Translater

10 مارچ 2023

الجھتے جا رہے ہیں حالات!

پنجاب کے حالات اس قدر بگڑ رہے ہیں کہ آنے والے دنوںمیں نہ صرف ریاست میں بلکہ پورے دیش کا امن و امان کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں ایک طرف وارث پنجاب دے انجمن کا پر مکھ امرت پال سنگھ خالصتان کی مانگ کو کھلے عام ہوا دے رہا ہے تو دوسری طرف سکھو کی سپریم ادارہ اکال تخت اور جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے کی تنظیم دمدمی ٹکسال نے امرت پال سنگھ کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے۔ریاست کی سیاسی پارٹی شرومنی اکالی دل ،بادل ،بھارتیہ جنتا پارٹی ،کانگریس اجنالہ کانڈ کو لیکر امرت پال سنگھ کے خلاف کاروائی کیلئے ریاست میں بھگونت مان سرکار پر دباو¿ ڈال رہے ہیں۔پنجاب میں ہولا محلہ تقریب کے موقع پر آنند پورصاحب اور دیگر دھارمک مقامات پر اسٹیج سجے ہوئے ہیں تو دوسری طرف امرت پال امرتسر میں جی 20-کی دو کانفرنسوںمیں تیار ی کی جا رہی ہے۔ سیکورٹی وخفیہ ذرائع کو ایسی خبریں ملیں ہیں کہ خالصتانی حمایتی کانفرنسوںمیں دوران گڑ بڑی پھیلا سکتے ہیں ۔جی 20-میں گڑ بڑ کا اندیشہ ہے،بیرون ملک میں بیٹھا تیجونت سنگھ مسلسل ان پروگراموں میں خالصتانی جھنڈے لہرانے کا اعلان کر چکا ہے ۔ وزارت داخلہ پنجاب کے حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے ۔ پورے پنجاب میں امرت پال سنگھ کے ابھر نے کی بحث زوروں پر ہے ۔دوتین سال پہلے تک دوبئی میں رہ رہے ایک کلین شیو لڑکا اپنی روزی روٹی کما رہا تھا کہ وہ اچانک خالصتان آندولن کا کیس دھاری وچارک کیسے بن گیا؟ اس کی تنظیم کو فنڈنگ کو لیکر سوال اٹھ رہے ہیں اس کے پیچھے جو بھی طاقت ہو یہ بہت خطرناک اشارے ہیں۔پنجاب کی سیاست پر چھ دہائیوںسے گہری نظر رکھنے والے صحافی جی .ایس.چاو¿لہ کا کہنا ہے کہ پنجاب کے تار اتنے الجھے ہوئے ہیں کہ یہاں کبھی بھی کچھی بھی ہو سکتاہے۔ اجنالہ کانڈاور قید سکھو کی رہائی کیلئے مورچے کے دوران جس طریقے سے پولیس پر حملہ کیا گیا پولیس کو پیچھے ہٹنا پڑا تھا وہ ریاست کیلئے اچھے اشارہ نہیں ہیں ۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے سابق چیف اور تجربہ کار پولیس افسر اے ایس دھلت کا کہنا ہے کہ حالات کچھ اس طرح کے ہیں کہ پنجاب کو 80کی دہائی کی طرح ایک طرح سے پھر گڑبڑ کا سامنا کرنا پڑ سکتاہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ 80دہائی بھنڈرانوالے کا اقتدار کانگریس کے دو بڑے نیتاو¿ں وزیر اعلیٰ گیانی زیل سنگھ اور دربارہ سنگھ کے درمیان جھگڑے سے متاثر تھا۔ ایک نے اپنے حریف اور شرومنی اکالی دل کا اثر ختم کرنے کیلئے بھنڈرانوالے کا استعمال کیا لیکن اس کاروائی میں ایک غیر متوقع اور بے باک طاقت پیدا ہو گئی جب بھنڈرانوالے نے خالصتان کی مانگ کو آگے بڑھا یا اور ریاست میں ہندو¿ں کو مارا جانے لگا تو جھگڑے میںپھنسے کے بارے میں بہت کچھ پتہ لگ گیا۔ ریاست میں نشیلی دواو¿ں اور مشہور گلوکار موسے والے کے قتل کے بعد جیل مین گینگوار میں دو نوجوانوں کے قتل سے پنجاب میں مسلسل ٹارگیٹ حلاکتوں کے واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ ریاست بد امنی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ (انل نریندر)

ایرانی طالبات کو زہر دیا جا رہا ہے؟

1000سے زیادہ ایرانی طالبات پچھلے تین مہینوںمیں بیمار ہوئیں ہیں ان میں زیادہ تر اسکولی طالبات ہےں ان کے بیمار ہونے کے پیچھے ممکنہ طور پرزہریلی گیس کی خبریں آ رہی ہیں۔ جو اتنی بڑی تعداد میں طالبات کو بیمار کر رہی ہے ۔ بدھوار کو ایران میں کم سے کم 26اسکولوںمیں لڑکیاں مبینہ طور پر بیمار ہوئیں ہیں جس کے بعد اس معاملے نے طول پکڑ لیا ہے ۔بیمار ہونے والی طالبات میں ایک جیسے ہی اثرات دکھائی دے رہے ہیں۔ طالبات کو سانس لینے میں دقت ،متلی ،چکر آنا ،تکان کا سامنا کر نا پڑ ر ہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان معاملوںکے پیچھے وجہ کیا ہے؟ یہ معاملہ پورے ایران میں طول پکڑ گیا ہے ؟ ایران میں لڑکیوں پر کون گیس سے حملہ کررہا ہے؟ یہ پہلامعاملہ ایران کے دھون شہر میں سامنے آیا جہاں ایک اسکول میں 18لڑکیا ں بیمار پڑ گئیں ۔ طالبات کو 30نومبر کو اسپتال لے جایا گیاتھا۔ تب سے مقامی میڈیا کے مطابق 8صوبوںمیں کم سے کم 58اسکولوںمیں ایسے معاملے درج کئے گئے۔ پرائمری اور دیگر ہائی اسکولوںمیں زیادہ تر معاملے لڑکیوں کے شامل ہیں۔ حالاںکہ لڑکوں اور اساتذہ کے بھی بیمار ہونے کی خبریں سامنے آئیں ہےں۔ بی بی سی نے سوشل میڈیاپر ڈالے گئے درجنوں ویڈیوکا تجزیہ کیا ہے ۔ جس اسکولوںمیں یہ ویڈیوبنائی گئی ان کی تصدیق کی ہے ۔ ان ویڈیوز میں کئی نوجوان لڑکوں کو پریشانی کا سامنا کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ وہیں اس ویڈیوںمیں طلبہ کو ایمبولنس کی مدد سے اسپتال لے جایا جارہاہے تو کچھ بستر پر لیٹے ہوئے ہیں۔ تو کچھ ویڈیومیں ایمبولنس آتے ہوئے اور اسکول کے باہر بھیڑ دکھائی دے رہی ہے۔راجدھانی تہران میں پاس واقع شہر یار کے ایک اسکول کی طالبہ نے بتایا کہ اسے اور اس کے دوستوںکو ایک عجیب سی بد بو آرہی تھی۔ اور یہ بد بوانتہائی خراب تھی جیسے کوئی سڑا ہوا پھل ہوتا ہے اسی طرح کی بد بو تھی اس کو سونگھ لینے سے ہی کئی طالم علم بیمار پڑ گئے اور اسکول نہیں اور ہمارے ٹیچر بھی بیمار پڑ گئے تھے۔ جب میں گھر گئی چکر آرہے تھے میں خود کو بیمار محسوس کر رہی تھی۔ میری ماں بہت پریشان تھی کیوںکہ میں پیلی پڑ چکی تھی اور سانس لینے میں مشکلیں آ رہی تھی لیکن قسمت کے چلتے میں جلدی ٹھیک ہو گئی ۔ اور ہماری اسکول کے زیادہ تر بچے 24گھنٹے میں ہی ٹھیک ہو گئے ۔جب ہمارے دوسرے اسکولوںسے بھی اسی طرح کی خبریں آئیں تو ہمارے اسکول کے پرنسپل اور سینئر ٹیچر بھی ڈر گئے تھے ۔انہوںنے کہا کہ جو کچھ ہوا ہے اس کا اسکول سے باہر ذکر نہ کریں ۔ طلبہ کے بیمار ہونے کے پیچھے انتظامیہ الگ الگ وجوہات بتا رہا ہے ۔ وہیں ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے اصل اسباب کی جانچ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ ایران میں کئی لوگوں کا خیال ہے کہ لڑکیوں کے اسکولوں کو بند کرنے کی کوشش کی تحت طالبات جان بوجھ کر زہر دیا جا رہا ہے ۔جو ستمبر سے سرکار مخالف مظاہروںکے مرکز میں سے ایک رہا ہے۔ ایران میںلڑکوں کیلئے الگ اسکول ہے اور لڑکیوںکیلئے الگ ،کچھ طلبہ اور والدین کا خیال ہے کہ حال ہی میں سرکار مخالف مظاہروںمیں حصہ لینے کے سبب اسکولی طالبات کو نشانہ بنا یا جا رہا ہے۔ لیکن بیمار ہونے کے اسباب کو ابھی تک صاف پتہ نہیں لگ سکا ہے۔ (انل نریندر)

07 مارچ 2023

بھاجپا ممبر اسمبلی پتر سے 6کروڑ روپے بر آمد!

کرناٹک کے لوک آیکت افسران نے بی جے پی کے ممبرا سمبلی ورپ اکشپا کے بیٹے پرشانت کمار کے گھر سے 6کروڑ سے زیادہ کی بے حساب نقدی بر آمد کئے ہیں۔ اس سے پہلے پرشانت کو چالیس لاکھ روپے کی رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ۔ بیٹے پر اس کاروائی کے بعد بی جے پی کے ممبر اسمبلی نے کرناٹک صابن اینڈ ڈیجیٹل لیمیٹڈ کے چیر مین کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ۔انہوںے دعویٰ کیا کہ ای ڈی کی طرف سے کی گئی چھاپہ ماری اور ان کے پریوار کے خلاف ایک سازش ہے۔ وزیر اعلیٰ واسو راج بومئی نے معاملے کی منصفانہ جانچ کرانے کا وعدہ کیا ہے۔بینگلورو واٹر سپلائی اور سیویج بورڈ کے چیف اکاو¿نٹ آفیسر پرشانت کو کے ڈی ایل آفس میں ایک ٹھیکدار سے مبینہ طور سے چالیس لاکھ روپے رشوت لیتے ہوئے رنگوں ہاتھوں پکڑا گیا تھا ۔ اس کے بعد جعل میں پھنسنے کے کچھ گھنٹوں میں بعد لوک آیکت حکام کی ایک ٹیم نے پرشانت کے گھر پر چھاپہ ماری کر بے حساب نقدی بر آمد کی ۔پرشانت مبینہ طور سے اپنے پیتا کی طرف سے رشوت کی پہلی قسط لے رہے تھے۔ الزام ہے کہ پرشانت نے ایک ٹنڈر کے سلسلے میں 80لاکھ روپے کی رشوت مانگی تھی۔ اب ذرائع کا کہنا ہے کہ اب بی جے پی ممبراسمبلی سے پوچھ تاچھ کی تیاری ہے۔ ممبراسمبلی نے کے ایس ڈی ایل کے چیر مین کے ڈی ایل چیر مین کے عہدے سے یہ کہتے ہوئے استعفیٰ دیا کہ وہ اخلاقی ذمہ داری لے رہے ہیں۔ کرناٹک کے لوک آیکت جسٹص (ریٹائرڈ ) پے ایس پاٹل نے کہا کہ کے ایس ڈی ایل دفتر سے 2.0کروڑ روپے اور ر شانت کے گھر سے 6.1کروڑ روپے بر آمد کئے گئے ہیں۔انہوںنے کہا کہ پرشانت سمیت پانچ لوگوں کو پکڑا گیا ہے ۔وہیں گرفتار ی پر وزیر اعلیٰ واسو راج بومئی نے کہا کہ لوک آیکت پولیس کی طرف سے جال بچھایا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ پچھلی کانگریس سرکا ر کے الٹ موجودہ سرکا نے کرپشن کو روکنے کیلئے لوک آیکت کو پھر حر کت میں لایا گیا ہے ۔ پچھلی کانگریس سرکار نے اپنے غلط کاموں کی لیپا پوتی کیلئے لوک آیکت ادارے میں علاوہ ایک الگ انسداد کرپشن بیورو (اے سی بی) بنائی تھی۔ جو مختار ادارے کے طور پر منصفانہ جانچ کرے گی۔ کرناٹک میں جلد اسمبلی چناو¿ ہونے والے ہیں۔ چناو¿ کے ٹھیک پہلے بی جے پی ممبر اسمبلی و ان کے پتر کو کرپشن میں پوری طرح سے ملوث ہونے سے پارٹی کی ساکھ کو داغدار کرے گی۔ یہ کسی سے چھپا نہیں ہے کہ کرناٹک بی جے پی کیلئے کتنی اہم ریاست ہے ۔دیکھیں پارٹی کتنا ڈیمج کنٹرول کر پاتی ہے ۔ (انل نریندر)

کرپشن بنا کینسر!

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ پیسوں کی بھوک نے کرپشن کو کینسر کی طرح پنپنے میں مدد کی ہے۔عدالت نے چھتیس گڑھ کی بھاجپا این ڈی اے قیادت والی سابقہ رمن سنگھ سرکار کے پرنسپل سیکریٹری رہے امن کمار سنگھ اور ان کی بیوی کے خلاف آمدنی سے زیادہ دیگر ذرائع سے زیادہ اثاثہ جمع کرنے کے معاملے میں درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے یہ رائے زنی کی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ پیسوں کی کمی ختم نہ ہونے والی بھوک نے کرپشن کو کینسر جیسا بنا دیا ہے۔ سبھی آئینی عدالتوں کو کرپشن کے تئیں زیرو ٹالیرینس دکھانا ہوگا اور اس میں ملوث جرائم پیشہ پر سخت کاروائی کرنی چاہئے ۔ یہ دیش کی عوام کے تئیں عدالتوں کو فرض ہے۔ سپریم عدالت کے اس فیصلے کے ساتھ ہی ان کی بیوی یاسمین سنگھ کے خلاف مقدمہ چلانے کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ آئین کے تحت کام کررہی عدالتوں کو دیش کے لوگوں کے تئیں ذمہ داری ہے کہ وہ دکھائیں کہ کرپشن کو قطعی برداشت نہیں کیا جا سکتا ساتھ ہی جرم کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کرے۔ جسٹس ایس رویندر بھٹ اور جسٹس دیپانکر دت کی بنچ نے ہائی کورٹ کے حکم کو منسوخ کرتے ہوے کہا کہ آئین کی تشریح میں پیسہ کا سامان تقسیم کر بھارت میں لوگوں کیلئے سماجی انصاف یقینی کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔جسے پورا کرنے میں کرپشن ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ غور طلب ہے کہ چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے نامعلوم ذرائع سے آمدنی سے زیادہ اثاثہ اکٹھا کرنے کے الزام میں ریاست کے سابق پرنسپل سیکریٹری رمن سنگھ اور ان کی بیوی کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرتے ہوئے کہا تھا کہ معاملہ درج کرنا قانونی عمل کا بے جے استعمال تھا اور الزام پہلی نظرمیں رقابت کے امکانات پر مبنی تھے۔ بعد میں نومبر 2022میں کارپوریٹ کسٹوڈین اینڈ کارپوریٹ افیئر س کی چیف کی شکل میں اڈانی گروپ سے جڑے ۔بعد میں جب اڈانی گروپ نے نیوز چینل این ڈی ٹی وی کو خریدا تو سنگھ چینل کے بورڈ کے ممبر کی شکل میں مقرر ہوئے ۔بنچ نے کہا کہ یہ پوری برادری کیلئے شرم کی بات ہے کہ ہمارے آئین کے معماروں کے من میں جو اچھے اصول تھے ان کی تعمیل کرنے میں مسلسل گراوٹ آرہی ہے۔ اور سماج میں اخلاقی اقدار کامعیار تیزی سے گر رہا ہے۔ بنچ نے کہا کہ کرپشن کی جڑ کا پتہ لگانے کیلئے زیادہ بحث کی ضرورت ہے۔ بسد احترام سپریم کورٹ نے صحیح کہا ہے کہ کرپشن کینسر کی طرح سے پھیلتا جا رہا ہے۔ پچھلے کچھ برسوںمیں امید کی جاتی تھی کہ مرکزی سرکار کی سختی کی وجہ سے کرپشن میں مسلسل گراوٹ آئی ہولیکن اس سے الٹا ہو رہا ہے ۔آج کوئی بھی کام کرپشن کے بنا نہیں ہوتا ۔رشوت کی سطح بھی تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے۔ اور سب سے زیادہ کرپشن کے بارے میں کہنا پڑتا ہے کہ یہ کرپشن سرکاری کاموں میں ہو رہا ہے یہ بھی دکھ کی بات ہے۔ بھاجپا کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری کرپشن کیس میں پھنس گئے ہیں۔ (انل نریندر)

02 مارچ 2023

اڈانی کی گرتی ساکھ!

صر ف 1مہینے پہلے گوتم اڈانی کا شمار دنیا کے تیسرے نمبر کے سب سے امیروں میں ہوا کرتا تھا۔لیکن امریکی ریسرچ فورم ہنڈن برگ کی منفی رپورٹ آنے کے بعد اڈانی گروپ کے شیئر وں میں اس قدر گراوٹ آئی کہ وہ اب سب سے امیر لوگوں کی فہرست میں 30ویں مقام پر آ گئے۔ اڈانی کے اثاثے میں گراوٹ آنے کے ساتھ ہی ریلائنس انڈسٹریز کے چیرمین مکیش امبانی پھر سے دیش کے سب سے امیر آدمی بن گئے ہیں ۔ امبانی 81.7ارب ڈالر کے اثاثے کے ساتھ دنیا کے 10ویں سب سے امیر ترین شخص ہیں ۔بندر گاہ ،ہوائی اڈا ،غذائی تیل ،بجلی ،سیمنٹ اور ڈیٹا سینٹر جیسے تما م سیکٹروں میں کاروبار رکھنے والے اڈانی گروپ کے شیئر میں گزشتہ ایک مہینے میں بھاری بکوالی ہوئی ۔اعداد و شمار کے مطابق اڈانی گروپ کی 10کمپنیوں کی مجموعی مارکیٹ ویلیو میں اس دوران 12.06لاکھ کروڑ کی بڑی گراوٹ آئی ہے ۔ہنڈن برگ ریسرچ کی رپورٹ 25جنوری کو جاری کی گئی تھی ۔ جس میں اڈانی گروپوں پر شیئر کے دام بڑھانے میں دھاندھلی اور فرضی غیر ملکی کمپنیو ں کا استعمال کرنے کے سنگین الزام لگائے گئے تھے حالاںکہ اڈانی گروپ نے ان الزامات کو جھوٹا ،بے بنیاد بتاتے ہوئے مسترد کردیا تھا ۔ اڈانی گروپ کی طرف سے دی گئی تمام وضاحتوں کے بعد بھی اس کے شیئر وں میںگراوٹ کا سلسلہ لگاتار جاری ہے۔ سب سے زیادہ نقصان اڈانی ٹوٹل گیس لیمیٹیڈ کو ہوا ۔جس کی بازا ر ویلیومیں 80.68فیصد کی بڑی گراوٹ آچکی ہے۔ اسی طرح اڈانی گرین انرجی کی ویلیو74.62فیصدی گھٹ گئی ہے۔ اڈانی ٹرانسمیشن کے بازار ویلیومیں 24جنوری سے اب تک 74.21فیصد کی گراوٹ آئی ہے۔ وہیں اڈانی انٹر پرائز کی ویلیوقریب 62فیصدتک گر چکی ہے۔ اڈانی پاور ،اڈانی ویلمر کے علاوہ اس کی سیمنٹ کمپنیوں امبوجا سیمنٹ و ای سی سی کے بازار سرمایہ کاری میں بھی اس دوران گراوٹ درج کی گئی ہے۔ اس ساتھ ہی میڈیا کمپنی این ڈی ٹی وی ،اڈانی پورٹس کو بھی ویلیومیں خاص نقصان ہوا ۔ اگر گوتم اڈانی کی شخصی سرمایہ کی بات کریں تو ان کی ویلیو120ارب ڈالر سے گھٹ کر 40ارب ڈالر (3317.02ارب روپے )سے بھی کم ہو گئی ہے۔ اس طرح ان کی شخصی ویلیومیں بھی 80ارب ڈالر (66.3404ارب روپے)یعنی دو تہائی گراوٹ آئی ہے۔اور یہ بدستور جاری ہے ۔ اڈانی کو بچانے کیلئے مرکزی حکومت نے پوری طاقت لگا دی ہے۔ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود گوتم اڈانی کے خلاف کوئی سرکاری تفتیشی ایجنسی کسی طرح کی جانچ نہیں کر رہی ہے۔ لیکن وہیں اسٹاک مارکیٹ نے اڈانی کو بھی نہیں بخشا اور ان کے شیئر وں میں گراوٹ رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ (انل نریندر)

512کلو پیاز محض 2روپے میں !

مہاراشٹر سمیت پورے دیش میں گزشتہ تین دنوں سے سوشل میڈیا پر شولہ پور کے کسان راجیندر چوہان کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ منڈی میں 512کلو پیاز بیچنے کے بعد بھی انہیں صرف دو روپے کا چیک ملا اور اسے کیش کروانے کیلئے بھی انہیں کچھ دنوں بعد منڈی میں آنا ہوگا۔ مہاراشٹر کے بجٹ سیشن کے موقع پر اپوزیشن کے لیڈر اجیت پوار نے بھی اس کا ذکر کیا ۔ وہیں دوسری جانب ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کہا کہ راجیندر چوہان کو دو روپے کے چیک دینے والے سریہ ٹریڈر س کا لائسنس منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اخبار نویسوں سے بات چیت میں فڑنویس کا کہنا تھا کہ 512کلو پیاز بفر قیمت کے اندر نیچے جاتی ہے ۔لیکن انہیں دو روپے ہی ملے ہیں۔ٹرانسپورٹ لاگت کاٹ لی گئی ایسا نہیں ہونا چاہئے ۔دراصل مہاراشٹر میں ان دنوں تھوک بازار میں پیاز 6سے 7روپے کلو اور خوردہ بازار میں 20سے 30روپے کلو کے حساب سے مل رہی ہے۔ لیکن فروری کے آخر تک مانسونی پیاز کی آمد ہو جاتی ہے۔ نمی کے سبب پیاز کو اسٹور کرکے نہیں رکھا جاسکتاہے۔ گھریلو استعما ل کیلئے اسٹور کرنے کیلئے صرف سوکھی پیاز کی ضرورت ہوتی ہے۔مانسونی پیاز کی قیمتوں میں بھاری گراوٹ دیکھنے کو ملی اور اس کی زد میں راجیندر چوہان آگئے ۔ شولہ پور ضلع کے برکھی تالا کے گورے گاو¿ں کے راجیندر توکارام چوہان نے دس بوری پیا ز بیچی اور منڈی نے انہیں ٹرانسپورٹ ،ڈھلائی اور تول کرنے کا پیسہ کاٹنے کے بعد دو روپے کا چیک تھما دیا۔ چوہان یہ دو ایکڑ کھیت میں پیاز لگائی تھی۔17فروری کو 10بوری پیاز سریہ ٹریڈرس کے پاس لے گئے ان سب بوریاں کا وزن 512کلو تھا لیکن مانسونی پیا ز کی قیمتوںمیں گراوٹ کی وجہ سے راجیندر کو 1روپے فی کلو کے بھاو¿ دام ملے اور کل لاگت میں سے گاڑی کرایہ ،تولائی ،ڈھلائی کے پیسے کاٹ کر دو روپے کا چیک انہیں دے دیا گیا ۔زرعی اجنا س منڈی کمیٹی کے تاجر سریہ ٹریڈرس نے یہ چیک دیا جو 8مارچ 2023کو کیش کراناہے ۔ انہیں اس دور وپے کی چیک کو بھنانے کیلئے واپس اسی منڈی میں آنا ہوگا۔ راجیندر چوہان کو ایک کاروباری سے محض دو روپے کی چیک ملنے اور اس سے جڑی خبریں ہر طرف وائرل ہو گئیں ۔ بی بی سی مراٹھی نے واقعہ کے بارے میں معلومات کیلئے راجیندر چوہان سے رابطہ قایم کیا تو انہوںنے اس بارے میں بتایا کہ میں جو پیاز بیچی تھی وہ نمبر 1کوالیٹی کی تھی۔ اور مجھے امید تھی کہ یہ 8سے 10روپے فی کلو کے بھاو¿ میں بکے گی۔ لیکن حقیقت میں یہ فی کلو 1روپیہ ملا ۔ اس سے میرا خرچ بھی نہیں نکلا ۔مجھے اس بات کا دکھ ہے کہ راجیندر چوہان کا پورا خاندان کھیتی کاروبارمیں ہے ۔ ان کے خاندان میں بیوی دو بچے ،بہو اور پوتے ،پوتیاں ہیں ۔ چوہان نے کہا کہ اس واقعے سے ان کے گھر والوں کو بہت دکھ ہے ۔کسانوں کی انجمن سوابھیمانی تنظیم کے چیف راجو روہی کہتے ہیںکہ دیکھئے توکارام چوہان کو دس بوری پیاز بیچنے پر صرف دو روپے کا چیک ملتا ہے ۔ بے شرم تاجر کو شرم کیسے نہیں آئی ؟کسانوں کے آنسوں نکالنے کیلئے یہ واقعہ فطری ہے۔ (انل نریندر)

28 فروری 2023

نیا ٹرینڈ :دو سال کی حکومتیں!

لوگوں میں اختیارات کو لیکر بڑھتی بیداری اور ریفرنڈم کا دباو¿ کا نتیجہ ہے کہ دنیا میں جمہوری سرکاریں اور ان کے نیتا اب تیزی سے بدل رہے ہیں ۔ یوروپ کے زیادہ تر ملکوںمیں ہر دو سال میں حکومتیں بدل رہیںہیں اس کی وجہ ہے لوگ دو سال سے زیادہ میعاد کی ایک سرکار نہیں چاہتے ۔ برطانیہ میں 2022تین وزیر اعظم بنے ۔ جفرافیائی ریسر چ سینٹر کی اسٹڈی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس میں دوسری جنگ عظیم کے بعد سے 2022تک برطانیہ کے ساتھ یورپین یونین کے 22ملکوںمیں حکومت کا اوسط میعاد کا حساب لگایا گیا جس میں سامنے آیا کہ زیادہ تر یوروپی ممالک میں دو سال میں ایک مرتبہ سرکار بدل گئے جیسے بیلجیم ،فن لینڈ اور اٹلی میں سب سے کم میعاد والی حکومتیں رہیں۔ان ملکوںمیں اوسطً سرکاریں ایک سالب بھی نہیں چلیں ۔ آئین میں طے میعا د سے بہت کم وقت تک سرکار چل سکیں ۔ وہیں لگزم برگ میں سرکار کی اوسط میعاد سب سے زیادہ ساڑے چار سال رہی یہاں حالاںکہ یہ بھی پانچ سال تک کی میعاد سے کم رہی ۔ ریسرچ سینٹر کی اسٹڈی کے مطابق ضروری نہیں کہ بدلاو¿ چناو¿ سے ہی ہو ۔پارٹیوں کے درمیان محاذ سے پارلیمنٹ سے اکثریت سے جیت کر سرکار میںتبدیلی ہوئی اس میں برطانیہ کی مثال دی گئی ہے۔ جہاں2022میں بنا چناو¿ دو نئے وزیر اعظم بنے ۔ یوروپ کے سبھی ملکوںمیں بھی یہی ہوا ہے۔ (انل نریندر)

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...