Translater

01 جون 2013

نکسلی حملے کا رمن سنگھ کے مستقبل پر کیا اثرپڑ سکتا ہے؟

چھتیس گڑھ میں سکما ضلع میں کانگریس لیڈروں پر ہوئے بربریت آمیز نکسلی حملے کو لیکر سیاست شروعہوگئی ہے۔ کانگریس اور بھاجپا نیتا اب کھل کر ایک دوسرے پر الزام تراشیوں میں لگے ہیں۔ ویسے چھتیس گڑھ حکومت نے کانگریس کی پریورتن ریلی میں سکیورٹی کی خامی کی اپنی غلطی مان لی ہے۔ حالات کا جائزہ لینے رائے پور پہنچے مرکز کے اعلی افسروں کے سامنے ریاست کے حکام نے مانا کہ کانگریس کی پریورتن ریلی کے دوران خطرناک علاقے میں سکیورٹی کے لئے پلان کئے جانے والے انتہائی اہم قواعد ایس او پی پر عمل نہیں کیا گیا۔ ریاستی حکومت نے یہ بھی مانا کے خفیہ اطلاع نہ ہونے کے باوجود سکیورٹی سسٹم میں کئی کمیاں تھیں۔ چھتیس گڑھ سے لوٹے وزارت داخلہ کے افسروں نے بتایا ریاستی حکومت نے اپنی غلطی مان کر دو بڑے پولیس افسروں کا تبادلہ اور ایک ایس پی کو معطل کردیا ہے۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ نکسلی حملے میں مارے گئے کانگریس کے سینئر لیڈر مہندر کرما کو 16 ہتھیار بند گارڈوں کی زیڈ پلس سکیورٹی ملی ہوئی تھی لیکن جب نکسلی حملہ ہوا تب ان کے ساتھ محض کچھ ہی سکیورٹی جوان چل رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق کرما کے علاوہ نند کمار پٹیل کے پاس بھی درکار سکیورٹی نہیں تھی۔ ابتدائی جانچ میں سامنے آرہا ہے کہ کانگریس کی ریلی کے لئے سکما میں تو کافی سکیورٹی کے انتظامات تھے لیکن جب ریلی جگدلپور ضلع میں پہنچی تو سکیورٹی پرکوئی غور نہیں کیا گیا۔ بستر کے ایس پی مینک شریواستو نے کانگریس یاترا کو سکیورٹی مہیا کرانے کی کوئی ہدایت نہیں دی تھی۔ ایسا بتایا جارہا ہے کہ سکیورٹی کی اس بھاری غلطی کے چلتے نکسلی دربھ وادی میں حملے کو انجام دینے میں کامیاب رہے۔ لاپرواہی کے لئے مینک شریواستو کو معطل کردیا گیا ہے۔ کانگریس قیادت سے ملے صاف اشاروں سے پتہ چلتا ہے کہ نیتاؤں نے جارحانہ تیور اپنا لئے ہیں۔ کانگریس نے کہا کہ بھاجپا اور ماؤوادیوں کے درمیان سانٹھ گانٹھ ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جناردن دویدی نے کہا کہ رمن سرکار کو ایک پل اقتدار میں رہنے کا حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا یاترا کے روٹ کی جانچ پڑتال نہیں کی گئی اور واقعہ سے لگتا ہے کہ کہیں نیت میں کھوٹ ہے اس لئے ضروری ہے کہ سارے معمے کو سامنے لایا جانا چاہئے۔ پارٹی ترجمان بھکت چرن داس نے کہا کہ نام نہاد ماؤوادی اور بھاجپا ایک دوسرے سے مل کر کام کررہے ہیں۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے نیتاؤں پر حملے کے بعد خوف پھیلا کر سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کے اس واقعے سے فائدہ کس کو ملنا تھا؟ تقریباً اسی لائن پر کانگریس جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ نے کہا کہ یہ حملہ گہری سیاسی سازش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ انہوں نے اپنے بلاگ میں شہید کانگریس لیڈروں کو شردھانجلی دیتے ہوئے کئی سوال اٹھائے ہیں۔ 
انہوں نے پوچھا کہ یہ نکسلی حملہ نظریاتی لڑائی کا حصہ تھا یا پھر کانگریس کی سینئر لیڈر شپ کی منصوبہ بند قتل ؟ انہوں نے پٹیل کے قتل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں پولیس کارروائی میں8 بے قصور آدی واسیوں کے قتل کو ریاستی سرکار کے خلاف بڑا اشو بنایا گیا تھا۔ وہ کبھی بھی مہندر کرما کی طرح نکسلیوں کے نشانے پر نہیں تھے۔ پٹیل کے ذریعے شروع کردہ پریورتن یاترا کو وسیع حمایت مل رہی تھی۔ ان کا جنوبی بستر کے نکسل متاثرہ علاقے کا دورہ طے کیا گیا۔ اس سلسلے میں سکما میں کامیاب ریلی کے بعد جب نیتاؤں کا قافلہ آگے بڑھا تو دربھ میں نکسلی حملہ ہوگیا۔ 
موقعہ واردات سے پولیس تھانے کی دوری محض پانچ کلو میٹر تھی۔ جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے مدھیہ پردیش صدر نریندر سنگھ تومر نے گلیر میں منعقدہ ریاستی ایگزیکٹو کے افتتاحی سیشن میں الزام لگایا ہے کہ اس حملے کے پیچھے سابق وزیر اعلی اجیت جوگی کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کا جس طرح جوگی اس حملے کو لیکر آنسو بہا رہے تھے اس سے اس کانڈ میں جوگی کی سازش نظر آرہی ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ اس حملے کا آنے وال اسمبلی چناؤ پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں؟ بھاجپا کے اعلی نیتا دبی زبان میں قبول کررہے ہیں کہ اسمبلی چناؤ کے ٹھیک پہلے ہوئی اس واردات سے کانگریس کے تئیں پیدا ہمدردی نے صرف چھتیس گڑھ بلکہ پڑوسی ریاست مدھیہ پردیش کے بھی چناؤ نتائج متاثر کرسکتی ہے۔ پارٹی کو نکسلی حملے میں قبائلی لیڈر مہندرکرما کا بے رحمی سے قتل کا اثر چھتیس گڑھ سرحد سے لگے مدھیہ پردیش کے آدی واسی قبائلی علاقوں میں پڑنے کا اندیشہ ہے۔
پارٹی مان رہی ہے ایک واردات جس کو 9 سال گذر گئے ہیں اس میں بے داغ ساکھ رکھنے والے وزیر اعلی رمن سنگھ کی ساکھ کو داغدار بنا دیا ہے۔ ادھر کانگریس کے لوگوں نے ہمدردی لہر چناؤ تک برقرار رکھنے کے لئے فول پروف حکمت عملی تیار کرنے کی کوشش شروع کردی ہے۔ بھاجپا کو پلان پراس بار بھی ریاست میں عوامی تقسیم نظام کے ذریعے سستا چاول دستیاب کراکر رمن کی ساکھ کو بھنانے میں کوشش کی تھی۔
10 سال کے عہد میں وزیر اعلی کے خلاف کوئی بڑا اشو نہ ملنے کے سبب جہاں اپوزیشن پریشان تھی وہیں بھاجپا ریاست میں ہیٹ ٹرک لگانے کے تئیں مطمئن تھی مگر اس حملے نے پارٹی کے تجزیئے بگاڑ دئے ہیں۔ اب پارٹی دفاعی انداز میں کھڑی ہوگئی ہے۔ رمن سنگھ کو اب دن رات ایک کرکے یہ فیصلہ کن طور سے ثابت کرنا چاہئے کہ حملے کے پیچھے کون تھا اور اس کا کیا مقصد تھا؟ سکیورٹی انتظامات میں کمی تو خود انہوں نے مان لی ہے اب تو بس یہ ہی راستہ بچا ہے کہ وہ پوری سازش کا پردہ فاش کریں۔
(انل نریندر)

31 مئی 2013

منموہن سنگھ کے جاپان دورہ سے بوکھلایا چین

وزیراعظم منموہن سنگھ ایک نازک اور اہم موقعہ پر جاپان گئے ہیں۔ ان کا دورہ بھارت کے لئے کئی معنوں میں اہمیت کا حامل ہے۔ بھارت جاپان اشتراک کے کئی اہم پروجیکٹ بھارت میں دونوں دیشوں کے بڑھتے تعاون کا ثبوت ہیں چاہے ہم بات کریں دہلی کی میٹرو ریل سروس کی چاہے بات کرتیں سڑکوں پر گھوم رہی ماروتی گاڑیوں کی اور دیش کی ڈھانچہ بند ضرورتوں کی، ہر سیکٹر میں جاپان نے ہمیشہ بھارت کے ساتھ اشتراک کیا ہے۔ دورہ کے 20 دن پہلے اتنا تو لگنے لگا تھا کہ یہ کوئی عام دورہ نہیں ہونے جارہا ہے۔ لداخ میں بھارت۔ چین کشیدگی کے دوران چینی وزیر اعظم لی کیانگ کے دورۂ ہند کے درمیان منموہن سنگھ نے اپنے جاپان دورہ کی میعاد ایک دن سے بڑھا کر دو دن کرنے کی بات کہی تھی اس وقت سیاسی خیرسگالی اور بھارت نے امریکہ جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ ممکنہ چوطرفہ بحری جنگی مشقوں سے خود کو باہر رکھنے کا اعلان ضرور کیا تھا لیکن ابھی سمندری اور زمینی دونوں جگہوں سے اڑان بھرنے والا ایوین ایئر کرافٹ خریدنے کا سمجھوتہ جاپان سے کرکے پہلی بار دونوں ملکوں میں فوجی رشتوں کی گنجائش بھی نکال لی ہے۔ پچھلے 15 برسوں سے یعنی پوکھرن۔2 کے بعد نیوکلیائی عدم پھیلاؤ کے اشو کو لیکر جاپان کے ساتھ رشتوں میں گرمجوشی میں تھوڑی کمی ضرور آئی تھی لیکن نئے جاپانی وزیر اعظم شنجو ایبے اپنے دیش کی قائم روایت کے برعکس جاتے ہوئے بھارت کو نیوکلیائی ایندھن سپلائی کرنے تک کا من بنا رہے ہیں۔ ایٹمی بجلی سیکٹر میں جاپان دنیا کا جانا مانا کھلاڑی ہے۔ منموہن سنگھ کے دورہ کے ایک ہفتے پہلے جاپان نے ایسی زمین تیارکرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ بھارت کے ساتھ ایٹمی تعاون کو آگے بڑھانے کے لئے پراعظم ہے۔ حالانکہ وہ یہ کہنے سے بھی نہیں چوکا کہ فوکوشیما نیوکلیائی پلانٹ میں حادثے کے باوجود بھارت کا اس کی نیوکلیائی تکنیک پر بھروسہ ہے۔ دونوں ملکوں کے تعاون کو اور بلند ملنے والی ہے۔ جاپان کے ساتھ موجودہ رشتے زیادہ پائیدار بنانے میں چین کی ناراضگی سامنے آنے لگی ہے۔ چین جس طرح ہمارے علاقوں پر اپنا دعوی ٹھونک رہا ہے۔ رشتوں میں اور زیادہ تلخی بڑھانے میں مصروف ہے۔ کم و بیش وہی حالات اس نے جاپان کے ساتھ بھی بنائے ہوئے ہیں۔ مشرقی چین ساگر میں جاپان کے اہم جزیروں پر چین کا قبضہ دونوں ملکوں کے درمیان خطرناک ڈھنگ سے کشیدگی بڑھا رہا ہے۔ دونوں کے رشتے کتنے بگڑ چکے ہیں اس کا اندازہ جاپان کے نائب وزیر اعظم تاشوایشو کے اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے جو حال ہی میں انہوں نے بھارت کے دورہ کے دوران دیا تھا اور چین پر کھلا حملہ بولتے ہوئے ایشو نے کہا تھا کہ ڈیڑھ ہزار برسوں کی تاریخ میں جاپان اور بھارت کے ساتھ چین کا رویہ کبھی دوستانہ نہیں رہا۔ بھارت اور جاپان کے درمیان بڑھتی قربت سے بوکھلاہٹ چین کے ایک سرکاری اخبار نے کہا کہ نئی دہلی کی عقل مندی بیجنگ کے ساتھ اپنے تنازعوں کو گھریلو اور بین الاقوامی اکساوے سے متاثر ہوئے بنا پرامن طریقے سے نپٹانے میں ہے۔ اخبار نے کہا کہ چین بھارت رشتوں میں کئی اختلاف اور تضاد ہیں۔ کچھ دیش ان اختلافات کو بڑھانے کے موقعہ فراہم کرسکتے ہیں۔اخبار نے جاپانی وزیر اعظم شیجو ایبے کی اس اپیل کا بھی ذکر کیا جس میں انہوں نے جاپان، بھارت، آسٹریلیا اور امریکہ کا جوائنٹ مورچہ بنائے جانے پر زور دیا ہے۔ کل ملا کر وزیر اعظم منموہن سنگھ کا دورۂ جاپان دونوں ملکوں کو قریب لانے میں کامیاب رہا۔ دورہ سے آپسی اشتراک کے نئے راستے کھلیں گے۔
(انل نریندر)

اغوا اور دھوکہ دھڑی معاملے میں پھنسی دو اداکارائیں

پچھلے کچھ دنوں سے فلمیں اداکارائیں اپنے اپنے اسباب سے سرخیوں میں چھائی ہوئی ہیں۔ ثنا خان اغوا کیس میں تو لینا ٹھگی کیس میں پھنسی ہوئی ہیں۔ پہلے بات کرتے ہیں ثنا خاں کی ۔ بگ بس ریئلٹی شو سے مشہور ہوئیں ثنا خان سلمان خان کی فلم ’مینٹل‘ کی ہیروئن بھی ہیں۔ ثنا پر اپنے چچیرے بھائی نوید کے لئے ایک نابالغ لڑکی کا اغوا کرنے اور اسے دھمکانے کا الزام پولیس نے لگایا ہے۔ وہ حال ہی میں دوبئی سے فلم ’مینٹل‘ کا پہلا شیڈول پورا کرکے لوٹی تھی۔ کیس درج ہونے کے بعد سے وہ فرار ہے۔ پولیس تھانے میں درج رپورٹ کے مطابق 15 سالہ لڑکی سے اس کا چچیرے بھائی نوید محبت کرتا تھا۔ ثنا کو گرفتاری کا ڈر ستا رہا ہے۔ خبر ہے کہ اس نے پیشگی ضمانت کے لئے عرضی دی ہے۔آنے والے دنوں میں کیس کی باریکیوں کا پتہ چلے گا۔ دوسرا کیس اداکارہ لینا میری پال کا ہے۔ ہندی اور تمل فلموں کی اداکارہ لینا میری پال کو کروڑوں روپے کی ٹھگی کے معاملے میں دہلی کے وسنت کنج کے ایک مال سے گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ چار باؤنسر بھی دبوچے گئے ہیں۔ اداکارہ پر اسکے دوست بالا جی عرف شیکھر ریڈی کے ساتھ چنئی میں ٹھگی کو انجام دینے کا الزام ہے۔ وہ ساؤتھ دہلی کے ایک فارم ہاؤس میں ملزم دوست کے ساتھ لو ان ریلیشن میں چھپ کر رہ رہی تھی۔ حالانکہ بالاجی فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا لیکن لینا کے باؤنسروں کے پاس سے چار ہتھیار ،9 لگژری کاریں،81 مہنگی گھڑیاں برآمدہوئی ہیں۔ بالاجی پر سرمائے کے نام پر کینرا بینک کے ساتھ19 کروڑ اور لینا پر 76 لاکھ روپے کی ٹھگی کا کیس درج ہے۔ ڈی سی پی جیسوال نے بتایاکہ25 مئی کو چنئی پولیس نے دہلی پولیس سے رابطہ قائم کراداکارہ اور اس کے سبھی ساتھیوں کو جنوبی دہلی کے فارم ہاؤس میں چھپے ہونے کی اطلاع دی تھی۔دونوں نے لبھاونی اسکیموں کی آڑ میں بھولے بھالے لوگوں سے ٹھگی کی تھی۔ پولیس نے چنئی پولیس کے ذریعے بتائی گاڑیوں کے نمبر کی بنیادپر ان کی گاڑیوں کا پیچھا کیا۔ پیر کو وسنت کنج کے ابینس مال میں اداکارہ اور اس کے چار باؤنسروں کا پتہ لگا لیا۔ پولیس کی موجودگی کی بھنک بالاجی کو لگ گئی اور وہ اپنی لگژری کا ر سے فرار ہوگیا۔ پولیس پوچھ تاچھ میں لینا میری پال نے بتایا کہ انہوں نے جسولہ کے باشندے مہندر سنگھ سے 4 لاکھ روپے ماہانہ کرائے پر فارم ہاؤس پچھلے ماہ ہی لیا تھا۔ انہوں نے اپنا پولیس ویری فکیشن بھی کرایاتھا لیکن تب پولیس کو ان کی ٹھگی کے معاملے میں فرار ہونے کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔ لینا نے پولیس کو بتایا کہ وہ بی ڈی ایس گریجویٹ ہے اسکولی تعلیم دوبئی میں ہوئی۔ لینا کے والدین دوبئی میں رہتے ہیں۔ قریب دو سال پہلے وہ ماڈلنگ سے فلم انڈسٹری میں آئی تھی۔ لینا مدراس اور ریڈ چلی جیسی فلموں میں کام کرچکی ہے۔ فارم ہاؤس سے جو گاڑیاں برآمد کی ہیں ان میں لینڈ کروزر،لینڈ روور، بی ایم ڈبلیو اور وینٹلے چامل ہیں۔ لینا کے باؤنسروں جن کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں تین فوج کے جوان رہے ہیں۔
(انل نریندر)

30 مئی 2013

تنازعات کے باوجود آئی پی ایل 6- کامیاب و مقبول ٹورنامنٹ رہا

اپنی اپنی رائے ہوسکتی ہے آئی پی ایل ختم ہوگیا ہے اور ممبئی انڈینس آئی پی ایل۔6 کے ونر رہے ہیں۔ دلچسپ فائنل مقابلے میں سچن کے جانبازوں نے دھونی کے دھورندروں کو دھول چٹا دی ہے۔ بیشک اس بار آئی پی ایل تنازعوں کے ساتھ ختم ہوا لیکن یقینی طور سے اس بار شاندار کرکٹ دیکھنے کو ملی۔ کچھ نئے اسٹار ابھر کر سامنے آئے تو کچھ نئے پرانے سینئروں نے خود کو پھر سے ایک طرح سے مضبوط ثابت کیا۔ ایک بار پھر ثابت ہوگیا ہے کہ کرکٹ میں وکٹ لیکر ہی میچ جیتے جاسکتے ہیں۔ لست ملنگا نے آئی پی ایل6- میں اپنی چھاپ چھوڑنے کے لئے ایک دم صحیح اسٹیج چنا۔ فائنل میں کا نتیجہ تو تقریباً طے ہوگیا تھا۔ جب ملنگا نے ہنسی کو پویلین بھیج دیا تھا۔ اس کے بعد ملنگا کے پہلی گیند پر خطرناک بلے باز سریش رینا کو بھی پویلین صفر کے اسکور پر بھیج دیا اور دھونی کے دھورندوں کے حوصلے پست کردئے۔ حالانکہ یہ دھونی کا اندازہ ہی ہے کہ ان کے میدان پر رہتے ہوئے کوئی بھی ٹاس جیت کے تئیں پوری طرح مطمئن نہیں ہوسکتا۔ چنئی خیمے میں پچھلے کچھ دنوں سے جو معاملہ چلا آرہا تھا اس کا برا اثر ٹیم کی پرفارمینس پر ضرور نظر آیا اور ٹیم کے کوچ اسٹیفن فلیمنگ نے اسے تسلیم بھی کیا ہے۔ کھٹی میٹھی یادوں کے لئے آئی پی ایل6- یاد کیا جائے گا۔ اس بار گیند بازی ہو یا بلے بازی دونوں میں ہی غیرملکی کھلاڑی چھائے رہے۔ بلے بازی میں آسٹریلیا کے مائیک ہنسی نے سب سے زیادہ اسکور733 رن کے ساتھ اورینج کیپ کے حصے دار بنے تو گیندبازی میں ویسٹ انڈیز کے ڈیون براوو 32 وکٹ لیکر پرپل کیپ کے حقدار بنے۔ بلے بازی کے ٹاپ پانچ میں دو ہندوستانی کھلاڑی وراٹھ کوہلی (634) اور سریش رینا (548) تک ہی جگہ بنا سکے۔ گیند بازی میں بھی ٹاپ پانچ میں تین غیر ملکی بلے باز رہے۔براوو32 وکٹ اور مشیل جانسن24 اور جیمس پاکنر28 وکٹ لیکر پہلے تیسرے گیند باز رہے۔بھجی 24 اور وجے کمار22 وکٹ لیکر تیسرے اور پانچویں مقام پررہے۔ سچن تندولکر نے فائنل جیتنے کے بعد آئی پی ایل سے سنیاس لینے کا اعلان کیا توا ن کے پرستاروں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ وقت آگیا ہے آئی پی ایل سے بدا لینے کا۔ میں نے ورلڈ کپ کے لئے21 سال تک انتظار کیا لیکن آئی پی ایل6- سال میں مل گیا۔ ایک اور کھلاڑی راہل دراوڑ کا بھی یہ آخری سیزن رہا۔ آئی پی ایل6- مشہور اور گلیمر سے بھرے ٹورنامنٹ کی ساکھ پر گہری چھاپ چھوڑ گیا ہے۔ اگر ہرگیند شارٹ پاری اور میچ کے نتیجے کوشبہ سے دیکھا جانے لگے تو اس کی مقبولیت اور بھروسے پر مستقبل میں فطری طور پر تشویش پیدا ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں دوباتیں غور طلب ہیں پہلی یہ کہ آئی پی ایل پر تنازعوں کا سایہ شروع سے ہی چھایا رہا لیکن پھر بھی اس کی مقبولیت بڑھ رہی رہی ہے۔ دوسرے یہ کرکٹ میں کرپشن کی مثال صرف اسی ٹورنامنٹ کے ساتھ نہیں جڑی ہے بلکہ میچ یا ٹیسٹ فکسنگ کے واقعات ونڈے اور کرکٹ کے ٹیسٹوں میں بھی ہوئے ہیں۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ بھارتیہ کرکٹ کنٹرول بورڈ آئی پی ایل کے منتظمین کی تمام سرگرمیوں میں شفافیت کی کمی رہی۔ زبردستی سیاست حاوی ہے۔ اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں اپنے داماد کی گرفتاری کے بعد بی سی سی آئی کے چیئرمین نارائن سوامی عہدے سے استعفیٰ دینے کے لئے تیار نہیں ہورہے۔ اسی سے جڑا یہ سوال بھی کم اہمیت کا حامل نہیں ہے کہ کرکٹ دنیا سے سیدھے طور سے جڑے مختلف سیاستداں بھی اس اشو پر خاموش کیوں ہیں۔ یہ سیاستداں پون بنسل ،اشونی کمار کے اشو پر تو دنوں دن پارلیمنٹ ٹھپ کردیتے تھے۔ یہاں پر40 ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہے کوئی ایک لفظ نہیں بول رہا ہے۔ بھاجپا کے نریندر مودی اور ارون جیٹلی ، انوراگ ٹھاکر اپنی اپنی ریاستوں کے کنٹرول بورڈ کے صدر ہیں۔ سی پی جوشی، منتری راجیو شکلا ، فاروق عبداللہ، جوتر ادتیہ سندھیا بھی چیئرمین ہیں۔ بی سی سی آئی کے بورڈ کے کل30 ممبر ہیں اور اوپر بنائے گئے ہیں جنرل سکریٹری سبھی اسکے ممبر ہیں۔ ان میں سے ایک نے بھی سری نواسن کے خلاف استعفے کی مانگ نہیں کی۔ یہ ظاہرکرتا ہے کہ اس حمام میں شاید سبھی ننگے ہیں۔ فکسنگ کے بعد اب لیپا پوتی کی کوشش کی جارہی ہے۔ جانچ کے لئے کمیٹی قائم کرنا تو مذاق سے زیادہ کچھ نہیں ہے کیونکہ ان میں زیادہ تر ان کے قریبی ہیں۔ بورڈ کے جو ممبر اکثریت کی کمی میں سری نواسن کو بی سی سی آئی سے باہر نہیں کرپا رہے ہیں کیا وہ ان کے داماد کے بارے میں پوچھ تاچھ کرپائیں گے؟ کل ملاکر میرا تو یہ ہی خیال ہے آئی پی ایل تمام تنازعوں کا ایک انتہائی کامیاب ٹورنامنٹ رہا جس کا لطف سبھی نے اٹھایا ہے۔ تنازعات کی وجہ سے اس کی مقبولیت میں کمی آئے گی مجھے ایسا نہیں لگتا۔ ہاں اس بات کی سبھی سطحوں پر کوشش ہونی چاہئے کہ جہاں تک ممکن ہو سٹے بازی، فکسنگ سے بچنے کے لئے اقدامات پر عمل کیا جائے۔
(انل نریندر)

پورے خاندان کو مارنے والا راہل فلموں سے متاثر

فلموں اور ٹی وی سیریلوں کا بچوں ،لڑکوں پر کبھی کبھی کتنا گہرا اثر پڑتا ہے اس کی تازہ مثال غازی آباد کی نئی بستی میں قتل کانڈ کے ملزم راہل کی جانچ سے پتہ چلتاہے۔ قابل غور ہے کہ غازی آبادکی نئی بستی میں بزنس مین ستیش گوئل سمیت اس کے خاندان کے 7 لوگوں کو مار ڈالا گیا تھا۔ پولیس نے ان کے ڈرائیور راہل کو اس سلسلے میں گرفتار کیا ہے۔ راہل دیر رات بدھوار کو ریلوے روڈ سے پکڑا گیا تھا۔ اس کے قبضے سے لوٹی ہوئی نقدی، زیور سمیت خون سے سنی اس کی شرٹ اور دیگر سامان برآمد کیا ہے۔ آئی جی زون بھاویش کمار نے بتایا کہ پریوار کے ساتوں افراد کا قتل کرنے کا جرم اس نے قبول کرلیا ہے۔ سبھی کا قتل چاقو سے کیا گیا۔ ان کے ساتھ ایس ایس پی نتن تیواری بھی تھے۔ملزم ڈرائیور کو اخبار نویسوں کے سامنے بھی پیش کیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ ڈرائیور راہل 21 سال کا ہے اور کچھ دن پہلے ہی اس کو تاجرسچن گوئل نے نوکری سے نکالا تھا۔ان کے والد ستیش گوئل کا گودہ بدلا جانا تھا جس کے لئے قریب 7 لاکھ روپے رکھے تھے۔ ان میں سے راہل نے قریب چار لاکھ روپے کی چوری کرلی جس کے چلتے راہل کو نوکری سے نکال دیا گیا۔ راہل اس بات سے خفا تھا ۔ 21 تاریخ کی رات قریب8 بجے راہل چاقو لیکر گھر کے پیچھے والی گلی سے ستیش گوئل کے مکان کی بالائی منزل پر پہنچا۔ یہاں ستیش گوئل کی بہو ریکھا گوئل، پوتی میگھا کمرے میں لیٹی ہوئی تھی۔ اسی دوسران راہل نے منہ پر باندھا کپڑا ہٹا لیا یا ہٹ گیا جس سے میگھا اور ریکھا نے اس کو پہچان لیا۔ راہل نے چاقو سے تابڑ توڑ حملے کر دونوں کو مار ڈالا۔ چیخ پکار سن کر نیچے کی منزل سے سچن گوئل اوپر آنے کے لئے سیڑھی چڑھنے ہی والے تھے کہ راہل نے سچن پر چاقو سے حملہ کرکے ان کو بھی مارڈالا۔ اسکے بعد کمرے میں موجود ستیش گوئل کی بیوی کو مارڈالا۔ سچن کی بیٹی ہنی، بیٹا امن بالکنی میں بھاگے تو ان دونوں کو بھی چاقو سے مار ڈالا۔ اس قتل کانڈ کو انجام دینے کے بعد راہل نے فرج سے پانی کی بوتل نکالی اور ہاتھ دھوکر پانی پیا اور اس کے بعدسچن گوئل کے ہاتھ سے سونی کی انگوٹھی و دیگر زیورات و نقدی لیکر فرار ہوگیا۔ راہل جب چھت سے گوئل کے مکان میں کودا تھا تو اس کے پیرمیں چوٹ آئی تھی۔جس پر22 مئی کی صبح اس نے ہیرا لال ہسپتال میں پٹی بندھوائی تھی۔ راہل غازی آباد سے فرار ہونے والا تھا کہ پولیس نے اسے دبوچ لیا۔ وہ بجریا میں رہتا ہے۔ 7 قتل کرنے والا ملزم راہل کے فیس بک اکاؤنٹ سے کئی انکشاف ہوئے ہیں وہ ہالی ووڈ کی کئی خون خرابے والی فلمیں دیکھنے کا شوقین تھا اور فاسٹ رائڈر اور جیمس بانڈ 007 سیریز کی فلمیں اس کی پسندیدہ رہیں۔اس سے راہل کی ذہنیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس کے فیس بک سے یہ اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے کہ وہ فالتو بدمعاش کمپنی اور بیڈ بوائز اینڈ بیڈ گرلز کا ممبر ہے۔ اس کے دوستوں میں لڑکے کم لڑکیاں زیادہ ہیں۔ فلموں کا ہمارے نوجوانوں پر کتنا برا اثر پڑتا ہے راہل کے معاملے سے اس کا پتہ چلتا ہے۔ 

(انل نریندر)

29 مئی 2013

نکسلی تو گولی چلانے والے ہیں لیکن گولی چلوانے کے پیچھے کون و کیوں؟

چھتیس گڑھ میں ہوئے نکسلی حملے کے پیچھے گہری سازش کی بو آرہی ہے۔ ہتھیار بند گوریلوں کے ذریعے چھتیس گڑھ کانگریس صدر نند کمارپٹیل اور ان کے بیٹے دنیش کو جس طرح چن چن کر مارا گیا اس سے نکسلیوں کی سیاست کو جاننے والے بھی حیران ہیں۔ پٹیل کے ساتھ اسی گاڑی میں بیٹھے ممبر اسمبلی کواسی لکمہ کو چھوڑدئے جانے اور پٹیل و ان کے بیٹے کو400 کلو میٹر دور لے جا کرگولی مارنے پر شک ظاہر ہونا فطری ہے۔ واقف کاروں کا کہنا ہے پٹیل ماؤ وادیوں کی ہٹ لسٹ میں نہیں تھے اس کے باوجود ان کے بیٹے تک کا خاتمہ کیا جانا پہلے ہوئے ماؤوادی واقعات سے میل نہیں کھاتا۔ پٹیل کے چھوٹے بیٹے امیش نے بھی الزام لگایا کہ ان کے والد کے قتل کے پیچھے سیاسی سازش لگتی ہے۔ اس قتل عام سے فائدہ کس کس کو ہوتا ہے؟ حکمراں بھاجپا چناوی سال میں ایسے حملوں سے کیوں اپنے امکانات کو ملیا میٹ کرے گی؟ وزیراعلی رمن سنگھ نے مانا ہے کہ حملے کے لئے سکیورٹی انتظام میں کمی بھی ذمہ دار ہے مگر نیتاؤں کو مناسب سکیورٹی نہ دینے کے الزامات غلط ہیں۔ جبکہ کانگریس کے نوجوان لیڈرراہل گاندھی کے مطابق حملے کے لئے حفاظتی انتظام میں کمی ذمہ دار ہے۔ ریاستی کانگریس کے ورکروں کی حفاظت کے تئیں وہ سنجیدہ نہیں ہیں۔ وزیراعلی یہ بتائیں کے آخر یہ واقعہ کیسے ہوگیا؟ الزام در الزام کا یہ سلسلہ تیز ہوگا کیونکہ یہ چناوی برس ہے لیکن ہمیں بنیادی شک و شبہات میں نہیں پڑنا چاہئے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ 800 سے 1000 نکسلی ایک مقام پر اکٹھے کیسے ہوگئے؟ کیا اتنی تعداد میں نکسلیوں کی نقل و حرکت پر کوئی توجہ نہیں دی گئی؟ کسی بھی طرح کی نگرانی نہیں ہوئی خاص طور پر جب نکسلیوں نے ایسے حملے کی دھمکی دے رکھی تھی اور کہا تھا کہ کانگریس اپنی مجوزہ یاترا کو منسوخ کرے ۔ پھر سوال اٹھتا ہے کہ کانگریسی لیڈروں کے قافلے کا روپ عین وقت پر کیوں بدلا گیا؟ کانگریس قافلے کو پہلے دوسرے راستے سے گذرنا تھا لیکن تبدیلی روٹ پر قافلہ اسی راستے سے واپس لوٹا جس راستے سے وہ پہلے گذرا تھا۔ نکسلی حملوں کو قریب سے جاننے والے لوگوں کا کہنا ہے یاترا کے راستے میں تبدیلی کی جانکاری کسی نے تو نکسلیوں کو دی ہوگی جس سے وہ حملے کی تیاری کرسکیں۔ اتنی بڑی سطح پرحملہ بغیر کسی پلاننگ کے ممکن نہیں ہے۔ سکما سے جگدلپور روٹ بدلنے پر سوال اٹھایا جانا فطری ہے۔ کانگریس لیڈر اجیت جوگی نے تبدیل شدہ یاترا روٹ کے بدلنے پر سوال کھڑے کئے ہیں۔ واقف کار یہ بھی بتاتے ہیں نکسلی علاقے میں جو راستہ آنے کے لئے چنا جاتا ہے اس سے واپس نہیں جانا چاہئے۔ اس حملے میں کانگریس کے دو سینئر لیڈروں سمیت 27 لوگ مارے گئے۔ خبر ہے کہ آبادی پولٹ بیورو کے ممبر کٹکم سدرشن عرف آنند حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا اور این آئی اے ٹیم موقعے پر پہنچ چکی ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا پولیس کے ڈائریکٹرجنرل راجیو کمارسنگھ کی رہنمائی میں این آئی اے ٹیم سے مل کر واقعہ کی جانچ میں لگ گئے ہیں۔ اتنا صاف ہے کہ کانگریس کے سینئر لیڈر مہندر کرما نکسلیوں کے نشانوں پر کافی دنوں سے تھے۔ چھتیس گڑھ میں ان کے خلاف تحریک کا انہیں سب سے زیادہ اور سرکردہ لیڈر مانا جاتا تھا۔ اس لئے انہیں بستر کا ٹائیگر بھی کہا جاتا تھا۔ جب انہوں نے نکسلیوں کے خلاف سلواجوڈم تحریک کی شروعات کی تو مہندر کرما کو ہی اسکا روح رواں مانا گیا۔ چھتیس گڑھ اسمبلی سے2003 سے09 کے درمیان اپوزیشن کے لیڈر رہے مہندر کرما نے اپنے خاندان کے درجن بھر لوگوں کو نکسلیوں کے حملوں میں کھویا ہے۔ اس سے پہلے بھی نکسلی بار بار کرما پر جان لیوا حملہ کرچکے ہیں جن میں وہ بچ جاتے تھے۔ جان ہتھیلی پر رکھ کر سیاست کرنے والے اس بہادر لیڈر کا دلواڑے جل میں واقع آبائی گاؤں میں انتم سنسکارکردیاگیا ہے۔ بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کے ممبر کی شکل میں اپنی سیاست شروع کرنے والے مہندر کرما چار مرتبہ ممبر اسمبلی چنے گئے ۔ ایسے نڈر اور ہمت والے نیتا کے جانے سے جہاں کانگریس پارٹی کو زبردست نقصان پہنچا ہے وہیں پورا دیش آج انہیں سلام کرتا ہے۔ کاش ان کی طرح اور بھی سیاستداں نڈر ہوتے تو آج نکسلی مسئلہ اتنی سنگین شکل نہ اختیارکرتا۔ یہ تشفی کی بات ہے کہ اس حملے میں سنگین طور سے زخمی سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر ودیا چرن شکلا کا گوڑ گاؤں کے ہسپتال میں علاج چل رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کی حالات میں سدھار آڑہا ہے۔ 84 سالہ شری شکلا کو ٹھیک ہونے میں کافی وقت لگے گا۔ اس حملے کی باریکی سے جانچ ہونی چاہئے۔ ہمیں تویہ صاف لگ رہا ہے کہ کہ یہ حملہ کسی سنگین سیاسی سازش کا نتیجہ ہے۔

 (انل نریندر)

اقتدار میں سیاستدانوں کے سر میں سر نہ ملائیں سرکاری افسر

بھلے ہی مرکزی سرکار ہو یا ریاستی حکومت ہو ان کی کارگذاری کا دارومدار افسر شاہی پرمنحصر کرتا ہے۔ یوپی اے کی مرکزی سرکار تو افسروں کے دم پر ہی چل رہی ہے۔ خود افسر شاہ رہ چکے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے عہد میں افسر شاہی کافی طاقتور ہوئی ہے۔ وہ شاید اس سے پہلے کسی بھی سرکار میں نہیں تھی۔ افسر برادری بھی یہ بھول جاتی ہے کہ اپنے سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کے ارادے سے وہ سارے تقاضے اور آئینی ذمہ داریوں کو نظر انداز کر سبھی حدیں پارکرجاتے ہیں۔ اس سلسلے میں دیش کی بڑی عدالت سپریم کورٹ نے سرکاری افسروں کی کھنچائی کرتے ہوئے مشورے دئے ہیں کہ وہ اقتدار میں بیٹھے سیاستدانوں کے دباؤ میں کوآپریٹو بینک کے ڈائریکٹر منڈل کو بھنگ کرکے ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کے مدھیہ پردیش سرکار کی کارروائی پر عدالت نے سخت رخ اپنایا ہے۔ عدالت نے دیش کے سبھی کوآپریٹو منتظمین کو آگاہ کیا ہے کہ وہ اقتدار میں بیٹھے آقاؤں کے سر میں سر ملا کر غیر قانونی کام کرنے سے بچیں۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں مقدمے بازی میں خرچ ہوا پیسہ قرض دہندہ کے بجائے سرکاری افسروں سے وصولہ جائے گا جو قانون سے ہٹ کر سیاسی دباؤ میں فیصلہ لیتے ہیں۔ جسٹس ایس رادھا کرشن و جسٹس دیپک مشر کی بنچ نے مدھیہ پردیش کے ضلع کو آپریٹو بینک کے منتخبہ ڈائریکٹر زون کو بحال کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے کہا جس میعاد تک ڈائریکٹر بورڈ کوبرخاست رکھا گیا اس میعاد تک وہ ڈائریکٹر کی شکل میں کام کریں گے۔ بنچ نے اس بات پر بھی سخت اعتراض جتایا کے ریزرو بینک آف انڈیا کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرکے ڈائریکٹر زون کو برخاست کردیا گیا۔ بینکنگ قواعد کے مطابق آر بی آئی سے مشورہ کئے بغیر ندیشک منڈ ل کو اور اس کے منتخبہ دفتر سے ہٹایا نئی جاسکتا۔ ساگر کے جوائنٹ رجسٹرار نے ڈائریکٹر منڈل کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کرکے ڈھائی سال بعدبھنگ کردیا۔ اس سے صاف ہے کہ سرکاری افسروں نے سیاسی دباؤ میں یہ فیصلہ کیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ گروپ بندی کو لیکر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کرکے قرض دہندہ کے پیسے کو پانی کی طرح بہانا سمجھ سے باہر ہے۔ عدالت نے ریاستی سرکار پر 1 لاکھ روپے جرمانہ بھی کیا اور جرمانے کی رقم ایک ماہ کے اندر مدھیہ پردیش لیگل سروس اتھارٹی میں جمع کرانی ہوگی۔ ساگر کے جوائنٹ کوآپریٹو رجسٹرار پر بھی 10 ہزار روپے کا جرمانہ کیا گیا ہے۔ یہ رقم اس کی تنخواہ سے کاٹی جائے گی۔ سپریم کورٹ نے اس بات پر سخت اعتراض کیا کہ آڈٹ رپورٹ میں معمولی اعتراض کی آڑ میں منتخبہ ڈائریکٹر بورڈ کو اس کے آئینی اختیارات سے محروم کیا گیا۔ آر بی آئی نے بھی سپریم کورٹ کو بھیجی اپنی رپورٹ میں کہا کہ آڈٹ رپورٹ کے اعتراضات روٹین کے ہیں۔ کوآپریٹو بینکوں کے اس طرح کے معاملے بڑی تعداد میں عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ اس لئے اس سلسلے میں گائڈ لائنس جاری کرنے کی سخت ضرورت ہے جب تک سرکاری افسروں کی جوابدہی طے نہیں کی جاتی تب تک وہ اپنے سیاسی آقاؤں کے اشاروں پر کام کرتے رہیں گے۔
(انل نریندر)

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...