Translater

13 اپریل 2013

ممتا پر حملہ پہلا نہیں ،دہلی میں نیتاؤں پر بڑھ رہے حملے

دہلی میں منگلوار پر مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی اور ان کے وزیر خزانہ سے بدسلوکی کا واقع اکیلا نہیں ہے ۔ حال ہی میں راجدھانی میں کئی لیڈروں کے ساتھ ایسی حرکات ہوچکی ہیں۔اس سے پہلے مرکزی وزیر داخلہ ، وزیر مواصلات ، وزیر زراعت، دہلی کی وزیراعلی مظاہرین اور لوگوں کے غصے اور ہاتھا پائی کا شکار ہوچکے ہیں۔ نئی دہلی میں پلاننگ کمیشن کے گیٹ پر مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی اور ان کے وزرا کے ساتھ سی پی ایم کی طلبا ونگ ایس ایف آئی سے جڑے مظاہرین کا پرتشدد اور شرمناک برتاؤ قابل مذمت تو ہے ہی پارلیمنٹ کے اتنے پاس اتنہائی محفوظ زون میں ایسی واردات کا ہونا سکیورٹی نظام پر بھی سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ عام طور پر ایسے علاقے میں دھرنا اور مظاہرے کی اجازت نہیں ہے لیکن اس انتہائی محفوظ زون میں مظاہرین کو کیسے پہنچنے دیا گیا؟ وہاں پولیس کی چوکسی و سکیورٹی سسٹم اور زیادہ چست درست کیوں نہیں کیا گیا؟ جمہوریت میں احتجاجی مظاہروں کا حق تو ضروری ہے لیکن غنڈہ گردی کا قطعی نہیں۔جس طرح ایک خاتون وزیر اعلی ممتا بنرجی اور ان کے 65 سالہ وزیر مالیات ڈاکٹر امت مترا کا کرتا پھاڑ ڈالا گیا ، یہ احتجاج نہیں بلکہ اس طرح سے جمہوریت کے ساتھ زیادتی ہے۔ ممتا اس حادثے سے اس قدر ناراض ہیں کہ منگل کوانہوں نے وزیر اعظم کے ساتھ اپنی ملاقات تک ٹال دی اور اگلے ہی دن وزیر خزانہ سے طے ملاقات کو بھی منسوخ کرکے کولکتہ چلی گئیں۔ دہلی سے کولکتہ لوٹتے ہی ممتا کو سانس لینے میں دقت اور گھبراہٹ اور درد کی شکایت کے بعد ہسپتال میں بھرتی کرایاگیا جہاں ڈاکٹروں کی ای ٹیم ان کی صحت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ممتا بنرجی اور امت مترا سے بدسلوکی کے واقع کے معاملے میں جارحانہ تیور اپنا رہی مارکسوادی پارٹی بدھ کو بیک فٹ پر آگئی۔ گورنر ایم کے نارائنن کے تنازعے میں کودنے سے واردات کو مارکسوادی پارٹی کو منظم حملہ قراردینے سے دباؤ میں آئی پارٹی کے پولٹ بیورو کو بیان جاری کر نہ صرف واقعے کی مذمت کرنی پڑی بلکہ اس کی جانچ کا بھی اعلان کیا۔ مسٹر نارائنن کا کہنا ہے کہ ممتا پر حملہ غیر متوقعہ ہے۔ یہ جمہوریت کے اصولوں پر دھبہ ہے۔ 
سیاسی پس منظرکو تشدد کی طرف مائل کرنے کا اشارہ کرتا ہے۔ دراصل ایس ایف آئی کے ورکر اپنے ایک لیڈرسدیپ گپت کی مبینہ طور پر پولیس حراست میں ہوئی موت سے ناراض ہوں گے لیکن ایک وزیر اعلی کے خلاف اس طرح کے پرتشدد مظاہرے کو جمہوری نہیں مانا جاسکتا۔ دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ یہ واردات ترنمول کانگریس اور لیفٹ فرنٹ کے درمیان پچھلے کچھ مہینے سے جاری ٹکراؤ کا نتیجہ ہے جو اب دیش کی راجدھانی تک پہنچ گیا ہے۔ دہلی کی واردات کے بعداس کے رد عمل میں مغربی بنگال میں واویلا مچا ہوا ہے۔ وہاں جگہ جگہ ایس ایف آئی اور ترنمول ورکروں کے درمیان خونی جھڑپیں ہورہی ہیں۔ یہ سلسلہ فوراً روکے جانے کی ضرورت ہے سبھی سیاسی پارٹیوں کو اس واقعہ سے سبق ضرور لینا چاہئے اگر سیاسی پارٹیوں نے وقت اور جمہوری تقاضوں کی پرواہ نہیں کی تو کس طرف دیش کی سیاست کو وہ لے جانا چاہتے ہیں؟
(انل نریندر)

آئرن لیڈی مارگریٹ تھیئچر کا جانا!

آئرن لیڈی کے نام سے مشہور برطانیہ کی پہلی لیڈی وزیر اعظم رہی مارگریٹ تھیئچر کا پیر کو دل کا دورہ پڑنے سے دیہانت ہوگیا۔ دماغی بیماری سے متاثر تھیئچر 87 برس کی تھیں۔ بلاشبہ تھیئچر20 ویں صدی کی سب سے طاقتور شخصیتوں میں سے ایک تھیں، ساتھ ہی اس صدی میں برطانیہ کی سب سے طویل عرصے تک وزیر اعظم رہیں۔یوں تو محترمہ تھیئچر پچھلے کئی برسوں سے سرگرم سیاست سے الگ تھیں لیکن انہوں نے اپنے دیش کی سیاست کے ساتھ ہی عالمی سیاست پر جو چھاپ چھوڑی ہے اس کو بھلانا مشکل ہوگا۔ حقیقت میں سرد جنگ کی آخری دہائی کے جن لیڈروں کو تاریخ میں یاد کیا جائے گا ان میں مارگریٹ تھیئچر بھی ہوں گی جنہوں نے امریکہ اور سوویت روس کی طاقت پر لیڈر شپ کے درمیان اپنی ایک عالمی ساکھ بنائی تھی۔ گھریلو سطح پر اپنے سیاسی حریفوں سے لیکر بین الاقوامی سطح کے اپنے عالمی مخالفوں تک کا جس سختی سے انہوں نے سامنا کیا، مزدور یونینوں کو تھوڑنے سے لیکر مہنگائی سے نمٹنے تک جیسی لیڈرشپ انہوں نے دی، اس کی وجہ سے ہی انہیں آئرن لیڈی (آہنی خاتون) تک کہا گیا۔ اپنے سخت برتاؤ اور ضد کے لئے بیشک وزیر اعظم بنیں تو عوام میں ان کی مقبولیت کم نہیں ہوئی۔ اس بات سے کوئی انکار شاید ہی کر سکے کہ انہوں نے جدید دنیا بنانے میں جتنا بڑا رول نبھایا ان کی برابری اور کسی لیڈر سے نہیں کی جاسکتی۔ نظریاتی طور پر آزاد خیال تھیں اور معیشت اور پرائیویٹائزیشن اور نیچی سود کی شرحیں، سرکاری مدد کے بجائے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے تصور کو فروغ دیا۔ اس طرح کی ساری پالیسیوں کی بنیاد مارگریٹ تھیئچر نے ہی رکھی تھی۔تھیئچر1979ء میں جب برسر اقتدار آئیں تب برطانیہ کی ساکھ پوری دنیا میں سب سے اونچی اور سب سے طویل چلنے والی ہڑتالوں کا دور تھا لیکن تھیئچر نے آہستہ آہستہ برطانیہ کی بڑی ٹریڈیونینوں کو توڑ کر رکھ دیا۔ اقتدار میں آنے کے فوراً بعد کچھ سرکاری کمپنیوں کو نجی ہاتھوں میں سونپنے کا قدم ہو یا فوک لینڈ پر قبضے کے لئے ارجنٹینا کو نکالنے کے لئے فوج بھیجنے کا فیصلہ یا آئرلینڈ کا معاملہ، انہوں نے ہمیشہ عزم اور دور اندیشی کا ثبوت دیا۔ کہتے ہیں سیاست غیر محدود امکانات کا کھیل ہے جسے مارگریٹ تھیئچر نے سچ کر کے دکھایا۔ وہ نہ صرف برطانیہ کی پہلی وزیر اعظم بنیں بلکہ لگاتار تین بڑے عہدوں پر چنی جانے والی20 ویں صدی کی اپنے دیش کی پہلی لیڈر بھی ثابت ہوئیں۔ کچھ تضادات اور اندرونی اختلافات کے ساتھ یہ اتفاق ہی ہے کہ مارگریٹ تھیئچر بھارت کی سابق وزیراعظم محترمہ اندرا گاندھی کی طرح کی قد آور لیڈر تھیں جن کی وہ خود بھی تعریف کیا کرتی تھیں۔1984ء میں جب اندرا گاندھی کا قتل ہوا تو تھیئچر کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ انہوں نے کہا میں محترمہ اندرا گاندھی کو بہت یاد کروں گی۔ دونوں لیڈروں میں گہری دوستی بھی تھی وہ ان کی آخری رسوم میں شامل ہوئیں تھیں۔ جیسا کہ میں نے کہا کمزور شخص ہمیشہ اچھے موقعوں کا انتظارکرتے رہتے ہیں جبکہ وہ بے لوث شخص رہے ہوں۔مارگریٹ تھیئچر اسی زمرے میں آتی تھیں۔
(انل نریندر)

12 اپریل 2013

480 کنبوں کی التجا، مرجائیں گے پاکستان واپس نہ جائیں گے

پاکستان میں ہو رہے مظالم سے تنگ آکر پچھلے کئی ماہ سے دہلی میں رہ رہے تقریباً480 ہندو شرنارتھی خاندان واپس پاکستان لوٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے۔ مرجائیں گے لیکن پاکستان نہیں جائیں گے۔ وہاں ذلت سہنے کے بجائے یہیں جان دینے کیلئے تیار ہیں۔ وہاں ہم نہیں ہماری لاشیں جائیں گی۔ پیرکو ان کے ویزا کی میعاد ختم ہوگئی۔ دھمکی دینے کے بعد وزارت داخلہ نے ان کے ویزا میں 1 مہینے کی توسیع دے دی ہے۔ پاکستان سے کنبھ میلے کے بہانے ویزا لیکر آئے یہ480 خاندان پاکستان میں کٹر پسندوں کی ظلم وزیاتیوں سے نجات پانے کے لئے بجواسن گاؤں کے ناہر سنگھ کے یہاں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ گاؤں کے ناہر سنگھ نے ان شرنارتھیوں کو اپنے یہاں پناہ دے رکھی ہے۔ ان کے 28 کمروں میں480 لوگ کسی طرح گزارہ کررہے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے کمروں میں ایک ساتھ18 لوگ رہتے ہیں۔ خاندان ادھر ادھر سے لکڑیوں کا انتظام کرکھانا بناتے ہیں۔حالانکہ رضاکار انجمنوں و تنظیموں کی طرف سے انہیں کھانے کا سامان دیا جارہا ہے۔ بدھوار کو وشو ہندو پریشد کی طرف سے ان خاندانوں کو نوازا گیا ہے۔وشو ہندو پریشد دہلی کے نائب صدر مہاویر پرساد گپتا نے ان خاندانوں سے ملنے اور اعزاز دینے کے بعد کہا محض ٹورسٹ ویزا بڑھائے جانے سے کام نہیں چلے گا بلکہ ان متاثروں کو بلا تاخیر سبھی شہری سہولیات دی جانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وشو ہندوپریشد ان سبھی پاکستانی ہندوؤں کا خیر مقدم کرے گی جنہوں نے اذیتیں سہہ کر اپنا وطن چھوڑا ہے لیکن اپنا مذہب نہیں چھوڑا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان سبھی لوگوں کا بھی کھلے طور سے خیر مقدم کریں گے جنہوں نے پاکستانی کٹر پنتھیوں سے اپنا مذہب اور جان بچا کر بھارت میں پناہ لینے آئے 480کنبوں کی نہ صرف مدد کی بلکہ حفاظت کی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ بھارت سرکار فوراً ان سبھی مسلم جہادی آتنک واد کے شکار خاندانوں کو بھارت کی سبھی شہری سہولیات دی جائیں جس سے یہ کم سے کم یہاں آکر سکون سے رہ سکیں۔ ادھر شیو سینا کے صدراودھو ٹھاکرے کے حکم کے مطابق شیو سینا ایم پی اور سکریٹری انل ڈیسائی اور ڈپٹی لیڈر و ایم پی چندرکانت کھرے کی ہدایت میں شیو سینا کی دہلی یونٹ کا ایک نمائندہ وفد بھی ان 480 کنبوں سے ملا۔ شیو سینا لیڈروں نے اپنے بیان میں کہا کہ سرکار پاکستان سے آئے ہندوؤں کو بھارت میں بسنے کی اجازت دے اور ان کی باز آبادکاری پر جتنا بھی خرچ آتا ہے اسے حکومت اٹھائے۔ انہیں اگر سرکار زبردستی پاکستان بھیجتی ہے تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سے کانگریس سرکار مسلم ووٹوں کی خاطر اس فرقے کے لوگوں کو سرپر بٹھا کر رکھتی ہے لیکن بھارت کے باہر دیگر ملکوں سے خاص کر پاکستان میں ہندوؤں کے ساتھ جو ناانصافی ہورہی ہے اس کے لئے کوئی آواز نہیں اٹھاتی۔ ان متاثرہ خاندانوں کو بھارت میں بسنے کی مانگ کی ہم پوری حمایت کرتے ہیں ان کی یہ مانگ جائز ہے۔ سب کچھ سوچتے سمجھتے ہم ان 480 خاندانوں کو پاکستان واپس بھیج کر موت کے منہ میں نہیں ڈھکیل سکتے۔ ویسے بھی لاکھوں کی تعداد میں غیر قانونی طور سے بنگلہ دیش سے آکر یہاں بس جاتے ہیں اور آہستہ آہستہ ان کو بھی سبھی شہری سہولیات مل جاتی ہیں تو یہ تو ہمارے بھائی بند ہیں جو سب کچھ لٹا کر پناہ مانگنے آئے ہیں۔ پناہ دینا ہماری روایت بھی ہے اور مذہب بھی ہے۔ بھارت سرکار سے اپیل ہے کہ وہ ان کنبوں کو بھارت میں بسانے و شہریت فراہم کرنے کیلئے صحیح قدم اٹھائے۔
(انل نریندر)

فرضی مڈ بھیڑ کے الزام میں 3 پولیس والوں کو پھانسی کی سزا

لکھنؤ کی روشن الدولہ عدالت کمپلیکس میں جمعہ کی دوپہر12 بجے لوگوں کی چہل پہل اچانک بڑھ گئی ۔ مڈ بھیڑ کے ملزم 8 پولیس ملازمین کو سخت سکیورٹی کے پہرے میں عدالت میں لایا گیا۔ کبھی خود ملزمان کو پکڑ کر تھانے و کچہری لے جانے والے یہ پولیس والے خود خاکی سے گھرے تھے اور ان کی زبان بند تھی۔ باہر ان کے گھروالوں اور متاثرہ خاندان کے ساتھ میڈیا ملازمین کی بھی بھیڑ تھی۔ معاملہ31 سال پہلے کا ہے۔ان پر اپنے ہی سی او کو گولی مار کر ہلاک کرنے اور پھر اسے انکاؤنٹر دکھانے کے لئے 12 دیہاتیوں کو مارڈالنے کا الزام ہے۔ سی بی آئی کی اسپیشل عدالت نے جمعہ کو گونڈہ شہر کے اس وقت کے کڑیا تھانیدار آر بی سروت اور ہیڈ کانسٹیبل رام نائک پانڈے و کانسٹیبل رامشرن کو پھانسی کی سزا سنائی۔ کورٹ نے اسی معاملے میں پی اے سی کے صوبیدار رماکانت دکشت ،گونڈہ ایس پی کے پیش کار رہے نسیم احمد، کوتوالی گونڈہ دیہات میں دروغہ رہے منگت سنگھ، پرویز حسین اور تھانہ نواب گنج کے تحت لکڑ منڈی پولیس چوکی میں اس وقت کے انچارج رہے راجندر پرساد سنگھ کو عمر قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے سبھی قصورواروں پر جرمانہ بھی لگایا۔ عدالت نے اپنے19 صفحات کے فیصلے میں موت کی سزا کے ملزمان کی حرکت اور طرز عمل پر سخت نکتہ چینی کی ۔ عدالت کا کہنا تھا اگرچہ سبھی ملزم پولیس والے ہیں اور اس وقت وہ بوڑھے اور بیمار اور چلنے پھرنے میں لاچار ہیں لیکن جن کے قتل ہوئے ہیں ان کا کیا جرم تھا؟ عدالت یہ سمجھتی ہے کہ سماعت میں یہ پیغام جانا چاہئے کہ یہ انصاف کا دیش ہے۔ عدالت نے دفاع فریق کی سبھی دلیلوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا اگر ملزمان کو جرم کی بنیاد پر سزا نہیں دی جاتی تو عدالت اپنا فرض نبھانے میں ناکام رہے گی۔ ملزمان کی حرکت سماج کے لئے داغ ہے اس حملے میں بے رحمانہ طریقے سے قتل کئے گئے اور منصوبہ بند طریقے سے پولیس فورس نے اپنے افسر کو قتل کیا، بعد میں دکھاوے کے لئے12 دیہاتیوں کو مار ڈالا۔ اس واقعے میں گولی لگنے کے بعد ڈی سی پی کے پی اے امید سنگھ کو وقت رہتے مناسب علاج مہیا نہیں کرایا گیا۔ عدالت نے الزام ثابت ہوئے پولیس والوں کے برتاؤ پر تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کہا اگر عام شخص کے ذریعے اس طرح کا قتل کیا جاتا تو تب بھی معاملے کی پوزیشن اور ہوتی لیکن اس معاملے میں پولیس ملازمین نے فرضی مڈ بھیڑ میں لوگوں کو بے رحمانہ طریقے سے مارا ہے لہٰذا عدالت کی رائے میں وہ سخت سزا کے حقدار ہیں۔ یہ کیس 12 مارچ1982ء کا ہے۔ 12 مارچ کی رات میں مادھو پور گاؤں میں ڈکیتوں کا ایک گروہ کا سراغ ملنے کی بات کہہ کراس وقت کے تھانیدار آربی سروج ، ڈی ایس پی کے پی سنگھ کو پولیس کے پی اے سی جوانوں کے ساتھ لیکر گئے ۔ گاؤں میں کسی ڈکیت کے نہ ملنے پر ڈی ایس پی اور تھانیدار سروج کے درمیان کہا سنی ہوگئی۔ اسی کے بعد ڈی ایس پی کو گولی ماردی گئی۔ گولی لگنے کے بعد ڈی ایس پی سنگھ کو علاج کیلئے نہیں لے جایا گیا۔ جانچ سے پتہ چلا ہے ڈی ایس پی کے پی سنگھ ۔ تھانیدار سروج اور کچھ دیگر پولیس ملازمین کے خلاف کچھ الزامات کی جانچ کررہے تھے اسی کے چلتے انہیں ختم کرنے کی سازش رچی گئی۔ اسے مڈ بھیڑ کی شکل دینے کے لئے 12 بے قصور دیہاتی اکھٹے کئے گئے اور انہیں بھی گولی مار دی گئی، بعد میں انہیں ڈکیت بتا دیا گیا۔ عدالت کے احاطے میں متاثرہ خاندانوں کے لوگوں کی آنکھیں بھر آئیں جو برسوں سے انصاف کا انتظار کررہے تھے۔ وہ اس قدر جذباتی ہوگئے کہ آنسو نہیں روک پائے۔ بنیادی ملزم اس وقت کے ایس او کوشک ، آر بی سروج نے فیصلہ آنے کے بعد کہا کہ سی بی آئی نے انہیں و دیگر پولیس ملازمین کو جھوٹا پھنسایا ہے اور وہ اس فیصلے کو ہائی کورٹ و سپریم کورٹ میں چنوتی دیں گے۔
(انل نریندر)

11 اپریل 2013

آئی ایس آئی اور سی آئی اے میں ناپاک سمجھوتہ،بھاڑ میں جائے بھارت

ساری دنیا میں دہشت گردی کے خلاف لڑنے کا دعوی کرنے والے امریکہ کے دوہرے پیمانے ایک بار پھر سامنے آرہے ہیں۔ امریکہ کے لئے دہشت گردی کا مطلب صرف خود اس کے خلاف دہشت گردی ہے۔ دوسرے ملکوں کے لئے دہشت گردی میں امریکہ کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ تازہ مثال مشہور امریکن اخبار ’دی نیویارک ٹائمس‘ کی رپورٹ میں ملی ہے۔ اخبار کی میگزین میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے 2004ء میں خفیہ بات چیت کے تحت سمجھوتے کے قاعدے طے کئے تھے۔’دی وے آف نائف‘ نام کی اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ٹریننگ مرکزوں پر ڈرون حملوں کے لئے پاکستان امریکہ میں باقاعدہ ایک معاہدہ ہوا تھا۔ امریکی فوج کو ڈرون حملوں کی اجازت دینے کے لئے پاکستان حکومت نے یہ شرط رکھی تھی کہ یہ حملے ان ٹریننگ کیمپوں پر نہیں کئے جائیں گے جو پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں قائم ہیں۔ وہیں یہ کیمپ جہاں پاکستان میں ہندوستانی کشمیر میں بھیجنے کے لئے دہشت گردوں کو ٹریننگ دیتا ہے بھارت کے وزیر دفاع اے کے انٹونی نے سہ روزہ فوج کے کمانڈروں کی کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردوں کے ٹریننگ کیمپ بدستور جاری ہیں۔ وادی میں برف پگھلنے کے ساتھ ہی سرحد پار سے آتنکی دراندازی کی کوشش کریں گے۔ جن پر نگرانی رکھنا اور ان کے منصوبوں کو ناکام کرنا، چوکسی اور حوصلے سے ہی ممکن ہوگا۔ ہندوستانی فوج کے ذرائع کے مطابق اس وقت 54 دہشت گردی کے ٹریننگ کیمپ سرحد پار چلائے جارہے ہیں۔ 32 دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں جو پاکستان سے بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی پھیلا رہے ہیں۔ ان کیمپوں کی دیکھ ریکھ حز ب المجاہدین، حرکت المجاہدین، البدرمجاہدین، حرکت الانصار ، لشکر طیبہ، جیش محمد کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ انکشاف ایک ساتھ کئی چیزیں بتاتا ہے۔ پاکستانی علاقے میں ہر ڈرون حملے کے بعد پاکستان اس بات پر ہنگامہ کرتا ہے کہ یہ اس کی سرداری کی خلاف ورزی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ہنگامہ محض ایک نوٹنکی ہے، ناٹک ہے لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں کیونکہ ساری دنیا جانتی ہے پاکستان اس فن میں مہارت حاصل کرچکا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں چل رہے آتنک وادی کیمپوں کی جانکاری امریکہ باقاعدہ دے چکا ہے اور امریکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ان کیمپوں پر حملہ کرنے سے بچ رہا ہے۔ دنیا بھر سے ’وار آن ٹیرر‘ چلانے والے امریکہ اسے جان بوجھ کر آتنکی کیمپوں کو چلانے کا لائسنس دے رہا ہے۔ یہ وہ ہی امریکہ ہے جس نے بھارت سے اپیل کی تھی کہ وہ نارتھ سرحد سے تناؤ کم کرے تاکہ پاکستانی فوج افغان سرحد پر ساری توجہ مرکوز کرسکے۔ بھارت نے کئی بار پاک مقبوضہ کشمیر میں کیمپوں پر ہوائی حملے کا پلان بنایا لیکن امریکہ نے بھارت کو ایسا کرنے نہیں دیا۔ جو بات اتنے برسوں میں امریکہ پاکستان کے بارے میں سمجھ نہیں سکا وہ یہ ہے کہ پاکستان امریکہ سمیت باقی دنیا سے دوہرا کھیل کھیلتا ہے۔ جو بھی ہتھیار امریکہ پاکستان کو طالبان سے لڑنے کے لئے دیتا ہے اس کا استعمال بھارت کے خلاف ہوتا ہے۔ یہ ہی نہیں ہمیں کوئی تعجب نہیں ہوگا کہ کسی مرحلے پر یہ انکشاف ہو کہ ان پاک کیمپوں میں آئی ایس آئی نے طالبان لڑاکوں کو بھی چھپا رکھا ہے تاکہ وہ محفوظ رہیں؟ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ امریکہ سب کچھ جانتے سمجھتے ہوئے پاکستان ڈبل گیم کھیلتا ہے پھر بھی وہ پاکستان کی مدد کرنے سے باز نہیں آتا۔ لیکن امریکی پالیسی اور دہشت گردی کی تشریح صاف ہے وہ افغانستان میں صرف اپنی لڑائی لڑ رہا ہے اور سمجھتا ہے کے اس میں پاکستان کی مدد کے بغیر وہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اسے ہند۔ پاک رشتوں کی کوئی فکر نہیں ہے بس اس کے سامنے تو ایک ہی مقصد ہے کہ وہ افغانستان سے باہر کیسے نکلے ۔ چاہے اس کی کوئی بھی قیمت کیوں نہ دینی پڑے۔ قصور تو بھارت سرکار کا ہے جو بار بار امریکی دباؤ میں آجاتی ہے اور ان آتنکی کیمپوں کو ہاتھ تک نہیں لگاتی۔ پاکستان کے دونوں ہاتھوں میں لڈو ہے۔
(انل نریندر)

پولیس کے مطابق دیپک بھاردواج کا قتل بیٹے نتیش نے کروایا

آخرکار وی ایس پی لیڈر اور ارب پتی کاروباری دیپک بھاردواج کے قتل کی گتھی دہلی پولیس نے تقریباً سلجھا لی ہے۔ساؤتھ دہلی کی ڈی سی پی چھایہ شرما نے بتایا کہ دیپک بھاردواج کا قتل کسی اور نے نہیں بلکہ ان کے اپنے ہی بیٹے نتیش نے کروایا تھا۔ والد دیپک بھاردواج کو مارنے کے لئے 5 کروڑ روپے کی سپاری نتیش نے وکیل بلجیت سنگھ سہراوت کو دی تھی۔ اس ٹھیکے کے قتل کو سب سے بڑا کیس بتایا جارہا ہے۔ بیٹے کو گرفتار کرلیا گیا ہے دیپک کاقتل ان کے فارم ہاؤس نتیش کنج میں 26 مارچ کو ہوا تھا۔ ٹیلیفون کی تفصیل کی بنیاد پر نتیش شک کے دائرے میں تھا۔ پولیس اس سے مسلسل پوچھ تاچھ کررہی تھی۔ دو تین چیزوں پر لگا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ آخر کار نتیش نے سچ اگل دیا ہے۔ اس نے بتایا کہ اپنے والد کے برتاؤ سے وہ اور ان کا خاندان کافی پریشان تھا جس کے چلتے تلخی بڑھ رہی تھی بھاردواج کاروبار سے بھی اپنے بیٹے کو دور رکھتے تھے۔6 مہینے پہلے نتیش نے فیصلہ کیا کہ کچھ کرنا ہوگا۔ ان کے رابطے میں ایک وکیل بلجیت سنگھ سہراو ت تھا جو وکالت میں کم پراپرٹی ڈیلنگ میں زیادہ دلچسپی لیتا تھا۔ بلجیت مہیپال پور سے اسمبلی کا چناؤ بھی لڑنا چاہتا تھا اس لئے اسے ایک بڑی رقم کی ضرورت تھی۔ نتیش نے اپنے والد دیپک بھاردواج کے قتل کا سودا5 کروڑ میں بلجیت سے کیا تھا اور 50 لاکھ روپے ایڈوانس میں دے دئے۔ بلجیت نے اسے سوامی پرتیانند کو 2 کروڑ روپے میں آگے ٹرانسفر کردیا۔ سوامی نے اسے1 کروڑ میں مونو کو سپاری دے دی۔ مونو کو2 لاکھ روپے ایڈوانس میں دئے گئے ۔ اس نے گاڑی اور ہتھیاروں کا انتظام کیا باقی رقم کام پورا ہونے کے بعد دی جانی تھی۔ جہاں تک بلجیت کا سوال ہے اس کا نام بھی ٹیلی فون تفصیلات کی بنیاد پر شک کے دائرے میں مانا گیا۔ سوامی کو آشرم بنانے کے لئے ڈیڑھ کروڑ روپے کی ضرورت تھی اور اسی کے چلتے سوامی بھی آسانی سے اس قتل کے لئے تیار ہوگیا۔ تقریباً 6 مہینے پہلے اس سازش کو رچا گیا تھا۔ قاتل دیپک کا قتل فارم ہاؤس سے باہر کرنا چاہتے تھے۔ اس کے لئے انہوں نے دو بار کوشش کی تھی لیکن ناکام رہے۔ آخر کار انہوں نے فارم ہاؤس میں دیپک کو مارنے کا فیصلہ کیا اور ایسا کرتے وقت سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہوگئے۔ حالانکہ دہلی پولیس نے معاملے کو سلجھانے کا دعوی کیا ہے اور ابھی کچھ باتوں کا خلاصہ ہونا ضروری ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ نتیش نے پولیس پوچھ تاچھ میں اپنیوالد کے قتل کی سپاری دینے کی بات قبول کرلی ہے لیکن اتنے پر بھی قتل کا مقصد سامنے نہیں آپایا۔ ابھی یہ صاف نہیں ہورہا ہے کیا خاندان کے دیگر افراد کو اس بارے میں معلوم تھا اور ان کی رضامندی تھی؟ کیونکہ قتل کی سپاری تین ہاتھوں سے گذر کر شارپ شوٹروں کر پہنچی اس لئے بھی پولیس کو معاملے کو سلجھانے میں کافی مشقت کرنا پڑی اور پھر سوامی پرتیانند ابھی تک گرفتار نہیں ہوسکا۔ وہ اس قتل کی اہم کڑی ہے۔
(انل نریندر)

10 اپریل 2013

پہلے دیش کا دل جیتو! کون ہوگا پی ایم وقت پر طے ہوگا

بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر راجناتھ سنگھ کے نظریات سے ہم متفق ہیں۔ اپنی ٹیم کی پہلی میٹنگ میں انہوں نے دو ٹوک کہا کہ پہلے دیش کا دل جیتو پھر نیتا بھی طے کرلیں گے۔ بھاجپا کے اندر وزیر اعظم کون ہوگا اس پر زیادہ تنازعہ چھڑا ہوا ہے بہ نسبت 2014ء کے لوک سبھا چناؤ جیتنے کے۔ میں بار بار اسی کالم میں لکھتا رہا ہوں کے بھاجپا کا پہلا نشانہ 200 سے زیادہ لوک سبھا سیٹیں جیتنے کا ہونا چاہئے۔ اگر بھاجپا200 سیٹیں لاتی ہے تب این ڈی اے حکومت بنانے کی پوزیشن میں آسکتی ہے۔ بھاجپا نے لوک سبھا چناؤ کے لئے بلو پرنٹ تیار کرلیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ لوک سبھا کی300 سیٹوں کے لئے بھاجپا کے حکمت عملی سازوں نے نشاندہی کی ہے جہاں پارٹی امیدوار کھڑا کرے گی اور پورا زور لگا دے گی۔ اگر اکتوبر ۔نومبر میں لوک سبھا چناؤ کی نوبت آتی ہے تو پارٹی اس چکر میں بھڑنے کے علاوہ باہر نکلنے کے بارے میں غور و خوض کررہی ہے۔ آنے والے پانچ مہینوں میں 383 سیٹوں پر بھاجپا اپنی پد یاترائیں پوری کرلے گی۔ تنظیمی بنیاد پر سابق امیدواروں کے انتخاب کرنے ،سڑکوں پر ریلیاں ،پدیاترائیں کرنے اور کمیونی کیشن کی نئے طریقوں کے ذریعے ووٹروں تک اپنی پہنچ بنانے اور کانگریس کی خامیوں کی پول کھولنے کی منڈل سطح پر تیاریوں کی ہدایات جاری کی جارہی ہیں۔ایتوار کو اس اہم میٹنگ میں گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی اپنے الگ انداز میں چھائے رہے۔ گجرات چناؤ میں تھری ڈی سسٹم کا استعمال کر چکے مودی نے نیتاؤں کو سوشل میڈیا کی طاقت کا احساس کرایا۔ انہوں نے کہا 2014ء تک دیش میں 14 کروڑ لوگ انٹرنیٹ کا استعمال کریں گے۔ انہوں نے کہا2004ء کے چناؤ میں کانگریس 11 کروڑ ووٹروں کا ووٹ لیکر اقتدار میں آئی تھی جبکہ2014 ء تک اس سے زیادہ لوگ انٹرنیٹ کا استعمال کررہے ہوں گے، انہیں نہیں چھوڑا جاسکتا لہٰذا روایتی چناؤ مہم کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کا استعمال بھی کرنا ہوگا۔ نریندر مودی نے لوک سبھا چناؤ جیتنے کے لئے پانچ منتر بھی بتائے۔ پہلا سوشل میڈیا کا استعمال، دوسرا اشوز طے ہوں۔ انہوں نے چناؤ کے اشو بھی سمجھائے۔ چناؤ کے لئے اشو طے ہونے چاپئیں تاکہ پارٹی ورکروں کے سامنے لائن بالکل صاف ہو۔ مہنگائی اور مرکز کی سرکار کے کرپشن کو جنتا کے بیچ لے جانے کی ضرورت ہے۔ انہیں یہ سمجھانا ہوگا اس پر دیش کا کیا اثر پڑ رہا ہے۔ تیسرا منتر ویژن بنام کمیشن۔ مودی نے کہا کوری بھاشن بازی کے بجائے لوگوں کو سمجھانا ہوگا کانگریس اور بی جے پی میں فرق کیا ہے۔ انہوں نے فرق بتاتے ہوئے کہا کانگریس کے پاس اگر کمیشن ہے تو بی جے پی کے پاس ویژن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی ورکروں کو کانگریس کے خراب انتظامیہ اور اچھے انتظامیہ میں فرق سمجھانے کی ضرورت ہے۔ چوتھا مودی نے بھاجپا حکمراں ریاستوں کے کام کاج کو بھی چناؤ کے دوران فوکس میں رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا جب بھاجپاحکمراں ریاستیں بہترین کام کرسکتی ہیں تو کانگریس حکمراں ریاستیں ایسا کیوں نہیں کرسکتیں؟ ووٹروں تک یہ بات بھی پہنچانی ہوگی۔ پبلک کو بتانا ہوگا کے بھاجپا حکمراں سرکاریں و ریاستیں کس طرح سے معیشت میں اشتراک کررہی ہیں جبکہ کانگریس حکمراں ریاستوں کا برا حال ہے۔ پانچواں منتر دور اندیشی۔ سینئر لیڈروں کی موجودگی میں مودی نے کہا کہ اس وقت چناؤ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے بوتھ سطح پر جاکر کام کیا جائے گا۔ میٹنگ میں سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے کہا 2009ء میں ورکروں کی ناراضگی بھاری پڑی اور مناسب ماحول ہونے کے بعد بھی پارٹی ہار گئی تھی اس بار ایسا نہ ہو۔ میٹنگ میں کہا گیا ہے کے حکمراں محاذ ٹوٹ رہا ہے۔ وہاں لیڈر شپ میں گمراہ کن صورتحال بنی ہوئی ہے۔ چناوی حکمت عملی کا تذکرہ کرتے ہوئے راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی نے کہا کہ 2009ء میں یوپی اے کو ملی 265 سیٹوں میں 160 سیٹیں 6 ریاستوں ہریانہ، راجستھان، تاملناڈو، آندھرا پردیش، مغربی بنگال اور اترپردیش سے ملی تھیں۔ ان ریاستوں میں کانگریس کمزور پڑی ہے اور اتحادی ساتھ چھوڑ رہے ہیں۔بہت دنوں کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کے نظریئے ، ویژن میں فرق آیا ہے۔ یہ صحیح سمت میں صحیح قدم ہے ۔ پردھان منتری کون بنے گا یہ طے کرنا اتنا ضروری نہیں۔ ضروری ہے لوک سبھا چناؤ کے لئے صحیح توجہ۔ اشو امیدواروں کا انتخاب ،صحیح پروپگنڈہ، سلیکشن انتہائی ضروری ہے اور راجناتھ سنگھ یہی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
(انل نریندر)

اور اب ایران بنام یوکرین

مغربی ایشیا کی دو بڑی لڑائیاں اب ایک دوسرے سے وابستہ دکھائی دے رہی ہیں ۔ایک طرف پچھلے کئی ماہ سے امریکہ ایران کے درمیان کشیدگی اور فوجی کارو...