Translater

05 مارچ 2016

چدمبرم نے کھڑا کردیاپارٹی کے سامنے مصیبتوں کا پہاڑ

کانگریس چیف سونیا گاندھی منگلوار کو بھلے ہی پارٹی کے سینئر لیڈر پی چدمبرم کے بچاؤ میں کھل کر سامنے آگئی ہوں لیکن چدمبرم سے وابستہ حالیہ تین واقعات نے کانگریس کو بیک فٹ پر آنے کو مجبور ضرور کردیا ہے۔پہلامعاملہ ہے چدمبرم کا انٹرویو۔ وہ بھی ایسے وقت جب مرکزی سرکار اور بی جے پی پوری اپوزیشن کو راشٹردروہی بنام دیش بھکتی ایشو پر گھیرنے کی پر زور کوشش میں ہے۔ چدمبرم نے ایک انگریزی اخبار کو دئے گئے انٹرویو میں پارلیمنٹ پر حملے کے ملزم افضل گورو کو پھانسی دئے جانے پر نااتفاقی کا اظہار کر پوری پارٹی کو سوالوں کے گھیرے میں لاکر کھڑا کردیا ہے۔ چدمبرم نے کہا افضل پر فیصلہ شاید ٹھیک نہیں تھا اسے بغیر پیرول کے عمر قید دی جاسکتی تھی۔ جب چدمبرم سے پوچھا گیا کہ آپ بھی تو اس سرکار کا حصہ تھے جس نے افضل کو پھانسی دلوائی تھی تو انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت وزیر داخلہ نہیں تھے۔ اس انٹرویو کے بعد کانگریس کو صفائی دینی پڑی کہ یہ چدمبرم کی شخصی رائے ہوسکتی ہے، پارٹی کی نہیں۔دوسرا معاملہ عشرت جہاں کیس کا ہے۔ عشرت جہاں معاملہ میں آئے افسروں کے بیانات کا ہے جس سے پیغام جارہا ہے کہ عشرت کو آتنکی نہ بتانے کے لئے اس وقت کے وزیر داخلہ پی چدمبرم کا دباؤ تھا اور سابق اوور سکریٹری آر وی ایس منی نے یہاں تک کہا کہ آئی بی کے افسران کے خلاف بیان دینے کے لئے تیار نہ ہونے پر انہیں جلتی سگریٹ سے جلایاگیا۔ تیسرا کچھ اور اہم معاملہ ان کے بیٹے کی املاک کے متعلق ہے۔ ایک اخبار میں رپورٹ شائع ہوئی کہ چدمبرم کے بیٹے کیرتی کی 14 ملکوں میں جائیداد ہے۔ 16 دسمبر2015ء کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے مارے گئے چھاپے میں جو دستاویز ملے ان سے پتہ چلتا ہے کہ کیرتی نے غلط طریقے سے کمائی کی ہے۔ سینئر کانگریس لیڈر پی چدمبرم اور ان کے بیٹے کیرتی چدمبرم پر جو الزام لگے ہیں وہ سنگین ہیں اور اب یہ سیاسی اشو بن چکے ہیں۔ ممکن ہے کہ انہیں گرمانے میں کانگریس کی حریف پارٹیوں کا رول رہا ہو مثلاً آل انڈیا انا ڈی ایم کے کے ممبر کیرتی پر لگے الزامات کو لیکر دو دنوں تک پارلیمنٹ کی کارروائی نہ چلنے دی۔ ایئرسیل ۔میکسس سودے میں کیرتی سے وابستہ کمپنیوں کا رول پہلے ہی سے جانچ کے دائرے میں ہے۔ تازہ تنازع ایک انگریزی اخبار میں یہ خبر چھپنے کے بعد کھڑا ہوا کہ کیرتی نے کئی دیشوں میں زمین جائیداد میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ تاملناڈو میں دو مہینوں کے اندر اسمبلی چناؤ ہونے ہیں کانگریس نے وہاں پھر سے ڈی ایم کے سے گٹھ جوڑ کیا ہے۔ ایسے میں انا ڈی ایم کے کے اس اشو کو ہوا دیں تو تعجب نہ ہوگا۔ چدمبرم کے کارناموں کی وجہ سے کانگریس پارٹی آج کٹہرے میں کھڑی ہے۔ کانگریس پارٹی کے مفاد میں ہوگا کہ معاملوں کی منصفانہ اور اعلی سطحی جانچ ہو۔
(انل نریندر)

اسلام آباد میں گورنر کے قاتل کے جنازے میں بے تحاشہ بھیڑ

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے اس وقت کے گورنر رہے سلام تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کے جنازے میں منگل کے روز ہزاروں کی بھیڑ دیکھنے کو ملی۔ پاکستان سرکار نے اسے پیر کو چپ چاپ طریقے سے پھانسی دے دی تھی۔ تاثیر کے سکیورٹی گارڈ رہے قادری نے مبینہ طور پر اسلام کی بے حرمتی کرنے والے کی حمایت کرنے پر ان کا قتل کردیا تھا۔ پنجاب کے گورنر سلام تاثیر نے 2011ء میں ایش نندا قانون میں ترمیم کی بات کہی تھی۔ اس وقت قادری ان کی سکیورٹی میں تعینات تھا اور اس بیان سے ناراض تھا۔ اس نے اسلام آباد میں دن دھاڑے تاثیر کو مار ڈالا تھا۔ قادری نے تاثیر کو دو گولیاں ماری تھیں۔ اس نے خود عدالت میں قتل کی بات قبول کی ۔ معاملہ حساس ہونے کی وجہ سے ممتاز قادری کی پھانسی کی جانکاری کچھ گنے چنے لوگوں کو ہی تھی۔ ذرائع کی مانیں تو ایتوار کی رات کچھ افسران کو پھانسی کے فیصلے کی جانکاری دی گئی۔ ساتھ ہی انہوں نے تاکیدکی تھی کہ وہ اس کی جانکاری کسی کو نہ دیں۔ اسی پریشانی سے بچنے کے لئے پولیس اور جیل محکمے کے سینئر افسران نے پھانسی کے پلان میں اڑچن نہ آنے پر متبادل حکمت عملی بھی تیار کی تھی۔ قادری کے30 سے زیادہ رشتے داروں کو دیر رات جیل میں اس سے ملنے کے لئے بلایا گیا۔ ان میں اس کے والد محمد شبیح، بیوی اور اس کے بھائی شامل تھے۔ واقف کار ذرائع نے بتایا کہ ایتوار کی رات ایک پولیس ٹیم کو ان کے گھر والوں کو لانے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ انہیں یہ کہہ کر لایا گیا کہ قادری بیمار ہے اور ان سے ملنا چاہتا ہے۔
ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا ،ہم قادری کی پھانسی ہوجانے سے پہلے اس پلان کا انکشاف کرنے کو لیکر عہدبندتھے۔ اسی طرح سے افسران قادری کی لاش کو صادق آباد پہنچایا اور اس دوران اپنے سینئروں سے کورڈ ورڈ میں ہی بات کی۔پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نے قادری کو تاثیر کے قتل کا قصوروار مانا تھا لیکن کٹر پسندوں کے درمیان قادری ہیرو بن کر ابھرا اور اس کے جنازے میں شامل ہونے کے لئے ہزاروں کی تعداد میں بھیڑ اکھٹا ہوئی۔ جہاں جہاں سے جنازہ گزرا لوگوں نے پھول پھینک کر اپنی عقیدت کا اظہا ر کیا۔ اس دوران نعرے لگ رہے تھے کہ ’قادری تمہارا خون انقلاب لے کر آئے گا‘۔ ایش نندا کرنے والوں کی سزا سر قلم ہے۔ منگلوار کو راولپنڈی کے لیاقت باغ نماز جنازہ ادا کی گئی۔سرکاری اعدادو شمار کے مطابق اس میں15 ہزار لوگوں نے شرکت کی جبکہ اعلی ترین ذرائع کے مطابق جمع لوگوں کی تعداد40 ہزار کے قریب تھی۔ وہیں کراچی میں قریب8 ہزار لوگوں نے قادری کی حمایت میں اور سرکار کے خلاف مظاہرے کئے ہیں۔
(انل نریندر)

04 مارچ 2016

کنہیا کو مشروط ضمانت:ہائی کورٹ کے سخت ریمارکس

یہ بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے؟ افضل گورو اور یعقوب میمن کے جوڈیشیل قتل کی دہائی دینے والے جے این یو طلبا یونین کے صدر کنہیا کمار کو آخر کار عدالت کی پناہ میں جانا پڑا اور ضمانت کی عرضی داخل کرنی پڑی اور ہماری عدالتوں کا منصفانہ رویہ دیکھئے کہ ہائی کورٹ نے کنہیا کو ضمانت بھی دے دی حالانکہ یہ مشروط ضمانت ہے۔ جسٹس پرتیبھا رانی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ آئین میں سبھی کو اظہار رائے کی آزادی کا حق ہے، لیکن اس آزادی کے ساتھ کچھ ذمہ داریاں بھی ہیں۔ حق اور فرض ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں۔ جسٹس پرتیبھا رانی کی بنچ نے کنہیا کو10 ہزار روپے کے ذاتی مچلکہ اور ایک ضمانتی پر مشروط ضمانت دے دی۔ ضمانتی کنہیا کمہار یا جے این یو کا کوئی پروفیسر یا ادارے سے وابستہ کوئی ممبر ہونا چاہئے۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے دہلی پولیس کو جھٹکا ضرور لگا ہے۔ اپنے 23 صفحات کے فیصلے میں بنچ نے کہا کہ پولیس کے پاس ایسا کوئی ویڈیو نہیں ہے جس سے کنہیا دیش مخالف نعرے بازی کرتا دکھائی دے رہا ہو۔ پولیس نے ویڈیو کی ہی بنیاد پر یہ معاملہ درج کیا تھا۔ عدالت نے انتم ضمانت کی شرائط میں کنہیا کو ایک حلف نامہ بھی دینے کو کہا جس میں اسے لکھنا ہوگا کہ وہ عدالتوں کی شرائط کی تعمیل کرے گا۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کئی تلخ ریمارکس بھی دئے ہیں اور نصیحتیں بھی دی ہیں۔ ایسے نعرے بازی کرنے والے تبھی تک آزاد ہیں جب تک دیش کے فوجی سرحد پر اپنی سلامتی یقینی کررہے ہیں۔ کیا افضل گورواور مقبول بھٹ کی حمایت میں نعرے بازی کرنے والے ایک گھنٹے بھی ایسے ماحول میں رہ سکتے ہیں؟ جو دیش مخالف انفکشن سے آلودہ ذہنیت سے متاثر ہے ایسے طلبا کو کنٹرول کی جانا ضروری ہے، تاکہ یہ ایک مہاماری نہ بن جائے۔ جب انفکشن ایک حصے میں پھیلتا ہے تو اینٹی بایو ٹک دوائیں بھی کام نہیں کرتیں ایسے میں علاج کا دوسرا طریقہ اپنا کرکے ہی علاج کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔ کبھی کبھی سرجری کی جاتی ہے لیکن جب خاتمہ ہو جاتا ہے تو اعضا کو کاٹنا بھی پڑتا ہے۔ افضل گورو اور مقبول بھٹ کے پوسٹر پکڑے طلبا کو محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ افضل گورو کو ہماری پارلیمنٹ پر حملے کا قصوروار پایا گیا تھا اس کی برسی پر نعرے بازی ملک مخالف نظریات کو جنم دیتی ہے۔ ہائی کورٹ نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین کے صدر ہونے کے ناطے کنہیا کمار کی ذمہ داری طے کی ہے کہ وہ یونیورسٹی کمپلیکس میں ہونے والی کسی طرح کی دیش مخالف سرگرمیوں پر قابو کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ عدالت نے کہا کہ جے این یو کے استاذہ کو راستے سے بھٹکے طلبا کو صحیح راستے پر لانا چاہئے۔ عدالت نے کہا کہ وہ اس معاملے میں فیصلہ دیتے ہوئے خود کو چوراہے پر کھڑی پاتی ہے۔ عرضی گزار ایک دانشور طبقے سے ہے اور پی ایچ دی کررہا ہے۔ جے این یو دانشوروں کے مرکز کی شکل میں جانا جاتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ کسی بھی شخص کا سیاسی نظریہ یا آئیڈیالوجی ہوسکتی ہے اسے آگے بڑھانے کے لئے ہر کسی کے پاس اختیار ہے، لیکن یہ محض آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ہونا چاہئے۔ کنہیا کمار کو ضمانت دینے کے فیصلے کی ابتدا جج موصوفہ نے اداکار منوج کمار کی دیش بھکتی پر مبنی فلم ’اپکار‘ کے گانے سے کی تھی۔ ’میرے دیش کی دھرتی سونا اگلے اگلے ہیرے موتی ‘ کا ذکر کرتے ہوئے جج صاحبہ پرتیبھا رانی کی بنچ نے کہا کہ نغمہ نگار ’اندور ‘ کا یہ دیش بھکتی گیت مادر وطن کے لئے الگ الگ رنگ اور پیار کی نمائندگی کر خوبیوں کی علامت ہے۔ یہ وقت ہے کہ جب اس بسنت کے موسم میں قدرت کے سبھی رنگ کے پھول کھلتے ہیں اس بسنت میں نامور جے این یو جو دہلی کے دل میں قائم ہے، وہاں کیوں امن کے رنگ میں بھنگ مل گیا ہے۔طلبا اور ادارے کے ممبروں اور اس قومی یونیورسٹی کے انتظامیہ کو اس کا جواب دینے کی ضرورت ہے۔
(انل نریندر)

5 سال بعد شام میں جنگ بندی

تقریباً 5 سال کی خونی لڑائی کے بعد آخر کار شام میں سنیچر کے روز سے جنگی بندی ہوگئی ہے۔ امریکہ اور روس نے اعلان کیا ہے کہ شام میں سنیچر سے تاریخی جنگ بندی لاگو ہوگئی ہے لیکن اس جنگ بندی میں اہم جہادی خطرناک تنظیم اسلامک اسٹیٹ اور النصرہ فرنٹ شامل نہیں ہے۔ پانچ برس سے جاری اس لڑائی کے اہم اپوزیشن گروپ نے اس اعلان کو مشروط منظوری دے دی ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت کیا گیا ہے جب ایک دن پہلے دمشق کے قریب ہوئے سلسلہ وار دھماکوں میں 134 لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔ متوفین میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔واشنگٹن اور ماسکو نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ دمشق کے وقت کے مطابق وسطی شینا سے جزوی جنگ بندی شروع ہوگی اس سے اس لڑائی پر روک لگ جائے گی جس میں 260000 سے زائد لوگ مارے گئے ہیں۔ آدھی سے زیادہ آبادی بے گھر ہوگئی ہے۔ امریکہ اور روس کی پہل سے کئے گئے اس عارضی جنگ بندی کو مختلف فریقین کے بیچ خونی لڑائی کے خاتمے کی سمت میں ایک اہم قدم مانا جائے گا۔ اس خانہ جنگی میں 2 لاکھ60 ہزار سے زیادہ لوگوں کی جانیں جا چکی ہیں۔ شام میں علاقائی کنٹرول کی پیچیدہ گڑ بڑی نے سمجھوتے کو نافذ کرنے کی کوشش کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔شام میں2011 سے ہی بربریت آمیز خانہ جنگی چھڑی ہوئی تھی۔ شامی’’ آبزویٹنری فار ہیومن رائٹس‘‘ کے مطابق شام یا روس کے سمجھے جارہے جنگی جہازوں نے نارتھ صوبہ الگپا اور وسطی صوبہ ہاما میں 7دیہات پر ایتوار کو بمباری کی ۔ فی الحال یہ صاف نہیں ہے کہ جن علاقوں میں حملے کئے گئے وہ جنگ بندی کے دائرے میں آتے بھی ہیں یا نہیں۔ اسلامک اسٹیٹ جہادی گروپ اور القاعدہ سے وابستہ النصرہ مورچے کے قبضے والے علاقے کو جنگ بندی کے دائرے سے الگ رکھا گیا ہے۔ جنگ بندی ایک عزم عہد کی شرط ہے۔ ان شرائط میں گھیرا بندی ہٹانا، قیدیوں کو چھوڑنا، شہریوں پر بمباری روکنا، فلاحی مدد شامل ہے۔ ادھر برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور روس کے ذریعے اعلان کردہ شام جنگ بندی تبھی کام کرے گی جب تک شامی حکومت اور روس کی طرف سے برتاؤ میں بڑی تبدیلی لائی جائے گی۔ ادھر شام کے صدر بشر الاسد نے روس اور امریکہ کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کئے جانے کے کچھ دیر بعد کہا کہ 13 اپریل کو پارلیمانی چناؤ کرائے جائیں گے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی صنع نے یہ جانکاری دی ہے کہ بشرالاسد نے ایک فرمان جاری کیا جس میں انہوں نے شام میں ہر صوبے کے لئے سیٹوں کے بٹوارے کا ذکر کیا ہے۔ شام میں آخری بار مئی 2012ء میں پارلیمانی چناؤ ہوئے تھے اور یہ آئینی زون میں امن پیدا کرنے کے لئے اچھا قدم ہے۔
(انل نریندر)

03 مارچ 2016

عشرت جہاں کیس میں حلف نامہ بدلنے میں چدمبرم کے رول کی جانچ ہو

منموہن سنگھ سرکار کے دوران ایک کے بعد ایک گھوٹالے تو کانگریس کی دردشا کیلئے ذمہ دار رہے ہی ہیں لیکن کانگریس کس حد تک گر سکتی ہے اس کے وزیر کیسے قومی سلامتی کو درکنار کرسکتے ہیں، اس کا پتہ چلتا ہے عشرت جہاں معاملے میں تازہ انکشافات سے۔ صرف ووٹ بینک کی خاطریہ سرکاری دستاویزوں سے چھیڑچھاڑ بھی کرسکتے ہیں اور ایک دہشت گرد کو بے قصور فرضی مڈ بھیڑ کا شکار بھی بتا سکتے ہیں۔ میں بات کررہا ہوں لشکر طیبہ کی فدائی حملہ آور عشرت جہاں کی۔عشرت جہاں مڈ بھیڑ معاملے میں سابق مرکزی داخلہ سکریٹری جی کے پلے کے تازہ انکشافات سے سابق مرکزی وزیرداخلہ پی چدمبرم کی اوچھی حرکتوں کا پتہ چلتا ہے۔ پلے کا دعوی ہے کہ چدمبرم نے وزیر داخلہ رہتے ہوئے اس حلف نامے کو بدلوایا تھا جس میں عشرت کے لشکر طیبہ سے جڑے ہونے کی بات کہی گئی تھی۔نئے حلف نامے میں عشرت کے دہشت گرد تنظیم سے وابستہ ہونے کی بات ہٹا لی گئی تھی۔ پلے نے ایک انگریزی اخبار کو دئے گئے انٹرویو میں بتایا کہ وزارت داخلہ نے اگست2009 ء میں سپریم کورٹ میں اوریجنل ایفی ڈیوڈ داخل کیا تھا۔ اس میں انٹیلی جنس بیورو کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ عشرت اور اس کے تین ساتھیوں جاوید شیخ عرف پرنیش پلے، ذیشان جوہر اور احمد علی رانا لشکر کے سلیپرسیل کا حصہ تھے۔یہ حلف نامہ دائر کرنے کے ایک مہینے بعد اس وقت کے وزیر داخلہ نے جوائنٹ سکریٹری سے کیس کی فائل اپنے پاس منگا لی تھی۔ پلے کے مطابق چدمبرم نے کہا تھا کہ حلف نامے میں کچھ تبدیلی کی ضرورت ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم کی ہدایت کے مطابق یہ تبدیلی ہونے کے بعد ہی فائل پلے کے پاس پہنچی۔ ستمبر2009ء میں عدالت میں جو دوسرا حلف نامہ داخل کیا گیا اس میں وزارت نے کہا تھا کہ آئی بی کی رپورٹ انکاؤنٹر میں مارے گئے لوگوں کو آتنکی دہشت گردتنظیم سے جوڑنے کیلئے فیصلہ کن ثبوت نہیں تھے۔ پلے کے مطابق عشرت اور جاوید دونوں اترپردیش اور احمد آباد کے کچھ ہوٹلوں میں میاں بیوی کی طرح رکے تھے۔ عشرت جاوید سازش کے دوسرے لوگوں کیلئے کوچ کی طرح تھے۔پلے نے صاف کہا کہ عشرت جہاں انکاؤنٹر کیس میں حلف نامے کو سیاسی وجوہات سے بدلا گیاتھا۔ کانگریس کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ۔ نریندر مودی کی گجرات سرکار نے سیاسی اسباب کے چلتے بے گناہ عشرت جہاں کو فرضی انکاؤنٹر کرکے ایک بے قصور کو مار ڈالا۔ اس درمیان پلے کے بعد داخلہ سکریٹری بنے آر کے سنگھ نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی کہ عشرت جہاں انکاؤنٹر کیس میں حلف نامہ بدلا گیا تھا۔ اس میں پہلے درج تھا کہ انکاؤنٹر میں ماری گئی عشرت اور اس کے ساتھی لشکر طیبہ سے وابستہ دہشت گرد تھے بعد میں یہ پراسرار طریقے سے غائب ہوگیا۔ اس بحث کو اور آگے بڑھایا ہے وزارت داخلہ میں اوور سکریٹری رہے آر وی ایس مینی نے ایک انٹرویومیں الزام لگایا ہے کہ انہیں معاملے میں سینئر افسران کو پھنسانے کے لئے پریشان کیا گیا تھا تاکہ یہ پیش کیا جاسکے کہ عشرت جہاں اور دیگر تین لشکر کے دہشت گردوں کے ساتھ 2004ء میں احمد آباد میں ہوئی مڈ بھیڑ فرضی تھی۔ منی کا کہنا تھا کہ دوسرا حلف نامہ داخل کرنے کے پیچھے پی چدمبرم کا ہاتھ تھا۔ حال ہی میں شکاگو میں بند دہشت گرد ڈیوڈ ہیڈلی کی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اس نے عشرت جہاں کو لشکر طیبہ کی خاتون ونگ کی ممبر بتایا تھا۔ جو لوگ سابق مرکزی داخلہ سکریٹری جی کے پلئی اور ہیڈلی کے بیانوں پر سوال کھڑا کرتے ہیں وہ اس بات کو نظر انداز کررہے ہیں کہ کانگریس نے ووٹ بینک کی سیاست کے چلتے مسلم ووٹ حاصل کرنے کیلئے اور گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو پھنسانے کے لئے سازش رچی۔ان سازشوں کے کرتا دھرتا پی چدمبرم رہے جو کچھ سامنے آیا ہے وہ کانگریس پارٹی کی صحیح منشا اور ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے جو ووٹ بینک کی خاطر دیش کی سلامتی سے کھلواڑ کرنے سے بھی پرہیز نہیں کرتی۔
(انل نریندر)

آخر کون کون ہیں 4 لاکھ قرض کے ڈیفالٹر

سرکاری بینکوں میں ڈوبے ہوئے قرض یا عدم ادائیگیوں کی وجہ سے 4 لاکھ کروڑ کا بٹہ لگنا دیش کی معیشت کے لئے خطرے کی گھنٹی تو ہے ہی ساتھ ساتھ اس میں مقروضین اور بینکوں کی ملی بھگت کی بھی بو آتی ہے۔ حال ہی میں اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے عزت مآب سپریم کورٹ نے بھارتیہ ریزرو بینک کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ بینکوں سے 500 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ کا قرض لیکر ڈیفالٹر کرنے والوں کی لسٹ دستیاب کرائے۔عدالت نے ریزرو بینک سے6 مہینے کے اندر ان کمپنیوں کی بھی لسٹ مانگی ہے جن کی قرض اسکیموں کے تحت ڈھانچہ بندی کی گئی ہیں۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی سربراہی والی بنچ نے لون ڈیفالٹروں کی لسٹ سیل بند لفافے میں پیش کرنے کو کہا ہے۔ کورٹ جاننا چاہتی ہے پبلک سیکٹر کے بینک اور مالیاتی ادارے کس طرح بغیر موضوع گائڈ لائنس پر بڑے پیمانے پر قرض دے رہے ہیں۔ کورٹ یہ بھی جاننا چاہتی ہے کہ وصولی کے لئے مناسب انتظام کئے گئے ہیں یا نہیں؟ ایک این جی او نے2005ء میں ایک مفاد عامہ کی عرضی داخل کی تھی جس میں سرکاری کمپنی ہڈکو کی طرف سے کچھ کمپنیوں کو دئے گئے قرض کا اشو اٹھایا گیا تھا۔ وکیل پرشانت بھوشن نے این جی او کی طرف سے پیش ہوکر کہا کہ 2015ء میں 40 ہزار کروڑ روپے کا کارپوریٹ قرض معاف کردیا گیا ہے۔ سال2013 سے2015 کے درمیان 1.14 لاکھ کروڑ کا 29 سرکاری بینکوں نے قرض معاف کیا ہے۔ یہ رقم ان بینکوں کے کل بازار ویلیو سے ڈیڑھ گنا زیادہ ہے۔ اگر اس میں سرکاری بینکوں کے ایسے قرض بھی شامل کرلئے جائیں جنہیں مستقبل میں ایم پی اے اعلان کیا جاسکتا ہے تو ڈوبنے والے قرض کی یہ رقم دوگنی ہوکر 8لاکھ کروڑ کے پار چلی جائے گی۔ ایم پی اے کو بڑھنے سے روکنے کی کوششوں کا نتیجہ ’’ مرض بڑھتا گیا ، جوں جوں دوا کی‘‘ جیسا رہا۔اگر 4 لاکھ کروڑ کی ایم پی اے کھاتے کی یہ رقم بینکوں کو مل جائے تو دیش کی بدحال معیشت کیلئے ایک سنجیونی کی طرح کام کرسکتی ہے لیکن تمام بڑی کمپنیاں، صنعتکاروں اور کاروباری اداروں کے پاس اسے لوٹانے کے نام پر مندی کی مار، کاروبار میں گھاٹے سے لیکر پروجیکٹ ٹھپ ہوجانے وغیرہ جیسے بہانوں کی لمبی فہرست رہتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جن کمپنیوں نے قرض نہیں چکایا ہے وہ سرکاری بینکوں سے 2 سے لیکر 9 بار تک پھر سے قرض حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔ اپنے سیاسی فائدے کے لئے حکمراں پارٹی قرض معافی یا اسپانسر اسکیموں میں بینکوں کی اچھی خاصی رقم جھونک دیتے ہیں۔ سرکاری بینک چھوٹے چھوٹے قرض منظور کرنے اور ان کی وصولی میں تو بے رحم خونخوار بن جاتے ہیں لیکن کارپوریٹ گھرانے اور بڑی کمپنیوں کو سینکڑوں کروڑ روپے کا قرض خیرات کی مانند بانٹ کر اس کی وصولی سے آنکھیں پھیرتے رہتے ہیں۔ قرض وصولی کیلئے سرکار کے پاس گرفتاری سے لیکر قرقی جیسے طریقے ہیں لیکن ایسا کرنے کی قوت ارادے میں کمی ہے۔ اس سب کے چلتے ایم پی اے سے نجات ملنے کی امید کیسے کی جاسکتی ہے؟
(انل نریندر)

01 مارچ 2016

بہت خوفناک تھی مرتھل کی وہ رات

ہریانہ کے جاٹوں کو ریزرویشن ملے یا نہ ملے لیکن اس کی آڑ میں جو کچھ 22-23 فروری کو این ایچ۔1 پر مرتھل کے پاس ہوا ، اس سے غیر جاٹ فرقے کی عزت کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ دنیا کی نظروں میں جاٹ فرقے کی ساکھ اور عزت دونوں کو بھاری دھکا لگا ہے جس کی تکمیل شاید کبھی نہ ہوسکے۔ ایک ایسا کالا دھبہ لگا ہے جو دھل نہیں سکتا۔ہریانہ میں جاٹ تحریک کے تشدد کی لپٹوں نے سماجی تانے بانے کو کس قدر جھلسادیا ہے اس کے ڈراؤنے عکس اب سامنے آنے لگے ہیں۔ زخمیوں کے دم توڑ جانے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ صنعتی انجمنوں کے تجزیئے کے مطابق قریب ایک ہزار کروڑ کی املاک خاک ہوگئی ہے۔سب سے گھناؤنی اور دردناک تصویر تو اجتماعی آبروریزی کے مبینہ وارادات سے ابھرتی ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ مبینہ طور پر دہلی سے لگے مرتھل کا سامنے آیا ہے۔ گزشتہ22-23 فروری کو دہلی ۔چنڈی گڑھ ہائی وے پر راجدھانی سے محض48 کلو میٹر دور مرتھل جو ڈھابوں کے لئے مشہور ہے، یہاں عورتوں کے ساتھ زیادتی ہوئی یا نہیں یہ تو ریاستی سرکار و پولیس انتظامیہ کی جانچ کے بعد ہی پتہ چلے گا، لیکن ہائی کورٹ کی پھٹکار کے بعد سرکار وپولیس بیحد سنجیدہ دکھائی دے رہی ہے۔ کچھ تو ہوا تھا صبح3 بجے کے قریب خبر ایسے تو نہیں پھیلتی لیکن اس خبر میں واقعہ کا تذکرہ تھا کہ سکھدیو ڈھابے کے پاس بنے ایک نامی ہوٹل کے ملازم نے دعوی کیا کہ آبروریزی کی واردات ہوئی تھی۔ صاحب کچھ تو ہوا ہے، شرپسندوں نے پہلے کاروں کو آگ لگائی اس کے بعد عورتوں کو نشانہ بنایا۔ جہاں اس واردات کو انجام دیاگیا وہاں جمعہ کو اندھیرے تک عورتوں کے اندرونی کپڑے اور لینگنگ اور دیگر کپڑے ملے ہیں۔ انہیں دوپہر بعد جگہ سے ہٹا دیاگیاتھا۔ دوسری طرف ڈی ایس پی ستیش کمار نے اس واردات کو افواہ بنا کر آبروریزی کے واقعہ سے صاف طور پر انکار کیا ہے۔ موقعہ واردات سے50 میٹر دوری پر واقع مشہور سکھدیو ڈھابہ ہے۔ یہاں کی پارکنگ میں 20 سے زیادہ سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر گینگ ریپ کے بعد عورتیں مدد کیلئے بھاگیں توان کی تصویر سی سی ٹی وی فٹیج میں ضرور قید ہوئی ہوں گی۔ فٹیج سے واردات کی سچائی جاننے میں مدد مل سکتی ہے۔ حسن پور کے سرپنج جے نارائن نے اس واردات سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے گاؤں میں اگر کچھ ایسا ہوتا تو انہیں پتہ چل جاتا۔ یہ گاؤں کو بدنام کرنے کے لئے کیا جارہا ہے۔ تحریک کے دوران 10 عورتوں سے آبروریزی کے واقعہ کے بعد جب حکومت کے اعلی افسران نے سونی پت کا دورہ کیا تو ایک متاثرہ خاندان نے ان کے ساتھ مار پیٹ کی بات تو قبول لیکن چھیڑ خانی یا لوٹ مار سے انکار کیا ہے۔گننور کے ڈی ایس پی ستیش کمار نے بتایا کہ مبینہ طور پر گینگ ریپ معاملے کی گہرائی سے چھان بین کی جارہی ہے۔ فورنسک ٹیم کھیتوں سے برآمد کپڑوں کو جانچ کیلئے لے گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ پرانے کپڑے ہیں جنہیں پھینکا گیا ہے۔ بہرحال پولیس نے ایک کنٹرول روم بھی بنایا ہے جہاں متاثرہ فریق پولیس یا کورٹ میں شکایت کرسکتے ہیں۔بدامنی تحریک کے دوران بھڑکے تشدد سے پریشان ہریانہ کے وزیر اعلی منوہر لال کھٹر ایک بار تو استعفیٰ دینے کوتیار ہوگئے تھے انہوں نے یہ فیصلہ جاٹ وزرا کی طرف سے صحیح جانکاری نہ دینے کی وجہ سے لیا تھا۔ ریواڑی سے بھاجپا ممبر اسمبلی رندھیر سنگھ نے دعوی کیا کہ جاٹ وزرا کے رول سے دکھی کھٹر وزیر اعلی کا عہدہ چھوڑنا چاہتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ جاٹ وزرا نے وزیر اعلی کو تشدد کی صحیح رپورٹ نہیں دی تھی۔ وہ مسلسل جاٹ سماج کو منا لینے کی بات کہتے رہے جبکہ تشدد بڑھتا چلا گیا اور تشدد برپا کرنے والوں کی بربریت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے اور انہیں تلاش کر سخت سے سخت سزا دی جانی چاہئے۔ پولیس انتظامیہ کی ذمہ داری طے ہونی چاہئے۔ جاٹ تحریک کے لیڈروں کو بھی ایسے واقعات کے لئے کم سے کم پبلک طور سے معافی مانگی چاہئے اور ان جرائم پیشہ کو تلاش کر عدالت کے سامنے لانا چاہئے۔ آندولن کرنے کا حق سب کو ہے مگر جس آندولن سے ایسی بربریت پھیلنے لگے اس کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
(انل نریندر)

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...