Translater

05 دسمبر 2019

مشکل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

دنیا کے سب سے طاقتور شخص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف پارلمینٹ میں مقدمہ چلانے کی کارروائی کی جانچ آخری دو میں ہے اگر تحریک ملامت ایوان نمائندگان میں پاس ہونے کے بعد سنٹ میں بھی منظور ہو جاتی ہے تو پہلے ہی اپنے عہد میں ٹرمپ کی وادی ہونے کا خطرہ ہے اس سے پہلے 1974میں اس وقت کے صدر ریچلڈ مکسن نے مقدمہ چلائے جانے پر تجویز سے پہلے ہی استعفی دے کر عہدہ چھوڑ دیا تھا امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے مقدمہ چلانے کی کارروائی کو منظوری 24ستمبر 2019کو دے دی تھی ایوان کی عدلیہ کمیٹی میں پہلی سماعت 13نومبر سے شروع ہوئی مقدمہ چلانے کی الزامات کی جانچ ایوان نمائندگان کی عدلیہ کمیٹی کو دی گئی ہے وہ دسمبر میں معاملے درج کرنا شروع کر چکی ہے اس کے بعد ریپبلیکن اکثریت والے ایوان سنٹ میں جانچ اور آخری فیصلہ ہوگا ۔ٹرمپ کے خلاف مقدمہ چلانے کے فیصلے کے لے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوگی ،حالانکہ سنٹ میں ریپبلیکن کے پاس اکثریت ہے ایک وسل بلور نے الزام لگایا تھا کہ ٹرمپ نے یو کرین کے صدر بولوڈی نیہو جیلنسکی کو 25جولائی کو فون لگا کر سابق نائب صدر اور 2020کے صدارتی چناﺅ میں ڈیموکریٹک امیدواری کے اہم دعویدار جوے بیڈن کی ساکھ ملیا میٹ کرنے کے لئے کہا تھا بیڈن کے بیٹے رابرٹ ہنٹر یوکرین کی گیس کمپنی بورسما کے بورڈ میں 2014سے 2019تک کام کر چکے ہیں یوکرین کے کچھ ورکروں نے الزام لگائے کہ بیڈن کے بیٹے رابرٹ ہنٹر نے ملک کے مفاد کے خلاف کام کیا ہے وہیں بیڈن پر ٹرمپ نے الزام لگایا کہ انہوںنے بیٹے کی خاطر یوکرین میں سرکاری وکیل تک کو ہٹوا دیا یوکرین میں ان سبھی معاملوں کی جانچ چل رہی ہے ۔ٹرمپ پر الزام ہے کہ یوکرین کو اقتصادی و فوجی مدد کی رشوت دے کر اپنے سیاسی حریف جوے بیڈن کے ساتھ ساکھ خراب کرنے کی کوشش کی امریکی وسل بلور کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے ذریعہ یوکرین کے صدر کو فون کرنے کا مقصد دباﺅ ڈال کر جوے بیڈن کے نا پسندیدہ رول کو دکھا کر ان کی ساکھ کو امریکہ میں خراب کرنا تھا ۔کانگریس پینل نے ٹرمپ کو چھ دسمبر شام تک یہ بتانے کو کہا ہے کہ کیا وہ یا ان کے وکیل مقدمہ چلانے کی کارروائی میں اپنی طرف سے کوئی اور وقت دینے کو تیار ہیں ؟انہیں یہ بھی بتانا ہوگا کہ کیا وہ گواہوں سے بات کرنا چاہیں گے ؟اُدھر وائٹ ہاﺅس کے ایک بیان کے مطابق ٹرمپ مقدمہ چلانے کی کارروائی میں شامل نہیں ہوں گے ان کے وکیل بینادی کارروائی کی تعمیل نہ کئے جانے اور شفافیت نہ برتنے کے سبب امریکی صدر کے خلاف مقدمہ چلانے کی سماعت میں شامل نہیں ہوئے ۔

(انل نریندر )

ممتا کا این آر سی کو کرارا جواب

مغربی بنگال کی تین اسمبلی حلقوں میں ہوئے ضمنی چناﺅ کے نتائج کے بعد ترنمول کانگریس کی چیف ممتا بنرجی کو بڑی راحٹ ملی ہے تو وہیں بی جے پی کے لئے تشویش بڑھانے والا نتیجہ رہا ضمنی چناﺅ ان میں 2016میں بی جے پی ٹی ایم سی اور کانگریس نے ایک ایک سیٹ پر کامیابی حاصل کی تھی حالیہ مہینوں میں جس تیزی سے بی جے پی کا گراف وہاں بڑھا تھا اور ممتا بنرجی کے لئے خطرے کی گھنٹی بجنے لگی یہی وجہ ہے کہ لوک سبھا چناﺅ میں توقع کے خلاف خراب پرفارمینس کے بعد ممتا بنرجی نے ایک کے بعد ایک کئی قدم اُٹھائے تھے ۔انہوںنے قومی سطح پر جو ہار ہوئی تھی اسے روک لگا دی چناﺅ حکمت عملی ساز پرشانت کشور کو اپنے ساتھ لیا اور عام لوگوں سے زیادہ سے زیادہ حال چال پوچھا ان کے مسائل جانے اس کی وجہ سے ضمنی چناﺅ میں اچھے نتائج آئے لیکن انہیں پتا ہے کہ ضمنی چناﺅ نتائج اصل چناﺅ سے الگ ہوتے ہیں اشو الگ ہوتے ہیں ہوا کا رخ بھی متاثر کرتا ہے نتائج کو آنے والے دنوں میں بی جے پی اور طاقت جھونکے گی وہیں لوک سبھا چناﺅ میں 18سیٹوں پر کامیابی حاصل کرنے سے بی جے پی کے حوصلے بلند تھے ۔بی جے پی نے تب سے ہی 2012میں ہوئے اسمبلی چناﺅ کی تیاری شروع کر دی تھی ،بی جے پی نے اس ضمنی چناﺅ میں اپنی جیتی ہوئی سیٹ گنوا دی ،کھڑک پور سیٹ بھاجپا کے پردیش صدر دلیپ گھوش کے پارلیمانی حلقہ میں آتا ہے وہ اس کو نہیں بچا پائے ان کا کہنا ہے کہ اصل میں ضمنی چناﺅ میں عام چلن ہے جس پارٹی کی سرکار ہوتی ہے وہی کامیاب ہوتی ہے مغربی بنگال میں این آر سی کو لے کر بے چینی ہے ٹی ایم سی نے اسے اپنے حق میں بھنایا کالیا گنج سے بی جے پی امیدوار کمل چندر سرکار نے معنی کہ ہم اس لئے ہارے کیونکہ بنگال میں این آر سی لاگو کرنے کو لے کر جنتا میں غلط فہمی پیدا ہو گئی ہم اس اشو پر جنتا کو سمجھانے میں ناکام رہے ۔گھوش نے کہا کہ این آر سی اشو کیوں ہونا چاہیے ؟2019میں پارلیمانی چناﺅ میں بھی این آر سی اشو تھا لیکن ہم جیتے اس لئے ہماری ہار کے لئے این آر سی کو ذمہ دار بتانا صحیح نہیں ہے ۔ہو سکتا ہے امیدواروں کے انتخاب کو لے کر ناراضگی ہو وہیں ترنمول کانگریس ان تین سیٹوں کو جیت کر اپنے پیروں سے کھسکتی زمین کو بچانے کی کوشش کر رہی تھی اور مارکس وادی پارٹی نے ان ضمنی چناﺅ میں مل کر چناﺅ لڑنے کا فیصلہ کیا لیکن دونوں کو تیسرے نمبر پر ہی تسلی کرنی پڑی این آر سی کو لے کر نارتھ ایسٹ ریاستوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے جو بی جے پی پر بھاری پڑ سکتی ہے ۔مغربی بنگال کا یہ ضمنی چناﺅ نتیجہ اس بات کا صاف اشارہ ہے کہ بی جے پی کو مغربی بنگال میں اور زور لگانا پڑے گا ۔

(انل نریندر)

04 دسمبر 2019

بلٹ پر بیلٹ کی جیت

جھارکھنڈ اسمبلی چناﺅ کے پہلے مرحلے میں رکاوٹ ڈالنے کی تمام نکسلیوں کے ذریعہ تشدد برپا کرنے کے باوجود ووٹروں نے نہ صرف ایک انگلی کی طاقت سے دھماکوں کو خاموش کر دیا ووٹنگ کے دن بھی نکسلیوں نے گملا کے وشن پور میں چار دھماکے کئے لیکن خیر کی بات رہی کی کوئی زخمی نہیں ہوا اور لوگوں میں دہشت پھیلانے کے مقصد میں نکسلی بری طرح ناکام رہے چناﺅ محکمہ پولس و انتظامیہ کی مستعدی سے ان علاقوں میں 63.29فیصد پولنگ ہوئی اس مرتبہ اس میں 1.15فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور بلٹ پر بیلٹ کی جیت دیکھی گئی لوگوںنے ووٹ کی طاقت سے نکسلیوں کو منھ توڑ جواب دیا ۔لال آتنک کے گڑھ لاتیہار کے لکویہ گاﺅں میں بھی صبح ساڑھے چھ بجے ٹھٹھرتی ٹھنڈ کے باوجود دیہاتی ووٹ ڈالنے کے لئے اسکول میں ووٹ ڈالنے کی طرف کھڑے دیکھے گئے انہوںنے کام کاج چھوڑ کر ووٹ کو ترجیح دی صرف آٹھ دن پہلے ہی نکسلیوں نے لکویہ میں پولس عملے کو لے جا رہی گاڑی کو نشانہ بنایا اور چار پولس والوں کو مار ڈالا اندیشہ تھا کہ نکسلی حملے کا اثر اس گاﺅں میں ووٹنگ پر پڑے گا لیکن گاﺅں میں 72فیصدی ووٹنگ ہوئی گملا کے دشن پور ڈیوزن کے گھاگھرا اور نراسی پنچایت کے ہوشنگ ،سرگیدا و سدوورتی علاقوں میں نکسلیوں نے پوسٹر لگا کر لوگوں کو ووٹ نہ ڈالنے کا فرمان سنایا تھا لیکن ووٹروں نے اس فرمان کو مسترد کر زبردست طریقہ سے ووٹ ڈالا ووٹ کے لئے قطاروں میں کھڑے لوگوں کے چہروں پر ووٹ ڈالنے کے تیں دلچسپی جھلک رہی تھی شہید سکرا ارواں کی بیوی لیلا چنی دیوی نے گھاگھرا کے پولنگ مرکز پر ووٹ ڈالا رکشا پولر وجے نے بتایا کہ اس مرتبہ بدلاﺅ آئے گا ،ایسے ہی کوسوں دور رامگڑھ ڈیوزن کے نکسلی متاثرہ علاقوں میں تبدیلی کی لہر پر جمہوریت کا جوش دکھائی دیا ،کبھی نکسلیوں کی دخل اندازی کی وجہ سے ووٹ نہ ڈالنے والے لوگوں میں اس مرتبہ خوف نہیں تھا شہید پولس والے کی بیوی نیلم نے کہا کہ میں نے جمہوریت کی مضبوطی کے لے اس دکھ کی گھڑی میں بھی ووٹ ڈالا ہے نئی سرکار سے امید ہے کہ وہ ریاست سے نکسلیوں کا صفایا کر دے گی جہاں نکسلیوں نے دھماکے کئے وہاں چھ بوتھوں پر 4331ووٹر اورسطا 55.8فیصد پولنگ ہوئی ۔دھماکے ہو رہے تھے اور ووٹ ڈال کر نکل رہے تھے صحیح معنی میں یہ بلٹ پر بیلٹ کی جیت اور جمہوریت کی جیت ہے نئی سرکار کو نکسلی متاثرہ علاقوں کے عوام کی پکار سننی ہوگی یہ نکسلی مسئلے کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے موثر قدم اُٹھانے ہوں گے ۔

(انل نریندر)

راہل بجاج نے مودی سرکار کو آئینہ دکھایا

موقعہ تھا سنیچر کو ممبئی میں اکنامک ٹائمس ایوارڈ فار کارپوریٹ ایکسی لینس کا پروگرام اس میں صنعتکار راہل بجاج نے مودی سرکار کو بھری محفل میں آئینہ دکھا دیا ۔سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے دیش کی اقتصادی حالت خراب ہونے اور مندی کے جو اسباب گنائے تھے اس میں سب سے بڑی وجہ لوگوں میں پیدا خوف او ر بھروسے کی کمی بتایا تھا اگلے ہی دن لائیو ٹیلی ویزن کے سامنے بھی مودی سرکار کو کھر ی کھوٹی سنائی اورتلخ سوال پوچھے اس ایوارڈس پروگرام میں جس اسٹیج پر وزیر داخلہ اور وزیر داخلہ امت شاہ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن اور ریل منتری پیوش گوئل بیٹھے تھے اس وقت راہل بجاج نے کھل کر کہا کہ آپ سے ڈر لگتا ہے انہوںنے اپنی چھوٹی سی تقریری میں لڑکھڑاتی آواز میں کہا کہ بھلے ہی کوئی نہ بولے لیکن میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ کی تنقید کرنے میں ہمیں ڈر لگتا ہے آپ اسے کیسے سمجھیں گے انہوں نے کہا کہ ہم یو پی اے 2-یو پی اے سرکار کو گالی دے سکتے تھے لیکن ڈرتے نہیں تھے تب ہمیں آزادی تھی لیکن آج سبھی صنعتکار ڈرتے ہیں کہ کہیں مودی سرکار کی نکتہ چینی مہنگی نہ پڑ جائے ۔ہمارے صنعتکار دوستوں میں سے کوئی نہیں بولے گا میں کھلے طور پر اس بات کو کہتا ہوں کہ ایک ماحول تیار کرنا ہوگا جب یو پی اے 2-سرکار اقتدار میں تھی تو ہم کسی پر بھی نکتہ چینی کر سکتے تھے کہہ سکتے تھے کہ آپ اچھے کام کر رہے ہیں اس کے بعد بھی ہم آپ کی کھلے طور پر نکتہ چینی کریں اتنا بھروسہ نہیں ،کہ آپ اسے پسند کریں گے اس کے ساتھ ہی بجاج نے ملک کی اقتصادی حالت کو لے کر بھی ملک کے ساتھ ہی صنعتکاروں کی تشویش کا ذکر کیا ہمیں ایک بہتر سرکار چاہیے صرف انکار نہیں چاہیے ۔میں صرف بولنے کے لئے نہیں بول رہا ہوں ایک ماحول بنانا پڑے گا میں آلودگی اور ماحولیات کی بات نہیں کر رہا ہوں میں غلط ہو سکتا ہوں ،لیکن وہ سب کو لگتا ہے کہ ایسا ہے میں سب کی طرف سے نہیں بول رہا ہوں اور مجھے یہ سب بولنا بھی نہیں چاہیے ۔کیونکہ لوگ ہنس رہے ہیں کہ چڑھ جا بیٹا سولی پر بجاج نے بی جے پی ایم پی پرگیہ ٹھاکر کے گوڈسے پر بیان کا بھی ذکر کیا جس نے گاندھی جی کا قتل کیا تھا ،اس میں کسی کو شک نہیں ہے کیا کسی کو پہلے بھی وہ بولی تھی صرف صفائی دی آپ نے اسے ٹکٹ دے دیا اور جیت گئی اور آپ کی ہمایت سے ہی جیتی ہے انہیں کوئی نہیں جانتا تھا پھر آپ نے انہیں ڈیفنس کمیٹی میں شامل کر دیا ،وزیر اعظم نے کہا کہ میں انہیں دل سے معاف نہیں کر سکتا پھر بھی وہ مشاورتی کمیٹی میں لے آئے اس موقع پر وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن وزیر تجارت پیوش گوئل بھی اسٹیج پر موجود تھے ۔راہل بجاج نے یہ سب باتیں کہیں ساتھ ہی مکیش امبانی کمار منگلم برلا سنیل بھارتی،متل جیسے بڑے صنعتکاربھی پروگرام میں شامل تھے ،راہل بجاج کا جواب دیتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ کسی کو بھی اپنی بات رکھنے سے ڈرنے کی ضرورت نہیں اور جیسا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ ڈر کا ایک ایسا ماحول بنا ہے تو ہمیں اسے بہتر بنانے کی کوشش کرنا چاہیے ۔میں صرف اتنا ضرور کہنا چاہوں گا کہ کسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی کوئی ڈرانہ چاہتا ہے راہل بجاج کے بیان کے بعد کانگریس بھاجپا میں بیان بازی بھی شروع ہو گئی کانگریس لیڈر ابھیشک منو سنگھوی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ راہل بجاج نے ای ٹی ایوارڈس میں کہا کہ آپ ایک غیر یقینی ماحول بنا رہے ہیں ....جو ڈر گیا وہ مر گیا ۔کئی برسوں کے بعد کارپوریٹ دنیا سے کسی نے جو اپوزیشن کو صلاح دی ہے وہ اقتدار سے کچھ سچ بولنے کی ہمت دکھائی بجاج کے بیان پر کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے کہا کہ راہل بجاج نے جو کہا وہ دیش بھر میں ہر سکیٹر کے مشترکہ جذبات ہیں ،ہمارا بجاج نے بینڈ بجا دیا وہیں بی جے پی آئی ٹی سیل کے انچارج امت مالویہ نے راہل بجاج کا ایک ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کے راہل گاندھی کے لئے اتنے چاپلوسی بھرے نظریات ہیں تو یہ فطری ہے کیونکہ موجودہ انتظامیہ کے لے برا ہی کہنا پسند کرئے گا سچ کہا جائے لائسنس راج میں پھلنے پھولنے والے صنعتکار ہمیشہ کانگریس کے مشکور رہیں گے ۔

(انل نریندر)

03 دسمبر 2019

شاہ بنام پوار:اصلی چانکیہ تو پوار ہی ہوئے

مہاراشٹر کی سیاست کے بے تاج بادشاہ کہے جانے والے این سی پی چیف شرد پوار کے آگے بی جے پی چانکہ داﺅں چل نہ سکے اس سے ثابت ہو گیا ہے کہ مہاراشٹر کے چانکیہ نے بی جے پی کے چانکیہ بھاجپا صدر امت شاہ کو اپنی چال سے چت کر دیا ،اور صحیح معنوں میں یہ ثابت کر دیا کہ اصلی چانکیہ وہی ہیں ،وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر کے آگے دیش کے ایک سے ایک بڑھ کر نیتا اپنا سیاسی وجود نہیں بچا سکے ۔مہاراشٹر کی سیاست میں ان دونوں نیتاﺅں کا سیاسی جادو فیل ہو گیا ہے ۔اسمبلی چناﺅ کے درمیان انفورسمینٹ ڈاکریٹریٹ نے جب این سی پی چیف شرد پوار پر کارروائی کے لئے قدم اُٹھایا تو مہاراشٹر کا یہ بوڑھا شیر جاگ اُٹھا جبکہ این سی پی کے تمام سرکردہ لیڈر جن میں اجیت پوار بھی شامل تھے ساتھ چھوڑ چکے تھے ،ایسے میں اکیلے پڑے 78سالہ شرد پوار نے دہلی بنام مہاراشٹر کی سیاسی لکیر کھینچ دی اور بارش میں بھیگتے ہوئے چناﺅ کمپین سے نہیں چوکے اور نتیجہ یہ رہا کہ این سی پی کنگ میکر بن کر ابھری حالانکہ بی جے پی شیو سینا کو واضح اکثریت ملی تھی لیکن دونوں کے درمیان کرسی کی لڑائی میں پوار نے اپنے سیاسی جوہر کا استعمال کیا اور خاموشی سے شیو سینا کے کندھے پر ہاتھ رکھا جس سے اس کے حوصلے اتنے بلند ہو گئے کہ اس نے بی جے پی سے تیس سال پرانی دوستی توڑ دی ،شیو سینا نے مہاراشٹر میں کانگریس این سی پی کے ساتھ آنے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا لیکن شرد پوار نے اپنے آخری وقت تک پتے نہیں کھولے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ گورنر کو مہاراشٹر میں صدر راج لگانا پڑا اور اس کے بھی کانگریس این سی پی شیو سینا کے درمیان سیاسی کھچڑی پکتی رہی کانگریس کی جانب سے بھی شیو سینا کے ساتھ شرد پوار ہی کرتے رہے تینوں پارٹیوں کے درمیان کئی دور کی میٹنگ کے بعد آخر 22نومبر کو سرکار بنانے کا فارمولہ طے ہوا کانگریس این سی پی اور شیو سینا سرکار بنانے کا گورنر کو دعوی پیش کرتی ہے ۔اس سے پہلے ہی دہلی کے چانکیہ نے سنیچر کو بی جے پی نے شرد پوار کے بھتیجے اجیت پوار کو اپنے ساتھ ملا کر سب کو حیرت میں ڈال دیا مہاراشٹر میں راتوں رات صدر راج ہٹانے کا فیصلہ کر لیا سنیچر کی صبح ممبئی کے لوگ صحیح سے جاگے بھی نہیں تھے کہ دیوندر فڑنویس نے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لے لیا اور اجیت پوار نے ڈپٹی سی ایم کا حلف لیا وزیر اعظم نریندر مودی سمیت بی جے پی کے تمام نیتاﺅں نے دیوندر فڑنویس سرکار کو مبارکباد دینا شروع کر دی ایک بار پھر مہاراشٹر کے چانکیہ شرد پوار نے دہلی کے چانکیہ امت شاہ کو مات دے دی اس کے بعد کیا ہوا یہ سبھی جانتے ہیں مہاراشٹر میں وزیر کے عہدے سے دیوندر فڑنویس کے استعفی کے بعد یہ بات این سی پی نیتا و ترجمان نواب ملک نے کی ہے بہرحال ادھو ٹھاکرے مہاراشٹر کے سی ایم بن گئے ہیں او ربھاجپا کو مات مل گئی ۔

(انل نریندر )

حیوانیت کی حدیں پا کرتے یہ درندے

سات سال پہلے سولہ دسمبر 2012کو دہلی کے وسنت بہار میں نربھیہ کے ساتھ وہ بے خوف درندی ہوئی تھی جس سے پورا دیش اُٹھ کھڑا ہو تھا اس گھناونے جرائم کے خلاف پورا دیش سڑکوں پر اتر آیا تھا جگہ جگہ کینڈل مارچ ہوئے تھے ،سرکار ،سماج و سبھی سیاسی پارٹیوں نے یہ عہد کیا تھا کہ بس اب اور نہیں یعنی اب کوئی نربھیا دوبارہ نہیں ہوگی ہم نے امید کی تھی کہ شاید اب کچھ بدلے لیکن کچھ بھی نہیں بدلہ بلکہ الٹے ریپ کے واقعات میں اضافہ ہو گیا آئے دن آبروریزی اور موت کے واقعات کی باڑھ سی آگئی سات سال گزرنے کے بعد بھی نربھیہ کے قاتلوں کو پھانسی پر نہیں لٹکایا جا سکا ہتھیارے کوئی نہ کوئی داﺅں پینچ چل کر بچتے جا رہے ہیں ۔جمعہ کو پٹیالہ ہاﺅس میں اس کیس کی تاریخ تھی اور امید تھی کہ آخر کار ڈیتھ وارنٹ جاری ہو جائے گا جمعہ کو جیل کے افسر نے عدالت کو مطلع کیا کہ ایک قصوروار نے اپنی پھانسی کی سزا کے خلاف صدر جمہوریہ سے رحم کی عرضی دی ہے اس پر پٹیالہ ہاﺅس کے اسپیشل جج جسٹس ستیش اروڑا نے دیگر قصورواروں سے پوچھا کہ وہ اپنے بچاﺅ کو لے کر کونسی کارروائی کو اپنائیں گے جج نے اگلی تاریخ 13دسمبر طے کی ہے ۔امید ہے کہ تب تک صدر جمہوریہ اپیل کو خارج کردیں گے اور چاروں قصورواروں کی پھانسی کا راستہ کھل جاے گا پچھلے چار دنوں کے اندر رانچی اور حیدرآباد میں ہوئے گھناونے اجتماعی آبروریزی بتاتے ہیں کہ حالات وہیں کے وہیں ہیں اور دیش میں لڑکیاں ابھی بھی محفوظ نہیں ہیں۔یہ واقعات کسی دور دراز کے علاقہ کی نہیں ہیں یہ دو بڑے ریاستوں کی راجدھانی کی ہیں رانچی میں ایک طالبہ کا اغوا کر کے لے گئے اور اس کے ساتھ اجتماعی آبروریزی ہوئی جبکہ حیدرآباد ویٹنری ڈاکٹر کی اسکوٹی کا ٹائیر پنکچر جان بوجھ کر اس لئے کیا تاکہ اس کا گینگ ریپ کیا جا سکے گینگ ریپ کرنے کے بعد اس کا گلا دبا کر مار ڈالا گیا اور جلا دیا گیا ایسے درندوں کا نہ تو کوئی مذہب ہوتا ہے او ر نہ ہی ذات اسے فرقہ وارانہ رنگ دینا اتنا ہی بڑا جرم ہے ۔دونوں ہی واقعات سیدھے طور پر بتاتے ہیں کہ نربھیاکانڈ کے بعد جوبھی قدم اُٹھائے گئے وہ ایسے واقعات کو روکنے کے لئے ناکافی ثابت ہوئے ہیں سوال یہ ہے کہ عورتوں کی حفاظت پر سرکار کب تک چپ رہے گی ؟کب تک حفاظت کے لئے اُٹھی تحریک کی چینخوں کو دکھاوٹی آنسوﺅں سے دبانے کی کوشش ہوگی ۔کب تک سڑکوں پر اکیلے نکلنے میں عورتیں ڈرتی رہیں گی اور کب تک جرائم پیشہ کھلے گھومتے رہیں گے؟اس میں پبلک کا بھی قصور کم نہیں ہے حید رآباد دیش کے بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے جہاں حادثہ ہوا وہ ائر پورٹ کا علاقہ ہے ۔کیا پولس اور سیکورٹی جیسی کوئی انتظام نہیں تھا ؟اگر مان بھی لیں کہ جو جرائم پیشہ جن کی عقل اور انسانیت ماری گئی تھی تو بھی انہیں روکنے کے لے وہاں ایک بھی انسان نہیں تھا کیا؟سماج مانتا ہے کہ جرائم پیشہ کے بچ نکلنے کے راستے بند کرنا اور سخت سزا دینا ضروری ہے اور یہ صحیح طریقے سے ابھی تک نہیں کیا گیا ۔

(انل نریندر)

01 دسمبر 2019

دس پندرہ ہزار لوگوں کی بھیڑ سے بھاجپا چناﺅ کیسے جیتے گی؟

مہاراشٹر اور ہریانہ کے بعد ایک طرف جہاں جھارکھنڈ اسمبلی چناﺅ پر سب کی نظریں لگی ہوئی ہیں اور سیاسی حلقوں میں سوال پوچھا جا ہارہا ہے کہ جھارکھنڈ میں بھی بی جے پی کا وہی حال تو نہیں ہوگا جیسا مہاراشٹر میں ہوا ہے ؟لیکن جھارکھنڈ میں اس مرتبہ کنگ بننے سے زیادہ کنگ میکر کی لڑائی ہے میدان میں صرف دو یودھا ہیں بھاجپا کی طرف سے وزیر اعلیٰ رگھور داس اور اپوزیشن اتحاد کی طرف سے جے ایم ایم کے نیا ہیمت سورین ہیں 181اسمبلی سیٹوں والی ریاست میں پانچ مرحلوں میں چناﺅ ہو رہا ہے ۔پہلے مرحلے کی پولنگ ہو چکی ہے جھارکھنڈ چناﺅی سمر میں امیدواروں کی بھرمار ہے۔سب سے زیادہ دھوم رگھوبر داس اور آل انڈیا اسٹوڈینٹ یونین کی ہے جو اب تک بھاجپا کے ساتھ چناﺅ لڑتی رہی ہے اور سرکار چلاتی رہی ،لیکن اس مرتبہ دونوں آمنے سامنے آگئے ہیں ۔آج سو سے صدر سدھیش مہتو حالانکہ اپنے فیصلے کے پیچھے مہاراشٹر کو وجہ نہیں مانتے اور بھاجپا سرکار سے اصولی اختلاف کی وجوہات بتاتے ہیں لیکن کوئی بھی سیاسی مبصر یہ ماننے کو تیا رنہیں ہے کہ دراصل آجسو کو لگتا ہے کہ زیادہ سیٹوں پر لڑ کر آدھا درجن سیٹوں پر بھی جیتنے میں اگر وہ کامیاب رہے تو سرکار کسی کی بھی بنے لیکن دبدبہ اور کنگ میکر کا رول انہیں کا ہوگا بھاجپا نے مہاراشٹر میں ہار کے بعد جھارکھنڈ میں اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے ۔بھاجپا صدر امت شاہ نے پہلے مرحلے کی پولنگ سے کچھ گھنٹے پہلے جھارکھنڈ کے چتر ااور گڑوا میں چناﺅ کمپین کے تحت ریلیاں کیں ۔اور دونوں ریلیوں میں کم بھیڑ دیکھ کر ناراضگی جتائی پہلے چترا میں کہا کہ دس پندرہ ہزار لوگوں سے بھاجپا کا امیدوار کیسے جیتے گا :؟ ©آپ مجھے بیو قوف مت بنائیے میں بھی بنیا ہوں اور حساب کتاب مجھے بھی آتا ہے میں آپ کو جیت کا راستہ بتاتا ہوں آپ سبھی کو وزیر اعلیٰ رگھور داس نے موبائل فون دیا ہے پھر جاﺅ اور 25-25لوگوں کو فون کرو کہ وہ بھاجپا کو ووٹ دیں شاہ نے اپوزیشن پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ جھارکھنڈ میں کانگریس جے ایم ایم کے ساتھ مل کر چناﺅ لڑ رہے ہیں ،کیا جھارکھنڈ مکتی مورچہ نے کانگریس سے بھی کبھی پوچھا ہےکہ اس نے جھارکھنڈ کی تشکیل کے لئے کیا کیا؟شاہ نے در اندازی کے اشو پر کہا کہ اب مونی بابا کا زمانہ نہیں ہے ۔مودی جی کی سرکار ہے پہلے مونی باباکی مٹھی سے آلیہ مالیہ جے جمالہ بھارت میں روز گھس آتے تھے ۔جموں و کشمیر میں ہم نے 370ہٹا کر اپنے ارادے بتا دئے ہیں اسمبلی چناﺅ کے لئے امت شاہ آٹھ دنوں میں دوسری مرتبہ جھارکھنڈ گئے ا س سے پتہ چلتا ہے کہ جھارکھنڈ مہاراشٹر کے بعد بھاجپا کے لئے کتنی اہم ترین ریاست ہوگئی ہے ۔جھارکھنڈ کی بیس سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ مضبوط سرکار بنی تھی اس کا سہرا مودی کو جاتا ہے یہ مضبوط سرکار آجسو کی حمایت سے بنی تھی اس سے پہلے چودہ سال کی تاریخ میں سات وزیر اعلیٰ بنے ایک بار تو آزاد امیدوار وزیر اعلیٰ بن گیا امید تو یہی ہے کہ ا س مرتبہ کسی کو بھی واضح اکثریت نہیں ملے گی اگر کھچڑی اکثریت آئی تو چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کا بھی اہم رول بن جائے گا ۔

(انل نریندر)

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...