Translater

23 فروری 2019

شہزادہ محمد بن سلمان کا غیر رسمی دورہ ہند

سعودی عرب کے شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ ہند ایسے وقت ہوا جب پورا دیش پلوامہ حملے کو لے کر غم میں ڈوبا ہوا تھا اتفاق سے شہزادہ پہلے پاکستان گئے تھے لیکن بھارت کے اعتراض کو دھیان میں رکھتے ہوئے وہ سیدھے پاکستان سے بھارت نہیں آئے بلکہ اپنے دیش جا کر وہاں سے آئے اس سے اتنا تو ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں بھارت کے جذبات کا خیا ل ہے دہلی میں اپنے بیان میں شہزادہ محمد نے سیدھے سیدھے پلوامہ حملے کی مذمت تو نہیں کی لیکن کہا کٹر پسندی اور دہشتگردی پربھارت اور سعودی عرب کی تشویشات یکساں ہیں ۔پرنس نے آتنک کے خلاف لڑائی میں ساتھ دینے کا وعدہ تو کیا لیکن پلوامہ حملے اور پاکستان کے بارے میں ایک لفظ نہیں بولا پلوامہ حملے کے بعد بھارت جبکہ پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہا ہے اس میں اب تک فرانس امریکہ ،اسرائیل ،نیوزی لینڈ،جیسے دیش بھارت کا کھلا ساتھ دے چکے ہیں ۔در اصل امریکی دباﺅ کے باوجود بھارت کا ایران سے بڑھتی نزدیکی سعودی عرب کو راس نہیں آرہی ہے ۔لہذا بھارت اور سعودی عرب کے درمیان فوجی ساجھے داری کے دعوئے اور تجارتی امکانات کے باوجود کچھ حصاص ترین ڈپلومیٹک معاملوں پر بحالی اعتماد باقی ہے ۔پاکستان سے روایتی رشتوں کے پیش نظر سعودی عرب بھارت کے ساتھ پھونک پھونک کر قدم رکھ رہاہے ۔غور طلب ہے کہ بھارت آنے سے پہلے پاکستان گئے سعودی پرنس نے 20ارب ڈالر کی مدد کا وعدہ کیا بھارت کو اس مغالطے میں قطعی نہیں رہنا چاہیے کہ دہشتگردی کے مسئلے پر پاکستان کو گھیرنے میں سعودی عرب اس کی مدد کرئے گا ۔سعودی عرب کے پرنس محمد بن سلمان کے چار ملکوں کے دورے کا مقصد یہ ہے بھی نہیں کہ پرنس سلمان کے لئے اس وقت پاکستان کے آتنکواد کے خلاف زیادہ اپنی تاج پوشی سے پہلے پڑوسی ملکوں کی ہمایت حاصل کرنا ہے پاکستان کے بعد اپنے دو روزہ بھارت اور اس کے ملیشا اور انڈونیشیا کے دورے سے پرنس و ہ حمایت ضرور حاصل کر لیں گے جس کی امریکی صحافی جمال خاغوشی کے استمبول میں سعوری سفارت خانے میں ہوئے قتل کے بعد ان کو سخت ضرورت ہے یہ کسی سے چھپا نہیں ہے کہ وہ سعودی عرب اپنے وہابی نظریہ کو پھیلانے میں سب سے آگے ہیں بھارت کے مدرسوں میں پیسہ دینے والا سب سے بڑی مدد کرنے والا ملک ہے ،یہ الگ بات ہے کہ بھارت اور سعودی عرب کے رشتہ کافی پرانے اور مضبوط ہیں ہمارے چالیس لاکھ لوگ سعودی عرب میں کام کرتے ہیں پرنس سلمان کی بھی یہ کوشش ہے کہ وہ اپنے ملک میں مذہبی دائرے کو آگے بڑھا کر ایک جدید ملک بنانا چاہتے ہیں پاکستان میں یہ بات سرکاری طور پر بھلے ہی نہ کہی گئی ہو لیکن وہاں ایک طبقے کی رائے یہ ضرور ہے کہ بھارت پاک رشتوں کو خراب ہونے سے بچانے کا حامی ابھی بھی سعودی عرب ہی ہے ہم سعودی سے کاروباری رشتے تو بڑھا سکتے ہیں لیکن ہمیں یہ امید نہیں کرنی چاہیے کہ سعودی پاکستان کو الگ تھلگ کرنے میں بھارت کی مدد کرئے گا ۔

(انل نریندر)

پاک فوج اور آتنکی تنظیموں کی کٹھ پتلی عمران خان

پلوامہ میں سی آر پی ایف قافلے پر بزدلانہ خوفناک حملے کے پانچ دن بعد پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا جس پر بھروسہ کیا جا سکے یا اس میں کچھ بھی نیا ہو ۔پرانی عادت کے مطابق انہوںنے رٹا رٹایا بیان دیا عمران نے ہمیشہ کی طرح پلوامہ حملے میں پاکستان کی شمولیت کے ثبوت مانگ کر دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی بھارت کی امکانی کارروائی سے ڈرے عمران خان نے جنگ کی دھمکی دے ڈالی اور کہا کہ اگر بھارت حملہ کرئے گا تو پاکستان ایسا جوابی کارروائی کرئے گا کہ جنگ روکنا مشکل ہو جائے گا ۔عمران خان صفائی دینے کے پانچ دن بعد سامنے آئے تو چہرے پر گھبراہٹ اور خوف صاف دکھائی دیا ۔ریکارڈ دیڈیو بیان میں فوج نے 35جگہ ایڈیٹنگ کی 362سیکنڈ کے اس ویڈیو میں پہلی بار ایڈیٹنگ و تیسویں اور آخری 356ویں سیکنڈ پر ہے ۔دیش کو خطاب کرتے ہوئے عمران نے کہا کہ بھارت بغیر ثبوت کے الزام لگا رہا ہے پہلے کہا تھا کہ عمران دیش کو خطاب کریں گے حالانکہ ویڈیو سے پتہ چلا کہ یہ پہلے سے ہی ریکارڈ تھا عمران خان کے دعوں کو بھارت نے مسترد کیا تھا اور ان کی سابقہ بیوی ریہم خان نے بھی ان کے جھوٹے بیان کی پرت در پرت کھول کے رکھ دی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ خان پاکستانی فوج کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی ہیں۔وہ اتنا ہی کہتے ہیںاور کرتے ہیں جتنا انہیں فوج کرنے اور کہنے کو کہتی ہے ۔وہیم خان نے کہا کہ وزیر اعظم کی حیثیت میں عمران خان کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔اقتدار کے لئے عمران خان نے اپنے جدید نظریات اور اصولوںسے بھی سمجھوتہ کر لیا ہے عمران خان کی سابق بیوی نے کہا کہ پلوامہ آتنکی حملے کے بعد عمران خان بیان دینے کے لئے فوج کی ہدایت کا انتظار کرتے رہے ۔پلوامہ پر عمران نے جو بھی کچھ کہا وہ ان کے اپنے لفظ نہیں تھے ۔اور صاف لگتا ہے کہ اسے کسی اور نے تیا ر کیا تھا ۔سب سے تکلیف دہ بات یہ تھی کہ عمران نے اپنی تقریروں میں کہیں بھی بھارت کے چالیس جوانوں کے مرنے پر ایک لفظ بھی افسوس کے بارے میں نہیں کہا وہیں پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری نے پلوامہ حملے کے لئے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرائے جانے پر وزیر اعظم عمران خان کو گھیرتے ہوئے کہا کہ وہ دوسرے کے کہنے پر کام کرتے ہیں اور اسی وجہ سے پوری صورتحال خراب ہوئی ہے ۔عمران خان کو غیر سنجیدہ بتاتے ہوئے کہا کہ انہیں بین الا اقوامی سیاست کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے آگے کہا کہ میرے عہد کے دوران ممبئی کے تاج ہوٹل پر حملہ ہوا تھا اس حملے کا الزام بھی ہمارے اوپر لگایا گیا حالانکہ ہم نے معاملے کو صحیح ڈھنگ سے نمٹا اور بھارت کو پیچھے ہٹنے کے لئے مجبور کیا ۔اور سفارتی طریقے سے معاملہ سلجھایا تھا ۔پلوامہ حملے کے ثبوت مانگ کر آتنکیوں پر کارروائی کی گارنٹی لینے والے پاکستان پہلے بھی ہزار بار ایسے جھوٹ بول چکا ہے ۔بھارت سرکار پاکستان کو ممبئی ،پٹھان کوٹ،اور اُڑی اور پارلیمنٹ پر حملے کے ثبوت سونپ چکی ہے ۔لیکن قصور واروں کو سزا ملنا تو دور ان کی سرپرستی میں آتنکی بھارت کے خلاف لگاتار سازشوں کو انجام دے رہے ہیں پاک دہشتگردی کی ایک دھری ہے کوئی حیرانی نہیں کہ عمران نے حملے کو آتنکی کارروائی ماننے سے انکار کر دیا انہوںنے تو اس کی مذمت اور نہ ہی شہیدوں کے رشتہ داروں سے ہمدردی جتائی ۔عمران کو ریکاڈیڈ سندیش ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ فوج آئی ایس آئی اور آتنک کی سرغناﺅں کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی ہیں ۔اگر واقعی وہ دہشتگردی کو لے کر سنجیدہ ہوتے تو جیش اور لشکر کے خلاف ٹھوس کارروائی کرتے ۔

(انل نریندر)

22 فروری 2019

اور اب بی جے پی شیو سینا کے سامنے جھکی

2019کے لوک سبھا چناو ¿ کے لئے آرہے مختلف جائزوں کا نتےجہ ےہی نکل رہا ہے کہ اگلی سرکار بنانے مےں اتحادوں و مہا گٹھ بندھنوں کا اہم رول ہوگا اےسا کہا جارہا ہے کہ کوئی بھی اکےلی پارٹی اپنے دم خم پر واضح اکثرےت نہےں پا سکے گی اور سرکار بنا نے کےلئے اپنے اتحادی ساتھےوں کا سہار ا لےنا پڑے گا ۔ےہ بات بی جے پی کے لئے بھی فٹ بےٹھتی ہے اور کانگرےس کےلئے بھی اس لئے بی جے پی نے لوک سبھا چناو ¿ کے لئے سےٹوں کے تال مےل مےں اپنے اتحادےوں کے تئےں نرم روےہ رکھا ہے بہار مےں جے ڈی ےو کے سامنے پوری طرح جھک جانے کے بعد اب بی جے پی نے اپنے سب سے پرانے چناوی ساتھی شےو سےنا سے بھی سمجھوتہ کرلےا ہے اس سے اےک بات تو صاف ہے کہ بی جے پی کی نظر مےں 2019کاچناو ¿ 2014چناو ¿ سے بلکہ الگ ہے ۔تال مےل کے تحت شےو سےنا کو لوک سبھا مےں 23سےٹےں ملی ہے جبکہ 2014مےں اسے 22سےٹےں ملی تھی اےک طرح سے بہار کے طرز پر اےک سےٹ کم کر اپنی اتحادی پارٹی سے سمجھوتہ کےا ہے ۔رام مندر،رافےل سودے جےسے مسئلوں پر بار بار بھاجپا پر حملے کرنے والی شےو سےنا نے بھی ثابت کردےا ہے کہ پچھلے چار پانچ سال سے جو وہ بی جے پی اور مودی سرکار سے خلاف زہر اگل رہی تھی وہ صرف سےٹوں کے لئے سودے بازی کا حصہ تھا کےا کےا نہےں کہا شےوسےنانے پردھان منتری کے خلاف ؟بھاجپا اور شےو سےنا کے درمےان پچھلے دو دہائی سے زےادہ پرانا رشتہ رہا ہے سماجی بنےاد پر اور نظرےاتی بنےاد پر دونوں مےں ےکسانےت دےکھی جاتی ہے اسلئے ان دونوں کا اتحاد کسی کو غےر فطری نہےں لگتا لےکن جس طرح پچھلے کچھ برسوں سے بھاجپا او رشےو سےنا کے رشتوں مےں کڑواہٹ دےکھی جارہی تھی اس سے ےہ بھی تذکر ہ ہونے لگا تھا اس مرتبہ دونوں پارٹےاں الگ الگ چناو ¿ لڑےں گی ۔اےسے مےں دونوں کے رشتہ مےں کشےد گی اور اتحاد کے اسباب سے مجبورےوںکی خاصےت ہے جس مےں ہر پارٹی اپنے مفاد کےلئے دباو ¿ کی حکمت عملی اپنا تی ہے ۔ےہ کہنا غلط نہ ہوگا بھاجپاکی تنقےد کے پےچھے شےوسےنا امکانی ےہی حکمت عملی رہی ہو تاکہ اس سے اپنی مانگ منوائی جاسکے ۔اپنے لئے حاشےہ پر رہنے والی رےاستوں مےں بی جے پی نےا ساتھی تلاش رہی ہے تامل ناڈو مےں انا ڈی اےم کے کے ساتھ چناو ¿ لڑے گی ۔جہاں اتحاد مےں اسے پانچ سےٹےں ملنے کی با ت کہےں جارہی ہے پچھلے تےن راجےوں مےں اقتدار کھونے کے بعد پارٹی کو لگنے لگا ہے کہ صرف مودی کی مقبولےت اور امت شاہ کے انتظام پر منحصر رہنا بھاری پڑسکتا ہے ۔وہ دےکھ رہی ہے کہ کانگرےس کس طرح چھوٹی چھوٹی رےاستوں مےں اتحاد پر زور دے رہی ہے اےسے مےں بی جے پی کی ےہ سوچ لگتی ہے کہ زےادہ سے زےادہ سےٹےں خود لےکر ہار جانے سے بہتر ہے کہ کافی سےٹےں اتحادےوں کو دےکر کامےاب ہونے پر زور دےا جائے ۔اگر وہ لوک سبھا چناو ¿ مےں اکثرےت سے پےچھے رہتی ہے تو اےن ڈی اے کے فارمولہ پر اگلی سرکار بنائی جاسکتی ہے ۔بہار مےں اسی فارمولہ پر بی جے پی نے کل 13سےٹوں کو چھوڑا ہے جس مےں پانچ انکے موجودہ اےم پی ہےں بی جے پی کی اتحادی پارٹی اگر من چاہی سےٹےں پارہی ہےں تو اس کی وجہ مودی سرکار کا لگا تار گراف گرنا اور بی جے پی کی چناوی حالت کمزور ہوتی جارہی ہے ۔

(انل نریندر)

دہشتگردی پاکستان کی سرکاری پالیسی کا حصہ ہے

پلوامہ حملے سے پاکستان کا آتنکی چہرہ اےک بار پھر بے نقاب ہواہے حملے کی ذمہ داری پاکستان کی سرزمےن سے سرگرم آتنکی تنظےم جےش محمد نے لی ہے اس سے ےہ اےک بار پھر ثابت ہوگےا ہے کہ پاکستان آتنکی تنظےموں کانا صرف سمرتھن کرتا ہے بلکہ ان کا گڑھ بھی بناہواہے ۔دنےا کے سامنے دکھاوے کے لئے پاکستان بھلے ہی آتنکی تنظےموں کے خلاف کچھ کارروائی کرتا ہے لےکن حقےقت ےہ ہے کہ پاکستانی سرزمےن سے خطرناک آتنکی تنظےم کھلے عام اپنی سرگرمےاں چلارہے ہےں انہےں نا صرف محفوظ پناگاہ مہےا کرائی گئی ہے بلکہ سرکاری مشےن بھی جس مےں پاک فوج ،آئی اےس آئی شامل ہےں ان ہی ہرممکن مدد کرتی ہے پاکستان بھارت ہی نہی بلکہ اپنے سبھی پڑوسی ملکوں مےں آتنکی بھےج کر وہاں عدم استحکام پےداکرنے کی کوشش کررہا ہے ۔پلوامہ حملے سے اےک دن پہلے پاکستان سے آئے دہشت گردوں نے اےران کے خاص تربےت ےافتہ دستے رےولوشنری گارڈ پر حملہ کرکے 27جوانوں کو مار ڈالاتھا ۔جہاں سے پتہ چلا ہے فدائی حملہ آور پاکستان سے آےا تھا اور اسے وہاں کی خفےہ اےجنسی نے ٹرےننگ دی تھی بدھ کو اس حملہ پر اےران نے کہا کہ پاکستان کو اس حملے کی بھاری قےمت چکانی ہوگی ۔اےرانی اقتداراعلی مےں رےولوشن گارڈ س کا خا ص رتبہ ہے ۔گارڈس کے چےف جنرل محمد علی جعفری نے فدائی حملے کےلئے سعودی عرب متحدہ عرب ،امارات حماےتی سنی آتنکی تنظےم کو ذمہ دار ٹھہر اےا ہے ۔کہاہے پاکستانی فوج اور دےگر سےکورٹی فورس اس طرح کی تنظےموں کو کےوں پناہ دے رہا ہے ۔پلوامہ حملے کی سازش مےں جےش محمد کے ساتھ پاکستانی فو ج بھی پوری طرح شامل تھی اس کا سب سے بڑا ثبوت ےہ ہے کہ تقرےبًا اےک مہےنہ پہلے پاکستان نے کنٹرول لائن کے ساتھ ساتھ کشمےر اور پنجا ب سے جڑی سرحد پر فوجےوں کی تعےناتی بڑھا دی تھی ۔پلوامہ حملے سے وابستہ اےک سےنئر افسر کے مطابق حملہ سے پہلے فوجےوں کو تعےنات کرنا فوج کے ذرےعہ کوئی بڑی کارروائی کا اشارہ تھا ےہی نہےں پاکستانی خفےہ اےجنسی آئی اےس آئی کے آقاو ¿ں کے کچھ ٹےلفون بھی پکڑے گئے تھے جس مےں بڑی کارروائی کا ذکر کےا جارہاتھا ۔ہماری خفےہ اےجنسےوں کے پاس حملے کی بھنک تھی لےکن وہ اصلی سازش کے تہہ تک پہچنے مےں ناکام رہے پلوامہ آتنکی حملے کو لےکر سرکار پر کارروائی کرنے کے بڑھتے دباو ¿ کے درمےان ہمارے ڈےفنس ماہرےن کا کہنا ہے دہائےوں سے دہشت گردی کو سرکاری پالےسی کی شکل مےں استعمال کرنے والے پاکستان کو ڈپلومےٹک طور سے الگ تھلگ کرنے کے فوجی قدم اٹھاکر سبق سکھانے کی ضرورت ہے ۔ےہ بالکل واضح ہے کہ پلوامہ آتنکی حملے کی سازش پاکستان مےں رچی گئی اسے انجام دےنے والوں کو سزا دےنا ضروری ہے ۔سےاسی قوت ارادی دکھاتے ہوئے شخصی طور پر حکمت عملی کے تحت کارروائی کرنے کی سخت ضرورت ہے ۔اےرانی فوج کے مےجر جنرل محمد علی جعفری نے آتنکی تنظےم جےش العدل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سرکار اےسے دہشت گردوں کو پناہ دےتی ہے جو ہماری فوج اور اسلام کے لئے خطرہ ہے اسے پتہ ہے ےہ لوگ کہاں چھپے ہےں اور پاکستانی سےکورٹی فورس انہےں حماےت او رپناہ دے رہی ہے انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان ان دہشت گردوں کے خلاف اےکشن نہےں لےتا ہے تو ہم بدلہ لےں گے ۔پاکستان کو اےسے عناصر کی حماےت کرنے کا نتےجہ بھگتنا ہوگا ۔

(انل نریندر)

21 فروری 2019

فلم انجمنوں نے پاکستانی ایکٹرس پر لگائی پابندی

پلوامہ میں 14فروری کے آتنکی حملے کے بعد پورے دیش میں زبردست ناراضگی دیکھنے کو مل رہی ہے بالی ووڈ کے سیلیبریٹیز بھی اپنے غصے کا کھل کر اظہار کر رہے ہیں پچھلے دنوں حملے کی مذمت کرتے ہوئے نغمہ نگار جاوید اختر اداکارہ شبانہ اعظمی نے اپنا مجوزہ دررہ منسوخ کر دیا ۔اب بالی ووڈ کی مشہور گلوگارائیں ریکھا بھاردواج اور ہرشدیپ کور نے بھی اپنا پاکستان دورہ کینسل کر دیا ہے ۔دونوں گلوکاروں کو ایک موسیقی پروگرام میں شرکت کرنے کے لئے لاہور جانا تھا انہیں 21اور 22مارچ کو لاہور میں شان پاکستان کے نام سے پروگرام میں اپنی پرفارمینس دینی تھی ۔لیکن دونوں سنگرس نے پلوامہ حملے کے بعد نعرضگی ظاہر کرتے ہوئے اپنے دورے کو منسوخ کر دیا ۔آتنکی حملے کے احتجاج میں مہا نائک امیتابھ بچن کی اگلی فلم اور کرکٹر ویرندر سہواگ،پی وی ایکس لکشمن ہربجن سنگھ اور سریش رینا کی فلم کی وشال کی شوٹنگ بمبئی میں قریب دو گھنٹے کے لئیے روک دی گئی ۔دوسری طرف فیڈریشن آف ویسترن آف انڈیا سنے امپلائز نے پاکستانی اداکاروں پر پوری طرح پابندی کا فیصلہ لیا ہے ۔24فلم انجمنوں نے گورے گاﺅں میں واقع فلم سٹی میں احتجاجی مظاہر کیا لیکن وہ لوگ فوجیوں کے تیں اپنی یکجہتی دکھانے کے لیئے شوٹنگ روک کر احتجاجی مظاہرے میں شامل ہوئیے ۔کرکٹر سہواگ نے کہا ،ہم جو بھی کہیں یا کریں وہ فوجی اور ان کے اشتراک کے لیئے شاید کم ہی ہوگا ہم صرف ان کا شکریہ ادا کر سکتے ہیں اور ان کی مدد کرنے کے لیے جو کچھ کر سکتے ہیں ہمیں کرنا چاہیے ہم بہت دکھی ہیں لیکن مستقبل میں ہم سبھی کے لئے بہتر وقت کی امید کرتے ہیں ۔ہربجن کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ شہید جوانوں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی ۔ فیڈریشن آف ویسترن آف انڈیا سنے امپلائز کے چیرمین بی این تیواری نے کہا کہ سبھی فلم انجمنوں نے ہندی فلموں میں کام کرنے والے کسی بھی پاکستانی اداکار کا پوری طرح سے بائکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔آر ایف ٹی ڈی اے کے چیر مین اشیش پنڈت نے بھی یہی بات کہی ۔فلم انجمنوں نے نوجوت سنگھ سدھو کا بھی بائکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔غور طلب ہے کہ سدھو نے حملے کی مذمت تو کی تھی لیکن کہا تھا کچھ لوگوں کی کرتوت کے لئیے پورے دیش (پاکستان )کو قصوروار ٹھرایا نہیں جا سکتا ۔فلمی ستارے متاثرہ خاندان کے لئے مالی مدد کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔امیتابھ بچن،سلمان خان،اکشے کمار،اور دلجیت وغیر ہ نے بھی مالی مدد دی ہے ۔ادھر مہاراشٹر نو نرماڈ سینا نے ممبئی کے پرائیوئٹ چینلوں پر کہا کہ وہ پاکستانی اداکاروں پر فلمائے گیت نہ دکھائیں ۔راج ٹھاکرے کی پارٹی کے ایک نیتا نے لباس کے بین الااقوامی برانڈس کمپنیوں سے بھی کہا کہ وہ پاکستان میں اپنے بنے کپڑے نہ بیچیں اگر یہ ایف ایم چینل پاکستانی اداکاروں کے گانے نہیں روکتے تو انہیں اس کا نتیجہ بھگتنے کے لیئے تیار رہنا چاہئیے ۔

(انل نریندر)

دوسری جوابی کارروائی...حریت نیتاﺅں کی سیکورٹی ہٹی!

حریت کانفرنس یہ ایک ایسی تنظیم ہے جو جموں و کشمیر میں علیحدگی پسندی کے نظرئے کو فروغ دیتی ہے ۔سال 1987کو نیشنل کانفرنس اور کانگریس اتحاد پر چناﺅ لڑنے کا اعلان کر دیا گیا تھا ۔اس کے خلاف وادی میں احتجاج بھی ہوا اس چناﺅ میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہو کر فاروق عبداللہ نے ریاست میں اپنی سرکار بنائی ان کے مخالفت میں کھڑی ہوئی اپوزیشن پارٹیوں کی مسلم یونیائیٹڈ فرنٹ کو محض چار سیٹیں ملیں جبکہ جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کو چالیس اور کانگریس کو 26سیٹیں ملیں اس کے ہی خلاف وادی میں 13جولائی 1993کو آل پارٹیز حریت کانفرنس کی بنیاد رکھی گئی اس کا صرف ایک ہی مقصد تھا ....وادی میں علیحدگی پسند تحریک و اس کی سرگرمیوں کو رفتار دینا ۔حکومت ہند نے پلوامہ حملے کے بعد دوسرا بڑا قدم حریت کانفرنس کے 6علیحدگی پسند لیڈروں کو ملی سیکورٹی اور دیگر سہولیات واپس لینا ہے جموں و کشمیر کے افسر کے مطابق ان نیتاﺅں میں حریت کانفرنس کے چیر مین میر واعظ فاروق اورشاہ ،ہاشم قریشی ،بلال لون،فضل حق قریشی،عبدالغنی بٹ کو اب کسی طرح کا سیکورٹی کور نہیں دیا جائے گا ۔نہ انہیں سرکاری گاڑیاں دی جائیں گی دوسری دی جانے والی دیگر سہولیات بھی ہٹا لی جائیں گی ۔حکومت ان علیحدگی پسندوں پر سال بھر میں قریب 14کروڑ روپئے خرچ کرتی 11کروڑ سیکورٹی ،دو کروڑ غیر ملکی دورے 50لاکھ روپئے گاڑیوں پر خرچ ہوتے ہیں ۔ان کی حفاظت میں 6سو جوان بھی لگے ہوئے تھے ۔چونکانے والی حقیقت یہ ہے کہ ایسے پچاس کے قریب کشمیری علیحدگی پسند لیڈر ہیں جنہیں ریاستی حکومت نے مرکزی حکومت کے احکامات پر سرکاری سیکورٹی مہیا کروا رکھی ہے ۔قارئین و واقف کاروں کے لئے حریت کانفرنس کے چیر مین میر واعظ مولوی عمر فاروق تو با قاعدہ زیڈ پلس زمرے کی سیکورٹی دی گئی ہے ۔حریت کانفرنس کے جس مہا گٹھ بندھن میں پارٹیاں شامل ہوئی تھیں وہ چاہتی ہیں کہ کشمیر ی عوام میں پبلک ریفرنڈم کرا کر ایک الگ پہچان دلانا ۔حالانکہ ان کے منصوبے پاکستان کو لے کر کافی نرم رہے یہ سبھی کئی موقعوں پر بھارت کے مقابلے پاکستان سے اپنی قربت دکھاتے رہے ہیں ۔90کی دہائی میں جب وادی میں دہشتگردی شباب پر تھی تب انہوںنے خود وہاں کا سیاسی چہرہ بنانے کی کوشش کی لوگوںنے ان کو مسترد کر دیا ۔میر واعظ مولوی عمر فاروق نے علیحدی پسندوںسے سیکورٹی واپس لینے کے فیصلے پر تلخ نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ یہ (سیکورٹی ہمارے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہے )یہ سرکار کا فیصلہ تھا اسے جاری رکھا جائے یا ہٹا دیا جائے ۔پروفیسر عبدالغنی بٹ نے ریاستی حکومت کے ذریعہ سیکورٹی واپس لئے جانے پر کہا کہ ہم نے کبھی سیکورٹی نہیں مانگی کل اسے ہٹا یا جاتا ہے تو ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا سیکورٹی کو ہندوستانی ایجنسیاں کشمیر کی آزادی پسند تنظیموں اور نیتاﺅں کو بدنام کرنے کے لیئے استعمال کرتی ہیں ۔اس کے ذریعہ ہماری سرگرمیوں کی نگرانی کی جاتی تھی ۔اچھا ہو گیا ہے اب ہم آزادی سے چل سکیں گے سوال یہ اُٹھتا ہے علیحدگی پسندی کے ساتھ انتہا پسندی کی حمایت ان خود ساختہ نیتاﺅں کو آخر سیکورٹی دی ہی کیوںگئی تھی؟کیا یہ عجب نہیں ایک طرف دیش کے خلاف بیان بازی یا پتھر بازوی کرنے اور پتھر بازوں کی حوصلہ افزائی کرنا و سوشل میڈیا پر قابل اعتراض رائے زنی کرنے پر تو دیش ملک کی بغاوت کا مقدمہ درج ہو جاتا ہے لیکن پاکستان کے اشارے پر بھارت کے خلاف مسلسل زہر اگلنے اور مذہبی نفرت پھیلانے و دہشت گردوں کا گن گان کرنے والے حریت نیتا برسوں سے سرکاری سیکورٹی پر چل رہے تھے ؟آخر کس بنیاد پر ان سے امید کی جا رہی تھی کہ یہ کشمیری مسئلے کے حل میں مددگار بن سکتے ہیں ۔چونکہ کشمیر میں علیحدگی پسند ی و دہشتگردی بڑتی جارہی ہے اور انہیں انہیں دفعہ 370کے تحت کہیں زیادہ اختیار حاصل ہے ۔اس لئے یہ صحیح وقت ہے جب اس دفعہ کو ختم کرنے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے ۔ یہ دفعہ کشمیر وادی اور باقی ہندوستان کے درمیان ایک کھائی کی طرح ہے اس لئے کشمیریوں کا ایک طبقہ خود کو بھارت سے الگ مانتا ہے اسی مانیتا نے وادی میں علیحدگی پسندی کے بیج بوئے ۔

(انل نریندر) 

20 فروری 2019

غم ،غصے اور نم آنکھوں سے 40شہیدوں کی انتم ودائی

غم،غصے،اور نم آنکھوں سے سولھ ریاستوں میں 40شہیدوں کی انتم یاترا پر لاکھوں لوگ انہیں شردھانجلی دینے نکلے شہید سپوتوں کو سنیچر کو بھاری غصے کے درمیان انتم سنسکار کیا گیا ۔ اترپردیش، بہار، پنجاب، ہریانہ سمیت دیش کی سولھ ریاستوں میں 40سی آر پی ایف جوانوں کو انتم ودائی دینے ترنگا لہراتے ہوئے پہنچے ۔پلوامہ آتنکی حملے میں شہید ہوئے جوانوں کی لاش جب الگ الگ ریاستوں میں پہنچی تو ان کی انتم یاترا کا منظر دیکھنے والا تھا ۔اتراکھنڈ کے ادھم سنگھ نگر کے باشندے شہید ویرندر سنگھ رانا کا جسد خاکی جب گھر پہنچا تو شردھانجلی دینے والوں کی بھیڑ لگ گئی ۔ویرندر سنگھ کے دھائی برس کے بیٹے بچان نے اپنے پتا کی جسد خاکی کو مکھ اگنی دی اہیں سنیچر کو دہرادون کے شہید ہوئے اے ایس آئی رتوری کو ان کی بہادر بیٹی نے پتا کو سیلوٹ کیا اور یکایک دیکھتی رہی ۔پریاگ راج کے جب شہید ہوئے سی آر پی ایف کے جوان مہیش کمار یادو کا جسد خاکی پہنچا تو سی آر پی ایف کے جوانوںنے سلامی دئے جانے کے بعد شہید کے والد راجکمار یادو نے مکھ اگنی دی ادھر شہید ہوئے جوانوں کو انتم ودائی دی جا رہی تھی تبھی خبر آئی کہ ایل او سی کے راجوری کے نو شہرا سیکٹر میں بارودی سرنگ دھماکے میں فوج کے انجینرنگ شعبے کے میجر چتدریش سنگھ دشٹ شہید ہو گئے ۔ایک جوان بھی زخمی ہوا وہ ایک آئی ڈی بم کو نا کارہ کر رہے تھے ۔اچانک وہ پھٹ گیا ۔حالانکی بشٹ نے بارودی سرنگ کو کامیابی کے ساتھ ختم کر دیا تھا ۔حالانکہ دوپہر بعد قریب تین بجے دوسری آئی ای ڈی کو ناکارہ بناتے وقت اس میں دھماکہ ہو گیا ۔31سالہ بشٹ دہرادون کے رہنے والے تھے اور 7مارچ کو ان کی شادی ہونے والی تھی ۔شہید ہونے والے جوانوں کا تعلق اترپردیش ،بہار ،مغربی بنگال،پنجاب ،اتراکھنڈ،ہماچل پردیش،جموں و کشمیر،راجستھان، جھارکھنڈ،ا ڑیشہ، کیرل، مہاراشٹر،تمل ناڈو، کرناٹک،آسام صوبوں سے تھے ۔جو شہید ہوئے ۔ان لاشوں کی حالت دیکھ لوگوں میں زبردست غصہ بھرا ہوا تھا ۔جوانوں کے جسم کا وہ حال ہو چکا تھا کہ جسے بیان کرنا مشکل ہے ۔حملے کے فورا بعد آئی تصویرں اس کی گواہ بھی تھیں کہ دھماکے کے بعد لاشوں کا پہچاننا مشکل ہو گیا تھا ۔کہیں ہاتھ پڑا تھا تو کہیں جسم کا حصہ بکھر ا پڑا تھا اور ان کے سامان وغیرہ ادھر اُدھر پڑے ملے حملے کی یہ جگہ جنگ جیسی زمین دکھائی دے رہی تھی ۔جسم کے بعد باقی ان کے سامانوں کو اکھٹا کر کے ان کی پہچان کا کام شروع ہوا اس کام میں جوانوں کے آدھار کارڈ آئی ڈی کارڈ سے بڑی مدد ملی جن جوانوں کے سر پر چوٹ آئی تھی ان کی پہچان صرف شناختی کارڈ سے ہو سکی ۔کئی جوان گھر جانے کے لئے چھٹی کی درخواست لکھ کر دے آئے تھے ۔اس درخواست کو وہ اپنے بیگ میں یا اپنی جیب میں رکھے ہوئے تھے اسی کی فوٹو کاپی کی بنیاد پر انہیں پہچانا جا سکا ۔اس زبردست دھماکے میں کئی جوانوں کے بیگ ان سے الگ ہو گیے تھے اس کی پہچان ان کے کوٹ نمب و گھڑیوں سے ہوئی ۔سب سے دکھ کی بات یہ ہے کہ پلوامہ کے شہیدوں کو شردھانجلی دینے عوامی سیلاب امڑ پڑا تھا ۔وہیں جس یونیورسٹی میں طلباءاپنا جشن منا رہے تھے اور دیش مخالف نعرے بازی ہو رہی تھی قوی منوج کمار کی ستور ہیں .....سکھ بھر پور گیا ،مانگ کا سندور گیا،نگے نو نہالوں کی لنگوٹیاں چلی گئیں ،باپ کی دوائی گئی ،بھائی کی پڑھائی گئی ،چھوٹی چھوٹی بیٹیوں کی چوٹیاں چلی گئیں ۔ایسا ایک دھماکہ ہوا جسم کا پتہ نہیں پورے ہی جسم کی کوٹھیاں چلی گئیں ۔آپ کے لئے تو ایک آدمی مرا ہے صاحب،کہ میرے گھر کی تو روٹیاں چلی گئیں ۔جی!ایک بار پھر جموں و کشمیر کے پلوامہ میں سی آر پی ایف کے جوانوں کی شہادت کے ساتھ مہندی لگے ہاتھوں نے منگل سوتر اتارے بوڑھے ماں باپ کا سہارا چھن گیا ،ننھے منھے بچوں کے سر سے باپ کا سایہ اُٹھ گیا اور بہن کی راکھی چلی گئی اس سب کے بعد ہاتھ آیا تو ہم بدلہ لیں گے اور کارروائی کریں گے کی صرف باتیں ہیں ۔لیکن کب تک پتہ نہیں ۔ہم بار یہی کرتے آرہے ہیں ۔اور لگتا ہے یہی کرتے رہیں گے ۔کیونکہ مرنے والے فوجی کچھ نہیں لگتے اس لئے ان کے چھتڑے اڑے جسم ہمارے دل کو نہیں دہلا سکتے ۔ہم کر سکتے ہیں تو صرف سردھانجلی پروگرام اور کچھ دے سکتے ہیں تو وہیں گھسے پٹے بیان جنہیں سن کر کان پک چکے ہیں ۔سوال ہر بار کی طرح اس بار بھی یہی ہے آخر کب تک ہم اپنے فوجیوں کو دہشتگردوں کی بھینٹ چڑھاتے رہیں گے ؟کب تک فوجیوں کے خاندان بے سہارا اور ان کے بیٹے بیٹیاں یتیم ہوتے رہیں گے ؟کیا وجہ ہے کہ بھارت کی آزادی کے 7دہائی کے بعد بھی دہشت کے خوف کے سائے میں جی رہے ہیں ؟بھلے ہی وہ انٹرنل سیکویورٹی ہو یا بھاری سرکشہ ،دونوں ہی بھارت کے سامنے بڑے مسئلے بنے ہوئے ہیں ایک طرف ہم آتنکی وارداتوں کو روکنے میں ناکام ہو رہے ہیں اور اپنے فوجیوں کو گنوا رہے ہیں ،دوسری طرف دیش کے نوجوانوں کی آتنکی تنظیموں میں شامل ہونے کی خبریں باعث تشویش ہیں کیا حالات اتنے بگڑ چکے ہیں اور انسانیت کے پیمانے اتنے گر چکے ہیں کہ ایک پڑھے لکھے لڑکے کو دہشت کی پناہ میں جانے کے لئے مجبور ہو نا پڑے ؟کیا ہمارے دیش کے ہونہار اتنے کمزور ہیں کوئی بھی ان کا برین واش کر سکتا ہے ؟ایسے کئی سوال ہیں جو دیش میں کروڑوں لوگوں کے دلوں میں کانٹے کی طرح چبھ رہے ہیں ۔آخر کیوں ہم روک نہیں پا رہے ہیں ۔ایسے میں بھارت کو اپنا نرم رخ چھوڑ کر دہشتگردوں کے ساتھ دہشتگردوں جیسا برتاﺅ کرنا ہوگا ۔معاہد ہ اور سمجھوتے کی بنیاد پر امن قائم کرنے کی سالوں کی کوششیں صرف کاغذوں پر دکھائی دے رہی ہیں زمین پر اس کا اثر دکھائی دے ایسی کارروائی کرنے کی آج ضرورت ہے ۔یہ خط جالور کے دوے -ددراج سدھار نے لکھا ہے ۔

(انل نریندر)

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...