Translater

08 دسمبر 2019

حیدرآبادآبروریزی فیصلہ آن دی اسپاٹ ہوا

جمعہ کی صبح جب میں سو کر اُٹھا تو خبر دیکھی کہ صبح اندھیرے میں حیدرآباد پولس نے سرخیوں میں چھائے ریپ کانڈ کے چاروں ملزمان کو انکاونٹر میں مار گرایا تو میرا دل میں پہلا رد عمل تھا شاباش،حیدرآباد پولس اپنے نہ صرف مہیلا متاثرہ کی آتما کو شانتی دی بلکہ پورے دیش میں آبروریزیوں کو سخت پیغام دیا ،کہ اب آپ کو اپنی حیوانگی کا فورا نتیجہ ملے گا ۔پولس نے چاروں ملزمان کو بھاگتے وقت ہی اُسی جگہ مار گرایا جہاں انہوںنے ویٹنری ڈاکٹر کے ساتھ درندگی کی تھی ،تلنگانہ پولس کے اے ڈی جی لاءاینڈ آرڈر نے بتایا کہ صبح تین بجے جب پولس والے چاروں ملزمان کو کرائم سین کی جانکاری لینے کے لے موقعہ واردات پر لے گئی تو پولس کے ہاتھوں سے ریوارلور چھین کر بھاگنے لگے تبھی پولس نے انکاﺅنٹر کر چاروں ملزمان کو مار گرایا تلنگانہ پولس کو لاکھ لاکھ بندھائی ۔اب ہمارے سامنے دہلی کا نربھیہ کیس بھی ہے جس میں سزا ہوئے سات سال گزر چکے ہیں اور آج تک قانونی داﺅں پیچ کے سبب پھانسی نہیں ہو پائی ۔ریررسٹ آف ریر کرائم کرنے والوں کا یہی حشر ہونا چاہیے دنیا کے کئی ملکوں میں فورا موت کی سزا پر عمل ہو جاتا ہے نہ کوئی اپیل نہ دلیل نہ وکیل ہاتھ کے ہاتھ معاملہ نمٹا دیا جاتا ہے ۔ہم نے یہ بھی دیکھا کہ اترپردیش کے خطرناک گینگ ریپ کیس میں ایک ملزم کو ہائی کورٹ نے ضمانت دے دی اس نے پہلا کام یہ کیا کہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ بیچاری اور بد قسمت عورت کو زندہ جلا دیا اور سنیچر کو اس کی موت ہو گئی ۔ایسے گھناونے جرائم پیشہ کو ہائی کورٹ پتہ نہیں ضمانت پر کیوں چھوڑ دیتی ہے تاکہ وہ جیل سے نکلتے ہی کوئی نہ کوئی گھناونا جرم کر ڈالیں ؟میں یہ بھی نہیں جانتا ہوں کہ اس کاﺅنٹر پر کئی طرح کے سوال اُٹھے بھی ہیں اور اُٹھیں گے بھی اور ملزمان کے انسانی حقوق کی بات اُٹھے گی پولس حراست میں انکاﺅنٹر پر بھی سوال اُٹھیں گے پولس کے ذریعہ انکاﺅنٹر کیسے ہوا اس پر بھی سوال اُٹھیں گے پولس کو اس طرح کے کھلے عام انکاﺅنٹر کا لائسنس نہیں دیا جا سکتا اس کا بے جا استعمال بھی ہو سکتا ہے اگر انسانی پہلو کی نظر سے دیکھیں تو اسے متوفع کی آتما کو شانتی ملے گی اور اس کے خاندان والے چین کی سانس لیں گے ۔عصمتدری کرنے والوں کی انسانی حقوق کی بات کرنے والوں کو متاثرہ کے انسانی حقوق کی بھی فکر ہونی چاہیے جس پلیہ کے نیچے یہ انکاﺅنٹر ہوا اس کے اوپر سے گزرنے والی بسوں میں جا رہی عورتوں کی خوشی اور مسکرانے کی آوازیں ظاہر کرتی ہیں کہ عورتیں اس انکاﺅنٹر سے خوش ہیں ڈر اس کا بھی ہے کہ پولس بربریت کے لئے یہ انکاﺅنٹر راستے چوڑے کر رہا ہے پولس کل کو کسی کوبھی جرائم پیشہ بتا کر مڈبھیڑ میں مار دے گی اور لوگ تالیاں بجاتے رہیں گے ہمارا زور نیائے سسٹم کو مضبوط اور شفاف بنانے پر بھی ہونا چاہیے اور انصاف ملے اور جلدی ملے اس کے لے آواز اُٹھانی چاہیے ۔نہ کہ پولس مڈبھیڑوں میں ملزموں اور جرائم پیشہ کو مارنے کی خوشی منانی چاہیے معاملہ انسانی حقوق کا نہیں بلکہ قانونی کاروائی پر بھروسے کا ہے ۔بہر حال متاثرہ کو زندہ جلانے والوں کو ہر شخص چاہتا ہے کہ سخت سے سخت سزا ملے اور خلیجی ملکوں کی طرح چوراہے پر شار عام سولی پر لٹکا دیا جانا چاہیے ۔لوگ بھی اس کے ہماہتی ہیں اس سے ان جرائم پیشہ میں خوف پیدا ہو لیکن عوامی غصے کے پیش نظر پولس نے انکاﺅنٹر کر کے ایک نئی نظیر شروع کر دی اور یہ خطرناک بھی ہو سکتی ہے ضروت تو اس بات کی ہے کہ فاسٹ ٹریک عدالتوں کے ذریعہ گھناونے جرائم کے ملزما ن کو قصوروار قرار دے کر عدالتی حساب سے سزا دی جائے اس سے اس طرح کے شاطر درندوں کو موت ملے لیکن عدالت سے ۔

(انل نریندر)

جیل سے باہر آتے ہی چدمبرم کا سرکار پر حملہ

ایک د ن پہلے ہی 106دن تہاڑ جیل میں کاٹنے کے بعد باہر نکلتے ہی سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے مودی حکومت پر جم کر نکتہ چینی کرنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی ،باقاعدہ پریس کانفرنس کر سرکار کو اڑے ہاتھوں لیا ،چدمبرم پر کانگریس کی تعریف کرنا یا اسے سرکار کے خلاف کامیابی کی شکل میں پیش کرنے کی کوشش یہ غیر متوقعی نہیں ہے حالانکہ یہ ضمانت ہے کہ الزام سے نجات نہیں ضمانت کے بارے میں سپریم کورٹ نے صاف کہا کہ مقدمہ کے سلسلے میں اپنے یا معاون ملزمان کے بارے میں نہ کوئی بیان دیں گے یا انٹریو دیں گے چدمبرم نے کہا کہ کمزور ہوتی معیشت کی کوئی فکر نہیں ہے پیاز کے دام سو کے پار ہو گئے ہیں وزیر اعظم ہر طرح کے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں بازی گیری کرنے اور جھانسہ دینے کا کام انہوںنے اپنے وزراءپر چھوڑ دیا ہے ،نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسی غلطی اور ہٹ دھرمی سے دیش کی معیشت بد حال ہو گئی ہے جموں و کشمیر کے سوال پر چدمبرم نے کہا کہ میں نے بدھوار کی رات آٹھ بجے آزادی کی ہوا میں سانس لی ہے میرا پہلا نظریہ اور پراتھنا کشمیر وادی میں 75لاکھ لوگوں کے لئے تھی انہوںنے کہا کہ مودی سرکار نے اچھے دن کا وعدہ کیا تھا پچھلے چھ سہہ ماہی کے اعداد وشمار کو دیکھیں تو آٹھ فیصد سے 7,6اور 5.5اور اب گھٹ کر 4.5فیصد رہ گئی ۔کیا یہی سرکار کے اچھے دن ہیں ؟اگرسال کے آخر میں اضافی پانچ فیصد کو سرکار چھوتی ہے تو ہم اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھیں گے صنعتکار راہل بجاج کو لے کر پوچھے گئے سوال پر چدمبرم نے کہا کہ خوف ہر جگہ ہے اور خوف نے میڈیا کو بھی جکڑ لیا ہے اورلوگ سرکار کی تنقید کرنے سے ڈرتے ہیں وہیں دیش کے بڑے ماہر اقتصادیات ڈاکٹر اروند سبرامینم نے پانچ فیصدی شرح نمو کو لے کر خبرادار کیا تھا لیکن اب حالت اس سے بھی خراب ہے ہر بار کی طرح پی ایم مودی اس مسئلے پر چپ ہیں انہوںنے اس مسئلے پر اپنے وزراءکو جھوٹ بولنے کی چھوٹ دے دی ہے ۔جیسا کہ ماہر اقتصادیات نے کہا سابق وزیر خرانہ نے کہا کہ وزیر کے طور پر میرا ریکارڈ بالکل صاف ہے جن افسران نے میرے ساتھ کام کیا ہے جو بجنس مین میرے رابطے میں آئے ہیں اور جن صحافیوں نے مجھ سے بات کی ہے وہ میرے بارے میں اچھی طرح جانتے ہیں اگر آپ میرے کیس سے جڑے معاملوں کو لے کر کوئی سوال پوچھنا چاہتے ہیں تو وہ سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھ لیں آپ کی کافی بات صاف ہو جائے گی جمعرات کو پارلیمنٹ کی اجلاس میں شامل ہونے پہنچے چدمبرم نے کہا کہ سرکار پارلیمنٹ میں ان کی آواز نہیں دبا سکتی اور میں پارلیمنٹ میں آکر خوش ہوں اور اپنی آواز اُٹھاتا رہوں گا ۔

(انل نریندر)

07 دسمبر 2019

لندن برج کا آتنکی حملہ آور پاکستانی نزاد تھا

برطانیہ کے مشہور لندن برج کے پاس گزشتہ جمعہ کو دوپہر میں آتنکی حملہ کیا گیا پہلے فائرنگ ہوئی بعد میں چاقو مارا گیا پولس نے موقعہ واردات پر ہی حملہ آور کو مار گرایا یہ ہے صحیح طریقہ دہشتگردوں سے پیش آنے کا نہ کوئی مقدمہ نہ کوئی عدالت کے چکر نہ کوئی مرثی رحم کی اپیل ،حملہ آور کی پہچان برطانیہ میں پیدا پاکستانی نزاد عثمان خان 28سال کی شکل میں ہوئی تھی خان کو سال 2012میں آتنکوادی سرگرمیوں میں قصور وار پاتے ہوئے سزا سنائی گئی تھی ،لیکن اسے 2018میں جیل سے رہا کر دیا گیا تھا ،خان پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں ایک مدرسہ کھول کر آتنک کی ٹرینگ کیمپ کرنا چاہتا تھا ،اس کے سابق اسکولی ساتھیوں نے دعوی کیا تھا کہ اسٹوک ٹرینر سے اسکول سے نکل جانے کے بعد عثمان کو آئی ایس آئی کے جھنڈے تلے نوجوانوں کو بھڑکانے کی کوشش کرتے ہوئے کئی بار دیکھا گیا تھا ۔آتنکی عثمان کے آباءو اجداد پاکستانی مقبوضہ کشمیر سے برطانیہ میں کچھ دہائی پہلے جا کر بس گئے تھے ،اس بات کا ذکر لندن کی پولس کراﺅن کورٹ کے اس فیصلے میں بھی ہے جس میں عثمان کو دہشتگرد کے سرگرمیوں کے سلسلے میں آٹھ سال کی سزا سنائی گئی تھی لندن برج پر ہوئے اس آتنکی حملے کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس )نے لی ہے ۔حالانکہ آئی ایس کی طرف سے حملہ آور کے سلسلے میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا حالانکہ لندن برج وہی علاقہ ہے جہاں جون2017میں آئی ایس کے آتنکی حملے میں 11لوگ مارے گئے تھے حملہ آور نے نقلی دھماکو جیکٹ پہنی ہوئی تھی اس نے برج پر موجود جمع لوگوں خو دکو اُڑانے کی دھمکی دی تھی اس کے بعد پولس نے اسے گولی مار دی جس میں اس کی موت ہو گئی ۔لندن کے میر صادق خان نے لندن برج کے حملہ آور کو ختم کرنے والے لوگوں کا شکریہ ادا کیا ۔لندن پولس کے سربراہ میں حملہ آور کے مرنے کی تصدیق کی۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانس نے کہا کہ آتنکواد سنگین جرائم کے قصوروار لوگوں کے معاملے پر نظر ثانی کی بات سمجھ سے پرے ہے سنگین اور تشددپر آمادہ جرائم پیشہ کو جیل سے سزا پوری کرنے سے پہلے چھوڑنا غلطی ہے اور ہماری اس عادت کو چھوڑنا بہت اہم ہے ۔

(انل نریندر)

ملزم نتیآ نند اور اس کا کیلاس دیش

سیکس سی ڈی کانڈ میں سرخیوں میں آیا ساﺅتھ انڈیا کا متنازعہ دھر م گرو سوامی نتیآنند ایک بار پھر سرخیوں میں ہے ۔اس پر احمدآباد میں لڑکیوں کے اغو اسمیت کئی معاملے درج ہیں یہ بھی الزام ہے کہ واشروم چلانے کے لئے بچیوں کا اغوا کرتا تھا ،اور ان سے چندا وصولتا تھا سال 2010میں ایک سیکس سی ڈی سامنے آئی تھی جس میں تنیآنند ایک ساﺅتھ انڈین اداکار کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دکھایا گیا تھا فورسنگ رپورٹ میں سی ڈی صحیح پائی گئی پولس نے اسے گرفتار کیا تھا اور قریب 52دن بعد اسے ضمانت ملی خود ساختہ سنت سوامی نتیآنند کے آشرم سے دو سگی بہنوں کو یرغمال بنا کر رکھنے کے الزام میں معاملہ درج کرنے کے بعد پولس اس کی تلاش میں تابڑ توڑ چھاپے مارے گئے ،اس کے بارے میں ابھی کوئی سراغ نہیں ملا ریپ کا الزام لگنے کے بعد سے فرار اس ڈھونگی بابا کے بارے اب بڑا خلاسہ ہوا ہے میڈیا رپورٹس میں دعوی کیا گیا ہے کہ نتیآنند نے ساﺅتھ امریکہ کے ایک دیش سے ایک آئی لینڈ خریدا ہے ،اس کو اس نے ایک آزاد دیش قرار دے دیا ہے ۔جس کا نام کیلاس رکھا گیا ہے ۔اس کے نام کی ایک ویب سائٹ بھی بنائی گئی ہے جس میں کیلاس کو ہندو راشٹر بتایا گیا ہے ،کیلاس کی ویب سائٹ کے مطابق یہ آئی لینڈ تری نداد اور ٹوبیکو دیشوں کے قریب ہے اس میں کسی ایک دیش کی طرح تمام سرکاری عہدوں پر لوگ مقرر کئے گئے ہیں ۔جیسے وزیر اعظم کیبنٹ ،وزیر ،فوج کے چیف،اور دیگر ،نتیآنند نے اپنے قریبی ماننے والی ماں کو وزیر اعظم مقرر کیا ہے ویب سائٹ پر آئین اور سرکاری ڈھانچے کی جانکاری دی گئی ہے کئی وزارتیں ،محکمہ اور ایجنسی بنانے کا دعوی ہے اتنا ہی نہیں نتیآنند نے اپنے دیش کا الگ جھنڈا بھی بنا لیا ہے ،یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی یہاں کا شہری بننا چاہتا ہے تو ڈونیشن دے کر وہاں رہنے آسکتا ہے ،ویب سائٹ میں بتایا گیا کہ وہ کیلاس ایک غیر سیاسی دیش ہے اور انسانیت اس کا مقصد ہے یہ دیش ہندو مذہب کی تہذیب اور کلچر کے مطابق چلے گا جو کئی دیشوں سے ختم ہو رہی ہے گجرات پولس کے مطابق نتیآنند کا پاسپورٹ 30ستمبر 2018تک جائز تھا پولس ڈپٹی سپریم ڈینٹینٹ کے ٹی کمریا نے بتایا کہ بینگلورو دفتر پاسپورٹ دفتر میں ملزم کا پاسپورٹ رینیو نہ ہونے کی بات کی تصدیق کی ہے گجرات پولس کے ذرائع کے مطابق کچھ ایسی باتیں سامنے آئی ہیں کہ نتیا ٓنند پاسپورٹ کی تجدید کی تاریخ کافی پاس آنے سے پہلے ہی ساﺅتھ امریکہ کے کسی شہر میں جا کر چھپ گیا پولس اس کی تلاش کر رہی ہے ۔نتیآنند نے ایروڈ کے پاس اپنا مٹھ بنایا ہے ،اور اس کے یو ایس اور آسٹریلیا میں بھگت بن گئے ہیں تمل ناڈو میں بھی اس نے پندرہ آشرم بنائے صنعتکاروں نے اسے مفت زمین دی ان کے سیوکوں میں کئی دشمن پیدا ہو گئے ان میں سے ایک نے ان کے بیڈ روم میں کیمرہ لگا دیا ،عورتوں کو اس کے ساتھ سونے کے لئے راضی کرنے کی غرض سے مخصوص کورس ڈئزائن کے گئے ۔

(انل نریندر)

06 دسمبر 2019

اقتصادی مند ی پر اب اپنوں کے نشانے مودی سرکار

وزیر اعظم نریندر مودی نے سنیچر کو کہا کہ ان کی حکومت نے اپنے دوسرے عہد کے چھ مہینے پورے کر لئے ہیں اور اس دوران بھارت نے قابل قدر بہتری کے ساتھ رفتار کا گواہ بنے ہیں مودی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ آرٹیکل 370کو ختم کرنے سے لے کر اقتصادی اصلاحات تک اور پارلیمنٹ سے لے کر فیصلہ کن خارجہ پالیسی تک تاریخی قدم اُٹھائے ہیں ۔مودی سرکار کے تمام وزیر بھی 180دن کے کارنامے گنا رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دیش نہ بھولنے والی اقتصادی مندی کے دور سے گزر رہا ہے ،اور جی ڈی پی مسلسل گر رہی ہے بے روزگاری بڑھتی جا رہی ہے پیداوار گھٹ رہی ہے ،اور عوام میں ناراضگی بڑھتی جا رہی ہے ،ہماری بات تو چھوڑئیے اب تو بی جے پی کے اندر بھی ملک کی بد حال ہوتی معیشت پر بھی سوال اُٹھتے جا رہے ہیں اور یہ اقتصادی محاض پر مودی سرکار کی ناکامیوں کا ہی نتیجہ ہے مودی تو مالی سال کی دوسری سہہ ماہی میں دیش کی ترقی شرح پچھلے چھ سالوں کے مقابلے کم درج ہوئی اور یہ 4.5پر آگئی ہے اس مسئلے کو اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے جارہانہ حملوں کے درمیان اب سرکار کے سگے ساتھیوں اور اپنوں کے درمیان بھی بھاری بے چینی اور ناراضگی کا ماحول دکھائی پڑ رہا ہے جہاں ایک طرف تازہ اعداد و شمار کے سامنے آنے کے بعد بھاجپا کی طرف سے سرکار کی کھل کر بچاﺅ کرنے کی روایت کو اپنانے سے پرہیز کر رہی ہے وہیں دوسری طرف جے ڈی یو اکالی دل،جیسے این ڈی اے کی اتحادی پارٹیوں نے حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کو لے کر اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے ۔اس سے نمٹنے کے لے نصیحتوں کی بڑی پوٹلی کھول دی ہے اکالی دل نے تو سیدھے طور پر سرکار کی ناکامی کا الزام لگا دیا ،دوسری طرف جے ڈی یو نے سرکار کی اقتصادی پالیسیوں کو بے اثر اور دیش کے لئے نقصاندہ قرار دیتے ہوئے ان میں فوری تبدیلی کرنے کی مانگ کر لی ہے یہاں تک کہ راجیہ سبھا ایم پی و اقتصادی معاملوں کے مشہو ر جانکار ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے دیش کے موجودہ اقتصادی پس منظر کو لے کر بھاری ناراضگی ظاہر کی ہے ۔اور یہاں تک کہہ دیا کہ اگر وقت رہتے اپنی پالیسیوں میں اصلاح نہیں کی تو مستقل قریب میں ترقی شرح اور تیزی سے گرے گی سوامی نے تو اقتصادی عدد و شمار کو مستر د کر دیا ،اور وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کی صلاحیت او ر کام کے طریقے پر بھی سیدھے طور پہ سوال کھڑ کر دئے ۔دوسری طرف جی ڈی پی کے موجودہ اعداد وشمار سے بھلے ہی اور ترقی شرح ساڑھے چار فیصدی بتائی جا رہی ہے لیکن حقیقت میں یہ ڈھیڑھ فیصدی پر آگئی ہے ۔جے ڈی یو نے اس مسئلے پر اقتصادی ماہرین و دیگر وقاف کاروں کی میٹنگ بلانے کی صلاح دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں سیاست نہیں کی جانی چاہیے اور مسئلے کا حل تلاشنے کے لئے اپوزیشن پارٹیوں کے سینر لیڈروں سے بھی صلاح لینے میں کوئی قباہت نہیں برتی جانی چاہیے ۔

(انل نریندر)

جہاں ناسہ ہار گئی وہیں انجینئر شن مگم سبرامنیم کامیاب ہو گئے

چاند پر بھیجے گئے ہندوستانی مشن چندریان 2-کا حصہ رہے لینڈر(وکرم )کا ملبہ تلاش نکالا گیا ،اور یہ کام نہ تو اسرو کر سکا اور نہ ہی ناسہ یہ تلاش چنئی کے ایک لڑکے اور شوقیہ جغرافیت کے ماہر 33سالہ انجیئر شن مگم سبرامنیم نے کر ڈالی وہ بھی بغیر کسی مخصوص لیبورٹی کے ،لینڈنگ جگہ سے قریب 700میٹر دور یہ مبلہ تلاش لیا ۔اس کی بنیاد پر ناسہ نے ملبے کے تین ڈھیر تلاش کر لئے اس کی تلاش میں ناسہ اور اسرو تین مہینے سے لگی ہوئی تھی ناسہ اور ائیری زونہ یونیورسٹی نے شن مگم کو اس تلاش کا کریڈیٹ دیا ہے ۔07ستمبر کو لینڈر وکرم کو کریش لینڈنگ کے بعد اسرو سے ناسہ تک سب نے تلاش کرنے کی کوشش کی پھر 17ستمبر کو ناسہ نے کریش سائڈ کی تصویر جاری کرتے ہوئے کہا کہ وکرم کا کچھ پتہ نہیں چل پایا ،32لاکھ پکسل والی اس تصویر کو چنئی کے 33سال کے ایپ ڈبلیپر رن مگم 17دن مسلسل 4-6گھنٹے چھانتے رہے ،اور تین اکتوبر کو انہیں مبلہ دکھائی دیا شن مگم نے تصویر کے ہر ایک پکسل کا موازنہ کر تلاش کر لیا ۔بتا دیں کہ لینڈر وکر م اور اس کے اندر رکھے رور پرگیان کو مشن کے تحت سات دسمبر کی رات قریب دو بجے چاند کے ساﺅتھ پول کے چھ سو کلو میٹر قریب ایک میدان میں سافٹ لینڈنگ کروائی جا رہی تھی بھارت ایسا کر لیتا تو دنیا کے چار چنندہ ملکوں میں شامل ہو جاتا لیکن اترنے سے چند منٹ پہلے ہی اس سے رابطہ ٹوٹ گیا تھا ۔اس کے ملبے کی تلاش میں دنیا بھر کے سائنسداں اور خلائی ایجنسیاں لگی تھیں ،چاند کا طواف کر رہے ناسہ کی شکل لونر رکنسینس اوربی ٹیر (ایل آر او)وکرم کو لینڈنگ جگہ سے کئی بار گزرا لیکن اسے بھی کامیابی نہیں ملی ،شن مگم بتاتے ہیں کہ میں صبح چار بجے اُٹھا تو دیکھا کہ فون پر ناسہ سے آئے ای میل کا نوٹیفیکشن پڑا ہے میں نے ای میل پڑھا اور اسے ٹوئٹ کیا اور ساتھ ٹوئٹر ہینڈل پر اسٹیٹس جوڑ دیا .....آئی فاﺅنڈ وکرم لینڈر آج ایک دن میں ہی میرے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر سات ہزار سے زیادہ فالور بڑھ گئے رن مگم نے بتایا کہ چاند پر وکرم لینڈر پر اترنے کی جگہ پر ناسہ کے ذریعہ لے گئی پرانی تصویروں کو انہوںنے اپنی چھوٹی سی لیب میں جمع کیا اور ان کا موازنہ کرتے ہوئے انہیں ایک جگہ سفید پوائنٹ نظر آیا جو پرانی تصویروں میں نہیں تھا شن مگم کا اندازے کی یہی سب سے بڑی بنیاد بنا کہ یہ لینڈر وکرم کا ہی ملبہ ہے مکینکل انجیر رن مگم سبرا منیم جغرافیائی سائنس میں کافی دلچسپی رکھتے ہیں روزانہ چار سے سات گھنٹے تک ایل آر او سے ملی چاند سطح کی تصویروں کاتجزیہ کرتے ہوئے کام سے لوٹ کر آتے ہی رات میں دو بجے تک وکرم کی تلاش میں لگے رہے یہ ممکن ہے کہ اسرو نے اسے لے کر کچھ تصویریں جاری کی تھیں لیکن سبرامینم کی پڑتال کے بعد جو تصویرں سامنے آئی ہیں وہ زیادہ صاف اور زیادہ ریزولیشن والی ہیں ۔ہم شن مگم کو مبارکباد دینے کے ساتھ دیش کے اس سیکٹر میں بھی نام اونچا کرنے کی سراہا کرتے ہیں ۔

(انل نریندر)

05 دسمبر 2019

گرہستنوں کی تھالی سے غائب ہوتی پیاز

غریب ،مزدو ر طبقے کے لئے پیاز کی بڑھتی قیمتوں نے ان کی گرہستیوں کے آنسو نکال دئیے پچھلے دنوں پیاز خوردہ دام سو سے 120روپئے کلو مل رہی ہے وہیں تھوک بازار میں پیاز کی قیمت ستر روپئے ہے آزادپور منڈی اور آس پاس کے خوردہ بازار میں سو روپئے کلو فروخت ہوتی بتائی گئی ہے ۔خودرہ تاجروں نے بتایا کہ پیاز کے دام بڑھنے کے بعد سے پیاز کی فروخت میں گراوٹ آئی ہے پہلے دن میں پانچ سو سے ایک ہزار کلو تک یومیہ پیاز کی فروخت ہوتی تھی لیکن اب دام بڑھنے کی وجہ سے ایک چوتھائی سے بھی کم رہ گئی ہے ۔آر کے پورم کی باشندہ ایک خاتون کا کہنا ہے کہ اب پیاز کے دام بڑھنے سے تھالی سے پیاز غائب ہوتی جا رہی ہے ۔کھانے کے دوران اب پیاز کا کثرت سے استعمال نہیں ہوتا دہلی کانگریس کا الزام ہے کہ مرکز کی مودی سرکار اور دہلی عام آدمی پارٹی سرکار میں نورا کشتی کے سبب پیاز کے دام آسمان چھو رہے ہیں دہلی این سی آر میں پیاز سو روپئے تک بک چکی ہے ۔کانگریسی مہیلا ورکروں نے پیاز کی مالا پہن کر وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کے گھر کے باہر مظاہر ہ کیا کانگریس کے صدر سبھاش چوپڑہ نے اس مظاہرے کی قیادت کی مظاہرے میں شامل عورتیں نعرے لگا رہی تھیں جمع خوروں پر کسو لگام ،سستی کرو پیاز کے دام سو روپئے کلو پیاز مودی کجریوال کا اندھا راج کے نعرے بھی لگے اس موقع پر سبھاش چوپڑا نے الزام لگایا کہ سرکاری گوداموں میں 32ہزار ٹن پیاز سڑ رہی ہے جنتا اس کے لئے ترس رہی ہے انہوںنے مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ان کی بھی جمع خوروں کے ساتھ ملی بھگت ہے دوسری طرف منڈی تاجروں کا کہنا ہے کہ پیاز کے دام جتنے بڑھ چکے ہیں بڑھ گئے اب گرنا شروع ہو جائیں گے ۔راجستھان سے پیاز آنا شروع ہو گئی ہے اور سپلائی دہلی بہار بنگال تک ہو رہی تھی مہاراشٹر میں پیاز نہیں تھی اب وہ گجرات سے پیاز آنے لگی ہے امید ہے کہ دام کم ہوں گے اس مہینے کے آخر تک مہاراشٹر سے بھی پیاز آنے لگے کی اور دام گر جائیں گے کاروباریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس مرتبہ دیش میں ڈھائی مہینے سے زیادہ بارش ہوئی جسے مہاراشٹر اور کرناٹک میں پیاز خراب ہو گئی یہ اچھا ہوا راجستھان کی پیاز بچ گئی تو نہیں برا حال ہو جاتا ۔بہر حا ل پیاز ہر گھر کی اہم ضرورت ہے سرکار کو چاہیے کہ وہ منڈیوں میں پیاز کی فراوانی لائے اور سیاست سے بچے ۔

(انل نریندر)

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...