امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ ایران میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتم سنسکار میں رو رہے تھے ۔ایکسیونس کا دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں لگا تھا کہ ایران کی عوام خامنہ ای سے نفرت کرتی ہے ۔ اس پر انہوں نے یہ بھی تبصرہ کیا کہ شاید یہ آنسو نقلی ہوں ۔جنازے میں ایران کے اعلیٰ قیادت کے موجود ہونے کے سوال پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکہ چاہے تو ایک ہی حملے میں ایران کے موجودہ قیادت کو ختم کر سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ سبھی وہاں موجود ہیں ۔ایک ہی حملے میں سبھی کو ختم کر سکتے ہیں ، لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے کیوں کہ پھر ہمارے پاس بات چیت کرنے کے لئے کوئی نہیں بچے گا ۔ایران نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ خامنہ ای کی موت کے بعد چھائے گہرے شوک کو سمجھ نہیں پائے گا ، کیوں کہ نہ تو اس کی کوئی تہذیب ہے ، نہ ہی تاریخ اور نہ ہی سمان ۔ادھر ،ٹرمپ کے بیان پر سخت رد عمل دیتے ہوئے ارمونیا میں قائم ایرانی قونصل خانہ نے سوشل میڈیا پر کہا ، لوگوں کو مارا جاسکتا ہے پر نظریات کو نہیں ۔ آپ نے آیت اللہ علی خامنہ ای کو مارڈالاپر اصل میں اپنے عطر کی ایک ایسی شیشی توڑ دی جس کی خوشبو ہر جگہ پھیل گئی ہے ۔بتادیں کہ ایران میں 36 سال تک حکومت میں رہے خامنہ ای کی 28 فروری کو امریکہ اسرائیلی حملے میں موت ہو گئی تھی ۔97 سال کے شیعہ مذہبی پیشوا آیت اللہ جعفر سومانی نے تہران کی گرینڈ مسلح میں آیت اللہ علی خامنہ ای ، و ان کے پریوار کے متوفی افراد کے لئے دعا کرائی ۔ یہاں آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مسعود ، میسام و مصطفیٰ بھی موجود تھے ۔ انہیں جنگ شروع ہونے کے بعد سے نہیں دیکھا گیا تھا ۔موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہیں دیکھے گئے ۔ ریوشنری گارڈ کے چیف جنرل احمد وحیدی بھی جنگ کے بعد پہلی بار دکھے ۔صدر مسعود پزیشکیان ، سنسد کے اسپیکر محمد باگھیر غالیباف و قدس بلوں کی قیادت کرنے والے اسماعیل تھانی بھی موجود تھے ۔ گرینڈ مسلح میں لگے پوسٹر وں و دیواروں پر لکھے پیغامات میں ٹرمپ و اسرائیل وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کو مارنے کی مانگ کی گئی ۔کوی رسولی نے دعا سے قبل پروگرام کو چلایا اور امریکہ اسرائیل مراد آباد کے نعرے لگائے ۔اُدھر ،ایران کے سینئر آرمی افسر علی شادمانی نے امریکہ اور اسرائیل کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کاروائی کا اس کی مسلح افواج سخت جواب دیں گی ۔ ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے بھی دہرایا کہ دیش کی عوام یا قیادت کسی بھی خطرے کا فوری اور مضبوط جواب دیاجائے گا ۔یہ بیان اسرائیل کے وزیر دفاع کی ایرانی سپریم لیڈر کو مارنے کی دھمکی سے جڑے تبصرے کے بعد آیا ۔بتادیں کہ شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخر ی رسوم میں ان کے آخری دیدار کرنے کروڑوں لوگ سڑکوں پر اترے ۔ ایسی انتم یاترا دنیا میں پہلے کہیں بھی نہیں دیکھی گئی ۔انتم سنسکار میں بھارت سمیت 70 سے زیادہ دیشوں کے نمائندگان شامل ہوئے ۔وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ 70 سے زائد دیشوں کے نمائندگان سپریم لیڈر گریٹ آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتم سنسکار میں شامل ہوئے ۔ان میں ہمارے وفادار عرب بھائی بھی شامل ہیں ۔
(انل نریندر)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں