Translater

06 اکتوبر 2012

11 ویں استھی کلش و سرجن یاترا


دنیا میں وہ شخص خوش قسمت ہوتا ہے جس کے وارث اس کی آخری رسوم ادا کریں لیکن دنیا میں ایسے بھی لوگ ہیں جوسڑکوں پر مرجاتے ہیں ان کا انتم سنسکار تک کے لئے کوئی وارث نہیں ہوتا اور ہوتا بھی ہے وہ شمشان گھاٹ میں اپنے بزرگوں و ماں باپ کے انتم سنسکار تو کرجاتے ہیں لیکن کسی مجبوری کے چلتے ان کی استھیوں کو گنگا جی میں پرواہت نہیں کرواپاتے اور ان کو شمشان گھاٹ کے استھی اسٹور روم میں چھوڑ کر واپس تک نہیں لوٹتے ایسی ہی ہزاروں استھیاں دہلی۔ دیش کے دوسرے شمشان گھاٹوں میں رکھی تھیں اور ان کی ہو آتماؤں کو شانتی دلانے والا کوئی نہیں تھا لیکن کہتے ہیں کہ بھگوان کسی شخص کو فرشتہ بنا کر دنیا میں بھیج دیتا ہے ان لاوارث ہو آتماؤں کو مکتی دلا سکے۔ بھگوان نے ان کی مکتی کے لئے ایک نیک صفت انسان ویر ارجن پرتاپ کے ایڈیٹر شری انل نریندر جی کو اس نیک کام کیلئے توفیق بخشی۔ وہ 10 سال سے دہلی ۔ دیش ۔ پاکستان کے شمشان گھاٹوں میں رکھی لاوارث استھیوں کو گنگا جی میں پرواہت کرانے کی بے لوث سیوا میں لگے ہیں انہوں نے اس کے لئے ایک تنظیم شری دیواستھان سیوا سمیتی (رجسٹرڈ) بنائی جس کے صدر انل نریندر جی خود ہیں۔ اس کے تحت وہ اس نیک کام میں لگے ہیں۔ اب تک یہ سمیتی 11 ہزار سے زائد لاوارث استھیوں کو گنگا جی کے کنکھل ستی گھاٹ پر ہندو ریتی رواج کے ساتھ وسرجت کرچکے ہیں۔شری انل نریندر جی کہتے ہیں کہ اس نیک کام کی توفیق انہیں بھگوان نے بخشی ہے وہ اس کو پورا کرنے میں ذرا بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اب ان کی کوشش رہے گی آزاد ہند فوج کے لیڈر سورگیہ نیتا جی چندربوس کی جاپان میں رکھی استھیوں کو بھارت لاکر گنگا جی میں پرواہت کراسکیں۔ اس سلسلہ میں بھارت میں موجود جاپان کے سفیر کے ذریعے سرکار سے خط و کتابت کا سلسلہ جاری ہے اور امید جتائی ہے کہ وہ ایک دن اپنے مشن میں ضرور کامیاب ہوں گے۔5 اکتوبر شکروار کو11 ویں استھی کلش وسرجن یاترا میں شامل ہونے سے پہلے یہ عزم دوہرایا ہے ۔ وسرجن یاترا ہری دوار کے لئے روانہ ہوگئی ہے جہاں کل سنیچروار کی صبح ان4200 سے زائد استھیوں کا وسرجن ہندو ریتی رواج کے ساتھ کیا جائے گا۔
شری دیواستھان کے صدر شری انل نریندر جی کی اس دھارمک نیک کام کی سراہنا کے ساتھ اس میں سبھی کو سہیوگ دینا چائے تاکہ لاوارث ہو آتماؤں کو مکتی دلانے کا سلسلہ جاری رہ سکے۔

بیمہ۔ پنشن میں بھی غیر ملکی سرمایہ کاری کا فیصلہ


اقتصادی اصلاحات کو لیکر ملک بھر میں جاری وسیع بحث کے درمیان آئی وجے کیلکر کمیٹی کی رپورٹ ہندوستانی معیشت کے امکانی چیلنجوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ سرکاری بڑھتے مسلسل خسارے کوکم کرنے کے لئے قدم اٹھانے کی بھی سفارش کی گئی ہے اس میں خاص کر اجناس، تیل، گیس، سیکٹر میں لوگوں کو دی جارہی سبسڈی کرنے کی بات کہی گئی ہے لیکن غذائیت پر حکومت سبسڈی کم کرنے کے حق میں نہیں کیونکہ معاملہ سیدھے غریب آدمی سے جڑا ہے وہ خط افلاس کی نیچے کی زندگی بسر کررہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں سرکاری سبسڈی کا بیجا استعمال ہورہا ہے اور یہ ضروتمندوں تک نہیں پہنچ رہی ہے۔
موجودہ حالات میں ایک بات تو صاف ہے کہ ہندوستانی معیشت کو رفتار دینے کے لئے حکومت کو کئی سخت فیصلے لینے پڑے ہیں جس میں رسوئی گیس سلنڈر کی راشننگ اور امیروں یعنی صاحب حیثیت گھرانوں کو سبسڈی سے مستثنیٰ مہنگی قیمت880 روپے میں سلنڈر دینا شامل ہے۔ سرکار کی دلیل تھی کہ ایسا کرنا اس کی مجبوری بن گئی ہے کیونکہ سرکاری خزانہ پر کچلے تیل کے دام بڑھنے سے بھاری مالی بوجھ بڑھ رہا تھا اس لئے سرکاری خسارے میں کمی لانے کے لئے ایف ڈی آئی کو منظوری اور اب اس کے بعد بیمہ اور پنشن سیکٹر میں سرمایہ کاری حد26 فیصد سے بڑھا کر 49 فیصد کرنے کا سرکار کا فیصلہ بولڈ قدم مانا جاسکتا ہے اس سیکٹر میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے ملک کے شہریوں کو منافع بھی زیادہ ملے گا۔
حکومت نے خوردہ بازار،ڈیزل کے داموں میں اضافہ جیسے اشوز پر اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود اپنے بڑھادئے ہیں ان سے صاف اشارہ ہے کہ حکومت اپنے اقتصادی اصلاحات کے ایجنڈے کو رفتار دیکر جارحانہ مہم چلانے کے حق میں ہے۔ حکومت نے2012-17 کے لئے 12 ویں پانچسالہ منصوبے کو منظوری دیے ہوئے عالمی مندی کو دیکھتے ہوئے اس نے9 فیصدی طے کردہ اقتصادی ترقی شرح کو8.2 فیصد سالانہ کے حساب سے رکھا ہے۔
ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا درمیانے درجے کے شہریوں کا بازار ہے پنشن فنڈ کا استعمال شیئر بازار میں ہونے سے یہ مسلسل خطرے میں رہے گا۔ بیمہ کمپنیوں میں غیر ملکی ساجھیداری ہونے سے عام جنتا کے پیسے کی واپسی کی گارنٹی بھی غیر ملکی رحم و کرم پر رہے گی مگر اس کا سب سے بڑا فائدہ امریکہ کی بیمار کمپنیوں سے لیکروہاں کی سست پڑی معیشت میں تازگی لانے کے ساتھ ہر امریکیوں کو روزگار مہیا کرانے میں ہوگا جبکہ پورا یوروپ مندی کے بحران میں پھنسا ہوا ہے۔
یوپی اے سرکار سے ترنمول کانگریس کے باہر جانے کے بعد سرکار کے فیصلوں کے خلاف اپوزیشن کی سڑک سے لیکر پارلیمنٹ تک مورچہ بندی کے بعد کانگریس صدر سونیا گاندھی نے سامنے آکر فیصلوں کی حمایت کی ہے اس سے سرکار کو مضبوطی ملی ہے۔
حکومت نے خوردہ بازار اور بیمہ، پنشن سیکٹر میں ایف ڈی آئی کو منظوری دینے کے فیصلے سے منموہن سرکار نے صاف اشارہ دے دیا ہے کہ اب وہ ان سے پیچھے ہٹنے والی نہیں ہے اور ضرورت پڑنے پر وہ جنتا کے بیچ جائے گی سرکار کو لگتا ہے کہ پنشن، بیمہ سیکٹر میں49 فیصد تک ایف ڈی آئی کے فیصلے کو پارلیمنٹ میں این ڈی اے کے ساتھ لیفٹ ترنمول کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے شاید یہ فیصلے لٹک جائیں کیونکہ لوک سبھا میں سپا، ترنمول کی مخالفت ہوئی تو نمبروں کی تعداد کم ہونے سے بیمہ ، پنشن بل کا پاس ہونا مشکل لگتا ہے۔اس پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے کانگریس کو لوک سبھا چناؤ میں عوام کے سامنے ان پارٹیوں کے رویہ کو سامنے رکھنے کا موقعہ ملے گا بہرحال حکومت نے اپنی اقتصادی اصلاحات کو رفتار دینے ک یلئے سخت قدم اٹھانے بارے کوئی رعایت نہ برتنے کا اشارہ دیا ہے مگر اب سرکار کو بیمہ، پنشن بلوں کو منظٰری کے ئے کڑی اگنی پریکشا سے گذرنا ہوگا۔

05 اکتوبر 2012

سونیا گاندھی کے غیر ملکی دوروں پر خرچے1880 کروڑ رپر واویلا


گجرات میں چناوی بگل بج چکا ہے۔اسمبلی چناؤ دو مرحلوں میں ہونے ہیں۔182 سیٹوں کے لئے13 اور 17 دسمبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ گنتی20 دسمبر کو ہوگی۔ چناؤ کے اعلان سے ٹھیک پہلے نریندر مودی نے کانگریس صدر سونیا گاندھی پر زبردست حملہ کیا ہے۔ سونیا کے گجرات دورہ سے پہلے مودی کی سیاسی ترپ چال کی وجہ سے یہاں کے سیاسی ماحول میں طوفان آگیا ہے۔ مودی نے دعوی کیا ہے کہ سونیا گاندھی کے علاج کے لئے غیر ملکی دوروں میں 1800 کروڑ روپے سے زیادہ مرکزی حکومت نے خرچ کئے ہیں۔ ساتھ ہی مودی نے یہ بھی کہہ دیا اگر ان کی معلومات غلط ہوں تو وہ پبلک طور پر سونیا گاندھی سے معافی مانگ لیں گے لیکن وہ اس سوال پر قائم ہیں دیش کو یہ جاننے کا حق ہے کہ سونیا گاندھی کے علاج پر کتنا پیسہ خرچ ہوا؟ مودی نے کہا کہ12 جولائی کو ایک اخبار میں شائع رپورٹ کی بنیاد پر انہوں نے یہ دعوی کیا ہے۔ مودی کے مطابق یہ رپورٹ اطلاعات حق قانون کے تحت ہریانہ کے حصار میں ایک نوجوان آر ٹی آئی رضاکار رمیش ورما کی عرضی پر سرکار سے ملی معلومات پرمبنی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اب تک سرکار یا سونیا گاندھی نے اس رپورٹ کی تردید نہیں کی ہے۔ مودی نے مرکز پر برستے ہوئے سوال اٹھایا کیا یہ رقم سرکاری خزانے سے خرچ نہیں کی گئی تھی؟ اس رقم سے تو ہم پورے گجرات ریاست کے لئے بجلی پیدا کرسکتے تھے۔ آر ٹی آئی رضاکار رمیش ورما کو آر ٹی آئی کے ذریعے سونیا گاندھی کے علاج کی جو تفصیل ملی ہے اس کے مطابق 7 غیر ملکی دوروں کے وقت خاطر داری پر ہندوستانی سفارتخانے نے قریب80 لاکھ روپے خرچ کئے۔ جوہانسبرمیں1406650 روپے، لندن 3 اکتوبر 2007 ،282913 ،(15 سے26 مارچ) 2011، لندن3591970 روپے، بروسیلز(9 سے12 نومبر2006 ) 8573 روپے، میونخ (8 سے10 جون 2007) 39384 روپے، شنگھائی(29 اکتوبر 2007 )1414573 اور بیجنگ (7 سے 9 اگست 2008 ) 1257793 ۔کانگریس نے مودی کے الزامات کا ابھی تک کوئی سیدھا جواب نہیں دیا لیکن سونیا گاندھی نے اپنی ریلی میں اتنا ضرور کہا کہ وہ مودی کے کسی بیان کا جواب دینا نہیں چاہئیں گی۔ ادھر کانگریس جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ نے مودی پر حملہ کرتے ہوئے ان کا موازنہ ہٹلر کے پروپگنڈہ وزیر گوئبلس سے کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس نے مودی کو نازی اسٹائل میں تربیت دی ہے اور وہ گمراہ کن پروپگنڈہ کرنے کے ماہر ہیں۔ دگوجے نے ٹیوٹر پر لکھا ہے کہ سنگھ اپنے رضاکاروں کوٹریننگ دیتا ہے کہ جھوٹ بولو، ضرور ضرور سے بولو اور بار بار بولو۔ کیا اس سے گوئبلس کی یاد نہیں آتی۔ خود سونیا گاندھی نے بدھوار کو گجرات کے راجکوٹ میں اسمبلی چناؤ کا بگل بجاتے ہوئے وزیر اعلی نریندر مودی اور بھاجپا پر تابڑ توڑ حملے کئے۔ کانگریس صدر نے مہنگائی اور کرپشن و خوردہ بازار میں ایف ڈی آئی جیسے اشوز پر منموہن سرکار کا بچاؤ کیا لیکن اپنے غیر ملکی دورے پر سرکاری خزانے سے1880 کروڑ روپے خرچ کئے جانے سے متعلق مودی کے الزامات سے کنارہ کرلیا۔ اپنی تقریر میں سونیا نے مودی کا سیدھا نام تک نہیں لیا۔ ریٹیل مسئلے کا ذکر کرنے کے بعد انہوں نے کہا جب ہم دیش کے مفاد میں قدم اٹھاتے ہیں تو ہمارے اوپر طرح طرح کے حملے ہوتے ہیں۔ ہم نے پہلے کبھی بھی اس کی پرواہ نہیں کی ہے اور نہ آگے کریں گے۔
(انل نریندر)

سری پرکاش جیسوال کی پھر پھسلی زبان اس بار برے پھنسے


مرکزی حکومت میں وزیر کوئلہ سری جے پرکاش جیسوال اپنے متنازعہ بیانات کے لئے مشہور ہوچکے ہیں۔ کوئلہ الاٹمنٹ گھوٹالے میں حریفوں کی چوطرفہ مخالفت جھیل رہے جیسوال کی زبان پھر پھسل گئی اور ایک نئے بونڈر میں پھنس گئے۔ اپنی سالگرہ پر سنیچر کو کانپور کے ایک کوی سمیلن میں جیسوال کہہ گئے کہ جیسے جیسے وقت گذرتا ہے بیوی پرانی ہوجاتی ہے،پھر وہ مزہ نہیں رہتا۔ منتری جی کا تبصرہ عورتوں کوبہت ناگوار گزرا۔مایوس عورتوں نے منگلوار کو سڑکوں پر اتر کر جیسوال کے پوسٹر پر سیاہی پوت دی اور’ مردہ باد ‘کے نعرے لگائے۔ سری پرکاش کا پتلا جلانے کے بعد اعلان کیا گیا انہیں کیبنٹ سے باہر نہ نکالا گیا تو ملک گیر تحریک چھیڑی جائے گی۔ ان کا یہ بیان عورت سماج پر حملہ ہے۔ خواتین تنظیموں نے اس پر سخت ناراضؑ ی ظاہر کرتے ہوئے کہا اتنے بڑے عہدے پر بیٹھے جیسوال کے منہ سے ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں۔ یہ شادی جیسے مقدس رشتے اور شادی شدہ عورتوں پر ایک طریقے سے چٹکی ہے۔ آکانکشا ناری سیوا سمیتی نے کہا منتری جی بتائیں کہ مزے سے ان کا کیا مقصد ہے؟غور طلب ہے کہ قدوائی نگر میں واقع گرلز کالج میں کوی سمیلن میں سری پرکاش جیسوال بولے ’چاہتے تھا ایک دو گھنٹے کا وقت پاس ہوجائے اور پاس ہوگیا اور اس کا نتیجہ بھی اچھا رہا کے بھارت جیت گیا (ٹی20-) اور لوگ خوش ہیں۔ نئی نئی جیت اور نئی نئی شادی دونوں کی الگ الگ اہمیت ہوتی ہے۔ جیسے جیسے وقت گذرتا ہے جیت پرانی ہوتی جاتی ہے ویسے ویسے وقت گذرتا ہے تو بیوی پرانی ہوتی جاتی ہے کیونکہ جیت کا وہ مزہ نہیں رہتا۔ یہ سن کر وہاں بیٹھے سامی اور شاعر بھی سناٹے میں آگئے۔ کانا پھونسی تو اسی وقت سے شروع ہوگئی کہ منتری یہ کیا کہہ گئے؟ ایک عورت کا تبصرہ تھامزہ اس کا مطلب تو منتری جی ہی سمجھا دیں، ایسی اوچھی، خراب باتیں کرنا کسی نیتا کو زیب نہیں دیتا۔ ایسے الفاظ بول کر انہوں نے اپنی عزت کم کردی ہے۔ جب نیتاؤں کی یہ سوچ ہوگی تو سماج کو وہ کیسے بدلیں گے اس کا تو ایشور ہی مالک ہے۔۔۔اپنے اس خیر مقدمی پروگرام میں سبھی بڑے لوگ موجود تھے کسی نے ان کی مخالفت تک نہیں کی۔ کیا سبھی کا دماغ ایک جیسا چلتا ہے۔ سابق ایم پی سبھاشنی علی نے کہا کہ ایسا غیر ذمہ دار آدمی مرکزی کیبنٹ میں نہیں ہوناچاہئے۔ زندگی میں بیوی کا کیا کردار ہوتا ہے بیان دینے سے پہلے اس پر غور ہی نہیں کیا تو میں کہتی ہوں کہ مسز جیسوال سے بھی پوچھنا چاہئے کہ وہ کیسا محسوس کررہی ہیں جیسے سیاستدانوں کی عادت ہوتی ہے اسی طرح سری پرکاش جیسوال سارا الزام میڈیا پر مڑھ گئے اور کہا ان کی باتیں توڑ مروڑ کر اور مواد سے ہٹ کر رکھی گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے ان کی بات بھارت۔ پاک کی جیت کے سلسلے میں کہی گئی تھی جبکہ اسے اس سلسلے سے ہٹا کر دیکھا گیا۔ انہوں نے کہا وہ عورتوں کی بے عزتی کے بارے میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتے۔ ان کی بات کو کاٹ چھاٹ کر دکھایا گیا ہے اگر پھر بھی کسی کو ٹھیس پہنچی ہے تووہ معافی مانگتے ہیں۔
(انل نریندر)

04 اکتوبر 2012

سی اے جی کوئی منیم نہیں جو صرف حکومت کا اقتصادی چٹھابنائے


آئینی تقاضوں کے ذریعے بھارت کے کمپٹرولر آڈیٹر جنرل یعنی کیگ جیسے ادارے کا قیام سرکاری کام کاج میں مالی شفافیت اور جوابدہی یقینی کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔ یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ حال ہی میں کیگ کے وقار کو ٹھیس پہنچانے کیلئے اس پر کچھ وزرا نے سیدھے حملے کئے ہیں۔ اس پہلو سے سپریم کورٹ کا تازہ تبصرہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوجاتا ہے۔ عدالت ہذا کو سادھو واد کے اس نے کمپٹرولر آڈیٹر جنرل یعنی کیگ کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرنے والی ایک مفاد عامہ کی عرضی کو نہ صرف خارج کردیا بلکہ یہ بھی صاف کردیا کہ اس آئینی ادارے کو سرکاری فیصلوں کے جواز اور ان کی اصلیت کی جانچ کرنے کا پورا اختیار ہے۔ سی اے جی کے کام کاج کو جائز قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے پیر کو کہا تھا کہ سی اے جی کوئی منیم نہیں جو صرف حکومت کے کھاتوں کا اقتصادی دستاویز تیار کرے۔ سی اے جی ایک آئینی ادارہ ہے جس کا فرض وسائل کے صحیح استعمال کو دیکھنا ہے۔ یہ پارلیمنٹ کا کام ہے کہ وہ سی اے جی کے نتیجوں کو مانے یا پھر اسے نا منظور کردے۔ جسٹس آر ایم لوڈھا و جسٹس اے آر دوے کی ڈویژن بنچ نے یہ ریمارکس کیگ کے اختیار کو چیلنج کرنے والی عرضی کو خارج کرتے ہوئے دئے تھے۔ عرضی میں کوئلہ بلاک الاٹمنٹ پر پیش رپورٹ پر سوال اٹھایا گیا تھا۔ امید کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے ریمارکس سے اس ٹال مٹول والی سرکار کی آنکھیں کھلیں گی۔ پچھلے دنوں مرکز کے کئی وزرا نے سی اے جی کی رپورٹ پر سوال اٹھائے تھے۔ انہوں نے رپورٹ آتے ہیں اسے بے جواز ٹھہرانے میں ذرا بھی دیر نہ لگائی۔ یہاں تک کہ سی اے جی پر سیاسی نظریئے سے ترغیب پاکرکام کرنے تک کا الزام لگایا۔اور بھی تکلیف دہ بات یہ ہے کہ خودوزیراعظم کا رویہ اس سے الگ نہیں تھا۔ یہ سب اس لئے کیا گیا کیونکہ منمانے طور پر الاٹمنٹ سے ہوئے نقصان کا جو تجزیہ سی اے جی نے پیش کیا ہے وہ سرکار اور کانگریس کے لئے ایک بڑی سیاسی پریشانی کا سبب بن گیا۔ سی اے جی نے اپنی رپورٹ میں صاف کہا اس جس پر وہ اب بھی قائم ہے منمانے الاٹمنٹ سے 1 لاکھ86 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ کانگریس کے سینئر وزیر تو سی اے جی پرحملہ بول رہے تھے لیکن خود وزیر اعظم نے بھی اس آئینی ادارے کو غلط ٹھہرانے کی کوشش کی۔ کوئلہ بلاک الاٹمنٹ معاملے میں سی اے جی کی رپورٹ اتھانٹک ہے یا نہیں یہ پارلیمنٹ کی پی اے سی پر چھوڑ دینا چاہئے۔ جب سی اے جی کی تشکیل ہوئی تھی تب سے محصول اور سرکاری اخراجات کا دائرہ کافی بڑھا ہے۔ یہ ہی نہیں دھاندلیوں کی شکایتیں بھی بڑھی ہیں ایسے میں یہ دیکھنا اور بھی ضروری ہوگیا ہے کہ سرکار پیسے کا استعمال شفافیت کے ساتھ اور سوجھ بوجھ اور مفاد عامہ کے تقاضوں کے حساب سے ہورہا ہے یا نہیں یہ کردار آئین نے سی اے جی کو سونپا ہے۔ وقت کی ضرورت تو سی اے جی کے اختیارات کوبڑھانے کی ہے۔ فی الحال تو بہتر یہ ہی ہوگا کہ اس آئینی ادارے کے ساتھ گمراہ کن پروپگنڈہ کرنے سے باز آئیں۔
(انل نریندر)

جنتر منتر پرممتا کے ایک تیر سے کئی نشانے

ملٹی برانڈ خوردہ سیکٹر میں ایف ڈی آئی کی لڑائی بڑھتی جارہی ہے اور ممتا اب تو سڑکوں پر آگئی۔ترنمول کانگریس کی لیڈر ممتا بنرجی نے اس اشو اور مہنگائی کو لیکر دہلی میں اپنا پہلا دھرنہ دیا۔ جنترمنتر پر منعقدہ ریلی میں انہوں نے ایک تیر سے کئی نشانے لگانے کی کوشش کی ہے۔ ممتا کے نئے داؤ سے نہ صرف کانگریس کے لئے بلکہ بھاجپا کے لئے بھی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں۔ چار گھنٹے تک جاری اس دھرنے میں بنگلہ سے آئے نیتا پس منظر میں پیچھے ہی رہے۔ فوکس پر دوسرے نیتا رہے۔ اترپردیش سے چنے گئے واحد ٹی ایم سی کے ممبر اسمبلی شیام سندر شرما، منی پور سے آئی ٹی ایم سی کی لیڈر کم اور ہریانہ سے آئے لیڈروں پر زیادہ توجہ رہی۔ خود ممتا نے کہا کہ وہ دہلی کی لڑائی دہلی کے لوگوں کے ساتھ مل کر لڑیں گے۔ وہ اپنی پارٹی کو قومی شکل دینے میں لگی ہوئی ہیں۔ ممتا کی یہ بات کافی اہم ہے۔ماں ماٹی اور مانش کی لڑائی بنگال تک محدود نہیں رہی۔ اس طرح انہوں نے اپنے آپ کو بطور ایک قومی لیڈر کی شکل میں پروجیکٹ کرنے کی کوشش کی ہے۔ خاص بات تو یہ تھی کہ سبھی نیتاؤں نے ہندی میں بات کی کیونکہ ہندی لوگوں کو جوڑنا ہے۔ ریلی میں ممتا نے ایک اور داؤ بھی چلا۔ تیسرے مورچے کی حسرت کو نئے پنکھ لگانے کے اشارے دئے۔ یوپی اے سے الگ ہونے کے بعد وہ ملائم سنگھ یادو، نوین پٹنائک، جے للتا و نتیش کمار کو ایک اسٹیج پر لانے میں لگی ہیں۔ اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے نومبر میں لکھنؤ میں ہونے والی بڑی تحریک کے دوران ملائم سنگھ موجود رہیں گے۔ انہوں نے پٹنہ میں بھی پروگرام منعقد کرنے کی بات کہی ہے۔ حالانکہ دھرنے میں شرد یادو بھی موجود تھے لیکن انہوں نے ممتا سے جڑنے کے بارے میں فی الحال کوئی اشارہ نہیں دیا۔ ممتا کی نیت صاف ہے وہ غیر کانگریس، غیر بھاجپا مورچہ بنانا چاہتی ہیں اور اس کوشش سے دونوں کانگریس ۔ بھاجپا کے لئے اچھے اشارہ نہیں مانے جاسکتے۔ ممتا بنرجی نے ہوشیاری سے اس بات کا خیال رکھا ہے کہ بھاجپا کے ساتھ جڑی مسلم مخالفت کا داغ ان پر نہ لگے۔ ممتا بنرجی کی کوشش یہ بھی لگتی ہے کہ اگر اگلے چناؤ میں غیر کانگریس غیر بھاجپا پارٹیوں کو اکثریت ملتی ہے اور کسی قسم کا اتحاد بنتا ہے تو اس کی قیادت ان کے پاس ہی رہے۔ بدقسمتی یہ ہے ملائم سنگھ یادو بھی اسی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ملائم لیفٹ پارٹیوں کی حمایت لے رہے ہیں اور لیفٹ اور ممتا ایک ساتھ کبھی نہیں آسکتے۔ یوپی اے کے پچھلے عہد میں لیفٹ پارٹیوں نے امریکہ کے ساتھ نیوکلیائی معاہدے کے خلاف احتجاج میں سرکار سے حمایت واپس لے لی تھی اور اس بار اتفاق سے مغربی بنگال کی پارٹی ترنمول کانگریس نے ایف ڈی آئی پر حمایت واپس لی ہے۔ دونوں وقت یہ ہی امید تھی کہ مغربی بنگال میں حکمراں لیڈر مرکز میں کانگریس کو اپنا کام کرنے دیں گے بدلے میں مغربی بنگال کے لئے زیادہ سے زیادہ رعایتیں پانے کی کوشش کریں گے۔ کسی وقت دیش کا خوشحال راجیہ مغربی بنگال اس وقت پسماندہ ریاستوں کی قطار میں شامل ہوچکا ہے اور اسے ترقی کے راستے پر لانے کیلئے مرکزی سرکار کے فراخ دلانہ تعاون کی ضرورت ہے اور ممتا کے تازے موقف سے یہ مقصد کتنا پورا ہوگا اس میں شبہ ہے۔ دھرنے میں ممتا نے وزیر اعظم پر سیدھا حملہ کرتے ہوئے کہا کہ منموہن سنگھ عام آدمی کو بھول چکے ہیں۔ اصلاحات کے نام پر ایف ڈی آئی اور ڈیزل کے قیمتوں میں اضافے کے فیصلوں پر جنتا کو لوٹا جارہا ہے۔ اگر سرکار کو پیسہ چاہئے تو بیرونی ممالک میں جمع کئی لاکھ کروڑ کالا دھن واپس لائیں۔ دلچسپ یہ بھی ہے ادھر ممتا دہلی میں اپنی طاقت دکھا رہی تھیں ٹھیک اسی وقت کولکتہ میں مارکس وادی پارٹی اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے میں لگی تھی۔ مغربی بنگال میں قانون و انتظام اور قیمتوں میں اضافے کے خلاف نارتھ 24 پرگنہ ضلع کے دھرم تلئی گاؤں میں مارکسوادی پارٹی نے ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کی بھیڑ جمع کرکے اپنی طاقت دکھائی۔
(انل نریندر)

02 اکتوبر 2012

Facebook Password Change

Hey Syed,

You recently changed your Facebook password on October 2, 2012 at 3:21pm.
As a security precaution, this notification has been sent to all email addresses associated with your account.

If you did not change your password, your account may have been the victim of a phishing scam.
Please follow the link to regain control over your account:
https://www.facebook.com/checkpoint/checkpointme?u=100001267207663&n=ychI5uw1

Your password was changed from the following location:
Delhi, DL, IN (IP=59.176.39.214)

Thanks,
The Facebook Team

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...