Translater

05 جنوری 2013

میں جنتر منترپر ڈٹے لوگوں کے جذبے کو سلام کرتا ہوں!

میں ان ہزاروں لاکھوں لوگوں کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں جو16 دسمبر کی آبروریزی کی واردات کے بعدسے دامنی ،انامیکا کو انصاف دلانے کے لئے لڑائی لڑ رہے ہیں۔ آپ کو پہلی کامیابی مل گئی ہے۔ دہلی پولیس نے واردات کے 18 دن بعد پہلی چارج شیٹ داخل کردی ہے۔ یہ آپ کادباؤ ہی ہے، جذبہ ہی ہے جس نے اس گونگی ،بہری اور لاچار سرکار و انتظامیہ کو ایسا کرنے پر مجبور کیا ہے۔ چارج شیٹ داخل کرنے میں ہی مہینوں لگ جاتے تھے۔ یہ بھی قابل تسلی ہے کہ دہلی پولیس نے اس معاملے میں گرفتار پانچوں ملزمان کے خلاف قتل، آبروریزی، اغوا اور دیگر جرائم کے الزام لگائے ہیں۔ چارج شیٹ میں اس معاملے کے ملزم رام سنگھ، اس کا بھائی مکیش ساتھی پون گپتا، ونے شرما، اکشے ٹھاکرکے خلاف آئی پی ایس کی دفعہ کے تحت مندرجہ بالا دفعات کے تحت الزامات لگائے گئے ہیں۔ اس معاملے میں چھٹا ملزم نابالغ ہے۔ اس کے خلاف جونیل انصاف بورڈ کے ذریعے ہی کارروائی کو انجام دیا جائے۔حالانکہ پولیس اسے پورے واقعے کی کڑی مانتی ہے۔ اپنی چارج شیٹ میں اس نابالغ ملزم کا کردار خاص طور سے بیان کیاگیا ہے۔ میں ان لوگوں کے جذبے کو سلام کرتا ہوں جو اس کڑاکے کی سردی میں دامنی، انامیکا کو انصاف دلانے کے لئے کھلے آسمان کے نیچے دن رات دہلی کے جنترمنتر پر مسلسل مظاہرہ و دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ اس واردات نے ذات، مذہب ہی نہیں ریاستوں کی دیواریں بھی توڑ دی ہیں اور نہ کوئی اونچا ہے نہ کوئی پسماندہ، نہ کوئی ہندو ہے ،نہ سکھ نہ عیسائی۔نہ کوئی لال جھنڈا ، نہ بھگوا اور نہ ہی کوئی اور رنگ کا جھنڈا۔ سبھی کی ایک ہی مانگ ہے کے عورتوں کی سلامتی کے لئے سخت قانون بنے۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ عورتوں کے مفادات کی حفاظت کے لئے عورتوں سے زیادہ مرد جدوجہد کرتے نظر آرہے ہیں۔ آبروریزی کے خلاف گذرے کئی دنوں سے جنترمنتر پربھوک ہڑتال پر بیٹھے ایک شخص کی حالت بگڑ گئی ہے۔ پولیس کی جانب سے اسے آر ایم ایل ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔کینڈل مارچ کے علاوہ بدھوار کو کئی لوگوں نے امن مارچ ، شانتی یگیہ کا بھی انعقاد کیا۔ سخت سردی سے سینکڑوں لوگو ں نے صبح پرارتھنا کی، دوپہر کو نکڑ سبھائیں منعقد کیں جبکہ شام کو کینڈل مارچ ہوا۔ ادھر ٹیم کیجریوال کی جانب سے منٹو برج کے پاس طالبعلم پارلیمنٹ لگائی گئی۔جنتر منتر مظاہرین کا سنگھرش چوک بن گیا ہے۔ اتنی سردی میں بھی لوگ انشن پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اس امید میں کے اگلی صبح عورتوں کی حفاظت کے لئے کوئی ٹھوس قانون بنے۔ عورتوں کے مفادات کے لئے ہورہے اس سنگھرش میں کوئی راجستھان سے آکر انصاف کا نعرہ بلند کررہا ہے تو کوئی ہریانہ ،پنجاب سے آکر بیٹیوں کی حفاظت کی اپیل کررہا ہے۔ یہ سب مبارکباد کے مستحق ہیں، انہی کی جدوجہد رنگ لانے لگی ہے۔ ریکارڈ ٹائم میں چارج شیٹ اس لمبی لڑائی کی پہلی جیت ہے۔ یہ پریشر تب تک بنا رہنا چاہئے جب تک دیش میں عورتوں کی مکمل حفاظت کے لئے موثر قدم نہیں اٹھائے جاتے اور آبروریزوں کو سخت سے سخت سزا نہیں ملتی۔
(انل نریندر)

ٹھنڈر سے ٹھٹھرتے غریب و بے سہارا لوگ!

این سی آرسمیت پورے نارتھ بھارت میں لوگ سردی کے ستم کے شکار ہیں۔ راجدھانی دہلی میں 43 سال کا سردی کا ریکارڈ توڑتے ہوئے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 11 ڈگری سے کم اور 9 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا۔ وہیں کم از کم سردی کا درجہ حرارت4.8 ڈگری تک درج کیا گیا۔ محکمہ موسمیات نے بتایا کہ 1970ء کے بعد دہلی میں اتنی ٹھنڈ کبھی نہیں پڑی۔ 2011ء میں جنوری میں یہ11 ڈگری تھا۔ پاکستان اور افغانستان کی طرف سے آنے والی سرد ہوائیں پہاڑی علاقوں میں برفباری، گھنے کہرے میں ڈوبتی سورج کی کرنوں کے سبب درجہ حرارت میں کمی درج کی گئی۔ اگلے کچھ دنوں میں سردی بڑھنے کا آثار ہیں۔ اب تک سردی سے100 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ زیادہ تر اموات اترپردیش میں ہوئی ہیں۔ پنجاب و ہریانہ کے میدانی علاقوں میں درجہ حرارت 2 ڈگری سے کم درج کیا گیا۔ موسم کے ماہرین کا کہنا ہے آنے والے دنوں میں دہلی سمیت شمالی ہندوستان میں کڑاکے کی سردی پڑے گی۔ ظاہر ہے ایسے میں عام آدمی کا ٹھٹھرنا اور بڑھ جائے گا اور ان لوگوں کی تعداد بھی بڑھے گی جو غریبی کے چلتے ٹھنڈ سے لڑتے ہوئے ہار جائیں گے۔ 
موسم کا یہ مزاج مستقبل میں بھی یوں ہی رہے گا یعنی ٹھنڈ ایسے ہی پڑتی رہے گی۔ یہ تو تقریباً طے ہے لیکن زبردست سردی کے سبب لوگوں کی جان جاتی رہے ان کی مجبوری تو ظاہر کرتی ہے اور سسٹم پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان لگتا ہے جو خطرناک سردی کی لہر کے ساتھ ایک بار پھر سرکار اور انتظامیہ کی بے رخی اور بدانتظامی اجاگر کرتی ہے۔ پچھلے برس ایسے ہی موسم میں سپریم کورٹ نے دہلی میں واقعے آل انڈیا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ اینڈ سائنس کے برآمدے کے باہر ٹھٹھرے لوگوں کی تصویریں دیکھ کر دہلی سمیت تمام ریاستی سرکاروں کو یہ یقینی کرنے کے لئے ہدایت دی تھی کہ کسی بھی شخص کی موت ٹھنڈ سے نہیں ہونی چاہئے۔ لیکن لگتا ہے ان کی اس ہدایت کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔ اکیلے ناردن انڈیا میں سرد لہر کے سبب 100 سے زائد لوگ جان گنوا چکے ہیں اور لاکھوں لوگ یا تو تنگ جھونپڑیوں میں یا کسی آڑ کے سہارے ٹھٹھرتے ہوئے راتیں گذارنے پر مجبور ہیں۔ پتہ نہیں ایسا کیوں ہوتا ہے یہ لوگ اکثر ترقیاتی اسکیموں کے فائدے میں پیچھے چھوٹ جاتے ہیں، ان کے لئے کوئی ماسٹر پلان نہیں بنتا نتیجتاً انہیں موسم کی مار جھیلنا پڑتی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ چھوٹا موٹا کاروبار کرتے ہیں اس سے اتنی آمدنی نہیں ہوتی اس لئے ایک صحیح چھت کا انتظام کریں۔ مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ انہیں اپنے بال بچوں کا پیٹ پالنا بھی مشکل ہورہا ہے۔ مگر ایسا سال درسال ہوتا ہے ۔ یہ غریب جو جیسے تیسے پیٹ بھرنے کے لئے دن بھر کی سخت محنت کے بعد سڑک کے کنارے فٹ پاتھ ، ٹوٹی پھوٹی جھگیوں، کھلے میدانوں یا کھیتوں میں رات گذارنے کے لئے مجبور ہیں۔ یہ غریب ہیں لہٰذا نہ تو ان کی کوئی آوا ز سنتا ہے۔ ایسے غریب لوگوں کے لئے کیا دہلی اور کیا یوپی ۔ یہ گمنام لوگ ہیں اور گمنامی کے اندھیرے میں ہی دم توڑدیتے ہیں۔ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کیا ان لوگوں کو موت سے بچایا نہیں جاسکتا؟ لیکن سرکار نہ تو انتظامیہ کو ان گمنام لوگوں کی فکر ہے اور نہ چنتا۔
(انل نریندر)

04 جنوری 2013

متاثرہ کا نام ظاہر ہوناچاہئے تھرور کی رائے صحیح!

اپنی اپنی رائے ہوسکتی ہے۔ مسٹر ششی تھرور مرکزی وزیر مملکت انسانی وسائل ترقی نے تجویز رکھی ہے کہ آبروریزی کی شکار لڑکی کی موت کے بعد اس کا نام ظاہرہونا چاہئے اور ساتھ ہی اس کو سنمانت بھی کرنا چاہئے۔ تھرور نے اپنے ٹوئٹ میں حیرانی ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ لڑکی کا نام چھپائے رکھنے کا آخر کیا مقصد ہے۔ اگر لڑکی کے والدین کو اعتراض نہ ہو تو اس کا نام اور شناخت ظاہر کی جانی چاہئے تاکہ اسے سنمان دیا جاسکے۔ ترمیم کئے جارہے بدفعلی سے متعلق قانون کا نام بھی اس کے نام پر رکھا جانا چاہئے۔ وہ ایک انسان تھی جس کا نام تھا نہ صرف ایک سنبل۔ اس تبصرے پر بھاجپا نے نپا تلا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ وہیں کانگریس بچاؤ کی شکل میں دکھائی پڑتی ہے جبکہ انا ہزارے سے جڑی سماجی ورکر کرن بیدی نے ششی تھرور کی تجویز کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا ہے کہ میں انسداد بدفعلی کے نئے قانون کا نام اس لڑکی کے نام پر رکھنے کے لئے ششی تھرور کی تجویز کی حمایت کرتی ہوں۔ امریکہ میں بریڈی، میگن ، کارلی یا جیسیکا قانون جیسی کئی مثالیں ہیں۔ بھاجپا کے ترجمان شاہنواز حسین نے کہا کہ یہ وقت سخت قانون بنانے کا ہے نہ صرف متاثرہ کی شناخت کو چھپائے رکھنے یا سامنے لانے پر بحث کا۔آئی پی ایس کی دفعہ228A کے تحت متاثر کا نام شائع یا نشر کرنا جرم ہے۔ متاثرہ کی پہچان شائع کرنے کو لیکر دو انگریزی اخباروں کے خلاف پولیس نے کیس درج کیا ہے۔ بدھ کو جب متاثرہ کے بھائی اور والد سے یہ بات بلیا میں واقع ان کے آبائی گاؤں میں پوچھی گئی تو دونوں باپ بیٹے نے کہا کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ اور انہوں نے آبروریزی کے خلاف دیش میں جو سخت قانون بنانے کی بات جاری ہے اس کا نام ان کی بیٹی کے نام پر رکھا جاتا ہے تو انہیں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ اس کے تئیں سنمان ہوگا۔ سپریم کورٹ کی گائڈ لائنس اور ہدایت کے مطابق آبروریزی کی شکار عورت کا نام سامنے نہیں لایا جاسکتا۔ اسی درمیان مرکزی وزیر داخلہ نے صاف کردیا ہے کہ مجوزہ قانون کو کسی شخص خاص کا نام دینے کی کوئی روایت نہیں ہے۔ آئی پی ایس کی دفعہ میں کسی شخص کا نام شامل کرنے کی سہولت نہیں ہے۔ اس لئے سرکار یہ سلسلہ شروع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ جیساکہ میں نے کہا اپنی اپنی رائے ہوسکتی ہے۔ ہماری رائے میں تو اس کا نام اب سامنے لانا چاہئے۔ اس کی قربانی کو یادگار بنانے کے لئے یہ ضروری ہے۔ قانون میں متاثرہ کا نام اس لئے بچا کر رکھا گیا ہے تاکہ اس کا جینا مشکل نہ ہوجائے اور سماج میں اس کی اور بے عزتی نہ ہو، یہ ٹھیک بھی ہے۔ لیکن اس کیس میں یا ایسے ہی معاملوں میں جب متاثرہ اپنی جان گنوا چکی ہے تو اس کیس میں فرق ہوجاتا ہے۔ آج اس متاثرہ کے نا م پر اسکول، ہسپتال ،فلائی اوور وغیرہ وغیرہ بنانے کی تجویزیں آرہی ہیں۔ اگر نام ہی نہیں ہوگا تو کس کے نام پر یہ سب سمرپت ہوگا؟کیا قانون اس کے نام پر بنانا ہے یہ ہی فیصلہ سرکار کو کرنا ہے لیکن اس بدقسمت کا نام اس کو یاد کرنے کے لئے ضروری ہے۔
(انل نریندر)

کھاپ پنچایتوں کا نیافرمان:آبروریزوں کو نہ ہو پھانسی

عورتوں کے خلاف جنسی جرائم کے معاملے سے نمٹنے کے لئے بدھوار کو نئی دہلی میں ایک فاسٹ ٹریک عدالت کا افتتاح کرنے کے بعد ہندوستان کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس التمش کبیر نے کہا دہلی میں23 سالہ طالبہ کے ساتھ16 دسمبر کو جو اجتماعی آبروریزی ،قتل کے معاملے کے واقعہ کے معاملے میں تیزی سے مقدمہ نمٹانے کی وکالت کی۔ عوام کی ناراضگی کو جائز مانتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ اگر گاڑیوں کے شیشوں سے کالی فلم ہٹانے کو لیر سپریم کورٹ کی گائڈ لائنس کی تعمیل کی گئی ہوتی تو اس واردات سے بچا جاسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اچھا لگا کہ اس گھناؤنے واردات کے بعد لوگوں نے عورتوں کے خلاف ہونے والے جرائم پر آواز اٹھانی شروع کردی ہے۔ انہوں نے یہاں ساکیت ضلع عدالت میں فاسٹ ٹریک عدالت کا افتتاح کرتے ہوئے یہ امید ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے ہمیں الزام تراشیوں سے بچنا چاہئے۔ جسٹس کبیر نے کہا کہ اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ہمیں مسئلے کی جڑ میں جانا ہے۔ یہ معاملہ جنتا کی نظروں میں ہے اور اس معاملے میں جلدی سے جلدی مسئلہ نمٹانا چاہئے۔ انہوں نے لوگوں کے اس رد عمل کو بھی خطرناک قراردیا کے ملزموں کو لوگوں کے حوالے کردیا جائے اور ان پر مقدمہ نہ چلائیں ، انہیں ہمیں سونپ دیں تو ہم ان سے نمٹ لیں گے، انہیں پھانسی پر لٹکادو۔ پھانسی کی بات آئی ہے تو ہم قارئین کو یہ بھی بتائیں گے کہ پھانسی دینے یا نہ دینے پر ہرجگہ کچھ لوگ بحث چھیڑے ہوئے ہیں۔ ہریانہ کی کھاپ پنچایتوں نے ایک نیا فرمان جاری کیا ہے کہ سرکار اس جرائم کی سزا پھانسی نہ طے کرے کیونکہ جلد بازی میں ایسا کوئی فیصلہ ٹھیک نہیں ہوگا۔ پچھلے دو تین دنوں سے ہریانہ کے کئی ضلعوں میں کھاپ پنچایتوں کی میٹنگ چلتی رہی۔ پنچایتوں نے فیصلہ کیا ہے اگر سرکار آبروریزوں کو پھانسی کی سزا کا قانون بناتی ہے تو اس کی مخالفت کی جائے گی۔ کھاپ پنچایت کے ایک بڑے نیتا نے کہا کہ ایسے معاملوں میں پھانسی کی سزا یا قانونی شق شامل کر لی گئی تو اس کا بیجا استعمال ہوجائے گا۔ جیسے کے جہیز و پسماندہ ذاتوں سے وابستہ معاملوں میں ہورہا ہے۔ اگر اتنی سخت سزا دی جانے لگی تو تمام لوگ رنجش میں ایک دوسرے پر آبروریزی کا الزام لگانے لگیں گے۔ ویسے بھی ان کے مطابق خطرناک جرائم پیشہ کو سماج میں سدھرنے کا موقعہ ملنا چاہئے۔ اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے آل انڈیا ڈیموکریٹک وومن ایسوسی ایشن کی جنرل سکریٹری جگمتی سانگوان نے کہا کہ ایسے وقت میں جب پورے دیش میں آبروریزوں کو پھانسی کی سزا کی مانگ اٹھ رہی ہے تو یہ کھاپ پنچایتیں آبروریزوں کو سخت سزا سے بچانے کے لئے اس طرح کی باتیں کررہی ہیں۔ پہلے بھی یہ پنچایتیں تمام طالبانی فیصلے لیتی رہی ہیں۔ اس کے پیچھے خاص وجہ یہی ہے کھاپوں کے تمام چودھری ہریانہ کے آبروریزی کے ملزمان کو بچانا چاہتے ہیں۔ قابل ذکر ہے پچھلے مہینے میں اس پردیش میں آبروریزی کے 20 معاملے سامنے آئے ہیں۔ یہاں پر دلت لڑکیوں کو زیادہ شکار بنایا جارہا ہے۔ ایک معاملے میں تو پچھلے دنوں کانگریس چیف سونیا گاندھی بھی افسوس جتانے گئی تھیں اور ان کے جانے کے بعد ہی پولیس نے سخت کارروائی کی تھی۔
(انل نریندر)


03 جنوری 2013

سیدھی رشوت کا نیا نام ’ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر‘ یعنی ڈی بی ٹی

مرکزی سرکار کی گیم چینجر اسکیم کیش سبسڈی پہلے ہی قدم پر کریش ہوگئی۔ سرکار آدھی ادھوری تیاری کے باوجود اس اسکیم کو 1 جنوری2013ء سے لاگو کرنے والی تھی۔طے تو یہ کیا گیا تھا کہ 51 اضلاع میں یہ یکم جنوری سے لاگو ہوگی لیکن پہلے مرحلے میں اسکیم کے لڑکھڑاتے قدم صرف20 اضلاع میں ہی پڑ سکے۔اس پر بھی عالم یہ ہے کہ یہ اسکیم صرف طلبہ وظیفہ تک سمٹ کر رہ گئی ہے۔ فی الحال اسکیم میں صرف7 اسکیموں کو شامل کیا جاسکا ہے۔ ڈیزل، کھاد، غذا اور مٹی کے تیل پر فی الحال کیش سبسڈی نہیں ملے گی۔ سبسڈی کی رقم سیدھے فائدہ حاصل کرنے والے کے کھاتے میں پہنچانے کی سرکار کی تیاری بھی ابھی پوری نہیں ہوسکی ہے۔ بہرحال کیش سبسڈی اسکیم پہلی جنوری سے جن اضلاع میں لاگو ہورہی ہے ان میں اترپردیش، اتراکھنڈ کا ایک بھی ضلع شامل نہیں ہے۔ 20 ضلعوں میں تقریباً دو لاکھ لوگوں کے بینک کھاتوں میں 7 اسکیموں کا پیسہ ٹرانسفر کیا جائے گا۔ فروری۔ مارچ سے ضلعوں کی تعداد بڑھائی جائے گی جبکہ سال کے آخر تک اسے پورے دیش میں لاگو کرنے کی تجویز ہے۔ سیاسی فائدے کے الزامات کے بعد سرکار نے اس اسکیم کے نام میں نقدی لفظ ہٹا کر ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر ڈی بی ٹی کا نام دیا ہے۔ جن اسکیموں پر کیش سبسڈی ملے گی وہ ہیں درجہ فہرست ذاتوں کے طلبا کو، میٹرک سے پہلے ملنے والے وظیفے اور شیڈول قبائل اور او بی سی ذاتوں کے طلبا کے کو ملنے والے وظیفے ،اندرا گاندھی امدادی اسکیم اور دھن لچھمی اسکیم وغیرہ شامل ہیں۔ کرپشن میں بری طرح ڈوبی ہوئی یہ یوپی اے سرکار اور کانگریس پارٹی نے اب سیدھے عوام کو رشوت دینے کی اسکیم بنائی ہے۔طریقہ جو بھی اپنایا گیا ہے وہ بھی کرپشن کا ہی ہے۔ کانگریس کو2014ء لوک سبھا چناؤ کی فکر کھائے جارہی ہے۔ ماحول اتنا خراب ہوگیا ہے کہ پارٹی لیڈر شپ کو یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کیسے ماحول کو اپنے حق میں بنائیں۔ ظاہر سی بات ہے کیونکہ معاملہ سیدھا سیاسی ہے اس لئے بڑی اپوزیشن پارٹی بھاجپا اس کی مخالفت کرے گی اور اس کی خامیوں کو گنائے گی۔ بھاجپا ترجمان شاہنواز حسین نے کہا جن لوگوں کو اس کا فائدہ ملنا ہے ان سبھی کے بینک کھاتے ابھی تک نہیں کھل پائے اور آدھار نمبر بھی نہیں مل پایا۔ مرکزی سرکار پر برستے ہوئے بھاجپا نے کہا کہ اس فیصلے سے غریبوں کا کوئی بھلا ہونے والا نہیں ہے۔ سرکار نے بغیر تیاری کے ہی اسکیم کا اعلان کردیا ہے۔ شاہنواز نے الزام لگایا کہ فیصلہ لوگوں کو گمراہ کرنے والا ہے کیونکہ سرکار کے لئے بی پی ایل خاندانوں کی صحیح تعداد پتہ نہیں ہے۔ ایک طرف مسلسل بڑھتی مہنگائی اور دوسری طرف ترقی شرح گھٹ رہی ہے تو سرکار اس اہم مسئلے سے جنتا کی توجہ بانٹنے کے لئے اس طرح کی اسکیم اعلان کررہی ہے۔ ایسے میں ہر سال 9 کروڑ سے زیادہ کنبوں کو قریب30 ہزار کروڑ روپے کی ادائیگی کرنا بہت بڑی چنوتی ہوگی۔ تمام سرکاری قواعد کے باوجود ابھی بینکوں کی پہنچ صرف 35 فیصدی لوگوں تک ہے اور اقتصادی و کمزور طبقہ تو اور بھی دب گیا ہے۔
(انل نریندر)

ایک چنگاری بھی تختہ پلٹ کیلئے کافی ہوتی ہے

17 دسمبر2010ء سے پہلے تک پوری دنیا میں کوئی بھی آدمی طارق الطیب محمد بجو جی جانتا نہیں تھا۔ بجو جی تیونس کے شہر سدی باؤجد میں پھل بیچتا تھا۔ پولیس کی ذیادتی اور کرپشن سے پریشان ہوکر اس نے آگ لگا لی تھی۔یا یوں کہیں کہ تیونس میں انقلاب کی آگ لگا دی تھی۔ بجو جی 4 جنوری 2011ء کو یہ دنیا چھوڑ گیا تھا لیکن اس کے بعد تیونس کے صدر زین العابدین بن علی 10 دن بھی اقتدار میں نہ رہ پائے۔ ان کے 23 سال کے عہد کا خاتمہ 14 جنوری 2011ء کو ہوگیا۔ صدر بن علی ہی نہیں بجوجی کی موت نے مصر ،بحرین، لیبیا، یمن، الجزائر سمیت پورے عرب خطے میں ناراضگی کی لہر پیدا کردی۔ ہندوستان میں ایک دریامنے طبقے کی بٹیا کی موت نے بھی شاید ایسی ہی چنگاری لگادی کہ حکمرانوں کو دیش کی عوام کی آواز کے سامنے جھکنا پڑا۔ انامیکا، دامنی یا جو کچھ اس بدقسمت کا نام رہا ہو، نے بھارت کو تو ہلا ہی دیا ہے ساتھ ساتھ مہذب دنیا کو بھی توجہ مرکوز کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اقوام متحدہ سے لیکر تمام غیر ملکی میڈیا میں یہ معاملہ چھایا رہا۔ اقوام متحدہ انسانی حقوق کمشنر نوی پلے نے دہلی اجتماعی آبروریزی کی متاثرہ کی موت پر دکھ ظاہر کرتے ہوئے حکومت ہند سے اپیل کی کے ایسے واقعات کو روکنے کے لئے دیش کے قانون و انتظام کو مضبوط بنایا جائے۔ برطانوی اخبار ’ڈیلی میل‘ نے انامیکا کی لاش کو اسٹریچر پر لے جاتے ہسپتال ملازمین کی فوٹو لگائی ہے ساتھ میں ایک بینر والی فوٹو بھی شائع کی ہے جس میں سونیا ،منموہن اور شیلا دیکشت سے استعفیٰ دینے کو کہا گیا ہے۔ ’نیویارک ٹائمس‘ نے عنوان دیا ہے ’وکٹم آف گینگ ریپ اِن انڈیا ڈائز ویٹ گیلون نائزڈ انڈیا‘ یعنی بھارت میںآبروریزی کی متاثرہ کی موت جس نے بھارت کو ہلا دیا۔ اخبار نے لکھا کے متاثرہ نے خاموشی سے آخری سانس لی۔ اس کی موت ان خطروں کے تئیں وارننگ ہے جس کا سامنا بھارت میں عورتیں کررہی ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے ماہرین کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس واردات سے عام طور پر سنجیدہ ہندوستانیوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس واردات کے تئیں غصہ بدلتی طرز زندگی، سوشل میڈیا کے استعمال اور بڑبولے سماج کے سبب بھی بڑھا ہے۔ انہی اسباب کے چلتے پچھلے سال کرپشن کے خلاف تحریک کو کامیابی ملی تھی۔ دہلی میں23 سالہ انامیکا کے واقعے نے عام ہندوستانیوں کا ہی نہیں بلکہ پورے دیش کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ پڑوسی چین کے میڈیا می بھی بھارت کے سماج اور سسٹم پر طنز کیا ہے۔ اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے ہندوستانی جمہوری نظام اور قوم کی لاچاری کو ظاہر کرتے ہے۔ رپورٹ میں چینی مبصر کے حوالے سے لکھا گیا ہے بھارت اقتصادی ترقی میں چین سے قریب ایک دہائی پیچھے ہے اور سماجی سیکٹراور ترقی میں تین دہائی پیچھے چل رہا ہے۔ چین کے اخبار ’گلوبل ٹائمس‘ نے لکھا ہے بھارت میں عورتوں پر ذیادتیاں چونکانے والی ہیں۔ نئی دہلی میں2011ء میں آبروریزی کے 572 معاملے ہوئے اور پچھلے40 سالوں میں ان کی تعداد میں سات گنا اضافہ ہوا ہے۔ کبھی کبھی حکمراں طبقہ عوام کے درمیان بھڑک رہی جوالہ کو پہچاننے میں بھول کر جاتا ہے ایک چھوٹی سی چنگاری ایسی آگ بھڑکا سکتی ہے جس کے بہت دوررس نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ 
(انل نریندر)

02 جنوری 2013

یہ سرکار جھکتی ہے بس جھکانے والا چاہئے!

دامنی کی قربانی آہستہ آہستہ رنگ لانے لگی ہے۔ ماحول بدلنے لگا ہے۔ سماج میں پولیس انتظامیہ میں تھوڑی تبدیلی آنی شروع ہوگئی ہے۔ اس بدلے ماحول کو دہشت کہیں یا ہوا کا رخ؟ وسنت وہار گینگ ریپ کی سنسنی خیز واردات کے بعد مہرولی تھانے میں دو طالبہ تین لڑکوں کے خلاف چھیڑ چھاڑ اور جان سے مارنے کی دھمکی کا الزام لگاتے ہوئے کیس درج کرایا۔ آبروریزی کے واقعے سے تنازعوں میں گھری دہلی پولیس نے فوراً چھیڑ خانی کے ملزمان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کی دھڑ پکڑ کے لئے چھاپہ ماری کی۔ نتیجہ یہ ہوا تینوں ملزمان میں سے ایک نے پھانسی لگا کر جان دے دی اور دوسرے نے ڈر کے مارے زہر کھالیا۔ جان دینے والے نے خودکشی نامے میں لکھا ہے کہ اب میری وجہ سے کسی کو کوئی بھی دقت نہیں ہوگی، میں موت کو گلے لگا رہا ہوں۔ زہرکھانے والے ملزم کو نازک حالت میں ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ جہاں اس کی حالت بقدر بہتر بتائی جاتی ہے۔ حالانکہ اتنی گھناؤنی واردات ہوئی ہے اور سارے دیش میں ناراضگی ہے لیکن دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ سماج میں ماحول نہیں بدلا۔ پچھلے آٹھ گھنٹوں میں کہیں اسکول وین میں بچی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی وادات ہوئی تو شراب کے نشے میں آبروریزی کی کوشش بھی کی گئی۔ مزاحمت کرنے پر ملزمان کے ذریعے عورتوں اور بچوں کو مارا پیٹا بھی گیا۔ کل 9 تھانوں میں ہوئی واردات میں پولیس نے 14 لوگوں کو پکڑا ہے۔ ان مجموعوں میں ایک انجینئرنگ کی طالبعلم بھی شامل ہے۔ اگر یہ حکومت ،پولیس ،انتظامیہ اور سماج یہ سمجھتا ہے کہ عوامی ناراضگی دو چار دن کا موسم ہے وہ بھی ٹھنڈ کی طرح ٹھنڈا ہوجائے گا تو وہ سب غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ 20 سال پہلے بھی ایسا ہی کچھ ہوا تھا جب رنگا بلا نام کے دو قصورواروں نے ایک فوجی افسر کے بچوں کا اغوا کر بدفعلی کے بعد مار ڈالا تھا۔ اس وقت رنگا بلا کی پھانسی کی سزا پر روک کی مخالفت میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو اسکولی بچوں کی 30 ہزار چٹھیاں ملی تھیں۔ عدالت نے عوام کے جذبات کا احترام کر پھانسی پر روک ہٹائی تھی۔
تاریخ نے خود کو دوہرایا ہے لیکن سرکار بھول گئی ہے کہ وہ عوامی ناراضگی کو لاٹھی چار، آنسو گیس،پانی کی بوچھاروں یا بیریکیٹ لگا کر روک رہی ہے۔ کمیشن اور کمیٹیاں بنا کر خاموش کرنے کی کوشش کررہی ہے اگر یہ ہی کوشش جنتا کو خاص کر عورتوں کو سرکشا دینے کے لئے کی گئی ہوتی تو شاید یہ گھناؤنی واردات رک سکتی تھی۔ ہر یومیہ جمہوریہ پر صدر صاحب بہادر بچوں کو سنجے چوپڑا اور گیتا چوپڑا ایوارڈ سے نوازتے ہیں یہ ہی وہ دو بہادر بچے ہیں جنہوں نے ملزمان سے لڑتے ہوئے اپنی جان کی قربانی دی تھی۔ کیا صرف جس طرح ان کی بہادری صرف ایک احترام یا اعزاز یا اقتصادی مدد تک سمٹ گئی ہے ویسے ہی اس گمنام بہادر لڑکی کی قربانی بھی بیکار چلی جائے گی۔ دیش کی خواتین اور بچوں پر عدم سلامتی کی تلوار بدستور لٹکی رہے گی۔ اگر 20 سال پہلے 30 ہزار اسکولی بچوں نے سپریم کورٹ پر اتنا دباؤ نہ ڈالا ہوتا تو آج تو لاکھوں کی تعداد میں پبلک اس بڑھتی درندگی کے خلاف آواز بلند کررہی ہے۔ انامیکا کی قربانی بیکار نہیں جائے گی۔ ہم سب مل کر ایسا نہیں ہونے دیں گے۔
(انل نریندر)

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...