Translater

03 مارچ 2012

لشکر طیبہ کی حکمت عملی میں تبدیلی



Published On 3 March 2012
انل نریندر

90کی دہائی میں لشکر طیبہ آتنکوادیوں کو پاکستان کے جہادی اڈوں سے بھارت بھیجتا رہا ہے۔ مقصدتھا کشمیر میں تخریبی سرگرمیاں پھیلانا۔ اس کے بعد پاک حکومت نے دہشت گردی کو باقاعدہ ایک اسٹیٹ پالیسی بنا کر آتنک وادیوں کو بھارت کے باقی حصوں میں حملے کروانے کی نئی پالیسی بنائی۔ اسی کے تحت 2000ء میں لال قلعہ پر حملہ ہوا اور 2001ء میں ہندوستانی پارلیمنٹ پر اور 2008ء میں ممبئی حملے ہوئے۔ ان حملوں میں آئی ایس آئی نے لشکر کے ذریعے سے بھارت اسٹیٹ کے خلاف حملے کروائے ۔ ان حملوں میں کچھ دہشت گرد پاکستان سے خاص طور سے آئے تو کچھ یہیں بھارت سے شامل ہوئے لیکن اب لگتا ہے لشکر طیبہ نے اپنی حکمت میں تھوڑی تبدیلی کی ہے۔ 26/11 حملوں کے بعد اس نے 10 آتنک وادیوں کو ممبئی میں حملہ کرنے بھیجا تھا لیکن اب وہ پاکستان سے آتنکی نہ بھیج تک یہیں بھارت سے ہی جہادیوں سے حملے کروا رہا ہے۔ وہ بھارت سے ہمدرد جہادیوں کو اٹھاتا ہے اور انہیں پاکستان بلاکر پوری ٹریننگ دے کر واپس بھیج کر حملہ کروا رہا ہے۔ بدھ کے روز دہلی پولیس نے جن دو دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے اس سے آئی ایس آئی اور لشکر کی نئی پالیسی کے اشارے ملتے ہیں راجدھانی دہلی کے ایک مشہور بازار سمیت 18 مقامات پر دھماکے کرنے کی سازش تھی لیکن جموں و کشمیر جھارکھنڈ اور دہلی پولیس کی سانجھہ کارروائی میں بروقت بڑے دھماکے ہونے سے راجدھانی کو بچا لیا ہے۔ سازش کو انجام دینے کی تیاری میں جٹے لشکر طیبہ کے دو آتنک وادیوں کو دبوچ لیا گیا ہے۔بنیادی طور سے جموں وکشمیر کے باشندے بتائے جارہے دونوں بم بنانے میں ماہر ہیں ان کے پاس سے برآمد میموری کارڈ میں کچھ ایسی تصویریں قید ہیں جو سکیورٹی ایجنسیوں کے لئے ثبوت کے طور پر کام آئیں گی۔ مثلاً پاکستان میں چل رہے آتنکی ٹریننگ کیمپ اور آئی ڈی ، بناتے ہوئے ان کے قبضے سے اے ۔47 رائفلز ،دھماکوں سامان اور قابل اعتراض دستاویز سمیت بہت کچھ سامان برآمدہوا ہے۔ ان کا ارادہ دہلی کے چاندنی چوک بازار میں دھماکے کرنا تھا۔ ذرائع کے مطابق ان میں ایک جموں و کشمیر کا باشندہ احتشام ہے اور دوسرا ہزاری باغ کا باشندہ شفاعت ہے۔ یہ دونوں پاکستان میں لشکر کے کیمپوں میں ٹریننگ لے چکے ہیں۔ جانکاری ملی ہے کہ ہزاری باغ کے جس شخض کو حراست میں لیا گیا ہے وہ احتشام کا قریبی رشتے دار ہے اور کئی برسوں سے جھارکھنڈ میں مقیم تھا۔ جھارکھنڈ پولیس نے اس شخص سے لمبی پوچھ تاچھ کی ہے۔ اس نے بتایا کہ لشکر کے آقا دہلی سمیت کئی بڑے شہروں میں خطرناک بم دھماکے کرنے کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔ احتشام ہزاری باغ میں شفاعت اور کچھ دیگر لوگوں کی مدد سے وہیں پر خطرناک بم تیار کراتا تھا جنہیں دیش کے الگ الگ حصوں میں بھیجا جانا تھا۔ بدھوار کو جن دہشت گردوں کو پکڑا گیا ہے وہ دہلی کے تغلق آباد میں کرائے پر رہتے تھے۔ جب انہیں سرحد پار سے ہدایت ملتی تھی تو وہ دہلی کے کسی بھیڑ بھاڑ والے علاقے میں بم دھماکے کریں، تو اس کے لئے ان لوگوں نے چاندنی چوک کی کپڑا مارکیٹ کا انتخاب کیا۔ یہاں شام کے وقت ہزاروں لوگوں کی بھیڑ ہوتی ہے۔ پوچھ تاچھ کے دوران پکڑے گئے آتنک وادیوں نے بتایا کہ اگر وہ لوگ پولیس کے قبضے میں نہ آتے تو بدھوار کی شام چاندنی چوک دھماکوں سے دہلانے کا پلان تھا۔ 18 مقامات پر دھماکے کرنے کا ارادہ تھا۔ ان کے نشانے پر کوئی اہم شخصیات نہیں تھیں بلکہ وہ بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر دھماکے کرکے دہشت پھیلانا چاہتے تھے۔ دہشت گردی مشنوں کو ناکام کرنے کے لئے دہلی، جھارکھنڈ، جموں و کشمیر کی پولیس اور مرکز کی سکیورٹی ایجنسیوں کو مبارکباد۔ بہتر تال میل سے یہ سازش ناکام کی جا سکی ہے۔
Anil Narendra, Bomb Blast, Daily Pratap, Delhi, ISI, Lashkar e Toeba, Terrorist, Vir Arjun

درندگی کی ساری حدیں پار کرتے ہوئے دہلی کے شہری



Published On 3 March 2012
انل نریندر

پچھلے کئی دنوں سے اخبارات میں دہلی کے بدنام زمانہ لوگوں کی درندگی کی خبریں شائع ہوئی ہیں۔ان میں بچیوں سے بدفعلی کے واقعات نے ایک بار پھر دہلی واسیوں کو شرمسار کردیا ہے۔ ان واقعات سے سوال اٹھ رہا ہے کہ آخر دہلی میں اتنی درندگی کیوں بڑھ رہی ہے؟ منڈکا کے ایک سکیورٹی گارڈ پر ایک چھ سال کی بچی سے بد تمیزی کا الزام ہے۔ پولیس نے اجے پرساد نامی مجرم کو گرفتار کرلیا ہے۔ 20 سالہ اجے ایتوار کی شام 4 بجے ایک پھل فروش کی بچی کو مچھلی کھلانے کے بہانے لے گیا۔ بچی کے والد کو پہلے اس پر شبہ نہیں ہوا لیکن جب معاملہ ہوا تو وہ حیرت زدہ رہ گیا۔ پولیس کے مطابق اجے بچی کو ایک کھلے میدان میں لے گیا وہاں اس کے ساتھ بدفعلی کی کوشش کی گئی بعد میں بچی روتی ہوئی آئی اور اپنی ماں کو سارے واقعے کے بارے میں بتایا۔ اس سے ایک دن پہلے دوارکا علاقے میں ایک 16 سال کی لڑکی کے ساتھ آبروریزی کا معاملہ سامنے آیا۔ ایک فارم ہاؤس کے 50 سالہ سکیورٹی گارڈ نند کمار نے پاس میں مقیم لڑکی کو اغوا کرلیا اور پاس کے میدان میں لے جاکر اس کی آبروریزی کی۔ اس نے لڑکی کو دھمکی دی کہ اگر اس نے گھر پر بتایا تو وہ اسے جان سے ماردے گا۔ پولیس کے مطابق نندکمار لڑکی کا رشتے دار ہے اور اسے کافی وقت سے جانتا تھا۔ دہلی چھاؤنی میں ایک فوج کے ملازم پر اپنے دوست کی بیوی کے ساتھ آبروریزی کا الزام ہے۔ پولیس کے مطابق روندر فوج میں سول محکمے میں کام کرتا ہے اور خاتون اور اس کے شوہر کو پہلے سے جانتا تھا۔ واقعہ پیر کی صبح قریب11:30 بجے کا ہے۔ روندر صدر بازار میں واقع اپنے دوست کے یہاں گیا تھا۔ وہاں اس کی بیوی گھر میں اکیلی تھی پولیس کے مطابق آبروریزی کے بعد روندر غائب ہوگیا لیکن پولیس نے اسے پکڑ لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ خاتون کا شوہر فوج میں ہیڈ کانسٹیبل ہے۔ روندر خاتون کے گاؤں کا رہنے والا ہے اور وہ اکثر گھر پر آتا جاتا تھا۔ گوڑگاؤں میں مالک کی ہونڈا سٹی کار میں ہی ڈرائیور نے نوکرانی کے ساتھ آبروریزی کردی۔ پولیس نے ایک گاؤں سے ڈرائیور کو گرفتار کرلیا ہے اسے 14 دن کی جوڈیشیل ریمانڈپر بھیج دیا گیا ہے۔ سیکٹر 48 کے باشندے ایئر فورس سے ریٹائرڈ افسر مکیش کی بیٹی کی شادی ایتوار کی رات ڈھولہ کنواں میں ہورہی تھی ۔ شادی کے بعد مکیش ناتھ نے اپنے ڈرائیور سونی کے ساتھ تین گھریلو نوکروں کو گوڑ گاؤں بھیجا۔ اس میں اس کی ساس کی نوکرانی بھی تھی۔ سونو نے دونوکروں کو ساہنا روڈ پر اتاردیا۔ الزام ہے کہ اس کے بعد ڈرائیور نے ان کے ساتھ آبروریزی کی۔ دہلی کی ایک عدالت نے پچھلے دنوں پارک میں بنی چھتری کے نیچے رہ رہی 50 سالہ خاتون کو اغوا کر اور آبروریزی معاملے میں19 سالہ لڑکے پرہلاد کو10 سال کی قید مشقت کی سزا سنائی ہے۔ایڈیشنل سیشن جج کامنی لا کی عدالت نے قصوروار پر17 ہزار روپے کا جرمانہ بھی کیا ہے۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے دہلی میں حیوانیت کی ساری حدیں پار ہورہی ہیں اور اب تو راجدھانی کو 'ریپ کیپیٹل ' کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ خواتین سے متعلق کرائم تو ساری دنیا میں ہوتے ہیں لیکن 6 سال کی بچی سے لیکر80 سال کی بوڑھیا کے ساتھ جب آبروریزی یا بد فعلی ہو تو یہ چونکا دیتا ہے کہ ہم کس طرف جارہے ہیں۔ اس طرح تو آدمی اور جانور میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔
Anil Narendra, Crime, Criminals, Daily Pratap, Delhi, delhi Police, Vir Arjun

02 مارچ 2012

چین کو دیا انٹونی نے کرارا جواب



Published On 2 March 2012
انل نریندر

چین بھارت سے ٹکر لینے سے باز نہیں آتا، کچھ نہ کچھ شوشہ چھوڑتا رہتا ہے۔ تازہ قصہ ہندوستان کے وزیر دفاع اے کے انٹونی کے دورہ اروناچل پردیش کو لیکر ہے۔ اروناچل پردیش پر دعوی جتاتے ہوئے چین نے پھر ہندوستان کو آنکھیں دکھانے کی کوشش کی ہے۔اس مرتبہ ڈریگن وزیر دفاع اے کے انٹونی کے دورہ اروناچل پردیش سے لیکر بوکھلا گیا ہے۔ اس نے ہندوستان کو کھلے عام آگاہ کیا ہے کہ بھارت کو ایسے کسی بھی قدم سے بچنا چاہئے جس سے سرحدی تنازعہ مزید پیچیدہ ہونے کا اندیشہ ہو۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ہانگلی نے سرحدی علاقوں میں امن اور استحکام بنائے رکھنے کے لئے بھارت سے چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کوکہا ہے۔ چین کی سرکاری ایجنسی ژنہوا کے مطابق انہوں نے کہا کہ سرحدی تنازعے پر چین اپنے موقف پر قائم ہے اور اس کا نظریہ بالکل صاف ہے۔ دراصل اروناچل جنوبی تبت کا حصہ ہونے کا دعوی کررہا ہے۔ چین کسی بھی سینئر ہندوستانی سرکاری نمائندے کی ریاست کے دورہ پر اپنا اعتراض جتا رہا ہے۔ وہ اروناچل کے لوگوں کو ویزا دینے سے بھی انکار کرتا رہا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے مخصوص نمائندوں کے درمیان سرحدی تنازعے پر بات چیت کے 15 دور ہوچکے ہیں۔ جنوری سے جون2010 میں سکم سے لگے علاقے میں چینی فوج نے 65 بار ہندوستانی علاقے میں گھس پیٹھ کی کوشش کی۔ حالانکہ حکومت ہند نے ہمیشہ تنازعے کو ٹھنڈا کرنے اور اسے ہل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس بار ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ وزیر دفاع اے ۔ کے انٹونی نے چین کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ ایسی زبان چین سمجھ سمجھتا ہے۔ اے ۔ کے انٹونی نے چین کو اس اشو کو لیکر پیر کو کھری کھوٹی سنائی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی رائے زنی بیحد افسوسناک اور قابل اعتراض ہے۔ چین کے اس رویئے پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے وزیر دفاع اے ۔ کے انٹونی نے کہا کشمیر کی طرح ہی اروناچل بھی بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور بطور وزیر دفاع وہاں جانا ان کا حق اور فرض ہے۔ ایک پروگرام سے نمٹنے کے بعد اخبار نویسوں کے سوالوں کے جواب میں وزیر موصوف نے کہا کہ وہ اروناچل پردیش کی یوم تاسیس کی 25 ویں سالگرہ پر منعقدہ تقریب میں حصہ لینے گئے تھے اور یہ ان کا حق بنتا ہے۔ وزیر دفاع نے کہا مجھے یہ رد عمل دیکھ کر کافی حیرانی ہوئی ہے اس طرح کا تبصرہ عام طور پر افسوسناک ہی مانا جاتا ہے اور اس پر انہیں اعتراض ہے۔ ایتوار کو بنگلورو سے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے چین کے رد عمل پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اروناچل پردیش بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس معاملے میں اسے دخل اندازی نہیں کرنی چاہئے۔ وزارت خارجہ کے اعلی ذرائع نے تو بیجنگ کو یہ کہہ کر پیغام دیا کہ اروناچل میں جنتا نے ہندوستانی لیڈروں کو جمہوری طریقے سے ہوئے چناؤ میں ووٹ دیا ہے اس میں اپنے آپ میں ہی بیجنگ کو جواب دیکھ لینا چاہئے۔ چین کو کھری کھوٹی سناتے ہوئے وزیر دفاع نے نیوکلیائی آبدوز کو ہندوستانی بحریہ میں شامل کرنے پر اعتراض جتا رہے پاکستان کو بھی دو ٹوک انداز میں جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی سلامتی کے لئے اپنی فوجی صلاحیت بڑھا رہا ہے نہ کہ اس کا ارادہ کسی سے ٹکراؤ کا ہے۔ ابھرتے سلامتی پس منظر میں بھارت ہر ضروری فوجی قدم اٹھائے گا۔ ہم وزیر دفاع اے ۔ کے انٹونی کے چین اور پاکستان دونوں کو دو ٹوک جواب دینے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں بھی ایسا ہی ہوگا تاکہ چین کو سمجھ میں آجائے کہ وہ اب بھارت کو اتنی آسانی سے نہیں ڈانٹ سکتا۔
A K Antony, Aksai Chin, Anil Narendra, China, Daily Pratap, Sikkim Chief Minister, Vir Arjun

آیا تو تھا قبر سے سونا نکالنے پر بن گیا پاکستانی جاسوس



Published On 2 March 2012
انل نریندر

پاکستان کی خفیہ ایجنسی نے پچھلے کچھ دنوں سے بھارت میں جاسوسی کرنے کے طور طریقوں میں تھوڑی تبدیلی کی ہے۔ پچھلے کچھ دنوں میں پکڑے گئے پاکستانی جاسوسوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ آئی ایس آئی اب ایسے لوگوں کو بھارت جاسوسی کرنے کے لئے بھیج رہی ہے جن کے پکڑے جانے سے انہیں کوئی زیادہ فرق نہ پڑے۔ وہ ایسے لوگوں کو تلاشتی ہے جن کا بھارت سے کوئی رشتہ ہوتا ہے اور جوکرمنل ذہنیت کے ہوتے ہیں۔ جو پیسہ کمانے کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ وہ بھارت میں ہی آکر بس جاتے ہیں اور اپنا کام تب تک کرتے رہتے ہیں جب تک وہ پکڑے نہ جائیں۔ حال ہی میں دہلی پولیس نے ایک ایسے ہی جاسوس کو پکڑا ہے۔ اس کی کہانی کسی بالی ووڈ فلم کی کہانی سے کم نہیں ہے۔ آیا تو وہ گووا کی ایک قبر میں دبے سونے کو نکالنے تھا لیکن وقت نے ایسی پلٹی ماری کے وہ جاسوس بن گیا۔ ای میل اور چیٹنگ سے یہ شخص پاکستان میں بیٹھے اپنے آقاؤں کو انڈین آرمی کے متعلق اہم جانکاریاں پہنچا رہا تھا۔ہندوستانی سکیورٹی ایجنسیوں کو گمراہ کرنے کیلئے اس نے باقاعدہ کولکتہ میں شادی بھی کرلی تھی ا س کے دو بچے بھی ہیں۔ اپنا کام کرنے کے لئے اس نے فوج کے ایک ریٹائرڈ افسر کے یہاں ڈرائیور کی نوکری کر لی تھی۔ اس شخص کا نام ہے کامران اختر۔ اس کی کہانی تب شروع ہوئی جب اسے ملنے اس کا چاچا محمد سلیم پاکستان گیا تھا۔ کامران کراچی میں چوری کیا کرتا تھا۔ چاچا نے گووا میں چوری کرنے کے لئے کامران کو بھارت آنے کی دعوت دی۔ 1992ء میں کامران پاکستانی پاسپورٹ پر ہندوستان آیا۔ اٹاری بارڈر کے راستے کامران کولکتہ آیا اور چاچا سلیم کے یہاں رکا۔ یہاں سے دونوں گووا گئے ۔ سلیم کا ایک واقف کار اشرف خاں بھی ان کے ساتھ گیا۔ جس جگہ پر بنی قبر میں دبے سونے کو انہیں چرانا تھا وہاں ایک علیشان عمارت بن چکی تھی لہٰذا ان کا پلان فیل ہوگیا۔ اس کے بعد انہوں نے وہاں چوریاں شروع کردیں لیکن دوسری ہی چوری میں وہ پکڑے گئے اور تین سال تک جیل میں رہے۔جیل سے چھوٹنے کے بعد کامران کولکتہ پہنچا اور وہاں پر اس نے آصف حسین نام سے ہندوستانی پاسپورٹ بنوا لیا۔ایک مہینے کا پاکستانی ویزا لیکر وہ پاکستان چلا گیا لیکن اس کے بارے میں آئی ایس آئی اور پاکستان فوجی انٹیلی جنس کو پتہ چل گیا۔ انہوں نے اسے پکڑ کر جاسوس بنانے کا فیصلہ کیا۔ ٹریننگ کے ساتھ ساتھ اسے ہندی بھی سکھائی گئی۔ اس کے بعد آصف حسین کو نیپال بھیجا گیا اور وہاں سے 1997ء میں وہ سڑک کے راستے کولکتہ پہنچا۔اس کے بعد اس نے ریڈیمیٹ گارمینٹ کا کام شروع کا۔ دو سال بعد اس نے 24 پرگنہ کی باشندہ ایک لڑکی سے شادی کرلی۔ اس نے آصف حسین نام سے شناختی کارڈ، پین کارڈ، ڈرائیوننگ لائسنس بھی بنوا لیا۔ بینک اکاؤنٹ کھول لیا۔ بینک کھاتے میں پاکستان سے سعودی عرب ہوتے ہوئے آیا پیسہ جمع کرالیا۔ کولکتہ میں اس نے ایک فوجی افسر کے یہاں ڈرائیور کی نوکری حاصل کرلی۔ افسر کے ساتھ اسے ایسٹرن کمان ہیڈ کوارٹر ولیم فورٹ جانے کا بھی موقعہ ملا۔ یہاں دودھ بیچنے والوں اور ڈاک دینے والوں کو اس نے اپنا ذریعہ بنا لیا۔ دہلی میں ایسے ہی کسی سورس سے خفیہ دستاویز حاصل کرنے کے لئے وہ آیا تھا۔ دستاویز حاصل کرنے کے بعد وہ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر پہنچا تھا جہاں اسے دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے گرفتار کرلیا ہے۔ یہیں سے ایک دلچسپ کہانی شروع ہوئی۔ آیا تو تھا سونا نکالنے اور بن گیا جاسوس۔
Anil Narendra, Daily Pratap, ISI, Pakistan, Spy, Vir Arjun

01 مارچ 2012

ہم جنس رشتوں کے آئینی جواز پر گرمایا معاملہ



Published On 1 March 2012
انل نریندر
ہم جنس رشتوں کو نہایت غیر اخلاقی قرار دے کر انہیں جرائم کے زمرے سے باہر رکھنے پر نامنظوری ظاہر کرنے کے بعد حکومت ہند نے اپنا موقف پلٹ لیا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل پی پی ملہوترہ نے سپریم کورٹ میں دلیل پیش کی کہ سیملنگ تعلقات سماجی نظام کے منافی ہیں اور ہندوستانی سماج بیرونی ممالک میں رائج روایتوں کو نہیں اپنا سکتا۔ ملہوترہ نے جسٹس جی ایس سنگھوی اور جسٹس ایس جے مکھ اپادھیائے کی ڈویژن بنچ کے سامنے کہا ہم جنس رشتوں سے بیماریاں پھیلنے کے کافی امکانات ہیں۔ سپریم کورٹ نے گذشتہ بدھ کو اس سلسلے میں ہم جنس حق مخالف گروپوں سے سوال جواب کئے تھے۔ عدالت عظمیٰ نے سیملنگ حق مخالف گروپ سے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے طے میعاد کا دائرہ بڑھانے اور اپنی دلیلوں کو صرف جسمانی رشتوں تک محدود نہ رکھنے کو کہا تھا کیونکہ اشو پر قطعی فیصلے میں وسیع پیچیدگیاں کھڑی ہوں گی۔ عدالت نے یہ بھی سوال کیا کہ دیش میں ہم جنس لوگوں کے خلاف اس طرح کی سرگرمیوں میں شامل ہونے کے لئے درج معاملوں کی تعداد کتنی ہے؟ عدالت نے یہ بھی کہا کہ دو بالغوں کے درمیان رضامندی کی بنیاد پر سیملنگ تعلق کو کرائم کے زمرے سے الگ کرنے کا دہلی ہائی کورٹ کا فیصلہ دور رس اثر ڈالنے والا ہے۔ اس کے سبھی پہلوؤں پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہئے۔ بنچ نے جاننا چاہا مرد ہم جنس (گے سیکس) کو کون کون سے دیشوں میں جرائم مانا گیا ہے۔ سیملنگ کمیونٹی کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 377 کے تحت مقدمہ درج کرنے کی اجازت ہے۔ سیملنگ کمیونٹی دفعہ 377 کو غلط مانتی ہے۔کا کہنا ہے کہ اس قانون کے ذریعے انہیں بے وجہ پریشان کیا جاتا ہے۔ بنچ کی رائے تھی کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کا اثر دیگر قوانین پر بھی پڑے گا۔ قابل ذکر ہے کہ 2009ء میں سیملنگ رشتوں کو جب جائز مان لیا گیا تھا جب دہلی ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں ایسے رشتوں کو جرائم کے زمرے سے باہر کردیاتھا۔ دیش کی کئی سماجی ،سیاسی اور مذہبی تنظیموں نے اس فیصلے پر سخت اعتراض ظاہر کیا تھا۔
اس فیصلے کے خلاف آدھا درجن اپیلیں سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے وقت اور نظریئے کے دائرے کو بڑھانے کو کہا تھا۔ اس سے پہلے بنچ نے کہا تھا کہ ہم جنسی کو بدلتے سماج کے پس منظر میں دیکھا جانا چاہئے۔ بنچ نے 'لو ان ریلیشن شپ' سنگل پیرنٹ اور سروگیسی کا حوالہ دیا تھا۔ اطفال تحفظ کمیشن کی جانب سے کورٹ کے فیصلے کی مخالفت میں دلیل دی تھی کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ غیر ملکی عدالتوں کے فیصلے پر منحصر کرتا ہے۔ بھارت کی تہذیب بیرونی ممالک سے الگ ہے۔ اسے ہندوستانی معاشرے سے دیکھا جانا چاہئے۔ سماعت کی پچھلی تاریخ پر سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ غیر معمولی اور غیر فطری ہم جنس پرستی میں فرق ہے۔ قدرت کے برعکس جنسی خواہشات کو غیر فطری طریقے سے کہا جاسکتا ہے لیکن اسے غیر فطری کہنا مناسب نہیں ہوگا۔ سیملنگ کو بدلتے ہوئے سماجی پس منظر کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ آج سے 20-25 سال پہلے تک ان چیزوں کو غیر اخلاقی مانا جاتا تھا اب یہ قابل قبول ہیں۔ ہائی کورٹ کے 2 جولائی 2009ء کے فیصلے پر دیش بھر میں سخت منفی رد عمل سامنے آیا تھا۔ عدالت نے رضامندی کی بنیاد پر دو مردوں کے درمیان ہم جنسی کو منظوری دے دی تھی۔ راضی بالغوں کے پس منظر میں دفعہ377 کے تحت اسے غیر قانونی قرار دینے کی سہولت کو ہائی کورٹ نے غیر آئینی قرار دیا تھا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Gay, Sex, Supreme Court, Vir Arjun

ناروے سرکارکے قانون قدرت کے قانون سے بالاتر نہیں ہیں



Published On 1 March 2012
انل نریندر
ہم ناروے کے قوانین اور دیش کا احترام کرتے ہیں اور یہ بھی مانتے ہیں کہ ہر ملک کو اپنا قانون بنانے کی آزادی ہے۔ اگر وہاں کی عوام کسی قانون پر عمل کرتی ہے تو حکومت اسے اسی روایت کی حمایت کرتی ہے تو سرکار اسے قانون بنا سکتی ہے لیکن کچھ ایسے قانون بھی ہوتے ہیں جو اوپر والا بناتا ہے اور اسے ہر آدمی ، حکومت و دیش کو ماننا چاہئے۔ ایسے ہی قوانین میں بچوں کی پرورش ماں باپ کوکرنے کا حق ہے۔ آپ چھوٹے بچوں کو ان کے ماں باپ سے الگ کررہے ہیں تو یہ کیسا عجیب قانون ہے۔ ایسا ہی ایک قانون آج کل موضوع بحث ہے۔ دراصل پچھلے سال نومبر میں ناروے کے حکام نے ایک شخص انوروپ اور ان کی اہلیہ سگاریکا مہاچاریہ کے ساتھ رہ رہے اس کے بچوں کو سرکار کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔ بچوں کے نام ہیں ابھیگیان تین سال اور ایشوریہ ایک سال۔ پیشے سے جغرافیائی سائنسداں انوروپ بھٹاچاریہ پر ناروے سرکار کا الزام ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے بچوں کو کھانا کھلاتے تھے، انہیں اپنے ساتھ ہی بستر پر سلاتے تھے، بچوں کے نانا منتوش چکرورتی نے کہا کہ انہیں اپنے بچوں کو واپس لانے کی مہم میں ساری دنیا کی حمایت مل رہی ہے۔ ادھر نئی دہلی میں ناروے سفارتخانے کے سامنے چار روزہ دھرنا شروع ہوچکا ہے۔ پہلے دن لوگوں اور سیاستدانوں سے ملی حمایت سے لگتا ہے کہ اگر ناروے حکومت انوروپ بھٹاچاریہ کے تین سال کے بیٹے ابھیگیان اور ایک سال کی بیٹی ایشوریہ کو بھارت بھیجنے میں اپنی بندشوں کو نہیں چھوڑتی تو یہ تحریک ملک گیر ہوسکتی ہے۔ پیر کو امریکہ، برطانیہ، جرمنی، آسٹریلیا، فرانس، کینیڈا، سوئٹزرلینڈ سمیت 14 سے زائد ممالک میں اڈوپٹ کرنے والے اور ان کے خاندانوں کے افراد نے میل کے ذریعے ناروے کی حکومت کی مذمت کی ہے۔ پیغامات میں کہا گیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ ہیں۔ یہ لڑائی انسانیت کے تحفظ کے لئے ہے۔ پہلے سے طے پروگرام کے تحت پیر کو صبح 11 بجے لوگ ناروے سفارتخانے کے باہر پہنچے اور کچھ وقت کے بعد ہی پولیس نے انہیں چانکیہ پوری مارگ کی طرف بھیج دیا جہاں پر وہ دھرنے پر بیٹھ گئے۔ دھرنے کے پہلے دن ابھیگیان اور ایشوریہ کے نانا ،نانی اور ان کے کنبے کے افراد ،لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج ،مارکسی ایم پی برندا کرات اور مارکسوادی لیڈر عینی راجہ ، مقامی ناروے سفارتخانے کے سامنے دھرنے پر بیٹھ گئے۔مظاہرے میں شرکت کررہے لیڈروں نے کہا کہ وہ اس مسئلے کو 12 مارچ سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران بھی اٹھائیں گے۔
سشما جی نے کہا کہ ناروے حکومت کا یہ قدم انسانیت مخالف ہے اس لئے اسے چاہئے کہ بغیر وقت گنوائے بچے کو ان کے رشتے داروں کو سونپنے کی پہل کرے۔ مارکسی لیڈر برندا کرات کا کہنا ہے کہ جب بچوں کے والدین و رشتے دار اپنے بچوں کو بھارت لانا چاہتے ہیں تو پھر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ حکومت ہند نے بھی معاملے میں سرگرمی دکھاتے ہوئے وزارت داخلہ میں سکریٹری نے ناروے کے وزیر خارجہ جونس گار اسٹور سے ملاقات کی۔ انہوں نے بچوں کو ان کے والدین کو لوٹانے کیلئے درخواست کی۔ ذرائع کے مطابق اس پورے معاملے پر ناروے کے رویئے سے بھارت بہت مایوس ہے۔ ملاقات مثبت رہی اور امید کی جانی چاہئے کہ ناروے کی حکومت جلد بچوں کو ماں باپ کو سونپ دے گی۔ وہ بیشک ایسا بے تکا قانون اپنے شہریوں پر تھونپے لیکن اس دیش میں رہ رہے غیر ملکیوں پر نہیں تھونپ سکتی۔

Anil Narendra, Children Separated, Daily Pratap, Norway, Vir Arjun

29 فروری 2012

Check out Daily Pratap Urdu Newspaper

facebook
46 people like this

Check out Daily Pratap Urdu Newspaper


Hi,

Daily Pratap Urdu Newspaper is inviting you to join Facebook.

Once you join, you'll be able to connect with the Daily Pratap Urdu Newspaper Page, along with people you care about and other things that interest you.

Thanks,
Daily Pratap Urdu Newspaper

To sign up for Facebook, follow the link below:

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...