Translater

10 مارچ 2017

ملک دشمنوں کا اڈہ بنتی جواہر لال نہرو یونیورسٹی

دہلی یونیورسٹی میں رامجس کالج میں جے این یو کے طالبعلم عمر خالد کو بلائے جانے پر پچھلے بدھوار کو طلبا کے گروپوں کے درمیان لڑائی اور مارپیٹ ہوئی۔ اس میں ایک ایسی طالبہ تھی پریرنا بھاردواج جو دیش کے خلاف نعرے لگانے کی آواز سنتے ہی بھڑک گئی اور 70 نعرے لگانے والوں سے اکیلے بھڑ گئی لیکن اس نے ہار نہیں مانی۔ طالبہ پریرنا نے کہا کہ دیش کے خلاف بولنے والے لوگ حیوان کی طرح برتاؤ کررہے ہیں۔ اسے اکیلا دیکھ نہ صرف اس کے کپڑے پھاڑے گئے بلکہ اس کی چھاتی پر مکے مارنے سے بھی پیچھے نہیں رہے۔ واقعے کو بتاتے ہوئے پریرنا نے کہا کہ وہ کروڑی مل کالج میں پڑھتی ہے اور این سی سی کی کیڈٹ بھی ہے۔ پھٹے ہوئے کپڑوں کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ دراصل جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں دیش مخالف سرگرمیاں پچھلے کچھ عرصے سے تیز ہوئی ہیں۔ بات چاہے جے این یو کی ہو یا دہلی یونیورسٹی کی دنوں ہی دنیا کی نامور یونیورسٹیوں میں شمار کی جاتی ہیں۔ انہیں نے دیش دنیا کو انگنت شخصیتیں فراہم کی ہیں۔ ایسے میں وہ اس طرح کے بیہودہ واقعات کا ہونا جائز نہیں مانا جاسکتا۔ اعلی تعلیم حاصل کررہے طلبا بھی اگر گھنونے ذہنیت کو ترک نہیں کریں گے تو اوروں سے کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ دراصل جے این یو میں کمیونسٹوں کا بول بالا ہے۔ کچھ ایسے نام نہاد دانشور سماج میں ہیں جو اس طرح کی غلط سلط بحث کو چھڑے رکھتے ہیں۔ حقیقت میں یہ طبقہ بھارت کی ہر چیز میں کمی دیکھتا ہے اور اسے بڑھا چڑھا کر بتانے کی کوشش کرتا ہے۔ کمیونسٹ مزاج اسٹوڈنٹ تنظیم ’آئیسہ‘ عمر خالد جیسے کشمیری علیحدگی پسند آئیڈیالوجی کے لوگوں کو بلا کر دیش مخالف نعرے لگواتے ہیں۔ جے این یو انہی کی وجہ سے آج دیش مخالف سرگرمیوں کا اڈہ بنتی جارہی ہے۔ اے بی وی پی ان کی مخالفت کرتی ہے اور وقتاً فوقتاً ان دونوں کے درمیان ٹکراؤ کے حالات بھی بنتے ہیں۔ طلبا کو اپنی بات کہنے کا پورا حق ہے لیکن جب وہ دیش کی آزادی، بربادی اور دیش کے ٹکڑے کرنے کی بات کرتے ہیں تو اسے کون برداشت کرسکتا ہے۔ تقریر کی آزادی کا مطلب یہ قطعی نہیں ہے کہ آپ دیش کو توڑنے کی بات کریں۔ برسوں سے کچھ نیتا اپنے آپ کو اسٹوڈنٹ لیڈر کہتے آئے ہیں لیکن جے این یو میں آگے کی پڑھائی کرنے کے لئے یہ طلبا نیتا نہیں ہیں بلکہ وہ وہاں پڑے ہوئے ہیں۔یہ اپنے سیاسی ایجنڈے کو بڑھانے کے لئے جمے ہوئے ہیں اور دیش میں ان کے حمایتی بھی کم نہیں ہیں جو ان کی ملک دشمن سرگرمیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ سرکار کو جے این یو میں سختی سے پیش آنا چاہئے اور دیش کی جنتا کی گاڑھی کمائی کو برباد ہونے سے روکا جائے۔
(انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...