہے امریکی ماہرین کا بھی ماننا ہے چار ریاستوں کے اسمبلی الیکشن کے نتائج سے اگلے سال ہونے جارہے عام چناؤ سے پہلے اپوزیشن بی جے پی کو بھروسہ ضرور فراہم کیا ہے لیکن اس میں نہ تو مودی کی لہر کا کوئی اشارہ دکھائی دیا اور نہ ہی اگلے سال ایسی ہی پرفارمینس کی گارنٹی ہے۔ 
ہندوستان کے انتخابات پر قریب سے نظر رکھنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ اور دہلی جہاں عام آدمی پارٹی نے بہت سے لوگوں کو چونکا دیا، میں بھاجپا کی اچھی کارکردگی کی ایک واحد وجہ مودی نہیں ہیں۔ ساؤتھ ایشیا میکلارٹی ایسوسی ایسٹ کے ڈائریکٹر رچرڈ ایم روسو نے کہا کہ ان ریاستوں میں بی جے پی ہمیشہ مقابلے میں رہی۔ مرکز کے اقتدار کے سیمی فائنل سمجھے جانے والے ان اسمبلی انتخابات کے نتائج سے بی جے پی کا خیمہ کافی گدگد ہے۔ ووٹروں نے بہتر کام کاج کرنے والی سرکاروں کو نہ تو انعام دینے میں کنجوسی کی اور نہ ہی امیدوں پر کھری نہ اترنے والی پارٹیوں کو سزا دینے میں۔ ووٹروں نے چار ریاستوں میں کانگریس کا صفایا کرکے یہ طے کردیا کہ پارٹی 2014ء کے فائنل دوڑ میں بہت پیچھے چھوٹ گئی ہے۔ اس سیمی فائنل میں بھاجپا کا پرچم لہرانے سے بلا شبہ نریندر مودی کی پی ایم امیدواری کو اور پنکھ لگ گئے ہیں۔اسمبلی چناؤ سے پہلے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو پی ایم امیدوار اعلان کرنے میں پارٹی کے اندر اختلافات تھے۔ اڈوانی خیمے کا کہنا تھا کیونکہ یہ ریاستی چناؤ ہیں اس لئے ان کے نتائج آنے کے بعد ہی مودی کی دعویداری دیش کے سامنے پیش کرنی چاہئے لیکن پارٹی پردھان راجناتھ سنگھ نے کہا نہیں ریاستی اسمبلی چناؤ سے پہلے ہی دعویداری پیش ہوجانی چاہئے۔ اس خیمے کا خیال ہے کہ ان کا فیصلہ صحیح تھا اور مودی کا داؤ اسمبلی چناؤ میں پارٹی کے لئے فائدے مند ثابت ہوا۔
مودی کی قیادت کو مرکز میں رکھ کر حالیہ اسمبلی چناؤ لڑا بھاجپا نے مودی کی امیدواری کا جم کر پروپگنڈہ کیا اور اس طرح اس نے ایک تیر سے دو نشانے لگانے کا کام کیا۔ ایک طرف بھاجپا نے مودی کو پی ایم امیدوار کی شکل میں پیش کیا تو دوسری طرف حکمت عملی کے تحت وزرائے اعلی کے عہدے کے امیدواروں کو مودی کے ساتھ مرکز میں رکھا لہٰذا چاروں ریاستوں میں بھاجپا کو مودی فیکٹر کا فائدہ ملا۔ اسے مہنگائی کا اثر کہیں یا پھر مودی کی لہر، جس سے راہل گاندھی بھی کانگریس کو نہیں بچاپائے اور مودی نے راہل گاندھی کو چناؤ مہم میں بری طرح بے نقاب کردیا۔آج یہ مودی کی وجہ سے ہی کانگریس میں لیڈر شپ کی صلاحیت کو لیکر خود کانگریسی اور ان کی حمایتی پارٹیاں آوازیں اٹھا رہی ہیں۔ حریف پارٹیاں دیش میں مودی کی لہر ماننے سے کترارہی ہیں لیکن اسمبلی چناؤ میں مودی فیکٹر کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کے مقابلے بھاجپا کے امیدواروں کو جیت دلانے میں بھاری پڑا۔ طوفانی چناؤ مہم کے دوران نریندر مودی اور راہل گاندھی نے 11 اسمبلی حلقوں میں ریلیاں کیں۔ یہ ریلیاں بیکانیر، بانسواڑہ، جے پور، اجمیر، دکشن پوری، اندور، شہڈول، رائے پور، بستر، جگدلپور میں ہوئی تھیں۔ ان ریلیوں کا 27 سیٹوں پر سیدھا اثر تھا۔ دونوں پارٹیوں کے اسٹار کمپینروں کو ریلیوں کے اثر والے مقامات سے 9 سیٹیں ملیں۔ بیکانیر سے 2، بانسواڑہ سے1، اجمیر سے2، رائے پور کی3، اندور کی4 ،جگدلپور کی1 ، مندسور کی1 سیٹ پر بھاجپا امیدواروں کا جیتنا مودی فیکٹر کی وجہ رہا۔
اسمبلی چناؤ نتائج نے بی جے پی کا حوصلہ نہیں بڑھایا بلکہ اس نے اعتماد بھی مضبوط کیا۔ دراصل ایک نظریئے سے چناؤ نتائج نے عام چناؤ سے پہلے پارٹی کے اس فیصلے پر مہر لگادی جسے لیکر سب سے زیادہ تنازعہ اور ہائے توبہ مچی تھی۔ چار ریاستیں جو سبھی اہم ہیں، جنتا نے بھاجپا کو شاندار طریقے سے کامیابی دلا کر یہ پیغام دیا ہے کہ نریندر مودی کی لیڈر شپ پائیدار ہے اور انہیں وزیر اعظم امیدوار بنائے جانے کے فیصلے پر بھی مہر لگادی۔اب پارٹی اس مودی لہر کو طوفان میں بدلنے کی کوشش کرے گی۔ بلا شبہ نریندر مودی اور مضبوط ہوکر سامنے آئے ہیں۔ آخر میں نریندر مودی نے کانگریس کے چٹکی لیتے ہوئے کہا کہ سونیا گاندھی کی سربراہی والی پارٹی کو چاروں ریاستوں میں آئی کل سیٹیں بھاجپا کے ذریعے ایک ریاست میں جیتی گئی سیٹوں کے برابر بھی نہیں ہیں۔ ذرائع کے مطابق بھاجپا پارلیمانی بورڈ نے دہلی میں اکثریت نہ ملنے کے سبب مودی کو سامنے نہیں کیا اور مودی نے ٹوئٹر کا سہارا لیا۔ حالانکہ کچھ لوگ بی جے پی میں چاہتے تھے کہ مودی سامنے آکر جیت پر اپنی رائے رکھیں۔
(انل نریندر)

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...