Translater

02 فروری 2018

8ریاستوں کے چناؤ 2019 کا سیمی فائنل

2019 کے عام چناؤ سے پہلے 2018 مودی حکومت اور اپوزیشن کے لئے اپنی طاقت کا تجزیہ کرنے کا برس ہے۔ ان انتخابات کی وجہ سے بھاجپا اور آرایس ایس نے ہر قدم پھونک پھونک کررکھنے کی پالیسی اپنائی ہے۔ ذرائع کی مانیں تو 8 ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی چناؤ کے نتیجے طے کریں گے کہ بھاجپا اور مودی کی ہوا برقرار ہے یا نہیں اور اسے پسینہ بہانا ہوگا۔ مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ، تریپورہ، میگھالیہ، ناگالینڈ کے چناؤ کے نتیجوں کا دوررس اثر ہوگا اس میں مدھیہ پردیش ،راجستھان و چھتیس گڑھ میں بھاجپا کی حکومتیں ہیں اور کانگریس کے پاس کرناٹک ہی ایسی ریاست ہے جہاں ان کی حکومت ہے اس لئے 2019 میں این ڈی اے کو چیلنج دینے کے لئے کانگریس کو یہاں واپسی کرنی ہوگی۔ لیفٹ مورچہ کے لئے بھی آخری قلع تریپورہ کو بچانے کی چنوتی ہوگی۔ کانگریس کے سینئر لیڈر احمد پٹیل نے حال ہی میں کہا کہ گجرات چناؤ کے نتیجوں نے کانگریس ورکروں کو یہ یقین دلایا ہے کہ بھاجپا کو ہرایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے یقین جتایا کہ پارٹی راہل گاندھی کی قیادت میں 2019 کا عام چناؤ جیتے گی ۔ اسمبلی چناؤ کے نتیجے یقینی طور پر 2019 کے چناؤ پر اثر انداز ہوں گے۔ مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ میں 15 برسوں سے بھاجپا کا راج ہے۔ گجرات میں بھاجپا نے 22 سال تک مسلسل قبضہ بنائے رکھا۔ اب بھی کانگریس کو جت کیا ہے حالانکہ چھتیس گڑھ میں بھاجپا کے پاس سب سے لمبے عرصہ سے رہنے والے وزیر اعلی سی ایم رمن سنگھ ہیں۔ وہاں کانگریس سے الگ ہوکر نئی پارٹی کی تشکیل اجیت جوگی کے ذریعے کئے جانے سے بھاجپاکو فائدہ کی امید ہے۔ اگرچہ راجستھان کی طرز پر یہاں بھی کہیں کہیں اقتدار مخالف لہر کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اس کے برعکس تریپورہ میں بھاجپا کو امید ہے کہ وہ ریاست میں مارکسوادی پارٹی کی سرکار کو ہرا سکتی ہے۔ ادھر کرناٹک میں بھی کانگریس سے اقتدار چھینے کے لئے بھرماستر کا بھاجپا استعمال کرے گی۔
سمجھا یہ بھی جارہا ہے کہ ناگالینڈ میں جیت ہار کا بھی قومی سیاست پر اثر پڑے گا۔ یہاں پردیش میں حکمراں ایم پی ایف کی لڑائی پر بھاجپا کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔ کانگریس صدر راہل گاندھی کا 2018 میں اصلی امتحان ہوگا۔ انہوں نے گجرات میں اپنے سنجیدہ پن سے نتیجوں کو متاثر کیا۔ کانگریس کو امید ہے کہ گجرات میں کچھ سیٹوں سے اقتدار چھننے کی کثر راجستھان ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں پوری کرنے کی کوشش کریں گے۔ کرناٹک میں بھی چناؤ سیدھی نگرانی میں ہوگا۔ ان 8 ریاستوں میں 99 لوک سبھا سیٹیں ہیں اس لئے بھی 2019 کے لہٰذا سے اہم ہیں۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ اسمبلی چناؤ عام چناؤ کے لئے سیمی فائنل ہوں گے۔
(انل نریندر)

افسپا ہٹانے کا وقت نہیں ہے

عرصہ سے شورش زدہ علاقوں میں فوجی مخصوص اختیار قانون (افسپا) ہٹانے کا معاملہ موضوع بحث رہا۔ جنوبی کشمیر کے شوپیاں ضلع میں فوج کی گولی سے دو پتھربازو ں کی موت اور جموں پولیس کے ذریعے فوج کے جوانوں کے خلاف رپورٹ درج کرانے کا جو معاملہ گیا ہے اسے دیکھتے ہوئے فوج کے چیف جنرل وپن راوت نے بالکل ٹھیک کہا کہ فی الحال افسپا پر نظرثانی کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور ابھی اس کے بارے میں جائزہ لینے کا وقت نہیں آیا ہے۔ فوج جموں و کشمیر جیسی جگہ پر کام کرتے وقت انسانی حقوق کی حفاظت کرتے ہوئے کافی احتیاط برت رہی ہے۔جنرل راوت کا یہ بیان اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ ایسی خبریں آئی تھیں کہ افسپا کو ہٹانے یا کم سے کم کچھ اس کی نکات کو ہلکا کرنے پر وزارت دفاع اور داخلہ نے کئی دور کی اعلی سطحی بات چیت ہوچکی ہے۔ دراصل یہ قانون فوج کو دیش کے اندر شورش زدہ علاقوں میں تعیناتی کے دوران اس کی کارروائی پر کسی جانچ پڑتال یا ڈسپلن شکنی کی کارروائی سے آزادی دیتا ہے۔کشمیر میں بھی رہ رہ کر اس قانون کے خلاف آوازیں اٹھتی رہی ہیں۔ موجودہ پی ڈی پی۔
بھاجپا سرکار کے دوران بھی کہا گیا تھا کہ شورش زدہ علاقوں میں فوجیوں کی تعیناتی کم کردی جائے لیکن پتھر بازی کی واردات بڑھنے سے یہ معاملہ پیچھے چلا گیا۔ اس معاملہ میں فوج کی یہ دلیل بھی قابل غور ہوسکتی ہے کہ اسے اندرونی علاقوں میں تعیناتی نہیں دی جانی چاہئے یا پھر کچھ مخصوص اختیار ضرور ہونے چاہئیں ورنہ فوجیوں پر کوئی بھی الٹے سیدھے الزام لگا سکتا ہے۔ اس سے بے وجہ فوج کا حوصلہ گر سکتا ہے۔ بہتر ہوگا کہ بھارت سرکار کی سطح پر نئے سرے سے واضح کیا جائے کہ عدم رضامندی ، ناراضگی یا بے چینی کے نام پر فوج پر پتھر بازی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پتھر بازی اور کچھ نہیں ایک طرح کی قبائلی ذہنیت سے پیدا بربریت حرکت ہے۔ فوج جب کوئی بھی کارروائی کرتی ہے تو پیچھے سے یہ پتھر باز آتنکیوں کو بھگانے میں مدد کرتے ہیں۔ فوج ایک ساتھ آگے پیچھے نہیں لڑ سکتی۔ پھر اگر فوج پر پتھروں سے حملہ ہوتا ہے تو انہیں کیا اپنی حفاظت کرنے کا حق نہیں ہے؟ وزیر اعلی محبوبہ مفتی کویہ سمجھنا چاہئے کہ فوج اور سیکورٹی فورس کے صبر کی بھی ایک حد ہے اور بات بات پر علیحدگی پسندوں اور ان کے اکساوے پر سڑک پر اترنے والے پتھر بازوں کی حمایت کرنے سے انہیں اور ان کی سرکار کو کچھ حاصل ہونے والا نہیں۔ بہتر ہوگا کہ وہ فوج کی مجبوری بھی سمجھیں۔
(انل نریندر)

01 فروری 2018

2018 میں ہی لوک سبھا اور ودھان سبھا چناؤایک ساتھ ہوں گے

وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے حالیہ دنوں میں کئی مواقعوں پر ایک ساتھ اسمبلی و لوک سبھا چناؤ کرانے کی اپیل کے بعد پیر کے روز بجٹ سیشن کے پہلے دن صدر رام ناتھ کووند نے اپنے ایڈریس میں بھی اس کا ذکر کرکے کیا یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ مودی حکومت وقت سے پہلے لوک سبھا چناؤ کرانے کے موڈ میں ہے؟ ا س کے ساتھ ہی سیاسی قیاس آرائیاں بھی شروع ہوگئی ہیں کہ کیا دیش اس کے لئے تیار ہے؟ کیا ہے اصل حالات ۔ ذرائع کے مطابق سال کے آخر میں عام چناؤ 6 مہینے پہلے کرانے کی کوشش ہوتی ہے تو ایسی صورت بن رہی ہے کہ آدھے سے زیادہ دیش میں ایک ساتھ چناؤ ہوجائے کیونکہ صدر کا ایڈریس سرکار کی پالیسی ساز دستاویز ہوتا ہے اس لئے ایک ساتھ چناؤ کا نظریہ شامل ہونا اور زیادہ اہم ہوجاتا ہے۔ پہلے ایسا ہوتا رہا ہے بعد میں حکومتوں کے میعاد پوری کرنے سے پہلے ہی گرجانے اور وسط مدتی چناؤ کی نوبت آنے کے سبب ایک آئینی روایت میں خلل پیدا ہوگیا۔ اس کی جگہ پر لوک سبھا اور ودھان سبھا چناؤ الگ الگ ہونے کی روایت نے اپنی جڑیں جما لیں۔ بار بار چناؤ ہونے سے نہ صرف پیسے کا بوجھ پڑتا ہے بلکہ ضابطہ لگانے سے ترقی بھی رک جاتی ہے۔ کانگریس نے کہا کہ سرکار جلد چناؤ کرانا چاہتی ہے۔ لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ملکا ارجن کھڑگے نے کہا کہ سرکار سب کچھ جلد نپٹاکر چناؤ میں جانے کے موڈ میں ہے۔ حالانکہ سرکار کے لوک سبھا اور اسمبلی چناؤ ایک ساتھ کرانے کے اشو پر کانگریس اپنا موقف صاف کرچکی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس بارے میں سرکار کو ٹھوس تجویز کے ساتھ سبھی سیاسی پارٹیوں سے تبادلہ خیالات کے بعد عام رائے بنانی چاہئے۔ وہیں راجیہ سبھا میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر آنندشرما نے کہا کہ سرکار یہ سمجھتی ہے کہ 2014 کے چناؤ میں جنتا سے کئے گئے سبھی وعدے پورے ہوگئے ہیں تو یہ لوگوں کے ساتھ دھوکہ ہے۔ معیشت کی حالت خراب ہے۔ ذراعت کی ترقی شرح 4 فیصدی سے گھٹ کر 1.9 فیصد تک آگئی ہے۔ دیش میں لوک سبھا اور اسمبلی چناؤ ایک ساتھ کرانے کیلئے رضامندی بنانے کے لئے سرکار پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن میں لوک سبھا میں ایک پرستاؤ لا سکتی ہے۔ این ڈی اے پارلیمانی پارٹی کے نیتاؤں کی میٹنگ میں حکومت نے اس بارے میں اشارے دئے ہیں۔ اگر لوک سبھا اسمبلی چناؤ ایک ساتھ کرانے پر رضامندی بنتی ہے تو اس سے جنتا کو تو کوئی پریشانی ہونے والی نہیں ہے لیکن کچھ اپوزیشن پارٹیاں اس کی آڑ میں فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ انہیں مفاد عامہ کے ساتھ ملکی مفاد کو اولین ترجیح دینی چاہئے۔
(انل نریندر)

بے گھر جانوروں کی انسانی بستیوں میں گھسنے کی مجبوری

قدرتی کے وسائل کے بڑھنے کی دو وجوہات ہیں جنگلوں سے بے گھر جانور مجبوراً انسانی بستیوں میں گھس رہے ہیں۔ آئے دن ہم سنتے ہیں کہ فلاں جگہ پر تیندوا آگیا۔ حال ہی میں لکھنؤ کے تھانہ ٹھاکر گنج کے رہائشی علاقہ مسری باغ میں ایک گونگے بہروں کے مشنری اسکول (سینٹ اسٹیفن) میں صبح صبح ایک تیندوا گھس آیا۔ تیندوے کو لکھنؤ چڑیا گھر کی ریپڈ رسپانس یونٹ اور محکمہ جنگلات کے ملازمین نے پولیس محکمہ کی ٹیم کو اسے پکڑنے کے لئے خاصی مشقت کرنی پڑی۔ اس تیندوے کو پکڑنے میں آٹھ گھنٹے لگے۔ تیندوا اسکول کی اسمبلی اسٹیج کے نیچے بنے بیسمنٹ میں جا کر گھس گیا تھا۔ ممبئی کے نانی پاڑا علاقہ میں ایک تیندوا گھس گیا۔ اس دوران تیندوے کے حملہ میں چھ لوگ زخمی ہوگئے۔ پولیس کے ایک سینئر افسر کے مطابق تیندوا نانی پاڑہ میں صبح قریب سوا سات بجے دکھائی دیا۔ یہ علاقہ پہاڑوں اور جنگلوں سے گھرا ہوا ہے۔ تلسی پور تھانہ کے امر ہوا کلاں گاؤں میں برآمدے میں کھیل رہے پانچ سالہ بچے کو تیندوا اٹھا کر لے گیا۔ دیہاتیوں نے تیندوے کا پیچھا کر بچے کو چھڑالیا۔ تیندوا سامنے آجائے تو اچھے اچھوں کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں لیکن ماندو کے اڈہ کھا گاؤں کی ایک 10 سالہ لڑکی سرسوتی پر تیندوے نے حملہ کیا تو وہ بچے گھبرائی نہیں اور اس سے مقابلہ کرنے لگی۔ جیسے تیسے 100 میٹر دور موجود بڑے بھائی تک پہنچ گئی۔ پھر بھائی کے ساتھ مل کر ایسا شور مچایا کہ تیندوا بھاگ گیا۔ 2014-17 میں 1144 لوگ جانوروں کے حملوں کا شکار ہوئے۔1052 کو ہاتھی اور 92 کوباگھ نے شکار بنایا۔ 426 لوگ ایسے حملوں میں مرے۔ سال 2014-15 میں ایسا نہیں کہ جانوروں کو بھی خطرہ نہیں ہے۔2014-2017 میں مارے گئے، 84 ہاتھیوں کی جان گئی۔ اس دوران یہ جانور کھانا پانی کی تلاش میں اترا کھنڈ میں گلدار گاؤں ہی نہیں شہروں میں بنے گھر اور ہوٹلوں تک حملہ کرنے لگے ہیں۔ رائل بنگال ٹائیگر کا گھر مانا جانے والا مغربی بنگال میں باگھوں کی تعداد بڑھنے سے انسانوں کے ساتھ اس کا ٹکراؤ بھی بڑھا ہے۔ 4.68 فیصد باگھ فی 100 مربع فٹ میں بنے سندر بن میں رہتے ہیں لیکن آبادی کافی زیادہ ہے سندر بن میں ابھی 2014 میں یہاں 76 باگھ تھے۔ 30 سے 40 لوگ ہر سال باگھ کا شکار بنتے ہیں۔ جنگل کٹتے جارہے ہیں اور جانور آبادی والے علاقوں میں بھوک پیاس کی وجہ سے گھسنے پر مجبور ہیں۔ اس میں بھی ان کا کوئی قصور نہیں، پاپی پیٹ کا سوال ہے۔
(انل نریندر)

31 جنوری 2018

آسیان ممالک میں راجہ اور ہیرو ہیں بھگوان رام

کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایشیا کے کئی ملکوں میں بھگوان رام اور راون موجود ہیں۔ بیشک ان کے نام دیش کے مطابق بدل جاتے ہیں کہیں رام ، راما تو کہیں فرا بن جاتے ہیں۔ویسے ہی راون فلپین میں بدل کر لاون ہوجاتا ہے، کہانی وہی رہتی ہے۔ رام نائک اور راون کھلنائک ایشیا میں الگ الگ دیشوں میں بھلے ہی ایشور کے اوتار نہیں دکھائی پڑتے لیکن رامائن مہا کاویہ کی کہانی کا اختصار وہی ہے سچ پر برائی کی جیت کا پیغام دیتے اس مہاکاویہ کو زبان، کلچر، پس منظرسے دیکھنے کا مقصد بھی اسی طرح کا احساس ہے۔ وہ اتفاق سے گزری20سے24 جنوری کوآسیان ملکوں کے چارروزہ رامائن مہوتسو میں رہا۔ اس کا انعقاد دہلی میں ہوا تھا۔ یہاں مشترکہ کلچر کی علامت بن چکے مہا کاویہ رامائن کو آسیان ملکوں نے ایک اسٹیج سے اپنے اپنے انداز میں کہا الگ الگ شکلوں ، زبانوں اور نرتیہ کی شیلیوں میں منچ پر آئے یہ کردار بار بار کہہ رہے تھے کہ رامائن برسوں پہلے دور دور تک فروغ پا چکی ہے۔ رامائن کے کردار صرف بھارت ہی نہیں ایشیا والوں کے دل میں بستے ہیں۔ رامائن مہوتسو میں آئے فلپین کے کیتھولک دھرم سے وابستہ پادری اسٹیون فرنانڈیز کہتے ہیں کہ اسکول ۔کالج میں ہمیں رامائن کے بارے میں پڑھایا جاتا ہے۔ فلپین میں حالانکہ اسلام اور عیسائی دو مذہب کے لوگ سب سے زیادہ ہیں اور اپنی مذہبی روایات سے الگ ہم رام یا سیتا کی پوجا نہیں کرتے لیکن رام ہماری کہانی کا ہیرو ہے۔ 40 سال سے تھیٹر میں رامائن کا منچن کررہا ہوں۔ پہلی بار بھارت آکر رام کے کردار اور ان کے دھارمک عقیدت کی مضبوط جڑوں کے بارے میں پتہ چل رہا ہے۔ صرف اسٹیون ہی نہیں آسیان کے فنکاروں کا پسندیدہ کردار سیتا ہے اس کے بعد دوسرے مقام پر آتے ہیں انج نپتر ہنومان۔ ہنومان کو دکھانے کے لئے کمبوڈیا کے آرٹسٹوں نے ہنومان چالیسا کا بھی منچن کیا تھا۔ عیسائی ملکوں خاص کر ساؤتھ جزیروں میں مسلمانوں کو رامائن کی سرپرستی کا کریڈٹ دیا جاتا ہے۔ میانمار رام کی کہانی کے تین روپ دکھاتا ہے۔تھیوڑ بودھ دھرم کے بارے میں رائج کہانیوں کا ذکر ہے جہاں رام کو مستقبل میں بودھت رام مانا جاتا ہے۔ 300 برس پہلے ہی ایشیا میں پہنچ چکی رامائن نویں صدی انڈونیشیا کے جاوا جزیرے میں پربانند نام کا شیو مندر ہے۔ تھائی لینڈ میں آج بھی راجہ کو رام کی پدوی دی جاتی ہے۔ تھائی لینڈ میں جو بھی راجہ بنتا ہے وہ رام کی پدوی حاصل کرتا ہے۔ راجہ اور ہیرو ہیں آسیان دیشوں کے رام۔
(انل نریندر)

کابل میں طالبان کا خوفناک حملہ

افغانستان کی راجدھانی کابل میں واقع ہندوستانی سفارتخانے سے محض400 میٹر کی دوری پر سنیچر کو ہوئے فدائی حملہ میں 91 لوگوں کی موت ہوگئی جبکہ 158 دیگر زخمی ہوگئے۔ حملہ کی ذمہ داری آتنکی تنظیم افغان طالبان نے لی ہے۔ یہ کتنا خطرناک حملہ تھا یہ اسی سے پتہ چلتا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں بے قصوروں کا مارا جانا اور زخمی ہونا۔جتنی بھاری تعداد میں لوگ مارے گئے یا زخمی ہوئے اس سے یہ حالیہ وقت کا سب سے زیادہ بڑا حملہ ہوگیا ہے۔ طالبان اگر اس کی ذمہ داری نہ بھی لیتا تو بھی شک کی سوئی اسی طرف جاتی۔ 20 فروری کو بھی طالبان نے کابل کے ایک ہوٹل پر حملہ کیا تھا جس میں 25 لوگ مارے گئے تھے۔ مرنے والوں میں زیادہ غیر ملکی تھے۔ افغانستان کی وزارت داخلہ کے ڈپٹی ترجمان نصرت رحیمی نے بتایا کہ حملہ آور دھماکوں سے لدی ایمبولینس میں سوار ہوکر آئے تھے۔ آتنکی پہلی جانچ ہو چکی مریض ہونے اور اسے جمہوریت اسپتال لے جانے کی بات کہہ کر ناکہ کو پار کر گئے تھے لیکن دوسری جانچ چوکی پر پہنچنے سے پہلے ہی سیکورٹی ملازمین کو حقیقت کا پتہ چل گیا۔ اس کا احساس ہوتے ہیں ایمبولنس میں بیٹھے حملہ آور نے دوسری چوکی پر پہنچتے ہی دھماکو سامان میں دھماکہ کردیا۔ دھماکہ اتنا خوفناک تھا کہ دو کلو میٹر دور تک اس کی آواز سنی گئی۔ 
جس علاقہ کو دھماکہ کے لئے چنا گیا وہیں ہندوستانی قونصل خانے کا دفتر ہے، یوروپی یونین کا دفتر ہے اور سوئیڈن اور ہالینڈ کے سفارتخانے ہیں۔ اس سے لگتا ہے کہ اس بار بھی طالبان کے نشانے پر غیر ملکی رہے ہوں گے۔ دھماکہ کیلئے ایمبولنس کا استعمال کرنا نئی بات ہے اور نہایت ہی خطرناک بھی ہے۔ اس حملہ کے بعد ایک ایک ایمبولنس کو شک کی نظر سے دیکھا جائے گا۔ افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نے طالبان سے متعلق حقانی نیٹ ورک کی کارگزاری بتایا۔ 
جب سے امریکہ نے پاکستان پر طالبانوں کے خلاف کارروائی کا دباؤ بڑھایا ہے اور افغانستان میں موجودہ اپنے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کا اعلان کیا ہے تب سے حقانی نیٹ ورک غیر ملکیوں کے خلاف کچھ زیادہ ہی جارحانہ ہوگیا ہے۔ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی، حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے درمیان تال میل ہے۔ پچھلے دنوں امریکہ نے حقانی نیٹ ورک پر ڈرون حملہ بھی کئے تھے۔ یہ دھماکہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ اور افغانستان کے لئے مسئلہ سنگین ہے۔ یہ امریکہ و افغان سرکار کو سیدھی چنوتی ہے۔
(انل نریندر)

30 جنوری 2018

کاسگنج تشدد کا ذمہ دار کون

جوترنگے ہمارے دیش کے اتحاد، سالمیت اوریکجہتی کی فخر کی علامت ہیں جب اسے ہی لیکر ٹکراؤ اور تشدد ہوتو یہ بہت ہی افسوسناک صورتحال ہے۔ کاسگنج میں ایسا ہی ہوا۔ ایک رپورٹ کے مطابق اترپردیش کے کاسگنج میں 26 جنوری کو ترنگا یاترا کے دوران دو فرقوں کے درمیان تشدد میں چندن پتر سشیل کمار کی موت ہوگئی۔ صبح ساڑھے سات بجے بھاری پولیس فورس کے ساتھ لاش کو کالی ندی پر انتم سنسکار کے لئے لے جارہے لوگوں نے جم کر بھارت ماتا کی جے اور وندے ماترم کے نعرے لگائے۔ آخری رسوم کے بعد جب لوگ واپس لوٹ رہے تھے تو ان میں بھاری ناراضگی تھی۔ اس کے بعد شہر میں تشدد بھڑک گیا۔ شہر کے ندرئی گیٹ پر بلوائیوں نے دو بسوں اور کئی دکانوں کو نذر آتش کردیا۔ یوم جمہوریہ پر کچھ بائیک سوار ترنگا یاترا نکال رہے تھے ان کی زد تھی یاترا اسی سڑک سے نکلے گی ، تو دوسری طرف پروگرام منعقدہ کرانے کی مہلت چاہے تھی۔ ٹکراؤ کے بڑھنے کی کئی اور بھی وجہ بتائی جارہی ہیں۔ کاسگنج میں جو ہوا وہ کیا منظم سازش کا حصہ تھا یا اتفاقی۔ اس بارے میں تصویر آہستہ آہستہ صاف ہونے لگی ہے۔ تشدد کو لیکر انتظامیہ کو بھیجی گئی خفیہ رپورٹ میں ہنگامہ کے لئے کچھ اپوزیشن لیڈروں کی طرف سے اشارہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چندن گپتا کے مبینہ قاتلوں کو مقامی نیتاؤں کی سرپرستی حاصل ہے۔ دوسری طرف انتظامی ناکامی پر حکومت نے سخت رویہ اختیار کیا ہے۔ وہاں تشدد بھڑکانے پر نیشنل سیکورٹی قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ کاسگنج میں پہلے ہی سے کشیدگی رہی ہوگی جو یوم جمہوریہ پر سامنے آگئی۔ سوال یہ ہے کہ کاسگنج انتظامیہ کیا کررہا تھا؟ کیا انہیں اندر خانے کشیدگی و تیاریوں کا پتہ نہیں چلا؟ اگر انتظامیہ پہلے ہی احتیاطاً قدم اٹھا چکا ہوتا تو شاید اس تشدد سے بچا جاسکتا تھا۔ انتظامیہ کی سنجیدگی کو دھیان میں رکھ کر ترنگا یاترا کا روٹ بدلا جاسکتا تھا لیکن جھنڈا لہرانے کے پروگرام کو کہیں اور بھی کرنے کو کہا جاسکتا تھا لیکن افسوس انتظامیہ اپنی ذمہ داری کو نبھانے میں ناکام رہا ہے۔ سیاسی پارٹیوں نے اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ بے قصور لوگوں کی جان چلی گئی اور سرکاری پراپرٹیوں کو آگ کے حوالہ کیا گیا۔امید کرتے ہیں کہ سرکار اور انتظامیہ اس آگ کو دوسرے علاقوں میں پھیلنے سے روکے۔ کاسگنج بحال امن کیلئے شرارتی عناصر پرلگام لگائے۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ آخر کون کاسگنج تشدد کا ذمہ دار ہے؟
(انل نریندر)

امریکہ -سعودی نیوکلیائی معاہدہ !

ایران امریکہ جنگ کے درمیان خلیج سے ایک ایسی خبر آئی ہے جو نہ صرف مشرقی وسطیٰ کو بلکہ پوری دنیا کو چونکا دے گی ۔جس یورینیم افزودگی کو لے کر ...