Translater

03 اگست 2017

لگاتا راپ گریڈ ہوتی دہلی پولیس

دہلی پولیس بھارت کی سب سے اچھی پولیس فورس میں سے ایک مانی جاتی ہے۔ دیش کی راجدھانی ہونے کے سبب دہلی پولیس کے سامنے چنوتیاں بھی بہت سی ہیں۔ دہشت گردی کے بڑھتے قدم سے پولیس کو بھی اپنے آپ کو اسی حساب سے اپ گریڈ کرنا پڑتا ہے۔ دہشت گردوں کی پہنچ اب بیحد خطرناک زمرے میں آنے والے پی ٹی ایم اور آر ڈی ایکس و دیگر دھماکوں سامان تک ہوچکی ہے۔ اس طرح سے نئے خطرے سے نمٹنے کے لئے اب دہلی پولیس اسرائیل کی طرز پر خود کو جدید ٹکنالوجی سے آراستہ کررہی ہے۔ پچھلے تین مہینے میں دہلی پولیس نے طاقتور دھماکو کے ساتھ ڈفیوز کرنے والے جدید آلات خریدے ہیں۔ ان میں ایکسکلوسیوڈٹیکٹر، ڈیپ سرچ میٹل ڈٹیکٹر، ہکلائن مشین، ٹیلس کوپی مینوپلیٹی اور اہم ترین پروٹکٹ سوٹ وغیرہ جیسے جدید ترین سازو سامان شامل ہیں۔ یوپی اسمبلی میں ملا پی این ٹی دھماکو چیز ہی سال2011ء میں دہلی ہائی کورٹ کمپلیکس کے باہر دھماکے میں استعمال ہوئی تھی۔ دیش کی راجدھانی دہلی ہمیشہ سے ہی دہشت گردوں کے بڑے ٹارگیٹ پر رہی ہے۔ لاء اینڈ آرڈر کے ساتھ ساتھ ہی ایسے خطروں کی چنوتی دہلی پولیس کے سامنے ہمیشہ بنی رہتی ہے جسے ذہن میں رکھتے ہوئے دہلی پولیس اسرائیل ،امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں کی طرح دہشت گردی کے واقعات کا مقابلہ کرنے کے لئے خود کو ٹکنالوجی سے آراستہ کرتی رہی ہے۔ اس سے نہ صرف جانچ میں مدد ملے گی بلکہ پولیس ملازمین کا حوصلہ بھی بڑھے گا، کشمیر ،کیرل، مغربی بنگال، یوپی ،بہار ایسی ریاستی ہیں جہاں جہادی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے لیکن تمام طرح کی کوششوں کے باوجود یہ جہادی دہلی میں کوئی بڑی واردات نہیں کرسکے۔ یہ دہلی پولیس کی چوکسی کی ہی وجہ ہے کہ کوئی بڑا حملہ دہلی میں برسوں سے نہیں ہوسکا۔ ٹکنالوجی اپ گریڈ کا کام پچھلے کئی مہینوں سے چل رہا ہے لیکن پچھلے تین مہینے میں اس کام میں تیزی آئی ہے۔ خریدے گئے خاص طریقے کے آلات بم اور امپروٹائڈ ایکسکلوسیو ڈیوائز کا پتہ لگانا اور انہیں ناکارہ کرنے میں ماہر ہے۔ ان میں 23 ایکسکلوسیو ڈٹیکٹر، 21 ڈیپ سرچ میٹل ڈٹیکٹر،24 ہک اینڈ لائن مشین ، 26 فائبر پلاسٹک اسکوپ ،26 ٹیلی اسکوپی مینی پلیٹرس ہیں۔ دہلی پولیس پلاسٹنگ مشین، ریموٹ کا ر اوپنگ کٹ ، دور سے آپریٹ کرنے والے ریموٹ وہیکل بھی خرید رہی ہے جو بازاروں میں پارکنگ یا لوگوں کی آمدورفت والے مقامات پر بم یا دیگر دھماکو چیز کا پتہ لگا سکتے ہیں۔ ایک خاص سوٹ بھی خریدا جارہا ہے جسے ہیلمٹ میں لگے کیمرے سے دھماکو کے آس پاس کی ریکارڈنگ ہوتی ہے۔ ایک ریموٹ کنٹرول وہیکل ہے جو بم کو ڈٹیکٹ دور سے کر سکتی ہے۔ کوئی بھی پیکٹ پکڑا ہو تو یہ ریموٹ آپریٹو وہیکل پاس جاکر دیکھ سکتی ہے اس میں کیا ہے۔ اس سے پولیس ملازمین کی دھماکوں سے اڑنے سے حفاظت ہوگی۔
(انل نریندر)

02 اگست 2017

جیٹلی بنام کیجریوال بنام جیٹھ ملانی

مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی بنام وزیر اعلی اروند کیجریوال مقدمہ میں ڈرامائی موڑ آگیا ہے۔ اب معاملہ جیٹلی بنام کیجریوال بنام جیٹھ ملانی بن گیا ہے۔ بتادیں دسمبر 2015 میں دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال نے ڈی ڈی سی اے گھوٹالہ میں وزیر خزانہ ارون جیٹلی پر سنگین الزام لگائے تھے۔ عام آدمی پارٹی کے ترجمانوں کی پوری فوج کیجریوال کے سر میں سر ملا رہی تھی جس پر ارون جیٹلی نے کیجریوال ، آشوتوش ، راگھو، کمار وشواس کے خلاف 10 کرور روپے کے ہتک عزت کا مقدمہ کردیا۔ اس درمیان چپکے سے دہلی سرکار نے کیجریوال کے وکیل رام جیٹھ ملانی کو قریب 4 کروڑ روپے سرکاری خزانے سے دینے کا حکم جاری کردیاجسے لیفٹیننٹ گورنر نے روک دیا ہے۔ کیجریوال نے اپنی پیروی کے لئے رام جیٹھ ملانی کی خدمات لی تھیں۔ دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیانے حکم جاری کردیا تھا کہ رام جیٹھ ملانی کی فیس کی شکل میں قریب 4 کروڑ کی ادائیگی سرکاری خزانے سے کی جائے اور اس کے لئے لیفٹیننٹ گورنر سے منظوری لینے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ دہلی کی لیفٹیننٹ گورنر کی جانکاری میں جب یہ بات آئی تو انہوں نے قانون محکمے سے صلاح مانگی ،کیا ایسی ممکن ہے۔ ان کی صلاح پر اسے روک دیا گیا۔ مقدمہ میں دلچسپ و چونکانے والا موڑ تب آیا جب دہلی ہائی کورٹ نے ارون جیٹلی کے کراس ایگزامینشن میں رام جیٹھ ملانی نے ان کے خلاف نا زیبہ الفاظ کا استعمال کیا۔ ارون جیٹلی کے وکیلوں نے رام جیٹھ ملانی سے سیدھا سوال کیا کیا کیجریوال نے انہیں ان قابل اعتراض الفاظ کا استعمال کرنے کو کہا ہے؟ جیٹھ ملانی نے جواب دیا ہاں۔ جیٹھ ملانی کے مطابق اروند کیجریوال نے انہیں وزیر خزانہ ارون جیٹلی کو سبق سکھانے کیلئے کئی بار ان سے کہا تھا اور انہیں بھدے الفاظ کا بھی استعمال کیا تھا۔ انہوں نے اپنے بلاگ پر اپنا وہ خط بھی لوڈ کیا ہے جس میں انہوں نے اروند کیجریوال کو دو کروڑ روپے وکالت فیس جمع کرنے کو کہا ہے۔ سینئر وکیل نے اپنے خط میں کیجریوال کو دل پر ہاتھ رکھ کر بتانے کوکہا ہے کہ انہوں نے کتنی بار جیٹلی کے خلاف قابل اعتراض تبصرے کئے ہیں اور انہیں سبق سکھانے کوکہا ۔ رام جیٹھ ملانی نے لکھا ہے ’اچانک پچھلے کچھ ہفتوں سے مجھ سے ملاقات آپ کی کم ہوئی ہے۔ لیکن آپ کے ساتھی راگھو چڈھا اور وکیل انوپم سریواستو اس معاملہ میں مجھے تعاون دے رہے تھے۔ جیٹھ ملانی نے کہا ایک چیز تو یقینی ہے کہ میں آپ کی طرف سے اب کسی معاملہ میں جرح نہیں کروں گا۔ آپ دوسرے مقدمے کو چھوڑیئے صرف پہلے مقدمے کا پیسہ ادا کردیجئے۔ پورا واقعہ کیجریوال کے اس حلف نامہ کے بعد پیدا ہوئی جس میں انہوں نے کہا ہے کہ انہوں نے جیٹھ ملانی کو جیٹلی کے خلاف کسی قابل اعتراض لفظ کے استعمال کیلئے کبھی نہیں کہا تھا۔ کیجریوال کہتے ہیں انہوں نے جیٹھ ملانی کو کبھی ارون جیٹلی کے خلاف قابل اعتراض لفظ کا استعمال کرنے کو نہیں کہا تو سوال ہے کیا جیٹھ ملانی نے اپنی طرف سے عدالت میں ان الفاظ کا استعمال کیا؟ قابل اعتراض الفاظ کا استعمال تو ہوا ہے کیونکہ یہ سب ہائی کورٹ کی کارروائی میں درج ہے۔ جیٹھ ملانی سچ بول رہے ہیں یا کیجریوال ؟ یہ کیسے طے ہو؟ پہلے مقدمے میں ہتک عزت کی کیس کی رقم 10 کروڑ روپے سرکاری خزانے سے دی جائے یا نہیں یہ بھی سوال کھڑا ہوا ہے؟ دوسرے مقدمے میں قابل اعتراض الفاظ کی بنیاد پر جیٹلی نے جو 10 کروڑ روپے کا ہتک عزت کا مقدمہ کیا اس کی دینداری جیٹھ ملانی کی بنتی ہے یا کیجریوال کی ؟ پھر سوال بطور وکیل رام جیٹھ ملانی کے خلاف بار کونسل آف انڈیا کوئی کارروائی کرسکتا ہے یا کرے گا کیونکہ یہ پروفیشنل مس کنڈکٹ کا مقدمہ لگتا ہے؟ معاملہ ذرا پیچیدہ ہوگیا ہے۔ کیجریوال نے ایک ریلی میں کہا تھا کہ کرپشن کو لیکر عوام کے نمائندے کے طور پر اگر وہ آواز اٹھاتے ہیں تو اس کی فیس سرکار کو ہی دینی ہوگی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا ان کے پاس وکیل کو فیس دینے کے لئے پیسہ ہی نہیں ہے۔ سندر نگری میں واقع کبوتر چوک پر منعقدہ ریلی میں کیجریوال نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ فیس انہیں بھرنی چاہئے یا سرکار کو؟ اس پر جنتا نے کہا ، سرکار کو۔ آخر کیجریوال کے وکیل کی فیس دہلی سرکار کیوں بھرے یہ بھی سوال کیا جارہا ہے؟ کیا ارون جیٹلی ہتک عزت مقدمہ سی ایم کاسرکاری کام تھا؟ اب اس کیس میں کئی اشو کھڑے ہوگئے ہیں۔ دیکھیں ہائی کورٹ کیا کیا فیصلے سناتی ہے؟
(انل نریندر)

اور اب سپا ۔بسپا میں بھاجپا نے لگائی سیندھ

بھاجپا صدر امت شاہ کا تین دن کے لئے لکھنؤ پہنچنا اورسماجوادی پارٹی و بہوجن سماج پارٹی کے تین اسمبلی ممبروں کا استعفیٰ دینا نہ تو اتفاق ہے اور نہ ہی حیرت انگیز۔ بھلے ہی واقعہ اچانک کیوں نہ رونما ہواہو لیکن اس کی تیاری کافی پہلے سے چل رہی تھی۔ بھاجپا کی قومی سیاست میں نریندر مودی اور امت شاہ کے جارحانہ انداز میں حریفوں پر حملہ کرنے والے سیاسی دھرندروں کے لئے خاص موقعوں پر دوسری پارٹیوں میں بھگدڑ مچنے کا حکمت عملی سندیش دلانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لوک سبھا چناؤ 2004ء میں پردیش میں لوک سبھا کی گوتم بدھ نگر سیٹ سے کانگریس کے ٹکٹ پر چناؤ لڑ رہے راجیش تومر کے ذریعے نامزدگی کے بعد استعفیٰ دے کر بھاجپا میں شامل ہونے کے واقعہ سے اس کی شروعات ہوئی تھی۔ جس سے کانگریس میں بھگدڑ کا سندیش جائے۔ صاف ہے شاہ کے لکھنؤ میں مشن2019ء کا خاکہ طے کرنے کے لئے آنے کے ساتھ ہی ان تین اسمبلی ممبروں کا ایوان اور اپنی پارٹی سے استعفیٰ بھی اسی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے۔ بھلے ہی بھاجپا نیتا ان دونوں پارٹیوں کا اندرونی معاملہ بتاکر پلہ جھاڑرہے ہیں۔ بھلے ہی لکھنؤ میں واقعہ اچانک رونما ہوا ہو لیکن جس طرح سے شاہ کے تین روزہ دورہ لکھنؤ قیام کے دوران شروع ہونے سے پہلے ہی سنیچر کی صبح سے ہی استعفے شروع ہوئے اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ان کی ڈور شاہ کے لکھنؤ دورہ اور مشن 2019ء کے آغاز سے جڑی ہے۔ کہانی بھی سوچ سمجھ کر اتنے ہی ٹیلنٹ سے لکھی گئی تھی جیسے کے بہار میں تھی تاکہ حریف پارٹیوں میں بھگدڑ کا پیغام جائے۔ صدارتی عہدے پر رامناتھ کووند کی حلف برداری کے اگلے دن بہار کے وزیر اعلی نتیش کا استعفیٰ اور لالو یادو سے رشتہ توڑکر بھاجپا کے ساتھ سرکار بناکر این ڈی اے میں واپسی، اترپردیش سے پہلے امت شاہ کے گجرات قیام کے دوران وہاں کانگریس کے 6 ممبران اسمبلی سے استعفیٰ اب شاہ کے اترپردیش قیام سے شروع ہونے کے ساتھ ہی سپا کے دو ایم ایل سی یشونت سنگھ اور بکل نواب اور بسپا کے ایک ایم ایل سی ٹھاکر جے ویر سنگھ کا ودھان پریشد کے ایوان سے ممبر شپ اور اپنی اپنی پارٹیوں سے استعفیٰ یہ بتاتا ہے کہ بھگوا حکمت عملی کے تحت پردیش میں آپریشن حریف شروع ہوچکا ہے۔ اس میں کہیں نہ کہیں کسی طور سے اکھلیش یادو سے ناراض اور خود کو بے عزت محسوس کررہے سپا کے سرپرست ملائم سنگھ یاد و کی حمایت بھاجپا کے حکمت عملی سازوں کو کسی نہ کسی شکل میں حال ہے پارٹی ذرائع کے مطابق ودھان پریشد کے کئی ممبروں پر بھاجپا کے سینئرنیتاؤں کی نگاہیں مہینوں سے لگی ہوئیں تھیں۔اسے اتنے چپ چاپ ڈھنگ سے انجام دیا گیاسپا ۔بسپا کے بڑے نیتاؤں کو بھنک تک نہیں لگ سکی۔بھاجپا مخالف پارٹیوں میں شروع ہوئی اتھل پتھل رکنے والی نہیں ہے، یہ آگے اور بڑھے گی۔
(انل نریندر)

01 اگست 2017

گجرات راجیہ سبھا سیٹ پر اصل لڑائی شاہ بنام پٹیل ہے

گجرات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے واگھیلہ گاؤں سے کانگریس کی مشکلیں بڑھنے لگی ہیں۔ راجیہ سبھا چناؤ میں کانگریس کے امیدوار سونیا گاندھی کے بھروسے مند احمد پٹیل کو ہرانے کیلئے امت شاہ نے پورا زور لگادیا ہے۔ گجرات میں تین راجیہ سبھا سیٹوں پر چناؤ ہونا ہے دو سیٹیں تو بھاجپا کی پکی ہیں ، تیسری پر پینچ پھنسا ہوا ہے۔ اس تیسری سیٹ پر کانگریس نے احمد پٹیل کو امیدوار بنایا ہے۔ تین مہینے جیل میں رہ کر بھاجپا صدر امت شاہ ایک بات جان چکے تھے کہ اگر ان کا کوئی سب سے بڑا سیاسی دشمن ہے تو وہ صرف احمد پٹیل ہے۔ حالات گواہ ہیں کہ سیاسی عداوت کے چلتے پٹیل نے شاہ کو پولیس انکاؤنٹر معاملہ میں سلاخوں کے پیچھے بھجوایا تھا۔ ایسا امت شاہ کا خیال ہے۔ جس دیش میں بے قصور اشخاص کے انکاؤنٹر میں دروغہ جیل نہیں جاتے اسی دیش میں لشکرطیبہ کے دہشت گردوں کے انکاؤنٹر میں گجرات کے وزیر داخلہ رہے امت شاہ کو جیل بھیجا گیا تھا۔ واقعہ کے 7 سال بعد آج حکومت امت شاہ کی مٹھی میں ہے اور سڑک پر احمد پٹیل کھڑے ہیں۔ 1988 ء میں جب احمد پٹیل نے امیتابھ بچن کے کئی کنسرٹ کراکر کانگریس پارٹی کے لئے2.50 کروڑ کا چندہ اکٹھا کیا تھا انہیں معلوم نہیں تھا کچھ سال بعد پارٹی کا سارا حساب کتاب ان کے ہاتھ میں آنے والا ہے۔ لیکن پٹیل کی قسمت یا سیاسی مینجمنٹ کچھ زیادہ غضب کا تھا اور 2001ء آتے آتے ان کے ہاتھوں میں حساب کتاب ہی نہیں پوری پارٹی کی کمان آگئی جب سونیا گاندھی نے پٹیل کو اپنا سیاسی مشیر بنالیا۔ کہنے والے تو کہتے ہیں کہ 2004ء اور 2009ء کے لوک سبھا چناؤ احمد پٹیل کی حکمت عملی اور تکڑم بازی کے زور پرجیتا تھا اس لئے گاندھی خاندان کے بعد کانگریس میں سب سے طاقتور منموہن سنگھ نہیں احمد پٹیل کو مانا گیا۔ حالانکہ پٹیل عام طور پر لو پروفائل پر رہے لیکن پٹیل ایک غلطی ضرور کر بیٹھے وہ گجرات کی اپنی سیاسی عداوت کو نہیں بھولے اور شاید اس لئے پٹیل نے سی بی آئی کو لے کر این آئی اے جیسی قومی ایجنسیوں کے ہاتھوں نریندر مودی اور امت شاہ کو ہر موقعہ پر بے عزت کرایا۔وہ چاہے عشرت جہاں کا معاملہ ہو یا جرائم پیشہ سہراب الدین کی پولیس مڈ بھیڑ میں موت کا معاملہ۔ پٹیل نے کبھی شندے تو کبھی چدمبرم کے ساتھ مل کر امت شاہ کو جیل پہنچانے کے سارے انتظام ضرور کروائے ۔کہا جاتا ہے کہ چدمبرم کے ساتھ مل کر شاہ۔ مودی پر آئے دن حملہ کروائے۔ احمد پٹیل کی زیادتیوں کو مودی تو کچھ حد تک بھول گئے لیکن امت شاہ کو اپنے جیل کے دن آج بھی یاد ہیں ایسا شاہ کی گجرات حکمت عملی سے لگتا ہے۔ دہلی میں کانگریس کا اونٹ کس کرونٹ بیٹھتا ہے ۔ جیسے ہی رائے سیناہل سے نیچے اترے تو احمد پٹیل کے دن بھی لدے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ پہلے ان کا نام ہیلی کاپٹرگھوٹالہ میں اچھلا اور اب راجیہ سبھا چناؤ میں وہ گھرتے نظر آرہے ہیں۔ پچھلے 48 گھنٹوں میں جس طرح گجرات میں کانگریس ممبران اسمبلی میں بھگدڑ مچی ہے اس سے لگتا ہے کہ احمد پٹیل کہیں چناؤ نہ ہارجائیں اور سڑک پر آجائیں۔ دراصل امت شاہ ہر قیمت پر پٹیل کو راجیہ سبھا سے چار دہائیوں کے بعد باہر دیکھنا چاہتے ہیں۔ ممبران کے تھوک بھاؤں میں ٹوٹنے سے کانگریس میں زبردست کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ پارٹی کے حکمت عملی ساز پورا زور لگا رہے ہیں اور ہر داؤ آزما رہے ہیں۔ اس سلسلے میں کانگریس نے جمعہ کو استعفیٰ دینے والے ممبران کے خلاف دلبدل قانون کے تحت قانونی کارروائی کرنے کی وارننگ دے ڈالی۔ بھاجپا اور وزیر اعظم نریندر مودی پر لالچ دیکر کانگریس ممبران کو توڑنے کا الزام بھی لگایا ہے۔ درکار تعداد میں ممبر رہنے کے باوجود اگر کانگریس میں یہ ہائی پروفائل لیڈر بھاجپا کی جانب سے بچھائی جارہی بساط پر مات کھا گئے تو ہار پوری پارٹی کے لئے ہوگی۔ شنکرسنگھ واگھیلا کے پارٹی چھوڑنے اور بہار میں مہا ب گٹھ بندھن سے نتیش کے باہر جانے کے بعد گجرات میں اگر راجیہ سبھا کی سیٹ چلی گئی تو اسمبلی چناؤ سے چارمہینے پہلے راجیہ چناؤ میں تبدیلی ہوئی تو پردیش کے اقتدار کو لیکر اس کی جاگی امیدوں پر پانی پھر جائے گا۔
(انل نریندر)

غیرمستحکم پاکستان بڑھائے گا بھارت کی فکرمندی

پنامہ گیٹ کانڈ میں پاکستان سپریم کورٹ کے ذریعے پی ایم نواز شریف کو نا اہل قرار دینے کے تاریخی فیصلے کے بعد پیدا ہوئے ماحول پر ہندوستان کو چوکس رہناہوگا۔ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام بڑھنے سے بھارت کا فکرمندہونا فطری ہے۔ نواز شریف پاکستان کے سب سے بڑے لیڈر ہیں ان کا سب سے زیادہ اثر رکھنے والے پنجاب صوبے سمیت پورے پاکستان پر دبدبہ رہا ہے۔ انہیں نااہل قراردینے کے بعد نہ صرف پاکستان مسلم لیگ (ن) میں بلکہ دیگر اپوزیشن پارٹیوں میں بھی ان کے قد کے آس پاس بھی پہنچنے والا کوئی لیڈر نہیں ہے۔ ایسے میں پاکستان کے جمہوری نظام میں تاریکی پیدا ہوگی اور فوج خودکو زیادہ سے زیادہ مضبوط کرنے کی کوشش کرے گی۔ ایک غیر مستحکم پاکستان فطری طور سے بھارت کی فکرمندی بڑھائے گا۔ شروع سے ہی ذہنی طور سے بھارت مخالف پاکستانی فوج نے جب جب جمہوریت کے مضبوط ہونے کی حالت دیکھی اسے کچل ڈالا۔ اسی وجہ سے خود نواز شریف بطور وزیر اعظم اپنی تیسری میعاد پوری نہیں کرپائے۔ ڈپلومیٹک مبصر مانتے ہیں کہ نئے وزیراعظم گھریلو مشکلات سے توجہ ہٹانے اور فوج کی حمایت حاصل کرنے کے لئے کشمیر میں تشدد کو بڑھاوا دینے اور سرحد پردہشت گردوں کی دراندازی تیز کرنے کے لئے فوج کو فری چھوٹ دے سکتے ہیں۔ حالانکہ تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ نواز شریف پاکستان میں بھارت مخالف آتنک وادی گروپوں پر نکیل کس پانے میں کامیاب نہیں رہے تھے لیکن بین الاقوامی دباؤ میں ان کی سرکار کو حافظ سعید کو نظربند کرنا پڑا۔ آتنکی گروپوں پر کارروائی کو لیکر امریکہ کا دباؤ بھی نواز شریف پر بنا ہوا تھا لیکن نئی سرکار میں فوج کا دخل بڑھتا ہے تو کٹر پسند عناصر کو بھی چھوٹ مل سکتی ہے۔ کیونکہ پی اوکے میں چل رہے آتنکی کیمپ اور پاک میں سرگرم جہادی تنظیموں کو پاک فوج اور آئی ایس آئی کی کھلی مدد ملتی رہی ہے۔ پاکستانی فوج کے ساتھ آتنکی گروپوں کے ممبر کئی بار فوج کی وردی میں دیکھے گئے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ رشتوں کو بہتر بنانے کی اگر کوئی بچی کچی امید تھی اب اس کے ختم ہونے کے آثار بڑھ گئے ہیں، پٹھانکوٹ و اری حملہ کے بعد دونوں ملکوں میں مسلسل تلخی برھی ہے۔ بھارت بین الاقوامی اسٹیج پر پاکستان کے آتنکی چہرے کو بے نقاب کرنے کی لگاتار کوشش کررہا ہے، جبکہ سرحد پار سے بھی کشمیر میں دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کی ہر ممکن کوشش ہورہی ہے۔ پاک فوج کا بھارت کے خلاف رخ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ تین معاملوں میں بری طرح مات کھانے کے بعد دہشت گردی کے ذریعے پچھلے تین دہائی سے درپردہ جنگ لڑ رہا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کے وجود کو زبردست چنوتی ہے۔ دیکھیں وہاں جمہوریت مضبوط ہوتی ہے یا فوج زیادہ حاوی ہوتی ہے؟
(انل نریندر)

30 جولائی 2017

گو نواز گو شروعات ، گون نواز گون پر ختم

آخری کار پنامہ پیپر کے خلاصہ نے ایک اور وزیر اعظم کی بلی لے لی۔ سب سے پہلے آئس لینڈ کے وزیر اعظم کو عہدہ چھوڑنے کیلئے مجبور ہونا پڑا تھا جن پر الزام تھا کہ وہ ان کی بیوی نے دیش کے باہر کمپنیوں میں کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جانکاری دیش سے چھپائی۔ اب پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف دوسرے پرائم منسٹر ہیں جن کی بلی پنامہ پیپرس نے لے لی ہے۔ پچھلے سال اپریل میں انکشاف ہوا تھا کہ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے تین بچوں نے بیرون ملک میں کمپنیاں کھولیں اورا ن کے ذریعے دیش سے باہر چالاکی سے جائیداد بنائی لیکن حقیقتاً یہ حقائق خاندان کی املاک کی تفصیل میں شامل نہیں کئے گئے اس کی جانچ کیلئے پاک سپریم کورٹ نے 6 نفری جانچ ٹیم بنائی تھی۔ پچھلی10 جولائی کو اس ٹیم نے اپنی رپورٹ بڑی عدالت کو سونپی تھی جس میں ان کے خاندان پر آمدنی سے زیادہ جائیداد رکھنے ، آمدنی کے ذرائع کو چھپانا، دھوکہ دھڑی کرنا، فرضی دستاویز بنانے جیسے سنگین الزام لگائے گئے تھے۔ اسی رپورٹ کی بنیاد پر انہیں اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو جمعہ کو نا اہل قراردیا گیا تھا۔ عدالت نے نواز پر تاحیات چناؤ لڑنے پر روک لگاتے ہوئے کہا کہ وہ پارلیمنٹ اور عدالت کے تئیں ایماندار نہیں رہے اس لئے وزیر اعظم عہدے پر بنے رہنے کے لائق نہیں ہیں۔ نواز پر وزیر اعظم عہدے پر رہنے کے دوران لندن میں بے نامی جائیداد بنانے کا الزام ہے۔ پچھلے سال پنامہ پیپرس لیک کی جانچ رپورٹ میں نواز اور ان کے دو بیٹے اور بیٹی پر آمدنی کے ذرائع چھپانے، کمائی سے زیادہ عالیشان زندگی جینے وغیرہ جیسے الزامات تھے۔ بچاؤ میں داخل کچھ دستاویز بھی فرضی ثابت ہوئے۔ محض ایک غلطی کے سبب نواز کی جعلسازی پکڑی گئی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے فوراً بعد نواز شریف نے اپنے استعفے کا اعلان کردیا۔ نواز کا سیاسی مستقبل ایک طرح سے ختم ہونے کے بعد پاکستان کی حکمراں پارٹی پی ایم ایل این کی میٹنگ میں نواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف کو اگلے پی ایم کے لئے نامزدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔شہباز فی الحال پنجاب کے وزیر اعلی ہیں انہیں پی ایم بنانے کے لئے نیشنل اسمبلی کی منظوری لینی ہوگی۔ حالانکہ وہاں پارٹی کی اکثریت ہونے سے دقت تو نہیں آنی چاہئے شہباز کو نواز سے زیادہ تیز طرار سمجھا جاتا ہے۔ واقف کار مانتے ہیں کہ نواز کے اقتدار میں رہنے یا نہ رہنے سے بھارت۔ پاک رشتوں میں بڑی تبدیلی نہیں آنے والی ہے۔ وہ پہلے بھی برے کو اور آگے بھی حالات کو شاید ہی بدلیں۔ پاکستانی موقف میں کشمیر جیسی کچھ بنیادی باتیں ہیں ، جو بھارت کے معاملے میں ہمیشہ ایک جیسی رہی ہیں۔ اس فیصلے سے بہرحال پاکستانی فوج جو پہلے بھی مضبوط تھی، اب اور زیادہ مضبوط ہوجائے گی۔ پنامہ پیپرس کیا ہے یہ بھی بتادیں۔ پنامہ کا طریقہ اور پیمانے اور اس کے بعدلیک ہوئے ٹیکس دستاویزوں میں دنیا کی کئی اہم شخصیتوں کے نام ہیں۔ ان میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے قریبیوں اور پاکستان کے پی ایم نواز شریف (داغی قرار) ، مصر کے سابق صدر حسنی مبارک،شام کے صدربشر الاسد، پاک کے سابق وزیر اعظم مرحومہ بے نظیر بھٹو، لیبیا کے سابق حکمراں کرنل قزافی سمیت کئی ہستیوں کے نام ہیں۔ چینی صدر جنگ پنگ کے خاندان کا آف شیور کھاتوں سے تعلق ہے۔ اس کے علاوہ قریب 500 ہندوستانی ہستیوں کے نام بھی پنامہ پیپرس لیک میں ہیں۔ نواز شریف اور ان کا خاندان ایک خطرناک مرکب کی علامت بن گئے تھے۔ سیاست اور اقتدار کے ساتھ ساتھ کاروبار میں بھی بالادستی اور صحیح غلط طریقوں سے پیسہ اکٹھا کرنے کی ہوس ۔ ایسے میں اپنے بارے میں حقائق کو چھپانا، شفافیت کی پرواہ نہ کرنا نواز کو بھاری پڑا۔ اقتدار میں بیٹھے لوگ ساری جانچ ایجنسیوں کو اپنی سہولت کے مطابق چلاتے رہتے ہیں ورنہ شریف پریوار کا بھانڈہ بہت پہلے بے نقاب ہوجاتا۔ پنامہ پیپرس کے خلاصہ کا دائرہ کئی دیشوںں تک پھیلا ہوا ہے اور اس میں بھارت میں شامل ہے۔ پاکستانی عوام نے سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کا زور دار طریقے سے خیر مقدم کیا ہے۔ ایک پاکستانی نے لکھا’مجھے پاکستان پر فخر ہے اور یہ ایک نئے پاکستان کی شروعات ہے۔‘
(انل نریندر)

یوپی کی شکشا متروں کو سپریم کورٹ سے جھٹکا

اترپردیش میں اسسٹنٹ ٹیچر کے عہدے پر شکشا متروں کی تقرری کولیکر منگل کو سپریم کورٹ نے ایک بڑا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کہا 1لاکھ 72 ہزار شکشا متروں میں سے کھپائے ہوئے 1 لاکھ 36 ہزار شکشا متر اسسٹنٹ ٹیچر کے عہدے پر بنے رہیں گے وہیں سبھی 1لاکھ72 ہزار شکشا متروں کو دو سال کے اندر ٹی ای ٹی (ٹیچرس صلاحیت ٹیسٹ) پاس کرنا ہوگا۔ اس فیصلے سے 1.72 لاکھ شکشا متروں کو زور کا جھٹکا لگا ہے لیکن عدالت نے انسانی اور سماجی ٹیچر کو بھی اپنے فیصلے میں شامل کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کورٹ نے یہ حکم پاس کیا کہ شکشا متر فوراً نہیں ہٹائے جائیں گے۔ 72 ہزار اسسٹنٹ ٹیچر جو پورے طور سے ٹیچر بن گئے انہیں صحیح بھی ٹھہرایا ہے۔ اس کے علاوہ کورٹ کے فیصلہ کے کئی اور مطلب ہیں جنہیں سنجیدگی کے ساتھ اترپردیش کے ساتھ ساتھ باقی ریاستوں کو بھی محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے حالانکہ ،شکشا متروں کو ضروری صلاحیت حاصل کر دو بھرتیوں میں حصہ لینے کا موقعہ دیا جائے گا۔ بھرتی میں ان کے تجربے کو بھی ترجیح دی جائے گی۔ یہ فیصلہ جسٹس آدرش کمار گوپال و جسٹس للت پر مشتمل بنچ نے ہائی کورٹ کے مختلف احکامات کو چنوتی دینے والی عرضیوں کا نپٹارہ کرتے ہوئے سنایا ہے۔ کیونکہ تعلیم ضروری موضوع ہے اور یہ سبھی کے صلاح مشورے سے ہوتا ہے لیکن اس کے برعکس زیادہ تر سرکاروں نے اسے ووٹ بینک اور سستی مقبولیت کے پیمانے پر رکھا ہے۔ شکشا متروں کی تقرری کے معاملہ میں بھی اترپردیش کی سابقہ سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کی سرکار نے سطحی نظریئے کا ثبوت دیا ہے۔ سرو شکشا ابھیان کے تحت ٹیچروں کی تقرری کو ضروری بتا کر ان لوگوں کو بھی اس ذمہ داری بھرے سیکٹر میں شامل کرلیا گیا جس سے فائدہ کم اور تعلیم کو نقصان زیادہ ہوا ہے۔ کورٹ نے سرکار سے بھی ٹیچروں کی کمی کا بہانہ بنا کر کی گئی تقرریوں کو جائز نہیں ٹھہرایاجاسکتا۔ اپنے دائرہ میں دستیاب ٹیلنٹ کو عزت نہیں بخشی ہے جو قانون ٹیچر دینے کے لائق تھے یا نہیں انہیں اہلیت میں رعایت دے کر شکشا متر بنایا گیا ورنہ تربیت یافتہ ٹیچر کی اہمیت ہوتی ہے اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ اس لحاظ سے شکشا متروں کے معاملے میں پاس یہ فیصلہ دوررس نتیجے دینے والا ایک تاریخی فیصلہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اس فیصلے سے سپریم کورٹ نے یہ بھی جتا دیا ہے کہ قاعدے قانون سے نہیں چلنے پر عدالت اسی طرح مداخلت کرتی رہے گی۔ اس فیصلے پر شکشا متروں میں ناراضگی پیدا ہونا فطری ہی ہے۔ متھرا میں مہلا شکشا متر نے زہر کھاکر جان دے دی ۔ کئی دیگر اضلاع میں شکشا متروں نے سڑکوں پر مظاہرے کئے اور توڑ پھوڑ کے بعد فائلیں تک جلادیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یوگی سرکار پورے معاملے کو کیسے ہینڈل کرتی ہے؟
(انل نریندر)

امریکہ میں 7 جگہ حملے کس نے کئے ؟

امریکہ کے 7 ریاستوں میں ایک کے بعد ایک زبردست اٹیک ہوئے ہیں یہ حملے سیدھے اس لائف لائن پر ہوئے ہیں ،جس کی درد سے عام جنتا کراہ اٹھی ۔اس حملے...