Translater

25 اگست 2012

بھاجپا کوئلہ الاٹمنٹ گھوٹالے پر کانگریس کو بخشنے کو تیار نہیں


کوئلہ بلاک الاٹمنٹ کا معاملہ اپوزیشن کے ہاتھ ایسا لگ گیا ہے جس سے خود وزیر اعظم اور یہ سرکار آسانی سے بچ نہ پائے گی۔ کانگریس اپوزیشن اتحاد کو توڑنے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے۔ ڈس انفارمیشن، مس انفارمیشن،خبر پلانٹ کرنے کا دور زوروں سے جاری ہے۔ پارٹی نے جمعرات کو یہ بات اڑا دی کے بھاجپا ایم پی لوک سبھا سے استعفیٰ دے سکتے ہیں۔ بعد میں بھاجپا کو اس کی تردید کرنی پڑی۔ کوئلہ بلاک الاٹمنٹ پر بھارت کے کمپٹرولر اڈیٹر جنرل کی رپورٹ کو لیکر وزیر اعظم منموہن سنگھ کے استعفے پر اڑی بھاجپا نے صاف کیا کہ وہ نہ تو پارلیمنٹ چلنے دیں گے اور نہ ہی لوک سبھا سے استعفیٰ دیں گے۔ پورے معاملے میں ایک دلچسپ موڑ اس وقت آیا جب بدھوار کو دوپہر دو بجے لوک سبھا کی کارروائی شروع ہونے والی تھی اس وقت شرد پوار اور سپا چیف ملائم سنگھ یادو بات کررہے تھے تو سشما سوراج ان کے پاس پہنچ گئیں اور بولیں شرد بھائی جب مہنگائی ہوتی ہے تو کانگریس کے لوگ آپ کو پھنساتے ہیں۔ ٹو جی گھوٹالہ ہوتا ہے تو راجہ کو جیل بھجوا دیتے ہیں، کنی موجھی کو تہاڑ پہنچا دیتے ہیں۔ پہلی بار کانگریس کے لوگ سیدھے سیدھے پھنسے ہیں۔ جس وقت کوئلہ بلاکوں کا بٹوارہ ہوا وزیر اعظم خاص طور سے نشانہ بنے ہیں اس لئے انہیں کیسے چھوڑدیں؟ ہر چیز پران کے دستخط اور دوسروں پھنسا کر خود بچ جاتے ہیں۔ شرد پوار اور ملائم سنگھ چپ چاپ یہ سنتے رہے، بولے کچھ نہیں۔ دراصل بھاجپا کے اندر یہ رائے بن چکی ہے کہ کانگریس زیادہ تر گھوٹالے پر اپنا ٹھیکرا اپنے اتحادیوں کے سرپھوڑ دیتی ہے اور خود پاک صاف ہونے کا دعوی کرتی ہے۔ کیونکہ اس مرتبہ کانگریس سیدھے سیدھے پھنسی ہے اس لئے اسے بھی تھوڑا سبق سکھانا چاہئے۔ پارلیمنٹ کے اندر اورباہر بنے اس ماحول سے گد گد بھاجپا کے حکمت عملی سازوں اب اس لڑائی کو مرحلہ وار طریقے سے لڑنے کی اپنی اسکیم کو انجام دینے کے موڈ میں نظرآرہے ہیں اور منصوبہ بند طریقے سے لڑائی کے اشارے خود پارٹی کے سینئر لیڈر یشونت سنہا نے بھی دئے۔ پارٹی نیتا حالانکہ پہلے تو جے پی سی سے اپنے ممبران کے استعفے دینے کی بات کو مسترد کرچکے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہنے سے نہیں چوکے کہ جے پی سی میں جانے یا نہ جانے کی بات ابھی پوری طرح اس کے چیئرمین پی سی چاکو کے برتاؤ پر منحصر ہے۔پارٹی کی حکمت عملی کا یہ پہلا مرحلہ ہے کہ اگر جے پی سی کے چیئرمین ٹو جی گھوٹالہ میں گواہی کے لئے وزیر اعظم یا وزیر خزانہ کو بلانے کیلئے تیار نہیں ہوتے تو ان پر سرکار کے اشارے پر کام کرنے کا الزام لگاتے ہوئے بھاجپا کے ممبر اجتماعی طور سے جے پی سی سے استعفیٰ دیں گے۔ دوسرے مرحلے کے تحت پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ کی دیگر کمیٹیوں سے بھی اپنا استعفیٰ دیں گے۔ اس درمیان پارٹی پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر اپنی تحریک کو تیز کرے گی۔ حالانکہ ابھی تیسرے اور چوتھے مرحلے اورپانچویں مرحلے کو لیکر تھوڑی الجھن کی حالت بنی ہوئی ہے لیکن اتنا ضرور لگتا ہے کہ بھاجپا نے طے کرلیا ہے کہ اس بار کانگریس کو اتنی آسانی سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔ دوسری طرف سونیا گاندھی نے بھی اپنے ممبران کو لڑنے کی تیاری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ لگتا ہے کہ لڑائی ابھی لمبی چلے گی۔
(انل نریندر)

بابا رام دیو کی مشکلیں کم ہوتیں دکھائی نہیں پڑتیں


یوگ گورو بابا رام دیو سے یوپی اے سرکار اب اپنی غصہ نکالنے پر تلی ہوئی ہے۔بابا پر سیدھا ہاتھ نہ ڈالتے ہوئے سرکار نے ان کی فارمیسی اور ان کے سب سے قریبی بال کرشن پر ہاتھ ڈالا ہے۔ دلی میں رام لیلا میدان میں تحریک ختم کرکے بابا ہری دوار پہنچے ہی تھے کہ ان کے دویہ یوگ آشرم میں جمعرات کو اتراکھنڈ کے محکمہ خوراک و ادویات کے افسروں نے چھاپہ مارا ۔ اور دوائیوں کے نمونے اکٹھے کئے۔ تین گھنٹے تک چلی کارروائی میں شہد، نمک، چنے کا آٹا وغیرہ کے نمونے اکٹھے کئے گئے۔ رام دیو نے اسے مرکزی سرکار کے اشارے پر کی گئی کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ عام آدمی اور اونچے طبقے کے بیچ لڑائی ہے۔ کیا انہوں نے (سرکار) نے کبھی غیر ملکی کمپنیوں پر چھاپے مارنے کی ہمت دکھائی؟ لیکن مجھے نشانہ بنایا گیا۔ لیکن چھاپے کے تھوڑی دیر بعد بابا کے لئے ایک اچھی خبر آئی ان کے سب سے قریبی بال کرشن کو اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے جمعرات کو ضمانت دے دی۔ بال کرشن کو فرضی دستاویز سے وابستہ معاملوں میں سی بی آئی نے20 جولائی کو گرفتار کیا تھا۔ بال کرشن پر جعلی پاسپورٹ حاصل کرنے اور جعلی تعلیمی ڈگری کا استعمال کرنے کا الزام ہے۔ بال کرشن کی ضمانت عرضی نچلی عدالتوں سے دو بار خارج ہو چکی ہے اس کے بعد انہوں نے ہائی کورٹ کی پناہ لی۔ سی بی آئی نے10 جولائی کو بال کرشن کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔ سمن بھیجے جانے کے بعد بھی بال کرشن پیش نہیں ہوئے۔ بابا اور بال کرشن کی دوستی اٹوٹ ثابت ہورہی ہے۔ آچاریہ کی گرفتاری سے نہ تو انتظامات پر فرق پڑا اور نہ ہی وہ قیاس آرائیاں سچ ثابت ہوئیں کہ دونوں کے رشتوں کو لیکر اختلافات ہیں۔ ضمانت پر رہا ہوکر لوٹتے ہی پتنجلی یوگ پیٹھ کے تمام اختیارات پھر بال کرشن کے پاس آگئے ہیں۔ ایم ڈی کی شکل میں تمام اداروں کے افسر آچاریہ کو رپورٹ کررہے ہیں۔پچھلے سال4 جون کے واقعہ کے بعد جس طرح آچاریہ کو پاسپورٹ کے اشو پر سی بی آئی نے گھیرنا شروع کیا تھا اسے دیکھتے ہوئے قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ بابا رام دیو کا خاندان پتنجلی پیٹھ کے تمام اختیار سنبھال لے گا۔ بابا حالانکہ بار بار کہتے رہے ہیں کہ آچاریہ کے بغیر پتنجلی کا وجود ادھورا ہے۔ یہ سارے خدشات بے بنیاد ثابت ہوئے۔ بابا رام دیو اور آچاریہ بال کرشن میں گھیرے رشتے ہیں لیکن بابا رام دیو کی مشکلیں فی الحال کم ہوتی نہیں دکھائی پڑتیں۔ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے ان کے ساتھی بال کرشن کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ اس کے بعد بال کرشن کو گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ ای ڈی جانچ کرے گا کہ بال کرشن نے بیرونی ممالک سے پیسے کے لین دین میں منی لانڈرنگ روک تھام قانون کس طرح سے توڑا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ معاملہ بال کرشن کے خلاف سی بی آئی کے ذریعے درج کی گئی ایف آئی آر کی بنیاد پر درج کیا گیا۔ ای ڈی کو شبہ ہے کہ اس فرضی پاسپورٹ کا استعمال کرکے بال کرشن نے غیر ملک سے غیر قانونی پیسے کا لین دین کیا ہے۔ بابا رام دیو کی پریشانیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ منموہن سرکار ہر طرح سے بابا پر دباؤ بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ اس سے تو یہ بھی لگتا ہے کہ بابا اور سرکار کے درمیان کوئی خفیہ سمجھوتہ نہیں ہوا جیسا کہ قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں۔
(انل نریندر)

24 اگست 2012

راج ٹھاکرے نے اٹھائی بنگلہ دیشی گھس پیٹھیوں کیخلاف آواز


منگلوار کو مہاراشٹر نو نرمان سینا (منسے) صدر راج ٹھاکرے نے گرگام چوپاٹی سے ممبئی کے آزاد میدان میں زبردست ریلی نکال کر ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش کی۔ ہزاروں کی تعداد میں ریلی کرکے یہ ثابت کردیا کہ ممبئی کی راج نیتی میں وہ ایک ابھرتی شکتی ہیں جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے ایک ہی لفظ میں کانگریس، این سی پی گٹھ بندھن کو تو اپنی بڑھتی طاقت کا احساس تو کرایا ہی ساتھ ہی شیو سینا اوربھاجپا کو بھی اپنی حیثیت جتادی۔ پولیس کے منع کرنے کے بعد بھی مہاراشٹر نو نرمان سینا کے صدر راج ٹھاکرے پہلے گرگام چوپاٹی پہنچے وہاں سے پیدل چل کر آزاد میدان گئے۔پولیس نے آزاد میدان میں پروگرام کرنے کی منظوری تو دی تھی لیکن سڑک پر مارچ کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ ہم راج ٹھاکرے کو اس بات کی ہمت دکھانے کے لئے بدھائی دیتے ہیں کہ ریلی میں انہوں نے جم کر ان غیر قانونی گھس پیٹھ بنگلہ دیشیوں کے خلاف آواز اٹھائی۔ آخر کسی نے تو ہمت کی۔آزاد میدان میں لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے راج ٹھاکرے نے 11 اگست کے فسادکے لئے وزیر داخلہ آر آر پاٹل اور پولیس کمشنر سروپ پٹنائک کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ 11 اگست کو آزاد میدان پررضا اکیڈمی نے آسام تشدد کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔ بعد میں بھڑکے فساد میں دو لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔ 55 لوگ زخمی ہوئے تھے ان میں سے45 پولیس والے تھے۔ میڈیا کے ساتھ بھی مار پیٹ ہوئی تھی۔ راج ٹھاکرے نے کہا کہ پولیس پر حملہ کرنے والے مہاراشٹرین نہیں ہوسکتے۔ یہ بنگلہ دیشیوں اور پاکستانیوں کی کرتوت ہے۔ دھمکی بھرے لہجے میں کہا کہ پولیس پر ہاتھ اٹھانے والے کسی بھی دھرم کا ہو اسے وہیں پیٹ کر صحیح کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش اور پاکستان سے آکر لوگ پہلے جھارکھنڈ اور بہار میں رکتے ہیں پھر وہاں سے ٹرینوں میں بھر بھر کر ممبئی پہنچ جاتے ہیں۔انہی لوگوں کے بوتے پر ابو عاصم اعظمی (سپا) صدر جیسے نیتا دو دو ودھان سبھا جیت جاتے ہیں۔ راج ٹھاکرے نے ہندوتو کے مدعے پر صفائی دیتے ہوئے کہا کہ یہ طویل مورچہ انہوں نے کسی کے مدعے کو عام کرنے کے لئے نہیں نکالا بلکہ ممبئی فساد میں شکار ہوئے پولیس والوں اور میڈیا والوں کا حوصلہ بڑھانے کے لئے نکالا ہے۔مہاراشٹر نو نرمان سینا کے صدر راج ٹھاکرے نے پولیس کے منع کرنے کے بعد بھی ریلی نکالی اور آزادمیدان میں بھاشن دیا۔ ان کے بھاشن کے بعد مہاراشٹر پولیس کے کانسٹیبل پرمود ٹاوڑے نے منچ پر جاکر انہیں پھول دئے۔ تھوڑی دیر بعد ہی پولیس نے پرمود کو حراست میں لے لیا۔اس پر ڈیوٹی کے دوران ڈسپلن توڑنے کا الزام ہے۔ پرمود نے کہا کہ11 اگست کے واقعہ کے بعد راج ٹھاکرے پہلے نیتا ہیں جنہوں نے پولیس کا حوصلہ بڑھایا ہے۔ راج ٹھاکرے ،شیو سیناٹھاکرے بالا صاحب کے نقشے قدم پر چل رہے ہیں۔ اب تو ٹھاکرے پریوار میں صلح ہوگئی ہے۔ مہاراشٹر ودھان سبھا چناؤ میںیقینی طور پر بال ٹھاکرے ایک شکتی کے روپ میں سامنے آئیں گے۔ انہوں نے اس غیرقانونی گھس پیٹھیوں اور ماحول بیگاڑنے والے لوگوں کے خلاف کھل کر آواز اٹھانے کی ہمت تو دکھائی۔
(انل نریندر)

بینی پرساد جیسے دوست ہوں تو کانگریس کو دشمنوں کی ضرورت نہیں


کانگریس میں بینی پرساد ورما جیسے دوست ہوں تو انہیں دشمنوں کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ اترپردیش کے اکھڑ نیتا ہیں جو کبھی سماج وادی پارٹی میں ملائم سنگھ یادو کے سب سے قریبیوں میں سے ایک تھے، جو بعد میں کانگریس میں آگئے۔ اب اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لئے وہ زیادہ ہی جٹ گئے ہیں۔ پروانچل میں بڑا ووٹ بینک رکھنے والے یہ پچھڑے ورگ میں پیٹ رکھنے والے بینی پرساد پچھلے کچھ دنوں سے اپنے متنازعہ بیانوں کی وجہ سے سرخیوں میں بنے ہوئے ہیں۔ اپنے اکھڑ مزاج کے لئے وہ جب سپا میں بھی تھے تب بھی وہ ملائم سے بھڑ جاتے تھے لیکن مضبوط کرمی ووٹ بینک کو دیکھتے ہوئے ملائم کو بھی انہیں منانا پڑتا تھا لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ وہ سپا کو لات مار کر کانگریس میں داخل ہوگئے۔ اب وہ کٹر کانگریسی بن کر سب سے زیادہ نشانہ سپا پر ہی سادھ رہے ہیں۔ دہائیوں تک کانگریس مخالف راجدھانی کرتے رہے، بینی پرساد جب سے کانگریس میں شامل ہوئے ہیں تب سے اپوزیشن کی جم کر مخالفت کرتے ہیں۔ بھاجپا کو تو آئے دن فرقہ پرست ہونے کا الزام لگاتے رہتے ہیں۔ اب جب سے کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے تعلقات خوشگوار ہوئے ہیں تب سے بینی پرساد کانگریسی نیتاؤں کو یہ احساس کرانے سے نہیں چوکتے کے ملائم سنگھ زیادہ بھروسے لائق نہیں ہیں کیونکہ ان کا ملائم سنگھ کا راج نیتک جیون راج نیتک دھوکے بازی کا ہی رہا ہے۔ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے وہ ایک درج سے زیادہ مثالیں ایک سانس میں ہی دے جاتے ہیں۔بینی بابو اس وقت منموہن منتری منڈل میں اسٹیل منتری ہیں۔ راہل گاندھی کے تمام زور کے باوجود ودھان سبھا چناؤ میں کانگریس کو خاص کامیاب نہ ملنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہی بینی بابو تھے۔ بینی بابو کے متنازعہ بیانوں کی وجہ سے ہی پارٹی کی چناوی لٹیا ڈوبی۔ ہر مہینے وہ کوئی نہ کوئی نیا بونڈر کھڑا کردیتے ہیں۔ انہوں نے کہہ ڈالا کہ کھانے پینے کی چیزیں مہنگی ہوتی ہیں تو انہیں یہ کہہ کر بہت اچھا لگتا ہے کہ کیونکہ اس میں اناج پیدا کرنے والے کسانوں کا فائدہ ہوتا ہے۔ اس نہ پسندیدہ تبصرے سے پوری اپوزیشن منتری جی کے خلاف متحد ہوگئی ہے۔ یہ تنازعہ ابھی گرم ہی تھا کہ بینی بابو نے ایک اور واویلا کھڑا کردیا۔ انہوں نے سوموار کو کہہ دیا کہ 2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں راج نیتک مقابلہ راہل گاندھی بنام نریندر مودی کے بیچ ہوگا۔ ایسے میں سپا جیسی پارٹیاں اقتدار میں آنے کے منگیری لال چھاپ خواب سجائے بیٹھی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ پچھلے دنوں سپا سپریموں ملائم سنگھ یادو نے یہ امید جتائی تھی اگلے لوک سبھا چناؤ میں کانگریس اور بھاجپا کے بجائے تیسرے مورچے کی سرکار بننے کے زیادہ آثار ہوگئے ہیں۔ انہوں نے اپنے سپہ سالاروں سے کہا تھا کہ اگر سپا کو لوک سبھا میں60 سیٹیں مل جاتی ہیں تو نئی سرکار کی قیادت کی صورت میں وہ آسکتی ہیں۔ اس رائے زنی کو لیکر بینی بابو نے سپا اور ملائم پر تلخ نقطہ چینی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے لگتا ہے کہ ملائم کچھ پگلانے لگے ہیں اور ان کی عقل بھی کچھ سٹھیانے لگی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ایک طرف کانگریس میں بینی بابو کی تازہ رائے زنی پر کیا رد عمل ہوتا ہے اور دوسری طرف سپا کیا جواب دیتی ہے؟
(انل نریندر)

18 اگست 2012

با بارام دیو کی تحریک کا کیا اثرہوگا؟


بابا رام دیو کی تحریک شانتی سے ختم ہوگئی۔ لگتا ہے کہ پچھلی بار اسی رام لیلا میدان کے واقعہ سے بابا نے کچھ سبق سیکھا ہے اور اس پر عمل بھی کیا ہے۔ اتنی بھیڑ کو ہر پل قابو میں رکھنا آسان کام نہیں تھا، جس میں بابا رام دیو کامیاب رہے۔ بابا نے انا ہزارے کی تحریک کو ایک طرح سے ہائی جیک کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ انہوں نے ان سبھی اشوز کو اپنے ایجنڈے میں شامل کرلیا جسے لیکر انا چل رہے تھے۔ ویسے راجدھانی میں10 دنوں کے اندر دو تحریک اپنے قطعی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہوگئیں۔ دونوں ہی تحریک مرکز میں یوپی اے سرکار کے خلاف رہیں ہیں۔ انا ہزارے کی تحریک سیاسی متبادل پر آکر ختم ہوئی لیکن بابا کی تحریک یوپی اے کے متبادل این ڈی اے کے طور پر ختم ہوتی نظر آئی۔ انا کی تحریک تہاڑ جیل سے شروع ہوئی تھی اور رام دیو کی تحریک عارضی جیل امبیڈکر پہنچ کر ختم ہوگئی۔ رام دیو کے اسٹیج پر جس طرح سے این ڈی اے کے لیڈر پہنچے اور بابا کی کھل کر حمایت کی اس سے یہ ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اگلے عام چناؤ میں باباکو این ڈی اے کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ بابا روز مرہ گرگٹ کی طرح اس بار رنگ بدلے نظر آئے۔ رام دیو نے پہلے تین دن انشن کا اعلان کیا ، تین دن بعد سنیچر کو اگلی حکمت عملی اپنالی پیرکو صبح 10 بجے انشن ختم کریں گے اور اعلان کیا کہ انہیں سیاسی پارٹیوں کی حمایت مل رہی ہے۔ ادھر بال کرشن کی ضمانت نہیں ہوئی تو بابا نے سوا دس بجے پارلیمنٹ کوچ کا اعلان کردیا۔ حراست میں لیا تو کہا جیل میں توڑیں گے انشن۔ امبیڈکر اسٹیڈیم میں پہلے بولے کہ کھانے پانی پر انشن توڑیں گے۔ لوگوں کی بھیڑ امڑی تو مانگے مانے جانے تک انشن جاری رہے گا، پھر بولے 15 اگست کو اسٹیڈیم میں جھنڈا لہرائیں گے۔ آخر میں انشن بھی توڑدیا اور ہری دوار بھی چلے گئے۔ دیکھا جائے تو مرکزی حکومت انا کی طرح رام دیو کی تحریک سے بھی نمٹنے میں کامیاب رہی۔ حکومت نے پہلی بار کی گئی غلطیوں سے سبق سیکھا۔ پہلی بار تو چار چار وزیر بابا کو ہوائی اڈے لینے گئے۔ اس مرتبہ سرکار نے بابا کو کوئی بھاؤ نہیں دیا نہ کوئی وزیر آیا اور نہ کوئی وعدہ کیا۔ یہ دکھ کی بات ہے کہ جنتا کی آواز اٹھانے والی تحریکوں کے دوران عام لوگ ہی سب سے زیادہ پریشان ہوتے ہیں۔ کالی کمائی کا اپنے طریقے سے علاج کرنے پر اڑے بابا رام دیو کی تحریک نے پیر کو دہلی کو جام کردیا۔ ہزاروں گاڑیاں جام میں پھنس گئیں ۔ ضروری کام کاج کے لئے نکلے لوگ اور مریض گھنٹوں پریشان ہوتے رہے۔ لاکھ ٹکے کا سوال ہے کہ اتنا دباؤ بنانے کے باوجود کیا بابا رام دیو کالی کمائی اور اپنی دیگر مانگوں کے اشو پر کوئی ٹھوس کامیابی حاصل کر پائیں گے؟ انہوں نے سی بی سی اور چناؤ کمیشن کو مکمل آزادی دینے کا اشو اٹھایا اور اس کے ساتھ ہی لوکپال کے اشو پر بھی زور دیا۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ تین چار دن کے الٹی میٹم میں اتنی مانگوں کو پورا نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ضد کچھ کچھ ٹیم انا جیسی ہے جو ایک وقت میں چاہتی تھی کے پارلیمنٹ اور سرکار ان کے ذریعے بنائے گئے لوکپال کے مسودے کو فوری طور پر منظور کرلے۔ ان دونوں تحریکوں کو یہ سہرہ ضرور جاتا ہے کہ کرپشن اور کالی کمائی کا اشو آج سیاست کے مرکز میں جگہ لے چکا ہے مگر یہ بھی سمجھنا پڑے گا کہ آج کے سیاستدانوں میں چاہے وہ کسی بھی پارٹی کے کیوں نہ ہوں ، انہیں پورا کرنے کا نہ تو کوئی ارادہ ہے اور نہ ہی قوت ارادی۔ ایسا نہ ہو کہ بڑے مقصد کے لئے شروع ہوا بابا کا یہ آندولن محض کانگریس کی مخالفت تک سمٹ کر رہ جائے۔
(انل نریندر)

پاکستان میں اقلیتیں کتنی محفوظ ہیں؟


پاکستان سے بھارت آنے کے لئے جمعہ کو نکلے 300 ہندو اور سکھوں کے جتھے کو پاکستان نے اٹاری واگھہ بارڈر پر روک دیا۔سبھی سے لوٹنے کے لئے تحریری وعدہ لیا گیا۔ اس کے بعد ان میں سے150 لوگوں کو بھارت آنے دیا گیا۔ بھارت جانے کے لئے سرحد پر پہنچے تقریباً300 ہندو و سکھوں کو پاکستانی حکام نے آگے بڑھنے سے روک دیا۔ صبح سے ہی بارڈر پر بیٹھے ان شردھالوؤں میں سے زیادہ تر کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑا جبکہ کچھ گورودوارہ ننکانا صاحب میں ٹھہر گئے اور دیر شام تقریباً 150 لوگوں کے جتھے کو بھارت آنے کی اجازت دے دی گئی۔ پاکستان منتظمین نے ان سے لکھ کر لیا ہے کہ وہ بھارت میں اپنے رشتے داروں کے پاس نہیں رہیں گے اور مذہبی تیرتھ استھانوں کے درشن کے بعد وطن لوٹ آئیں گے۔ اس سے پہلے ان لوگوں سے تقریباً سات گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی گئی۔ پاکستان میں ہندو ۔ سکھوں پر مظالم مسلسل بڑھتے جارہے ہیں۔ حال ہی میں ایک ہندو لڑکی کو زبردستی مسلمان کرنے کی خبر پوری دنیا نے دیکھی۔ ہندو ۔ سکھوں کی دکانیں لوٹنے اور ان پر حملے اور عورتوں کو زبردستی اسلام قبول کرانے جیسے واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش میں اقلیتوں اور خاص طور پر ہندوؤں کے ساتھ ہونے والے امتیاز پر حال ہی میں امریکی محکمہ خارجہ کی ایک رپورٹ آئی ہے۔ پاکستان میں کل آبادی کا پانچ فیصد سے بھی کم حصہ اقلیتوں کا مانا جاتا ہے جن میں ہندو بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذہبی اقلیتوں کا دعوی ہے کہ زبردستی تبدیلی مذہب روکنے کے لئے سرکار کی طرف سے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جارہا ہے۔ پاکستان انسانی حقوق کونسل کے اعدادو شمار کے مطابق ہر مہینے 20 سے25 ہندو لڑکیاں اغوا کرلی جاتی ہیں اور انہیں زبردستی اسلام قبول کرنے کے لئے کہا جاتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے رپورٹ میں مثال کے طور پر ایک واقعہ کا بھی ذکر کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے پچھلے سال 9 نومبر کو چار ہندو ڈاکٹروں کی سندھ صوبے میں گولی مار کر ہتیا کردی گئی تھی۔ کہا جاتا ہے یہ حملہ ایک ہندو مرد اور مسلم عورت کے درمیان تعلقات کی وجہ سے ہوا تھا۔ اس معاملے کی جانچ پڑتال ایک سال سے التو میں ہے ۔کوئٹہ سے آئے باگھا بارڈر سے پرانی دہلی اسٹیشن پر 70سالہ سرنجیت سنگھ نے بتایا کہ آج پاکستان نے ہمارے لئے کھونے کے لئے کچھ بھی نہیں بچا ہے جو بھی تھا وہ سب دہشت گرد لے گئے ہیں صرف جان بچی ہے ان کی سلامتی کے لئے ہندوستان میں رہ رہے رشتہ داروں کے یہاں پناہ لی ہے پھر وہ کہتی ہے کہ اب بھروسہ نہیں رہا ہے کہ اب وہاں فضا بدلیں گی دہشت گردوں کا ظلم اس قدر بڑھ گیا ہے کہ وطن واپسی کے نام سے ہی روح کانپ اٹھی ہے۔سمرن جیت کور اور دوسرے چار ہندو کنبے بھی پرانی دہلی اسٹیشن پہنچیں۔ جنرل اسٹور چلانے والے وکی باک واسی کہتے ہیں کہ پچھلے دو سال میں شاید کوئی ایسا لمحہ رہا ہوگا جو سکون سے گزرا۔ ہندو کنبوں کے ساتھ مار پیٹ اورزرفدیہ کے لئے اغوا کے واقعات عام ہوگئے ہیں۔ ہروقت یہ ہی ڈر لگتا رہتا ہے کہ آج کہیں ہماری بیٹی تو نہیں نشانہ بنے گی۔آخر کارمیں اندور میں رہنے والے اپنے موسا موسی کے پاس پناہ لینے آیا ہوں ۔ چھ مہینے کی لمبی جدوجہد کے بعد 35دنوں کاہندوستانی ویزا ملا ہے ۔خدا کاشکر ہے کہ اب اگلے کچھ دن سکون سے گزرے گے۔ کوئٹہ( پلوچستان) میں شراب کی دکان چلانے والے نریش کمار نے بتایا کہ مذہبی تشدد کے چلتے جب بات کنبے کی عصمت پر آگئی تو سمجھوتہ کئے بغیر ہم نے ہندوستان میں پناہ لینے کی سوچی۔ لیکن مجھے آج بھی پلوچستانی ہونے پر فخر ہے لیکن وہاں کی پھیلی دہشت نے مجھے اب پورے خاندان کے ساتھ اپنی سرزمین چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ پاکستان سے ہندو سکھ ہجرت پر بھارت سرکار کو معاملے کوسنجیدگی سے لینا چاہئے۔ پاکستان ہندو کونسل نے بھی کراچی میں میٹنگ کرکے اس پر تشویش جتائی ہے۔ پاکستان میں بھی کئی لیڈروں نے اقلیتوں پر زیادتی کی بات قبول کی ہے اس معاملے کو پرزور طریقہ سے پاکستان کے ساتھ سفارتی سطح پر اٹھاناچاہئے۔ بھارت کو اس مسئلے کو نئے پس منظر میں دیکھ کر حکمت عملی بنانی ہوگی۔ پاکستان سے ان اقلیتی کنبوں کو بھارت میں شرنارتھی کادرجہ دیاجاناچاہئے جو خاندان ابھی بھی بچے ہے ان کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے بھارت سرکار پاکستان پر دباؤ بنائے آخر کار پاکستان میں رہ رہے اقلیتوں کی ذمہ داری پاک سرکار کی ہے جو اسے اٹھانی ہی چاہئے۔ (انل نریندر)

17 اگست 2012

سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ممبئی میںآگ بھڑکائی گئی


کیا ممبئی میں پچھلے سنیچر کو بھڑکا تشدد ایک منظم واردات تھی؟ اس دن آسام اور میانمار میں مسلمانوں پر ہوئے حملوں کے خلاف آزاد میدان میں ایک احتجاجی ریلی کا انعقادہوا تھا۔ اس کو انعقاد کرنے والی تنظیم رضا اکاڈمی اور مدینہۃ الرحیم فاؤنڈیشن نے کیا تھا۔ ممبئی پولیس اس ریلی میں ہوئے تشدد کو منظم مان رہی ہے۔ پولیس کی گرفت میں آئے 23 فسادیوں سمیت منتظمین کے خلاف دفعہ302 کے تحت قتل کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔ ان عناصر پر دیگر دفعات میں بھی مقدمات قائم کئے گئے ہیں۔ کرائم برانچ کے جوائنٹ کمشنر ہیمانشو رائے نے بتایا پولیس ایکٹ کے تحت تشدد اور آتشزدگی سے ہوئے نقصان کا ہرجانا بھی رضا اکاڈمی سے ہی وصولہ جائے گا۔ تشدد بھڑکانے والوں اور اس کے اسباب کا پتہ لگانے کے لئے کرائم برانچ کی 12 نکاتی خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ آزاد میدان میں آتشزدگی اور بھڑکیلی تقریروں کے ویڈیو فوٹیج کا مطالع کیا جارہا ہے۔ سی سی ٹی وی کیمرے کے ذریعے باقی فسادیوں کو حراست میں لینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پولیس نے گرفتار بلوائیوں کومیٹرو پولیٹن مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا ہے جہاں ان سبھی کو19 اگست تک ریمانڈ میں بھیج دیا گیا ہے۔ ریمانڈ کے لئے عدالت میں دی گئی درخواست میں پولیس نے تشدد کو طے شدہ قراردیا ہے۔ ہیمانشو رائے کے مطابق جس طریقے سے آزاد میدان ریلی میں پہنچنے کے لئے فیس بک اور ایس ایم ایس کے ذریعے پیغامات بھیجے گئے اس سے صاف ہے تشدد کا پلان پہلے ہی سے تھا۔ فیس بک پر کئی دنوں سے مسلمانوں پر آسام اورمیانمار میں ہوئی ذیادتیوں کا پروپگنڈہ ہورہا تھا اور انہیں اکسانے کی کوششیں ہورہی تھیں۔ الیکٹرانک میڈیا اور پرینٹ میڈیا پر بھی الزام لگایا جارہا ہے کہ وہ جان بوجھ کر ان ذیادتیوں کی خبریں نہیں دے رہے ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج سے صاف ہے کئی مظاہرین ڈنڈوں اور لوہے کی چھڑوں سے مسلح تھے اور گاڑیاں پھونکنے کے لئے پیٹرول کے ڈبے لیکر آئے تھے ۔ ان کا کہنا تھا فیس بک ، انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس پیغام بھیجنے والوں کا پتہ لگانے کے لئے سائبر کرائم سیل کی مدد لی جائے گی۔ خیال رہے کہ رضا اکاڈمی اور سنی جماعت العلماء سمیت24 تنظیموں کے ذریعے منعقدہ ریلی کے دوران ہوئے تشدد میں دو لوگوں کی موت ہوگئی۔ 45 پولیس ملازمین سمیت100 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ کسی حساس اشو کو غیر ضروری طول دینے کے معاملے کا خطرناک نتیجہ ہوتا ہے۔ ممبئی میں ہوا تشدد اسی کی ایک مثال ہے۔ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ممبئی میں آسام تشدد کے خلاف دھرنے کے منتظمین نے یہ نتیجہ کیسے نکال لیا کہ آسام میں صرف مسلم فرقے کے لوگ ہی نشانہ بنے؟ یہ جو تصور پیش کیا گیا ہے کہ آسام میں صرف مسلمان فرقے کو ہی نشانہ بنا یا گیا اور راحت رسانی اور باز آبادکاری میں ان کو نظر انداز کیا جارہا ہے اس کے لئے ایک حد تک آسام سرکار اور مرکزی حکومت بھی ذمہ دار ہے جو اس بارے میں کچھ واضح نہیں کرسکی کہ تشدد کیوں بھڑکا اور اسکے لئے کون ذمہ دار تھا، اصلی اشو کیا تھا، کتنے لوگ متاثر ہوئے ، کتنے لوگوں کو گھر چھوڑنا پڑا اور راحت رسانی اور بازآبادکاری کی کیا پوزیشن ہے؟ بدقسمتی سے کچھ غیر سماجی عناصر اور سیاستدانوں نے اپنی روٹیاں سینکنے کے لئے دیش میں عدم استحکام اور بدامنی پیدا کرنے کے لئے یہ پروپگنڈہ کیا۔ آسام میں مسلم فرقہ کے ساتھ مظالم کیا گیا اور یہ ہی نہیں ان کا پارلیمنٹ میں بھی کچھ ممبران پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر آسام میں مسلم فرقے کو نہ صرف نشانہ بنایا گیا بلکہ راحت کیمپوں میں ان کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ یہ تشویش کا باعث ہے کہ سیاستدانوں کا ایک طبقہ ابھی بھی یہ ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے کہ آسام میں جو تشدد بھڑکا اس کے پیچھے بنگلہ دیش سے ہونے والی دراندازی کا کوئی رول نہیں ہے۔ ایک طرح سے انہیں اس بات کی بھی پرواہ نہیں تھی کہ بنگلہ دیش سے آئے مسلمان ناجائز طریقے سے گھس پیٹھ کررہے ہیں۔ ان کے لئے بس ان کا مسلم ہونا کافی ہے۔ بھلے ہی وہ غیر ملکی ہوں۔ دکھ تو اس بات کا بھی ہے کہ کئی دنوں سے یہ سازش جاری تھی اور ممبئی پولیس اس وقت اسے روکنے میں ناکام رہی۔ آخر یہ اندازہ کیوں نہیں لگایا گیا کہ ممبئی میں عام سے زیادہ لوگ سازو سامان کے ساتھ اکٹھا ہورہے ہیں اور ان کے ارادے صحیح نہیں ہیں؟ یہ اچھی بات ہے کہ دھرنے کا انعقاد کرنے والی تنظیموں نے اپنی غلطی قبول کرلی ہے اور معافی مانگی ہے لیکن انہیں اس پر غور فکر کرنا چاہئے کہ ان اسباب کے چلتے ان کے انتظام میں شرارتی اور فسادی گھس آئے؟ یہ ماننے کی بھلے ہی اچھی وجوہات ہوں کہ یہ عناصر پوری تیاری سے آئے تھے اور پلان کے مطابق انہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے درجنوں گاڑیوں کو آگ لگادی اور پولیس پر حملہ کردیا۔ (انل نریندر)

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...