Translater

30 اپریل 2016

اتراکھنڈ میں صدر راج برقرارعدالت نے پوچھے سوال

اترکھنڈ میں صدر راج جاری رہے گا اور 29 اپریل کو اسمبلی میں ہونے والے فلو ر ٹیسٹ پر بھی روک برقرار رہے گی۔ سپریم کورٹ نے بدھوار کواپنی سماعت کے دوران اتراکھنڈ میں صدر راج ہٹانے کے نینی تال ہائی کورٹ کے فیصلے پر لگی روک کو جاری رکھنے کا فیصلہ لیا۔ جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس شیو کیرتی سنگھ کی ڈویژن بنچ نے اپنے فیصلے میں کئی اہم سوال اٹھائے ہیں۔ بنچ نے کہا لاکھ ٹکے کا سوال ہے کہ کیا اسمبلی کی کارروائی کی بنیاد پر مرکزی کیبنٹ اتراکھنڈ میں صدر راج لگانے کی سفارش کرسکتا ہے؟ گورنر کے کردار پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں اور صاف صاف الفاظ میں کہا گیا ہے کہ گورنر نے آرٹیکل 175(2) کے تحت فلور ٹسٹ روکنے کا پیغام بھیجا تھا؟ اور کیا گورنر ایسا کرسکتے ہیں؟ یہ بھی سوال کیا گیا کہ فلور ٹیسٹ میں دیری ہونا کیا صدر راج نافذ کرنے کی بنیاد ہوسکتی ہے؟کیا منی بل گورنر کے پاس بھیجنے میں دیری صدر راج کی بنیاد ہوسکتی ہے؟ ریاست میں بل پاس ہوا تھا یا نہیں، کیا دہلی سے طے کیا جائے گا؟ اس کے علاوہ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اسٹنگ آپریشن صحیح ہے تو بھی یہ صدر راج کی بنیاد نہیں ہوسکتا۔ پہلے ہی ایس آر بومئی اور رامیش پرساد کے سلسلے میں سپریم کورٹ یہ کہہ چکی ہے کہ کسی بھی حالت میں فلور ٹیسٹ ہی ایک راستہ ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ کانگریس سمیت اپوزیشن کی جیت مانی جائے گی۔ مرکزی سرکار کو اس کے لئے اب کافی ہوم ورک کرنا ہوگا اور ایسے ثبوت پیش کرنے ہوں گے جس کی بنیاد پر عدالت کو محسوس ہو کہ حالات بالکل بے قابو ہوگئے تھے اور اس دوران صدر راج ہی ایک واحد حل بچا تھا۔صدر راج والا نوٹیفکیشن کو پارلیمنٹ کی منظوری دلانی ہوگی۔ اس طرح اتراکھنڈ معاملے میں کانگریس کی حمایت میں ساری اپوزیشن کھڑی ہوگئی ہے اس سے تو لگتا نہیں کہ کم سے کم راجیہ سبھا میں مرکزی سرکار اپنے مقصد میں کامیاب ہو پائے گی۔ آئینی ماہرین کا صاف صاف کہنا ہے کہ سرکار کے لئے یہ مجبوری ہے کہ وہ دو ماہ کے اندر نوٹیفکیشن کو پارلیمنٹ میں منظور کروائے۔ نئی سرکارکی تشکیل کا اگر راستہ نکلتا ہے تبھی مرکز پارلیمنٹ کی منظوری کی فضیحت سے بچ سکتا ہے یعنی مرکزی سرکار کے سامنے فلور ٹیسٹ ہی واحد متبادل بچتا ہے، جس کی مانگ اپوزیشن کانگریس کرتی آرہی ہے۔ اگر فلور ٹیسٹ ہوا تو پھر یہ بھی توجہ دینے والی بات ہے کہ اسمبلی اسپیکٹر گووند سنگھ کنجوال نے کانگریس کے 9 ممبران اسمبلی کو ڈسکوالیفائی کردیا تھا۔ اگر کورٹ کا فیصلہ حق میں نہیں آتا تو اسمبلی میں نمبروں کا کھیل پوری طرح بدل جائے گا۔ کانگریس نے ان 9 ممبران کو ڈسکوالیفائی کرانے کے اسپیکر کے فیصلے سے 70 نفری اسمبلی میں تعداد 61 رہ جائے گی۔ کانگریس نے ان 9 باغی ممبران میں راوت کے خلاف بغاوت کر بھاجپا سے ہاتھ ملا لیا تھا اور اگر ان کی ممبر شپ ختم ہوجاتی ہے تو یہ کانگریس کے لئے فائدہ مند ہوگا بھاجپا کے لئے نقصاندہ۔ کانگریسیوں کو امید ہے کہ فیصلہ ان کے حق میں آئے گا۔ بھاجپا یہ امید لگائے بیٹھی تھی کہ معاملہ آئینی بنچ کے حوالے ہوجائے گا لیکن دونوں کی حسرت پوری نہیں ہوئی۔ بھاجپا اور کانگریس اپنے اپنے سطح پر 29 اپریل کو طاقت آزمائی پر لگی ہوئی تھیں اور اسی لحاظ سے حکمت عملی بھی بن رہی تھی۔ لیکن پورے معاملے میں ایک اور تاریخ ملنے کے بعد حالات اب بدل گئے ہیں۔ اب ہفتے بھر تک سیاسی پارٹیوں کی سرگرمیں کا شور رکنے کے آثار ہیں۔ یا یوں کہیں کہ سپریم کورٹ کے ذریعے دی گئی تاریخ ہفتے بھر تک ریاست کی سیاسی سرگرمیوں کے لئے اسپیڈ بریکر بن گئی ہے۔
(انل نریندر)

طلاق، کثیر شادی نظام میں اصلاح کی پہل کریں علماء

ایک ساتھ تین بار طلاق کہہ کر طلاق دینے اور کثیر شادیوں پر روک لگانے کی بحث کے درمیان دیش کی کئی مسلم انجمنوں کے نمائندے، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے کہا ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور علماء اس میں اصلاح کے لئے پہل کریں۔ لیکن حکومت اور عدالتوں کا دخل نہیں ہونا چاہئے۔ سپریم کورٹ میں سائرہ بانوں نامی خاتون کی طرف سے ایک ساتھ تین طلاق و کثیر شادی کے خلاف دائر عرضی پر عدالت عظمیٰ کے ذریعے مرکزی حکومت سے جواب مانگے جانے پر یہ بحث چھڑ گئی ہے۔ مشاورت کے چیئرمین نوید حمدی نے کہا کہ اس معاملے پر ایک ساتھ تین طلاق پر مسلم پرسنل لاء بورڈ کو گہرائی سے غور کرنا چاہئے،ایران اور سعودی عرب جیسے ممالک میں اس پر بات چیت ہوئی ہے اور تبدیلی بھی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا ایک ساتھ تین بار طلاق کہہ کر طلاق دینے کا نظام خاص طور سے بھارت ، پاکستان اور بنگلہ دیش میں ہے۔ پاکستان میں قانون کے ذریعے اس میں تبدیلی کی گئی ہے لیکن ابھی بنیادی سطح پر یہ عمل میں نہیں آسکی ہے۔حمید نے کہاکہ علماء دین کو اس پر غور کرنا چاہئے کہ قرآن اور شریعت کے دائرے میں رہ کر اس میں کیا اصلاح ہوسکتی ہے۔ مسلم سماج کے ایک حصہ کی یہ اپیل ایسے وقت میں آئی ہے جب عدالت عظمیٰ میں اس مسئلے پر سماعت چل رہی ہے۔ غور طلب ہے کہ اس عرضی کے ذریعے سائرہ بانو نامی خاتون نے شوہر کے ذریعے تین مرتبہ طلاق بول کر طلاق دینے اور کثیر شادی نظام کو غیر قانونی قرار دینے کی اپیل کی ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اس طرح سے ایک طرفہ طلاق نہ سمجھی ہے اور اس عمل کا جائزہ لیا جانا چاہئے۔ ادھر مسلم پرسنل لا بورڈ نے ایک ساتھ تین طلاق کو جائز قراردیا ہے۔ بورڈ نے تین طلاق، گزارہ بھتہ، چار شادیاں جیسے معاملوں میں شریعت قانون کے خلاف آرہے عدالتی فیصلے کو پرسنل لاء بورڈ نے شریعت میں دخل اندازی مانا ہے۔ ساتھ ہی بورڈ اتراکھنڈ کی باشندہ سائرہ بانو و ایک دوسرے معاملے میں سپریم کورٹ میں اپنی پیروی خود کریں گے۔ پرسنل لاء بورڈ نے یہ فیصلہ گزشتہ سنیچر کو لکھنؤ کی دین درسگاہ ندوی کے مہتمم مولانا سید رابع حسنی ندوی کی صدارت میں ایگزیکٹو کی میٹنگ میں لیا۔ لوگ چاہیں گے کہ اصلاح کی پہل علماء کی طرف سے ہو لیکن وہ آنا کانی کریں گے تو خودکو بے جواز ہی ثابت کریں گے۔ یوں تو لڑکیوں کی حالت سبھی فرقوں میں قابل رحم ہے لیکن مسلم خواتین کی حالت کہیں زیادہ خراب ہے۔ منظم ہوکر اپنی آواز اٹھانا ان کے لئے زیادہ مشکل ہورہا ہے۔ کہنا کا مطلب یہ ہے کہ مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی کے اندیشے یا مانگ مذہب میں دخل اندازی کے طور پر دیکھنے کے بجائے اس مسئلے پر چھڑی بحث کوآج کے مسلم سماج کی حالات کے طور پر دیکھا جائے۔ 
(انل نریندر)

29 اپریل 2016

ہیلی کاپٹر ڈیل:رشوت دینے والا جیل میں اور لینے والے

اگستا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹرسودے میں اٹلی کی ایک عدالت کی طرف سے رشوت دینے والوں کو قصوروار قرار دینے کے فیصلے سے بھارت کی سیاست میں ایک نیا طوفان کھڑا ہونا فطری ہی ہے۔ اگستا ویسٹ لینڈ کانگریس کے لئے کہیں دوسرا بوفورس کانڈ نہ بن جائے۔ فیصلے میں اس کی تفصیل ہے کہ 12 ہیلی کاپٹروں کے سودے میں کروڑوں روپے کی دلالی دی گئی۔ بتادیں کہ اگستا ویسٹ لینڈ کی اصل کمپنی اٹلی کی فممکینیکا نے 3600 کروڑ روپے کی لاگت پر12 وی آئی پی ہیلی کاپٹروں کا سوداکیا تھا۔ 2010ء میں ہوئے اس سودے میں اٹلی کی جانچ ایجنسی نے رشوت خوری کا الزام لگاتے ہوئے وہاں کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا ۔بعد میں جانچ کی آنچ بھارت تک پہنچی۔ معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے اس وقت کے وزیر دفاع اے کے انٹونی نے 2013ء میں سی بی آئی سے جانچ کرانے کی درخواست کی تھی۔ الزام ہے کہ سودے میں ہیلی کاپٹروں کی کوالٹی کا پیمانہ بدلنے اور سودے کو قطعی شکل دلانے کے سلسلے میں ہندوستانی افسروں ، لیڈروں کو رشوت دی گئی۔ الزام ہے کہ سابق ایئر فورس چیف ایئر مارشل ایس پی تیاگی اور ان کے رشتہ داروں کو قاعدے بدلنے اور ڈھیل دینے کے عوض میں موٹی رقم بطور رشوت دی گئی۔ 65سے100 کروڑ روپے کی رشوت بتائی جاتی ہے جس طرح سے فیصلے کے 17 صفحات میں تیاگی کا ذکر ہے اس سے ان کے ملوث ہونے کا اشارہ ملتا ہے۔ سگنوٹایعنی گاندھی اور سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے بھی نام ہیں۔ اس میں سگنوٹا، سودے کے اہم فریق ہیں یہ شریمتی گاندھی کون ہوسکتی ہیں؟ بھاجپا کہتی ہے یہ کانگریس پردھان سونیا گاندھی ہیں۔ اگستا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر خرید کے سودے کو منموہن سنگھ سرکار کے وقت قطعی شکل دی گئی تھی۔ کچھ وقت کے بعد یہ سامنے آیا کہ سودے میں دلالی کا لین دین ہوا ہے۔ اس پر اس وقت کی حکومت نے نہ صرف ہیلی کاپٹر سودے کو منسوخ کیا بلکہ یہ بھی اعتراف کیا کہ کسی نے رشوت لی ہے۔ یہ اعتراف خود اس وقت کے وزیر دفاع اے کے انٹونی کی طرف سے کیا گیا تھا۔ حالانکہ اس سودے میں دلالی کے لین دین کی جانچ سی بی آئی کے ساتھ ساتھ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے بھی کی جارہی ہے لیکن دونوں ہی ایجنسی ابھی تک معاملے کی تہہ تک نہیں پہنچ سکی ہیں۔ کیونکہ اٹلی کی عدالت کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ دلالی ہندوستانیوں کو دی گئی اور جانچ پڑتال کے دوران ایسے دستاویز سامنے آئے تھے جن میں یہ درج تھا کہ اس سودے میں کانگریس صدر سونیا گاندھی کا درپردہ کردار ہوگا۔ اس لئے بھاجپا کا کانگریس کے تئیں حملہ آور ہونا سمجھ میں آتا ہے ، لیکن بات تب بنے گی جب ہندوستانی جانچ ایجنسی پختہ ثبوت اکٹھا کرنے کی اہل ثابت ہوں گی۔ منگلوار کو ہی راجیہ سبھا کے نامزد ممبر کی حیثیت سے حلف لینے والے بھاجپا نیتا سبرامنیم سوامی بدھوار کو قاعدہ267 کے تحت اس سودے میں رشوت کا فائدہ اٹھائے اور اس کے کانگریس صدر کا نام لیا تو اس پر ہنگامہ ہوگیا۔ کانگریس کے ممبران راجیہ سبھا کے چیئرمین کے سامنے پہنچ گئے اورایک گھنٹے تک ہاؤس کو چلنے نہیں دیا۔ خود سونیا گاندھی نے بدھوار کو اس معاملے میں رشوت لینے کے الزامات کو مسترد کردیا۔ انہوں نے اور اپنی پارٹی کو اس سے جوڑنے کی کوششوں کو پوری طرح سے بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ مجھے کوئی ڈر نہیں ہے۔ سونیا نے سرکار سے سوال کیا کہ اس اشو پر پچھلے دو برسوں کے دوران حکومت نے کیا کیا؟ ساتھ ہی انہوں نے پورے معاملہ کی پختہ غیر جانبدارانہ جانچ کرانے کی مانگ کی۔ اگستا معاملہ بڑے سیاسی معاملے کے طور پر ابھر کر سامنے آیا جو مودی سرکار کے خلاف اشوز چن چن کر اپوزیشن کی حیثیت سے زندہ رہنے کی کانگریس کوشش کررہی تھی۔ حالانکہ راجیہ سبھا میں وہ حقائق کو رکھنے کے بجائے ہنگامے کا سہارا لے رہی ہے، اس سے اس کی مشکلیں آسان نہیں ہوں گی۔ اٹلی کے دو ناگرکوں کو رہائی کے بدلے سونیا کا نام معاملہ میں شامل کرنے کے لئے اٹلی۔ بھارت کے وزرا ئے اعظم کے درمیان سودے بازی اسی طرح سے ظاہر ہوتی ہے۔ رشوت دینے والے تو جیل پہنچ گئے اور رشوت لینے والے ابھی جانچ کے دائرے میں ہیں۔
(انل نریندر)

راجدھانی میں بڑھتے ہٹ اینڈ رن حادثے

دہلی کے ایک طرف ہٹ اینڈ رن کے واقعات بڑھ رہے ہیں تو ادھر سڑکوں پرغنڈہ گردی کے معاملے اکثر سرخیوں میں چھائے رہتے ہیں۔ ہماری راجدھانی کی سڑکیں قبر گاہ بنتی جارہی ہیں۔ دہلی میں ہٹ اینڈ رن کے 2015 ء میں 1567 لوگ مارے گئے جبکہ سال2014ء میں 1671 لوگوں کی جان گئی۔ ان میں 50 فیصدی سے زائد معاملہ ہٹ اینڈ رن کے تھے۔ ان کی اہم وجہ تیز رفتار اور شراب پی کر گاڑی چلاناہے۔ حال ہی میں دھولہ کنواں علاقہ میں ایک نا معلوم گاڑی کی ٹکر سے بائک سوار تین لڑکوں کی موت ہوگئی۔ انہی دنوں دہلی کے سول لائن علاقے میں ایک نابالغ نے اپنی مرسڈیز سے سڑک پر چلتے ایک نوجوان کو کچل دیا۔ مرکزی محکمہ ٹرانسپورٹ کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق ہٹ اینڈ رن کے زیادہ تر واقعات رات میں ہوتے ہیں کیونکہ رات کو سبھی شاہراؤں پر مقامی پولیس اور ٹریفک پولیس نہیں رہتی اس وجہ سے ملزم ڈرائیور موقعہ پر حادثہ کرکے فرار ہوجاتا ہے۔ ہٹ اینڈ رن میں ویسے بھی سزا بہت کم ہے۔ ملزم کے خلاف لاپرواہی سے ہی موت کا معاملہ درج ہوتا ہے اور اس میں زیادہ سے زیادہ سزا دو سال ہوتی ہے۔ نئے موٹر ایکٹ کے مسودے میں ملزم ڈرائیوروں کے خلاف سخت کارروائی کی کوئی بات نہیں کہیں گئی ہے۔ محض متاثرہ افراد کے رشتے داروں کو مرکزی سرکار ایک طے رقم بطورمعاوضہ دے گی۔ زخمیوں کے علاج کے لئے موٹر ایکسیڈنٹ فنڈ بنے گا۔ 2015ء میں 765 راہ گیر ایسے واقعات میں مارے گئے ہیں۔ قانونی پیچیدگیوں کا فائدہ اٹھا کر خاص کرنابالغ کے سنگین جرائم میں شامل ہونے کے معاملہ لگاتار سامنے آرہے ہیں۔ کچھ میں تو بڑے افسر ان کا استعمال بھی کرتے ہیں۔سول لائن علاقے میں تیز رفتار مرسیڈیز کار سے کچل کر نوجوان کی جان لینے والے نابالغ کے والد پر اکسانے کا مقدمہ درج کر دہلی پولیس نے مثبت کام کیا ہے۔ مجرمانہ معاملوں کے ایک وکیل نے بتایا کہ پولیس نے والد پر آئی پی سی کی دفعہ109 (واردات کے لئے اکسانا) کا مقدمہ درج کر ایک مثال پیش کی ہے۔ گذشتہ برسوں میں نابالغوں کے ذریعے ہٹ اینڈ رن کے حادثوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ معاملہ نابالغ سے وابستہ ہونے کی وجہ سے عموماً پولیس کے ہاتھ بندھ جاتے ہیں۔ یہ پہلی بار ہے جب پولیس نے خود آگے آکر ملزم کے والد پر کارروائی کی ہے۔ قانون میں اس طرح کے واقعات میں والد پر سیدھی کارروائی کرنے کا اختیار نہیں ہوتا لیکن اپنے نابالغ بچے کے ہاتھ میں گاڑی کی چابی دینے پر والد کے خلاف اکسانے کی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ ہٹ اینڈ رن معاملوں میں قانون کی دفعات اور سخت بنانے کی ضرورت ہے۔ دو سال غیر ارادتاً قتل کی سزا نا کافی ہے۔
(انل نریندر)

28 اپریل 2016

زخمی اختر خاں کو چھوڑ داغی پولیس بھاگی

اترپردیش کی پولیس کی ساکھ پر ایک بار پھر داغ لگا ہے۔ بلند حوصلہ بدمعاشوں نے پیر کو تڑکے دادری کوتوالی میں واقع نئی آبادی میں شاطر بدمعاش کے گھر دبش مارنے گئے دروغہ اختر خاں (48 سال) کو گولی سے اڑادیا۔ انسپکٹر ہوم سنگھ یادو کی رہنمائی میں گئی پولیس پارٹی ساتھی دروغہ کو گولی لگتے ہی موقعہ سے فرار ہوگئی۔شہید دروغہ کے مامو کا الزام ہے کہ ڈیڑھ گھنٹے تک اختر موقع پر لہو لہان پڑے رہے۔ بعد میں مقامی لوگوں نے انہیں ہسپتال پہنچایا جہاں انہیں مردہ قراردے دیا گیا۔ اختر دادری کوتوالی کی کوٹ چوکی کے انچارج تھے۔ واردات کی جگہ کوتوالی سے مشکل سے 400 میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ بدمعاش جاوید و فرقان اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ فرار ہوگئے۔ بنیادی طور سے علیگڑھ کی فردوس کالونی کے باشندے اختر خاں سپاہی سے ترقی پا کر دروغہ بنے تھے اور کوٹ چوکی پر 6 مہینے سے تعینات تھے۔ ایتوار کی رات پولیس کو نئی آبادی محلہ میں شاطر بدمعاش جاوید کے پاس بھاری مقدار میں ہتھیار ہونے کی اطلاع ملی اور پیر کی صبح 4 بجے انسپکٹر ہوم سنگھ یادو کی رہنمائی میں 12 پولیس والوں کی ٹیم نے چھاپہ ماری کی۔ جاوید اپنے ساتھی فرقان کے گھر میں چھپا ہوا تھا۔ پولیس ٹیم کے فرقان کے گھر کا دروازہ کھلتے ہی اندر موجود پانچ بدمعاشوں جاوید، اورنگزیب، فرقان، طوطا اور وسیم نے پولیس ٹیم پر حملہ کردیا۔ دروغہ اختر خاں کو گردن اور پیٹ میں گولی لگی۔ اختر کے گولی لگتے دیکھ پولیس ٹیم کے دیگر پولیس والے جس میں انسپکٹر میں شامل تھے موقعہ سے بھاگ گئے۔ ڈیڑھ گھنٹے بعد پولیس کی ٹیم پھر سے موقعہ پر پہنچی۔ تب تک بدمعاش فرار ہوچکے تھے۔ بنیادی ملزم ہسٹری شیٹر جاوید پر قتل اور لوٹ مار کے 15 مقدمے درج ہیں۔ زیادہ تر معاملہ دہلی میں درج ہیں۔ 
شہید سب انسپکٹر اختر خاں کے اس معاملے میں ساتھی پولیس ملازمین پر سنگین الزام لگ رہے ہیں۔ ایک جانباز کو گولی لگنے کے بعد ٹیم میں شامل باقی پولیس والے اکیلا چھوڑ کر کیوں بھاگ گئے یہ سب سے بڑا سوال ہے۔ جب پوری ٹیم تیاری کے ساتھ گئی تھی تو بدمعاشوں کا مقابلہ کیوں نہیں کیا گیا؟ کوتوالی مشکل سے کچھ میٹر دوری پر تھی۔ بتایا جارہا ہے دبش ڈالنے گئی ٹیم میں سب سے آگے اختر خاں ہی تھے۔ اس بار بھی بدمعاش چکما دے کر فرار ہونے میں کامیاب رہے۔آس پاس کے لوگوں کی باتوں پر یقین کیا جائے تو جب مقامی لوگوں نے دیکھا کہ اختر خاں خون سے لت پت پڑے ہیں اور باقی پولیس ٹیم موقعہ سے بھاگ کھڑی ہوئی تو انہوں نے ہی اختر خاں کو ہسپتال پہنچایا۔ یہ بھی تذکرہ ہے کہ اختر خاں کسی رنجش کا شکار تو نہیں ہے۔
(انل نریندر)

وادی میں فوج کو بدنام کرنے میں کام آرہا ہے خلیج کا پیسہ

جس طرح وادی کشمیر میں پچھلے ایک عرصے سے علیحدگی و دہشت گردانہ سرگرمیاں تیزی سے بڑھی ہیں اس سے یہ لگتا ہے کہ کچھ عناصر ایسے ہیں جو لڑکوں کو بھڑکا رہے ہیں۔ وادی میں موجود دہشت گرد نیٹورک خون خرابے کے بجائے لوگوں کو بھڑکا کر فوج اور سکیورٹی فورس کو بدنام کرنے کی منظم حکمت عملی پر کام کررہے ہیں۔ خفیہ ایجنسیوں نے وزارت داخلہ کو بھیجی رپورٹ میں کہا ہے کہ ہندواڑہ کی واردات دہشت گردی اور علیحدگی پسندی نیٹورک کا نتیجہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق وادی میں موجود مرکز مخالف گروپ جموں و کشمیر میں پی ڈی پی ۔ بھاجپا سرکار کے لئے دباؤ رکھنے کے لئے ان کرتوت میں برابر کا شریک ہے۔ ادھر خلیجی ممالک سے حوالہ کے ذریعے آرہا پیسہ کشمیر وادی میں ہماری سکیورٹی فورس کی دقتیں بڑھا رہا ہے کیونکہ خبر ہے کہ زیادہ تر ناجائز پیسہ کا استعمال صدیوں پرانی صوفی روایت سے نوجوانوں کو ہٹا کر انہیں کٹر پسندی کی طرف لے جانے کیلئے بنیاد بنانے میں ہورہا ہے۔ کشمیر وادی کے کئی حصوں میں مذہبی انجمنیں ابھر رہے ہیں۔ سکیورٹی تجزیوں کے مطابق یہ انجمنیں زیادہ تر نوجوانوں کو راغب کررہی ہیں۔ اس میں مذہب کی اس شکل کو پیش کیا جارہا ہے جس پر ممنوعہ آئی ایس آئی ایس اور القاعدہ جیسے دہشت گردانہ گروپ چل رہے ہیں۔ اس نئے رجحان سے بہت سے دھارمک نیتا پریشان ہیں کیونکہ وہ محسوس کررہے ہیں کہ نوجوانوں کی نئی پیڑھی کو کشمیر وادی کی صدیوں پرانی صوفی روایت سے بھٹکایا جارہا ہے۔ نئی مساجد کے لئے پیسے پر اٹھے سوال کے بیچ فوج اور پولیس اور سینٹرل سکیورٹی فورس کا خیال ہے کہ خلیجی ممالک میں ناجائز پیسے کی وسیع رقم وادی میں بھیجی جارہی ہے۔ فنڈ چھوٹی چھوٹی رقوم میں آتا ہے تاکہ اس کا پتہ نہ چل سکے ۔ پارلیمنٹ میں ایک سوال کے جواب کے مطابق پچھلے سال 82 لڑکے دہشت گردی کی گرفت میں آئے۔ سکیورٹی حکام نے اسے ایک خطرناک رجحان قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ 1950کی دہائی میں دہشت گردی اور آج کے آتنک واد میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ابھی کے دہشت گردانہ گروپوں کی آئیڈیالوجی ،بھروسہ پہلے کے مقابلے زیادہ کٹر پسندی کا ہے۔ ایک سینئر افسر نے بتایا کہ کشمیر ’اکھل اسلامی کرن‘ سے گزر رہا ہے اور نوجوان یہ بات جان کر بھی دہشت گردی کا راستہ اپنا رہے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ایسا کرنے سے وہ اپنی موت کو للکار رہے ہیں۔ ایک خفیہ افسر نے بتایا کہ خلیج ممالک میں اپنے ادارے رکھنے والے کچھ کاروباری گھرانے اپنی مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر اوور انوائس پیش کررہے ہیں اور زیادہ پیسہ بھیج رہے ہیں۔ بھارت سرکار کو بلا تاخیر ایسے پیسے پر پابندی لگانے کے طریقے تلاشنے ہوں گے۔
(انل نریندر)

27 اپریل 2016

9/11 حملہ کو لیکر امریکہ ۔ سعودی عرب آمنے سامنے

امریکہ کو کچھ مہینوں کے بعد نیا صدر ملنے والا ہے، لیکن موجوہ صدر براک اوبامہ کے سامنے شاید اپنے کیریئر کی سب سے بڑی چنوتی آکھڑی ہوئی ہے۔مسئلہ 9/11 آتنکی حملہ سے جڑا ہے جس میں حملہ آوروں کو مدد پہنچانے میں سعودی عرب کا کردار آیا ہے۔ ایسے میں سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا امریکی پارلیمنٹ میں وہ بل پاس ہوگا جس میں سعودی عرب کے خلاف امریکی عدالت میں مقدمے کی بات شامل ہے۔ امریکہ کی سیاست میں صدارتی چناؤ کا ان دنوں تذکرہ ضرور ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ سنجیدہ غورو خوض اوبامہ انتظامیہ کو سعودی عرب کے خلاف امریکی کورٹ میں مقدمہ کرنا پڑ رہا ہے۔ امریکی پارلیمنٹ کے نچلے ایوان ’’کانگریس‘‘ میں ایسا بل لانے کی تیاری ہے جس میں سعود ی عرب کو 9/11 نیوریاک حملوں میں آتنک وادیوں کی مدد کرنے کیلئے شبہ کی نظروں سے دیکھا جارہا ہے۔ اس میں صاف تذکرہ ہے کہ سعودی عرب نے اپنے چینل کے ذریعے امریکہ میں موجود دہشت گردوں کو نہ صرف ٹریننگ میں مدد دلائی بلکہ انہیں مالی مدد بھی پہنچائی۔ یہی بڑی وجہ ہے کہ حملہ کے15 سال بعد میں 9/11 حملہ کے ذمہ دار اور مددگار پر کارروائی کا عمل جاری ہے۔کانگریس میں یہ بل اس لئے لایا جاسکتا ہے کیونکہ 9/11 کی جانچ رپورٹ میں 28 صفحات ایسے ہیں جنہیں ابھی سامنے نہیں لایا گیا ہے جو سعودی عرب کے 9/11 حملہ سے متعلق ہے۔
یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ حملہ آوروں کو سعودی عرب سے مدد ملی تھی۔ اس سے امریکہ میں 9/11 حملہ کے متاثرین اور ان کے خاندان کو انصاف کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ ایسے میں اگر بل پاس کرکے سعودی عرب کے خلاف کورٹ میں مقدمہ چلتا ہے تو امریکہ اور سعودی عرب کے رشتوں میں یقینی طور پر کشیدگی آجائے گی۔ دنیا بھر میں امریکہ ایسا دیش ہے جس کی سفارتی ، اقتصادی اور فوجی سرگرمیاں بیرونی ممالک میں دیگر ملکوں کے مقابلے زیادہ ہوتی ہیں۔اگر دیشوں کو مقدمے سے امریکی اصول کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو دیگر دیشوں کے مقابلے میں امریکہ کے خلاف زیادہ مقدمے ہوں گے۔ خارجہ پالیسی کے سبب بھی امریکہ سب سے ہائی ٹیک اور ہائی پروفائل ٹارگیٹ بن سکتا ہے۔ اس وجہ سے امریکہ طویل عرصے سے کسی دوسرے دیش کے ذریعے بین الاقوامی قانون کے چکروں سے بچا ہوا ہے۔ ایسا اس لئے بھی کیونکہ مثال کے طور پر شام میں امریکہ نے ان باغیوں کی مدد کی جنہوں نے بشرالاسد حکومت کے فوج سے لڑائی لڑنے کے دوران عام لوگوں کی جانیں بھی لی ہیں۔ اس نتیجے کے طور پر امریکہ پر دہشت گردی کو بڑھاوا دینے اور مدد کرنے پر بھی مقدمہ چل سکتا ہے۔ یہی نہیں امریکی فوج ، القاعدہ ،اسلامک اسٹیٹ کے دہشت گردوں پر حملے کرتی ہے۔ اسے کئی دیش مانتے ہیں کہ یہ کارروائی بھی آتنک واد جیسی ہے۔
(انل نریندر)

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...