Translater

23 اکتوبر 2016

کیا سائیکل پر اکیلے چلنے پر مجبور ہوں گے اکھلیش

تمام کوششوں اور دعوؤں اور بیانات کے باوجود اترپردیش میں حکمراں سماج وادی پارٹی کے یادو خاندان کا جھگڑا ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ 5نومبر کو پارٹی کے قیام کی سلور جوبلی منانے جارہی سپا کے نیتا جنیشور مشر پارک میں منعقدہ پروگرام کے 48 گھنٹے پہلے ہی اکھلیش یادو سماج وادی وکاس یاترا پر نکلنے جارہے ہیں۔ اس بات کااعلان انہوں نے ملائم سنگھ یادو کو لکھے خط میں کیا ہے۔ اپنے نوجوان حمایتیوں پر کارروائی اور پردیش تنظیم نے تبدیلی سے ناراض اب لگتا ہے کہ شاید وزیراعلی نے اکیلا چلو کا رک اختیار کرلیا ہے۔ سپا پردیش پردھان شیو پال یادو کو ایک طرح سے چنوتی دینے کے ا نداز میں 3نومبر سے’’ وکاس سے وجے کی اور ‘‘ اور سماج وادی وکاس یاترا کااعلان کر یہ ظاہر کردیا ہے کہ یادو پریوار میں جنگ جاری ہے کلی طور پر لوگوں کاکہنا ہے کہ وزیراعلی ا کھلیش یادو نے اگر حالات پر کنٹرول نہیں کیا اور ان کی مانگیں نہیں مانی گئی تو وہ نئی پارٹی بھی بنا سکتے ہیں مگر فی الحال وہ کرسی چھوڑنے کی ہمت نہیں جٹا پارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کھل کر بغاوت بھی نہیں کرپارہے ہیں۔ وہ اپنے حمایتیوں کے ذریعے نیتا جی اور ان کے بھائی کو ا لجھائے رکھناچاہتے ہیں دراصل اکھلیش کو اس بات کا ڈر ہے اگر نئی پارٹی کا اعلان کردیا تو ملائم سنگھ ان کو وزیراعلی کے عہدے پر نہیں رہنے دیں گے اور چناؤ ضابطہ لگنے تک شاید انتظار کریں۔ اکھلیش کے پاس ایم ایل اے تبھی تک ہے جب تک وہ وزیراعلی ہے جیسے ہی نیتا جی خود کو وزیراعلی بنانے کی تجویز رکھوائیں گے تو زیادہ تر ممبر اسمبلی اکھلیش کا ساتھ چھوڑ کر نیتا جی کے ساتھ کھڑے نظر آئیں گے کیونکہ نئی پارٹی سے رکس لینے والوں کی تعداد کافی کم ہوگی۔ ا دھر اگر ملائم سنگھ کی کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں تو ان سب کو ٹھیک کرنے میں لگ جائیں گے جو اس وقت ان کے شیو پال یادو کے خلاف کھڑے ہورہے ہیں اس صورت میں کتنے لوگ اکھلیش کاساتھ دیتے ہیں اس پر بھی شبہ ہے میٹنگ میں جنگ اس وقت شروع ہوئی جب قومی صدر ملائم سنگھ یادو نے اکھلیش کو پارٹی کا صدر کے عہدے سے ہٹا کر اپنے بھائی شیو پال سنگھ یادو اس کرسی پر بیٹھایا سماج وادی پارٹی میں جاری آپسی کھینچ تان کس مقام پر پہنچے گی یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن اتنا طے ہے کہ اس پوری قواعد کی بڑی قیمت اکھلیش یادو کے اس وکاس ایجنڈے کو چکانی پڑے گی جس کو لے کر انہوں نے جیتیں ساڑھے چار برس تک اترپردیش میں کام کیا ہے اور جسے بنیاد پر بنا کر اسمبلی چناؤ میدان میں جانے کا سبز باغ پالے ہوئے بیٹھیں ہیں دیکھیں آنے والے وقت اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
(انل نریندر)

22 اکتوبر 2016

اب ضرورت ہے دیش میں اندر سرجیکل اسٹرائیک کی

بھارت اور چین کے الگ تھلگ کرنے کے بعد اب سرکار کو دیش کے اندر دہشت گردوں کو ٹھکانے لگانے کے لئے ملک کے اندر ہی سرجیکل اسٹرائیک کرنی ہوگی۔ ملک کے اندر پیدا تلخی اور بیحانی اور دشمن کی مدد کرنے والے سلیپر سیل سے زیادہ بڑا خطرہ ہے ۔ بھارت کے سابق قومی مشیر شیو شنکر مینن کا یہ کہنا ہے کہ کئی معنوں میں اہم ہے۔ دیش کے اندر کچھ لوگ ہیں اور ملک مخالف باتیں کرتے ہیں۔ ایسے اشو اکثر اٹھاتے رہتے ہیں۔ جس سے دیش کے دشمنوں کو بہت مدد ملتی ہیں کچھ تو آج بھی سرحد پار اپنے آقاؤں سے ہدایت لیتے ہیں ہم چینلوں میں دیکھا ہے کہ ایسی بحث کرائی جاتی ہیں جس سے دیش کمزور ہوتا ہے ویسے بھی ان جہادی انجمنوں سے دیش کو خطرہ ہے ۔ ذرائع کے مطابق کیرل کے ساتھ ہی جموں وکشمیر، تلنگانہ، پنجاب اور مغربی بنگال میں بھی سیکورٹی ایجنسیوں نے آتنکی تنظیموں کے رابطے میں رہنے والے کچھ لوگوں کو حراست میں لیا ہے سب سے اہم گرفتاری کیرل میں ہوئی ہے جہاں قومی جانچ ایجنسی این آئی اے نے جن 6 دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے ان کا موڈیول بہت ہی خطرناک ارادہ رکھتا ہے۔ اس کا موازانہ حال ہی میں بنگلہ دیش کی راجدھانی ڈھاکہ میں ہوئے حملے سے کیا جارہا ہے۔ وہ دیوالی کے آس پاس ساؤتھ انڈیا میں خوف پھیلانے کامنصوبہ بنا رہے تھے۔ سرجیکل اسٹرائیک کے بعد بھارت میں آتنکی حملہ کا اندیشہ بڑا ہے اس کے پیچھے وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کی ایجنسیاں بھارت میں جلد سے جلد حملہ کرنے کی تاک میں ہے۔ جموں وکشمیر میں بارہمولہ راشٹریہ رائفلس ہیڈ کوارٹر پر حملہ کو بھی ایک سلیپر سیل کی کارستانی مانا جارہا ہے۔ سرجیکل اسٹرائیک کے بعد مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کئی ریاستوں کے وزراء اعلی کے ساتھ بات کی تھی۔ اور انہیں اپنی سیکوریٹی سسٹم کو چوکس کرنے کی صلاح دی تھی۔ وزارت داخلہ کے ایک افسر اب بھی کئی ریاستوں کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ سیکورٹی نظام کو لے کر لگاتار اطلاعات دے رہے ہیں۔ نکسلی واد ، فرقہ وارانہ کشیدگی ، دہشت گردوں کی مدد کرتا ہے ماحول و زمینی حملوں کی تیاری کرتا ہے معیشت کی طرف چوٹ پہنچانے والی حرکت جاری نوٹ کی اسمگلنگ بھی خطرے کی آہٹ کو بڑھاتی ہیں۔ لازمی ہے کہ سرکار کو ایسے کسی اٹوٹ اور بلا روک زہر کو پھیلنے اثر کو کم کرنا ہوگا جب تک دیش محفوظ نہیں ہے منظم نہیں رہے گا تب تک باہری دشمنوں سے لڑائی اور ان کے خلاف فیصلہ کن جنگ جیتی نہیں جاسکتی ہیں۔ بلاشبہ اندرونی خطرے کے بارے میں جو اشارہ کرتے ہوئے چیف شنکر نے کہی ہے وہ ان کو سرسری نہیں لیا جاناچاہئے بلکہ انہوں نے چار سال تک سلامتی مشیرکے عہدے پر رہتے ہوئے کافی کچھ دیکھا ہے اب ضرورت ہے اندرونی سرجیکل اسٹرائیک کی۔
(انل نریندر)

چینی سامان کی فروخت روک میں 60% کی گراوٹ

چین کے بنے سامان کی مخالفت میں سوشل میڈیا کی مہم رنگ لانے لگی ہیں حالت یہ ہے کہ مارکیٹ میں چینی سامان کی فروخت میں 50سے 60 فیصد تک کی گراوٹ آچکی ہے اس حالت کو دیکھتے ہوئے تھوک دکانداروں کے پاس کروڑوں روپے کا سامان پھنس گیا ہے ایسے میں چین میں دئے گئے پرانے آرڈروں کو بھی منسوخ کرنے کے ساتھ ہی نئے آڈر بھی بند کئے جارہے ہیں اس بارے میں بھاگیرت پلیس( دہلی کے) ایک تھوک تاجر کے مطابق اس نے دیوالی کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس سیزن پر چین سے خرید 5کروڑ روپئے کا مال منگایا تھا جس میں بجلی کی لڑیوں کے ساتھ ہی دیگر الیکٹرانک آئٹم تھے کاروباری کے مطابق پیچھے برس بھی پہلی کھیپ میں اتنے ہی رقم کا مال منگایا گیا تھا جو دیوالی کے پہلے بک گیا تھا لیکن اس برس قریبا 60 فیصد مال اٹکا پڑا ہے۔ بھاگیرت پلیس کو الیکٹرانک سامان کے معاملے ا یشیا کے بڑے بازاروں میں شمار کیاجاتا ہے۔ دیوالی پر اس بازار 8سے 10کروڑ روپے کی بجلی کی لڑیوں کے ساتھ دیگر سجاوٹی سامان چین سے آیا ہوا ہے لیکن چین کے سامان کی مخالفت مہم نے یہاں کے دکانداروں کی ہوا نکال دی ہیں ایک دکاندارکے مطابق لوگ یہ جان سامان نہیں لے رہے ہیں کیونکہ چین کا بنا ہوا ہے دیسی پروڈکٹس کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں الیکٹرانک ٹریڈرس ایسوسی ایشن کے چیئرمین کے مطابق بازار کے حالات کافی خراب ہے لوگوں کا کافی پیسہ چین کے پروڈکٹس میں لگا ہوا ہے لیکن بازار میں چین مخالف ماحول ہے ویسے بھی یہ کہناپڑتا ہے کہ احتجاج کے باوجود دہلی کے بازاروں میں ابھی بھی چینی سامان چھایا ہوا ہے لڑیاں چینی بلب، سجاوٹی سامان چاندنی چوک، بھاگیرت پلیس اور دیگر بازاروں میں بک رہا ہے حالانکہ دکانداروں نے مانا ہے کہ چائنا کے پروڈکٹس کو پابندی کی مانگ کے بعد بازار میں بھی اثر پڑرہا ہے۔ دکانداروں کو روز 20 سے 25 ہزار روپے کا نقصان ہورہا ہے۔ لیکن وہی دکانداروں کا یہ بھی کہنا ہے پہلے حکومت کو ایسے ٹھوس انتظام کرنے چاہئے تھے کہ چائنا کے مال کی جگہ ہندوستانی پروڈکس خریدے جائے۔ تھوک تاجروں نے مہینوں پہلے اپنے آرڈر دے دیئے تھے پابندی تو اس وقت لگنی چاہئے تھی اثر مسئلے کا حل تو یہ ہے کہ ہم چین کی بنی لڑیوں و دیگر سامان کی قیمت پر ملک کی مال کو بیچیں۔ ہندوستانی سامان کے مقابلے میں چائنا کے ڈیزائنر لائٹیں، لڑیاں، اور کئی چیزیں 40سے 50 فیصدی سستی ملتی ہیں ایک تاجر کاکہنا تھا کہ چینی سامان پر پابندی لگانی تھی تو لوگوں کو خریدنے سے پہلے ہی روکنا چاہئے تھا۔ دہلی نہیں پورے دیش میں چین سے کئی کچے میٹریل اور پروڈکٹس بھارت میں لائے جاتے ہیں اور انہیں بھارت میں تیار کیاجاتا ہے۔ پین ہو یا ایل ای ڈی لائٹیں یا ڈیزائنر آئٹم ، الیکٹریکل سامان ہر چیز کی سپلائی چین سے ہوتی ہیں چاہے براہ راست یا غیربراہ راست طریقے سے کئی سامان کے لئے ہم چین پر منحصر کرتے ہیں۔ دہلی کی شاپنگ کے لئے 2سے ڈھائی مہینے پہلے ہی چینی سامان دہلی میں آجاتا ہے اگر اب انہیں دکاندار نہیں فروخت نہیں کریں گے پورے بازار کا ہر روز 10کروڑ روپے سے زیادہ نقصان ہوسکتا ہے بھارت کا چینی سامان کے خلاف سوشل میڈیا پر چل رہی کمپین سے چین ناراض ہوگیا ہے اور اس نے احتجاج میں چینی میڈیا اخبار گلوبل ٹائمس نے لکھا ہے بھارت صرف بھونک سکتا ہے چینی سامان کو لے کر چل رہی باتیں بھڑکاؤ ہے ہندوستانی سامان چائنز پروڈکٹس کے مقابلے ٹک نہیں سکتا ہے۔ دیش کے بڑھتے کاروباری خسارے پر بھارت کچھ بھی نہیں کرسکتا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ پاکستانی دہشت گردوں کو بین الاقوامی آتنکی اعلان کرانے کی بھارت کی کوششوں کے چین کی مسلسل مخالفت سے زیادہ تر ہندوستانی ناراض ہے اس کے چلتے وہاں سوشل میڈیا سمیت کئی پلیٹ فارم چینی سامان کے بائیکاٹ کی مہم چلا رکھی ہے۔ ا خبار نے ہندوستانی وزیراعظم کے میک ان انڈیا پروجیکٹ کو بھی غیر موزوں قرار دیا ہے۔
(انل نریندر)

21 اکتوبر 2016

مشکل میں’ اے دل‘

خود کو ان چاہی مشکل میں پھنستے دیکھ فلم ہدایت کار و پروڈیوسر کرن جوہر و بالی ووڈ کی کچھ بڑبولی آوازوں کے سر منگلوار کو بدلے بدلے سے نظر آئے۔اسے عوامی جذبات کا دباؤ کہیں یا بنیادی اصلاح کہیں؟ ان ہستیوں کو ممکنہ طور پر یہ احساس ہو گیا کہ دیش کی بات کرنا اورشیو سینا کا ساتھ دیناقطعی مشکل نہیں ہے۔ پاکستانی اداکار فواد خان کی وجہ سے فلم ’’اے دل ہے مشکل‘ کی ریلیز کو لے کر احتجاج جھیل رہے ہدایتکار کرن جوہر نے منگلوار کو کہا کہ وہ مستقبل میں پاکستانی اداکاروں کو نہیں لیں گے۔ انہوں نے جذباتی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میری فلم میں اڑنگا نہ ڈالا جائے۔ بتا دیں کہ راج ٹھاکر ے کی مہاراشٹر نو نرمان سینا اور کچھ دیگر سیاسی تنظیموں نے جموں و کشمیر میں اڑی حملہ کے بعد پاک اداکاروں والی فلموں کی ریلیز کی جم کر مخالفت کی ہے۔ جس کے بعد کرن جوہر کی فلم کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا ہوگیا ہے جو دیوالی سے پہلے 28 اکتوبر کو ریلیز ہونی ہے۔ سنیما گھر کے مالکان کی انجمن نے بھی مہاراشٹر، گجرات، کرناٹک اور گوا میں پاکستانی اداکاروں کی اداکاری والی فلموں کی نمائش نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فلم میں رنبیر کپور، ایشوریہ رائے بچن، انوشکا شرما کے اہم کردار ہیں۔ پاکستان کے ایکٹر فواد خان کا فلم میں چھوٹا سا رول بتایا جارہا ہے۔ کرن نے کہا کہ وہ چپ رہے کیونکہ ان کی حب الوطنی کے بارے میں سوال اٹھائے جانے سے وہ دکھی تھے۔ انہوں نے کہا دیش ان کے لئے پہلے ہے اور انہوں نے ہمیشہ دیش کو سب سے بالاتر رکھا۔ فلم کے احتجاج پر نکتہ چینی کرتے ہوئے فلم پروڈیوسر انوراگ کشیپ نے تو وزیر اعظم نریندر مودی کے پاکستان جانے پر ان کے معافی مانگنے تک کا اوٹ پٹانگ بیان دے ڈالا۔ اب انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو انہوں نے فیس بک پر صفائی دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مودی سے کبھی معافی مانگنے کی بات نہیں کی تھی۔ انہوں نے اپنی صفائی میں لکھا ہے میں نے بس اتنا کہا تھا کہ فلم صنعت کو آسانی سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ میں اپنی بات اس لئے رکھ رہا ہوں کیونکہ مجھے بعد میں میڈیا میں بیان جاری نہیں کرنا پڑا۔ میں نے کبھی کسی صورتحال پر سوال نہیں اٹھایا۔وزیر اعظم مستقبل کے حالات سے انجان پاکستان کے دورہ پر گئے تھے۔ ادھرراج ٹھاکرے کی پارٹی ایم این ایس کے احتجاج کے باوجود کرن جوہر کی فلم ’اے دل ہے مشکل‘ کی ممبئی میں نمائش پولیس کی سکیورٹی میں ہوگی۔ حالانکہ ایم این ایس نے کہا ہے کہ پاکستانی ایکٹر فواد خان کی جوہ سے وہ اس فلم کی ریلیز کے احتجاج پر قائم ہیں۔ بتادیں کہ ایم این ایس کی وارننگ کے بعد فلم اینڈ ٹیلی ویژن پروڈیوسر گلڈ کے مکیش بھٹ اور اسٹار انڈیا کے انوپما چوپڑا اور فلم پروڈیوسر سدھارتھ کپور نے پولیس سے سکیورٹی کی اپیل کی تھی۔ فلم کی پاکستانی تو بہت برائی کررہے ہیں۔
(انل نریندر)

آئی ایس کے صفائے کیلئے فیصلہ کن جنگ

دنیا میں کبھی اپنے تعلیمی اداروں کے لئے مشہور تین ہزار سال پرانا عراقی شہر موصل اب سب سے بڑی جنگ کا میدان بن گیا ہے۔ آئی ایس (اسلامک اسٹیٹ ) کا پوری طرح سے خاتمہ کر واپس موصل پر قبضے کے لئے عراقی فوج نے شہر پر حملہ کردیا ہے۔ شہر میں موجود 4 سے8 ہزار آئی ایس دہشت گردوں کو بھگانے کے لئے عراق اور کرد فورسز کے 30 ہزار جوانوں نے مورچہ سنبھال لیا ہے۔ ایتوار کی رات سے شہر پرہوائی حملے اور بموں کی بارش ہورہی ہے۔ عراقی فوجی اور کرد جنگ باز پانچ ہزار امریکی جوان بھاری تعداد میں ہتھیار اور ٹینک لیکر شہر میں داخل ہوچکے ہیں۔عراق نے تو ابتدا میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے 9 دیہات کو آئی ایس کے قبضے سے آزادکرالیا ہے۔ بتادیں کہ دسمبر 2011 ء میں یہاں سے امریکی فوج نے گھر لوٹنا شروع کردیا تھا۔ فروری 2012ء تک عراق نے شیعہ ۔ سنی جھگڑا بڑھا۔ مارچ 2013ء میں شام کے پاس والے عراقی علاقے میں آئی ایس نے اپنی پیٹ بنانی شروع کردی۔جون2014ء میں سرکارکے نکمے پن کی وجہ سے آئی ایس نے موصل پر اپنا قبضہ کرلیا تھا۔ کبھی 25 لاکھ کی آبادی والا شہر اب کھنڈر میں تبدیل ہوچکا ہے۔ اب بھی 10 لاکھ لوگ یہاں پھنسے ہوئے ہیں۔ مقامی شہریوں کے آئی ایس کے ٹھکانے والے علاقے الدایغ سے دور رہنے کی صلاح دی گئی ہے۔ اقوا م متحدہ موجودہ حالات پر تشویش جتا چکا ہے کہ اس لڑائی میں پناہ گزین کا بحران اور گہرا ہوجائے گا۔
محفوظ مقامات تک پہنچنے کیلئے بچوں کو بھوکے پیاسے36 گھنٹے تک پیدل چلنا پڑ رہا ہے۔ آئی ایس دہشت گردوں نے موصل میں کئی بنکر بنا رکھے ہیں اس لئے انہیں ختم کرنے میں وقت لگ سکتا ہے۔موصل کو آزادکرانے کے بعد یہاں سکیورٹی کو لیکر پھر دقتیں پیدا نہ ہوں اس لئے امریکہ ابھی سے 15 ہزار چنندہ لڑاکوں کو ٹریننگ دے رہا ہے۔فوج کے آپریشن کو کمزور کرنے کے ارادے سے آئی ایس نے تیل کے کنوؤں میں آگ لگادی ہے تاکہ آسمان میں کالے دھنوئیں کی وجہ سے انہیں پریشانی ہو۔ اس شہر پر عراق کا دوبارہ کنٹرول ہو جانے سے آئی ایس کے خلیفہ کے راج کرنے کے دعوے کی ہوا نکل جائے گی۔ اقوام متحدہ نے یہ اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ آئی ایس عراق میں اپنے آخری گڑھ کو بچانے کیلئے شہر کے بچے15 لاکھ شہریوں کو ڈھال بنا سکتا ہے۔ آئی ایس نے موصل پر ہی پہلے قبضہ کیا تھا اس کے بعد عراق اور شام کے بڑے علاقے تک پھیل گیا۔ عراقی فورسز کے موصل شہر سے آئی ایس کوبھگانے کے اپنے آپریشن میں آگے بڑھنے کے ساتھ ہی امریکہ نے کہا کہ آتنکی گروپ کی راجدھانی سے اسے باہر کرنا ایک اہم سیاسی واقعہ ہوگا۔
(انل نریندر)

20 اکتوبر 2016

غیرمعمولی! جسٹس کاٹجو حاضر ہوں

اپنے بڑ بولے پن کے لئے مشہور مارکنڈے کاٹجو آخر کار اب پھنس گئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے پیر کو ایک متوقع قدم اٹھاتے ہوئے اپنے ہی ریٹائرڈ جج( جسٹس کاٹجو ) کو نوٹس جاری کرکے پوچھا ہے کہ سومیا بدفعلی اور قتل معاملے میں عدالت کے فیصلے میں کیا خامی ہیں؟ سپریم کورٹ نے پہلی بار اپنے کسی سابق جج کو بات رکھنے کے لئے بلایا ہے سپریم کورٹ نے جسٹس کاٹجو کو اس بلاک کا نوٹس لیا ہے جس میں انہوں نے اس کیس کے فیصلے کی نکتہ چینی کی ہے۔عدالت نے ان سے کہا ہے کہ وہ شخصی طور سے کورٹ میں پیش ہوں اور بحث کریں کہ قانون میں یہ وہ صحیح ہے یا عدالت؟ یہ پہلا معاملہ ہے جب سپریم کورٹ نے اپنے ہی کسی سابق جج کو فیصلے کی تنقید کے لئے عدالت میں طلب کیا ہے۔ قابل غور ہے کہ سومیا کوچی کے ایک شاپنگ مال میں کام کیا کرتی تھیں۔1 فروری 2011کو ٹرین میں سفر کررہی تھیں اس دوران ملزم گوبند یامی نے اس پر حملہ کیا۔ اور اسے پلہ توڑ نظر کے پاس اسے ٹرین سے باہر پھینک دیا اور خود بھی چلتی ٹرین سے گود گیا بعد میں سومیا کو پاس کے جنگل میں لے جا کر اس کے ساتھ بدفعلی کی۔ چوٹوں کی وجہ سے 6 فروری ہو سومیاکی ایک اسپتال میں موت ہوگئی۔ جسٹس کاٹجو نے اپنے بلاک میں لکھاتھا کہ سپریم کورٹ نے گوبند یامی کو قتل کا ملزم نہ ٹھہرا کر بھول کی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا ہے کہ یہ ثابت نہیں ہوا کہ ملزم کا ارادہ قتل کرنے کا تھا اس لئے اسے قتل کا قصور وار نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ لیکن عدالت نے آئی پی سی کی دفعہ 300 پر توجہ نہیں دی۔ جس میں قتل کو لے کر 4مرحلوں میں تشریح کی گئی۔ صرف پہلے حصے میں قتل کی مانگ کو کیس میں ثابت کردیاجائے تو اسے قتل مانا جائے گا۔ چاہے اس میں قتل کی منشا نہیں رہی ہو۔ افسوس ہے کہ عدالت نے دفعہ 302کے بارے میں اسٹڈی نہیں کی۔ اس فیصلہ کی کھلی عدالت میں پھر سے غور ہوناچاہئے۔ عدالت نے جسٹس کاٹجو کے پوسٹ پر نوٹس لیتے ہوئے ان سے 11نومبر کو سماعت میں حصہ لینے کی اپیل کے ساتھ کہا ہے کہ وہ خود آکر بتائے کہ فیصلے میں ایسی کیا خامی ہے کہ عدالت اس پر نظر ثانی کریں؟ جسٹس راجن گوگئی پی سی پنت اور یو یو للت کی بنچ نے پوسٹ کے اس حصے کی تشریح بیان کرتے ہوئے نظر ثانی عرضی میں بدل دیا۔ عدالت نے کہا ہے کہ وہ اس کورٹ کے ریٹائرڈ جج کا نظریہ ہے اس پر پورے سمان اور سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جسٹس راجن گوگئی سربراہی والی بنچ نے 15دسمبر کو سومیا قتل معاملے میں گوبند یامی کو ثبوتوں کمی میں قتل کا قصور نہیں ماناتھا۔ بنچ نے نچلی عدالت اور اس کے بعد ہائی کورٹ سے اس کی موت کی سزا کو منسوخ کردیا تھا۔
(انل نریندر)

تین طلاق، حلالہ اور کثیر شادیوں پر بحث

مسلم فرقوں سے وابستہ تین حساس ترین اشو تین طلاق، حلالہ اور کثیر شادی پر سپریم کورٹ نے مرکزی سرکار کے پیش کردہ حلف نامے اور آئینی لاء کمیشن سے مانگی گئی تجاویز کو لے کر مسلم پرسنل لاء بورڈ و دیگر مسلم انجمنوں نے جیسا تلخ احتجاج کا مظاہرہ کیا ہے اس میں آنے والے وقت کی کچھ تصویروں کی بحال ضرور جھلک مل رہی ہیں۔ بحث کو سیاسی چشمے کی بنیاد پر دیکھنے کے بجائے فرقے میں مسلم خواتین کے حق اور عزت سے جوڑ کر دیکھا جائے تو سبھی کی بھلائی ہے یہ تینوں اشو نہ تو نئے ہیں اور نہ ہی پہلی بار بحث ہورہی ہیں۔تازہ معاملے میں طلاق اشو مسلم خواتین سائرہ بانو کی سپریم کورٹ میں دی گئی عرضی سے وابستہ ہے اب اسے لے کر مرکزی سرکار اور مسلم تنظیمیں آمنے سامنے ہیں۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ و دیگر تنظیموں جیسی سخت احتجاج کیاہے اس سے صاف ہے یہ تنظیمیں تین طلاق کو غیرقانونی ماننے اور نکاح وغیرہ معاملوں پر ایک قانون بنائے جانے کی کوشش کو آسانی سے قبول کرنے والی نہیں ہے۔ حالانکہ مرکزی حکومت ابھی سول کوڈ قانون بنانے کی کوئی بات نہیں کی ہے۔ لاء کمیشن نے صرف کچھ سوال جاری کرکے ان کاجواب مانگا ہے وہ سوال صرف مسلمانوں سے متعلق نہیں ہے مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے صاف کہا ہے کہ یونیفارم سول کوڈ سرکاری فیصلہ نہیں ہے عدالت کے حکم پر سرکار آگے بڑھ رہی ہیں انہو ں نے آئین ہر شخص کو یکساں حق اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق دیتا ہے جہاں تک پرسنل لاء کا تعلق ہے میرا ماننا ہے کہ پرسنل لاء کے تحت ملے حقوق پر آئینی کنٹرول ہوناچاہئے۔ پرسنل لاء امتیاز کو بڑھاوا نہیں دے سکتا ہے اور نہ ہی انسانی وقار کو ایک ساتھ سمجھوتہ کرسکتا ہے پھر ہمیں یہ نہیں بھولناچاہئے کہ پہل مرکزی سرکار کی طرف سے نہیں ہوئی ہیں۔ بلکہ سپریم کورٹ کی طرف سے ہوئی ہیں۔ اس کے سامنے مسلمانوں کو تین طلاق اور عیسائیوں کے طلاق سے متعلق معاملے کی سماعت کے لئے آئے ہوئے ہیں حقیقت میں تین طلاق، حلالہ اور کثیر شادیاں یہ تینوں رواج ہے جن کا نقصان فرقے کی خواتین کو اٹھانا پڑسکتا ہے اور مسلم فرقے کے اندر اس میں ایک رائے نہیں ہیں ایک تشریح یہ ہے کہ تین طلاق کے لئے مہینے کا فرق ہو اور صلح کے راستے کھلے ہوئے ہوں اور بہت سے معاملوں میں مسلم اداروں میں اور نشے میں اور فون پر دی گئی طلاق کو جائز مانا ہے بحث تو اسی پر ہے کہ آخر مرد کو ایک طرفہ طلاق دینے کا حق کیوں ہو؟ دلیل یہ بھی دی جاتی ہیں مرد میں صحیح فیصلہ لینے کی صلاحیت ہوتی ہیں یہ ٹھیک ہے کہ مذہبی جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچانی چاہئے اور عقیدت کا احترام ہوناچاہئے عورتیں ایسے وقت میں جب کسی معاملے میں مردوں سے پیچھے نہیں ہیں یہ بات گلے نہیں ا ترتی یہ فیصلہ لینے میں مرد سے کمتر ہوتی ہیں۔ شیعہ عالم نے تین طلاق کی رواج کو ختم کرنے اور اس سے متعلق قانون بنائے جانے کی حمایت کی ہے۔ مسلم سماج اس معاملے میں دو حصوں میں بٹ گیا ہے۔ اور ثابت کرتا ہے کہ کوئی قرآن و حدیث کا معاملہ نہیں ہے اگر ایساہوتا تو خود اسلام کو ماننے والے دنیا 22ملکوں نے اس غیرانصانی رواج کو خاتمہ نہ کیا ہوتا۔ ویسے بھارت بھی ایک سیکولر ہونے کی وجہ سے آئین کے تحت چلتا ہے اور یہاں کسی کو مذہب رسم ورواج یا عبادت میں سرکاریں مداخلت نہیں کرسکتی۔لیکن جب آئین میں جنسی برابری اور انسانی وقار کا حق دیا ہے تو اس کی تعمیل کرنا بھی سرکاروں کی ذمہ داری ہیں۔ امید کی جاتی ہیں کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ اوردیگر مسلم انجمنیں جو احتجاج کررہی ہیں وہ اصلیت کو سمجھیں گی اسے مذہبی مداخلت کا معاملہ نہ مانتے تو انسانی ضرورت سمجھیں گی۔
(انل نریندر)

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...