Translater

27 اپریل 2019

کیپٹن او ربادل دونوں کی ساکھ داو ¿ں پر لگی !

پنجاب کی سبھی 13لوک سبھا سیٹوں پر چناوی شطرنج کی بساط بچھ گئی ہے اس چناو ¿ میں پنجا ب کے وزیر اعلی کیپٹن امریند ر سنگھ اور سابق وزیر اعلی پرکاش سنگھ بادل کی ساکھ داو ¿ں پر لگی ہے اب شرومنی اکالی دل او رکانگریس امیدوار وں کی فہرست آجانے کے بعد اب چناوی پس منظر صاف ہوگیا ہے بے شک عام آدمی پارٹی چناوی میدان میں ہے لیکن اہم مقابلہ شرومنی اکالی دل اور کانگریس کے درمیان ہے کیپٹن امریندر سنگھ ان چناو ¿ کو لیکر کتنے سنجیدہ ہیں کہ انہوں نے اپنے وزیروں تک کو وارنگ دے ڈالی کہ لوک سبھا چناو ¿ میں اپنے حلقوں میں پارٹی کے امید وار کو جیتانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو انہیں کیبنٹ سے ہٹادےا جائے گا اس کے علاوہ انہوں نے ممبرا ن اسمبلی کو بھی خبر دار کردےا ہے کہ اگر ان کے حلقوں میں پارٹی امید وار نہیں جیت پائے تو ان کو آنے والے اسمبلی انتخابات کے لئے ٹکٹ نہیں دےا جائے گا ۔کانگریس صدر راہل گاندھی کی قےادت میں پارٹی اعلی کمان نے یہ ٹارگیٹ پردیش میں مشن 13کو حاصل کرناہے ۔اس کے فیصلہ کے مطابق اگر وزیر امیدوار وں کی جیت ےقینی نہیں کرپاتے تو انہیں وزیر کے عہدہ سے ہٹادےا جائے گا ۔اس مرتبہ کانگریس نے دو نوجوان اسمبلی کو ٹکٹ دیا ہے پٹیالہ سیٹ پر آپ پارٹی کے ڈاکٹر دھرم ویر گاندھی سے پچھلے چناو ¿ میں ہاری پرمیت کور کو کانگریس نے ایک بار پھر ٹکٹ دیا ہے لیکن اس مرتبہ عآپ پارٹی کو اپنوں سے ہی جتنا خطرہ اتنا دوسروں سے نہیں کانگریس پردیش صدر سنیل جاکھڑ اور وزیر اعلی کیپٹن امریند ر سنگھ کا کہنا ہے ریاست کی سبھی 13سیٹوں پر کامیاب ہوتی ہے تو مرکز میں کانگریس سرکار بننے میں راہل کے ہاتھ مضبوط کرے گی ۔ادھر شرومنی اکالی دل نے اپنے امید وار پہلے ہی طے کردیئے تھے جس وجہ سے پارٹی کے اندر گروپ بندی ہے اور اس سے الگ ہوئے گروپ کے میدان میں اتر نے سے پنتھک ووٹوں کے بٹنے سے نقصان ہونے کا اندیشہ ہے ۔سابق وزیر اعلی پرکاش سنگھ بادل بھی مکتسر میں پدیاتروں کے ذرےعہ لوگوں سے رابطہ قائم کررہے ہیں حالانکہ اب ان کی عمر زور دار چناو ¿ کمپین کی اجازت نہیں دیتی ۔اپنے بیٹوں بہو ہر سمرت کور وغیرہ لو گ چناو ¿ مہم میں لگے ہوئے ہیں بادل کا کہنا ہے کانگریس سرکار نے اپنے چناو ¿ منشور میں کئے وعدے پورے نہیں کئے او رکسانوں کی حالت جوں کی توں بنی ہوئی ہے مرکزی سرکار نے ریاست میں بہت سے ترقیاقی کام کئے اور مودی سرکار کی واپس طے ہے ۔

(انل نریندر)

لائٹ ،کیمرہ ایکشن کے آرٹسٹ چناوی دنگل میں پھنسے !

مغربی بنگال کے صنعتی ٹریڈ سینٹر آسنسول میں اس مرتبہ لوک سبھا چناو ¿ مہم میں دوستار ے زمین پر اتر آئے ہیں ان میں نوجواں دلوں کے دھڑکن سنگر بابل سپرےو جو اس وقت ایم پی اور مرکزی وزیر ہیں انکے سامنے مقابلہ پر نامور اداکارہ من من سین ہیں یہاں چوتھے مرحلے میں 29اپریل ڈالے جائیں گے ۔مغربی بنگال میں ان دونوں اداکاروں کی مقبولیت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اور دونوں کے اپنے اپنے فین اور اشو رہے ہیں کانگریس اور لیفٹ پارٹیوں نے اس سیٹ پر بھاجپا نے سیندھ ماری کی ہے ۔ترنمول کانگریس اس سیٹ پر پہلی بار جیت کے لئے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے ۔لائٹ ،کیمرہ ایکشن جیسے الفاظ کے ارد گرد ددونوں ادارکاروں کا وقت جیت کی منزل تک پہنچنے کے لئے کم ہوتا جارہا ہے ۔ددنوں کی ہی ٹیمیں چناو ¿ میدان سرگرم ہیں ۔بابل کو جیتانے کے لئے بھاجپاور کر دن رات لگے ہوئے ہیں لیکن ترنمول کانگریس امید وار من من سین سے مورچہ بندی کمزوری نہیں ہے ۔ترنمول ممبر اسمبلی رہے جیتندر تیوارکہتے ہیں کہ پچھلے چناو ¿ میں ہم مذہبی محاذ پر ہار گئے تھے ۔اس مرتبہ پارٹی اس محاذ مستعدہے اور حلقے میں مذہبی شورش روکنے کی ذمہ داری ہم نے اٹھائی ہے اور حلقے میں چار درجن مندروں میں شیو چرچہ کا انعقاد کیا جارہا ہے ۔بھاجپا دھارمک پروگراموں کے انعقاد میں کوئی کمی نہیں چھوڑ رہی ہے لیفٹ کے گڑھ سے یہ سیٹ بھاجپا کے جھولی میں دلانے پر بابل سپرےو کو اانعام بھی ملا ہے اور انہیں مرکزی وزیر بنایا گیا ان کے ساتھ ساتھ بھاجپا کی ساکھ بھی داو ¿ پر لگی ہے اس لئے وہ کافی محنت کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑ رہے ہیں وہیں لیفٹ والوں کے لئے یہ سیٹ ساکھ سے جڑی ہے لیکن فی الحال یہاں لال جھنڈا دور ہی دکھائی دے رہا ہے ۔کمیونسٹ آئیڈیالوجی سے متاثر سدےپتومنتری پر سوال اٹھاتے ہیں جب سے وہ وزیر بنے ہیں تب سے حلقے کی دوبڑی کیبل کمپنیاں بندہوگئی ہیں او رسیکڑوں لوگ بیروز گار ہوگئے ہیں ترنمول کانگریس اسے اشو بنارہی ہے وزیر اعظم نریندر مودی اور بھاجپا صدر دونوں نے ہی مغربی بنگال میں اس مرتبہ پوری طاقت لگا دی ہے دیکھیں کی دی دی کے گھر کےا کمل کھلے گا ؟

(انل نریندر )

بہار میں لیفٹ کا مستقبل کنہیا پر ٹکا ہے !

بہارکے چوتھے مرحلے میں 29اپریل کو پانچ پارلیمانی سیٹوں پر ہونے والے چناو ¿ میں سب سے زےادہ توجہ اس وقت بیگوسرائے پر لگی ہوئی ہے ۔قومی کوی رام دھاری دنکرکی سرزمین بیگوسرائے میں اس بار چناو ¿ نہیں بلکہ دو نظریات کی زبردست ٹکر ہے ۔ایک سامنے پھر سے چناو ¿ لڑنے کی چنوتی ہے تو دوسرے کے سامنے اپنی اچھائی ثابت کرنے کا موقع ہے ۔ہندوستانی کمےونسٹ پارٹی کے امید وار اور اجے این ےو اسٹوڈنٹ لیڈر کنےہا کمار اور بھاجپا کے بربولے نیتا گری راج سنگھ آمنے سامنے ہےں چوتھے مرحلے میں 29اپریل کو 19لاکھ 58ہزار ووٹر جب اپنا ووٹ ڈالیں گے تو ان کے سامنے ایک تیسرا متبادل بھی ہوگا جو آر جے ڈی کے نیتا تنویر حسن کو دوبارہ چناو ¿ میں اتار کر کنےہاکی سیاسی رفتار پر بریک لگانے کی کوشش کی ہے تاکہ لالوپرساد یادو کے جانشیں کا مستقبل محفوظ رہے ۔کنہیا کمار کے آنے سے دےش میں لیفٹ آئےڈےا لوجی کو پھر سے موجودگی درج کرانے کا موقع ملا ہے ۔کمیونسٹ پارٹی کی جڑیں مغربی بنگال کے بعد تری پورہ میں بھی ہل چکی ہے ۔کیرل ایک واحد ریاست ہے جہاں آج بھی لیفٹ آئیڈیالوجی چل رہی ہے ۔بہار کے لینن گراو ¿نڈ کے نام سے مشہور بیگوسرائے نے بھارتی کمیونسٹ پارٹی امید وار کنہیا کمار کے پرچار کرنے کے لئے کئی مشہور ہستیاں لگی ہوئی ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ بھومہاراکثریتی بیگوسرائے میں چاروں طرف برادری کی بات بھی اچھالی جارہی ہے گری راج اور کنہیار دونوں بھومہارہیں ۔تنویر مسلمان لہذا ذات دھرم کی بنیاد پر تجزیہ بنائے بگاڑ ے جارہے ہیں بھاجپا کے روایتی ووٹر اور برادری تجزیہ گری راج کے کام آسکتے ہیں ۔ایسا ہی اتفاق کنہیا کے ساتھ بھی ہے آر جے ڈی کے مضبوط ووٹ مسلم یادو تجزیہ کے سہار ے کھڑے ہیں تنویر حسن تینوں ہی اپنے اپنے ایک طرح سے وجو دکی لڑا ئی لڑرہے ہیں کنہیا کی کامیابی سے بہار میں ایک بار پھر لیفٹ واد کا دوبارہ جنم ہوسکتا ہے ۔گری راج سنگھ جس طریقہ کی سیاست کی علامت مانے جاتے ہیں کنہیا کی شہرت اس کے برعکس ہے ۔جے این یو میں 3سال پہلے کنہیا کی موجودگی میں جو کچھ بھی ہوا اس کی آہٹ بیگوسرائے کی گلی گلی میں سنائی دیتی ہے ۔کنہیا کو کئی جگہ مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑرہا ہے انہیں گھر کا بچہ ماننے والوں کے سامنے ان پر دیش دشمنی کا الزام لگانے والوں کی بھی کمی ہے ۔بھاجپا آجے ڈی کے لوگ اسے جم کر بھنا رہے ہیں ۔کنہیا کو کٹگھڑے میں کھڑا کرنے کی کوشش میں نہ گری راج کے پیچھے نہ لوگ ہیں او رنہی تنویر کے ۔بات چھڑتے ہی دونوں خیموں میں دیش بھگتی کی بات چھڑجاتی ہے ۔ ظاہر ہے دونوں میں سے کوئی کامیاب ہواتو خمیازہ لیفٹ کو ہی بھگنا پڑے گا بھاجپا حمایتوںکا خیال ہے کہ بیگوسرائے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت کشش کا مرکز ہے ۔جبکہ اپوزیشن اتحاد کو امید ہے کہ وہ اپنے سماجی حساب کتاب سے کئی مقامات پر اس کی کاٹ کرسکتے ہیں اگر کنہیا کامیاب ہوجاتے ہیں تو اگلی پارلیمنٹ میں ایک اچھا مقرر پہنچ جائے گا ۔اگر مودی کامیا ب ہوتے ہیں تو انہیں پارلیمنٹ میں کنہیا کا بطور مقرر زبردست سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔سیٹ بدلنے کے گری راج سنگھ چناو ¿ مہم دھیمی شروع ہوئی ہے اور بھاجپا کے اندر بھی انہیں ناکام ہونے کی کوشش سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔

(انل نریندر)

26 اپریل 2019

ہریانہ میں چارلالوں کی ساکھ داو ¿ پر ہے !

ہریانہ کی سیاست میں اہم اشتراک کرچکے تین اہم لالوں کی تیسری اور چوتھی پیڑی اس لوک سبھا چناو ¿ میں چوتھے لال کے ٹیم سے ٹکرائے گی ریاست کے پہلے لال سابق نائب وزیر اعظم سورگیہ دیوی لال کی چوتھی پےڑی دوشینت چوٹالا ،دگوجے چوٹالا اور کرن چوٹالا میدان میں تال ٹھوک رہے ہیں ۔دوسرے لال اور ریاست کے سابق وزیر اعلی رہے بھجن لال کے دونوں بیٹے چندر موہن اور کلدیپ بشنوئی اپنے والد کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھارہے ہیں کلدیپ بشنوئی حسار سے خود چنا و ¿ لڑ نا چاہ رہ تھے لیکن ان کی جگہ ان کے بیٹے بھوے بشنوئی کو کانگریس سے ٹکٹ ملا ہے ۔ہریانہ کے تیسرے لال او رسابق وزیر اعلی چودھری بنسی لال کی تو ان کے چھوٹے بیٹے سورگیہ سریندر سنگھ کی بیٹی کرن چودھری کانگریس ممبر اسمبلی ہونے کے ساتھ ہی اسمبلی میں کانگریس پارٹی کی نیتا بھی ہیں ۔تیسری پیڑھی کی شکل میں کرن کی بیٹی شروتی چودھری اپنے دادا کی وراثت بنائے رکھنے کےلئے بھیوانی سے چناو ¿ لڑ رہی ہیں اب بات کرتے ہیں ہریانہ کے چوتھے لال کی یعنی منوہر لال کٹھر جنہوں نے خود تو اپنی نسل کی بیل نہیں بڑھائی لیکن ریاست کی جنتا کو کنبہ مانا ہواہے ان کی ٹیم کی شکل میں بھاجپا کے 10امید وار ریاست کے الگ الگ لوک سبھا حلقوں میں سیاست کے تین لالو کی تیسری اور چوتھی پیڑھی کوٹکر دینے والے ہیں لالو کی دھرتی کے نام سے مشہور ہریانہ میں اقتدار کی چابی موجودہ وقت میں منوہر لال کھٹر کے ہاتھوں میں ہے حالانکہ 15برس پہلے تک ریاست کے اقتدار پر تینوں لالوں یا ان کی پیڑھیوں کا حق بنا رہا جس پر اس وقت کانگریسی وزیر اعلی پھوبندر سنگھ ہڈا نے اپنا اختیار جمالیا تھا ایک بار سے لوک سبھا چناو ¿ کے درمیان ہریانہ کے تینوں لالو ںکی تیسری اور چوتھی پیڑھی مقابلہ تیار ہے خا ص بات یہ ہے کہ سورگیہ دیوی لا ل کے دونوں پوتوں اجے سنگھ ،ابھے سنگھ کچھ مہینوں کے درمیان خاندانی تلخی کے چلتے الگ الگ ہوگئے تھے ۔دیوی لال کے بڑے بیٹے اجے سنگھ کے بیٹے دوشینت سنگھ چوٹالانے انڈین نیشنل لوک دل سے الگ ہوکر اپنی الگ پارٹی جن نائک پارٹی بنالی اور اب اسی سے حسار سے چناو ¿ لڑرہے ہیں ۔دوسرے پوتے ابھے سنگھ نے اپنے بیٹے کرن کو کروک چھےتر سے امید وار اعلان کیا ہے اجے سنگھ کے چھوٹے بیٹے دگوجے چوٹالاجن نائک پارٹی کی امید وار کی شکل میں کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر اعلی بھوپند ر سنگھ ہڈ ا کے خلاف سونی پت سے چناو ¿ لڑرہے ہیں ۔کل ملاکر ہریانہ میں لوک سبھا چناو ¿ دلچسپ ہونے والا ہے ہریانہ کی 10سیٹوں پر 2014میں بھاجپا نے 7سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ انڈین نیشنل لوک دل کے ہاتھ 2سیٹیں لگیں تھی اور کانگریس اس چنا و ¿ میں محض ایک سیٹ جیت پائی تھی ۔لالو ںکی اس (پانی پت )کے جنگ میںدیکھیں کس لال کا پلڑا بھاری رہتا ہے ؟

(انل نریندر)

راجستھان میں دو وزرائے اعلی کے بیٹوں کی لڑائی !

راجستھان کی 25سیٹوں کو برقرار رکھنا بھاجپا کے لئے سخت چنوتی ہے 29اپریل کو چوتھے مرحلے میں یہاں کی 13سیٹوں پر ووٹ پڑنا ہے راجستھان میں جودھپور ،جھالا واڑ سیٹیں زےادہ توجہ کا مرکز بن گئی ہے کیونکہ ان دوسیٹوں پر ایک موجودہ وزیر اعلی اور ایک سابق وزیر اعلی کے بیٹوں کی چناو ¿ لڑا ئی ہے ۔وزیر اعلی گہلوت کے بیٹے اور جھالا واڑ سے سابق وزیر اعلی وسندھرا راجے کے لڑکے دوشینت چوتھی مرتبہ ایم پی بننے کے لئے میدان میں اترے ہیں جبکہ ویبھوگہلوت پہلی بار سیاسی میدان میں اترے ہیں دونوں کو ہی اس مرتبہ سخت مقابلہ کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔جودھپور میں وےبھو کا مقابلہ مرکزی وزیر وجیندر سنگھ شیخاوت سے جبکہ دوشینت کے سامنے پرمود شرما کو بھاجپا نے مید ان میں اتار ہے ۔کانگریس کی سیاست میں 2003سے وےبھو سرگرم ہیں انہوں نے یوتھ کانگریس سے ہوتے ہوئے پارٹی کی جنرل سیکریٹری کی ذمہ داری سنبھالی ہے ۔جودھپور سیٹ سے ان کے پیتا اشوک گہلو ت پانچ مرتبہ ایم پی رہے ہیں وہیں شیخاوت کا کہنا ہے کہ دیش کی جنتا نریندر مودی کو وزیر اعظم بنانا چاہتی ہے ۔ادھر جھا لا وڑا سیٹ پر چناو ¿ لڑ رہے وسندھر ا راجے کے بیٹے دوشینت کا کہنا ہے کہ دیش نریند رمودی کی رہنمائی میں ترقی کرسکتا ہے ۔ جھالاواڑ سیٹ سے وسندھراراجے پانچ بار ایم پی اور ممبراسمبلی بنتی آرہی ہیں کانگریس کے پرمود شرما جو بھاجپا چھوڑ کر کانگریس میں آئے تھے پردیش کے وزیر معدنیات پرمود جین ماما کا اس پارلیمانی حلقہ میں کافی اثر ہے ۔جین کا کہنا ہے اس مرتبہ تبدیلی کا لہر چلے گی اس سیٹ پر 30سال سے ایک ہی خاندان کا قبضہ چلا آرہا ہے جنتا اس میں تبدیلی لائے ریاست کی اشوک گہلوت سرکار نے 6مہینہ کی اپنی میعاد میں کئی فلاحی اسکیمیں شروع کی ہے جن کی بدولت کانگریس مضبوط ہوگئی ہے ۔دیکھیں ای وی ایم کیا نتیجہ نکالتی ہے ۔

(انل نریندر )

13ریاستوں کی 353سیٹوں کی اہمیت !

بھارتےہ جنتا پارٹی اس لوک سبھا انتخابات میں کتنی سیٹیں جیتنے جارہی ہے ۔اس کے دعوے توآئے دن ہوتے رہتے ہیں لیکن چناوی پیشگوئیاں ہمیشہ خطرناک ہوتی ہیں ۔کسی بھی پارٹی کو کتنی سیٹےں ملیں گی ےہ دو فیکٹروں پر منحصر ہوتا ہے ان میں ووٹ شیئر میں تبدیلی اور اپوزیشن و وٹ کا اکٹھا ہونا شامل ہے ۔دیکھا جائے تو بھارت کی رواداری ایسی ہے کہ کئی عوامل ریاستی سطح پر مختلف ہیں ۔ایک جائزہ کے مطابق 2019لوک سبھا چناو ¿ میں بھاجپا کی جیت میں ایک مرتبہ پھر 13ریاستوں کی 353لوک سبھا سیٹیں کافی اہم ثابت ہوں گی ۔2014میں این ڈی اے نے ان ریاستوں میں 74فیصدی سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی ۔اب ان سیٹوں پر بھاجپا کی سیاسی چنوتی کو تین زمروں میں بانٹا جاسکتا ہے ۔پہلا زمرے میں 8ریاستیں شامل ہیں جہاں بھاجپا اور اتحادی پارٹیوں کے ساتھ بغیر ان کے سیدھے مقابلہ میں ہے ۔ان میں ہماچل پردیش ،اتراکھنڈ ،راجستھان ،مدھےہ پردیش ،چھتیس گڑھ ،گجرات ،مہاراشٹرشامل ہیں ۔2014کے لوک سبھا چناو ¿ میں ان 162سیٹوں میں سے 151سیٹیں این ڈی اے کو ملی تھی ےہاں بھاجپا کا اہم چیلنج 2014ووٹروں کو اپنے ساتھ رکھنا اور کانگریس اور اس کے ساتھیوں کے پاس جانے سے روکنا ہے ۔مہاراشٹر کو چھوڑ کر بھاجپا ریاستوں میں اپنے دم خم پر لڑی تھی جبکہ کانگریس کے پاس مہاراشٹر ،گجرات اور جھارکھنڈ میں اتحاد تھا 2014میں این ڈی اے کو دوفیصد یوپی اے سے کافی زےادہ تھا13ریاستوں کی 353سیٹوں کی اہمیت !دوسرے زمرے میں تین ریاستیں ہیں بہار ،کرناٹک اور یوپی ہے 2014میں این ڈی اے نے یہاں 148سیٹوں میں سے 121پر کامیابی حاصل کی تھی ۔2014لوک سبھا اور 2017کے اسمبلی انتخاب میں سپا ،بسپا کا ووٹ فیصد بھاجپا کو ملے ووٹ فیصد تقریبًا برابر تھا ۔اگر دونوں کے ووٹ فیصد کو جوڑیں تو یوپی میں این ڈی اے 73سے 37سیٹےں ہوجائیں گے ۔بہار میں جے ڈی یو 2014میں 22سیٹوں پر چناو ¿ لڑی تھی اور دو ہی سیٹیں جےت پائی جبکہ این ڈی اے کو 17سیٹیں ملی تھی اس مرتبہ جے ڈی یو بھاجپاکے ساتھ ہے دیکھنا یہ ہے کہ جب 2014میں ملے 16فیصد ووٹ کو این ڈی اے نے لا پاتی ہے یا نہیں کرناٹک میں اگر کانگریس اور جے ڈی ایس 2014میں ایک ساتھ لوک سبھا کا چناو ¿ لڑتی تو بھا جپا کو 2سیٹوںکا نقصان ہوتا بھاجپا نے 2014میں یہاں 17سیٹیں جیتیں تھی ۔تیسرے زمرے میں دوریاستوں کو شامل کےا گےا جہاں بھاجپا کو بڑا فائدہ ملنے کی امید ہے۔یہ ہیں مغربی بنگال او راڈیشہ یہاں بھاجپا 2014میں 63میں سے 3سیٹیں جیت پائی تھی ۔اڈیشہ میں بھی بی جے ڈی اور ترنمول کانگریس مغربی بنگال میں ہے یہاں دیگر اپوزیشن پارٹیوں میں لیفٹ پارٹی اور اڈیشہ میں کانگریس ہے ۔ان کے ووٹ شیئر کا استعمال کرکے بھاجپا کی اہمیت کو یہاں سمجھا جاسکتا ہے اگر 2014میں مغربی بنگال میں بھاجپا اور لیفٹ پارٹی کوووٹوں کی منتقلی ہوتی ہے تو ریاست کی 42سیٹوں میں سے بھاجپا کو 32سیٹوں پر جیت مل سکتی ہے ۔اڈیشہ میں اسی طرح 2014میں کانگریس کو ووٹ مل جاتے ہیں تو وہ ریاست کی 21سیٹوں 
میں سے 13پر جیتی ہے اگر بھاجپا کو کانگریس کا آدھاووٹ شیئر ملتا ہے تو وہ اس سے پانچ سیٹیں زےا دہ جیت جاتی ۔

(انل نریندر )

25 اپریل 2019

ایسٹر پر عیسائےوں کے قتل عام سے لہولہان سری لنکا !

پچھلے اتوار کی صبح سری لنکاکی راجدھانی کولمبو سمیت کئی گرجاگھروں وعالی شان ہوٹلوںمیں دھماکوں میں متعدد افراد کی موت ہوگئی ۔ےہ فدائی حملہ آروںنے انجام دیا تھا ۔ایسٹر جیسے مقدس تہوار پر منظم طریقے سے جگہ جگہ عیسائےوں کو جس طرح نشانہ بناےا گےا وہ اور بھی تکلےف دہ ہے 10پہلے لبرےشن ٹائےگر تنظیم کے خاتمے کے بعد سری لنکا میں اور مضبوط حالات تھے ۔اتوار کو جیسا خوفناک حملہ ہوا اسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے حملوں کو جس منظم طریقوں سے انجام دیا گےا ےہ ظاہر کرتاہے کہ حملے منظم ساز ش کا حصہ تھے ۔پانچ ستارہ ہوٹلوں میں جس طریقے سے نشانہ بنایا گےا اس سے صاف ہے آتنکوادی عیسائی فرقہ کے لوگوں کو ہی نشانہ بنارہے تھے ۔اس لئے جب دھماکہ ہوئے تو گرجا گھروں میں وہاں ایسٹرکی خصوصی دعا ہورہی تھی ۔ ےہ حقیقت میں بہت افسوسناک ہے کہ 21صدی کہ اس جدید وقت میں سماج میں دنیا کے الگ الگ حصہ میں ہونے والے کٹر مذہبی کی اپنی خوفناکی کے ساتھ ساتھ ہماری عدم سلامتی کی بھی یاد دلاجاتے ہےں ۔ایسٹر کے دن لوگ مذہبی کام کےلئے اکٹھے ہوئے تھے اور خوشیاں منارہے تھے اور آپس گلے مل جل رہے تھے لےکن آتنکیوں کو ےہ پسند نہیں آےا ان کی شیطانی ذہنیت کا اس بز دلانہ حملہ سے پتہ چلتا ہے اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ےہ حملہ انسانیت پر ٹھیک اسی طرح سے حملہ ہے جیسے حال ہی میں نیوزی لینڈی مسجد پر حملہ ہواتھا ۔دونوں ہی جگہ مذہبی رسوم میں لگے لوگوں کو نشانہ بنایاگیا ۔اب تک کی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ ان حملوں کے پیچھے کٹر نتظیم توحید جماعت کا ہاتھ ہے ۔جو بھی ہو تلخ حقیقت تو ےہ جب کسی دیش میں لااینڈ اور آڈر اور حکمرانی الز ام مضبو ط نہ ہو اور سیاسی عدم استحکا م کا اندیشہ ہوتو بد امن پسند فاسسٹ اور دہشت گردانہ طاقتوں کو سراٹھانے کا موقع مل جاتاہے ۔فی الحال توحید جماعت نامی تنظیم پچھلے سال کچھ بودھ مورتیو توڑ نے کے بعد سرخیو ں میں آئی تھی ۔لیکن بد قسمتی ےہ ہے کہ 10دن پہلے گرجا گھروں پر امکانی حملے کی وارننگ کے باوجود اگر انتظامےہ چوکس نہ ہونے کی وجہ سے ان حملوں او رتباہی کو روکا نہیں جا سکا ۔جہاں تک ایسٹر پر اتوار کو دیکھتے ہوئے بھی گرجا گھروں کو باقاعدہ حفاظت فراہم کرنے ضرورت نہیں سمجھی گئی ۔دہشت گردی کے لمبے وقت سے سامنا کررہے بھارت کا سری لنکا کے ساتھ مصیبت کے گھڑی کھڑا ہونا فطری ہے ۔بہر حال پڑوس میں ہوئے اس تشدد سے خود ہمیں بھی چوکس رہنے کی تلقین ملتی ہے ۔بھگوان متاثرین کو اتنی طاقت او رصبر دے کہ وہ اپنی کھوئے ہوئے پرےوارکے لوگوں کے صدمے کو برداشت کرسکیں ۔

(انل نرےندر)

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...