Translater
22 نومبر 2025
پی کے کیوں چاروں کھانے چت ہوئے
2025 کے بہار اسمبلی انتخابات پرشانت کشور اور ان کی جن سورج پارٹی کے لیے پہلا بڑا انتخابی امتحان تھا۔ اس انتخاب نے پرشانت کشور کی اپنی پیشین گوئی کو ثابت کر دیا کہ ان کی پارٹی یا تو اوپر اٹھے گی یا نیچے گر جائے گی۔ نتائج نے پارٹی کو نیچے رکھا۔ پرشانت کشور کی تصویر پر بنائی گئی جارحانہ اور وسیع مہم کے باوجود جن سورج پارٹی اپنے ابتدائی جوش کو ووٹوں میں تبدیل کرنے میں ناکام رہی۔ اس نے 243 میں سے 238 سیٹوں پر الیکشن لڑا، ایک بھی سیٹ جیتنے میں ناکام رہی۔ دس میں سے چار رائے دہندگان (تقریباً 39 فیصد) نے فون کال، ایس ایم ایس، واٹس ایپ، یا سوشل میڈیا کے ذریعے پارٹی کی طرف سے کم از کم ایک سیاسی پیغام موصول کرنے کی اطلاع دی، جس میں سب سے زیادہ تعداد بی جے پی کی ہے۔ اسی طرح 43 فیصد نے گھر گھر رابطہ کرنے کی اطلاع دی، جس سے جن سورج پارٹی ووٹروں سے رابطہ کرنے کے اس طریقہ کار کے لحاظ سے تیسری سب سے بڑی پارٹی بن گئی۔ رابطے کی اس سطح نے پارٹی کو عملی طور پر بہار کی بہت سی زیادہ قائم پارٹیوں کے برابر کر دیا ہے۔ اتنی موجودگی کے باوجود اس کی حمایت محدود رہی۔ اس کے بعد سے یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا پرشانت کشور سیاست چھوڑ دیں گے۔ منگل کو پٹنہ میں ایک پریس کانفرنس میں پرشانت کشور نے اپنے بیان کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا، "میں بالکل اس پر قائم ہوں، اگر نتیش کمار کی حکومت نے ووٹ نہیں خریدے تو میں سیاست سے ریٹائر ہو جاؤں گا۔" پریس کانفرنس میں ایک صحافی نے جواب دیتے ہوئے پوچھا کہ جب انہوں نے یہ بیان دیا تو انہوں نے شرائط کیوں نہیں بتائیں۔ پرشانت کشور نے جواب دیا، "میں کون سا عہدہ رکھتا ہوں کہ میں استعفیٰ دوں گا؟ میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں بہار چھوڑ دوں گا۔ میں نے سیاست چھوڑ دی ہے، میں اب سیاست دان نہیں ہوں، لیکن میں نے یہ نہیں کہا کہ میں بہار کے لوگوں کے مسائل کو اٹھانا چھوڑ دوں گا۔" جن سورج پارٹی کا دعویٰ ہے کہ نتیش کمار کی حکومت نے انتخابات سے قبل متعدد اسکیمیں شروع کیں اور بہار کے لوگوں کے کھاتوں میں رقم منتقل کی۔ ان اسکیموں نے این ڈی اے کو دوبارہ اقتدار میں لایا، اور جن سورج پارٹی کو شکست ہوئی۔ تاہم، پرشانت کشور خود اپنی جن سورج پارٹی کے لیے بہت کچھ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے کئی مواقع پر دعویٰ کیا کہ اس بار بہار میں تبدیلی آئے گی اور نتیش کمار وزیر اعلیٰ نہیں بنیں گے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ پرشانت کشور اس شکست کے باوجود سیاست نہیں چھوڑیں گے۔ وہ لمبی دوری کا رنر ہے۔ انہوں نے پڑھے لکھے لوگوں سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی اور اچھے مسائل اٹھائے۔ پرشانت کشور نے نامہ نگاروں سے کہا، "جہاں گزشتہ 50 سالوں سے ذات پات کی سیاست کا غلبہ ہے، وہاں ہماری پہلی کوشش میں 10 فیصد ووٹ حاصل کرنا ہمارا کرشمہ ہے یا کچھ اور، فیصلہ آپ کریں۔" پرشانت کشور نے مزید کہا، "اگر ہماری پارٹی کو 10 فیصد ووٹ ملے ہیں تو یہ میری ذمہ داری ہے، اگر یہ میری اکیلے کی ذمہ داری نہیں ہے تو بھی میں پیچھے ہٹنے والا نہیں ہوں۔ اس 10 فیصد کو بڑھا کر 40 فیصد کرنا ہوگا۔ چاہے ایسا ایک سال میں ہو یا پانچ سال میں۔"
-انیل نریندر
20 نومبر 2025
بہار نتائج قومی سیاست پر گہرا اثر کریں گے
بھارت میں 10 سال سے مرکز اور زیادہ تر ریاستوں میں سرکار چلا رہی بی جے پی جب لوک سبھا چناؤ2024 میں 240 سیٹوں پر اٹک گئی اور بیساکھیوں کے سہارے اقتدار میں آئی تو کئی تجزیہ نگاروں کو لگا تھا کہ یہاں سے ہندوستانی سیاست میں شاید بی جے پی ڈھلان پر آجائے لیکن اسکے بعد سے دیش کی کئی ریاستوں میں ہوئے چناؤ میں مسلسل جیت کر بی جے پی نے ثابت کر دیا کہ یہ جائز ے کہیں نہ کہیں غلط تھے ۔ہریانہ مہاراشٹر دہلی اور اب بہار میں جیت درج کرنے کے بعد بی جے پی نے یہ ثابت کر دیا وہ چناؤ جیتنا جانتی ہے ۔آج بھی چناؤی حکمت املی بنانے اور اسے کامیاب کرنے میں بی جے پی کے سامنے کوئی سیاسی پارٹی ٹھہرتی نہیں ہے تازہ مثال بہار کی ہے ۔اب بھارت کے اہم ہندی زبان والی ریاست بہار میں بھی بی جے پی ،جے ڈی یو اور کئی علاقائی پارٹیوں کے این ڈی اے اتحاد نے غیر متوقع اور بے مثال جیت درج کی ہے ۔بہار اسمبلی چناؤ کا نتیجہ بھارت و قومی سیاست پر گہرا اور دورندیشی اثر ڈال سکتا ہے۔یہ نتیجہ بی جے پی کےلئے ایک بڑی جیت اور مثبت اشارے کی شکل میں دیکھا جا رہا ہے جس نے مرکز کی این ڈی اے سرکار اور اسکی قیادت کو مضبوطی دی ہے وہیں اپوزیشن کےلئے ےہ چنوتی اور زمینی ستہ پر تنظیم کو مضبوط کرنے کا الرٹ ہے۔تجزیہ نگار مانتے ہیں کہ اپوزیشن کو اپنی پالیسیوں و قیادت اور حکمت املی میں وسیع بہتری لانے ہوگی تاکہ وہ قومی ستح پر ٹھوس چنوتی پیش کر سکیں۔اس میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی کہ بی جے پی نتائج سے اور مضبوط ہو کر ابھرے گی اور اسکا اثر کئی آنے والے انتخابات پر دیکھائی دے گا ۔تجزیہ نگار یہ بھی مان رہے ہیں بی جے پی کے اندر نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ اور مضبوط ہوں گے بھاجپا کے چانکیہ امت شاہ کی چناؤی حکمت املی ایک بار پھر سہی ثابت ہوئی ۔بہار چناؤ نتیجے نے بی جے پی ،نریندر مودی اور امت شاہ کی لیڈر شپ کر پھر سے مضبوط کر دیا ہے۔تجزیہ نگار ہمنت ورنی کے مطابق بہار چناؤ نے مرکز کی سرکار کی پوزیشن جو 2024 کے لوک سبھا چناؤ میں اقلیتی پوزیشن کا سامنا کر رہی تھی اب کھل کر اپنے ایجنڈے کو چلا سکے گی۔ اب اسے مرکزی سرکار کی کمزوری پر لگتے سوالیہ نشانوں کی زیادہ فکر نہ ہوگی ۔اب بی جے پی اور اسکی حکمت املی پر اپوزیشن کے حملے کم ہو سکتے ہیں اور بی جے پی دلتوں پجھڑوں طبقوں سے حمایت حاصل کرنے کی اپنی صلاحیت کو پیش کرے گی ۔بی جے پی صدر کا فیصلہ جو پچھلے کئی ماہ سے لٹکہ ہوا تھا اب اسکا فیصلہ بھی جلد ہو سکتا ہے۔اب پھر سے اس نظریہ کو تقویت ملے گی کی مودی اجے ہیں انہیں کوئی بھی اقتدار سے ہلا نہیں سکتا۔اس سے اپوزیشن کے حوصلے پر بھی اثر پڑے گا۔سی ایس ڈی ایس کے ڈائریکٹر پروفیسر سنجے کمار مانتے ہیں کہ ہندوستانی سیاست پر بھاجپا کا ایک طرفہ راج مضبوط ہو رہا ہےجو لوک سبھا چناؤ کے بعد لگنے لگا تھا کہ شائد بی جے پی کا اثر کم ہو رہا ہے ۔لیکن لگاتار کئی ریاستوں میں پارٹی کی جیتنے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اجے ہیں اور چناؤ حکمت املی میں اس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ بہار کے چناؤ نتیجوں سے بی جے پی کا بھروسہ اور وبڑھے گا پارٹی کےلئے یہ ایک جوش بڑھانے والا نتیجہ ہے ،خاص کر ،آسام تامل ناڈو،کیرل اور مغریبی بنگال کے چناؤ سے پہلے ۔تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ کسی ایک ریاست کے نتیجے سے کچھ سبق تو سکھے جا سکتے ہیں لیکن اس سے پورے دیش کا مزاج بدلنا مشکل نظر آتا ہیں۔تجزیہ نگار اس بات سے متفق ہیں بہار نتیجوں نے یہ ثابت کیا ہے اب عورتوںکو الگ ووٹر گروپ کی شکل میں دیکھا جائے بہار نتیجوں کا سبق یہ ہے کہ سیاسی پارٹی خاتون ووٹر کی اہمیت سمجھیں گےاور یہ سمجھ بڑھے گی کی عورتوں کو اپنے ساتھ رکھنا ہے اور اپنے چناؤی منشور میں اس بات کا خیال رکھ کر اسکیمیں بنانی ہوں گی۔این ڈی اے اتحاد نے یہ دیکھایا کی کچھ ایسے واعدے کریں جنہیں پورا کر سکیں آنے والی وقت میں ہندوستانی سیاست پر بہبود یعنی سماجی بہبودی اسکیموں کا اثر زیادہ نظر آ سکتا ہے۔ یہ بات این ڈی اے کی بہار جیت سے صاف ہو چکی ہے۔
انل نریندر
18 نومبر 2025
بہار میں نتیش کمار کی بھروسہ مندی!
بہار اسمبلی چناؤ کے نتیجوں نے یہ تو ثابت کر ہی دیا ہے کہ 20سالہ عہد کے بعد بھی نتیش کمار کا ابھی بھی بھروسہ بنا ہوا ہے۔آج بھی نتیش بہار کے سب سے بڑے مظبوط لیڈر ہیں۔ اسمبلی چناؤ مہم کے دوران انکی صحت اور سرگرمی پر سوال چھائے رہے۔میڈیا سے انکی دوری کچھ سطحوں سے انکے بیان اور انکے ترج عمل پر لوگ سوال پر سوال اٹھا رہے تھے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے اسٹیج پر انکی غیر موجودگی اور روڈ شو میںبرابر نہ شامل ہونا تنازعہ اشو بنا ہوا تھا۔بہار کے اپوزیشن لیڈر تجسوی یادو نتیش کمار لاچار وزیر اعلی کہتے تھے لیکن یہ سب کے باوجود بہار کے عوام کہ رہے تھے نتیش کمار کی پارٹی اس مرتبہ اچھی پرفارمینس پیش کرے گی۔جے ڈی یو نے غیر متوقع جیت درج کی پارٹی دفتر سے لےکر وزیر اعلی ہاؤس تک پوسٹر لگے۔ٹائگر ابھی زندہ ہے جے ڈی یو کے نگراں صدر سنجے جھا پہلے سے ہی اپنے انٹرویو میں کہہ چوکے تھے نتیش کمار کو جب جب ہلکے میں لیا جاتا ہے تو وہ اپنی پرفارمینس میں لوگوں کو چوکاتے ہیں۔ اس بار بہار میں 67.3فیصد پولنگ ہوئی جو پچھے چناؤ سے 9.6فیصد زیادہ ہے۔مردوں کے مقابلے میں عورتوں کا پولنگ 8.15فیصد زیادہ رہا۔عام طور پر یہ مانا گیا تھا نتیش کمار کو اس مرتبہ عورتوں کی بھاری حمایت مل رہی ہے اور یہ چناؤ نتائج میں بھی نظر آیا۔ ممکن ہے کہ ایم جے بی کو بھی اسکا احساس تھا۔اس لئے پہلے مرحلے کی پولنگ سے مہج 15دن پہلے تجسوی یادو نے جیویکا دیدیوں کیلئے پکی نوکری تیس ہزار تنخواہ ،قرض معافی دو سال تک سودھ نجات کریڈت ،دو ہزار کا مزید بھتہ ،پانچ لاکھ تک کا بیمہ کرنے جیسے لمبے چوڑے وعدہ کئے اسکے باوجود نتیجہ انکے حق میں نہیں آئے مہا گٹھ بندھن نے چناؤ سے ایک ماہ پہلے نتیش کمار سرکار کی طرف سے جیویکا دیدیوں کے خاتے میں دس دس ہزار روپے کیش بنے پھر فائدہ این ڈی اے کو ہوا۔ایسا نہیں کہ اپنی طویل معاد میں نتیش نے فلاحی اسکیمیں نہیں چلائی ۔سال 2007میں ہی نتیش نے اس اسکیم کی شروعات کر دی تھی انہوں نے پہلے عہد میں ہی اسکول جانے والی لڑکیوں کے لئے سائکل ،اسکول وردی وار میٹرک امتحان میں فرسٹ ڈیویزن پاس کرنےوالی طالبہ کو دس ہزار روپے دئے اور بارویں میں فرسٹ کلاس پاس ہونے پر 25ہزار روپے اور گریجویشن میں50ہزار روپے کی حوصلہ افجا رقم دی جانے لگی۔اپنے پہلے عہد میں نتیش کمار نے عورتوں کو پنچایت چناؤ میں 50 فیصد ریزرویشن دیا۔پولس بھرتی میں 35 فیصد ریزرویشن کی سہولت دی اور وعدہ کیا تھا کہ اگر انکی سرکار بنی تو ریاست کی سرکاری نوکریوں میں بھی عورتوں کو 35 فیصد ریزرویشن دیا جائے گا۔اس مرتبہ نتیش کمار کو انتہائی پسماندہ طبقے کی حمایت ملی اہم برادریوں کے خلاف او بی سی برادریاں متحد نظر آئیں انہو ںنے این ڈی اے کو ووٹ دیا جس برادری سے نتیش کمار آتے ہیں وہ بہار کے آبادی کا صرف 2.91فیصد اسکے باوجود انتے بڑے اتحاد کے نیتا بنے۔عام طور پر مانا جا رہا ہے کہ تیجسوی کےلئے اب بھی پتا لالو پرساد یادو کی جنگل راج والی امیج سے نکل پانہ مشکل ہو گیا تھااور چناؤ میں یہ ایک اشو ضرور بنا دوسری طرف نتیش کمار کی اچھی سوشاسن بابو کی اپنی شاخ کو بنائے ہوئے رکھے ہیں۔20 سال اقتدار میں رہنے کے باوجود انکی صاف ستھری امیج ہے ان پر اب تک کرپشن کا الزام نہیں لگا ہےاور یہ انکے مخالفین بھی کہتے ہیں کہ نتیش کمار کی قیادت میں ڈبل انجن کی سرکار ہوتے ہوئے بھی بہار دیش کا سب سے غریب ریاست ہے اور وہاں سے ہجرت بھی ایک بہت بڑی حقیقت ہے نتیش نے ان اشوز کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور ان پر کام کرنا اب این ڈی اے سرکار کےلئے ایک بڑی چنوتی ہے۔تجزیہ نگاروں کا خیال ہے نتیش کمار کو حمدردی ووٹ بھی ملے ہیں اور ےہ الیکشن نتیش کمار کو بدائی دےنے کا چناؤ تھا بہار کے ووٹروں نے ووٹ کے ذریعہ اچھی جیت دلائی لوگوں میں ایک پیغام تھا کہ یہ شائد نتیش کمار کا آخری چناؤ ہے۔
انل نریندر
15 نومبر 2025
یہ ڈاکٹرس آف ڈیتھ !
راجدھانی کے اسکولوں اور اسپتالوں کے آتنکی خطرے سے متعلق کئی سرکاری عمارتوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی بھرے ای میل 30 اپریل 2024 سے مسلسل آرہے ہیں ۔اس وجہ سے ڈیڑھ سال سے دہلی این سی آر میں دہشت کا ماحول بناہوا ہے ۔لیکن مرکزی جانچ ایجنسیوں سے لے کر خفیہ ایجنسیاں اس کی تہہ تک نہیں پہنچ پائیں ۔اچانک پیر کو 10 نومبر کی شام لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے گیٹ نمبر 1 کے پاس زوردار دھماکہ نے دیش کو ہلا کر رکھ دیا ۔یہ 14 سال بعد راجدھانی میں ہوا بڑا بم دھماکہ تھا ۔یہ ہماری خفیہ ایجنسیوں کی زبردست ناکامی تھی ۔چونکانے والی بات یہ ہے کہ یہ دھماکہ پیر کو فرید آباد کے پاس ایک کشمیری ڈاکٹر کے کرائے کے مکان سے 360 کلو گرام امونیم نائیٹریٹ اور اے کے 47ر ائفل سمیت ہتھیار برآمد ہونے کے کچھ گھنٹوں بعد ہوا ۔دراصل دیش بھر میں 15 دن تک چلی کاروائی کے ذریعے جموں وکشمیر پولیس نے جیش محمد اور انصار غزوة الہند سے وابستہ ایک آتنکی سازش کا پردہ فاش کیا جس میں کئی آتنکی سازش جس میں ڈاکٹر سمیت 8 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ۔ان سے 2900 کلو دھماکو سامان ضبط کیا گیا ۔اس کے تار کشمیر ،ہریانہ ،اتر پردیش تک جڑے ہوئے ہیں ۔اس سے صاف ہوتا ہے کہ دیش بھر میں کئی آتنکی سرگرم ہیں جو دہشت پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں ۔دہلی میں پیر کی شام جو دھماکہ ہوا اس میں 12 لوگوں کی جان جا چکی ہے اور درجنوں زخمی ہوئے تھے ۔دھماکہ کو انجام دینے والا جہادی ذہنیت کا ایک ڈاکٹر ہے جموں وکشمیر پولیس نے ہریانہ پولیس کے ساتھ مل کر فرید آباد کے فتح پر تانگا گاو¿ں میں داکٹر مزمل شکیل کے ذریعے کرائے پر لئے گئے دو گھروں پر چھاپہ ماری کے دوران 2900 کلو گرام آئی ای ڈی بنانے کا سامان بھی ضبط کیا تھا۔باوجود اس کے شام کو ہی لال قلعہ میں بلاسٹ ہو گیا ۔ایسے میں سوال اٹھ رہے ہیں کہ ٹیرر ماڈیولس کو ڈاکٹر س آف ڈیتھ کہا اس معاملے کی کہانی پہلے ہی لکھ چکے تھے یا پھر اپنے ساتھیوں کی گرفتاری کے بعد بدلہ لینے کے لئے اس بلاسٹ کی پلاننگ کی گئی کیوں کہ کار میں سوار پلوامہ کا ڈاکٹر عمر محمد بھی اسی سازش کا حصہ بتایاجارہا ہے ۔حالانکہ معاملے پر ابھی کھل کر کچھ نہیں بول رہا ہے ۔اب سرکار نے بھی یہ مانا ہے کہ یہ ایک آتنکی حملہ تھا جس کے تار جیش محمد سے جڑتے ہیں۔جتنی مقدار میں دھماکو سامان برآمد ہوا ہے اس سے صاف تھا اس کی سازش کچھ بڑا کرنے کی تھی جس طرح عمر نے کار کو لال قلعہ کی پارکنگ میں گھنٹوں کھڑا رکھا اور پھر لال قلعہ کے جین مندر کے پاس بلاسٹ ہو گیا ایسے میں وہاں کی سیکورٹی انتظام پر بھی سوال کھڑے ہورہے ہیں۔کیوں کہ اتنی سرکشا ہی فرید آباد میں دھماکہ ہوا تھا ۔باوجود اس کے بعد لال قلعہ پر سیکورٹی انتظام کا یہ حال تھا ۔کہ باہر گاڑیاں کھڑی تھیں اور آتنک کا چہرہ اب اور زیادہ پراسرار اور خوفناک ہوتاجارہا ہے ۔سب سے بڑی تشویش کی بات یہ ہے کہ سادگی کا نقاب اوڑھے یہ چہرے آپ کے آس پاس ہی سرگرم ہیں کہ تھوڑی سی لاپرواہی ہوئی تو یہ جرائم پیشہ بھی اپنا شکار بنانے میں دیر نہیں کریں گے ۔فرید آباد میں دھماکو سامان کی برآمدگی اور دہلی میں لال قلعہ کے پاس ہوئے دھماکہ سے ثابت ہو گیا ہے کہ دیش آتنکی کی نئی پودکٹر پنتھی نظریہ کی اکڑ میں ڈوبی ہے۔ڈاکٹروں سے پوچھ تاچھ آتنکی نیٹورک میں دیش کے کئی حصوں میں قہر برپانے کی خوفناک سازش رچی تھی ۔سہارنپور کے مشہور ہسپتال میں تعینات ڈاکٹر عادل کی ایک ماہ کی چٹھی پر تھا اور اس دوران پوسٹر لگانے میں چوک ہی دیش کی سیکورٹی ایجنسیوں کے لئے اہم کڑی بنی۔دراصل جموں وکشمیر کے آننت ناگ میں جیش محمد کے حمایت میں دھمکی بھرے پوسٹر لگاتے وقت ڈاکٹر عدیل ،مولانا عرفان کے ساتھ سی سی ٹی وی میں قید ہو گیا تھا ۔اسی فوٹیج کی بنیاد پر سری نگر پولیس نے پہلے مولانا کو حراست میں لیا اور پھر ڈاکٹر عادل تک پہنچی ۔دہلی این سی آر اور سہارنپور میں سرگرم دہشت گردوں کے ڈاکٹر گروہ کے خطرناک منصوبوں کا انکشاف حیران کرنے والا ہے ۔ظاہر ہے کہ اس حادثہ کا اثر دہلی تک محدود نہیں ہے بلکہ پورے دیش کے اتحاد اور امن کے لئے خطرہ ہے ۔قصورواروں کو سزا یقینی کرنے کی سمت میں جانچ ایجنسیاں سرکار تو اپنا کام کررہی ہیں لیکن لوگوں کو بھی چوکس رہنا ہوگا اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوراً اطلاع دینے کے لئے الرٹ رہنا ہوگا ۔
(انل نریندر)
13 نومبر 2025
عاصم منیر کو تاناشاہ بنانے کی راہ پر !
پاکستان کی تاریخ میں فوجی حکمرانی سے بھری ہوئی ہے ۔یہاں چنی ہوئی حکومت تھوڑا وقت کے لئے چلتی ہے اور پھر کوئی نہ کوئی جنرل حکومت کا تختہ پلٹ دیتا ہے ۔تازہ مثال پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ہی لے لو پاکستان میں شہباز شریف کی سرکار بھارت کے آپریشن سندھور سے سبق لیتے ہوئے آئین میں ترمیم کی تیاری میں ہے ۔جس میں فوج کےچیف عاصم منیر کو سی ڈی ایف بنانے کا پلان ہے ۔اس سے ان کے اختیارات آئینی سے بڑھ جائیں گے ۔پاکستان کی شہباز شریف نے لگتا ہے کہ ایک بار پھر اپنے چیف مارشل عاصم منیر کو اقتدار کی چوٹی پر پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے ۔8 نومبر کو پارلیمنٹ میں پیش 27 آئینی ترمیم بل کے ذریعے سیکورٹی فورسز کے چیف آف اسٹاف ڈیفنس نامی ایک نیا طاقتور عہدہ نکالا ہے ۔سیدھے منیر کے لئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے ۔لگتا ہے یہ ترقی مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ ہوئی چار روزہ لڑائی کے بعد ملے فیلڈ مارشل کے اعزاز کے ٹھیک چھ ماہ بعد آرہا ہے ۔لیکن سوال اٹھتا ہے دہشت گردی کے مبینہ سرپرست منیر کو یہ دہری مہربانی آخر کیوں ؟ کیا مئی کی لڑائی ہی وہ کارنامہ ہے ۔یاپھر پاکستان کے اندرونی عدم استحکام کی صورتحال اور فوجی تاناشاہی کو مضبوط کرنے کی سازش ؟ بین الاقوامی سطح پر منیر کو اثامہ باللادین ان سوٹ کہا جاتا ہے اور اب یہ ترقی کے دہرے چہرے ایک طرف دہشت گردی اسپانسر اور دوسری طرف علاقائی عدم استحکام کی اصلیت اجاگر کررہی ہے ۔آئینی ترمیم منیر کو کمان کوآئینی پٹری ، لیکن جمہوریت پر قانون منتری اعظم نظیر تارڑن نے کابینہ کی منظوری کے بعد سینٹ میں پیش کئے گئے اس بل میں آئین کی سیکشن 243میں وسیع تبدیلی کی تجویز ہے ۔جو مسلح افوا ج کی کمان کے ڈھانچے کو پوری طرح نئے سرے سے تشکیل نو کرنے کی ۔یہ 27 ویں آئینی ترمیم بل پاکستان کے آئین میں ایک بڑی تبدیلی لانے والا مجوزہ بھی شامل ہے ۔جس کے تحت سیکورٹی فورسز کے چیف کا عہدہ باقاعدہ طور سے فوج کے سربراہان کو سونپا جائے گا ۔انہیں تاحیات فیلڈ مارشل کا عہدہ دیا جائے گا ۔اگر یہ بل پاس ہوا تو فوج کے چیف عاصم منیر تاحیات فیلڈ مارشل کے عہدے پر بنے رہیں گے ۔حالانکہ اس کا اپوزیشن پرزور مخالفت کررہی ہے ۔پاکستان سرکارکا دعویٰ ہے یہ تبدیلی دیش کی دفاعی ضروریات اور فوجی کمان کو جدید بنانے کے لئے کیاجارہا ہے ۔پاکستان نے سی ڈی ایف کا جو مسودہ پیش کیا ہے وہ بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف آرمی (سی ڈی ایس) کے خاکے کی چوری کی ہے ۔مجلس وحدت مسلمین پارٹی کے چیف علامہ رضا ناصر عباس نے کہا ہے کہ پاکستان نے جمہوری ادارے پنگو ہو چکے ہیں ۔قوم کو مجوزہ 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف قدم اٹھانا چاہیے ۔
(انل نریندر)
11 نومبر 2025
بہار یونہی نہیں جمہوریت کا جنم داتہ !
پولنگ کے پہلے مرحلے میں جمعرات کو ہوئی بمپر پولنگ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ بہار یونہی نہیں جمہوریت کا جنم داتہ ۔64.46 فیصد پولنگ بتارہی ہے کہ یہاں کے جمہوری اصولوں کی کتنی اہمیت ہے ۔اگر کئی پولنگ مراکز پر لائٹ نہ جاتی اور کئی مقامات پر ای وی ایم خرابی کی شکایتیں نہیں آتیں تو یہ فیصد دو تین فیصد اور بڑھ جاتا ۔پولنگ میں جنتا کی ساجھیداری زیادہ ہونے کا مطلب صاف ہے کہ بھارت میں ابھی بھی جمہوریت زندہ ہے ۔اس کا ایک مطلب یہ بھی نکلتا ہے کہ عوام سیاست سے مایوس نہیں ہے۔جمہوریت میں ایسا ہی ہونا چاہیے ۔سال 2025 کے بہار اسمبلی چناو¿ کے پہلے مرحلے کی 121 سیٹوں پر جمعرات کو پہلی بار کے مقابلے 31 لاکھ 81 ہزار 885 زیادہ ووٹ پڑے ۔بہار کے چیف الیکشن آفیسر (سی ای او) ونود سنگھ گنیال نے بتایا کہ ووٹر بیدار ، ووٹر لسٹ کی صفائی اور خواتین ،نوجوان اور بزرگ ووٹروں کے جوش کی وجہ سے ووٹ فیصد بڑھانے میں معاون بنا۔انہوں نے امید جتائی کہ دوسرے مرحلے کی پولنگ میں بھی ووٹروں کا جوش بڑھ چڑھ کر ووٹ کرے گا ۔سی ای سی نے کہا کہ بہار میں دیش کو راہ دکھائی ہے پہلے مرحلے میں مہا گٹھ بندھن کے سی ایم عہدے کے امیدوار تیجسوی یادو اور ڈپٹی وزیراعلیٰ وجے کمار سنہا ، سمراٹ چودھری سمیت کئی بڑے لیڈروں کی قسمت داو¿ پر لگی ہے ۔اس مرحلے میں بہار میں دو دہائیوں سے بر سر اقتدار نتیش کمار یا ان کی جگہ کوئی اور اس دور کے چناو¿ میں ایک بڑی بحث کا اشو رہا ۔حالیہ چناو¿ میں یہ سوال اتنی مضبوطی کے ساتھ کبھی نہیں پوچھا گیا ۔جنتاجو بھی فیصلے لے گی وہ ریاست کی سماجی ،سیاسی سمت طے کرے گی۔سب سے مثبت بات یہ رہی کہ بہار کی عوام نے اس بات کو سمجھا اور 2020 کے مقابلے میں تقریباً 14 فیصد زیادہ ووٹ دیا ۔بہار کے 18 اضلاع میں پھیلی 121 سیٹوں کے لئے ریکارڈ پولنگ پر دونوں اتحادی لیڈر ورکروں کے ذریعے تجزیہ کرنے میں لگے ہیں ۔دونوں ہی طرف سے حالانکہ جیت کے دعوے پہلے ہی کر دیے گئے ہیں ۔این ڈی اے نیتا بمپر ووٹنگ کو خواتین ووٹروں کے معجزے کی شکل میں دیکھ رہے ہیں تو مہا گٹھ بندھن اپنے لئے بہتر مان رہا ہے ۔پولنگ مراکز پر خواتین ووٹروں کی لمبی قطاریں نظر آنے کے بعد این ڈی اے میں کہا جارہا ہے یہ سی ایم نتیش کمار کے ذریعے خواتین روزگار یوجنا کے ذریعے ایک کروڑ چالیس لاکھ عورتوں کو دیے گئے 10-10 ہزار روپے کے بعد پیدا بھروسہ کے لئے وہ اٹھ رہے ہیں ۔سی ایم کی یہ اسکیم آگے بھی جاری رہنی ہے ۔اور اس کے علاوہ پی ایم مودی کی مرکزی حکومت کے ذریعے کئے جارہے کاموں پر بھی بھروسہ کا ووٹ ہے ۔لیکن آر جے ڈی سے تیجسوی یادو کے ذریعے سرکار بنتے ہی آنے والی مکر سکرانتی پر 14 جنوری کو 30 ہزار روپے (ہر ماہ ) دو ہزار روپے کی اسکیم دینے کے وعدے کے لئے کیا گیا ووٹ ہے ۔کانگریس کو بھروسہ ہے نوجوان طبقہ نے ووٹ چوری کے اشو کو لے کر حکمراں اتحاد کے خلاف ووٹ دیا ہے ۔اس بار چناو¿ میں ایس آئی آر اور ووٹ چوری بھی اشو رہے ۔نوجوان طبقہ میں بے روزگاری سب سے بڑا اشو تھا اور لگتا بھی ہے کہ اس بار 18-25 برس (زین جی ) کے نوجوانوں نے بھی بڑھ چڑھ کر ووٹ دیا ہے ۔یاد رہے کہ ووٹنگ کے ایک دن پہلے ہی راہل گاندھی نے چناو¿ کمیشن پر نئے الزام لگائے پھر ایس آئی آر کے سبب پہلے مقابلے 47 لاکھ ووٹ کم تھے ۔اس کے باوجود جنتا نے پولنگ بوتھوں پر پہنچ کر اپنی رائے زور شور سے جتائی ۔چناوی دھاندلیوں کے الزام بھی لگ رہے ہیں۔کہیں تو اسٹارنگ روم میں غیر مجاز لوگوں کی اینٹری بتائی جارہی ہے کہیں وی وی پیٹ کی پرچیاں سڑکوں پر پھینکی جار ہی ہیں تو کہیں پر ووٹنگ مشین خراب ہونے بجلی کاٹنے کے الزام لگ رہے ہیں ۔نیتاو¿ں کو بھگایا جارہا ہے۔تو گوبر تک پھینکا گیا ۔این ڈی اے سرکار کو ہر مورچہ پر ناکام بتاتے ہوئے لالو پرساد یادو کی رائے زنی زور دار رہی ۔اپنے ایکس ہینڈل پر لالو نے لکھا توے پر روٹی پلٹتی رہنی چاہیے نہیں تو جل جائے گی۔
(انل نریندر)
08 نومبر 2025
ممدانی کی تاریخی جیت !
امریکہ میں اس سال یعنی 2025 میں دو ایسے اہم چناو¿ ہوئے ہیں جس کا اثرپوری دنیا پر پڑا ہے اور پڑے گا ۔پہلا 20 جنوری کو ہوا جب ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے پھر صدر بنے اس کا پوری دنیا پر اثر پڑارہا ۔دوسرا چناو¿ 4 نومبر کو ہوا جب ظہران ممدانی نیویارک سٹی کے میئر کا چناو¿ جیتے ۔یہ کوئی معمولی چناو¿ نہیں تھا کئی معنوں میں یہ تاریخی چناو¿ تھا ۔پہلی بار 1892 کے بعد سے نیویار ک کے سب سے نوجوان میئر ظہران ممدانی کی جیت رہی ہے وہ نیویارک سٹی کے پہلے مسلم میئر بھی ہوں گے ۔انہوں نے پچھلے سال ہی سیاست میں قدم رکھا تھا اس وقت ان کے پاس نہ تو کوئی بڑی پہچان تھی اور نہ ہی بہت سارے پیسے اور نہ ہی پارٹی کی حمایت تھی ۔یہی وجہ ہے کہ ان کی اینڈریو کوسومو اور رپبلکن امیدوار کیٹرس سلپا پر ملی جیت نے صرف غیر معمولی تھی۔لیکن کئی معنوں میں تاریخی بھی ہے ۔ممدانی نوجوان اور کرشمائی ہیں ۔فری مائلڈ کیئر پبلک ٹرانسپورٹ کے پھیلاو¿ اور فری مارکیٹ سسٹم نے سرکاری دخل جیسے لیفٹ اشوز کی حمایت کی۔ نیویار ک شہر میں تقریباً 48 فیصدی عیسائی 11 فیصدی یہودی ہیں ۔یہاں مسلم 9 فیصدی ہیں۔جو امریکہ میں سب سے بڑی مسلم آبادی ہے ۔کہا جاتا ہے 9/11 کے بعد کے اسلامی فوبیا کی وراثت سے یہ شہر اب تک نکل نہیں سکا ۔یہاں آج تک کوئی مسلم میئر رہا بھی نہیں۔اس کے باوجود اگر ممدانی کو جیت ملی ہے تو یہ صرف ان کی شخصی جیت نہیں بلکہ ان کی فلاحی مہم کی جیت زیادہ لگتی ہے ۔34 سال کے جس نوجوان کو کم تجربہ کی وجہ سے پہلے چناوی لڑائی میں کمزور ماناجارہا تھا بعد میں وہی سنورنے اور اہم سیکٹر ثابت ہوا ان کی خاصیت رہی جنتا سے وابستگی انہوں نے اشتہاروں پر خرچ کرنے کے بجائے سیدھے لوگوں سے مل کر بات چیت کی۔ عام شہروں کے مسائل کو سمجھا اور کئی ایسے وعدے کئے جو نیویارک کے باشندوں کو سمجھ میں آگئے۔ممدانی نے اپنے چناوی مہم کے دوران مین ہیٹن اور نیویارک سٹی میں آباد بڑے کارپوریٹ اور کاروباریوں کی سخت نکتہ چینی کی تھی اس لئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلن مسک اور تمام صنعتکاروں نے ممدانی کی جم کر مخالفت بھی کی۔ٹرمپ نے تو دھمکی بھی دے ڈالی کہ اگر ممدانی جیتے تو وہ ان کی فنڈنگ بند کر دیں گے ۔ان پر مسلم ہونے پر بھی نکتہ چینی کی گئی لیکن ممدانی نے کھل کر چیلنج کو قبول کیا کہ وہ ایک مسلمان ہیں اس پر انہیں فخر ہے اس لئے تمام اسلامی دنیا میں ان کی جیت کو ایک نئے دور کے آغاز سے تشبیہ دی جارہی ہے۔وہ نہ صرف ٹرمپ کے لئے درد سر بن سکتے ہیں بلکہ نیتن یاہو کو تو اگر وہ نیویارک آئے تو انہیں گرفتار کرنے کی بھی دھمکی دے چکے ہیں ۔وہ ہمارے پردھان منتری کی بھی نکتہ چینی کی کرچکے ہیں اور 2002 میں ہوئے گجرات دنگوں کو یاد کرتے رہتے ہیں ۔حالانکہ جیتنے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں ممدانی نے بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو یاد کیا ۔اپنی وکٹری تقریر میں ممدانی نے پنڈت نہرو کو یادکرتے ہوئے کہا میں جواہر لال نہرو کے الفاظ کے بارے میں سوچتا ہوں اور تاریٰخ میں ایسا لمحہ بہت کم آتا ہے جب ہم پرانے سے نئی جانب قدم بڑھاتے ہیں ۔جب ایک دور کا خاتمہ ہوتا ہے اور ایک ملک کی روح کو اظہا ررائے کی آزادی ملتی ہے آج رات ہم پرانے سے نئے دور کی جانب قدم بڑھا رہے ہیں ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟
امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...