Translater

02 فروری 2019

ایودھیا پرمودی سرکار کی پہل

سپریم کورٹ میں درخواست کے ذریعہ مودی حکومت نے نہ صرف ایودھیا میں رام مندر تعمیر پر بھاجپا کے عزم کا پیغام دینے کی کوشش کی ہے بلکہ سیاسی حساب کتاب بھی درست کرنے کی کوشش ہے ۔یہی نہیں ،اپوزیشن کو بھی چناﺅی زمین پر گھیرنے کی تیاری اس کے پیچھے دکھائی پڑ رہی ہے عام چناﺅ سے ٹھیک پہلے جب سادھو سنت سرکار پر رام مندر تعمیر کے لئے آرڈیننس لانے کے لئے دباﺅ بنا رہے ہیں تب حکومت نے غیر متنازع زمین کو واپس لوٹانے کی مانگ کر کے بیچ کا راستہ نکالنے کی کوشش کی ہے ۔حکومت نے سپریم کورٹ میں ایودھیا کی غیر متنازع زمین بنیادی مالک کو دینے کی عرضی دے کر یہ جتا دیا ہے کہ وہ چناﺅ سے پہلے رام مندر کے لئے پختہ پہل کرتی ہوئی دکھائی دینا چاہتی ہے ۔متنازع زمین پر جب تک سپریم کورٹ کا فیصلہ آتا ہے تب اگر غیر متنازع زمین مل گئی تو اس پر رام جنم بھومی نیاس مندر تعمیر کی شروعات کر سکتا ہے اور اس سے بھاجپا کو اپنے ایک اہم ترین وعدے کے لئے عمل کرنا دکھائی دئے گا ۔یہ سچ ہے کہ نرسمہا راﺅ سرکار نے 1993میں ایودھیا قانون کے تحت متنازع جگہ کے چاروں طرف کی یہ زمینیں اس لئے تحویل میں لی تھیں تاکہ وہاں کسی طرح کی تعمیراتی سرگرمی نہ ہوجس کے چلتے کشیدگی پیدا ہو سکے ۔وہ وقت 6دسمبر1992کو بابری مسجد مسماری سے نمٹنے کا تھا ڈر یہ تھا کہ کہیں مندر تعمیر کی کوشش نہ ہو جائے آج کافی وقت گذر چکا ہے یہ معاملہ سپریم کورٹ میں چلا گیا تھا جس نے زمین کو تحویل میں لئے جانے کو فوری طور پر صحیح ٹھرایا لیکن کہا تھا جس کی زمینیں ہیں ان کو واپس مل سکتی ہیں بشرط وہ اس کے لئے عرضی دائر کریں ۔اس میں سے 42ایکڑ زمین رام جنم بھومی نیاس کی ہے جس کی تشکیل مندر تعمیر کے لئے کی گئی تھی سپریم کورٹ میں ایودھیا معاملے کی سماعت میں مسلسل تاخیر ہو رہی ہے اس کے بار بار ٹلنے سے سرکار مایوس ہے ۔سرکار کو محسوس ہو رہا ہے کہ عام چناﺅ سے پہلے سپریم کورٹ سے کوئی بھی فیصلہ مشکل لگ رہا ہے ۔سپریم کورٹ کو بھی لگتا ہے کہ اس کا حل حکومت نکالے اور وہ کوئی بھی فیصلہ دینے سے بچتی رہے اس لئے بار بار سماعت ٹلتی جا رہی ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ فی الحال سرکار اس معاملے میں آرڈیننس کے متابادل کو اپنانے کے حق میں نہیں ہے اس لئے راتوں رات سپریم کورٹ میں عرضی دے کر غیر متنازع زمین کو واپس لینے کی مانگ کی گئی ۔سرکار کو امید ہے کہ جو غیر متنازعہ زمین ہے اس معاملے کے نمٹارے سے پہلے متعلقہ مالکوں کو لوٹانے میں زیادہ دقت اس لئے نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس معاملے میں ہائی کورٹ کا حکم بھی ہے ۔سرکار کا کہنا ہے کہ اس کی مانگ سے متنازع 313ایکڑ زمین کو الگ رکھا گیا ہے جس زمین کو لوٹانے کی درخواست کی گئی ہے اس پر مسلمانوں کا کبھی بھی دعوی نہیں رہا اس لئے اس زمین پر کوئی اور تنازعہ نہیں ہے ۔بتا دیں کہ الہٰ آباد ہائی کورٹ نے ستمبر 2010میں دئے اپنے فیصلے میں 2.77ایکڑ متنازع زمین کو تین فرقوں رام للا ویراجمان،نرموہی اکھاڑا،اور سنی وقف بورڈ کے درمیان برابر برابر بانٹنے کا حکم دیا تھا ۔اس فیصلے کے خلاف 14اپیلیں سپریم کورٹ میں زیر التوا ہیں جن کی سماعت آئینی بنچ کر رہی ہے ۔کل 67.7ایکڑ زمین میں صرف 0.313ایکڑ زمین ہی میں ہی تنازع ہے ۔سپریم کورٹ کی دھیمی رفتار پر خود سرکار کے کچھ وزیر اور بھاجپا نیتا تک اپنی بے چینی ظاہر کر چکے ہیں البتہ عدالت میں عرضی دائر کرنے کی ایک فوری وجہ کمبھ میں دھرم سنسد کے ذریعہ اس بارے میں اعلان کرنے کی بے چینی سے پیدا معاملہ بتایا جاتا ہے سرکار کی پہل کے بعد دھرم سنسد نے ایودھیا میں مندر تعمیر کرنے کی تاریخ بھی طے کر دی ہے سنت سماج کے لوگ فروری میں ایودھیا کے لئے کوچ کریں گے لیکن دھرم سنسد کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ مندر کی تعمیر کے لئے 21فروری کی تاریخ طے کی گئی ہے کورٹ کے رویہ پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ افسوس کا باعث ہے کہ کتے تک کو فوری انصاف دلانے والے رام کے دیش میں رام جنم بھومی کے مقدمے میں انصاف کیوں نہیں مل رہا ہے ۔سرکار کا یہ قدم اعلیٰ برادریوں کو ریزرویشن کے بعد دوسرا بڑا چناﺅی داﺅں ہے سرکار نے یہ بھی دلیل دی ہے کہ متنازع زمین تو 0.313ایکڑ ہی ہے باقی غیر متنازعہ زمین کا کیس تو 67ایکڑ کا ہے اس میں 42ایکڑ زمین رام جنم بھومی میاس کی ہے اب دیکھنا ہے کہ ساری زمین پر جوں کی توں پوزیشن قائم رکھنے کا حکم دے چکی سپریم کورٹ حکومت کی عرضی کیسے منظور کرئے گی اور اگر نہیں کرئے گی تو سرکار کیا راستہ اپناتی ہے ۔حالیہ تین ریاستوں میں چناﺅ ہارنے کے بعد حکومت کو اس بات کا احساس ہو گیا ہے کہ اس کے تئیں جنتا خوش نہیں ہے اس درمیان کچھ میڈیا کے عام چناﺅ کے بارے میں سروے بتاتے ہیں کہ لوک سبھا چناﺅ میں این ڈی اے اکثریت سے دور ہو رہی ہے اور اس کو 99سیٹیوں کا نقصان ہو رہا ہے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے یہ کہہ کر ماحول کو گرم کر دیا ہے کہ اگر وزیر اعظم ساتھ دیں تو وہ 24گھنٹے میں مندر کی تعمیر کا حل نکال سکتے ہیں مودی سرکار کو بھی اب لگنے لگا ہے کہ چناﺅ جیتنے کے لئے بھگوان شری رام کی شرن میں جانا پڑئے گا ۔ہم سبھی چاہتے ہیں بھگوان شری رام کا بھویہ مندر بنے اور مندر تعمیر کا کام بلا تاخیر شروع ہو لیکن سپریم کورٹ کے مرضی پر فیصلہ آنے کے بعد ۔جے شری رام ۔

(انل نریندر)

01 فروری 2019

بارہمولہ جموں کشمےر کا پہلا دہشتگردی سے آزاد ضلع

شمالی کشمےر کے سرحد ی ضلع بارہمولہ کو دہشت گردی سے آزاد کرادےا گےا ہے ۔ےہ پہلا ضلع ہے جہاں اب کوئی دہشت گرد نہےں ہے وادی مےں نوے کی دہائی مےں شروع ہوئی دہشت گردی کے 30سالہ سےاہ باب ختم ہوگےا ہے ۔جموں کشمےر کے ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے ےہ اعلان کےا اور اس کی تصدےق دلباغ سنگھ نے ساتھ ہی کہا کہ آتنکی آزاد ضلع ہوا ہے نا کہ دہشت گردی سے پاک ڈی جی پی نے آگے کہا کہ بارہمولہ ضلع مےں گذشتہ ہفتے کی کارروائی نے لشکر تےن آتنکی مارے گئے تھے ۔ان کے خاتمے کے ساتھ ہی بارہمولہ مےں سرگرم سبھی آتنکوادےوں کا خاتمہ کردےا گےاہے ۔مقامی دہشت گرددوں کے ساتھ ہی غےر ملکی آتنکی بھی سرگرم تھے ۔صرف تےن ہی مقامی ہشت گر د رہ گئے تھے ۔آتنک سے متاثرہ بارہمولہ مےں ہی 2016مےں دہشت گردوں نے اڑی کے فوج کے کےمپ پر حملہ کےا تھا اس حملہ کے جواب مےں اےک لاجواب فلم اڑی دی سرجےکل اسٹرائےک دےکھےں ےہ فلم دکھاتی ہے کہ کس طرح ہمارے جانباز کمانڈوں نے اڑی حملے کا بدلہ لےا اگر آپ نے ےہ فلم نہےں دےکھی توضرور دےکھےں ۔ےہ ہندوستان مےں بہترےن فلموں مےں سے اےک ہے ۔خوشی کی بات ےہ بھی ہے کہ فوج اور نےم فوجی فورس کے آپرےشن آل آوٹ مےںقابل قدر کامےابی مل رہی ہے ۔کشمےر کے محاظ پر سال 2018فوج کو خوشی دے گےا ہے ۔چونکہ سال تقرےبًا 311آتنکی ڈھےڑ کئے گئے تھے پچھلے دس سالوں مےں مرنے والے آتنکےوں کی سب سے بڑی تعداد ہے ۔حالانکہ ابھی تشوےش کے بادل چھٹے نہےں ہے کےونکہ کشمےر مےں 300 سو سے زےادہ دہشت گرد ابھی بھی سرگرم ہے اور مقامی لڑکوں مےں دہشت گردی کی تئےں رغبت ابھی بھی برقرار ہے ۔اےس اےس پی بارہمولہ امتےاز حسےن مےر نے بتاےا کہ صہےب اخون سمےت تےن دہشت گردوں کا مارا جانا ہمار ے لئے بڑی کامےابی ہے صہےب بارہمولہ مےں نےا برہان بن سکتا تھا اس نے اپنے ساتھ کچھ اور لڑکوں کو جوڑ نا شروع کردےا تھا وہ بارہمولہ کے لشکر ،جےش اور البدر اور حزب ا لمجاہدےن کے دہشت گردوں بےچ بھی کوارڈ نےٹر بن کر ان کی مختلف طرح سے مدد کررہا تھا جو تےن دہشت گرد مارے گئے ہےں اس سے انکا رنہےں کےا جاسکتا کہ کشمےر کے ماحول کو خراب کرنے مےں اےک بڑا رول پاکستان او راس کے اشارے پر کام کرنے والے علےحدگی پسندوں کا ہے ۔لےکن صرف پاکستان کو الزام دےتے رہنے سے بات بننے والی نہےں ہے ےہ دےکھتے ہوئے اور بھی نہےں کہ کشمےر مےں کئی تنظےم دہشتگردی کا ہی کاروبار کررہی ہے ۔پتھر بازوں کے علاوہ تمام دہشت گرد اےسی ہی تنظےمں کی دےن ہے ۔سب سے بڑی بد قسمتی ےہ بھی ہے کہ وادی مےں اثر رکھنے والی جن سےاسی پارٹےوں کو کشمےر مےں ماحول بدلنے مےں سرگرم رول نبھانا چاہئے وہ اےسا کرنے سے بچ رہی ہے ہم بہادر سےکورٹی فورسےز کو اس شاندار کامےابی پر بدھائی دےتے ہےں ۔
(انل نریندر)

غرےب کےلئے کم از کم آمدنی گارنٹی ےوجنا

کانگرےس صدر راہل گاندھی نے لوک سبھا چناو ¿ سے پہلے اےک بڑا سےاسی داو ¿ں چل دےا ہے کہ اگر 2019مےں کانگرےس کی سرکا ربنی تو وہ ہر غرےب کے کھاتے مےں اےک ےقےنی رقم جمع کرے گی ۔راہل گاندھی نے کہا اس کے علاوہ ان کی پارٹی اقتدار مےں آتی ہے تو ہر غرےب کے لئے کم از کم آمدنی گارنٹی ےوجنا لاگو کرےں گی ۔ چھتےس گڑھ مےں کسانوں کا شکرےہ ادا کرنے کےلئے منعقدہ کسان سمےلن مےں کانگرےس صدر نے اعلان کےا کہ ہر غرےب کے بےنک مےں کم ازکم رقم جمع کی جائے گی ۔دےش مےں ےہ اپنی طرح کی پہلی ےوجنا ہوگی ۔جس مےں کوئی سرکار غرےبوں کو کم ازکم آمدنی کا گارنٹی دے گی ۔کانگرےس حکمت عملی سازوں کا کہنا ہے کہ دےش کے الگ الگ حصوں مےں چناو ¿ مہم کے دوران راہل گاندھی چنا و ¿ منشور مےں کئے گئے بڑے وعدوں کا اعلان کرےں گے ۔ان سبھی اعلانات کو پارٹی اپنے لوک سبھا چناو ¿ منشور مےں شامل کرے گی ۔واضح رہے کہ کئی دےش اپنے شہرےوں کی کم از کم آمدنی ےقےنی کرتے ہےں اگر کسی شہری کی آمدنی کم از آمدنی کم ہے تو سرکار مختلف طرےقوں سے اس فرق کو پورا کرتی ہے ۔1968مےں فرانس ان ملکوں مےں تھا جس نے کم از کم آمدنی کی گارنٹی ےوجنا لاگو کی ۔رےونےوطے نام سے بناےا گےا قاعدہ 1982مےں امرےکہ کی رےاست الاسکا مےں سبھی شہرےوں کو جز وی طورپر کم از کم پےسہ دےا جارہا ہے ۔اور ےہ رقم 2069ڈالر فی برس کی رقم الاسکاکے 6.5لوگوں کو دی گئی ۔کناڈا مےں 2017مےں انٹورےہ صوبے مےں تقرےبًا چار ہزار لوگوں پر تجرباتی طور پر کم از کم آمدنی ےوجنا لاگو کی گئی ۔دےگر ملکوں مےں ڈنمارک ،جرمنی ،آسٹرےا ،آلےنڈ وغےرہ جےسے ملکوں مےں معذوروں،بزرگوں کے لئے کئی طرح کے سماجی سےکورٹی قانون موجود ہےں لےکن راہل کے اعلان مےں بہت ساری باتےں اےسی ہےں جنتی کی وضاحت ابھی سامنے نہےں آئی مثال کے طورپر غرےبوں کو جانچ کے کا پےمانہ کےا ہوگا ؟کون لوگ ہوں گے جنہےں ےہ گز ربسر رقم دستےاب کرائی جائے گی ؟ےہ سوال ابھی باقی ہے کہ شخصی غرےبی طے کرنے کےلئے وہ موجودہ پےمانوں کو نافذ کرےں گے ےا اپنا کوئی پےمانہ طے کرےں گے ۔دوسری اہم ترےن بات ےہ ہے کہ سرکار کے تئےں غرےبوں کو کتنا پےسہ دستےاب کرائے گی اس ےوجنا کو لاگو کرنے کےلئے کتنا پےسہ کہاں سے آئے گا ؟جن ملکوں مےں اس طر ح کی اسکےم چل رہی ہے ان کی آبادی کم ہے اور اس مےں بھی ےوجنا کچھ لوگوں تک ہی محدود ہے ۔بھارت تو بڑا دےش ہے بڑی آبادی والا ہے کروڑوں مےں غرےبوں کو اس طرح پےسہ دےنا آخر وہ کہاں سے آئے گا ؟سابق وزےر خزانہ اور سےنئر کانگرےس لےڈر پی چدمبر م نے ا س کی تشرےح کی ہے اور کہا ےہ اعلان تارےخی ہے ےہ غرےبوں کی زندگی مےں اہم موڑ ثابت ہوگی ۔پچھلے دوبرسوں مےں قابل قبول آمدنی (ےووی آئی )کے اصول پر بڑے پےمانہ پر غور خوض کےا گےا ہے ۔اب وقت آگےا ہے ہمارے حالات اور ہماری ضرورتوںکے مطابق اس اصول کو اپناےا جائے اور اسے غرےبو ں کے لئے نافذ کےا جائے ۔ہم کانگرےس کے چناو ¿ منشور مےں اپنی پوری ےوجنا بتائےں گے ۔پی چدمبر نے کہا سال 2004سے 2014کے درمےان 14کروڑ لوگوں کو غرےبی کے چنگل سے باہر نکالےا گےا ۔بھارت سے غرےبی کا صفاےا کرنے کےلئے پختگی سے کوشش کرنی ہوگی دےش کے وسائل پر پہلا حق بھارت کے غرےبوں کا ہے ۔راہل گاندھی کے وعدے کو لاگو کرنے کےلئے پارٹی وسائل جٹائے گی ۔اس اعلان کے ذرےعہ راہل ےوپی اے 1-کو دوہرانے کی کوشش کررہے ہےں ۔جب منرےگا اطلاعات کا حق اور تعلےم کاحق جےسے پروگرام دےئے گئے ۔راہل اپنی تقرےروں مےں اس کا ذکر بھی کررہے ہےں ۔خےر ےہ ےوجنا تبھی لاگو کرنے کی سوچ سکتے ہےں جب 2019چناو ¿ مےں کانگرےں اقتدار مےں آئے گی ۔ابھی تو اسے محض مودی سرکار کی مجوزہ ےوجنا (امکانی )کو پری اےکٹ کررہے ہےں ۔

(انل نریندر)

31 جنوری 2019

راشٹر گورو سے اترکر ملزمان کی قطار میں

چندرا کوچر بینکنگ سیکٹر کا ویسا ہی نام رہی جیسا آئی ٹی سیکٹر میں ستیم کمپیوٹرس کے مالک بی رام لنگا راجو کا تھا ۔دونوں اپنے اپنے میدان میں اونچائیوں پر ہونے کے باوجود گھوٹالوں میں ملوث پائے گئے چندا کوچر کو 2011میں دیش کا اتنا بڑا اعزاز پدم بھوشن دیا گیا لیکن کالی کمائی کے لالچ نے راشٹر کے گورو کے عہدے سے اتار کر ملزما ن کی قطار میں لا کر کھڑا کر دیا ہے ۔چندا فور بیس اور فارچون کی دنیا کی سب سے طاقتور خواتین کی فہرست میں کئی برس تک رہیں دیش کے کسی بینک کی پہلی خاتون سی ای او چندا کا تعلق راجستھان کے شہر جودھپور سے ہے ۔2009میں 48سالہ چندا کسی بینک کی سب سے نوجوان سی ای او تھیں کوچر نے 1984میں بطور مینجمینٹ ٹرینگ کے طور پر آئی سی آئی سی آئی بینک میں کام شروع کیا تھا اور 2009میں بینک کی ایم بی اور سی ای او بنی شوہر کی کمپنی کو فائدہ کے بدلے ویڈیو کون گروپ کو 3000ہزار کروڑ کا قرض دے کر بینک کے فنڈ کو داﺅں پر لگانے کے الزامات سے گھریں آئی سی آئی سی آئی بینک کی سابق ایم ڈی چندا کوچر کے اب ستارے گردش میں ہیں ۔سی بی آئی کے مطابق یہ ویڈیو کون گروپ کو قرض دینے کے عوض میں آئی سی آئی سی آئی بینک کی اس وقت کی سی ای او چندا کوچر کے رشوت لینے کا معاملہ ہے ان کے خلاف سی بی آئی نے جو ایف آئی آر درج کی ہے اس میں ایجنسی کا کہنا ہے کہ قوائد کو نظر انداز کر قرض سے بینک کو 1730کروڑ کا چونا لگا ہے ویڈیو کون کو ہر بار ملے قرض کی دس فیصد رقم گروپ کی کمپنیوں کے ذریعہ چندا کے شوہر دیپک کوچر کی کمپنی نیو پاور کے کھاتے میں جمع کی جاتی تھی یہ کام کئی کمپنیوں کے آپسی تال میل سے کیا جا رہا تھا ۔تاکہ جانچ ایجنسیوں کی نگا ہ سے بچا جا سکے ۔جانچ میں پایا گیا ویڈیو کون کو دیے گئے قرض ڈوب چکے تھے جس کے باوجود قرض دیا جاتا رہا ۔یہی نہیں ویڈیو کون گروپ کی کمپنی اسکائی اپلائنسیز کو 50کروڑ روپئے کی معیادی جمع سیکورٹی کو بھی من مانے ڈھنگ سے ریلیز کر دیا گیا کتنے دکھ اور تشویش کی بات ہے کہ اتنی سنیئر پوزیشن پر پہنچی چندا کوچر کے شاندار کئرئیر کا یوں زوال ہوا ۔در اصل کئی بینکوں کے سنئیر افسران کے اسی طرح کے گھوٹالوں میں شامل ہونا ہمارے سسٹم اور کنٹرول نظام پر بھی سوال اُٹھتا ہے ۔کئی سنئیر بینک افسران نے تو نوٹ بندی میں بھی کافی تباہی مچائی نوٹ بندی کے فیل ہونے کی ایک وجہ سنئر بینک افسرا ن بھی ہیں ۔ارون جیٹلی جو اس وقت امریکہ میں زیر علاج ہیں نے کوچر معاملے میں سی بی آئی کو زیادہ جوش دکھانے سے بچنے اور صرف قصورواروں پر توجہ دینے کی نصیحت کی ہے ۔انہوںنے ٹیوئٹ کر کے کہا کہ بھارت میں قصورواروں کو سزا ملنے کی بے حد کمی ایک وجہ بھی جانچ میں کمپنیاں ہیں ۔

(انل نریندر)

راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کا پلان- بی

مرکزی وزیر و سابق بھاجپا صدر نتن گڈکری پچھلے کچھ عرصہ سے متنازع بیان دے رہے ہیں ان کے تازے بیان پر تو سیاست گرما گئی ہے ۔انہوںنے اتوار کو ممبئی میں کہا کہ جو نیتا جنتا سے بڑے بڑے وعدے کرتے ہیں لیکن وہ وعدے پورا نہیں کر پاتے ،جنتا ان کی پٹائی کرتی ہے۔مودی سرکار میں ٹرانسپورٹ اور قومی شاہراہ و شپنگ ٹرانسپورٹ اور آبی وسائل وزیر نتن گڈکری نے کہا کہ وہ کام کرتے ہیں اور اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہیں اپوزیشن پارٹیوں کا دعوی ہے کہ گڈکری کے نشانے پر وزیر اعظم نریندر مودی تھے اپوزیشن مودی پر عوام سے جھوٹے وعدے کرنے کا الزام لگاتی رہی ہے ۔کانگریس نیتا منیش تواری نے ایک مہاورے کا تذکرہ کرتے ہوئے ''کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ''سے صاف ہے کہ گڈکری کی نظر وزیر اعظم کی کرسی پر ہے اور ان کے نشانے پر مودی تھے تواری کا کہنا تھا کہ گڈکری نے پہلے بھی کہا تھا پارٹی کو اقتدار میں آنے کا اندازہ نہیں تھا اس لئے جو بھی دماغ میں آیا وہ وعدے کر دئے تیواری کا کہنا ہے کہ گڈکری کے ان دونوں بیانوں سے صاف ہے کہ ان کے نشانے پر کون تھا؟این سی پی کے ترجمان نواب ملک کا بھی کہنا تھا کہ گڈکری کا بیان مودی کی ناکامی کو لے کر اُٹھی آواز کو دکھاتا ہے وہ خود کو وزیر اعظم کے متابادل میں بھی پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہیں بھاجپا نے اپنے وزیر کے بیان کو لے کر مچے ہنگامے پر صفائی دیتے ہوئے کہا کہ گڈکری نے اپوزیشن پارٹیوں پر نقطہ چینی کی ہے مرکزی وزیر اور بھاجپا نیتا پرکاش جاویڈکر نے کہا کہ گڈکری نے کانگریس پر نقطہ چینی کی تھی اور اسے بے نقاب کیا ہے انہوںنے یہ بھی بتایا تھا کہ کس طرح کانگریس نے دیش کا نقصان کیا تھا ۔وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں دیش کس طرح سے ترقی کر رہا ہے ۔گڈکری کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات کی تاریخوں کا جلد اعلان ہونے والا ہے اور گڈکری اپنے لئے جگہ بنا رہے ہیں ۔گڈکری خود کو مودی کے متابادل کی شکل میں پروجکٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔لیکن بھاجپا عام چناﺅ ہارنے جا رہی ہے این سی پی کے ترجمان نے بتایا کہ تین ریاستوں (راجستھان،مدھیہ پردیش،اور چھتیس گڑھ)میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے بعد گڈکری جی جس طرح سے کھل کے بول رہے ہیں اس سے اشارہ ملتا ہے کہ چناﺅ کے بعد مودی یا بھاجپا کی سرکار نہیں رہنے والی ہے ۔نواب ملک نے کہا کہ کہیں نہ کہیں مودی کی ناکامی کو لے کر بھاجپا کے اندر بھی آوازیں اُٹھ رہی ہیں ۔سیاست پر گہری نگاہ رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ گڈکری بغیر خفیہ حمایت یا بغیر کسی حمایت کے ایسے بیان نہیں دے سکتے ۔غالبا ان کا اشارہ آر ایس ایس پر ہے ۔یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ سنگھ مودی شاہ کی جوڑی سے خوش نہیں ہے ان کے خود سارے فیصلہ لینا سنگھ کو نہیں بھا رہا ہے ۔اس لئے صرف کبھی تو کشمیر میں فوجیوں کے مارے جانے پر بیان دیتے ہیں تو کبھی رام مندر کے نہ بننے پر ۔ در اصل واقف کاروں کا کہنا ہےکہ سنگھ ہمیشہ ایک بےکپ پلان لے کر چلتا ہے وہ ہر حالت میں مرکز میں بھاجپا کی سرکار دوبارہ دیکھنا چاہتے ہیں چاہے ان کا نیتا کوئی بھی ہو تازہ جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ بھاجپا اپنے بل پر 2019لوک سبھا چناﺅ شاید نہ جیت پائے یعنی وہ سب سے بڑی پارٹی تو بنے گی لیکن واضح اکثریت شاید نہ ملے مان لیجئے بھاجپا کی 180سیٹیں آتی ہیں تو این ڈی اے کو ملا کر 233بنتی ہیں تب بھی وہ اکثریت سے 39سے 40سیٹیں کم رہی گی ۔اس صورت میں این ڈی اے سرکار بنانے کے لئے ان سیٹوں کا انتظام کرنا پڑئے گا ۔باہری حمایت کے لئے بھاجپا کو ایسی قیادت کی ضرورت پڑئے گی جو اپوزیشن میں اچھی پکڑ رکھتا ہو اس صورت میں مودی اور امت شاہ کی جوڑی کو چھورنا ہوگا کیونکہ انہوںنے اپوزیشن سے سارے تعلقات توڑ رکھے ہیں اور انہیں شاید ہی کوئی اپوزیشن ایم پی حمایت دے ؟اس صورت میں نتن گڈکری جیسا نیتا بھاجپا کی قیادت کر سکتا ہے یہ کسی سے پوشید ہ نہیں گڈکری کے کانگریس سے لے کر ٹی ایم سی ،ٹی ڈی پی،سپا،بسپا،سبھی سے اچھے تعلقات ہیں گڈکری کے لئے این ڈی اے کو باہر سے حمایت لینا مودی کے مقابلے آسان ہوگا ۔یہ تبھی ممکن ہے جب بی جے پی اپنے بل پر اکثریت میں نہیں آتی اگر اپنے دم خم پر مودی مکمل اکثریت سے آتے ہیں تب بھی آر ایس ایس خوش رہے گا ۔ان کا پلان اے مودی ہے اور پلان بی نتن گڈکری ہیں ۔دونوں ہی صورت میں بھاجپا اور سنگھ اقتدار میں رہیں گے ۔

(انل نریندر)

30 جنوری 2019

لوک سبھا چناﺅ سے پہلے آخری اسمبلی ضمنی چناﺅ

ہریانہ میں جند اور راجستھان کے رامگڑھ اسمبلی سیٹوں پر ہوئے ضمنی چناﺅ ختم ہوگئے پیر کو جند میں تشدد کے چھوٹے موٹے واقعات کے درمیان 76فیصدی پولنگ ہوئی ۔حلقے کے کئی دیہات میں دیر شام تک ووٹ پڑتے رہے ۔ای وی ایم میں خرابی کے سبب آدھا درجن پولنگ بوتھ پر ووٹ ڈلنا بند رہا اور کئی طرح کی افواہیں اڑیں 31جنوری کو پتہ چلے گا کہ جند کی عوام نے کس کو پسند کیا ہے ؟ادھر رامگڑ(راجستھان)میں 7دسمبر کو اسمبلی چناﺅ سے کچھ دن پہلے بسپا کے امیدوار لکشمن سنگھ کے دیہانت کے بعد اس سیٹ پر چناﺅ ملتوی کر دیا گیا تھا ۔پیر کو یہاں بھی ووٹ پڑئے یہ دونوں ضمنی چناﺅ آنے والے عام چناﺅ سے پہلے آخری ضمنی چناﺅ ہیں ۔ایسے میں کانگریس ،بھاجپا دونوں کے لئے وقار کا اشو بن چکے ہیں دونوں سیٹوں کے نتیجے 31جنوری کو آئیں گے جند میں اینڈین نیشنل لوک دل ایم ایل اے ڈاکٹر ریچندر مڈا کی موت کے بعد ضمنی چناﺅ ہوئیے ہیں اس میں کانگریس کے رندیپ سورجیوالا تو بی جے پی نے ہری چندر کے بیٹے کرن مڈا کو ٹکٹ دیا ہے ۔جن نائک پارٹی کے لیڈر دگ وجے سنگھ چوٹالہ اور انلو کے امید سنگھ اور لوک تنتر رکشا پارٹی کے ونود اراری کی ساکھ داﺅں پر لگی ہوئی ہے ۔یہ ضمنی چناﺅ وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کی سیاسی ساکھ اور دیوی لال و اوم پرکاش چوٹالہ کی کنبہ ذاتی وراثت اور کانگریس کے اقتدار میں واپسی کی امید کے سوالوں کا جواب دینے والا ہوگا ۔وہیں راجستھان اسمبلی سیٹ پر ہوئے اس ضمنی چناﺅ کی خاص اہمیت اس لئے ہے راجستھان میں بھلے ہی سرکار بنانے میں کانگریس کامیاب ہو گئی لیکن نتیجوں میں اس کے کھاتے میں اکثریت سے ایک سیٹ کم رہ گئی تھی ۔کانگریس کے پاس 99سیٹیں ہیں ایسے میں رامگڑھ سیٹ کانگریس کے لئے فیصلہ کن رول نبھا سکتی ہے ۔یہاں بی ایس پی نے سابق مرکزی وزیر نٹور سنگھ کے بیٹے جگت سنگھ ،کانگریس نے الور کے سابق ضلع چیف صفیہ زبیر خان اور بی جے پی نے سابق پردھان دشونت سنگھ کو امیدوار بنایا ہے 2010سے 2015کے درمیان الور ضلع چیف صفیہ نے کہا کہ میں ترقی کے نام پر ووٹ مانگ رہی ہوں وہیں پردیش کانگریس صدر سچن پائلٹ نے بتایا کہ ہمیں رامگڑھ حلقے سے اچھی رائے مل رہی ہے اور اس سیٹ پر ہماری جیت پکی ہے ۔جبکہ بھاجپا کے پردیش پردھان مدن لال سینی نے بھاجپا کی جیت کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی کی پرفارمینس سے لوگ مطمئن نہیں ہیں اس لئے رامگڑھ سیٹ بھاجپا جیتے گی کل ملا کر دونوں جند اور رامگڑھ اسمبلی ضمنی چناﺅ کانگریس اور بی جے پی کے لئے بہت اہمیت کے حامل ہیں دیکھیں 31جنوری کو مشینیں کس کو جتاتی ہیں ۔

(انل نریندر)

عام چناﺅپانی پت کے یدھ جیسا

کولکاتہ میں اپوزیشن ایکتا ریلی پر تکتہ چینی کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ مہا گٹھ بندھن کی کوشش دیش کی عوام کے خلاف ہے ان کی دنیا اپنے پریوا ر بھائی - بھتیجے کو آگے بڑھانے پر مرکوز ہے جس طرح مغربی بنگال میں سیاسی پارٹی کو اس کا پروگر ا م کرنے سے روک دیا جاتا ہے ،جمہوریت کا گلا گھوٹنے والے ،پنچایت چناﺅ کمیں پرچے داخل کرنے والوں کو موت کے گھاٹ اتارنے والے جب وہاں اکھٹے ہو کر جمہوریت بچانے کی بات کرتے ہیں تو منھ سے نکلتا ہے واہ کیا سین ہے ۔سلواسہ میں میڈیکل کالج کے سنگ بنیاد کے بعد وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری نیت دیش کی ترقی کی ہے ۔پریوار کے وکاس کی نہیں نہ تو ہماری پالیسی ہے اور نہ ہمارا ارادہ ہے ۔یہی صاف نیت اور واضح پالیسی ان کو (اپوزیشن)کو ذرا کھٹک رہی ہے انہیں دقت ہے کہ مودی کرپشن کے خلاف اتنی بڑی کارروائی کیوں کر رہے ہیں ؟اقتدار کے گلیاروں میں گھومنے والے بچولیوں کو مودی نے باہر کیوں نکال دیا ۔غریبوں کے راشن ،پینشن اور ان کو ملنے والے حق پر کنڈلی مارے بیٹھے دلالوں کو باہر کیوں کر رہا ہے ؟اپنے پریوار اور سلطنت کو بچانے کے لئے وہ کتنے بھی گٹھ بندھن بنا لیں وہ اپنے فعل سے بھاگ نہیں سکتے ۔پچھلے کچھ دنوں سے دونوں وزیر اعظم اور بھاجپا صدر امت شاہ جارحانہ حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں اور وزیر اعظم اپوزیشن پارٹیوں پر جم کر نقطہ چینی کر رہے ہیں تو ہمیشہ مودی سرکار کی کارناموں کو باریکی سے دیش کے عوام کو سمجھا رہے ہیں ۔بھاجپا صدر امت شاہ کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی عام چناﺅ وکاس اور دفاع اور دیش کے آتم سمان جیسے اشوز پر لڑئے گی۔انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ بھاجپا 3سو سے زیادہ لوک سبھا سیٹیں جیتے گی اور وزیر اعظم نریندر مودی کا اقتدار برقرار رہے گا ۔بھاجپا نے2014کے لوک سبھا چناﺅ میں 282سیٹیوں پر جیت درج کی تھی ،جو سرکار بنانے کے لئے ضروری نمبروں سے زیادہ تھی ۔ایودھیا میں رام مندر بنانے کے بارے میں انہوںنے کہا کہ کانگریس نہیں چاہتی کہ یہ اشو جلدی نمٹ جائے ۔ہم رام مندر کی تعمیر چاہتے ہیں لیکن قانون کے دائرے میں رہ کر ہم ایسا چاہتے ہیں ۔شاہ نے کہا کہ مغربی بنگال میں کافی تبدیلی آئے گی جہاں بھاجپا 42میں سے 23سے زیادہ سیٹیں جیتے گی انہوںنے مزید دعوی کیا کہ نارتھ ایسٹ خطے میں 25میں سے 21سیٹوں پر کامیابی حاصل کرئے گی ۔بھاجپا صدر نے 2019کے لوک سبھا چناﺅ کو پانی پت یدھ جیسا بتایا ہے ۔تازہ سروے بتاتے ہیں کہ 2014کے مقابلے اس بار مودی لہر پھیکی پڑتی نظر آرہی ہے ۔پچھلی مرتبہ جن جن ریاستوں میں این ڈی اے نے شاندار پرفارمینس دی تھی وہاں اس بار سیٹوں کا بڑا نقصان ہوتا دکھائی پڑ رہا ہے ۔اے بی پی نیوز-سی ووٹر کے سروے میں کہا گیا ہے کہ این ڈی اے کو 233سیٹیں مل سکتی ہیں یہ نمبر اکثریت سے 39سیٹیں کم ہے وہیں یوپی اے کو 106سیٹوں کے اضافہ دکھایا گیا ہے ۔بی جے پی کا تین فیصدی ووٹ گھٹا ہے جبکہ یوپی اے کو دس فیصدی ووٹ زیادہ ملے گا ۔لیکن یہ سروے غریب بڑی برادریوں کو دس فیصد ریزرویشن سے پہلے کا ہے ۔اس لئے فی الحال اسے پوری طرح صحیح نہیں مانا جا سکتا ۔اعلیٰ برادریوں کو ریزریوشن دینا بھاجپا کے ماسٹر اسٹروک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔کیونکہ ایس سی -ایس ٹی ایکٹ میں ترمیم کے بعد پورے دیش میں اعلیٰ برادریاں بے حد ناراض تھیں انہیں منانے کے لئے مودی سرکار نے دس فیصدی ریزرویشن دینے کا اعلان کیا ہے سرکار کے اس فیصلے سے لوک سبھا کی تقریبا 125سیٹوں پر اثر پڑئے گا ۔2014کے ایک اندازے کے مطابق 125لوک سبھا سیٹیں ایسی ہیں جہاں ذات پات کی بنیاد پر اعلیٰ برادری کے امیدوار بھاری پڑتے ہیں اور کامیاب ہوتے ہیں ۔اترپردیش ،مدھیہ پردیش ،بہار،دہلی ،ہریانہ ،مغربی بنگال،ہماچل،اتراکھنڈ،اور راجستھان میں بڑی برادریوں کا اثر ووٹ بینک پر دکھائی پڑتا ہے ۔ایک سروے کے مطابق اب بھی دیش میں 55فیصد ووٹر امیدوار کی برادری دیکھ کر ووٹ دیتے ہیں پچھلے لوک سبھا میں جیتی سیٹیں اس بار بھاجپا کو ان میں کمی کا احساس ہے ۔اس لئے بھاجپا کی پہنچ سے دور رہ گئے ساﺅتھ اور نارتھ ایسٹ کے لئے پارٹی نے اس بار نئے نشانے طے کئے ہیں ان دونوں خطوں میں پارٹی نے 50سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے کا نشانہ طے کیا ہے اپوزیشن نے بے شک اپنا ٹریلر پیش کر اپنا دم خم دکھا دیا ہو لیکن دوست پکچر ابھی باقی ہے ۔

(انل نریندر)

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...