Translater

24 مارچ 2012

مسلم خواتین کی بدحالی پر کوئی سیاسی پارٹی بولنے کو تیار نہیں



Published On 24 March 2012
انل نریندر
دیش میں مسلمانوں کے شرعی قانون میں اصلاحات و مسلم پرسنل لاء قانون سمیت کئی اصلاحات کئے جانے کی مانگ زور پکڑ رہی ہے۔ ہندوستانی مسلم خاتون تحریک سے وابستہ مسلم مہلا شکشا، سلامتی، روزگار، قانون و صحت کے اشوز پر بیداری لانے کا کام کررہی ہے۔ اترپردیش کے کئی شہروں میں ہندوستانی مسلم خواتین تحریک و پرچم تنظیم مشترکہ طور سے مسلم خواتین کے درمیان جاکر انہیں مضبوط کرنے کی نئی راہ دکھا رہی ہیں۔ دیش میں مسلم خواتین کی حالت ہمیشہ سے زیر بحث رہی ہے۔ مسلم شرعی قانون میں اصلاح کرنے کا وقت آگیا ہے۔ 'دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے۔۔۔' ہندی فلم کا یہ گیت مسلم برادری کی خواتین کا درد بیاں کرتا ہے۔ ایک شوہر کے بھروسے ہی لڑکیاں اپنا مائیکہ چھوڑ کر سسرال آتی ہیں لیکن شوہر جب ایک کے علاوہ تین اور بیویاں رکھنے کا حق شریعت میں ا س صورت میں ہے اگر وہ شخص ایک سے زیادہ بیویوں کا خرچ برداشت کرنے کا اہل ہو اور صاحب حیثیت ہو۔اگر وہ شخص صاحب حیثیت نہیں ہے تو اس کی بیویاں پریشان ہوجاتی ہیں اور جس کے سبب انہیں اپنے لائق شوہر سے طلاق لینے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔مذہب کی آڑ میں کچھ لوگ خود ہی اپنے فائدے کے لئے دس طرح کی باتیں گڑھ لیتے ہیں اور اسلام میں بتائے گئے حالات اور وجوہات کو نظرانداز کردیتے ہیں۔اور اپنی مرضی کے مطابق شرعی قانون کی تشریح کرتے ہیں۔ صوبہ یا ملک کی سیاسی پارٹیاں بھلے ہی ووٹ کی سیاست کی وجہ سے خاموشی اختیار کرلیتی ہیں لیکن دیش میں عورتوں کی حالت اتنی خراب ہے کے سیاسی پارٹیاں اقلیت کی شکل میں مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کی وکالت تو کرتی ہیں لیکن عورتوں کے ساتھ ہورہے مظالم پر خاموشی اختیار کرلیتی ہیں اور پیچیدہ مسئلوں پر رائے زنی کے بعد ووٹ کھسکنے کے ڈر سے پارٹی اس سے کنارہ کرنا ہی مناسب سمجھتی ہے۔ ایسا نہیں کے سبھی مسلم گھرانوں میں حالات بدتر ہیں لیکن جتنے بھی معاملے پرسنل لاء بورڈ میں آتے ہیں وہ زیادہ تر مسلم خاندانوں سے ہی وابستہ ہوتے ہیں۔ 21 ویں صدی میں بغیر کسی اصلاح کے ڈیڑھ ہزار سال پہلے کے قانون میں اصلاح ہونا ضروری ہے۔ شریعت کے آگے پولیس اور موجودہ انسانی حقوق اور دیگر تنظیمیں سبھی لاچار دکھائی پڑتی ہیں۔ ایک خاتون عظیم النساء کی حالت کچھ ایسی ہی ہے۔ وہ گاؤں سلیم پور ،تھانہ سعاد اللہ ،شہر بلرام پور کی باشندہ ہے۔ وہ بے زبان ہے اس کی شادی ایک شخص فیروز ولد کتاب اللہ موضع برگھاٹ،تھانہ بوانی گنج، شہر سدھارتھ نگر میں ہوئی تھی۔ فیروز روزی کمانے کیلئے سعودی عرب چلا گیا، وہاں جاکر اس نے دوسری شادی کرلی۔ عظیم النساء اپنے پانچ سالہ بیٹے کے ساتھ انصاف مانگ رہی ہے۔ مجبورہونے کی وجہ سے اپنی آنکھوں میں درد لئے گھومتی ہے۔ اب مہلا تھانے میں چلنے والے کنبہ جاتی صلاح مشورہ مرکز کے کونسلروں نعیم خان اور سنیتا پانڈے نے بیچ کا راستہ نکالتے ہوئے فیصلے کیا ہے کہ آنے والی یکم اپریل کو مہلا تھانے سے ہی عظیم النساء کی رخصتی ہوگی اور اس کی رخصتی اس کے جیٹھ سے اس بارے میں ایک حلف نامہ دینے کے بعد ہوگی کہ وہ اس کے شوہر کے آنے تک اس کی دیکھ بھال اور کھانے پینے کا انتظام کرے گا۔ دوسرا معاملہ حسینہ خاتون کا ہے۔حسینہ6 بچوں کی ماں ہے، اس کے شوہر عالم پر عشق کا بھوت سوار ہے وہ گاؤں کی ایک نابالغ لڑکی کو بھگا لے گیا ہے۔ بعد میں 376 کے تحت ملزم بناتے ہوئے جیل کی سزا کاٹ کر واپس آنے کے بعد اپنی بیوی حسینہ کو چھوڑنے کیلئے اذیتیں دینے لگا۔ اتنا ہی نہیں اس نے عدالت میں حسینہ پر طلاق کا دعوی بھی ڈال دیا ہے۔ تیسرا معاملہ شبنم کا ہے۔ موضع شہرت نگر کی باشندہ شبنم بانو کے والد محمد زکی کے دروازے پر ہاتھی باندھے جاتے تھے۔ اب وہ نہیں ہیں۔ شبنم کا نکاح محمد استخار ولد محمد کوثر موضع مینا،تھانہ اٹاوہ،شہر سدھارتھ نگر کے ساتھ ہوا۔ والدین کی اکلوتی اولاد شبنم کی رخصتی سے پہلے ہی استخار نے اپنی بیوی کے گھروالوں سے تین لاکھ روپے اور پوری زمین اپنے نام کرنے کی شرط رکھی تبھی ہم رخصتی کرکے لے جائیں گے۔ خاص بات یہ ہے کہ 20 سے30 سال کی عورتوں کا ہی گھر بکھر جاتا ہے۔شہر سمیت صوبائی علاقے میں یومیہ عورتوں کو اذیتوں سے متعلق واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور کسی کو ان کی کوئی فکر نہیں ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Muslim, Muslim Personel Law, Muslim Reservation, Muslim Women, Vir Arjun

کیا منموہن، پرنب اور مونٹیک سنگھ 28 روپے میں گزارہ کرسکتے ہیں؟



Published On 24 March 2012
انل نریندر
پلاننگ کمیشن پتہ نہیں کونسی دنیا میں رہتا ہے۔ اس کی غریبی کی نئی تشریح تو غریبوں کا مذاق اڑانے جیسی ہے۔ پلاننگ کمیشن کے مطابق دیہات میں 22.42 روپے اور شہروں میں 28.65 روپے یومیہ خرچ کرنے والا شخص غریب نہیں ہے۔ اگر وہ غریب نہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ وہ امیر ہیں؟ پچھلے سال ستمبر میں پلاننگ کمیشن نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرکے غریبی کے جو پیمانے پیش کئے تھے اس کو لیکر کافی واویلا مچا تھا۔ اس وقت غریب کا جو پیمانہ تیار کیا گیا تھا اس کے مطابق شہروں میں 32 روپے اور دیہات میں 28 روپے خرچ کرنے والا شخص غریب نہیں مانا گیا تھا۔ اقتصادی ماہرین اور سیاسی پارٹیوں کے ہنگامے پر سرکار غریبی کے نئے پیمانے تیار کرنے کو راضی ہو گئی تھی لیکن پیر کو غریبی کے جو نئے پیمانے پیش کئے گئے وہ تو پچھلی بار سے بھی زیادہ بے تکے اور بے بھروسہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو شخص غریب ہے اسے ماننے میں سرکار کیوں ہچکچارہی ہے؟ پارلیمنٹ سے لیکر سڑک تک پلاننگ کمیشن کے وائس چیئرمین اور منموہن سنگھ کے چہیتے مونٹیک سنگھ اہلووالیہ (جنہیں وزیر اعظم وزیر خزانہ بنانا چاہتے تھے) نشانے پر ہیں۔ پلاننگ کمیشن کے نئے اعدادوشمار بتا رہے ہیں کہ دیش میں غریبوں کی تعداد گھٹ گئی ہے اور شہروں میں جس کی جیب میں28 روپے ہیں وہ تو غریب نہیں ہے۔ ان عجیب و غریب اعدادو شمار پر پارلیمنٹ میں بھاجپا اور یا لیفٹ پارٹیاں سبھی نے سرکار اور مونٹیک سنگھ کو آڑے ہاتھوں لیا۔ بھاجپا کے ایس ایس اہلووالیہ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ کیا وزیر اعظم یا وزیر خزانہ یومیہ 28 روپے میں گزارہ کرسکتے ہیں؟ انہوں نے کہا میں نہیں جانتا کونسی لائن کھینچی جارہی ہے 28 روپے کے یومیہ خرچ کو بنیاد مان کر غریبی کی روک تھام کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ یہ خط افلاس کی لائن نہیں ہے بلکہ یہ بھکمری کی لائن ہے۔ جنتادل (یو) کے ایم پی شیوآنندتیواری نے الزام لگایا کہ پلاننگ کمیشن ورلڈ بینک کے اشاروں پر کام کررہا ہے۔ جنتا دل (یو ) کے شردپوار نے اس موضوع پر بولتے ہوئے کہا کہ پلاننگ کمیشن کے نئے پیمانوں کو دیش کے غریبوں کے ساتھ گھناؤنا مذاق ہے۔ پلاننگ کمیشن کے وائس چیئرمین مونٹیک سنگھ اہلووالیہ جب بھی بولتے ہیں تو دیش میں واویلا کھڑا ہوجاتا ہے اور مہنگائی بڑھ جاتی ہے۔ پلاننگ کمیشن میں ایسے شخص کو بٹھایا جائے جو ورلڈ بینک کا سابق ملازم نہ ہوکر بنیادی حقیقت سے واقف ہو۔ شرد یادو نے کہا میری سرکار سے التجا ہے کہ پلاننگ کمیشن کو اس شخص (مونٹیک سنگھ) سے چھٹکارا دلائے یا پلاننگ کمیشن کو بند کردیں۔ سشما سوراج نے کہا کہ پلاننگ کمیشن کو کیا الزام دیں، قصور تو سرکار کا ہے جو مانتی ہے۔ رپورٹ میں کمیشن نے پہلے بھی مذاق اڑایا تھا۔ رگھوونش پرساد سنگھ کی رائے بھی اسی طرح کی تھی۔ غریبوں کے ساتھ اس طرح کا مذاق غربت کے خاتمے سے متعلق اسکیموں پر سوال کھڑے کرتا ہے۔ملائم سنگھ یادو کا کہنا ہے لکھا پڑھا نہیں ہوں لیکن حقیقی طور پر دور دراز کے گاؤں میں جاکر دیکھئے ،اگر اس کی سچائی کی نظر سے دیکھا جائے تو دیش کی آدھی سے زیادہ آبادی خط افلاس سے نیچے کی زندگی بسر کررہی ہے۔ حکومت نے جلد ہی نئے غذائی سکیورٹی قانون کے نفاذ کی بات کہی ہے۔ اس قانون کے تحت دیش میں ہر غریب کو 2 روپے کلو گیہوں اور3 روپے کلو چاول دیا جانا ہے۔ ایسے میں دیش کی آدھی سے زیادہ آبادی کو رعایتی شرحوں پر گیہوں اور چاول مہیا کرانے سے سرکار پر مالی بوجھ کافی بڑھ جائے گا۔ اس لئے سرکاریں غریبوں کی تعداد کم کرکے دکھانا چاہتی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک وجہ اور بھی ہوسکتی ہے کہ حکومت اپنی اقتصادی اصلاحات کی پالیسی کی پائیداری کو ثابت کرنے کے لئے بھی غریبوں کی تعداد کم دکھانے کی کوشش کررہی ہے۔ جس حساب سے اس سرکار کی اقتصادی پالیسیاں جاری ہیں اس سے تو اگر غذائی اجناس کی قیمتیں صرف10 فیصدی بڑھتی ہیں تو میرے بھارت مہان میں تین کروڑ لوگ غریبی کی ریکھا سے نیچے آجائیں گے۔ ہماری تجویز ہے کہ ہمارے ماہراقتصادیات منموہن سنگھ ، مونٹیک سنگھ اور سی رنگاراجن جیسے درجنوں اس حکومت کے اقتصادی ماہرین دیش کے دور دراز دیہات کا دورہ کریں اور دیکھیں کے آج غریب آدمی کن حالات میں زندگی بسر کرنے کو مجبور ہے۔ ایسا کرنے کے بعد طے کریں غریبوں کی تشریح کی ڈیفی نیشن۔ یہ تشریح بکواس ہے، غریبوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Manmohan Singh, Montek Singh Ahluwalia, Poverty, Pranab Mukherjee, Vir Arjun

23 مارچ 2012

گڈکری کی ہٹّی پھل پھول رہی ہے، پارٹی جائے بھاڑ میں!



Published On 23 March 2012
انل نریندر
بھارتیہ جنتا پارٹی کے ادھیکش نتن گڈکری کے کام کرنے کے طور طریقوں سے زیادہ تر بھاجپا نیتا راضی نہیں ہیں۔ گڈکری کو آر ایس ایس کا نمائندہ مانا جاتا ہے۔ وہ سنگھ کے سمرتھن سے ہی بھاجپا ادھیکش بنے۔ گڈکری ایک تاجر ہیں جو بھاجپا کو اپنی نجی دکان کی طرح چلا رہے ہیں۔ تازہ بوال راجیہ سبھا کی ٹکٹوں کے بٹوارے کو لیکر ہے۔ راجیہ سبھا میں پارٹی کے صحیح امیدواروں کو درکنار کرنے اور مبینہ طور سے پیسے کے زور پر ٹکٹ دینے کے مدعے پر منگلوار کو بھاجپا ممبر پارلیمنٹ کی میٹنگ میں جم کر بوال ہوا۔ یشونت سنہا نے ایک تاجر انشومان مشرا کو سمرتھن دینے کو لیکر سیدھے پارٹی رہنمائی پر سوال اٹھادیا ہے۔ سنہا نے کہا کہ پارٹی ودھائکوں کو ہورس ٹریڈنگ کی منڈی میں نہیں چھوڑنا چاہئے۔ اس میں پارٹی کا انوشاسن بھنگ ہوتا ہے اور امیج خراب ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جھارکھنڈ میں موجودہ راجیہ سبھا چناؤ میں پالیسی کو نہیں بدلا گیا تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ زیادہ تر ممبر پارلیمنٹ ایم ایس اہلووالیہ کو دوبارہ جارکھنڈ سے ٹکٹ دینے پر ناراض تھے۔ بتاتے ہیں کہ اہلووالیہ پر سنگھ نے ویٹو لگادیا تھا۔میٹنگ میں ہماچل سے ممبر پارلیمنٹ شانتا کمار نے کہا کہ اہلووالیہ ایوان میں ایک اثردار نیتا ہیں اور انہیں ایک اور موقعہ ملنا ہی چاہئے تھا۔ نوادہ کے ممبر پارلیمنٹ بھولا سنگھ نے کہا کہ پارٹی کا ضمیر مر چکا ہے اور وہ پیسے کے سامنے جھک رہی ہے۔ بھاولا سے ممبر پارلیمنٹ مینکا گاندھی نے مرکزی رہنمائی سے کرناٹک کے سنکٹ کو ختم کرنے اور یدی یروپا کی مانگ پر دھیان دینے کی اپیل کی۔ اہلووالیہ کو راجیہ سبھا کا ٹکٹ نہ ملنے سے کانگریس اور مایاوتی کی مراد پوری ہوگئی ہے۔ اہلووالیہ یوپی اے سرکار کو تمام مدعوں پر سب سے زیادہ گھیرتے رہے ہیں جن کی وجہ سے سرکار کئی بار پریشانی میں پڑی ہے۔مایاوتی بھی چاہتی تھیں کہ اہلووالیہ کا راجیہ سبھا سے پتا صاف ہوجائے تاکہ ممبر پارلیمنٹ نہ رہنے پر ان کو (اہلووالیہ) اپنا سرکاری بنگلہ 10 گورودوارہ رقاب گنج خالی کرنا پڑے۔ گڈکری چاہتے تو اہلووالیہ کو بھیج سکتے تھے انہیں جیتنے کے لئے بس11 ووٹ کی کمی پڑ رہی تھی جسے وہ جنتا دل (یو) سے پورا کرسکتے تھے لیکن گڈکری اور سشیل نے مل کر وہ سیٹ جنتادل (یو ) کے لئے چھوڑدی ۔جس پر بہار جنتا دل (یو) ادھیکش وششٹھ سنگھ نے نامزدگی کردی جبکہ اہلووالیہ نے اس سیٹ پر گڈکری سے پہلے سے ہی بات کررکھی تھی۔ ممبر پارلیمنٹ کی میٹنگ میں سب سے نازک حالت اڈوانی جی کی تھی۔ پوری میٹنگ میں وہ ایک تماشائی بنے رہے۔
ممبر پارلیمنٹ کے بغاوتی تیور کا اثر فوراً دیکھنے کو ملا۔ کہا جارہا ہے کہ جھارکھنڈ میں جب پارٹی راجیہ سبھا چناؤ میں اپنے ودھائکوں کو کسی آزاد امیدوار کے ووٹ دینے کے لئے دباؤ نہیں دے گی بلکہ کوشش ہورہی ہے کہ بھاجپا ودھائک چناؤ کا ہی بائیکاٹ کریں۔ ادھیکش نتن گڈکری نے اترپردیش ودھان سبھا چناؤ میں ہٹلری اسٹائل سے چناؤ مہم چلائی۔ سب سے پہلے گڈکری نے سپا کے سمرتھن کے بل پر پارٹی کے قد آور نیتا اور گجرات کے مکھیہ منتری نریندر مودی کی مخالفت کے باوجود سنگھ کے پرچارک رہے سابق سنگٹھن منتری سنجے جوشی کو یوپی چناؤ پرچار کا انچارج بنا دیا۔ دوسرا گڈکری نے سبھی پارٹی نیتاؤں کی مخالفت کے باوجود بسپا سے نکالے ہوئے بابو سنگھ کشواہا اور بادشاہ سنگھ کو پارٹی میں شامل کیا۔
پارٹی نے بندیلکھنڈ سے جتنے بھی تجربے کئے سوائے اوما بھارتی کے سب فیل ہوئے۔ مسلم بھتوں کے پولارائزیشنکو روکنے کیلئے اپنے سبھی فائر برانڈ نیتاؤں ورون گاندھی،یوگی ادتیہ ناتھ کو جہاں اپنے حلقے تک محدود کردیا وہیں دوسری طرف ہندووادی چہرہ مانے جانے والے نریندر مودی کو دعوت نامہ بھیجا لیکن جب ان کی ناراضگی ظاہر ہوئی تو انہیں منانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔پارٹی کی سبھی کوششوں کے بعد بھی پارٹی مسلم بھتوں کا پولارائزیشنتو نہ روک سکی بلکہ اپنی اس کوشش میں اس نے اپنے روایتی ووٹ بھی گنوا دئے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پارٹی 2007ء کا بھی مظاہرہ نہ دوہرا سکی۔ چاہے معاملہ اتراکھنڈ کا رہا ہو یا پنجاب کا دونوں ہی راجوں میں بھاجپا کی حالت خراب ہوئی ۔ گڈکری جب سے ادھیکش بنے ہیں بھاجپا کا گراف گرتا ہی جارہا ہے لیکن اس میں نتن گڈکری کو کوئی فرق نہیں پڑتا وہ تو پارٹی کو بطور ہٹّی (دکان) چلا رہے ہیں۔جس کا واحد مقصد ہے پیسہ بنانا اور یہ کام وہ بخوبی کررہے ہیں۔ گڈکری کی ہٹّی تو پھل پھول رہی ہے ،پارٹی جائے بھاڑ میں۔
Anil Narendra, Babu Singh Kushwaha, BJP, Daily Pratap, Jharkhand, Narender Modi, Nitin Gadkari, RSS, Uttar Pradesh, Uttara Khand, Varun Gandhi, Vir Arjun

سپا ۔یوپی اے سرکار میں شامل ہوگی؟



Published On 23 March 2012
انل نریندر
ایتوار کو ایک نامہ نگار نے لکھنؤ میں مکھیہ منتری اکھلیش یادو سے سوال کیا کہ کیا سماجوادی پارٹی یوپی اے سرکار میں شامل ہوگی؟ جواب میں اکھلیش نے کہا کہ ہم یوپی اے سرکار میں شامل ہوں گے یا نہیں اس پر آخری فیصلہ پارٹی ادھیکش ملائم سنگھ یادو (نیتا جی) ہی کریں گے۔ سپا کے کیندریہ سرکار میں سہیوگی بننے کے متعلق دگوجے سنگھ کے بیان پراکھلیش نے کہا کہ نیتا جی دہلی جارہے ہیں، مرکز میں سپا کے کردار کا فیصلہ وہی کریں گے۔ ملائم سنگھ یادو (نیتا جی) سے جب دہلی میں یہی سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ نہ تو ہم سے کسی نے ایسا کرنے کی اپیل کی ہے اور نہ ہی ہم نے کسی سے اپیل کی ہے۔ نیتا جی کی باتوں سے ایسا لگا کہ وہ منموہن سرکار میں شامل ہونے کے لئے زیادہ پرجوش نہیں ہیں۔ مرکزی سرکار بیشک ممتا سے عاجز ملائم سنگھ کی طرف بھلے ہی حسرت سے دیکھ رہی ہو لیکن سپا کی اس میں زیادہ دلچسپی نہیں لگتی۔ یہاں تک کہ سپا نہ تو مرکزی سرکار میں شامل ہوگی اور نہ ہی اسے اپ سبھا پتی کے عہدے کی ضرورت ہے۔ حالانکہ یہ بھی صاف ہے کہ سپا منموہن سنگھ سرکار کو گرانے کی کوئی کوشش نہیں کرے گی اور سمرتھن جاری رکھے گی۔یوپی اے سرکار کو لیکر سپا کا نظریہ بالکل صاف ہے۔ ذرائع کے مطابق اترپردیش ودھان سبھا چناؤ میں بھاری بھرکم جیت کے بعد سپا اب آئندہ لوک سبھا چناؤ تک اس پر کوئی آنچ نہیں آنے دینا چاہتی۔ خاص طور سے اس حالت کے مدنظر جب گذرے سالوں میں بھرشٹاچار اور گھوٹالوں جیسے کئی مورچوں پر مرکزی سرکار کا دامن داغدار رہا ہے۔ اتنا ہی نہیں پارٹی اترپردیش میں کسانوں کی بہتری کے کئی وعدوں پر بھی جیتی ہے جبکہ مرکزی بجٹ میں آنے والے وقت میں ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے اشارے ہیں۔ پارٹی کا ماننا ہے کہ ایسے میں مرکزی سرکار میں شامل ہوکر انہیں گناہوں کا حصہ دار بننا اس کے لئے نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے لہٰذا اس سے دور رہنے میں ہی بھلائی ہے۔
سپا کے اعلی ذرائع نے تو دعوی کیا ہے کہ کانگریس کی رہنمائی والی مرکزی سرکار میں شامل ہونے کا سوال ہی نہیں۔ اس کے پیچھے ایک ترک یہ بھی ہے کہ گذرے سالو ں میں سپا نے بھلے ہی کئی مورچوں پر آگے بڑھ کر مرکزی سرکار کا ساتھ دیا ہو لیکن اترپردیش کے گذرے ودھان سبھا کے چناؤ تک کانگریس نے بھی کبھی اس کے ساتھ دوستانہ رشتے کا ثبوت نہیں دیا۔ غور طلب ہے کہ اترپردیش کے گذرے ودھان سبھا چناؤ میں کانگریس۔بسپا اور مایاوتی کو چھوڑ کر سپا پر ہی سب سے زیادہ حملہ آور رہی تھی۔ایک دوسرے سپا نیتا نے یہ بھی صاف کیا کہ مرکزی سرکار میں شامل ہونے کیلئے کانگریس کی طرف سے کوئی ٹھوس پرستاؤ ویسے بھی ابھی تک نہیں آیا ہے۔کانگریس جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ نے سوموار کو ملائم سنگھ کی جم کر تعریف کی تھی۔سپا کی اولیت ہمیں تو صاف لگتی ہے ۔ سپا کی اولیت اترپردیش میں ایک اچھی سرکار چلانا اور اترپردیش میں پارٹی کو اور مضبوط کرنا ہے نہ کہ کسی دوسری پارٹی کی غلطیوں میں شریک ہونا۔
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Congress, Daily Pratap, Samajwadi Party, UPA, Vir Arjun

22 مارچ 2012

Reminder: Mohsin Syed invited you to join Facebook...

facebook
Hi,
Syed wants to be your friend on Facebook. No matter how far away you are from friends and family, Facebook can help you stay connected.
Other people have asked to be your friend on Facebook. Accept this invitation to see your previous friend requests
Mohsin Syed
99 friends · 65 photos · 10 notes · 11 Wall posts
Accept Invitation
Go to Facebook
This message was sent to advertisement2.urdu@blogger.com. If you don't want to receive these emails from Facebook in the future or have your email address used for friend suggestions, please click: unsubscribe.
Facebook, Inc. Attention: Department 415 P.O Box 10005 Palo Alto CA 94303

کیا سید محمد کاظمی پر دہلی پولیس جھوٹا کیس بنا رہی ہے؟



Published On 22 March 2012
انل نریندر
اسرائیلی سفارتخانے کی کارمیں دھماکے کے معاملے میں گرفتار صحافی سید محمد کاظمی کیا بے قصور ہے یا انہیں زبردستی دہلی پولیس نے گرفتار کیا ہے یا یہ حملے میں ایک اہم کڑی ہے؟ یہ سوال کاظمی کی گرفتاری کے بعد سے ہی اخباروں میں بنا ہواہے۔ ایک سینئر صحافی نے کہا کہ دہلی پولیس نے اسرائیل او امریکہ کے کہنے پر کاظمی کو گرفتار کیا اور اس کی گرفتاری کی اصل وجہ تھی ۔وہ اپنی رپورٹوں میں مشرقی وسطیٰ کے صحیح حالات پیش کرتا تھا جس سے دونوں اسرائیل اور امریکہ ناراض ہیں۔ اسے روکنے کیلئے دہلی پولیس نے یہ ڈرامہ رچا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ممبر اور سرکردہ شیعہ عالم مولانا کلب جواد نے لکھنؤ میں کہا کہ دہلی پولیس کمشنراسرائیلی ایجنٹ ہیں اور ان کی پراپرٹی کی جانچ ہونی چاہئے۔ مولانا جواد نے میڈیا سے کہا دیش میں پچھلے قریب 20 برسوں سے بے قصور مسلمانوں کو دہشت گردی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ گذشتہ 13 فروری کو دہلی میں ہوئے دھماکے میں سینئر صحافی سید محمد کاظمی کی گرفتاری اس کی نئی کڑی ہے۔ دوسری طرف دہلی پولیس نئے نئے ثبوت پیش کررہی ہے۔ معاملے کی جانچ میں لگے ذرائع نے بتایا کاظمی کے ایران سے گہرے رشتے ہونے کے پکے ثبوت ملے ہیں۔ کاظمی کئی بار ایران گیا تھا۔ اس دوران اس نے دھماکے سے وابستہ دوسرے ایرانیوں سے ملاقات کی تھی۔ کاظمی نے پولیس کو بتایا کہ وہ 7 جنوری2011ء کو ایران گیا تھا۔ اس بار اس کی ملاقات سید علی اور علی رضا سے ہوئی تھی۔ سید علی نے اسے ایرانی سائٹ پر موت کا بدلہ لینے کی بات کہی تھی۔ سید نے اسے تہران میں 3 ہزار ڈالر اور ایک موبائل فون بھی دستیاب کرایا تھا اور واپس دہلی لوٹنے پر اس کی کئی بار سید سے فون پر بات چیت ہوئی۔مئی2011ء میں ایران سے اسے سید نے فون کر اسرائیلی ڈپلومیٹ کو نشانے بنانے کی بات کہی۔ اسے اس حملے کے لئے ایران سے آنے والے لوگوں کے لئے دہلی میں مدد کرنے کی ہدایت بھی دی تھی۔ پولیس کا دعوی ہے کہ پلاننگ کے مطابق ایرانی حملہ آوروں کو دہلی آنے پر کاظمی نے انہیں صرف قرولباغ میں واقع فیض روڈ پر ہوٹل میں ٹھہرایا تھا بلکہ اسرائیلی ڈپلومیٹ کے آنے جانے کا روٹ پتہ کرنے میں بھی ان کی مدد کی تھی اس کے لئے کرائے پر لی گئی موٹر سائیکلوں کا استعمال کیا گیا۔
خیال رہے کہ دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے جور باغ کے کربلا علاقے میں مقیم اس فری لانس صحافی محمد کاظمی کو 6 مارچ کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس کمشنر نے بتایا کہ 2011ء میں جب کاظمی ایران گیا تھا تو اس کی ملاقات سید علی مہدیانی اور محمد رضا و ایرانی افسر سے ہوئی تھی۔ ملیشیا میں سرگرم گینگ کے ماسٹر مائنڈ محمد مسعود کی ہدایت پر سید علی اور محمد رضا نے دہلی میں اسرائیلی سفارتکارپر حملہ کروانے میں کاظمی کو پیسے کا لالچ دیا اس کے لئے 5500 ڈالر دینے کی بات کہی گئی۔ کاظمی تیار ہوگیا اور پھر ایرانی افسر کے ساتھ دہلی آگیا۔ 10 فروری کو سید احمد، محمد رضا خان اور عبدالفجی مہدیانی بھی دہلی آگئے۔ تینوں کاظمی کے یہاں رکے ہوئے تھے ۔اگلے دن کاظمی کی آلٹو کار میں بیٹھ کر تینوں نے اسرائیلی سفارتخانے کے ساتھ ساتھ نئی دہلی رینج کے علاقے کا جائزہ لیا اور حملے کا خاکہ تیار کیا۔ ادھر افسر ایرانی نے قرولباغ میں رہنے والے ایک لڑکے کے تعاون سے ایک اسکوٹی خریدی تھی اس کا استعمال کار میں اسٹیکی بم لگانے کے لئے کیا گیا تھا۔ افسر ملیشیا میں بیٹھا اس کا آقا مسعود کے رابطے میں تھا۔ ادھر مسعود کی رضامندی پر 14 فروری کو بینکاک اور جارجیہ میں حملہ کیا گیا۔ حملے کو مرادی سعید اور محمد قاضی نے انجام دیا تھا۔ محمدقاضی کو بینکاک پولیس نے گرفتار کرلیا ہے وہیں ملیشیا پولیس کے ہتھے سبھی دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ مسعود بھی چڑھ گیا۔ دہلی میں ہوئے دھماکے کے 24 گھنٹے میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی ایک ٹیم دہلی پہنچ گئی تھی اور مسلسل جانچ کررہی ہے۔دہلی پولیس کے ذرائع کے مطابق موساد کے ایجنٹ جلد ہی ریمانڈ پر چل رہے کاظمی سے پوچھ تاچھ کرسکتے ہیں وہیں دہلی پولیس پورے معاملے سے پردہ اٹھانے کے لئے ملیشیا میں گرفتار مسعود سے بھی پوچھ تاچھ کرنے کے لئے ملیشیا سرکار سے رابطے میں ہے۔ اب دہلی پولیس صحیح کہہ رہی ہے یا یہ ساری کہانی زبردستی بنائی گئی ہے اس کا فیصلہ تو عدالت میں ہی ہوگا۔ امید ہے کہ سچائی کی جیت ہوگی۔ ویسے دہلی پولیس کویہ کیس عدالت میں ثابت کرنا ہوگا۔ اس سے دہلی پولیس کی ساکھ وابستہ ہے۔ یہ معاملہ اب پوری طرح سے بین الاقوامی رنگ اختیار کرچکا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Mohd. Ahmed Kazmi, delhi Police, Iran, Israil, Bomb Blast, Delhi Bomb Case,

وراٹ کوہلی اس وقت دنیا کے پہلے ون ڈے بلے باز ہیں



Published On 22 March 2012
انل نریندر
ایشیا کپ کرکٹ کے اہم میچ میں بنگلہ دیش نے سری لنکا کو ہرا کر پہلی بار فائنل میں اینٹری کی ہے۔ اب بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان فائنل ہوگا۔ بھارت تو باہر ہوگیا ہے۔ پاکستان کے خلاف اتنا اچھا کھیلنے کے بعد بھی ٹیم انڈیا کے باہر ہونے کا سبھی کو دکھ ہے۔ ایک سوال جو کیا جارہا ہے کہ کیا سری لنکا جان بوجھ کر بنگلہ دیش سے ہارا ہے ،تاکہ فائنل میں بھارت داخل نہ ہوسکے؟ جس سری لنکا کے ایک گیندباز نے بھارت کے ساتھ ایک برس پہلے ہوئے مقابلے میں آخری گیند پر جب بھارت کو جیت کے لئے ایک رن چاہئے تھا اور وریندر سہواگ 99 رن پر ناٹ آؤٹ تھے کی سنچری روکنے کے لئے جان بوجھ کر نو بال ڈال دی ہو تو اس سری لنکا سے عمدہ کھیل کے جذبے کی امید نہیں کی جاسکتی۔ پورے دیش میں یہی بحث تھی کہ اس نوراکشتی کی مار بھارت پر ہی پڑے گی۔ سری لنکا نے بلے بازی ،گیند بازی اور فیلڈنگ میں محض خانہ پوری کرتے ہوئے جیت بنگلہ دیش کو دلا دی۔ وجہ ایک تھی کہ جس بھارت نے سری لنکا کو دھول چٹا رکھی ہے وہ فائنل میں نہ پہنچ سکے۔ بنگلہ دیش کی کامیابی کے ساتھ ہی پانچ بار چمپئن بھارت فائنل کی دوڑ سے باہر ہوگیا۔ حالانکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے برابر 8 پوائنٹ ہیں لیکن جواں ٹیم نے چونکہ بھارت کو ہرایا تھا اس لئے اسے فائنل کا ٹکٹ مل گیا۔ بیشک ٹیم انڈیا فائنل میں نہیں پہنچ سکی لیکن اس سیریز میں بھارت کے کم سے کم دو بہت بڑے کارنامے رہے۔ پہلا سچن کا 100 ویں سنچری اور دوسرے وراٹ کوہلی جو ایک انتہائی اہم بلے باز کی شکل میں ابھرے ہیں۔ اس 23 سالہ مغربی دہلی کے نوجوان کھلاڑی کا نام اب دنیا کے سرکردہ بلے بازوں کی فہرست میں شامل ہوچکا ہے۔جب وہ بلے باز کرتے ہیں تو مخالف کا بڑے سے بڑا اسکور بھی بونا پڑ جاتا ہے۔ تین ہفتے میں دو بار اکیلے اپنے دم خم سے وراٹ نے ٹیم انڈیا کو جیت کا سہرہ پہنایا ہے۔ ایتوار کو کوہلی کی 148 گیندوں میں 183 رن کی وجہ سے ٹیم انڈیا نے ایک نیا ریکارڈ قائم کردیا۔ اس ریس میں 'برا نہ مانو کوہلی ہیں' یہ ایس ایم ایس پورے میر پور میں گونجتا رہا۔
پچھلے سال وراٹ کوہلی نے ون ڈے کا سب سے زیادہ اسکور بنایا تھا۔ اس سے پہلے وہ دوسرے نمبر کے سب سے زیادہ اسکور بنان والے کھلاڑی رہے اس لئے یہ کہنا شاید غلط نہ ہوگا کہ اس وقت وراٹ کوہلی دنیا کے سب سے پہلے ون ڈے بلے باز بن گئے ہیں۔ حالانکہ وراٹ کوہلی کی اس شاندار فارم پر سب کو ناز ہے لیکن انہیں اپنے برتاؤ میں بہتری لانی چاہئے۔ غصہ ،غرور اچھے اچھے کو دھول چٹا دیتا ہے۔ کچھ نجومیوں کا کہنا ہے کہ ان کو غصہ اس لئے آتا ہے کہ وہ 18 نمبر کی جرسی پہنتے ہیں اس کا جوڑ ہوتا ہے9 یہ اچھا جوڑ نہیں ہے۔ ان کے مطابق وراٹ کو ایسی جرسی پہننی چاہئے جس جوڑ 5 ہو جیسے 14،321 ۔وراٹ کی پیدائش کا نمبر پانچ ہے۔ وہ23 برس کے ہیں جس کا جوڑ بھی 5 ہے۔ یہ سال 2012ء ہے جس کا نمبر بھی 5 بنتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ سال ان کے لئے خاص ہے۔ ان کے غصے اور غرور کے سبب انہیں ٹیم انڈیا کا 'اینگری ینگ مین' بھی کہا جارہا ہے۔
Anil Narendra, Cricket Match, Daily Pratap, India, Vir Arjun, Virat Kohli

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...