Translater
06 مارچ 2025
شیئر بازار جعلسازی اور مادھوی بچ!
شیئر بازار میں جعلسازی اور قوائد خلاف ورزی کے الزامات میں آخر کار قانونی کارروائی شروع ہو گئی ہے ۔مادھوی بچ پر پچھلے کافی عرثے سے الزام لگتے رہے ہیں لیکن جب تک وہ عہدے پر تھیں تب کسی طرح کی نہ کوئی جانچ ہوئی نہ کوئی قانونی کارروائی۔بھارت کی پہلی خاتون سےبی چیف بچ پر امریکہ و امریکہ کی بڑی ریسرچ اینڈ انویسٹ منٹ کمپنی ہنڈن برگ ریسرچ نے بھی مفادات کے ٹکراﺅ کے الزامات لگائے ہنڈن برگ ریسرچ میں بچ اور ان کے پتی دھول بچ پر آفشور اٹیٹیز میں سرمایہ لگانے کے الزام لگائے تھے جو مبینہ طور پر ایک فنڈ ایڈکیئر کا حصہ تھی اڈانی گروپ کا چیئر مین گوتم اڈانی کے بڑے بھائی ونود اڈانی نے بھی سرمایہ لگایا بچ میاں بیوی نے سارے الزامات کو مسترد کر دیا تھا ۔تازہ معاملہ ایک اسپیشل عدالت نے کرپشن ایس سی بی کو شیئر بازار میں مبینہ جعلسازی اور انویسمنٹ قانون کی خلاف ورزی کے سلسلہ میں شیئر بازار ریگولیٹری سیبی کی سابق چیئرمین مادھوی بچ اور دیگر حکام کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے ۔ممبئی میں واقعہ ایس ایس بی عدالت کے جج شکتی کانت ایکناتھ راﺅ بانگر نے سنیچر کو پاس حکم میں کہا کے پہلی نظر میں قوائدی چوک اور مالی ملی بھگت کے ثبوت ہیں جنکی جانچ کی ضرورت ہے حکم میں کہا گیا ہے ۔کے قانون اسفورمنٹ ایجنسیوں اور سیبی کی لاپرواہی کے سبب مجرمانہ دفعات کے تقازوں کے تحت جوڈیشیئل مداخلت کی ضرورت ہے ۔عدالت نے کہا کے وہ اس جانچ کی نگرانی کرے گی اور 30 دنوں میں پوزیشن ریپورٹ بھی مانگی گئی ہے۔بچ کی میعاد 28 فروری کو ختم ہو گئی سیبی نے کہا ہے کی سیبی کے سرکاری آئینی فرائض کی تعمیل کرنے میں ناکام رہے بچ کو جعلسازی کی سہولت دی اور زابطوں کو پورا نہیں کرنے والی کمپنی کو انداراج کی اجازت دے کر کارپوریٹ کو دھوکا دھڑی ہونے دی۔شکایت کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔عدالت کے حکم کے بعد سیبی نے بیان جاری کر کہا جن حکام کا ذکر ہے وہ کمپنی کی اندراج کے وقت اپنے عہدوں پر نہیں تھے پھر بھی انہوںنے بنا نوٹس جاری کیا یا سیبی کو ثبوتوں کو ریکارڈ پر رکھنے کا موقع دیا بغیر شکایت کے منظوری دے دی ۔سیبی نے کہا جواب دے ایک تلف اور عادتن لاپرواہ کی شکل میں جانا جاتا ہے ۔اس کی پچھلی اپیلوں کو عدالت نے خارچ کر دیا اور کچھ معاملوں میں جرمانہ بھی لگایا ان حکام پر بھی مقدمہ درج ہوگا ۔ڈایئرکٹر چیف ایکزیگٹیو سندر رمن رام مورتی ،بی ایس ای کے اس وقت کے چیئرمین و پبلک ڈائریکٹرپرمود اگروال ،سیبی کے تین مستقل ممبر اشونی بھاٹیہ ،اننت نارائن ،کملیش چندر،وارنیہ ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کے کیس آگے بڑھتا ؟ کیا سچائی سامنے آ پائے گی یا ہر بار کی طرح لیپا پوتی ہو جائے گی۔ببئی اسٹاک ایکس جینج برا حال ہے پچھلے 28 سال میں سب سے نچلی ستح پر اسٹاک مارکیٹ ڈاﺅن ہوئی ہے اب تک لاکھوں کروڑوں کا نقصان ہو چکا ہے۔چھوٹے سرمایہ کار تبح ہو گئے ہیں کیاانہیں انصاف ملے گا ؟ امید کی جاتی ہے کے سخت اقدامات سے اسٹاک مارکیٹ سدھرے گی۔
(انل نریندر)
ایک ارب ہندوستانیوں کے پاس خرچ کرنے کو پیسے نہیں!
ہندوستان کی آبادی قریب ایک ارب 40 کروڑ ہے لیکن حال میں آئی ایک ریپورٹ میں کہا گیا ہے کے ان میں سے ایک ارب لوگوں کے پاس خرچ کے لئے پیسے نہیں ہیں وئر کپیٹل فرم بلو برگ وینچرس کی اس تازہ ریپورٹ کے مطابق دیش میں کنزیومر طبقہ چوں کی خاص طور پر کاروباری مالکوں یا اسٹارٹ اپ کا ایک منکنہ بازار اس سائز میں میکسو کی آبادی کے برابر یا 13 سے 14 کروڑ ہے اس کے علاوہ کئی کروڑ لوگ ایسے ہیں جنہیں امرجنگ کہا جا سکتا ہے لیکن وہ خرچ کرنے کےلئے تیار نہیں ہیں کیوں کے انہوںنے ابھی خرچ کرنے کی شروعات کی ہے ریپورٹ کے مطابق ایشیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت کے کنزیومر طبقہ کا پھیلاﺅ اتنا نہیں ہو رہا ہے جتنا خرید کی ضرورت بڑھ رہی ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے بھارت کی خوشہار آبادی کی تعداد نہیں بڑھ رہی ہے بلکہ جو پہلے سے خوشہال ہیں وہ اور امیر ہو رہے ہیں ۔یہ سب ملک کر دیش کے کنزیومر ماریٹ کو الگ طرح سے شکل دے رہے ہیں خاص کر پرزینٹیشن کا ٹرینڈ بڑھ رہا ہے ۔جہاں برانڈ بڑے پیمانے پر چیزوں اور سیل کی پیشکش پر دھیان دینے کے بجائے امیروں کی ضرورتوں کی پورا کرنے والی مہنگی عمدہ چیزوں پر مرکوز کر ترقی کو رفتار دیتے ہیں اس کی سب سے بڑی مثال بہت مہنگے گھروں اور بہترین کوالیٹی کے سمارٹ فون کی فروخت میں ازافہ ہو رہا ہے جبکہ ان کے سستے برانڈ فروخت میں جدوجہد کر رہے ہیں ۔بھارت کے کل بازار میں اس وقت سستے گھروں کی حصہ داری 18 فیصد ہے جبکہ 5 سال پہلے یہ حصہ داری40 فیصد ہوا کرتی تھی اس طرح عمدہ سامانوں کی حصہ داری بڑھ رہی ہے ۔اور معیشت پھل پھول رہی ہے مثال کے لئے کولڈ پلے اینڈ شیری جےسے آرٹسٹوں کے پروگرام مہنگے ٹکٹوں پر بکنا ۔بھارت کا درمیانہ طبقہ کنزیومر معاملے میں بہت پیچھے رہا ہے لیکن مارس لیس اوینٹ منیجروں کے ذریعہ اکھٹا ڈیٹا کی دیکھے تو تنخواہ کے ایک جیسے بنے رہنے کے سبب اس درمیانہ طبقہ کی حالت خراب ہے ۔جنوری میں شائع اس ریپورٹ میں کہا گیا ہے کے بھارت میں ٹیکس دینے والی آبادی کے 50 فیصد لوگوں کی تنخواہ پچھلی ایک دہائی میں جو کے توںرہی ہے ۔مالیتی عدم توازن کی وجہ سے بچت ختم کر دی ہے۔آر بی آئی مسلسل اس بات کو کہہ رہا ہے کے ہندوستانی خاندانوں کی مالی بچت 50 برسوں میں کم ستح پر پہنچ رہی ہے ۔ان حالات سے پتہ چلتا ہے کے درمیانہ طبقہ کے گھریلوں خرچ سے وابستہ چیزوں اور سیواﺅ میں آنے والی مشکلوں کی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ریپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے اے آئی آہستہ آہستہ روز مرہ کی استعمال کی جگہ لے سکتا ہے ۔ایسے میں سفید پوش شہریوں کے لئے نوکریا ں پانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔بھارت کی مینوفیکچرنگ میں سوپر وائزروں کی تعداد میں کافی کمی آئی ہے ۔سرکار کے حالیہ ایک سروے میں ان تشویشات کو ظاہر کیا ہے اس میں کہا گیا ہے اس طرح کی تکنیکوکے وکاس کی وجہ سے لیبر ڈسپلیسمنٹ میٹر جیسی سیوا متاثر ہوئی معیشتوں کے لئے تشویش کا باعث ہے جہاں آئی ٹی فورس کا ایک اچھا حصہ سستی سروس سیکٹر میں کام کر رہا ہے یہ سب دیش کی معاشی ترقی کو پٹری سے اتار سکتا ہے۔
(انل نریندر)
04 مارچ 2025
وہ 10 منٹ جب ہوئی تو تو مے مے!
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ہوکرین کے صدر وولودیمیر زیلینسکی کے درمیان جمعہ کے روز وائٹ ہاﺅس کے اول آفس میں زبردست تلخ بحص ہو گئی ٹرمپ نے الزام لگایا کے زیلینسکی امن نہیں جاہتے اور وہ اگر سمجھوتہ نہیں کریں تو امریکہ اس جنگ سے باہر ہو جائے گا ۔انہوںنے یہ بھی دعویٰ کیا یوکرین روس کے ساتھ جنگ میں جیت حاصل نہیں کر سکتا ۔ٹرمپ نے زیلینسکی پر امریکہ اور اس کے لوگوں کی توحین کرنے کا بھی الزام لگایا وہیں زیلینسکی نے کہا ہم گارنٹی کے ساتھ جنگ بندی چاہتے ہیں اور ٹرمپ زیلینسکی کے درمیان بحث جاری تھی اس دوران امریکہ کے یوکرین میں سفیر آکسانہ مارکی روابیحد کشیدگی میں تھی اول آفس سے سامنے آئے وویڈیو میں یوکیرنی سفیر اپنا ہاتھ ماتھے اور چہرے پر رکھے ہوئے تھے۔دونوں لیڈروں کے درمیان بحث میڈیا کے کیمرے میں قید ہو گئی ۔اور ساری دنیا نے ٹرمپ کے ڈاٹنے والے لہجے کو دیکھا اور پریشان ہو گئی ۔وہ زیلینسکی کو یوں ڈانٹ رہے تھے جیسے کوئی حکمراں اپنے ملازموں کو ڈانٹتا ہے ۔پیش ہے بات چیت کے کچھ حصے ،جے ڈی واس (نائب صدر امریکہ)امن اور ترقی کا راستہ ڈپلو میسی کو جوڑتا ہے صدر ٹرمپ یہی کام کر رہے ہیں۔زیلینسکی بات کرتے ہوئے 3 سال پہلے ہم پر حملہ کرنے سے پہلے بھی روس نے ہمارا علاقہ چھینا ۔تب کسی نے پوتن کو نہیں روکا آپ کس طرح کی ڈپلو میسی کی بات کر رہے ہیں ،جے ڈی واس آپ کا مطلب کیا ہے ؟ جے ڈی واس ۔میں اس ڈپلو میسی کی بات کر رہا ہوں جو آپ کے دیش کو تبح ہونے سے بچائے گی ۔آپ ہماری بے عزتی کررہے ہو ،امریکہ میڈیا کے سانے آپ ہمیں قصوروار بتا رہے ہو۔ٹرمپ نے پوتن سے بات چیت کا راستی کھولا ہے اور فورا! جنگ بند کرانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔زیلینسکی کو تو جنگ لڑنے میں کئی طرح کی پریشانیاں ہو رہی تھی ۔زیلینسکی : جنگ کے وقت ہر کسی کو پریشانی ہوتی ہے ۔یہاں تک کے اُپ کو بھی ۔آپ کے پاس بڑھیا سمندر ہے آپ کو بھی یہ محسوس نہیں ہو رہا ہوگا اگر مستقبل میں یہ محسوس کرےں گے ۔زیلینسکی نے یہ بات کہہ کر اشارہ کیا کے آپ روس کو خوش کرنے کی کوشش کروگے تو آپ بھی جنگ کی زد میں آ سکتے ہو ۔ٹرمپ کو یہ بات چبھ گئی اور وہ بھی زیلینسکی واس کی بات چیت میں کود گئے ،ٹرمپ اونچی آواز میں بولے ہمیں یہ نہ بتاﺅ کے ہم کیا محسوس کریں گے ۔آپ اس پوزیشن میں نہیں ہو کے ہمیں یہ بات سکھاﺅ ابھی آپ کے پاس وہ داﺅ نہیں ہے ۔آپ کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ جوا کھیل رہے ہو ۔زیلینسکی : جنگ کی شروعات سے ہی ہم اپنی جنگ اکیلے لڑ رہے تھے اور ہمیں اس پر فخر ہے یہ سن کر ٹرمپ اور بھڑک گئے کیوں کے وہ یوکرین جنگ پر امریکہ خرچ کو بڑا نقصان بتا رہے ہیں ۔ٹرمپ: آپ اکےلے نہیں تھے ہم نے آپ کو ایک سابق صدر (بائیڈن)کے ذریعہ 250 عرب ڈالر کی مدد کی ۔جے ڈی واس : کیا آپ نے اس مدد کے لئے کبھی امریکہ کا شکریہ ادا کیا ؟امریکہ چناﺅ میں ڈیموکریٹس کے لئے کیمپئن کی تھی ۔(امریکی چناﺅ سے ٹھیک پہلے) زیلینسکی نے جو بائیڈن کے آبائی وطن کا دورا کیا تھا جس پر ٹرمپ کی پارٹی بہت ناراض ہوئی تھی۔زیلینسکی:براہ کرم اگر آپ کو لگتا ہے کے جنگ کے بارے میں اونچی آواز سے با ت کرکے آپ ۔۔ تبھی جھنجلائے ٹرمپ کے بیچ میں بات کرتے ہیں ۔ٹرمپ :اونچی آواز میں نہیں کر رہے ہیں ۔آپ کا دیش ایک بڑے بحران میں ہے ۔آپ اس جنگ کو نہیں جیت سکتے آپ کے پاس اس سب سے باہر نکلنے کا ایک موقع ہے ۔ہماری بدولت اس طرح بزنیس نہیں ہو پائے گا ۔ملکر کام کرنے کے لئے روئیہ بدلنا ہوگا (ٹرمپ اور جے ڈی کے منہ سے رویہ کی بات سن کر زیلینسکی غصہ میں آ جاتے ہیں ۔)جے ڈی واس :آپ صرف ہمیں شکریہ کہیئے ۔زیلینسکی : میں شکریہ کہہ چکا ہوں اور ایک بار پھر امریکی عوام کا شکریہ ادا کرتا ہے ہوں ۔واس:میری نااتفاقی کو بھی قبول کیجئے ۔میڈیا کے سامنے لرنے کے بجائے نہ اتفاقی کے مسلے پر بات کی جائے۔جب آپ غلط ہوتے ہو تو غلط ہے ۔ٹرمپ اچھا ہی ہوا کے امریکی لوگ آج دیکھ رہے ہیں کی کیا ہوا آپ کو شکریہ ادا کرنا چاہئے ۔آپ کے پاس کوئی چال نہیں ہے آپ دفن ہو چکے ہو آپ کے لوگ مر رہے ہیں آپ کے پاس فوجی نہیں ہے ۔اگر آپ جنگ بندی کے لئے مان جاتے تو گولیاں برسنی بند ہو جاتی اور آپ کے لوگ نہ مرتے ۔زیلینسکی:میں جنگ روکنا چاہتا ہوں جیسے کی میں نے آپ سے کہا تھا کچھ گارنٹیاں بھی چاہتا ہوں ۔جنگ بندی کے بارے میں اپنے لوگوں کی رائے بھی لینا چاہتا ہوں ۔یہ تھی ٹرمپ، واس اور زیلینسکی کی پوری بات چیت کے اہم حصے ۔ڈونالڈ ٹرمپ ،زیلینسکی ،واس کے درمیان اول آفس میں جو ہوا اسے دنیا نے دیکھا اس تلخ نوک جھونک کے بعد جہاں روس ،یوکرین امن معائدہ کھٹائی میں پر گیا وہیں زیلینسکی کے لئے یوروپی لیڈرو سے لیکر سوشل میڈیا تک میں سپورٹ کا سیلاب آ گیا ۔ایک اہم بات اب جو بھی سربراہ مملکت سدر ٹرمپ سے ملے گا وہ بڑا چوکس رہے گا کی کہیں ٹرمپ کو غصہ آ گیا تو ۔۔!(انل نریندر)
20 فروری 2025
جمنا صفائی ابھیان شروع!
دہلی اسمبلی چناﺅ کے دوران وزیراعظم نریندر مودی نے دہلی کی جمنا ندھی کی صفائی کا دعویٰ کیا تھا۔بھاجپا کی دہلی میں شاندار جیت کے بعد سرکار کی تشکیل سے پہلے اس پر کام شروع ہو چکا ہے۔دہلی کے ایل جی وی کے سکسینا نے سنیچر کو چیف سیکریٹری و ادیشنل چیف سکریٹری (سنچائی و سیلاب کنٹرول)سے بلاکر بات کی اور انہیں فوراً کام شروع کرانے کی ہدایت دی ۔اس کے بعد اتوار کو ہی تمام مشینری و دیگر جدید مشینوں کو جمنا صفائی کے لئے اتار دیا گیا نا مشینوں نے جمنا ہی نہیں وہاں اس میں کھڑے خرپتوار ہٹانے کا کام بھی شروع کرا دیا ۔جمنا کو صفا کرانے کے اہم پروجیکٹ کے لئے تریباً 3 برسوں میں پورا کرنے کے لئے دہلی جل بورڈ محکمہ سنچائی ،ڈی ڈی اے ،ایم سی ڈی مہولیاتی محکمہ وغیرہ مختلف ایجنسیوں اور محکموں کے بیچ بہترین تال میل کی ضرورت ہوگی ۔ان کاموں کی نگرانی ہفتہ وارانہ بنیاد پر عالیٰ ستح پر کی جائے گی اس کے علاوہ دہلی پولیشن کنٹرول کمیٹی کو شہر میں قائم فیکٹریوں ،انڈسٹریوں کے ذریعہ نالوں میں گندا کچرا ڈالنے پر ان پر سخت نگرانی کا حکم دیا گیا ہے ۔جمنا کی کایا کلب کا کام جنوری 2023 میں مشن کے طور پر شروع ہوا تھا اس بار 4 سطحی حکمت عملی کے تحت جمنا کی صفائی کا کام ہوگا۔سب سے پہلے جمنا ندی میں کچرا ،گاد،اور دیگر گندگی کو ہٹایا جائے گا ۔نجف گڑھ نالے ،چھوٹے نالے اور دیگر بڑے نالوں کی صفائی کی جائے گی ۔موجودہ سیوجٹریٹ منٹ پلان کی صلاحیت اور کام کاج کا روزانہ جائزہ لیا جائے گا ،قریب 400 ایم جی ڈی سیوج ٹریٹ منٹ کی کمی پورا کرنے کے لئے ای ٹی پی ،ڈی ایس ٹی پی بنانے وا چالو کرنے کی طے میعاد اسکیم لاگو کی جائے گی ۔لفٹیننٹ گورنر اسکیم پر نگرانی کر رہے تھے اور اس سے متعلق کام کا موقع پر جاکر معائنہ بھی کر رہے تھے اور اس ے متعلق دیگر معاملے جیسے جمنا کے پانی میں سی او ڈی ،بی او ڈی کی سطح مہانہ در مہانہ تھوڑی بہتری آنے لگی تھی مگر اس کام کے مخالفت میں اروندکیجریوال کی سرکار نے سپریم کورٹ کا رخ کی اور 10 جولائی 2023 کو اس وقت کے چیف جسٹس چندر چوڑ سے این جی ٹی کے حکم پر روک لگوا دی اور اس کے بعد جمنا کی بہتری کا کام پھر سے رک گیا اور اس سال کی شروعات میں ریکارڈ سطح پر پہنچنے کے ساتھ پانی میں سی او ڈی / ڈی او ڈی کی سطح اور خراب ہو گئی ۔ہمیں نئی سرکار اور پردھان منتری کے اس تیز رفتار سے جمنا کی صفائی ابھیان شروع کرنے کا وہ بھی جب ابھی سرکار بنی نہیں کے قدموں کا سواگت کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں ۔برسوں پرانی دہلی کے شہریوں کی مانگ کی جمنا صاف ہو اور دہلی والوں کو صاف پانی ملے ۔اور جلد ہی یہ اقدام حقیقت میں بدلیں ۔
(انل نریندر)
امت شاہ کا نکسل ازم نجات بھارت مشن!
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی نکسلییت سے آزاد بھارت مشن کو بھاری کامیابی ملتی نظر آنے لگی ہے ۔پچھلے چھ برسوں میں لیفٹ انتہا پسندی متاثر ہ اضلا ع کی تعداد 126 سے گھٹ کر 38 رہ گئی ہے ۔اسی میعاد میں اعلیحدگی پسند تشدد میں 81 فیصد کمی آئی ہے جبکہ سیکورٹی فورسز اور شہریوں کی مرنے یا زخمی ہونے کی تعداد میں بھی 85 فیصد گراوٹ درج کی گئی ہے ۔یہ اعداد شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ سرکار کی پالیسی نا صرف کارگر ثابت ہور ہی ہے بلکہ نکسل ازم کاجڑ سے خاتمہ بھی یقینی ہورہا ہے ۔وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں سرکار صرف فوجی کاروائی تک محدود نہیں رہی بلکہ ان علاقوں میں ترقی کو بھی ترجیح دی جہاں نکسل واد کی جڑیں مضبوط تھیں ۔سڑک بنانے ٹیلی کام سیوا بنانے ،بینکنگ سہولیات ،ہیلتھ سروسز اور روزگار کے مواقعوں کو بڑھا کر مقامی جنتا کو قومی دھارا میں لانے کے لئے اسکیمیں چلائی گئی ہیں ۔پچھلے پانچ برسوں میں لیفٹ انتہا پسندی متاثرہ ریاستوں میں 2384.17کروڑوں روپے کی خاص مدد دی گئی ۔جس سے وہاں کے شہریوں کو بنیادی سہولیات مل سکیں ۔ایک وقت تھا جب نوجوانوں کے پاس روزگار کے محدود مواقع ہوا کرتے تھے جس سے علیحدگی پسند تنظیمیوں کے چنگل میں پھنس جاتے تھے لیکن آج حالات بدل گئے ہیں ۔مرکزی سرکار نے ٹیلنٹ ڈولپمنٹ اسٹارٹ اپ کو فروغ اقتصادی سرگرمی جیسی اسکیموں کے ذریعے نوجوانوں کو ایک نیا مستقبل دینے کا کام کیا ہے ۔اس سے وہ اپنے علاقہ میں ہی روزگار معاملے میں خود کفیل بن رہے ہیں ۔اور نکسلی متاثرہ علاقوں میں عام زندگی آہستہ آہستہ لوٹ رہی ہے ۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی لیڈر شپ میں نکسلیوں سے نمٹنے کی حکمت عملی جارحانہ لیکن مو¿ثر ثابت ہو ئی ہے ۔انہوں نے سیکورٹی فورس کا حوصلہ بڑھایا ،خفیہ سسٹم کو مضبوط کیا ۔اورلیفٹ انتہا پسندوں کے مختلف نیٹورک کو تباہ کرنے کے لئے سخت قدم اٹھائے ۔ان کی یہ پالیسی اب رنگ لارہی ہے اور بھارت جلد ہی نکسلیوں کے ابھیشاپ سے نجات پالے گا ۔آج جب بھارت ورلڈ پاور بننے کی سمت میں گامزن ہے تو مزید سیکورٹی فورس کو مضبوط کرنا ضروری ہے ۔نکسلی جیسے خطرے کی وجہ سے اس لعنت کو مٹانا صرف سیکورٹی کا سوال نہیں بلکہ سماجی بھلائی کا بھی مستقبل ہے ۔ہمیں یہ یقینی کرنا ہوگا کہ کوئی بھی شہری یا علاقہ ترقی سے محروم نا رہے ۔وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کی رہنمائی میں سرکار کا یہ عزم ہے کہ آنے والے سالوں میں ہر شہری کو ایک محفوظ ،خوشحال زندگی ملے ۔یہ صرف جنگ نہیں بلکہ ایک آئیڈیا لوجی کا نظریہ کے خاتمہ کی شروعات ہے ۔اور وہ دن دور نہیں جب بھارت نکسل ازم سے پوری طرح نجات پا کر ترقی اور خوشحالی کی نئی اونچائیاں چھوئے گا۔
(انل نریندر)
18 فروری 2025
چناﺅ کمیشن ای وی ایم کا ڈیٹا نا ہٹائےں!
سپریم کورٹ نے چناﺅ کمیشن نے کہا ہے کے ویریفکیشن کارروائی کے دوران ای وی ایم سے ڈیٹا مٹایا یا پھر سے اپلوڈ نہ کیا جائے بڑی عدالت نے این جی او کی عرضی پر چناﺅ کمیشن سے جواب مانگا ہے ۔بھارت کے چیف جسٹس سنجیو کھنا اور جسٹس دیپانکر دتا کی بینچ نے اے ڈی آر کی ای وی ایم کی جلی ہوئی میموری اور سمبل لوڈنگ مشین یونٹ کی ویریفکیشن کے لئے داخل عرضی پر یہ ہدایت دی ہے ۔جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کے ای وی ایم کے ویریفکیشن کے لئے اس جانب سے تیار میعارات کارروائی (ایس او پی)ای وی ایم - وی وی پی اے ٹی معاملے میں 26 اپریل 2024 کے عدالت کے فیصلے کے مطابق نہیں ہے ۔اے ڈی آر کی طرف سے پیش وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کے ایک جون اور 16 جولائی 2024 کو چناﺅ کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ایس او پی میں ای وی ایم اور سمبل لوڈنگ یونٹ کی جلی ہوئی میموری یا مائکرو سوفٹ ٹرولر کی جانچ اور ویریفکیشن کے لئے درکار گائڈ لائنس کی کمی ہے ۔اور موجودہ طے جانچ اور ویریفکیشن کارروائی میں جلی ہوئی میموری یا مائکرو کنٹرلر کے اسل ڈیٹا کو صاف کرنا یا ہٹانا شامل ہے ۔جو کسی بھی اصلی جانچ اور ویریفکیشن کے نا ممکن بنا دیتا ہے درخواست میں کہا گیا ہے تعمیل سے متعلق گائڈ لائنس کی عدم نفاظ تاریخی فیصلے کے نتیجے کو ناکارہ کرتی ہے ۔جس کا مقصد یہ یقینی کرنا تھا کے پولنگ کے دوران کوئی بدنیتی یا بے ایمانی نا ہو ۔چناﺅ بنچ نے چناﺅ کمیشن کی جانب سے پیش سینئر وکیل منندر سنگھ نے کہا کے فیصلے میں پولنگ ڈیٹا کو مٹانے یہ پھر سے لوڈ کرنے کا نہیں تھا فیصلے کا مقصد صرف یہ تھا کے پولنگ کے بعد ای وی ایم کا ویریفکیشن اور جانچ ای وی ایم بنانے والی کمپنی کے ایک انجینئر کی سیوا لی جائے بنچ نے وکیل سے پوچھا اگر پولنگ کے بعد کوئی پوچھتا ہے تو انجینئر کو آکر یہ بتانا چاہئے کے ان کی موجودگی میں جلی ہوئی میموری یا مائکرو چپ کنٹرول اسٹا ک میں کوئی چھیڑ چھاڑ تو نہیں کی گئی ہے بس اتنا ہی آپ ڈیٹا کیوں میٹاتے ہیں۔
(انل نریندر)
مہاکمبھ میں ریکارڈ 50 کروڑ شردھالو!
مہاکمبھ میں اسنان کرنے والوں کی تعداد 50 کروڑ پار کر چکی ہے ۔یہ اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے اس سے پہلے کسی بھی مہا کمبھ و کمبھ میں اتنی بڑی تعداد میں شردھالوﺅں نے اسنان نہیں کیاخاص بات یہ ہے کے یہ تعداد میلہ ختم ہونے سے پہلے ہی پار ہو گیا ۔جو 26 فروری تک ہے ۔اس دن مہا شیو راتری کا اسنان ہونا ہے ۔اور مہا شیو راتری تک 60 کروڑ شردھالوﺅں کے اسنان کرنے کا اندازہ لگایا جا رہا ہے ۔جمعرات تک 49.14 کروڑ شردھالو اسنان کر چکے تھے ۔جمعہ کی شام 6 بجے تک 92.84 لاکھ شردھالوﺅں نے ڈبکی لگائی تھی ۔میلہ زو ن میں حالات ایسے ہیں یہاں پر عام دنوں میں بھی ماگھ کے مہینے میں اہم اسنان جیسا نظارہ دکھائی پڑتا ہے ۔سر پر گٹھری باندھے ہر طرف سے میلو پیدل چل کر سنگم میں پہنچ رہے ہیں ۔جمعہ کو بھی حالت ایسی ہو گئی کے کئی بار میلہ اور پولس انتظامیہ کو زونل پلان لاگو کر شردھالوﺅں کو میلہ زون کی ناکا بندھی کرکے شردھالوﺅں کو روکنا پڑا ۔اور جس سے سنگم علاقہ میں دباﺅ نہ بن سکے پورے دن شردھالوﺅں کا ہجوم پڑھتا رہا اور جتنے لوگوں نے اسنان مان کر ڈبکی لگائی روایت ہے کے ترجرا اسنان سے پہلے سنگم میں ڈبکی لگانے سے ایک مہینے کا قلیل پن مل جاتا ہے ۔حالانکہ تیرتھ کے پروہتوں کا کہنا ہے کے ترجرا اسنان سنیچر کو ہے ۔حالانکہ سنگم کی ریتی پر چل رہے مہاکمبھ میں جمعرات کو نرالا ورلڈ ریکارڈ بنایا گیا یہ ریکارڈ ندھی صفائی کا ہے ۔300 سے زیادہ لوگوں نے ایک ساتھ گنگا صفائی کا ریکارڈ بنایا جو گنیز ورلڈبک آف ریکارڈ اور پریاگ راج میلہاتھارٹی کی ٹیم کا کہنا ہے کے اب تک اس کا ریکارڈ کبھی نہیں بنا میلہ انتظامیہ نے 300 صفائی کرمچاریوں نے 30 منٹ تک گنگا صفائی مہم کا نشانہ طے کیا تھا ۔یہ مہاکمبھ کئی مائینوں میں نایاب رہا ۔اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے مطابق اب تک پریاگ راج کے اس مہا کمبھ میں تریباً50 کروڑ شردھالو آستھا کی ڈبکی لگا چکے ہیں ۔شاید ہی کوئی سنت ،مہنت ،سادھو ،ناگا سنیاسی ایسا ہو چاہے کسی اکھاڑے یہ فرقہ سے کیوں نہ جڑا ہو یہاں نہ آیا ہو۔صدر جمہوریہ ،پردھان منتری سے لیکر اقتدار اعلیٰ اپوزیشن کے سبھی بڑے نیتا کمبھ میں اسنان کر چکے ہیں۔امبانی ،اڈانی سمیت دیش کے سبھی سنت کار پاریواروں کے لوگ تریوینی کے پانی میں اسنان کر چکے ہیں ۔اس کے علاوہ فلمی دنیا اور دیگر سرگرمیوں سے جڑے مشہور فلمی چہرے پریاگ راج کی سیڑھی چوم چکے ہیں ۔عام شردھالوﺅں کا جو جوش شروع میں دکھائی دیا تھا وہ ا ب بھی کم نہیں دکھائی دے رہا ہے ۔مونی اماوسیا کے دن افسوس ناک بھگدڑ میں کچھ شردھالوﺅں کی موت ہو گئی تھی ۔پریاگ راج پہنچنے والے ہر راستے پر میلو لمبی لائنےں لگی دیکھیں گئی ۔شردھالوﺅں کو کئی کئی گھنٹے لائنوں اور جام سے بھی ان کے جوش میں کمی نہیں آئی ۔کئی مائنوں میں یہ مہاکمبھ تاریخی رہا ۔ہم وزیراعلیٰ یوگی جی وہ ان کے تمام انتظامی حکام کو اس انتہائی کامیاب انعقاد کے لئے بدھائی دیتے ہیں ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
زندہ ہیں مجتبیٰ خامنہ ای ؟
پچھلی 28 فروری سے جب سے امریکہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان والے افراد کی شہادت ہوئی تھی ...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...