Translater

11 دسمبر 2013

دہلی اسمبلی چناؤ2013 نتائج کے دلچسپ منظر!

دہلی میں کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہ دے کر دہلی کے رائے دہندگان نے اس تاریخی چناؤ کا ذائقہ تھوڑا کرکرا ضرور کردیا ہے۔ ضرورت تو اس بات کی تھی کہ یا تو بھاجپا کی سیٹیں بڑھا دیتے یا پھر عام آدمی پارٹی کو اکثریت دے دیتے۔ اب کسی کو واضح اکثریت نہ مل پانے کے سبب معلق اسمبلی کے صورتحال سامنے آئی ہے۔ دونوں بڑی پارٹیوں میں سے کوئی بھی کسی کو حمایت دینے یا لینے کو تیار نہیں ہے۔ حکومت بنانے کے لئے سب سے بڑی پارٹی کی شکل میں ابھر کر آئی بھاجپا کو چار اور دوسرے نمبر پر آئی عام آدمی پارٹی کو 8ممبران کی حمایت چاہئے۔ یہ دونوں کے لئے حاصل کرپانا آسان نہیں ہے۔ ایسے میں کیا متبادل ہوسکتے ہیں نمبر ایک :سب سے بڑی پارٹی کے ناطے بھاجپا حکومت بنانے کا دعوی کرے یا پھر انتظار کرے کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ صاحب ڈاکٹر ہرش وردھن کو دعوت دیں۔ نمبر دو: بھاجپا کودعوت ملے اور یقینی وقت میں ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کو کہیں۔ بھاجپا اس کو منظور کر بھی لیتی ہے تو اس کے لئے اکثریت ثابت کرنا آسان نہیں ہوگا۔ یہ تبھی ممکن ہے جب کانگریس میں ٹوٹ پھوٹ ہوجائے اور اس کے دو تہائی ممبران حمایت دے دیں۔ لیفٹیننٹ گورنر بھاجپا کے انکار کرنے پر عام آدمی پارٹی کو مدعو کر سکتے ہیں اور مشروت حکومت بنانے کی دعوت دے سکتے ہیں لیکن وہی بات آئے گی کہ اکثریت ثابت کیسے کرے گی؟ بھاجپا یا کانگریس میں سے ایک کو اس سرکار کی حمایت کرنی پڑے گی۔ آخری متبادل ہے دہلی میں صدر راج لگے گا اور اسمبلی کو التوا میں رکھ کر انتظار کریں یا پھر اس کو توڑ کر نئے سرے سے چناؤ ہوں۔ اس اسمبلی چناؤ میں کئی دلچسپ چیزیں سامنے آئی ہیں۔ نہ تو اس میں کوئی گلیمر چلا اور نہ ذات پات کارڈ ،نہ بزرگی۔ ان انتخابات میں سوشل میڈیا کا بھی اہم رول رہا۔ پہلے بات کرتے ہیں گلیمر نہ چلنے کی۔ دہلی یونیورسٹی اسٹوڈینٹ ایسوسی ایشن چناؤ میں کامیابی کی گارنٹی رہا خوبصورت چہروں کا جادو دہلی کے دنگل میں نہیں چلا۔ نہ صرف گلیمر کا تڑکا نہیں لگ پایا بلکہ سیاست کی نرسری ڈوسو کے ذریعے اسمبلی چناؤ میں آنے والے امیدواروں کی امید ٹوٹ گئی جس میں کانگریس کی راگنی نائک اور امرتا دھون تو وہیں آپ کی شازیہ علمی۔ ان کی ہار پر تھوڑا دکھ ضرور ہوا ہے کیونکہ وہ کل326 ووٹوں سے ہاریں جبکہ اس سے زیادہ ان کی اسمبلی پولنگ حلقے میں نوٹا کے سب سے زیادہ بٹن دبے۔ انہوں نے انہیں ہرادیا۔478 ووٹروں نے یہ نوٹا بٹن دبایا۔ آخری لمحے میں اسٹنگ آپریشن نے بھی شازیہ کو ہروادیا۔ نوٹا کی بات کریں تو سبھی اسمبلی حلقوں میں اس کا استعمال ہوا۔ اندازہ ہے 50 ہزار سے زیادہ لوگوں نے نوٹا کا بٹن دبایا اور سب سے زیادہ نئی دہلی اسمبلی سیٹ پر جہاں سے شیلا دیکشت، اروند کیجریوال چناؤ میدان میں تھے وہاں تک460 ووٹروں نے سبھی امیدواروں کو نامنظور کردیا۔ کچھ امیدواروں کی امیدوں پر پانی پھیردیا۔ وکاس پوری اسمبلی سیٹ پر جہاں ہار جیت کے درمیان فرق محض 400 ووٹوں کا رہا وہیں نوٹا کو1426 ووٹ ملے۔وہیں آر کے پورم میں528 ووٹروں نے نوٹا کا بٹن دبایا جبکہ ہار جیت کا فرق محض326 کا رہا۔ دہلی اسمبلی چناؤ کے سب سے بزرگ 80 سال کے امیدوار اور گنیز بک ریکارڈ میں نام درج کرانے والے چودھری پریم سنگھ بھی اس بار اپنی سیٹ نہیں بچا پائے۔ 1958ء سے مسلسل جیتنے والے چودھری پریم سنگھ کی سیٹ عام آدمی پارٹی کے امیدوار اشوک کمار نے جیت لی۔ اگر ہم چھوٹی پارٹیوں کی بات کریں تو جہاں اکالی دل نے بھاجپا کے ساتھ اتحاد کرکے اپنے کوٹے کی چار سیٹوں میں سے تین پر زور دار جیت حاصل کرکے اپنا دم دکھایا وہیں بسپا اور سپا اپنا کھاتا بھی نہیں کھول پائیں۔ اکالی دل کے سب سے کمزور امیدوار ہرمیت سنگھ کالکا نے کالکاجی سیٹ پر بھاجپا کے چناؤ نشان پر جیت حاصل کر چونکادیا۔ شاہدرہ سیٹ پر کمل چناؤ نشان پر لڑ رہے جتندر سنگھ شنٹی نے ڈاکٹر نریندر ناتھ جیتے وفادار کانگریسی نیتا کو پچھاڑدیا۔ دہلی کی ریزرو سیٹوں کے ووٹروں پر عام آدمی کا جادو سر چڑھ کر اس بار بولا۔2008ء میں بدر پور اور گوکلپور سیٹ جیت کر اپنی موجودگی درج کرانے والے ہاتھی کو جھاڑونے اس بار صاف کردیا۔ اتنا ہی نہیں کئی سیٹوں پر وہ ایک ہزار سے کم ووٹوں پر سمٹ گئی۔ دہلی چھاؤنی گریٹر کیلاش ، جنگپورہ، کستوربا نگر سمیت دیگر سیٹیں ایسی رہیں کہ بسپا امیدوار محض ایک ہزار ووٹوں پر ہی سمٹ گئے۔ کئی معنوں میں اصل جیت عام آدمی پارٹی کی ہوئی ہے۔ جن سیٹوں پر زیادہ پولنگ ہوئیں ان میں سے زیادہ تر جگہوں پر عام آدمی پارٹی نے بازی ماری ہے۔ کل 25 سیٹوں پر 65 فیصدی سے زیادہ پولنگ ہوئی جن میں ’آپ‘ کو 13 سیٹیں ،بھاجپا کو 9 سیٹیں اور کانگریس کو3 سیٹیں ملیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے ووٹ فیصد بڑھنے سے سب سے زیادہ فائدہ ’آپ‘ کو ہوا نہ کہ بھاجپا کو۔ جیسا کہا جارہا تھا بھاجپا یہ چناؤ جیت سکتی تھی 800 ووٹوں کے فرق نے بی جے پی کو اکثریت سے دور کردیا۔ ذرا سی ہار کے فرق نے بھاجپا کو اقتدار سے کوسوں دور کردیا۔ دراصل بی جے پی کو چار سیٹوں پر 800 سے کم ووٹوں کے فرق سے ہار کا منہ دیکھنا پڑا۔ دہلی کے 70 سیٹوں میں سے 5 سیٹیں ایسی ہیں جہاں ہار جیت کا فرق بہت کم رہا۔ دہلی میں28 سیٹوں پر قبضہ جمانے والی عام آدمی پارٹی 19 سیٹوں پر دوسرے نمبر پر رہی۔ اسی طرح عام آدمی پارٹی 17 سیٹوں پر تیسرے نمبر پر رہی وہیں آپ کی بہ نسبت کانگریس ’آپ ‘کے مقابلے دوسرے نمبر پر بھی نہیں رہ پائی۔ کانگریس 16 سیٹوں پر دوسرے نمبر پر آئی اور اپنا جگہ بچا پائی۔باقی 28 سیٹوں پر بھاجپا دوسرے نمبر پر رہی۔ اگر ہم دہلی میں کانگریسی ممبران پارلیمنٹ کی بات کریں تو دو لوک سبھا حلقوں میں کانگریس پوری طرح صاف ہوگئی۔ نئی دہلی اور مغربی دہلی حلقوں میں تو کانگریس کا کھاتہ تک نہیں کھلا۔ سب سے برا حال مشرقی دہلی میں ایم پی سندیپ دیکشت کے حلقے کا ہے۔ یہ پورا حلقہ کانگریس کا گڑھ مانا جارہا تھا جہاں سے کانگریس نے کافی بھروسے مند امیدواروں کو اتارا تھا۔ یہاں سے اروندر سنگھ لولی، ڈاکٹر اے۔کے والیہ، ڈاکٹر نریندر ناتھ، نصیب سنگھ اور امریش گوتم جیسے لیڈروں کو میدان میں اتار تھا۔ گاندھی نگر میں لولی کو چھوڑ کر سبھی ہار گئے۔ ایسے میں شیلا دیکشت کے بیٹے سندیپ دیکشت کی کارکردگی پر سوال اٹھنافطری ہے وہیں نئی دہلی میں ایم پی اجے ماکن کے حلقے کا حال برا رہا۔ نئی دہلی ایریا میں کانگریس کھاتا بھی نہیں کھول پائی۔ سماجی کارکن انا ہزارے کی تحریک کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا تھی۔یہ ہی استعمال اروند کیجریوال کی ٹیم نے دہلی اسمبلی چناؤ میں کیا۔ ٹوئٹر ہو یا فیس بک یا پھر میسج یا پھر بلاگ ’آپ ‘ کی کامیابی نے سوشل میڈیا نے اہم رول نبھایا۔
(انل نریندر)

10 دسمبر 2013

اسمبلی انتخابات 2013 کے نتائج کانگریس کیلئے سبق!

کیا ہے اسمبلی چناؤ کے نتائج2013 کا پیغام؟جنادیش کانگریس پارٹی کے خلاف ہے۔ یہ کرپشن، گھوٹالوں اور مہنگائی،عورتوں کی عدم سلامتی اور سب سے زیادہ کانگریس کے غرور اور برتاؤ کے خلاف ہے۔ جنتا اب ماننے لگی تھی کہ چاہے وہ مرکز کی کانگریس سرکار ہو یا دہلی کی شیلا دیکشت سرکار ہو ، انہیں اتنا غرور ہوگیا ہے کہ اب انہیں جنتا کے دکھ درد کی قطعی پرواہ نہیں رہ گئی ہے۔ مہنگائی سے گرہستن کس طرح سے مقابلہ کررہی ہیں اس کی کانگریس پارٹی کو قطعی پرواہ نہیں تھی۔نوجوانوں میں اپنے مستقبل کو لیکر کتنی فکر تھی اس سے اس سرکار کو کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ کانگریس نے تو مان لیا تھا کہ وہ زندگی بھر اقتدار پر قابض رہنے کیلئے پیدا ہوئی ہے بھلے ہی جنتا کچھ بھی سوچے، کچھ بھی کہے۔آج سے کچھ برس پہلے تک کرپشن کوئی اشو نہیں تھالیکن بدعنوانی کے سبب جب گھوٹالے پر گھوٹالے کا پردہ فاش ہوا اور پچھلے دو تین سال میں تو سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے تو عوام نے اس گھوٹالوں کو سیدھے مہنگائی سے جوڑنا شروع کردیا۔ عوام ماننے لگی کہ ان گھوٹالوں کی وجہ سے ہی آسمان چھوتی، کمر توڑ مہنگائی ہوئی ہے۔ اسے پکا یقین اس وقت ہوا جب اسے لگنے لگا کہ یہ سرکار چاہے وہ مرکز کی ہو یا ریاست کی ہو، انہیں نہ تو مہنگائی کی فکر ہے اور نہ ہی ان میں اسے روکنے کی کوئی قوت ارادی۔ ان میں اتنی اکڑ یعنی غرور آچکا تھا کہ یہ اپنی ہی دنیا میں جینے لگے تھے اور جنتا سے بالکل کٹ کر رہ گئے تھے۔ عوام کے دکھ درد سے انہیں کوئی واسطہ نہیں رہا۔ ایسے وقت انا ہزارے منظر عام پر آئے۔ پچھلے سال جب انہی اشو کو لیکر رام لیلا میدان پر انشن کے لئے بیٹھ گئے تو دہلی کی جنتا پہلی بار لاکھوں کی تعداد میں رام لیلا میدان پہنچی۔ وہ انا کیلئے نہیں گئی بلکہ وہ اپنی بھڑاس نکالنی گئی تھی۔ انہیں جو سرکار اور اس کی پالیسیوں سے ناراضگی تھی اس غصے کو ظاہر کرنے کیلئے گئی تھی۔ انا کے ساتھ اروند کیجریوال بھی تحریک کا ایک اہم حصہ بنیں۔ انا کا انشن تو ختم ہوگیا لیکن اروند کیجریوال کا سیاسی سفر وہیں سے شروع ہوگیا۔ انہوں نے ’آپ‘ پارٹی بنا لی اور انہیں اشو کو لیکر انہوں نے جنتا سے رابطہ کرنا شروع کردیا۔’آپ‘ پارٹی کو نہ تو کانگریس نے اور نہ ہی بھاجپا نے پہلے سنجیدگی سے لیا لیکن دہلی میں ایک زبردست اندر ہی اندر لہر چل رہی تھی آپ پارٹی کے حق میں۔ اس لئے جب پول سروے آئے اور ایگزٹ پول آئے کسی نے بھی ’آپ‘ کو اتنی سیٹیں جیتتے نہیں دکھایا تھا۔ بیشک ایگزٹ پول عام طور پر صحیح ثابت ہوتے ہیں لیکن غلطی ان کی ’آپ‘ پارٹی کو لیکر اور کانگریس کی کارکردگی کو لیکر ہوگئی۔ بھاجپا کو تو تقریباً سبھی نے 32 سیٹوں کی پیش گوئی کی تھی لیکن اروند کیجریوال اینڈ کمپنی اتنی سیٹیں لے لیں گے کسی کو یہ تصور بھی نہیں تھا۔ مجھے شیلا جی سے تھوڑی ہمدردی ہورہی ہے۔ شیلا جی سے کئی غلطیاں ضرور ہوئیں جس کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑا۔ اس میں کوئی دورائے نہیں ہو سکتی کہ انہوں نے اس چناؤ میں جی جان سے محنت کی لیکن ان کی ٹیم و تنظیم اور وزرا نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ وہ اکیلی میدان میں ڈٹی رہیں۔ کانگریس کے ورکروں کا مطالبہ تھا اور وقت کا تقاضہ تھا کہ کانگریس اپنے کچھ امیدواروں، جن میں کچھ وزیر بھی شامل تھے کو بدلے۔ ان کے خلاف نگیٹو فیکٹر کام کررہا تھا لیکن شیلا جی نے جوا کھیلا اور سارے موجودہ ممبران اسمبلی کو میدان میں اتاردیا۔ ورکروں کی مانگ کو مسترد کردیا گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شیلا جی خود بھی ہاریں اور پارٹی کی بھی لٹیا ڈوب گئی۔ ایک اور بڑی وجہ تھی مرکزی سرکار کی پالیسیاں۔ مہنگائی سب سے بڑا اشو تھا۔ آلو، پیاز، ٹماٹر کی قیمتوں نے گرہستنوں کا بجٹ ہی بگاڑ دیا تھا۔ مرکزی حکومت کی پالیسیوں کا یہ حال تھا کہ چناؤ سے ٹھیک پہلے 50پیسے فی لیٹر ڈیزل کے دام بڑھا دئے۔ یہ جنتا کو توجہ نہ دینے کے لئے قدم اٹھائے گئے تھے۔ جنتا نے بھی طے کررکھا تھا کہ کانگریس کو اس بار سبق سکھانا ہے۔ بھاجپا نے دہلی میں شاندار پرفارمینس دی ہے۔ اصل الٹ پھیر تو کانگریس اور ’آپ‘ پارٹی کے درمیان ہوا۔ جو سیٹیں عام طور پر کانگریس کو ملتی تھیں وہ ’آپ ‘ کو چلی گئیں۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ عام چناؤ میں مشکل سے6 مہینے کا وقت بچا ہے۔ اب کانگریس یہاں سے آگے کیسے چلے گی، سب سے بڑا سوال تو لیڈر شپ کو لیکر ہے۔ سونیا گاندھی، راہل گاندھی کی لیڈرشپ بری طرح بے نقاب ہوگئی ہے۔ سردار منموہن سنگھ نہ تو تین میں ہیں نہ تیرہ میں۔ راہل گاندھی بالکل پھسڈی ثابت ہوئے ہیں ان کی قیادت میں پارٹی کا لوک سبھا چناؤلڑنے پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ پرینکا نے صاف کردیا ہے کہ وہ امیٹھی اور رائے بریلی سے باہر نہیں جائیں گی۔ اس صورت میں صرف سونیا گاندھی ہی بچتی ہیں۔ کیا لوک سبھا چناؤ سونیا گاندھی بنام نریندر مودی ہوگا؟ کانگریس میں نہرو گاندھی خاندان کے علاوہ مجھے تو کوئی اور لیڈر وزیر اعظم امیدوار کے طور پر دکھائی نہیں دیتا۔ کانگریس کی یہ چوطرفہ ہار 2014ء لوک سبھا چناؤ کو سیدھا طور پر متاثر کرے گی۔ کانگریس تنظیم پوری طرح لڑکھڑا گئی ہے۔ ورکروں کا حوصلہ ٹوٹنا فطری ہے۔ سیاست میں کسی کو کنارے کرنا صحیح نہیں ہوتا۔ ہمارے سامنے کئی مثالیں ہیں۔پارٹی تقریباً تباہ ہوچکی ہے اور پھرکانگریس دیش کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی ہے وہ واپسی کیسے کر سکتی ہے لیکن اس کے لئے اچھی لیڈر شپ تنظیم سب سے اہم ہے۔ صحیح اشو اٹھانا جنتا کو سیدھے متاثر کرنے والے اشوز پر خاص توجہ دینا، ان اسمبلی چناؤ کے نتائج ایسے وقت آئے ہیں جب پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس چل رہا ہے ایسے میں کانگریس اور سرکار کے سامنے سب سے بڑی چنوتی ہوگی اس سیشن میں اپوزیشن کے حملوں کو جھیلنا۔پارٹی صدر سونیا گاندھی نے ہار کے بعد لوک سبھا چناؤ سے پہلے اپنی غلطیوں کو ٹھیک کرنے کی بات کہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چار ریاستوں کے اسمبلی چناؤ نتائج کو لیکر پارٹی بیحد مایوس ہے۔ حالانکہ ساتھ یہ بھی کہا کہ ان نتیجوں کا عام چناؤ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ عام چناؤ بالکل الگ ہوتے ہیں۔ ہم سنجیدگی سے محاسبہ کریں گے اور اپنی غلطیوں کو کام کاج کے طریقوں کو ٹھیک کرنے کی کوشش کریں گے۔ وہیں راہل گاندھی نے تسلیم کیا ہے وہ ’آپ‘ پارٹی سے بہت کچھ سیکھیں۔ ہم ’آپ‘ پارٹی کی کامیابی سے سبق لیں گے۔ لوک سبھا چناؤ میں اب بہت کم وقت رہ گیا ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ کانگریس جنادیش اسمبلی چناؤ2013 سے کیا سبق سیکھتی ہے اور اپنے آپ میں بہتری کو تیار ہے؟
(انل نریندر)

08 دسمبر 2013

آخر کار نارائن سائیں پولیس شکنجے میں پھنسے!

پچھلے تقریباً دو مہینے سے تمام ریاستوں کی پولیس کو چکمہ دے رہے آسا رام کے بیٹے نارائن سائیں آخرکار پولیس کے شکنے میں پھنس ہی گئے۔ بقول ڈی سی پی کرائم کمار گنیش’’آپریشن نارائن سائن‘‘ گذشتہ دو مہینے سے اس کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے میں لگی ہماری ٹیم کو ڈرائیور رمیش کے جانکار کے ذریعے سوموار دوپہر اطلاع ملی کہ وہ پنجاب میں ہے۔ اس کے بعد ایک ٹیم کو پنجاب کے لئے روانہ کردیا گیا۔وہاں پتہ چلا کہ لدھیانہ میں وہ کچھ دنوں سے ٹھہرا ہوا ہے۔ منگلوار کو لدھیانہ پہنچنے پر پتہ چلا کہ وہ دہلی کی طرف روانہ ہو گیا ہے۔ اس کا پیچھا کرتے ہوئے 31 پولیس والے جب انبالہ پہنچے تو انہیں ایک مشتبہ کار نظر آئی جس کا پیچھا کرتے ہوئے جیسے ہی نارائن کی یہ کار منگلوار رات تقریباً10بجے دہلی سرحد پر پیپلی پہنچی تو کرائم برانچ کی ٹیم نے اسے آخر کار اوور ٹیک کر روک لیا اور گھیر لیا۔ نارائن سائیں کی گاڑی سے پولیس کو کئی مشتبہ اور قابل اعتراض سامان ملا۔ اس کے پتا آسا رام کی گرفتاری کے بعد نارائن سائیں کو یقین ہو چلا تھا کہ اب اس پر بھی ایف آئی آر درج ہوگی۔ پولیس اسے بھی اپنے چنگل میں لے لے گی۔ اسی ڈر سے نارائن سائیں فرار ہوگیا اور فراری کے درمیان اپنے ٹھکانوں کو لگاتار بدلتا رہا تاکہ جب تک معاملہ ٹھنڈا نہ ہوجائے وہ پولیس کی پکڑ سے دور رہے۔ پولیس سے بچنے کے لئے سائیں وائرلیس سیٹ کر استعمال کرتا تھا۔اس کے قافلے کی ہر گاڑی میں ایک سیٹ ہوتاتھا، نارائن بہت زیادہ ضرورت پڑنے پر ہی موبائل کا استعمال کرتا تھا۔ کرائم برانچ کے ایک سینئر افسر کے مطابق ملزم پولیس سے بچنے کے لئے گاڑیاں بدلتا رہتا تھا۔ ہمیشہ کار پر لال بتی لگا لیتا تھا۔ دہلی پولیس کے سامنے خلاصہ کیاہے کہ گاڑی میں اس نے سائرن بھی لگا رکھا تھا۔ سفر کے دوران جب کوئی پولیس پکٹ یا پیٹرول پمپ وغیرہ پڑتا تھا تو نارائن سائیں گاڑی کی سیٹ پر لیٹ جاتا تھا۔نارائن نے کئی بات پولیس سے بچنے کے لئے سکھ کے علاوہ مسلم شخص کا بھی روپ اختیار کیا۔ پولیس کے مطابق لدھیانہ کی جس گؤ شالہ میں وہ گذشتہ20 دنوں سے چھپا ہوا تھا وہاں تقریباً 600 گائیں ہیں۔ سب سے چونکانے والی بات یہ سامنے آئی ہے کہ سائیں اپنے ہی پتا آسا رام کی سیکس سی ڈی بنوانا چاہتا تھا۔ ایسا کرنے کے پیچھے اس کا مقصد آسا رام کی ملک بھر میں پھیلی اربوں کی جائیداد پر قبضہ کرنا تھا۔ سورت کی جس خاتون نے سائیں کے خلاف ریپ کا کیس درج کرایا تھا اسی نے یہ الزام ایک نیوز چینل سے بات چیت میں لگایا۔ نارائن سائیں پر بدکاری کا الزام لگانے والی ایک سابق خاتون بھکت نے دعوی کیا تھا کہ سائیں دو ناجائز بچوں کا باپ ہے۔ گنگا اور جمنا سگی بہنیں ہیں۔ سورت کے پولیس کمشنر استھانا نے بتایا کہ گنگا نے پوچھ تاچھ کے دوران بتایا کہ اس کی بہن جمنا کا بیٹا دراصل نارائن سائیں کی اولاد ہے۔ اس درمیان نارائن سائیں کو دہلی کی ایک عدالت نے 24 گھنٹے کے لئے گجرات پولیس کی حراست میں سونپنے کا حکم دیا ہے۔ اس میں بلاتکار کے ایک معاملے میں اسے سورت میں ایک عدالت میں پیش کرنے کیلئے ٹرانزٹ ریمانڈ دی گئی ہے۔ اب جیل میں باپ بیٹے کی جوڑی کو وقت ملے گا کہ وہ غور کریں کے انہوں نے کیا کیا کالے کارنامے کئے ہیں۔ نارائن سائیں تو لمبے وقت تک گئے۔
(انل نریندر)

دودھ میں ملاوٹ کرنے والوں کو ملے عمر قید!

کھانے پینے کے سامان میں جتنی ملاوٹ ہمارے دیش میں ہوتی ہے شاید ہی کسی دوسرے دیش میں ہوتی ہو۔اس کی اہم وجہ ہے مرکزی سرکار اور ریاستی سرکاروں کا عوام کے تئیں اسنویدناہونا۔نہ انہیں مردوں کی صحت کی فکر ہے نہ خواتین کی اور نہ ہی بچوں کی۔ ان کی لاپرواہی کا ہی نتیجہ ہے کہ عزت مآب سپریم کورٹ کو دودھ میں ملاوٹ جیسے مدعے پر سختی سے بولنا پڑا ہے۔ جمعرات کو سپریم کورٹ نے کہا کہ دودھ میں ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف عمر قید کی سزا کی شرط ہونی چاہئے۔ عدالت نے کہا کہ فی الحال اس جرم سے نپٹنے کے لئے موجودہ قانون (دفعہ272) سخت نہیں ہے نہ ہی فوڈ سکیورٹی ایکٹ کافی ہے۔ سزا کی شرط بھی صرف 6ماہ کی ہے۔ملک میں ریاستی سرکاروں کو اترپردیش ، اڑیسہ اور پشچمی بنگال کی طرز پر قانون میں ترمیم کر سخت سزا، عمر قید کی شرط رکھنی چاہئے۔ سپریم کورٹ نے ریاستوں کے ڈھلمل رویئے پر کڑی ناراضگی جتاتے ہوئے کہا کہ سنتھیٹک دودھ میں ملائے جانے والی اجزاء صحت کے لئے نقصاندہ ہیں۔ اس کے باوجود سرکاریں لاپرواہ ہیں۔ ریاستوں کے جواب پر ناراضگی ظاہرکرتے ہوئے عزت مآب عدالت نے یوپی ،اتراکھنڈ،ہریانہ، راجستھان، دہلی، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور پنجاب کو مفصل حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔ ریاستوں کو اپنے جواب میں ملاوٹ کا جرم کرنے والوں کے خلاف کی جانے والی قانونی کارروائی کا بیورا پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔ جسٹس اے۔ ایس۔رادھا کرشنن و جسٹس اے۔ کے۔سیکری کی بنچ کے سامنے عرضی گذار سوامی اچوتانند تیرتھ کی جانب سے پیش ہوئے وکیل انوراگ تومر نے کہا کہ سخت قانون نہ ہونے کی وجہ سے ملاوٹ خوروں کو کوئی ڈر نہیں ہے۔ بنچ نے یوپی سرکار کی طرف سے پیش ہوئے محکمہ خوراک کے چیف سکریٹری و دیگر ریاستوں کی طرف سے پیش ہوئے فوڈ کمشنروں سے اس بارے میں پوچھا۔ دہلی کے فوڈ کمشنر نے بنچ سے کہا کہ ہمارے علاقے میں سنتھیٹک دودھ کا کوئی سیمپل نہیں ملا ہے۔تب درخواست گزار کے وکیل نے انڈین کونسل فار میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) اور (ایف ایس اے آئی)کئی سائنسی جانچ کا حوالہ دیا کہ ایک رپورٹ میں 147 دودھ کے نمونوں میں ڈیٹرجنٹ پایا گیا ہے۔ اس کے باوجود اترپردیش کو چھوڑ کر کسی سرکار نے یہ نہیں قبول کیا کہ ڈیٹرجنٹ جیسے نقصاندہ اجزاء کے ذریعے ملاوٹی دودھ تیار کیا جاتا ہے۔ ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف سختی برتنے کا دعوی کرنے والی ریاستی سرکاروں کے جواب کی سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر ہوا نکال دی کہ سرکاری مشینری اس معاملے میں پوری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ دراصل ریاستوں کی جانب سے جرمانہ وصولے جانے کی کارروائی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تھا جسے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ یہ جواب تسلی بخش نہیں ہے کہ اتنا یا اتنا جرمانہ وصول کیا تھا۔ریاستی سرکاروں کے جواب ظاہر کرتے ہیں کہ ان کارویہ کتنا لچر ہے۔ اعدادو شمار صحیح کہانی بتاتے ہیں۔ان ریاستوں سے 1791 نمونے لئے گئے ان میں1226 نمونے پازیٹو نہیں پائے گئے ہیں۔ ان میں سے147 نمونوں میں ڈیٹرجنٹ پایا گیا۔ یہ اعدادو شمار ایف ایس ایس آئی نے جنوری2011ء میں لئے تھے جن کی بنیادپر یہ اعداد نکالے گئے ہیں۔ 
(انل نریندر)

07 دسمبر 2013

پھر فرقہ وارانہ کارڈ کھیلنے کی کوشش ہے یہ فرقہ وارانہ تشدد روک تھام بل!

پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس شروع ہوچکا ہے۔ موجودہ لوک سبھا کا آخری کام کاجی اجلاس ہونے کے سبب حکومت اس کا استعمال التوا میں پڑے بلوں کو پاس کروانے میں کرنا چاہے گی۔ خاص طور سے وہ بل جو یوپی اے سرکار کو 2014ء کے عام چناؤ میں سیاسی فائدہ پہنچا سکتے ہیں ان میں متنازعہ انسداد فرقہ وارانہ فساد بل بھی شامل ہے۔حالانکہ کام کی فہرست میں شامل بلوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے محض12 دن کے اس قلیل المدت اجلاس میں کتنا آئین سازیہ کا کام نمٹایا جاسکے گایہ اپنے آپ میں ایک سوال ہے۔ آج میں بات کرنا چاہتا ہوں فرقہ وارانہ انسداد بل کی۔ اپوزیشن کی سخت مخالفت کی وجہ سے ٹھنڈے بستے میں چلے گئے اس بل کو مظفر نگر فسادات کے بعد یوپی اے سرکار نے پھر سے جھاڑپونچھ کر باہر نکال لیا ہے۔ بھاجپااپنے ہندوتو ایجنڈے کی لائن پر آگے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے تو کانگریس نے بھی جواب میں سیکولرازم کے اشو پر جارحانہ طور پر آگے بڑھنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ دراصل یہ بل اپنے آپ میں ایک طرفہ تو ہے ہی ہے بلکہ اکثریتی مخالف بھی ہے۔ کل ملاکر یہ ایک ایسا بل ہے جو اگر قانون بنا تو سماجی تانے بانے کو نقصان پہنچانے کا کام کرے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ اس بل کو تیار کرنے والے لوگ اس ذہنیت سے آلودہ ہیں کہ صرف اکثریتی ہی سماج میں فرقہ وارانہ تشدد پھیلانے کا کام کرتی ہے۔
یہ بل محض اکثریتوں کو ہی فرقہ وارانہ تشدد پھیلانے کا قصوروار مانتا ہے بلکہ ان پر یہ سخت شرط بھی تھونپتا ہے کہ خود کو بے قصور ثابت کرنے کے لئے ذمہ داری بھی ان کی ہی ہوگی۔ یہ ممکنہ طور پر پہلا ایسا بل ہے جس کا استعمال محض درجہ فہرست ذاتوں ،قبائلیوں اور اقلیتی سماج کے ہی لوگ کرسکیں گے کیونکہ یہ بل ریاستوں کے دائرہ اختیار سے سیدھا ٹکراتا ہے اس لئے غیر کانگریسی وزرائے اعلی نے اس کے خلاف زور شور سے آواز اٹھانا شروع کردی ہے۔ پیر کو تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا نے اس کی جم کر مخالفت کی تھی۔ اگلے ہی دن بھاجپا نے بل کو فرقہ وارانہ قراردیتے ہوئے پارلیمنٹ میں اس کی مخالفت کا اعلان کردیا۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی نے اسے دیش کے فیڈرل ڈھانچے کے خلاف قرار دیا ہے۔ ترنمول کانگریس سپریمو و مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے اپنے ممبران کو بل کی مخالفت کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ تمام مخالفتوں کے درمیان منگلوار کو داخلہ سکریٹری نے اتفاق رائے کے لئے سبھی ریاستوں کے چیف سکریٹریوں اور قانون سکریٹریوں کی میٹنگ بلا لی ہے۔ ارون جیٹلی نے مرکز پر پولارائزیشن کی پالیسی کا الزام لگتے ہوئے کہا کہ متعلقہ فریقین کے ساتھ ضروری غور و خوض کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔
دو سال پہلے قومی ایکتا پریشد کی میٹنگ میں سبھی وزراء اعلی نے ایک آواز میں اس بل کی مخالفت کی تھی۔ جیٹلی نے یاد دلایا کے اس وقت سبھی وزراء اعلی نے صاف کردیا تھا کہ یہ بل دیش کے فیڈرل ڈھانچے کے خلاف ہے۔ بھاجپا کے نائب صدر مختار عباس نقوی نے مرکزی سرکار پر زور دار حملہ کیا اور کہا کہ یہ سرکار جب پہلی بار اقتدار میں آئی تھی تو اس نے آتنک وادیوں کو خوش کرنے کے لئے ان کے خلاف بنے سخت قانون پوٹا کو ختم کردیا۔ آج جب اس کی رخصتی کا وقت آگیا ہے تو وہ ایک بار پھر فسادیوں کو خوش کرنے کے لئے یہ فرقہ وارانہ تشدد روک تھام بل لیکر آئی ہے۔ نقوی نے سرکار کے ذریعے بل کے وقت پر سوال کھڑے کرتے ہوئے کہا جب بھی چناؤ کا موسم آتا ہے تو کانگریس کو مسلمانوں کی یاد ستانے لگتی ہے۔ یہ بڑے دکھ کی بات ہے۔ یہ بل فسادیوں کی پہچان اور ان کے مذہب کی بنیاد پر بنایا جارہا ہے۔ رہی سہی کثر گجرات کے وزیر اعلی اور پی ایم ان ویٹنگ نریندر مودی نے وزیر اعظم کو لکھے خط نے نکال دی۔مودی نے پی ایم کو خط لکھ کر فرقہ وارانہ تشدد بل کی مخالفت کی ہے اور کہا مجوزہ بل تباہی کا نسخہ ہے۔
بل کو ریاستوں کے دائرہ اختیار میں قبضہ کرنے کی کوشش کا الزام لگاتے ہوئے کہا اس سلسلے میں آگے کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اس پر ریاستی سرکاریں اور سیاسی پارٹیوں، پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں سے وسیع غور و خوض کیا جانا چاہئے۔ بھاجپا نیتا نے کہا کہ سیاسی اسباب اور حقیقت جانے بغیر ووٹ بینک کی سیاست کے چلتے بل کو لانے کا وقت صحیح نہیں ہے۔مجوزہ قانون سے لوگ مذہبی بنیاد پر بٹ جائیں گے۔ مجوزہ بل سے مذہبی اور زبان کی شناخت اور بھی مضبوط ہوگی اور تشدد کے معمولی واقعات کو بھی فرقہ وارانہ رنگ دیا جائے گا اس طرح یہ بل جو اختیار حاصل کرنا چاہتا ہے اس کا الٹا نتیجہ سامنے آئے گا۔ مودی کی جانب سے فرقہ وارانہ اور انسداد تشدد بل کو تباہی کا نسخہ قراردئے جانے کے درمیان وزیراعظم نے کہا کہ وہ ان سبھی اشو پر عام رائے بنانے کی کوشش کریں گے۔ 
انہوں نے کہا کہ سرکار بلوں کو عام رائے سے پاس کرانا چاہتی ہے اور اس میں ہم سبھی کا تعاون چاہتی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں فرقہ وارانہ جھگڑے سماج کے لئے چنوتی بنتے جارہے ہیں لیکن ان پر روک لگانے کا یہ کوئی طریقہ نہیں ہے ایک امتیاز بھرا قانون بنایاجائے۔اگرحکومت فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے کے لئے سنجیدہ ہے تو وہ سب سے پہلے فرقہ وارانہ نفرت کا کارڈ کھیلنا بند کرے۔ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کے سیاسی پارٹیاں اپنے ووٹ بینک کی سیاست کے چلتے خود ایسے فرقہ وارانہ فسادات کو بڑھاوا دیتی ہیں۔ حال میں مظفر نگر کے فسادات اس کا ثبوت ہیں۔ ہمیں تو شبہ ہے کہ جس سمت میں کام کرنا چاہئے اس پر تو کچھ کام نہیں کیا گیا اور یہ فرقہ وارانہ بل لانے کی کوشش کی گئی۔ امید کی جاتی ہے کہ مرکزی حکومت اپوزیشن کے اعتراضات پر توجہ دے گی اور زور زبردستی کرکے اس بل کو موجودہ شکل میں پاس کرانے کی کوشش نہیں کرے گی۔ لیکن اگر کوئی سیاسی نیت کے ارادے سے اس بل کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی تو اس سے دیش کے ماحول کو بھاری نقصان پہنچ سکتا ہے۔
(انل نریندر)

06 دسمبر 2013

دہلی اسمبلی انتخابات نے کئی نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں!

جیسا کہ امید تھی ویسا ہی ہوا دہلی اسمبلی چناؤ میں ریکارڈ پولنگ ہوئی اور یہ 66 فیصد سے زیادہ ہوئی۔ پچھلے چناؤ2008ء میں 58.58فیصدی ووٹ پڑے تھے اس بار پانچ ریاستوں میں پولنگ کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے ہیں۔ راجستھان میں 75.2فیصد ، مدھیہ پردیش 72.66فیصد، چھتیس گڑھ75 فیصد اور میزورم میں 81.19فیصد اور اب دہلی میں 66 فیصد پولنگ ہوئی ہے۔ اگر ہم دہلی کی بات کریں تو یہاں زیادہ ووٹ پڑنے کی کئی وجوہات دکھائی پڑتی ہیں۔ سب سے پہلے تو چناؤ کمیشن کی انتہائی کوشش مانی جاسکتی ہے۔دہلی چناؤ کمشنر وجے دیو اور ان کی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے انہوں نے جو کہا وہ کر دکھایا۔ پولنگ کرنے جارہے ووٹروں کو اکثر دل میں یہ پریشانی ستاتی رہتی ہے کہ شناختی کارڈ نہیں ہے، کیا ہم ووٹ ڈال سکیں گے؟ کئی کے ووٹر فہرست سے نام ہی غائب ہوجاتا تھا۔ بہتوں کو پولنگ بوتھ تک پہنچے پر پتہ چلتا تھا کہ ان کا ووٹ ڈل چکا ہے۔پولنگ بوتھ میں موبائل لیکر جائیں یا نہیں کچھ ایسی دقتیں ووٹروں کواپنا ووٹ ڈالنے سے روکتی تھیں۔ انہیں باتوں کو ذہن میں رکھ کر دہلی چناؤ میں پہلی بار کچھ نئے قدم اٹھائے گئے۔ چناؤ کمیشن نے 70 سیٹوں کے سبھی پولنگ اسٹیشنوں کو گوگل میپ سے جوڑدیا اور اسٹیشن کو آپ گوگل سرچ میں جاکر دیکھ سکتے تھے۔ اس کا لنک چناؤ کمیشن کی ویب سائٹ پر موجود تھا۔ اسمارٹ فون رکھنے والے مرکز تک پہنچنے کیلئے جی پی ایس کا استعمال کرنے کی سہولت تھی۔اگر آپ کے پاس ووٹر شاختی کارڈ نہیں ہے پھر بھی آپ ووٹ ڈال سکتے تھے۔ چناؤ کمیشن نے 10 طرح کے پہچان کاغذات کو تسلیم کیا۔ اس میں پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس، بینک یا ڈاک گھر کی جاری فوٹو ،پاس بک وغیرہ وغیرہ۔ کمیشن نے ایس ایم ایس کے ذریعے پہلی بار ووٹر لسٹ میں نام جاننے کی سہولت دی تھی۔ اس مرتبہ شراب اور پیسے کا کام نہیں چل سکا۔ کل ملاکر ووٹ فیصد بڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ چناؤ کمیشن کے ٹھوس قدم۔ اس کے لئے چناؤ کمیشن مبارکباد کا مستحق ہے۔ اب بات کرتے ہیں ایگزٹ پول کی۔ چناؤ سے پہلے آئے چناؤ تجزیوں میں اور چناؤ کے بعد ایگزٹ پول کے نتیجوں میں اتنا زیادہ فرق نہیں ہے۔ دونوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو سب سے زیادہ سیٹیں ملنے کے امکان دکھایا گیا ہے۔ تھوڑا فرق ’آپ‘ پارٹی کی پرفارمینس میں ضرور دکھائی دیا۔ اس کو بہت اچھے ووٹ ملتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ اروند کیجریوال کی شاندار کامیابی ہے۔ اکیلے اپنے دم خم پر بھاجپا اور کانگریس جیسی بڑی پارٹیوں کے سامنے کھڑا ہونا آسان کام نہیں ہے۔ پھر نہ پیسے سے اور نہ تنظیم سے اور نہ پبلسٹی میں کیجریوال ان دونوں کا مقابلہ کرسکتے تھے لیکن پھر بھی وہ ڈٹے رہے اور اگر ایگزٹ پول کی بات صحیح نکلی تو عام آدمی پارٹی نے نہ صرف دونوں پارٹیوں کے ووٹ میں سیند لگانے میں کامیابی پائی بلکہ دہلی اسمبلی چناؤ میں پہلی بار ایک تیسرا متبادل کھڑا کردیا ہے۔ ابھی تک تو صرف بھاجپا اور کانگریس میں سیدھی ٹکر ہوا کرتی تھی۔ ایگزٹ پول میں عام آدمی پارٹی کو 6 سے لیکر31 سیٹیں جیتتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ پارٹی کو8تاریخ کو پتہ چلے گا کہ اس کو کتنے فیصد ووٹ ملا ہے اور وہ کتنی سیٹیں جیت رہی ہے لیکن لگتا یہ ہے عام آدمی پارٹی کو جتنا بھی ووٹ ملا اس کا زیادہ تر حصہ کانگریس کے ووٹ کا ہے۔ بیشک بھاجپا کا ووٹ بھی اسے ملا لیکن زیادہ کانگریس کا ووٹ کٹنے کا امکان ہے۔ اگر اس چناؤ کا کوئی صاف پیغام ہے تو وہ یہ ہے مینڈیٹ حکمراں کانگریس کے خلاف ہے۔ یہ ووٹ تبدیلی کے لئے ہے۔ لوگ 15 سال سے کانگریس سرکار سے تنگ آچکے تھے۔ کانگریس جنتا سے پوری طرح کٹ چکی تھی اور یہ بات ہم بار بار بتاتے رہے ہیں لیکن کانگریس نے پرواہ نہیں کی۔ 
چاہے اشو مہنگائی کا رہا ہو چاہے کرپشن کا یا بجلی کا دہلی کے باشندے چیختے رہے لیکن کانگریس حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ نوجوانوں کو کانگریس سے زبردست مایوسی تھی۔ وہ سمجھتے تھے کانگریس کی حکومت میں ان کا مستقبل محفوظ رہی ہے۔عورتیں دو مورچوں پر کانگریس سے سخت ناراض تھیں۔ سلامتی کے معاملے میں اور رسوئی کے معاملے میں۔ آلو، ٹماٹر، پیاز کی آسمان چھوتی قیمتوں نے گرہستنوں کا بجٹ بگاڑدیا تھا اور جنتا اس کمر توڑ مہنگائی کو کانگریس کے کرپشن سے سیدھا جوڑتی تھی۔ دکھ کی بات یہ بھی تھی کہ کانگریس سرکار نے اسے روکنے کی کبھی کوئی کوشش نہیں کی۔ 15 برسوں میں ایک علاقہ جہاں بہت گراوٹ آئی وہ ہے میڈیکل سیکٹر۔ ہسپتال ،ڈاکٹر اتنے مہنگے ہوگئے کے عام آدمی اگر بیمار ہوجاتا تو سمجھو اسے تو موت ہی آگئی ہے۔ ذرا سی بیماری کے لئے لاکھوں کے بل بن جاتے تھے۔ بھاجپا کو ڈاکٹر ہرش وردھن کو بطور وزیر اعلی پیش کرنے کا فائدہ ملا۔ تنظیم میں کوئی اختلاف نہیں تھا سبھی نے اپنے اپنے سطح پر پوری طاقت لگائی۔ آر ایس ایس نے بھی اس بار کھل کر بھاجپا کی مدد کی ہے۔ نریندر مودی ایک بہت بڑا پلس پوائنٹ ثابت ہوا۔ نریندر مودی کی ریلیوں میں جس طرح نوجوان شامل ہوئے اس سے کانگریس کا حوصلہ ٹوٹ گیا۔ راہل گاندھی کی فلاپ ریلی کے بعد کانگریس نے دہلی میں آخری سات دنوں میں پبلک جلسے کرنے کی ہمت نہیں دکھائی۔ ادھر مودی نے تابڑ توڑ ریلیاں کرکے بھاجپا کے حق میں ماحول بنایا۔ نوجوانوں کو مودی کی شکل میں ایک نئی امید دکھائی دے رہی ہے جو شاید صحیح پالیسیوں سے ان کا مستقبل سنوار سکے گی۔ اس چناؤ میں کانگریس مخالف لہر نظر آرہی ہے جو کانگریسی امیدوار جیتے گا وہ آسانی سے شخصی ساکھ اور عوامی رابطہ اور اپنے برتاؤ کے سبب جیتے گا۔ کئی معنوں میں یہ چناؤ الگ ہی تھا۔ اگر شیلا جی جیت جاتیں تو وہ پہلی کانگریس کی وزیر اعلی ہوتیں جو چوتھی بار اس عہدے پر فائض ہوتیں لیکن اب اس کا امکان کم لگ رہا ہے۔ چناؤ میں ہم نے دیکھا کہ ایک سابق افسر شاہ اور سماجی رضاکار اروند کیجریوال کی قیادت میں عام آدمی پارٹی نے چناوی لڑائی کو سہ رخی بنا دیا۔ اس پارٹی کے زیادہ تر لیڈر یا تو سماجی رضا کار، صحافی یا تعلیم سے جڑے ہیں جنہوں نے پہلی بار سوشل میڈیا کا اپنی بات ووٹر تک پہنچانے میں کامیابی پائی ہے۔ سوشل میڈیا کا استعمال بھاجپا نے بھی خوب کیا۔ پہلی بار نوجوان طاقت کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا اور نوجوان ووٹر بھی ووٹ ڈالنے کیلئے گھر سے باہر نکلے۔ یہ سب باتیں ہندوستانی جمہوریت کے لئے اچھا اشارہ ہیں اور جنتا کا یوں کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرنا اچھی علامت ہے۔
  1. (انل نریندر)

05 دسمبر 2013

نابالغ کیا اسی وجہ سے صاف چھوٹ جائے کیونکہ وہ نابالغ ہے؟

جب 16 دسمبر 2013ء کو وسنت وہار گینگ ریپ معاملہ ہوا تھا میں نے تبھی اپنے اسی کالم میں لکھا تھا کہ اس قتل کانڈ کے ماسٹر مائنڈ کو اس لئے نہیں چھوڑا جاسکتا کیونکہ وہ نابالغ ہے اور اس کی عمر18 سال سے تھوڑی کم تھی۔ اب متاثرہ کے والدین نے اپنی سپریم کورٹ میں داخل عرضی میں اس سوال کواٹھایا ہے۔ عدالت نے پیرکو دہلی گینگ ریپ متاثرہ کے والد کی عرضی پر مرکزی حکومت کو نوٹس بھیج دیا ہے اور سرکار سے پوچھا ہے کہ آخر گھناؤنے جرائم میں شامل ملزمان کا نابالغ ہونا کیسے طے کیا جائے؟ متاثرہ کے والد نے اپنی عرضی میں جیونائل انصاف ایکٹ قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے یہ قانون سنگین جرائم میں ملوث کمسنوں پر عام مقدمہ چلانے سے روکتا ہے۔ دہلی گینگ ریپ کا بنیادی ملزم نابالغ واقعے کے وقت ساڑھے ستارہ سال کا تھا جسے جیونائل انصاف بورڈ نے اپنی زیادہ سے زیادہ تین سال کی سزا دی تھی۔ ایسے میں وہ بڑی سزا سے بچ گیا۔ بہرحال عرضی پر سماعت کے بعد جسٹس بی۔ ایس چوہان کی بنچ نے مرکزی خواتین و اطفال ترقی وزارت کو چارہفتے کے اندر اپنا جواب داخل کرنے کوکہا ہے۔ اس معاملے میں اہم ملزم کی عمر اس کے گاؤں کے اسکول پرنسپل کے سرٹیفکیٹ کے مطابق جرم کے وقت 18 سال سے چھ مہینے کم تھی اس لئے اس کا مقدمہ بچوں کی عدالت میں چلانا پڑا۔ اسکے بعد ممبئی کے مقبول ترین شکتی مل آبروریزی کانڈ میں بھی کم عمر کے جرائم پیشہ کے ملوث ہونے نے اس بحث کو طول دے دیا۔ ایسی اور بھی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ میرا تو ہمیشہ یہ خیال رہا ہے کہ جب ایک جرائم پیشہ شخص ایسے گھناؤنے واقعے کی پلانگ کرسکتا ہے اس پر عمل کرسکتا ہے جو بالغوں کی طرح ہوں ،وہ نابالغ کہاں رہ گیا؟ اس کی عمر کا جرم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ایک بالغ جرم ہے اور سزا بھی بالغوں جیسی ہونی چاہئے۔ ان واقعات کے پیش نظر سنگین جرائم کے معاملوں میں جیونائل کورٹ قانون پھر سے نظرثانی ضروری ہوگئی ہے۔ موجودہ قانو ن میں ترمیم ضروری ہے۔ خاتون و اطفال ترقی وزارت کی تجویز ہے کہ گھناؤنے جرائم کے معاملوں میں نابالغ کی عمر حد 18 سال کے بجائے16 سال طے کردی جائے۔ یہ قابل خیر مقدم تجویز ہے۔16 دسمبر کے واقعے کے بعد مرکزی حکومت نے جنسی تشدد سے متعلق قانون کے جائزے کیلئے سپریم کورٹ کے سابق جسٹس جے۔ ایس ورما کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی تھی۔ اسکی سفارشوں کی بنیاد پر آئی پی سی میں ترمیم کیلئے ایک آرڈیننس جاری کیا گیا اور پھرا س ترمیم کو بل کے ذریعے پارلیمنٹ میں منظوری ملی۔ بھارت میں ابھی تک18 سال سے کم عمر کے جرائم پیشہ کی وجہ سے کئی پریشانیاں کھڑی ہورہی ہیں۔ ایک مسئلہ تو یہ ہو رہا ہے کہ شاطر مجرم گروہ قتل یا ڈکیتی جیسے سنگین جرائم کے لئے بچوں کا استعمال سوچی سمجھی سازش کے تحت کرنے لگے ہیں کیونکہ اگر وہ پکڑے بھی گئے تو زیادہ سے زیادہ تین سال تک انہیں اصلاح گھر میں کاٹنے ہوں گے۔ پولیس کا کہنا ہے جرائم میں بچوں کا استعمال بڑھ رہا ہے بچوں کے اصلاحتی گھروں کی الگ پریشانیاں ہیں اس لئے کل ملاکر اس پیچیدہ اشو پر ملک گیر بحث ہونی چاہئے اور نابالغ کی عمر گھٹانے پر قانون میں ترمیم ضروری ہے۔
(انل نریندر)

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...