پاکستان اس وقت سنگین اندرونی جدوجہد ،سیاسی عدم استحکام اور صوبوں میں مسلح بغاوت جیسی سنگین اندرونی چنوتیوں سے لڑرہا ہے ۔فوج کے بڑھتے دخل ، اقتصادی بحران اور دہشت گردوں کے تابڑتوڑ حملوں کے سبب دیش کے اندر خانہ جنگی جیسے حالات بنے ہوئے ہیں ۔پاکستان کے 4 صوبے ہیں ان میں سے بلوچستان صوبہ میں علیحدگی پسند بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے ) نے بغاوت کا جھنڈا بلند کیا ہوا ہے ۔خیبر پختونخواہ صوبہ میں افغان طالبان کا دبدبہ بڑھتا جارہا ہے ۔آئے دن طالبان کے حملوں سے یہاں پاک فوج کے پاؤں اکھڑ رہے ہیں ۔پی او کے میں پاکستانی فوج کی بربریت پر بغاوت کی صورتحال بنی ہوئی ہے ۔چلیے تفصیل سے ساری صورتحال کو بتاتے ہیں ۔بلوچستان پاک کا سب سے بڑا پھیلا ہوا تقریباً 45 فیصدی سب سے بڑا خطہ ہے ۔ایران سے اس کی سرحد لگتی ہے ۔بلوچستان کے بی ایل اے لڑاکے الگ دیش کی مانگ کررہے ہیں ۔حالت یہ ہے بلوچ لڑاکوں اور پستو (پٹھان ) باغیوں کا بلوچستان صوبہ میں تقریباً 70 فیصد حصے میں قبضہ ہوچکا ہے ۔اصلی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی سرکار پولیس اسٹیشن کھلا رخ رکھ سکتی ہے۔ سارے صوبہ پر ٹریفک چلاسکتی ہے بازار اور کاروبار بحال رکھ سکتی ہے اور لوگوں کو بغیر ڈر کے سفر کرنے کی سیکورٹی دے سکتی ہے ؟ خیبر پختونخواہ پاکستان کا سرحدی علاقہ ہے ۔ڈورنٹ لائن پاک اور افغانستان کو الگ کرتی ہے ۔ افغانستان میں طالبان سرکار کے پانچ سال میں خیبر کے زیادہ تر علاقہ میں انہیں کا دبدبہ ہے ۔خیبر میں پاک سرکار کا قانون نہیں بلکہ طالبان کا شرعی قانون چلتا ہے ۔دراصل اس علاقہ میں تقسیم کے وقت سے ہی قبائلی نظام لاگو رہا ہے ۔سوات اور سیدو چنگورا اور مردن میں لویا جرگا کے ذریعے قانون چلتا ہے ۔یہ جرگا اصل میں شرعیہ قانون کو لاگو کرتی ہے ۔افغان طالبان تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی ) تنظیم کو اپنے اڈوں میں پناہ دیتا ہے ۔عمران خان کی سرکار نے 2021 میں ٹی ٹی پی کے ساتھ صلح کی کوشش کی لیکن عمران کی گدی جاتے ہی ٹی ٹی پی نے خیبر میں اپنےدبدبہ کواور بڑھا لیا ۔خیبر کے وزیرستان میں پاکستان فوج کئی فوجی کاروائیاں کر چکی ہے ۔لیکن یہاں ابھری ٹی ٹی پی قابض ہے ۔آئے دن ٹی ٹی پی کے حملوں کے سبب اسکول اور کالج بند رہتے ہیں ۔پنجاب اور سندھ کے اصل باشندے نگراں خیسر میں اپنی پوسٹنگ نہیں چاہتے ۔پاکستان کے قبضہ والے کشمیر (پی او کے) اور دیگر علاقوں میں کچلنے والی پالیسیوں اور اختیارات کی عدولی کو لے کر جنتا میں بھاری ناراضگی اور زبردست مظاہرے دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔بڑی تعداد میں مظاہرین مارے جا چکے ہیں ۔اگر ہم سیاسی پش منظر کی بات کریں تو سرکار فوج کےبیچ اقتدار کے تجزیوں اور حالیہ آئینی ترامیم کو لے کر عدلیہ اور سیاسی گلیاروں میں تلخ کھینچ تان اور بغاوت کا ماحول ہے ۔کل ملا کر پاکستان کے اندرونی حالات بہت خراب ہو رہے ہیں ۔اگر یہی صورتحال رہی تو پاکستان کے کئی ٹکڑوں میں بٹنے کے امکان سے انکار نہیں کیاجاسکتا ۔
(انل نریندر)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں