Translater

14 فروری 2018

ابوظہبی میں پہلا ہندو مندر

یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ کسی اسلامی ملک میں ہندو مندر بنے۔ لیکن متحدہ عرب امارات کی راجدھانی ابوظہبی میں مندر بننے جارہا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی ایتوار کو ابوظہبی ۔دوبئی قومی شاہراہ پر وویاسنواسی شری اکشرپروشوتم سوامی نارائن سنستھا (بی اے پی ایس) مندر کا سنگ بنیاد رکھے جانے کے گواہ بنے۔ ابوظہبی میں اس پہلے ہندو مندر کے شیلانیاس پروگرام کا دوبئی اوپیرا ہاؤس میں سیدھا ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔ یو اے ای حکومت نے ابوظہبی میں مندر بنانے کے لئے 20 ہزار مربع میٹر زمین دی تھی۔ حکومت نے سال2015 میں اس وقت یہ اعلان کیا تھا جب وزیر اعظم نریندر مودی دوروزہ دورہ پر وہاں گئے تھے۔ مندر ابوظہبی میں الوقبہ نام کی جگہ پر 20 ہزار مربع میٹر کی زمین پر بنے گا۔ ہائی وے سے ملحق یہ علاقہ الوقبہ ابوظہبی سے تقریباً 30 منٹ کی دوری پر واقع ہے۔ مندر کو بنانے کی مہم چھیڑنے والے بی آر شیٹی ہیں، جو ابوظہبی کے جانے مانے ہندوستانی کاروباری ہیں۔ وہ یو ایکسچینج نام کی کمپنی کے ایم ڈی اور سی ای او ہیں۔ ویسے تو مندر سال2017 کے آخر تک بن کر تیار ہوجانا تھا لیکن کچھ وجوہات کی وجہ سے تاخیرہوگئی۔ اب پی ایم نریندر مودی کے دورہ اور بھومی پوجن کے بعد مندر کی بنیاد رکھی گئی اور کام شروع ہوگیا۔ مندر میں کرشن ، شیو، ایپا ،وشنو کی مورتیاں ہوں گی۔ ایپّا کو وشنو کااوتار مانا جاتا ہے اور ساؤتھ انڈیا خاص کر کیرل میں ان کی پوجا ہوتی ہے۔ سننے میں آرہا ہے کہ مندر کافی بڑھیا اور بڑا ہوگا۔ اس میں ایک چھوٹا ورنداون یعنی باغیچہ اور فوارہ بھی ہوگا۔ مندر بننے کو لیکر ابوظہبی کے مقامی ہندوؤں میں جوش اور خوشی کا ماحول ہے۔ فی الحال انہیں پوجا یا شادی جیسی تقریب کرنے کے لئے دوبئی جانا پڑتا تھا اور اس میں تقریباً تین گھنٹے کا وقت لگتا تھا۔ دوبئی میں دو مندر (شیو اور کرشنا) کے علاوہ گورودوارہ پہلے سے موجود ہے لیکن ابوظہبی میں کوئی مندر نہیں ہے۔ ہندوستانی سفارتخانہ کی رپورٹ کے مطابق یو اے ای میں تقریباً 26 لاکھ ہندوستانی رہتے ہیں جو وہاں کی آبادی کا تقریباً 30 فیصدی حصہ ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ مندر صرف فن ثقافت اور عمدگی میں ہی خاص نہیں ہوگا بلکہ یہ دنیا بھر کے لوگوں کو واسو چھید کٹمبھ کاسندیش بھی دے گا۔ پی ایم نے یو اے ای میں کام کررہے سینکڑوں ہندوستانیوں کو خطاب کرتے ہوئے ہندی میں کہا کہ یو اے ای سے ہمارا تعلق صرف ایک خریدار یاڈیلرکا نہیں ہے۔ یہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ واضح ہو کہ متحدہ عرب امارات 33 لاکھ پرواسی ہندوستانیوں کا گھر ہے۔
(انل نریندر)

وادی کے بجائے اب جموں خطہ آتنکی نشانے پر

ہندوستانی فوج کی جوابی کارروائی سے بوکھلائے پاکستان و ان کے آتنک وادیوں نے پچھلے کچھ وقت سے کشمیر وادی کو چھوڑ کر جموں خطے میں حملہ بڑھادئے ہیں۔ خبر ہے کہ پاکستانی آقاؤں کی ہدایت پر ہی وادی کے آتنکی جموں خطہ میں لگاتار حملہ کررہے ہیں۔ جیش محمد کے آتنکیوں نے سنیچر کی صبح سویرے جموں میں واقع سنجوان فوجی کیمپ پر فدائی حملہ کردیا۔ فوجی کیمپ پر حملہ میں شامل چار آتنک وادیوں کو مار گرایا گیا جبکہ ہمارے پانچ جوان سمیت چھ شہید ہوئے۔ سنجوان میں حملہ کرنے والے آتنکی پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے۔ دہشت گردوں کے پاس بھاری مقدار میں گولہ بارود تھا۔ اطلاع کے مطابق گرینیڈ اور آئی ای ڈی جیسے دھماکو بھی تھے۔ سنجوان کیمپ جموں ۔ پٹھانکوٹ نیشنل ہائی وے کے بائی پاس پر واقع ہے۔ یہ شہر کے گھنی آبادی میںآتا ہے۔ یہاں قریب 3 ہزار جوان کنبے ساتھ رہتے ہیں۔ 2006 میں بھی اسی آرمی کیمپ پر آتنکی حملہ ہوا تھا۔ اس میں 12 جوان شہید ہوگئے تھے7 دیگر زخمی ہوئے تھے۔ یہ حملہ لشکر طیبہ نے کیا تھا۔ تب ساڑھے چار گھنٹے تک مڈ بھیڑ چلی تھی۔ آتنکی حملہ کرنے والے جیش محمد کے بتائے جارہے ہیں۔ یہ افضل برگیڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔ بار بار ان پٹ مل رہے تھے کہ جیش کے آتنکی فوجی کیمپ پر فدائین حملہ کرنے کی سازش میں لگے ہوئے ہیں۔ باوجود اس کے حملہ ہونا سیکورٹی میں بھاری چوک مانا جارہا ہے۔ ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے لگاتار ان پٹ جاری ہورہے تھے لیکن ضلع پولیس نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔پولیس کی اپنی خفیہ مشینری بھی کسی کام نہیں آئی۔ جیش کی طرف سے کہا گیا تھا کہ افضل گورو کی برسی یعنی 9 فروری کو وہ آتنکی حملہ کریں گے۔ اکھنور سے لیکر کٹھواہ تک کے نیشنل ہائی وے کے پاس قائم کیمپوں کو نشانہ بنانے کی جانکاری تھی۔ اس سے پہلے جب پلوامہ میں سی آر پی ایف ٹریننگ سینٹر پر حملہ ہوا تھا تو اس ویڈیو میں آتنکی یہ کہتا نظر آیا تھا کہ افضل برگیڈ افضل کی برسی پر حملہ کرے گا۔ آتنکیوں اور ان کے آقاؤں نے اپنی حکمت عملی کو بدلا ہے اور اب زیادہ توجہ جموں خطہ کی طرف دی جارہی ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ اب آتنکی ہمارے فوجی خاندانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ سنجوان حملہ میں بھی آتنکیوں نے گھسنے کے بعد سیدھا فیملی کوارٹرس کی طرف رخ کیا۔ کواٹروں میں پہنچتے ہیں آتنکی الگ الگ ہوگئے۔ فوجی کوارٹروں میں رہنے والے میجر اپنی بیٹی کے ساتھ صبح سیرکررہے تھے۔ لڑکی نے فوجی وردی میں آتنکیوں کو بھاگتے دیکھ ان سے پوچھا انکل آپ کیوں بھاگ رہے ہیں؟ اس پر آتنکیوں نے فائر شروع کردیا۔ اس میں میجر اور ان کی بیٹی زخمی ہوگئی۔ آتنکیوں نے گولیاں چلاتے ہوئے بریگیڈ کے اسلحہ ڈپو میں گھسنے کی کوشش کی تھی لیکن وہاں تعینات جوانوں کی جوابی کارروائی میں آتنکی الگ الگ بٹ گئے اور گولہ باری کرتے ہوئے فوجیوں کے رہائشی زون میں گھس گئے۔ پاک فوج کے ذریعے فائرنگ اور دراندازی کی کوشش بھی اب جموں خط میں بین الاقوامی سرحد سے کرائی جانے لگی ہیں۔ ابھی تک ہندوستانی فوج کی پوری توجہ کنٹرول لائن و ساؤتھ کشمیر پر تھی لیکن آتنکیوں اور پاک فوج کے رخ بدلنے سے ہماری فوج کو بھی حکمت عملی میں تبدیلی کرنا ضروری ہے۔
(انل نریندر)

13 فروری 2018

کیا مودی لوک سبھا چناؤ وقت سے پہلے کروائیں گے

دیش کی عوام نے 2014 کے چناوی ثمر میں نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کو 60 مہینے کیلئے اقتدار سونپا تھا لیکن اب قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ شاید مئی 2019 سے پہلے دسمبر 2018 میں یعنی پانچ مہینے پہلے ہی پی ایم مودی جنتا کی عدالت میں دوبارہ مینڈیٹ لینے کیلئے عوام کے پاس جائیں۔ مانا جارہا ہے بی جے پی راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے اسمبلی چناؤ کے ساتھ ساتھ لوک سبھا چناؤکا بھی داؤں کھیل سکتی ہے۔پی ایم کے پلان سے چوکس ہوئی کانگریس نے بھی اپنی حکمت عملی صاف کردی ہے۔ کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرمین سونیا گاندھی نے 2019 کے لئے اپوزیشن اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس یکساں آئیڈیالوجی والی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مل کرکام کرے گی تاکہ اگلے چناؤ میں بھاجپا کو ہرایا جاسکے۔ پچھلے لوک سبھا چناؤ میں کانگریس کی ہار کو غیر معمولی بتاتے ہوئے سونیا گاندھی نے پارٹی ورکروں سے کہا کہ عام چناؤ تقریباً ایک سال بعد ہیں لیکن ہمیں تیار رہنا ہوگا کیونکہ بھاجپا پہلے بھی چناؤ کراسکتی ہے۔ 2014 عام چناؤ کے دوران نریندر مودی کی مہم میں مدد کرنے والے ٹکنالوجی صنعت کار راجیش جین نے بھی وقت سے پہلے چناؤ کی افواہ کو مضبوطی دی ہے۔ انہوں نے وقت سے پہلے چناؤ کے سبب بھی بتائے ہیں۔ ان کی دلیل ہے کہ 2014 کے چناؤ کے بعد سے بی جے پی کی سیٹیں لگاتار کم ہورہی ہیں اور مودی چناؤ کا جتنا انتظارکریں گے اتنی ہی اپنی چمک کھوتے جائیں گے۔ جو بھی ہو سرکار مخالف ہوا کا اپنی سائیکلنگ اور دلیل ہوتی ہے۔ بے روزگاری ،دیہی معیشت کی وجہ سے پیدا ہونے والی دقتیں بھی بڑھتی جائیں گی۔ وقت سے پہلے چناؤ کے حق میں سب سے زیادہ مضبوط دلیل اب بھی چونکانے والی ہے اور ہم سب جانتے ہیں کہ مودی کو چونکانا پسند ہے۔ مودی سرکار نے اپنے بجٹ سے کسانوں کو رجھانے کے بھی کوشش کی ہے۔ اگر چناؤ وقت سے پہلے ہوئے تو اپوزیشن کو متحدہ ہونے کا وقت نہیں مل پائے گا اور سرکار مخالف مہم کے لئے ان کے پاس کوئی ٹھوس حکمت عملی نہیں ہوگی۔ یہ نظریہ بھلے ہی دل بہلانے والے لوگے ہوں لیکن سچائی یہ بھی ہے کہ اس وقت مودی سرکار دیہی معیشت کو لیکر مشکل میں ہے۔ خاص کر کسانوں کی دقتوں کی وجہ سے لمبے وقت سے معیشت میں ہلچل نہیں ہے اور پرائیویٹ سرمایہ بھی نہیں بڑھ پارہا ہے۔ مودی سرکار کے لئے چیزیں اور خراب ہوتی جائیں گی۔ دیہی گجرات اور راجستھان میسیج دیکھا گیا ہے حالات پہلے سے بدتر ہوگئے ہیں۔ سرکار کی کوشش انہیں بہتر کرنے کے لئے ہوگی حالانکہ وقت سے پہلے چناؤ کروانا ایک بڑا خطرہ بھی ہے۔ اٹل بہاری واجپئی اکتوبر 1999 میں تیسری بار وزیراعظم بنے تھے اگلے چناؤ اکتوبر 2004 میں ہونے تھے لیکن مدھیہ پردیش ، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں چناوی جیت سے گد گد بھاجپا نے ستمبر ۔ اکتوبر 2004 کے بجائے دسمبر 2003 میں ہی چناؤ کروا دئے، بی جے پی چناؤ ہار گئی۔ نریندر مودی اگر اٹل بہائی واجپئی کی غلطی کو دوہراتے ہیں تو یہ چونکانے والی بات ہی ہوگی۔ اقتدار کا ہردن نیتا کے پاس ووٹروں کو لبھانے کا ایک اور موقعہ ہوتا ہے۔ وقت سے پہلے چناؤ اس موقعہ کو گنوا دیتے ہیں۔ وقت سے پہلے چناؤ کروانا ایک جوا ہے جو ادھر بھی بیٹھ سکتا ہے ادھر بھی ۔ آنے والے دنوں میں پوزیشن مزیدصاف ہوجائے گی۔
(انل نریندر)

ایودھیا تنازعہ صرف زمین کا جھگڑا ہے

عدالت سے تاریخ پر تاریخ صرف عام لوگوں کو ہی نہیں ملتی کبھی کبھی اس کے چکر میں بھگوان بھی پھنس جاتے ہیں۔ اب سپریم کورٹ رام جنم بھومی تنازعہ پر 14 مارچ کو سماعت کرے گی۔ اس درمیان کورٹ نے پھر صاف کیا کہ وہ اس معاملہ میں جذباتی دلیلیں نہیں سنے گا بلکہ صرف زمین تنازعہ کے نظریئے سے سنے گا۔ ایودھیا تنازعہ کی سماعت میں سپریم کورٹ کا یہ کہنا کہ وہ اسے صرف زمین کے جھگڑے کی شکل میں دیکھ رہی ہے ،قطعی طور پر یہ غیر معمولی نہیں ہے۔عدالت جذبات کی بنیاد پر نہ سماعت کرسکتی ہے اور نہ ہی کوئی فیصلہ دے سکتی ہے۔ اس کا کردار ٹھوس ثبوت اور حقائق کے مطابق فیصلہ کرنے کا ہے۔ عدالت کا یہ تبصرہ آئین کی کتاب سے نکل کر آیا ہے۔ ایودھیا تنازعہ دراصل ایک زمین کا جھگڑا ہے۔ سماعت جذبات کی نہیں الہ آباد ہائی کورٹ کے 2010 کے فیصلے کے خلاف کی گئی اپیل پر ہورہی ہے۔ کروڑوں ہندوؤں کے جذبات کا سوال اٹھا کر کئی اور فریق شامل ہونا چاہتے تھے۔ جتنی دلیلوں کو چیف جسٹس دیپک مشرا کی تین ممبر بنچ نے ان سنا کردیا ۔بیشک ایودھیا تنازعہ دیش کے کروڑوں لوگوں کے لئے آستھا اور جذبات کا اشو ہے لیکن جب یہ عدالت میں آ ہی گیا ہے تو اس کا کریکٹر محدود ہوگیا ہے۔ عدالت کے سامنے تو یہی اشو ہے کہ متنازعہ جگہ پر کس کی ملکیت بنتی ہے؟ ایودھیا ہندوستانی جمہوریت نظام کا سب سے پیچیدہ تنازعہ اور اس میں عدالتیں دلیلوں، اپیلوں اورثبوتوں کے ساتھ سیاسی جذبات کی وابستگی کو خارج کرنا حالانکہ مشکل ضرور ہے اس لئے چیف جسٹس کو یہ بھی کہنا پڑا کہ وہ معاملہ کی نزاکت کو سمجھتے ہیں۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے بھی اسی بنیاد پر تنازعہ کا فیصلہ کیاتھا حالانکہ اس کا یہ مطلب قطعی نہیں مانا جانا چاہئے کہ دیوانی معاملہ ہو جانے کے سبب جو آثار قدیمہ یا قدیم گرنتھوں کے ثبوت ہیں ان کا نوٹس عدالت نہیں لے گی۔ عدالت نے خود ہائی کورٹ کو سبھی فریقین کو ہندوستانی آثار قدیمہ کے ذریعے کی گئی کھدائی کے ویڈیو دستیاب کرانے کا بھی حکم دیا ہے۔ اے ایس آئی کی جانب سے 1970،1992 اور 2003 میں کھدائی کی گئی تھی۔ دیش چاہتا ہے کہ سپریم کورٹ معاملہ کی تیزی سے سماعت کرکے فیصلہ دے لیکن اس سے متعلقہ دستاویزات اتنے زیادہ ہیں کہ ان کے ترجمے میں ہیں وقت لگ رہا ہے۔ کل 524 دستاویزوں میں سے 504 کا ترجمہ کورٹ میں داخل ہوچکا ہے۔ 87 گواہیوں کے ترجمے اور اے ایس آئی کی رپورٹ بھی داخل ہوچکی ہے۔ ویسے تو اس تنازعہ کا حل عدالت کے باہر دونوں فریقوں کی رضامندی سے ہوجاتا تو بہتر ہوتا لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ کئی بار کوشش ہوئی لیکن کسی نتیجے پر نہیں پہنچا جاسکا۔ سیاسی پارٹیوں کی اہم تشویش تنازعہ کے حل کے بجائے اپنے ووٹ بینک کو بڑھانے اور محفوظ رکھنے کی رہی ہے۔ اس معاملہ میں سپریم کورٹ پھونک پھونک کر قدم رکھا رہا ہے۔ دسمبر 1992 میں بھی الزامات لگے تھے کہ اگر عدالت وقت سے فیصلہ دے دیتے تو شاید ویسا افسوسناک واقعہ نہ ہوتا۔ صحیح ہے کہ عدالت میں لمبے وقت سے رام جنم بھومی کا جھگڑا لٹکا ہواتھا لیکن اگر سماعت عدالت اپنا فیصلہ اکثریتی فرقے کے خلاف سنا دیتی تو کیا اسے ماننے کو تیار ہوجاتا؟ یا پھر اقلیتی فریق کے خلاف فیصلہ آتا تو کیا وہ اسے مانتے؟ یہی سوال آج بھی ہے جس کا دباؤ سپریم کورٹ پر پڑ رہا ہوگا۔ خیر! اب سبھی فریقوں کو یہ مان کر چلنا ہوگا کہ سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ دے گی اسے قبول کر تنازعہ کا مستقل خاتمہ کردیا جائے گا۔ سیاسی پارٹیوں کو بھی ابھی سے من بنانا ہوگا تاکہ سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ آئے اسے عمل میں لانے کے لئے کام کرسکیں۔ یہی ایک واحد راستہ ہے اور اسی میں دیش کی بھلی بھی ہے۔
(انل نریندر)

11 فروری 2018

اترپردیش میں بھاجپا کی مصیبت بنے اپنے ہی ممبر اسمبلی!

اترپردیش میں بھاجپا کی یوگی آدتیہ ناتھ سرکار کی اپنے افسروں اور ممبران اسمبلی پر پکڑ کمزور ہوتی جارہی ہے۔ بھاجپا کی اتحادی پارٹیوں کی چنوتی اور احتجاج کو لگاتار جھیل رہی ہے لیکن اپنی پارٹی کے ممبران اسمبلی کا بھی حملہ کم نہیں ہورہا ہے۔ چاہے معاملہ بریلی کے ڈی ایم کا ہوچاہے ڈپٹی ڈائریکٹر رشمی وروپ کا ہو، افسر بھی سرکار کی تنقید کرنے سے نہیں کتراتے۔ سہارنپور کمشنری کے محکمہ ٹیلی کی ڈپٹی ڈائریکٹر رشمی وروپ کافی دنوں سے فیس بک پر بھاجپا کے مخالفوں کی حمایت کرتی رہی ہیں۔ عام آدمی پارٹی کی بھاجپا مخالف پوسٹ ہو تو ٹی وی رپورٹ کی ایسی ہی پوسٹ کی انہوں نے کھل کرحمایت کی ہے ۔ تنظیم اور انتظامیہ سرکار کی سطح پر ایک طرف عوامی نمائندوں سے تال میل بنانے کی کوشش ہورہی ہے تودوسری طرف علاقائی اشوز کو لیکر بھاجپا ممبر اسمبلی آئے دن اپنی ہی سرکار کے لئے محاذ آرا ہورہے ہیں۔ بھاجپا سرکار میں سانجھے دار سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کے چیئرمین اور یوگی سرکار کے وزیر اوم پرکاش راج بھر نے وارانسی میں اپنی ہی سرکار کے خلاف کرپشن کا الزام لگا کر سنسنی پھیلا دی ہے۔ وہ اب 18 فروری کو چندولی میں ریلی کرکے سرکار پر پھر حملہ کرنے جارہے ہیں۔ 2019 کے لوک سبھا چناؤ کے لئے پارٹی کمزور کڑیوں کو دور کرنے میں لگی ہے لیکن پارٹی کے ہی کئی ممبر اسمبلی الزامات کی بوچھار کے ساتھ اپوزیشن پارٹیوں جیسا برتاؤ کرنے پر اترآئے ہیں۔ حال ہی میں اورئی کے بھاجپا ممبر اسمبلی دینا ناتھ بھاسکر سرکاری یوجناؤں میں کرپشن کا الزام لگا کر اورئی تحصیل میں حمایتیوں کے ساتھ دھرنے پر بیٹھے تو کھلبلی مچ گئی۔ ہردوئی کے بھلاوا بلگرام کے ممبر اسمبلی آشیش سنگھ آبھو نے وہاں کے سی ایم او سے مفاد عامہ کے کاموں کو نظر انداز کیا تو سی ایم او نے الٹے ان کے خلاف الزام جڑدئے۔ ابھی حال میں بستی کے ممبر اسمبلی ہریش دویدی اور ممبر اسمبلی سنجے جسوال نے علاقائی امور کو لیکر دھرنا دیا۔ ایسی اور کئی مثالیں ہیں جہاں بھاجپا کے ممبر اسمبلی اپنی ہی سرکار و انتظامیہ کے خلاف کھل کر الزام لگا رہے ہیں۔ بہتر ہوکہ اترپردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ سرکار اور بھاجپا تنظیم کے سینئر افسر اپنی پکڑ مضبوط کریں اور ممبران اسمبلی کی شکایتوں پر توجہ دیں۔ 2019 کا چناؤ دور نہیں۔ وہ پہلے بھی ہوسکتا ہے۔ ایسے میں پارٹی کے اندر ناراضگی وزیر اعظم نریندر مودی کے مشن2019ء کو جھٹکا دے سکتی ہے۔ اترپردیش سب سے زیادہ اہم ہے۔ وقت رہتے اس کی اصلاح نہیں کی گئی تو قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔
(انل نریندر)

سستا کچا تیل خریدا اور مہنگا پیٹرول ۔ڈیزل بیچا

ان تیل کمپنیوں کو جنتا کی کتنی فکر ہے اسی سے پتہ چل جاتا ہے کہ یہ دونوں ہاتھوں سے جنتا کو لوٹ رہی ہیں اور سرکار نے انہیں ایسا کرنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ لوگ پیٹرول ڈیزل کے بڑھتے داموں سے پریشان ہیں اور سرکاری کمپنیاں اپنا منافع بڑھانے میں لگی ہوئی ہیں۔سرکار کی سب سے بڑی کمپنی انڈین آئل (آئی او سی ) نے منگل کو جاری سہ ماہی (اکتوبر ۔ ستمبر 2017) کے نتیجے میں بتایا کہ کمپنی نے دوگنا منافع کمایا ہے۔ 2016 کی دسمبر سہ ماہی میں 3994.91 کروڑروپے کا منافع تھا جو بڑھ کر 97فیصد یعنی 7883.22 کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ وجہ کمپنی نے بین الاقوامی بازار میں کچا تیل تو سستے میں خریدا لیکن پیٹرول۔ ڈیزل مہنگے داموں پر بیچتی رہی۔ اس سے کمپنی کا ریفائننگ مارجن کافی بڑھ گیا۔ ریوینیو کے لحاظ انڈین آئل دیش کی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ انڈین آئل 27.58 فیصد تیل پروسسنگ کرتی ہے جبکہ ریلائنس 28.41 فیصد ، بھارت پیٹرولیم 14.69 فیصد، ہندوستان پیٹرولیم 10.40 فیصد۔ ہماری جیب کٹتی گئی اور کمپنیوں کا منافع بڑھتا گیا۔ اس کے دو بڑے ثبوت ہیں پہلا آئی او سی کا منافع 97 فیصد بڑھ گیا لیکن ریوینیو میں صرف13 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پہلے یہ 1.15 لاکھ کروڑ تھا اب 1.30 لاکھ کروڑ کا ہوگیا۔ دوسرا مقدار کے لحاظ سے بھی پچھلے سال کی سہ ماہی کے مقابلہ میں گھریلو بازار میں بکری صرف 4.1 فیصد بڑھی اور ریفائنری پروسسنگ بھی 11.4 فیصد ہی بڑھا۔ دہلی میں 30 جنوری 2018 کو گراہکوں کو پیٹرول 72.92 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 64 روپے فی لیٹر ملا۔ اس کا بریک اپ ایسے ہے ڈیلر کو بیچا 34.33 پیسے ایکسائز ڈیوٹی 19.48 پیسے، ڈیلر کا مارجن 3.61، ویٹ 15.50 اس طرح پیٹرول کی قیمت 72.02 بنتی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کو بیچا 36.71 ایکسائز ڈیوٹی 15.33، ڈیلر مارجن 2.53، اور ویٹ 9.43 کل ملاکر قیمت بنی 64 فی لیٹر۔ بھارت کی معیشت میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا بڑا رول ہے اس کی بڑھتی قیمتوں ریوائنڈ اثر ہوتا ہے۔ تمام مہنگائی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ سرکار نے ان کمپنیوں کو پبلک کو لوٹنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ پبلک مہنگائی کے بوجھ تلے دب رہی ہے اور یہ کمپنیاں اپنا منافع بڑھانے میں لگی ہوئی ہیں۔ ڈیزل کی قیمتوں کے بڑھنے سے کسان بھی پریشان ہے کیونکہ ان کی لاگت بڑھ گئی ہے اور ان کو بڑھی قیمتوں کے حساب سے ریٹرن نہیں مل رہی ہے۔ جنتا کو اس لوٹ سے بچانا چاہئے اور قیمتوں پر کنٹرول کرنا چاہئے۔
(انل نریندر)

10 فروری 2018

مودی سرکار حمایتی پارٹیوں میں ناراضگی

شیو سینا کے بعد اب مودی سرکار کی دوسری سب سے بڑی اتحادی جماعت تیلگودیشم نے بھی آنکھیں دکھانی شروع کردی ہیں۔ آندھرا میں پی ڈی پی نے فی الحال بھلے ہی این ڈی اے نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہو مگر اس نے اپنی ناراضگی ظاہر کرنے میں کوئی کسر نہیں رکھی۔ اس سے پہلے بی جے پی کی سب سے پرانی اتحادی پارٹی شیو سینا باقاعدہ اپنی قومی ورکنگ کمیٹی میں پرستاؤ پاس کرچکی ہے کہ وہ بی جے پی کے ساتھ اپنا اتحاد اگلے لوک سبھا چناؤ میں جاری نہیں رکھے گی۔ شیو سینا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے لوک سبھا چناؤ اکیلے لڑے گی۔ 2019 میں لوک سبھا چناؤ سے پہلے دیش کے سیاسی تجزیئے بدلنے شروع ہوگئے ہیں۔ پی ڈی پی سمیت این ڈی اے میں شامل قریب آدھا درجن پارٹیاں فی الحال بھاجپا سے ناراض چل رہی ہیں۔ شیو سینا تو اتحاد سے ہی الگ ہوگئی ہے۔ یوپی میں سہلدیو بھارتیہ سماج پارٹی، اپنا دل، بہار میں لوک سمتا پارٹی ، مہاراشٹر میں راشٹریہ سماج بھی بھاجپا سے ناراض چل رہی ہیں۔ اس سال 8 ریاستوں کے اسمبلی چناؤ ہونے ہیں۔ کئی پارٹیاں ان چناؤ کے نتیجوں کے بعد بھی مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرسکتی ہیں۔ مودی کی رہنمائی میں لوک سبھا چناؤ جیتنے اور مرکز میں اپنی سرکار بنانے کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے کہ بھاجپا کی اتحادی پارٹیوں کی طرف سے ایسی علیحدگی پسندی والی باتیں سننے کو مل رہی ہیں۔ بھاجپا کی رہنمائی والے این ڈی اے میں جب ناراضگی و دھمکی اور وارننگ وغیرہ کی آوازیں اٹھتی رہتی تھی مگر مودی کی لیڈر شپ والے اس دور کے لئے یہ نئی باتیں ہیں۔ دونوں میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ واجپئی سرکار ان اتحادی پارٹیوں کی حمایت پر منحصر ہوتی تھی جبکہ آج بھاجپا کو لوک سبھا میں مکمل اکثریت حاصل ہے۔ این ڈی اے کی سبھی اتحادی پارٹیوں کو یہ بخوبی معلوم ہے کہ ان کی حمایت واپس لینے سے مودی سرکار کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔یہ صحیح ہے کہ مودی سرکار نے ان پارٹیوں کو کبھی خاص اہمیت نہیں دی۔ مگر اب چناؤ قریب آرہے ہیں سرکار اپنا آخری مکمل بجٹ پیش کرچکی ہے یعنی سماج کے ناراض گروپوں کے لئے ٹھوس کچھ کرنے کا اچھا موقعہ اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ حال ہی میں ہوئے مغربی بنگال ۔راجستھان ضمنی چناؤ میں بھی پارٹی کو مایوسی ہاتھ لگی ہے۔ ضمنی چناؤ کو پھر بھی بھاجپا لیڈر شپ مقامی معاملہ کہہ کر ٹال سکتی ہے مگر اتحادی پارٹیوں کی ناراضگی کو نظرانداز کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ اب یہ صرف پارٹیوں یا سیٹوں کا معاملہ نہیں ہے عام ووٹوں کی گول بندی کا سوال ہے۔ اس سے میں ذرا سا بھی الٹ پھیر ووٹ فیصد میں بڑی ردوبدل کرسکتا ہے بھاجپا کے اندر بھی سب کچھ ٹھیک نہیں ہیں۔ پارٹی میں بھی ناراضگی پائی جاتی ہے۔
(انل نریندر)

امریکہ -سعودی نیوکلیائی معاہدہ !

ایران امریکہ جنگ کے درمیان خلیج سے ایک ایسی خبر آئی ہے جو نہ صرف مشرقی وسطیٰ کو بلکہ پوری دنیا کو چونکا دے گی ۔جس یورینیم افزودگی کو لے کر ...