Translater

18 فروری 2018

اس گھوٹالہ نے تو بینکنگ سسٹم کی ہی چولیں ہلادیں

بینکوں کو چونا لگاکر بیرون ملک بھاگنے وجے مالیا جیسے ہی ایک اور بڑے معاملہ میں جمعرات کے روز انفورسمنٹ ڈائریکٹریٹ نے کئی جگہ پر چھاپہ ماری کی اور اہم ملزم ارب پتی ہیرا کاروباری نیرو مودی کے ممبئی ۔سورت اور دہلی سمیت 17 جگہوں پر چھاپہ مار کر 5700 کروڑ روپے کا اثاثہ ضبط کیا ہے۔ نیرو مودی پر پنجاب نیشنل بینک کی ممبئی میں صرف ایک برانچ سے 11400 کروڑ روپے کی دھوکہ دھڑی کا الزام ہے۔ اسے دیش کے بینکنگ سیکٹر کی سب سے بڑی جعلسازی کہا جارہا ہے۔ پی این بی میں سامنے آئے اس 11400 کروڑ روپے کے دیش کے سب سے بڑے بینک گھوٹالہ سے پورے بینکنگ نظام کی چولیں ہل گئی ہیں جو کہ پہلے سے ہی پھنسے قرض اور بدانتظامی سے لڑ رہی ہے۔ پی این بی کا انتظامیہ بھلے ہی صفائی دے رہا ہے کہ یہ گڑ بڑی 2011 سے چل رہی تھی اور اس نے اپنے کچھ ملازمین پر کارروائی بھی کی تھی لیکن اس گھوٹالہ سے وابستہ بہت سے سوالوں کا جواب ملنا باقی ہے۔ قریب 11400 کروڑ روپے اتنی بڑی رقم ہے اس کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ پورے پی این بی کی قیمت شیئر بازار کے حساب سے قریب 30 ہزار کروڑ روپے کی ہے یعنی کل قیمت کے قریب ایک تہائی قیمت کی ذمہ داری اس گھوٹالہ کی وجہ سے پیدا ہوئے اس بینک کو حال میں جتنا نیا سرمایہ سرکار سے ملا تھا اس سرمائے کا قریب دو گنا رقم اس گھوٹالہ میں اڑنے کا اندیشہ ہے۔ موٹے طور پر اس گھوٹالے کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ پی این بی سے قریب 11400 کروڑ کی ادائیگی ایسی گارنٹی گلوبل اداروں کو دی گئی جس کے بارے میں بینک کا کہنا ہے کہ وہ گارنٹی ناجائز تھی یعنی بینک میں سینئر مینجمنٹ کو نہیں پتہ لیکن کسی جونیئر افسر نے پی این بی کی طرف سے ایسی گارنٹی دے دی۔ اگرچہ گھوٹالہ سے جڑے سوالوں کا جواب ابھی نہیں ملے لیکن اگر گھوٹالہ کے بارے میں پہلے سے ہی کسی طرح کی بھنک مل گئی ہوتی تو جوہری نیرومودی اور ان کے ساتھی اس طرح سے فرضی گارنٹی کے ذریعے دو درجن بینکوں کی غیر ملکی شاخوں کے لئے قرض دبائے بیٹھے رہے؟ یہ بھی بات گلے نہیں اترتی کہ پی این بی کے صرف دو افسروں نے سوئپٹ میسیجنگ سسٹم کے ذریعے پیغام بھیج کر نیرو مودی اور ان کے ساتھیوں کی زیوراتی کمپنیوں کے لئے غیر ممالک میں قرض کا اضافہ کردیا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ بینک عام گراہکوں کو چھوٹا موٹا قرض دینے کے لئے بھی درجنوں چکر لگواتے ہیں۔ کئی طرح کی خانہ پوریاں اور گارنٹی وغیرہ مانگتے ہیں لیکن ایک جوہری کو ہزاروں کروڑ روپے کا قرض دینے کے لئے فرضی گارنٹی دی جائے اور بینک انتظامیہ، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور وزارت مالیہ اور دیگر مالیاتی اداروں کو اس کی بھنک تک نہ لگے، یہ کیسے ممکن ہوگیا؟ وجے مالیا کا معاملہ تو ابھی پرانا بھی نہیں ہوا اس کے باوجود پبلک سیکٹر کے بینکوں نے نہ تو اپنی نگرانی مشینری کو اور نہ ہی جوابدہی کو مضبوط کیا۔ہر کسی کے دل میں پہلا سوال یہ ہی آتا ہے جب دو چار لاکھ کا قرض دینے میں سرکاری بینک پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں تو قریب 114 ارب روپے کا گھوٹالہ کیسے ہوگیا؟ نیرو مودی کی گنتی بھارت کے 50 سب سے امیر ترین اشخاص میں ہوتی ہے۔ فوربیس میگزین نے 2016 میں انہیں ارب پتیوں کی فہرست میں بھارت میں 46ویں اور دنیا میں 1067 ویں مقام پر بتایا تھا لیکن اب یہ صاف ہوگیا ہے کہ ان کے اس کارنامہ اور شہرت کے پیچھے دھوکہ دھڑی اور لوٹ کا بہت بڑا ہاتھ رہا ہوگا۔ کیا اس طرح کا طریقہ اپنانے والے نیرو مودی ایک ڈھونگی ہیں؟ یہ گھوٹالہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک دن پہلے ریزرو بینک نے این پی اے کی بابت اور سختی دکھاتے ہوئے سرکاری بینکوں کو ہدایت جاری کی کہ وہ پھنسے ہوئے قرض کے معاملہ میں 1 مارچ سے 6 مہینے کے اندر سلجھالیں۔ بغیر ادائیگی والے 5 کروڑ روپے سے زیادہ کے کھاتوں کی تفصیل ہر ہفتہ دینی ہوگی۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر پنجاب نیشنل بینک طے قواعد کے مطابق کام کررہا ہوتا اور اسکی نگرانی مشینری چوکس ہوتی تو نیرو مودی بینک کو کھوکھلا کرنے کا کام نہیں کرسکتا تھا۔ کیا یہ عجب نہیں کہ نیرو مودی کے گورکھ دھندے کی شروعات 2011 میں ہوئی لیکن اسے قریب 7 سال کے بعد ہی پکڑا جاسکا۔آخر پنجاب نیشنل بینک نے وقت رہتے اس کی پرواہ کیوں نہیں کی۔ نیرو مودی سینکڑوں کروڑ کی رقم ادھار لئے جارہا ہے اور اسے چونکانے کا نام نہیں لے رہا ہے؟ یہ ایک پیٹنٹ بن گیا ہے کہ بڑا گھوٹالہ کروں اور وجے مالیہ کی طرح دیش سے باہر نکل جاؤ۔ غور طلب ہے کہ پی این بی سرکاری بینک ہے اس میں سیاسی مفادات نہیں ہیں اس لئے گھوٹالہ کی خبر آتے ہی یہ صاف ہوگیا ہے کہ یہ گھوٹالہ 2011 سے یعنی موجودہ سرکار کے2014 میں آنے سے پہلے ہی سے جاری ہے۔ سیاسی بحث اپنی جگہ ہے لیکن اشو اتنے بڑے ہیں بینک کو سرکارڈوبنے نہیں دے گی۔ اس میں اور سرمایہ ڈالا جائے گا۔ یہ سرمایہ ظاہر ہے آپ ہم ٹیکس دہندگان کی جیب سے جانے والا ہے۔ نیرو مودی اور ان کے ساتھیوں پر کارروائی کرنے کے ساتھ پی این بی کے لاکھوں چھوٹے کھاتے داروں کے مفادات محفوظ رہیں یہ یقینی بنائے جانے کی ضرورت ہے ورنہ بینکنگ سسٹم سے ہی ان کا بھروسہ اٹھ جائے گا؟
(انل نریندر)

دہلی کو دہلانے والی یہ جرائم پیشہ خاتون

ایک وقت تھا جب چوری کرنے میں مرد آگے ہوا کرتے تھے لیکن وقت بدل گیا ہے اب چوری کرنے میں عورتیں بھی پیچھے نہیں رہیں۔ راجدھانی دہلی میں خاتون جرائم پیشہ کی فوج تیار ہورہی ہے۔ مردوں کے بھیس میں موبائل چوری کرنے والی 32 سالہ عورت ، قتل کا ٹھیکہ لینے والی 8 بچوں کی ماں اور سب سے بڑا جسم فروشی کا ریکٹ چلانے والی 35 سالہ خاتون دہلی کی نامی جرائم پیشہ افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ ایسی ہیں جو گاڈ مدر کے رول میں ہیں اور مردوں کے ساتھ مل کر گروہ چلاتی ہیں۔ دہلی میں انتہائی مطلوب 62 سالہ خاتون بشیرن 8 بچوں کی ماں ہے جو پچھلے ایک مہینے سے فرار ہے۔ بشیرن پر وصولی، ڈکیتی اور ناجائز طور سے شراب بیچنے کے معاملہ درج ہیں۔ اس کے 6 لڑکے ہیں جس میں ایک نابالغ ہے ان پر 99 مجرمانہ مقدمہ درج ہیں جن میں قتل ،ڈکیتی، وصولی، چوری اور دیگر سنگین جرائم شامل ہیں۔ جیل سے باہر آنے کے بعد اگلے ہی دن بشیرن نے منی بیگم نام کی ایک خاتون سے 60ہزار روپے میں ایک لڑکے کے قتل کی سپاری لے لی تھی۔ پولیس کو سنگم وہار کے جنگل میں ایک جلی ہوئی لاش ملی تھی۔ بشیرن اصلاً راجستھان سے تعلق رکھتی ہے۔38 سال کی سونو پنجابن کو 24 دسمبر 2017 کو جسم فروشی کا ریکٹ چلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ سونو بنیادی طور پر روہتک کی باشندہ ہے۔ وہ پہلے کئی بار گرفتار ہوچکی ہے۔ 13 سال کی لڑکی نے اس پر الزام لگایا تھا اسے مارا پیٹا گیا اور جسم فروشی کے دھندے میں جھونکنے کی کوشش کی۔ 2011 میں اسے مکوکا کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ سونو کا پہلا شوہر گینگسٹر تھا جو مڈ بھیڑ میں سال2000 میں مارا گیا۔ اس کا دوسرا شوہر بھی 2006 میں مڈ بھیڑ میں مارا گیا۔ اس پر پانچ قتل، انسانوں کی اسمگلنگ او ر پاسکو ایکٹ میں معاملہ درج ہیں۔ رام پریت کور عرف رانی 32 سال کی تھی۔پچھلے سال پولیس کو اس بات کی جانکاری ملی تھی کہ وہ مردوں کے کپڑے پہن کر بائیک سے موبائل چھینتی ہے۔ پچھلے ایک سال میں اسی پر ڈکیتی اور چھاپہ ماری کے 9 معاملہ درج ہیں۔ 42 سالہ سائرہ بیگم کا 28 سال پرانا مجرمانہ ریکارڈ ہے۔ خاتون و اس کے شوہر افاق کو 2016 میں دہلی میں سب سے بڑا جسم فروشی کا ریکٹ چلانے کے الزام میں گرفتار یا گیا تھا۔ سائرہ کے جیل میں رہنے پر اس کے ساتھی کوٹھے کو چلاتے ہیں۔ الزام ہے اس کا پتی نیپال سے لڑکیاں لاتا ہے۔ 53 سال کی ششی کلا کا مشرقی دہلی کے شکر پور تھانہ میں بطور بی سی نام درج ہے۔ عورت نے بطور سبزی فروش کام شروع کیا تھا بعد میں وہ جوئے کا بڑا ریکٹ چلانے لگی۔ اس پر 21 معاملہ درج ہیں۔
(انل نریندر)

17 فروری 2018

ان جانباز جوانوں پر ہمیں فخر ہے

جموں کے سنجوان آرمی کیمپ پر حملہ کے دوران دہشت گردوں سے مقابلہ کرتے ہوئے دیش کے بہادر جوانوں کے ایک سے بڑھ کر ایک دلچسپ قصہ سامنے آرہے ہیں۔ حملہ میں میجر ابھیجیت اس قدر زخمی ہوگئے تھے کہ انہیں تین چار دن تک باہری دنیا کی کوئی خبر نہیں رہی۔ آپریشن کے بعد ہوش میں آتے ہی بھارت کے اس بہادر لال کا پہلا سوال تھا آتنکیوں کا کیا ہوا؟ میجر ابھیجیت کا علاج اودھم پور کے آرمی اسپتال میں چل رہا ہے۔ اسپتال کے کمانڈینٹ میجر جنرل نودیپ نتھانی نے کہا کہ ابھیجیت کا حوصلہ کافی اونچا ہے۔ زخمی میجر واپس ڈیوٹی پر جانے کے لئے بے چین ہے۔ سنجوان حملہ میں شہید ہوئے پانچ فوجیوں میں ایک ایسا جوان بھی تھا جس نے بغیر ہتھیار کے ہی بزدل آتنکوادیوں سے لوہا لیا اور شہید ہونے سے پہلے اپنے خاندان سمیت نہ جانے کتنے لوگوں کی جان بچائی اے کے۔47 رائفل گرینیڈ اور دیگر خطرناک ہتھیاروں سے پوری طرح لیس ہوکر آئے آتنکیوں سے وہ اکیلے اور نہتے ہی بھڑگئے۔ سینہ و جسم کے کئی حصہ آتنک وادیوں کی گولیوں سے چھلنی ہوگئے۔دیش بھکتی میں ڈوبا خون کا ایک ایک قطرہ بہہ گیا لیکن آتنک وادیوں کو آخری سانس تک روکے رکھا۔ اپنے کنبہ کے ساتھ دیگر کئی فوجی خاندانوں کی جان بچا کر وہ جانباز شہید ہوگیا۔ یہ قربانی کی کہانی سنیچر کو فدائین حملہ میں شہید ہوئے جموں و کشمیر کے کٹھوا کے صوبیدار مدن لال (50 سال) کی ہے۔ شہید کا خاندان ملٹری اسٹیشن سنجوان میں واقع ان کے کوارٹر میں آیا تھا۔ مدن لال کے بھتیجے کی شادی کے لئے وہ شاپنگ کرنے کے لئے ٹھہرے ہوئے تھے تبھی فدائین حملہ ہوا۔ رہائشی علاقہ میں گھسے آتنکی صوبیدار مدن لال کے کوارٹر کی طرف بڑھے تب مدن لال کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا۔ آتنکی آتنکوادیوں نے ان پر اے کے ۔47 سے گولیاں برسانی شروع کردیں۔ شہید ہونے سے پہلے ان کی حتی الامکان کوشش رہی کہ ان کا خاندان پچھلے گیٹ سے باہر نکل جائے حالانکہ اس میں ان کی 20 سالہ بیٹی نیہا کی ٹانگ میں گولی لگ گئی۔ سالی پرمجیت کور کو بھی معمولی چوٹیں آئیں لیکن وہ وہاں سے بچ پانے میں کامیاب ہوگئیں۔ شہیدمدن لال اگر کچھ دیر آتنک وادیوں کو روکے رکھنے میں کامیاب نہیں ہوتے تو کچھ اور لوگوں کی جان چلی جاتی۔ مدن لال کے بھائی سریندر کہتے ہیں کہ مجھے اپنے چھوٹے بھائی پر فخر ہے جو اپنے خاندان کوبچانے کیلئے آخری دم تک آتنک وادیوں سے لوہا لیتا رہا۔ ہم بہادر شہیدوں کو شردھانجلی پیش کرتے ہیں۔ جے ہند۔
(انل نریندر)

ایرانی صدر روحانی کے دورہ ہند کی اہمیت

ایران کے صدر حسن روحانی جمعرات کو سہ روزہ دورہ ہند پر حیدر آباد آئے۔ بیگم پیٹ ایئرپورٹ پر روحانی کا شاندار استقبال کیا گیا۔روحانی حیدر آباد دوسری مرتبہ آئے ہیں لیکن صدر بننے کے بعد وہ پہلی بار تشریف لائے۔ ایران کے صدر کے اس دورہ میں چابہار بندرگاہ، بھارت۔ ایران کے درمیان کھیل کاروبار سمیت کئی دوسرے اقتصادی امور پر بات ہونے کی امید ہے۔ ایران بھارت کو تیل سپلائی کرنے والا تیسرا بڑا دیش ہے۔ اس کے علاوہ اگر ہم سیاسی پس منظر سے دیکھیں تو بھارت اور ایران، افغانستان میں اتحاد ی رول رہا ہے لیکن اب امریکہ نے ایران کے خلاف جو رخ اپنایا ہے تو ایسے میں بھارت کو پھونک پھونک کر قدم بڑھانا ہوگا تاکہ دونوں ملکوں سے بھارت کا توازن بنا رہے ساتھ ہی بھارت کا رخ فلسطین اور ااسرائیل کو لیکر ایران سے الگ رہا ہے وہیں سعودی عرب میں بھارت امریکہ کے قدم کے ساتھ دکھائی پڑتا ہے۔ ایسے میں اگر خارجہ ڈپلومیسی کو دیکھیں تو دونوں دیشوں کے درمیان بہت سے سوال موجود ہیں اس لئے فی الحال تو اس دورہ سے ایسا نہیں لگتا کہ کوئی بڑا سیاسی قدم اٹھائے جانے کا امکان ہے۔ منموہن سنگھ کے عہد میں ایک وقت بھارت اور ایران کے رشتے کافی نازک موڑ پر آگئے تھے۔ اس وقت ایران کو بھارت کی بہت ضرورت تھی لیکن اب مشرقی وسطی میں جو حالات ہیں ان میں ایران بھارت پر بہت زیادہ منحصر نہیں کرتا اس لئے یہ دیکھنا ہوگا کہ بھارت کو تیل کے علاوہ ایران کی کتنی زیادہ ضرورت ہے ۔ فی الحال تو پچھلے ایک سال سے بھارت کی خارجہ پالیسی امریکہ پرمرکوز ہوگئی ہے۔ ایسے میں ایران کا رول ابھی تک واضح نہیں ہے۔ 1970 سے 1980 کی دہائی میں بھارت اور ایران کے درمیان اپنی ٹھوس خارجہ پالیسی تھی اور ایران ایسا دیش رہا ہے جو کشمیر پر کبھی زیادہ نہیں بولتا تھا یہاں تک کہ جو اسلامی ملک کشمیر کے لئے کوئی ریزولوشن پاس ہوتے تھے تب بھی ایران کا رخ بھارت حمایتی رہتا تھا۔ اس کے بعد منموہن سنگھ کی حکومت کے دوران بھارت۔ امریکہ کے درمیان قریبی رشتے بننے سے ایران اور بھارت کی دوری بننے لگی۔ بھارت اور ایران دوستی کا سب سے بڑا مضبوط ہے چابہار۔ ایسے میں دیکھیں تو بھارت کو لیکر ایران کی خارجہ پالیسی میں بہت فرق آیا ہے۔ بھارت کا ایران سے تیل سپلائی کا رشتہ ہے کیونکہ وہ بھارت کو سستا تیل مہیا کرواتا ہے۔ وہیں ایران کو بھارت کی شکل میں ایک جمہوری دیش کی حمایت کی ضرورت ہے۔ صدر روحانی کی آمد کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

16 فروری 2018

عام آدمی پارٹی کا تین سالہ عہد

عام آدمی پارٹی کی دہلی حکومت کو تین سال پورے ہوگئے ہیں۔ ان تین برسوں میں دہلی سرکار کے ساتھ ساتھ عام آدمی پارٹی بھی کئی اتار چڑھاؤ کے دور سے گزری ہے۔ سرکار کے تین سال پورے ہونے کے موقعہ پر حکمراں فریق اور اپوزیشن دونوں نے تگڑی سیاسی مورچہ بندی کی ہے۔ سرکار کے کام کاج کو لیکر اٹھ رہے سوالوں کا جواب دینے کے لئے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے خود ہی مورچہ سنبھال رکھا ہے۔ 2015 میں عاپ نے تاریخی اکثریت کے ساتھ دہلی کا اقتدار حاصل کیا تھا۔ ایک طرف جہاں عام آدمی پارٹی ایک کے بعد ایک ٹوئٹ کر اپنے کارنامے گنا رہی ہے وہیں بھاجپا اور کانگریس بھی ٹوئٹ سے سرکار کوگھیرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہے۔ عام آدمی پارٹی نے ٹوئٹ کر اپنی حصولیابیاں گناتے ہوئے کہا کہ ہم نے بجلی کمپنیوں کی سی اے جی جانچ کرائے ، جس سے کمپنیوں میں کھلبلی مچ گئی ساتھ ہی کہا کہ ہم نے بل میں 50 فیصدی کی کٹوتی کی۔ بجلی گھنٹوں کٹوتی کو بند کردیا اور بجلی کمپنیوں پر جرمانہ لگایا گیا۔ تین سال میں بجلی کے داموں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ 750 لیٹر پانی مفت کر منشور میں دیا گیا وعدہ پورا کیا۔ تعلیم میں تبدیلی کی گئی۔ پرائیویٹ اسکولوں پر شکنجہ کسا گیا۔ ہیلتھ اسکیم لاگو کی۔ عام آدمی ہیلتھ کارڈ بھی بنے گا۔ ڈور اسٹیپ یوجنا کو منظوری ملی۔ 40 یوجناؤں میں فائدہ واقف کاروں کا کہنا ہے ابتدائی دو سال میں دہلی کی سرکار اور عاپ کی ساکھ کو اتنا نقصان نہیں پہنچا جتنا تیسرے سال میں ہوا، خاص طور پر پنجاب اور گووا چناؤ کے بعد۔ پنجاب سے پہلے عام آدمی پارٹی دہلی کو لیکر بے فکر تھی یہ فکری کہیں نہ کہیں ایم سی ڈی چناؤ میں بھاری پڑتی دکھائی دی۔ چناؤ آتے آتے پارٹی کے اندر اندرونی رسہ کشی بڑھ گئی اور پارٹی کی سینئر لیڈر شپ کو اس کا احساس ہوگیا ۔ جس کے بعد کیجریوال نے خود دہلی کے میدان میں اتر کر مورچہ سنبھالا۔ لیکن توقع کے حساب سے نتیجہ حاصل نہیں کرپائے۔ ایم سی ڈی چناؤ میں ہوئی ہار کے بعد سے پارٹی کے اندر جو اتھل پتھل شروع ہوئی تھی وہ ابھی تک بھی خاموش نہیں ہوسکی۔ پارٹی دو خیموں میں بٹتی دکھائی دی۔ کمار وشواس اور کچھ دیگر نیتاؤں کے درمیان جو اختلافات تھے وہ ابھر کر سامنے آگئے۔ ان تین برسوں میں کیجریوال حکومت کئی تنازعوں میں پھنسی رہی۔ تین برس سے لگاتار سرکار اور دہلی کے ایل جی کے درمیان ٹکراؤ رہا۔ ٹیچروں کی بھرتی کا معاملہ ہو یا ہیلتھ سروسز کا معاملہ ہو سرکار بننے کے ساتھ ہی وزرا کو لیکر تنازعات شروع ہوگئے۔ اسٹنگ آپریشن سے لیکر فرضی ڈگری کے الزام میں منتریوں پر جو الزام لگے اس معاملہ میں عام آدمی پارٹی کے چار وزرا کو اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔ سرکار میں پارلیمنٹری سکریٹری کے معاملہ میں جم کر تنازع کھڑا ہوا۔ چناؤ کمیشن نے 20 ممبران اسمبلی کو نا اہل قرار دے دیا۔ صدر نے بھی اس پر اپنی مہر لگادی۔ اب معاملہ دہلی ہائی کورٹ میں چل رہاہے۔ کئی معاملوں میں سرکار اور افسروں کے درمیان تنازع سطح پر آگیا ہے۔ اسے لیکر وزیراعلی کئی بار اپنے اعتراض جتا چکے ہیں۔ تازہ معاملہ وزیر اعلی کے سندیش پر افسروں نے اپنی رضامندی نہیں دی۔ 
عام آدمی سرکار بار بار سی بی آئی کے بیجا استعمال کے الزام لگاتی رہی ہے۔ پچھلے برس ستیندر جین کو لیکر سی بی آئی جانچ ہوئی۔ پہلے ان کے خلاف معاملہ درج ہوا اور پھر جانچ ہوئی۔ پچھلے دنوں سی بی آئی کے ایک چھاپہ میں ستیندر جین سے وابستہ دستاویزات ملنے کا دعوی کیا گیا۔ حالانکہ سرکار اس سے انکار کرتی رہی۔ امید ہے کہ عام آدمی پارٹی کو اتنا تو سمجھ میں آگیا ہے کہ اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ یہ اندازہ تھا کہ پارٹی کے معیار میں تھوڑی گرواٹ آئے گی جو اینٹی کمبینسی کی وجہ سے فطری مانی جارہی تھی لیکن کمار وشواس، کپل مشرا اور ستیندر جین معاملہ جس طرح سے سرخیوں میں رہا اس سے پارٹی کی مقبولیت کو کچھ زیادہ نقصان ہوا ہے۔ پارٹی کو یہ بھی اندازہ ہوچکا ہے کہ اپنی ساکھ بچانے کے لئے اسے دہلی پر ہی پورا زور لگانا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی نے ابھی سے آنے والے چناؤ کی تیاری شروع کرتے ہوئے رابطہ اور تنظیم کو مضبوط کرنے کا کام شروع کردیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کی سرکار کی مخالفت میں دہلی کی سابق وزیر اعلی شیلا دیکشت کا میدان میں اترنا بھی کم دلچسپ نہیں ہے۔ لمبے عرصے کے بعد شیلا جی پردیش پردھان اجے ماکن کے ساتھ میڈیا سے روبرو ہوئیں ان کے ساتھ ان کی سرکار میں وزیر رہے تمام نیتاؤں کے علاوہ دہلی کانگریس کے تمام بڑے لیڈر موجود تھے۔ سمجھا جارہا ہے کہ متحد ہوکر عام آدمی پارٹی سے نمٹنے کی حکمت عملی کے تحت کانگریس کے کئی نیتا ایک اسٹیج پر اکھٹے ہورہے ہیں۔ ادھر بھاجپا نیتا وجیندر گپتا کا کہنا ہے تین برسوں میں 67 سیٹوں کا ریکارڈ اکثریت سمٹ کر 42 سیٹوں کا رہ گیا ہے۔ اسکول ، اسپتالو سڑک خدمات میں بہتری نہیں آئی۔ سرکار کے چار وزرا کو مختلف الزامات کی وجہ سے ان کے عہدوں سے ہٹنا پڑا ہے۔ پارٹی وزیر ستیندر جین جیل جانے کی تیاری میں ہیں۔ دہلی سرکار عورتوں کو سلامتی مہیا کرانے میں پوری طرح ناکام رہی ہے۔
(انل نریندر)

15 فروری 2018

موہن بھاگوت کے بیان پرسیاسی واویلا

آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت کا فوج پر کئے گئے تبصرے سے سیاسی واویلا کھڑا ہوگیا ہے۔ بھاگوت نے مظفر پور میں کہا تھا کہ ہماری ملٹری تنظیم نہیں ہے۔ ملٹری جیسا ڈسپلن ہمارا ہے۔اگر دیش کو ضرورت پڑے اور دیش کا آئین ۔ قانون کہے تو فوج تیار کرنے کو چھ سات مہینے لگ جائیں گے۔ آر ایس ایس رضاکاروں کو لیں گے اور تین دن میں وہ تیار ہوجائیں گے یہ ہماری صلاحیت ہے لیکن ہم ملٹری سنگٹھن بھی نہیں ہیں، ہم تو ایک کنبہ جاتی تنظیم ہیں۔ کانگریس صدر راہل گاندھی نے بھاگوت کے بیان کو فوج اور ترنگے کی توہین قراردیتے ہوئے اسے شرمناک قرار دیا ۔وہیں کانگریس نے بھاگوت کی جانب سے دیش اور فوج سے معافی کی مانگ کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں پرائیویٹ ملیشیا کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ وہیں کانگریس نیتا آنند شرما نے وزیر اعظم نریندر مودی سے پوزیشن صاف کرنے کوکہا ہے۔ بھاگوت کا بیان چونکانے والا ہے۔ ایسے بیان سے ہماری فوج کا حوصلہ کمزور ہوتا ہے۔ بھارت کی فوج دنیا کی سب سے بڑی افواج میں سے ہے جس نے آزادی کے بعد تاریخی جنگیں لڑی ہیں۔ اس میں پاک فوج کا سرنڈر اور بنگلہ دیش کی آزادی شامل ہے۔ فوج نے ہماری سرحدوں کو محفوظ رکھا ہے اور ایسے وقت میں جب ہم بڑی چنوتی اور فوجی اڈوں پر حملوں کا سامنا کررہے ہیں تو بھاگوت نے تو ہماری فوج کی صلاحیت اور بہادری پر سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ بھاگوت کے بیان پر تنازع ہوتا دیکھ سنگھ کی جانب سے صفائی پیش کی گئی ہے۔ کہا گیا ہے کہ بھاگوت نے فوج اور آر ایس ایس رضاکاروں کے درمیان کوئی موازنہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ رضاکار اور عام لوگوں کے درمیان کا موازنہ تھا۔ سنگھ کے آل انڈیا کمپین چیف منموہن وید نے کہا سرسنگھ چالک کے بیان کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ۔ وید نے کہا کہ یہ فوج کے ساتھ موازنہ نہیں تھا بلکہ عام سماج اور رضاکاروں کے درمیان تھا۔ ادھر بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے بھاگوت کا اشاروں اشاروں میں بچاؤ کیا۔ انہوں نے کہا اگر کوئی تنظیم یہ کہتی ہے کہ وہ دیش کی سلامتی کرنے کو بے چین ہے تو کیا یہ تنازعہ کا موضوع ہے؟ مرکزی وزیر مملکت داخلہ کرن ریججو نے ٹوئٹ کر کہا کہ ہماری فوج کی شان ہے ایمرجنسی کی دور میں ہر ہندوستانی کو سیکورٹی فورس کے ساتھ کھڑے ہونے کے لئے خود آگے آنا چاہئے۔ بھاگوت نے نہ صرف یہ کہا کہ ایک شخص کو فوجی کے طور پر تیار ہونے میں چھ یا سات مہینے لگتے ہیں اگر آئین اجازت دیتا تو سنگھ کے کاڈر میں تعاون دینے کی صلاحیت ہے۔ سنگھ چیف کے بیان پر یہ پہلا تنازعہ نہیں ہے وہ پہلے بھی ایسے متنازع بیان دیتے رہے ہیں۔ ایسے وقت جب جموں و کشمیر میں جنگ کے حالات بنے ہوئے ہیں موہن بھاگوت کو ایسے بیانوں سے بچنا چاہئے۔
(انل نریندر)

آئی ایس آئی کا ہنی ٹریپ

پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو دیش سے وابستہ خفیہ اطلاعات دینے کے الزام میں انڈین ایئرفورس گروپ کے کیپٹن کی گرفتاری چونکانے والی ہے۔ ویسے تو بھارت۔ پاکستان دونوں ایک دوسرے کی جاسوسی کرتے رہتے ہیں لیکن جب اپنے ہی دیش کا کوئی شخص دشمن کے لئے جاسوسی کرتا پکڑا جائے تب حالت اور بھی مشکل بھری ہوتی ہے جب پکڑا جانے والا شخص فوج کا ہی کوئی افسر ہو۔ انڈین ائیرفورس گروپ کے کیپٹن ارون ماروا کی گرفتاری اسی لحاظ سے پریشان کن خبر ہے اور چونکانے والی بات یہ بھی ہے کہ ایئرفورس کے ہیڈ کوارٹر میں تعینات اس افسر کو پاک خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے جس طرح اپنے جال میں پھنسایا اس سے کان کھڑے ہوجاتے ہیں۔ فو ج کو لالچ دینے کیلئے حسیناؤں کے استعمال کی کہانیاں ہم سنتے آئے ہیں لیکن اس بار کوئی حسینہ نہیں بلکہ اس بار عورتوں کے نام پر بنی نقلی آئی ڈی تھی۔ عدالت کے سامنے پولیس نے بتایا کہ کچھ مہینے پہلے ایئرفورس کے گروپ کیپٹن ارون ماروا ترویندرم گئے تھے وہیں آئی ایس آئی کے خفیہ ایجنٹ نے لڑکی بن کر فیس بک پر ان سے دوستی کی تھی۔ اس کے بعد دونوں میں لگاتار فون پر چیٹنگ ہونے لگی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو فحاشی میسج بھیجے۔ لڑکی بنے آئی ایس آئی ایجنٹ نے سیکس چیٹ کے ذریعے ماروا کو جال میں پھنسا لیا۔ قریب 10 دن چلی چیٹ کے دوران ایجنٹ نے کیپٹن سے میٹھی میٹھی باتوں میں پوری طرح پھنسا کر اس سے کئی خفیہ دستاویز دینے کی مانگ کی تھی۔
ماروا نے کچھ خفیہ دستاویزوں کو تو مہیا کرادیا لیکن کچھ ہفتے بعد ایئرفورس کے ایک سینئر افسر کو ماروا کی اس حرکت کے بارے میں جانکاری ملی۔ افسر نے اس پر شعبہ جاتی جانچ بٹھا دی۔ جانچ کے دوران ارون ماروا کے جاسوسی میں ملوث پائے جانے کے بعد ایئرفورس کے سینئر افسر نے دہلی کے پولیس کمشنر امولیہ پٹنائک سے اس کی شکایت کی۔ اور دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے جمعرات کو اسے گرفتار کرلیا۔ ماروا نے پوچھ تاچھ کے دوران قبول کیا کہ ا س کا ایک پرانا ساتھی بھی اس میں شامل تھا۔ اس نییہ بھی اعتراف کیا کہ اس کا ساتھی مبینہ دو پاکستانی عورتوں کا سانجھہ دوست تھا جنہیں انہوں نے نئی سائبر جنگ سیکٹر اور خلا و خصوصی آپریشن کے بارے میں خفیہ اطلاعات لیک کی تھیں۔ ماروا نے یہ بھی مانا کہ انہوں نے عورتوں کو فیس بک پر ایئر فورس کی کارروائیوں کے بارے میں جانکاری دی۔ ہیڈ کوارٹر میں تعیناتی کے سبب کئی اہم اور خفیہ دستاویزوں تک ان کی پہنچ تھی۔
(انل نریندر)

امریکہ -سعودی نیوکلیائی معاہدہ !

ایران امریکہ جنگ کے درمیان خلیج سے ایک ایسی خبر آئی ہے جو نہ صرف مشرقی وسطیٰ کو بلکہ پوری دنیا کو چونکا دے گی ۔جس یورینیم افزودگی کو لے کر ...