Translater

31 مارچ 2012

پاکستان میں، ہندو۔ شیعہ اور عیسائی سمیت اقلیتیں نشانے پر ہیں



Published On 31 March 2012
انل نریندر
پاکستان میں لا اینڈ آرڈرکے حالات خراب ہوتے جارہے ہیں۔ بدامنی کا عالم یہ ہے کہ آدمی صبح گھر سے نکلے تو اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کے رات کو واپس وہ صحیح سلامت لوٹ سکے۔ نامعلوم بندوقیچیوں نے منگل کو کراچی شہر میں متحدہ قومی موومنٹ کے لیڈر اور ان کے بھائی کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ اس کے بعد شہر میں تشدد بھڑک اٹھا۔ فسادیوں نے درجنوں گاڑیوں کو آگ کے حوالے کردیا اور تین افراد مارے گئے۔ ایم کیو ایم کے لیڈر منصور مختار کے گھر میں گھس کر ان کو گولیوں سے بھونا گیا ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر صغیر احمد نے قتل کے لئے امن کمیٹی ذمہ دار مانا ہے جو مبینہ طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈروں سے وابستہ ہے۔مہاجروں اور دیگر اقلیتوں جن میں ہندوستانی نژاد لوگ بھی شامل ہیں، اکثر نشانہ بنتے ہیں۔ ایتوار کی رات کو کراچی کے کلکٹن علاقے میں ایک مشاعرہ ہورہا تھا۔ اس میں ہندوستان کے جانے مانے شاہر منظر بھوپالی اور اقبال اشعر بھی شامل تھے۔ مشاعرے کی جگہ پر نامعلوم بندقچیوں نے حملہ کردیا۔ حملے میں خدا کے شکر سے ہندوستان کے دونوں شاعر بال بال بچ گئے۔ منظر بھوپالی نے بچایا کے جب ایتوار کی رات کو مشاعرے کی جگہ کے باہر وہ کھڑے تھے تب ہی اندر سے گولیاں چلنے کی آواز آنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں دہشت کا ماحول بن گیا۔ لوگ جان بچانے کے لئے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ انہیں پولیس نے موقعہ واردات سے صحیح سلامت باہر نکالا۔ کراچی کے اس مشاعرے کو ایم کیو ایم کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا۔ پاکستان انسانی حقوق کمیشن کا بھی کہنا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کی حالت مسلسل خراب ہوتی جارہی ہے اور وہ اپنی سلامتی کو لیکر کافی فکرمند ہیں۔ اپنی 2011ء کی سالانہ رپورٹ میں اس نے بتایا ہے کہ پچھلے سال 389 اقلیتی طبقے کے لوگوں کو مارا گیا ان میں 100 کے قریب شیعہ بھی شامل تھے۔رپورٹ کے مطابق جن لوگوں کا قتل کیا گیا ان میں سب سے زیادہ شیعہ فرقے کے تھے۔ احمدی فرقے بھی تشدد کا شکار ہورہے ہیں۔ کمیشن کا کہنا ہے پاکستان میں اقلیتی فرقہ خاص کر ہندو اپنے آپ کو بہت غیر محفوظ محسوس کررہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پچھلے سال کئی ایسے واقعات ہوئے ہیں جس میں ہندو فرقے پر تشدد برپا کیا گیا اور انہیں دھمکیاں دی گئیں جبکہ ہندو لڑکیوں کے اغوا اور زبردستی شادی کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ ہندو فرقے کے 150 سے زائد لوگوں کو بھارت کی پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ ان ہندوؤں نے بھارت کے حکام سے کہا ہے اگر انہیں پاکستان واپس بھیجا گیا تو ان کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ لگتا ہے کہ پاکستانی سماج میں قوت برداشت ختم ہورہی ہے۔ رپورٹ میں ایک مثال بھی دی گئی ہے کے ایک معاملے میں آٹھویں جماعت کی ایک طالبہ پر شریعت کی بے حرمتی کا الزام لگایا گیا ۔ وہ بھی محض اس لئے کیونکہ وہ ایک لفظ کا مطلب صحیح سے نہیں ادا کر پائی۔رپورٹ میں عزت کے نام پر خواتین کے قتل کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ معلومات بھی فراہم کی گئی ہیں کہ پچھلے سال قریب943 عورتوں اور لڑکیوں کو عزت کے نام پر قتل کیا گیا۔ مرنے والی عورتوں میں 7عیسائی اور2 ہندو بھی شامل تھیں۔
پاکستان میں انسداد بے حرمتی شرعی قانون کی وجہ سے کئی ایسے لوگ زیادتیوں کا شکار ہیں جنہوں نے دو دہائیوں میں اپنے دیش چھوڑ کر بیرونی ممالک میں پناہ لی ہوئی ہے۔ انہی لوگوں میں ایک شخص جے جے جارج ہے جنہیں ایش نندا قانون کی وجہ سے 2007ء میں پاکستان چھوڑ کر فرانس میں بسنا پڑا۔ وہ ایک کامیاب وکیل تھے اور پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن کے مختلف امور پر قانونی صلاح دینے کا کام کیا کرتے تھے۔ 2002ء میں جب انہوں نے محمود اختر نام کے ایک قادیانی نوجوان کا مقدمہ لڑا تو انہیں طرح طرح کی دھمکیاں دی گئیں۔ ان سے کہا گیا کہ وہ یا تو وکالت چھوڑ دیں یا پھرملک چھوڑدیں یا محمود اختر کا مقدمہ چھوڑدیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے حالات شروع سے ایسے نہیں تھے۔ 1986ء میں ایش نندا قانون کے بننے کے بعد حالات تیزی سے خراب ہوئے ہیں۔ جے جے جارج نے بتایا کہ ایش نندا قانون کی وجہ سے عیسائی فرقے کے لوگوں کو سب سے زیادہ مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ کسی بھی شکایت پر بغیر ثبوتوں کے غورکئے دو لوگوں کی گواہی کی بنیادپر قصوروار ٹھہرادیا جاتا ہے۔ آج پاکستان میں ہندو۔ شیعہ اور عیسائی سمیت دیگر اقلیتیں جتنی غیر محفوظ ہیں وہ پہلے کبھی نہیں تھیں۔
Anil Narendra, Christian, Daily Pratap, MQM, Pakistan, Pakistani Hindu, PPP, Shia, Vir Arjun

جنرل وی کے سنگھ کے خط نے کھڑے کئے سوال



Published On 31 March 2012
انل نریندر
زمینی فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ کے ذریعے وزیر اعظم کو لکھے خط جس میں بتایا گیا ہے کہ ہماری سکیورٹی فورس کے پاس ہتھیاروں کی کمی ہے۔ گولہ بارود وغیرہ کی کمی ہے، نے کئی سوال کھڑے کردئے ہیں۔ کیا جنرل کو ایسا خط لکھنا چاہئے تھا؟کیا ریٹائرمنٹ سے پہلے یہ خط لکھنے کا صحیح وقت تھا؟ یہ خط کس سے اور کیوں افشاں کرایا گیا؟ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ یہ ہیں کچھ سوالات جو آج زیربحث ہیں۔ جہاں تک جنرل کا خط ہے تو میں سمجھتا ہوں کے اگر زمینی فوج دیش کے وزیر اعظم کو یہ فوکس کرنا چاہتی ہے کہ ان کی لچر پالیسیوں اور بے قاعدگیوں کے سبب ہماری فوج میں ضروری سامان کی سپلائی نہیں ہورہی ہے اور اگر جنگ ہوتی ہے تو ہم اسے جیت نہیں سکتے، تو اس میں غلط کیاہے؟ کیا فوج کے سربراہ کو یا سیاستدانوں کو بتانا نہیں چاہئے کہ ہندوستانی فوج کی صلاحیت سے سمجھوتہ کیوں کیا جارہا ہے اور اگر اس کمی کو بلا تاخیر دور نہیں کیا گیا تو یہ فوج کے لئے خطرناک ہوگا۔ جہاں تک اس خط کے لکھنے کے وقت کی بات ہے جنرل کی عمر کے تنازعے کے بعد لکھنے سے تھوڑی سی بد نیتی کی بو ضرور آتی ہے۔ کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں کیونکہ حکومت نے جنرل کی عمر میں ان کی مخالفت کی تھی اس لئے جنرل نے بدلے کے جذبے سے یہ خط لکھا ہے۔ سب سے اہم سوال جو ہے وہ یہ کہ خط کس نے آؤٹ کیا ہے؟ یہ خط یا تو فوج سے لیک ہوسکتا ہے یا پھر وزیر اعظم کے دفتر سے۔ مجھے نہیں لگتا کہ جنرل نے خود اسے افشاں کیا ہوگا۔ مجھے شبہ پی ایم او پر ہے۔ اکثر پی ایم او سے خفیہ دستاویزات افشاں ہوتے رہتے ہیں۔ ٹوجی گھوٹالے میں بھی کئی دستاویزات وزیر اعظم کے دفتر سے لیک ہوئے۔ رپورٹ ہے کہ جنرل نے یہ خط چین کی بڑھتی فوجی طاقت کو لیکر لکھا تھا؟ خط میں سیدھے طور پر چین کی تیاریوں کے مقابلے بھارت کی تیاریوں کو دکھایا گیا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت کی ڈیفنس مشینری کے جدیدی کرن پر نوکرشاہی اڑنگے ڈال رہی ہے۔ جنرل سنگھ نے لکھا ہے مختار تبت علاقے میں چین کھلے عام تعمیرات کا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہیں ہندوستانی فوج کی موجودگی تسلی بخش نہیں ہے۔ بھارت کی فوجی تیاریاں کھوکھلی ہیں۔ فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ ہم چین کے سامنے طاقت کے حساب سے کہیں کھرے نہیں اترتے اور پاکستان کو ہم آج بھی ہرانے کی پوزیشن میں ہیں۔ ویسے فوجی سامان کی سپلائی میں فوجی حکام کا بھی قصور کم نہیں ہے۔ جنرل کے خط سے یہ تو صاف ہوہی گیا ہے کہ کئی فوجوں کے افسر بطور کمیشن ایجنٹ کام کررہے ہیں۔ اب ڈسپلن کی کمی ہے مشقوں میں اتنا گولہ بارود کیوں برباد کیا گیا؟ 1971ء کے بعد سے ہماری فوج نے کوئی بڑی جنگ نہیں لڑی اس لئے صحیح معنی میں ہمیں اپنی فوجوں کی تازہ حالت کی صحیح معلومات نہیں ہے۔ جنرل سنگھ پچھلے کئی مہینے سے اپنی عمر کے تنازعے میں لگے ہوئے ہیں۔ انہیں فوج کی تیاری کی فکر نہیں ہے ، کیا جنرل سنگھ نے یہ مزائل اس لئے تو نہیں داغی کے یوپی اے سرکار ڈیفنس بجٹ پر پوری توجہ دے رہی ہے اور فوجی سازو سامان کی سپلائی کو ترجیح دے۔ جو کچھ بھی ہو لیکن یہ دیش کے لئے اچھا نہیں ہے اور نہ ہی ہماری فوجوں کے لئے اچھے اشارے ہیں کہ ہماری تیاریاں پچھڑ چکی ہیں۔ تازہ جانکاری کا دیش کے دشمن زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ سرکار اور فوج کے چیف میں اتنی خلیج بھی دیش کے مفاد میں نہیں ہے اس لئے میں یہ سوال پوچھتا ہوں کہ کیا جنرل سنگھ جھوٹ بول رہے ہیں؟ کیا فوجی سازو سامان کی سپلائی کافی نہیں ہے؟ کیا پی ایم او سے یہ خط افشاں ہوا ہے؟ جواب ہے جزوی طور سے یہ سبھی صحیح نہیں ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, General V.k. Singh, Indian Army, Manmohan Singh, Prime Minister, Vir Arjun

30 مارچ 2012

اور اب ’’طلاق ‘‘بھی فوراً



Published On 30 March 2012
انل نریندر
منموہن سنگھ سرکار کی کیبنٹ نے ہندو شادی ایکٹ قانون میں ترمیم کو منظوری دے دی ہے۔ ہندوؤں میں طلاق لینے کا قانونی عمل اب آسان ہوجائے گا۔اس کے تحت اب ججوں کے لئے طلاق کا فیصلہ دینے سے پہلے18 ماہ کی دوبارہ غور کرنے کی مدت کا وقت ختم ہوجائے گا۔فیصلے کے مطابق سنوائی کے دوران جج کو اگر لگتا ہے کہ شادی بچانا مشکل ہے تو وہ طلاق کا فیصلہ فوراً سنا سکتا ہے۔ابھی موجودہ حالات میں آپسی رضامندی کے طلاق معاملے میں کورٹ 18 ماہ کا وقت پھر سے سوچنے کے لئے میاں بیوی کو دیتا ہے۔ اب یہ وقت دینا جج کے لئے ضروری نہیں ہوگا۔ اور اگر انہیں لگے کے شادی کو بچایا نہیں جاسکتا اور میاں بیوی کے درمیان اتنی گہری درار آچکی ہے جو بھری نہیں جاسکتی تو وہ دوبارہ غور کرنے کی مدت کو ختم کرسکتا ہے۔اسی کے ساتھ ایک اور دور اندیش فیصلہ کیا گیا وہ یہ کہ شادی کے بعد خریدی گئی شوہرکی جائیداد میں عورت کا حصہ طے ہوگا۔شوہر کی جائیداد میں حق دینے کے علاوہ میرج ایکٹ (ترمیم )بل 2010ء کا مقصد گود لئے بچوں کو، والدین سے جنمے بچوں کے برابر حق دلانا بھی ہے۔
دراصل دو سال پہلے راجیہ سبھا میں یہ بل پیش ہوا تھاپھر اسے قانون اور مذہبی معاملوں کی پارلیمنٹری کمیٹی کے پاس بھیجا گیا۔جینتی نٹراجن کی صدارت والی اس کمیٹی کی سفارشوں کی بنیاد پر بل کا مسودہ پھر سے تیار کیا گیا۔ اس کے مطابق طلاق کی صورت میں بیوی کو شوہر کی جائیداد میں حصے داری ملے گی لیکن حصے داری معاملے کی بنیادپر عدالتیں طے کریں گی۔ حالانکہ کیبنٹ کا فیصلہ تبھی لاگو ہوگا جب بل پارلیمنٹ میں پاس ہوگا۔ موجودہ حالات میں شادی کے بعد خریدی گئی جائیداد میں طلاق کے بعد عورت کا کوئی حق نہیں۔ گودلئے بچوں کے بارے میں موجودہ قانون میں گودلئے گئے بچوں کی کسٹڈی پر کوئی واضح حل نہیں ہے۔
ہندو میرج ایکٹ میں نئی بنیاد کو شامل کرنے کے مدعے پر قانون دانوں کی رائے ملی جلی ہے۔ ماہرین کی مانیں تو اس ترمیم سے دیش میں طلاق کے معاملوں میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔ سینئر وکیل کی ٹی ایس تلسی کے مطابق وقت کے ساتھ قانون میں بدلاؤ ضروری ہوجاتے ہیں۔
آزاد سماج میں جو رشتہ سدھر نہیں سکتا اسے محض قانون کی بندش کی وجہ سے تھونپا جانا بالکل واجب نہیں ہے اس لئے نہیں سدھار سکنے والے رشتوں کو طلاق کو بنیاد بنایا جانا ہی ٹھیک فیصلہ ہے۔وہیں وکیل رچنا شریواستو نے کہا کہ اس بنیاد کا ناجائز استعمال مہلاؤں کے خلاف ہوسکتا ہے۔ اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑنے والے مرد اس بنیاد کا سہارا لے سکتے ہیں اس لئے یہ ضروری ہوگا کہ ترمیم میں مہلاؤں کے مفاد کا خیال رکھا جائے۔ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ ہمیں تنازعات بچانے کی کوشش کرنی چاہئے نہ کے پریوار توڑنے کی۔اس سے سماج میں برا اثر پڑے گا اور شادی کے پاک رشتے کو نقصان پہنچے گا۔دھیرے دھیرے پشچمی دیشوں کی سنسکرتی بھارت میں آرہی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Hindu Law, Hindu Marriage Act. Hindu Succession Act, Vir Arjun

منوہرپاریکر نے سبھی راجیوں کو راستہ دکھا دیا



Published On 30 March 2012
انل نریندر
وزیر خزانہ نے صاف کہہ دیا ہے کہ دنیا میں ہورہے بدلاؤ اور اقتصادی مندی کے برے اثرات سے دیش بچ نہیں سکتا ہے۔ انہوں نے مستقبل میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی طرف اشارہ بھی کردیا ہے۔بجٹ بھاشن پر بحث کے دوران اپوزیشن کی تنقیدوں کا مقابلہ کرتے ہوئے پرنب مکھرجی نے کہا کہ بین الاقوامی حالات کی ان دیکھی نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے شبہات پر کہا کہ ہم نے جون2011 کے بعد سے تیل کی قیمت نہیں بڑھائی ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر قیمتیں لگاتار بڑھ رہی ہیں۔انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ مجھ میں یہ صلاحیت نہیں تھی کہ میں بین الاقوامی سطح پر قیمتوں کو باضابطہ کرپاؤں۔ ادھر تیل کمپنیوں نے اشارے دے دئے ہیں کہ پیٹرول کی قیمتوں میں تین سے لیکر پانچ روپے فی لیٹر کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بین الاقوامی تیل قیمت میں پچھلے دنوں اضافہ ہوا ہے اور ہمارے امپورٹ کا بل بڑھ گیا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ سارا بوجھ آپ عوام پر ڈال دیں۔ ہمارے سامنے گووا کے مکھیہ منتری (بھاجپا) منوہر پاریکر کی مثال ہے۔ سوموار کو پاریکر نے اپنے چناوی وعدے کے مطابق گووا کے سالانہ بجٹ میں 11.20 ویٹ گھٹا دیا ہے۔ اس وقت پنجی میں 65.61 پیسے فی لیٹر پیٹرول مل رہا ہے۔ 2 اپریل سے جب سے نئے ریٹ لاگو ہوجائیں گے یہی پیٹرول لگ بھگ55 روپے فی لیٹر ہوجائے گا۔ گووا کے مکھیہ منتری کے ذریعے اس اعلان کے 24 گھنٹے کے اندر راجستھان کے مکھیہ منتری اشوک گہلوت نے راجستھان میں پیٹرول پر ریٹ28.90 سے 26.20 کردیا ہے۔ اس سے راجستھان میں پیٹرول کی قیمت 69.83 روپے سے68.70 روپے ہوجائے گی۔ راجیہ سرکاروں کو پیٹرول اشیاء سے بہت پیسہ ملتا ہے۔
ایک اندازہ ہے کہ تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار کروڑ کی انکم سبھی راجیہ سرکاروں کو پیٹرول اشیاء پر ٹیکسوں سے ہوتی ہے۔آپ دہلی کو دیکھئے کیندریہ سرکار ایکسائز ڈیوٹی و ایجوکیشن سینس سے قریباً14.78 روپے فی لیٹر لے لیتی ہے۔یعنی دہلی میں پیٹرول اگر 65.64 پیسے فی لیٹر بک رہا ہے تو اس میں14.78 روپے فی لیٹر مرکزی سرکار ایکسائز میں لے رہا ہے۔ اگر مرکز و راجیہ سرکاروں کے مختلف ٹیکسوں کا حساب لیا جائے تو 50 فیصد قیمت کا تو ٹیکسوں میں جارہا ہے۔ دوسرے الفاظ میں سبھی ٹیکسوں کو جوڑا جائے تو آدھے سے زیادہ لاگت تو اس کی ہے۔اگر انہیں ایک منٹ کے لئے ہٹا دیا جائے تو دہلی میں پیٹرول 30 روپے فی لیٹر بکے۔ مرکز اور دہلی سرکار کی جیب میں ہر لیٹر پیٹرول کی دہلی میں ہورہی سیل میں 25.72 روپے فی لیٹر جارہا ہے۔منوہر پاریکر نے راستہ دکھا دیا ہے۔ اگر مرکز اور راجیہ سرکاریں چاہیں تو یہ ایکسائز اور ویٹ وغیرہ گھٹا کر کچے تیل کی قیمتوں میں اضافے کو ایڈجسٹ کرسکتی ہیں۔ویسے بھی ان تیل کمپنیوں کی لاپرواہی اور فضول خرچی نے عام جنتا کی کمر توڑدی ہے۔پہلے سے پس رہی جنتا پر اب پیٹرول کی قیمتوں کو بڑھا کر نیا بوجھ ڈالنے پر تلی ہوئی ہے کیندریہ اور راجیہ سرکار۔
Anil Narendra, BJP, Daily Pratap, Goa, Vir Arjun

29 مارچ 2012

ایم سی ڈی چناؤ: کہیں یہ وبھیشن کانگریس۔ بھاجپا کو ڈوبا نہ دیں



Published On 29 March 2012
انل نریندر
دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ کو لیکر ایک بار پھر سیاست میں گرمی آگئی ہے۔ ٹکٹوں کی مارا ماری سے جہاں کانگریس بری طرح الجھی ہوئی ہے وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی میں اتنی مارا ماری شاید پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ہوگی۔ توقع کے مطابق دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ نامزدگی کے آخری دن مختلف پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کو ملا کر ریکارڈ1785 لوگوں نے دہلی کے مختلف حصوں میں بنائے گئے68 مراکز پر اپنی نامزدگی داخل کی۔ ایک دن میں اتنے زیادہ امیدواروں کے ذریعے نامزدگی کا یہ ریکارڈ ہے۔ ایم سی ڈی کے امیدواروں کے انتخاب میں بھاجپا کے سبھی قاعدے قانون تار تار ہوگئے۔ پارٹی نے جہاں کئی سرکردہ لوگوں کو باہر کردیا وہیں پردیش صدر نے باغیوں سے نمٹنے میں کوئی موقعہ نہیں چھوڑا۔ خاص بات یہ رہی کہ قریب 55 کونسلروں کو پارٹی نے دوبارہ چناؤ میدان میں نہیں اتارا ہے۔ پارٹی نے اس بار17کونسلروں کو دوسرے وارڈوں سے چناؤمیدان میں اتارا ہے۔ پارٹی کی جانب سے جاری امیدواروں کی فہرست میں قریب آدھا درجن اہم کمیٹیوں کے صدور کے نام غائب ہیں۔ ایم سی ڈی چناؤ میں امیدواروں کے انتخاب میں کانگریس کی ماہرین کی کمیٹی نے نہ صرف44 کونسلروں کو جیتنے کے اہل مانا اور ان پر بھروسہ کر چناؤ میدان میں اتارا ہے۔2007ء میں ایم سی ڈی چناؤ میں کانگریس کے67 کونسلروں جیتنے میں کامیاب رہے تھے۔ کانگریس سلیکشن کمیٹی نے ان 67 میں سے43 کونسلروں کو ٹکٹ نہیں دیا ہے۔ ان میں کئی ایسے وارڈ ہیں جہاں تبدیلی ہوئی ہے وہ ریزرو ہوگئے ہیں۔248 نئے چہرے میدان میں اترے ہیں۔ حالانکہ کانگریس پردیش پردھان کا دعوی تھا کہ کسی ایسے شخص کے رشتے دار کو ٹکٹ نہیں دیا جائے گا جس کا وارڈ ریزرو نہ ہو۔ وہیں ایسا بھی شخص ٹک پانے کا حقدار نہیں ہوگا جو2007ء کے ایم سی ڈی چناؤ میں ایک ہزار سے زیادہ ووٹوں سے ہارا ہو۔ امیدواروں کے انتخاب میں جو پیمانے پردیش کانگریس کمیٹی نے بنائے تھے وہ بھی پھُس ثابت ہوئے۔ کانگریس کی اسی پالیسی کے چلتے بڑے پیمانے پر لوگوں نے کانگریس سے بغاوت کر دل بل کے ساتھ پرچے داخل کئے ہیں۔ بھاجپا اور کانگریس میں پرانے نیتا اور ورکروں کی وفاداری پر بڑے نیتاؤں کے چہیتوں کے ساتھ رشتے دار بھاری پڑے۔ بڑے برے نیتاؤں نے زمین کے دھندے سے وابستہ لوگوں کے ساتھ ہی اپنے رشتے داروں میں ٹکٹ بانٹ دی۔ بھاجپا میں ٹکٹ بانٹنے والوں نے اپنی چلانے کیلئے موجودہ117 کونسلروں کے ٹکٹ کاٹ دئے۔ ان میں سے 22 کونسلر اپنی بیوی یا بہو کو ٹکٹ دلانے میں کامیاب رہے۔ بھاجپا کے کل ملاکر عہدوں پر جمے 62 لیڈر اپنی اپنی بیوی اور بہو کو ٹکٹ دلانے میں کامیاب رہے۔ یہ سب ان خاتون ورکروں پر بھاری پڑی ہیں جو طویل عرصے سے پارٹی کا جھنڈا اٹھا رہی تھیں۔ دہلی کی دونوں بڑی پارٹیوں کانگریس اور بھاجپا نے اتنی بڑی تعداد میں سیاسی وبھیشن کردئے ہیں جو امیدواروں کی لنکا اجاڑنے کا کام کریں گے۔ کانگریس میں امیدواروں کی فہرست ہمیشہ آخری وقت پر ہی جاری ہوتی تھی لیکن بغاوت کے چلتے ایک امیدوار کو ٹکٹ دے کر پھر دوسرا امیدوار بدلنا پارٹی کے لئے نئی مصیبت کھڑی کررہا ہے۔ ادھر بھاجپا پارٹی ود دی فیملی دکھائی دے رہی ہے۔ یہاں پارٹی کے ورکروں کو درکنار کر اپنے خاندان کو اہمیت دی گئی ہے۔ بغاوت دونوں ہی پارٹیوں کے لئے ایک نیا درد سر بن گیا ہے۔ کہیں یہ تجزیئے دونوں پارٹیوں کی لنکا نہ جلادیں۔
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Delhi, Elections, MCD, Vir Arjun

جنرل سنگھ کا الزام نیا نہیں سبھی جانتے ہیں ڈیفنس سودے میں دلالی ہوئی



Published On 29 March 2012
انل نریندر
اپنی ملازمت کے آخری دور میں زمینی فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے جاتے جاتے ایک اور تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ایک ریٹائرڈ فوجی افسر نے گھٹیا گاڑیوں کی سپلائی کے بدلے انہیں 14 کروڑ روپے کی رشوت کی پیشکش کی تھی۔ جنرل سنگھ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی پیدائش کا تنازعہ بھی اس لئے کھڑا کیا گیا کیونکہ وہ فوج کے کرپٹ عناصر کے خلاف تھے۔ انہوں نے کہا کہ فوج میں کرپشن کا کینسر اتنا پھیل چکا ہے کہ اب چھوٹے موٹے آپریشن سے کام نہیں چلے گا بڑی سرجری کرنی ہوگی۔ جنرل سنگھ کا یہ بیان بیشک سنسنی خیز ہو لیکن بھروسے مند نہیں۔ لیکن سیدھا سوال یہ اٹھتا ہے کہ جنرل صاحب اسے فوراً کیوں سامنے نہیں لائے؟ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ڈیفنس سودوں میں دلالی کے لین دین کی آہٹ پتہ چلتی رہتی ہے۔ یہ ہتھیاروں سازوسامان اور دیگرسامان کی خرید کو لیکر بھی سنائی دیتی رہتی ہے۔ اگر جنرل سنگھ کے نئے الزام کو توجہ سے دیکھا جائے تو ان کا نشانہ حکومت اور وزیر دفاع اے کے انٹونی ہیں۔ وزیر دفاع نے جنرل سنگھ کی یوم پیدائش والے تنازعے میں ان کی حمایت نہیں لی تھی۔ جنرل سنگھ کا یہ بھی کہنا ہے کہ رشوت کی پیشکش کے بارے میں انہوں نے وزیر دفاع کو واقف کرایا تھا۔ یہ اچھا ہے کہ انٹونی نے معاملے کی جانچ سی بی آئی کو سونپنے کا حکم دے دیا ہے کیونکہ یہ سوال برقرار ہے کہ جب فوج کے سربراہ نے اس وقت کے وزیر دفاع کو اس معاملے سے واقف کرایا تھا تو پھر جانچ کرانے کا فیصلہ اب کیوں لیا گیا؟ کیا وزیر دفاع اس کا انتظار کررہے تھے کہ فوج کے سربراہ معاملے کو عوام کے سامنے لائیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ فوج کے سربراہ نے رشوت کی پیشکش کے اس معاملے کو یوں ہی کیوں چھوڑدیا تھا؟ ان سوالوں کا جواب چاہے جو ہو یہ صاف ہے کہ ہماری سرکاری مشینری کرپشن سے نمٹنے میں کوئی قوت ارادی نہیں رکھتی۔ کیا یہ مانا جائے کہ بچولیوں کا کردار صرف دوسرے ملکوں سے کئے جانے والے ڈیفنس سودوں میں ہی ختم ہوگیا؟ یہ بیحد بے عزتی کے مترادف ہے کیونکہ آزادی کے فوراً بعد یعنی1948 ء میں جیپ گھوٹالے سے دوچار ہونے والے دیش کو اب یہ سننے کو مل رہا ہے کہ کسی طرف سے ٹرک گھوٹالے کو انجام دینے کی کوشش کی گئی۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ان طور طریقوں کو دور کرنے کیلئے کہیں کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ جس سے گھوٹالوں کو روکا جاسکے۔
سب سے تشویشناک سوال یہ ہے کہ کیسے فوج کے سربراہ کو رشوت کی پیشکش ہوسکتی ہے؟ اس سے رشوت دینے والے دلالوں کی ہمت اور ان کی دیدہ دلیری کا بھی پتہ چلتا؟ کیا ڈیفنس سودہ بغیر دلالی دئے ہوسکتا ہے یا نہیں؟ کیا ممبر پارلیمنٹ اس سے واقف نہیں کے ڈیفنس سودوں میں دلالی ہوتی ہے؟ پھر یہ سب ڈرامہ کیوں؟ کیا سیاسی الزام در الزام سے دلالی رک جائے گی؟ اصل وجہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ نے آج تک اسے روکنے کا کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔ دلالوں پر شکنجہ کسنے کے ساتھ ساتھ انہیں سزا دینے کے موزوں قاعدے قانون کی بھی کمی ہے اور اسی کا دلال فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یا تو یہ کریں کہ ایک یقینی فیصد کمیشن قانونی طور سے کردیں۔ آخر اخبار بیچنے کیلئے بھی تو ہم ہاکر کو کمیشن دیتے ہیں۔ ہاں کمیشن کے عوض میں گھٹیا سودا کم سے کم سکیورٹی سازوسامان میں منظور نہیں۔یہ تو دیش سے دھوکہ ہے اور جس کی کڑی سزا ہونی چاہئے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, General V.k. Singh, Manmohan Singh, Vir Arjun

28 مارچ 2012

پینسٹھ فیصدی کسان آج بھی روزانہ 20 روپے نہیں کماتے



Published On 28 March 2012
انل نریندر
ہندوستانی معیشت کی بنیاد زراعت ہے۔ ہندوستان کی جی ڈی پی میں زراعت اور اس سے متعلق اشتراک 2007-08 اور 2008-09 کے دوران بسلسلہ 17.6 اور 17.1 فیصد رہا اس لئے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ بھارت کا کسان ہی اس کی دھڑکن ہے اور ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اگر کسان خوشحال نہیں ہوگاتو دیش کبھی بھی خوشحال نہیں ہوسکتا۔ آج کسان کی اقتصادی حالت قابل رحم ہے۔ شہروں میں 28 روپے اور گاؤں میں 22.50 روپے میں خط افلاس تک بھلے ہی حکومت غریبی ہٹانے کا دعوی کرے مگر حقیقت تو یہ ہے کہ 65 فیصد سے زیادہ کسان کنبے یومیہ20 روپے بھی نہیں کما پارہے ہیں۔ یہ انکشاف خود حکومت ہند کی وزارت زراعت کی جانب سے جاری اعدادو شمار سے ہوا ہے۔ اسے دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ گیہوں اور چاول سے لیکر ارہر ،اڑد ، مونگ و گننے سمیت تقریباً ہر فصل کی لاگت کسانوں کو مل رہی کم از کم قیمت سے کافی زیادہ ہے۔ یہ حال صرف ایک ریاست کا نہیں بلکہ درجن بھر سے زیادہ ریاستوں کا ہے۔ دوسری جانب کھیتی کے لئے ضروری کھاد ، بیج و ڈیزل جیسی چیزوں کے دام پچھلی دہائی میں کئی گنا بڑھے ہیں۔
حکومت نے پہلی بار سرکاری طور پر یہ اعدادو شمار جاری کئے ہیں۔ کسی فصل کی فی کوئنٹل پیداوار کی لاگت کتنی آتی ہے۔اعدادو شمار کے مطابق2008-09 میں کسانوں کو ایک ایکڑ ارہر کی کھیتی پر اوسطاً3349 روپے ، مونگ پر 1806 روپے اور اڑد پر 61.36 روپے کا خسارہ ہوا۔ اسی طرح ایک ایکڑ زمین میں گنا بونے پر اوسطاً4704 روپے کا نقصان ہوا۔ ایسے ہی ایک ایکڑ جوار کی کھیتی پر قریب ہزار روپے کا خسارہ ہورہا ہے۔ جہاں تک گیہوں دھان کی بات ہے تو ان کی ایک ایکڑ کھیتی پر کسانوں کو ایک سال میں بسلسلہ 2200 روپے اور 4000 روپے کا اوسطاً منافع ہونے کی بات سرکاری اعدادو شمار میں دکھائی پڑتی ہے۔ گیہوں کی فصل تیار ہونے میں 5 مہینے سے زیادہ کا وقت لگتا ہے۔ اس طرح کسان کنبے کو ماہانہ آمدنی500 روپے سے بھی کم پڑے گی اس طرح دھان کی کھیتی پر بھی 4 مہینے سے زیادہ وقت لگتا ہے۔ اس کے علاوہ جھارکھنڈ، ہماچل پردیش، مہاراشٹر اور مغربی بنگال ایسی ریاستیں ہیں جہاں 2008-09 میں گیہوں کی تھوک قیمت 1080 روپے تھی بمقابلہ لاگت اس کی زیادہ رہی ہے۔ اس طرح دھان کے معاملے میں ہی مہاراشٹر جھارکھنڈ ،تاملناڈو میں لاگت ایم ایس پی سے زیادہ ہے۔ وزارت کے مطابق دیش میں 65فیصد کسانوں کے پاس ایک ایکڑ سے بھی کم زمین ہے اور ان کی تعداد سوا آٹھ کروڑ سے زیادہ ہے۔ بدقسمتی سے اس یوپی اے سرکار کی ترجیحات ہماری سمجھ سے باہر ہیں۔ عام بجٹ کے بعد شاید پہلی بار ہوگا جب کھاد اتنی مہنگی ہوجائے گی کے کھیتی کو ہی کھانے لگے گی۔سرکار نے کھادوں پر دی جانے والی سبسڈی میں بھاری کٹوتی کردی ہے۔ اس سے تقریباً سبھی طرح کی کھادوں کے دام بڑھنا طے ہیں۔ کھادوں کی بڑھی مانگ کو پورا کرنے کے لئے باہر سے ہی منگانے کا یہ واحد سہارا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر قیمتوں کے بڑھنے سے گھریلو بازار میں کھاد کسانوں کی پہنچ سے باہر ہونے لگی ہے۔ پچھلی ایک دہائی میں ایک دیش میں کھاد کا کوئی کارخانہ قائم نہیں کیا جاسکا۔ ان حالات میں ہمارے کسان بھائیوں کی حالت اور خراب ہونی ہی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Inflation, Montek Singh Ahluwalia, Poverty, Vir Arjun

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...