Translater

19 اکتوبر 2016

دہشت گردی پر پاک تو الگ تھلگ تھا ،مودی نے چین کو بھی بے نقاب کردیا

اڑی آتنکی حملہ کے بعد پاکستان کو عالمی برادری میں الگ تھلگ کرنے کی مہم رنگ لائی۔ چین کو چھوڑ کر باقی سبھی ملکوں نے دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر آواز اٹھائی۔ یہ بڑی طاقتیں دہشت گردوں اور ان کے حمایتیوں پر لگام لگانے کے حق میں نظر آئے۔ سبھی نے نریندر مودی کی دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کی حمایت کی اور دہشت گردی کو پوری دنیا کے لئے خطرہ بتایا ۔ روسی صدر ولادیمیر پتن کے ساتھ جوائنٹ میڈیا پریس کانفرنس میں پی ایم مودی نے کہاہے کہ دہشت گردی کے خلاف روس کا رخ صاف ہے وہ اسے ختم کرناچاہتا ہے۔دہشت گردی کے خلاف لڑائی کے لئے بھارت اور روس کا موقف ایک جیسا ہے ہم سرحد پار دہشت گردی سے نپٹنے کے اشو پر روس کی سمجھداری اور حمایت کی تعریف کرتے ہیں۔ روسی صدر نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دونوں دیش ایک دوسرے کاتعاون کریں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ مخصوص اختیارات حاصل فوجی سمجھداری کے تئیں فوجی ساجھے داری کے لئے عہد بند ہیں۔ گوا میں برکس چوٹی کانفرنس میں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جنگ پنگ نے دہشت گردی کے اشو پر تو تال میل بڑھانے کی بات کہی ہے لیکن پٹھان کوٹ حملہ کے سرغنہ مسعود اظہر پر اقوام متحدہ سے دہشت گرد اعلان کروانے کی بھارت کی مہم پر حمایت کرنے سے ٹال گئے ۔ بھارت چین اس قدم سے کافی مایوس تھا، جب اس نے اظہر کو اقوام متحدہ کے ذریعے دہشت گرد قرار دیئے جانے بھارت کے قدم میں تکنیکی بینچ پھنسا دیا تھا۔ چینی صدر شی چنگ پنگ نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کو ڈیفنس بات چیت اور ساجھے داری کو مضبوط کرنی چاہئے۔ بے شک مسعود اظہر پر چین کی حمایت فی الحال نہیں ملی ہوں لیکن روس نے صاف کردیا ہے کہ بھارت نے برکس چوٹی کانفرنس میں پاکستان کے حق میں اب ماحول بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ چین پر ڈپلومیٹک دبدبہ حاصل کرلیا ہے۔ ماہرین کاخیال ہے کہ بھارت نے سرحد پار دہشت گردی پر برکس کے دیگر ممبر ملکوں ساؤتھ افریقہ اور برازیل کو بھی ساتھ لیا ہے تو چین پرڈپلومیٹک دباؤ بڑھ جائے گا ویسے چین پر دباؤ بڑھانے کے لئے بھارت نے برکس کی مفصل میٹنگ میں پمسٹیک ممبروں کی سرحد پار دہشت گردی کی طرف رخ موڑنے کے لئے انہیں پہلے ہی راضی کرلیا ہے۔د ہشت گردی پر بھارت کو روس کا ساتھ ملا ہے دونوں دیشوں کو ایک دوسری کی سخت ضرورت تھی۔ امریکہ کی طرف سے لگائی گئی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے روس کو بڑے ڈیفنس سودے کی ضرورت تھی دوسری طرف بھارت بھی اپنے سب سے بھروسہ مند دوست سے حمایت چاہتا تھا۔ دونوں کی مراد پوری ہوگئی اور یقینی طور سے یہ چین اور پاکستان دونوں کے لئے ڈپلو میٹک جھٹکا ہے اور بھارت روس کے درمیان ڈیفنس سودوں سے جہاں بھارت کو سب بڑے بھروسے مند دوست روس نے دوستی کی مثال پیش کی ہے وہی چین تو اس بڑھتی دوستی سے تلملا گیا ہے سرحد پار دہشت گردی پر بھارت کاساتھ دینے کے علاوہ روس سے پانچ ا یس۔ 400 ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم کا تحفہ دے کر ہوائی خطرے سے نپٹنے کا ہتھیار بھی دے دیا ہے۔ اس کی اہمیت ا س سے بھی سمجھی جاسکتی ہیں کہ یہ ہوائی ڈیفنس میزائل سسٹم دنیا کی نہ صرف تجدید ترین تکنالوجی ہے بلکہ اس کے پاس بھارت کا ڈیفنس سسٹم کسی بھی دیش( پاکستان۔ چین) کاسامنا کرنے میں پوری طرح سے اہل ہوگا۔ ایسا کر اس نے بھارت کو پاکستان ہی نہیں چین سے بھی بچنے کا سیکورٹی کووچ بھی دستیاب کرا دیا ہے۔ پاکستان تو پہلے ہی دنیا سے الگ تھلگ پڑا ہوا تھا برکس چوٹی کانفرنس میں نریندر مودی نے چین کابھی پردہ فاش کردیا ہے۔
(انل نریندر) 

اے ٹی ایس کی کاررائی سے این سی آر میں بڑا حملہ ٹلا

دیش کو سرحد پار سے حملوں کاخطرہ تو تھا ہی لیکن دیش کے اندر بھی کئی تنظیمیں ہے جو دیش کی آزادی کو وقانون و نظم کے لئے خطرہ ہے تازہ مثال ہے نوئیڈا میں نکسلیوں سے جڑے بڑے گینگ کاپردہ فاش ہونا یوپی کے نوئیڈا میں نکسلیوں کے ایک بڑے گینگ کو بے نقاب کرکے پولیس نے دہلی اور این سی آر میں ایک بڑے نکسلی حملے کی سازش کو ناکام کردیا ۔ نوئیڈا کے سیکٹر۔ 49 کے ہنڈن وہار، صدرپور اور چندولی سے پکڑے گئے نکسلی دہلی اور این سی آر میں بڑی واردات کوانجام دینے کے لئے اے کے 47 خریدنے کے فراق میں تھے ۔ سنیچرکی رات اور ایتوار کی صبح ہنڈن وہار اور صدرپور علاقوں سے نکسلی گروہوں سے جڑے9خطرناک مجرموں کے بارے میں اطلاعات سے اے ٹی ایس کی ٹیم نے چندولی ضلع سے گروہ کے سرغنہ روی داس کو گرفتار کیا ہے۔اس کے پاس سے فوج کی رائفل، 550 کارتوس کے علاوہ 3ایس ایل آر میگزین بھی برآمد ہوئی ہیں۔ ان میں ممنوعہ نکسلی تنظیم پیپلز وار گروپ کا پانچ لاکھ کاانعامی کمانڈر رنجیت پاسوان بھی ہے۔ سیکٹر۔ 49 ہنڈن وہار کے رہنے والے ایک شخص نے ایس ا یس پی کو مشتبہ افراد کے بارے میں خبر دی تھی بھلے ہی یہ کہہ کر آئی جی اے ٹی ا یس نے نوئیڈا پولیس کی کڑکڑی ہونے سے بچا لی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ قریب ایک مہینہ پہلے یوپی اے ٹی ایس کی بنارس ٹیم نے الیکٹرانک نگرانی کے ذریعہ سے نوئیڈا کے کچھ مشتبہ سرگرمیوں کو ٹریس کیا تھا۔ اس کے بعد سے اے ٹی ایس لگاتار یہاں رہ رہے نکسلیوں کی ہر حرکتوں پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ اے ٹی ایس کے ایک افسر نے بتایا کہ الیکٹرانک سرویلینس اور مینوئلی بھی اس کی سرگرمیوں کو ٹریک کیاجارہاتھا۔ اے ٹی ایس کے آئی جی اسیم ارون کے مطابق گرفتار ملزمان میں سے دو بم بنانے کے ماہر ہے آئی جی کے مطابق یہ لوگ سیکٹر۔ 49 ہنڈن وہار میں رہ رہے تھے۔ سالار پور میں آفس کھول کر پراپرٹی ڈیلنگ کی آڑ میں لوکل بدمعاشوں کو جوڑ رہے تھے یہ بینک ، اے ٹی ایم لوٹ مار اور پھروتی اور اغوا اور سپاری لے کر قتل کرنے کے فراق میں تھے۔آئی جی نے بتایا کہ ان کے پاس سے جلاٹین کی 45چھڑیں، ڈیٹونیٹر، پستل اور طمنچے ،گولیاں کاریں موبائل وغیرہ ملیں ہیں۔ چندولی سے گرفتار سرغنہ کے پاس سے جو سامان برآمد ہوا ہے وہ سب کسی سیکورٹی فورس لٹا ہوا لگ رہے ہیں۔ نوئیڈا کے ایس ایس پی دھرمیندر یادو نے بتایا نوئیڈا کے ایک شہری کی خبر پر اے ٹی ایس نے اتنی بڑی کارروائی کرکے ایک بڑے حملے کی سازش کاپردہ فاش کیاہے۔ شہری کی پہچان چھپاتے ہوئے بتایا کہ اس شہری کو اعزاز سے نوازا جائے گا۔ پولیس کی کارروائی سے ایک بڑا حادثہ ہوتے ہوتے بچا ہے۔
(انل نریندر)

18 اکتوبر 2016

بھارتیہ جنتا پارٹی کے بڑھتے قدم

پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ میں بھلے ہی علاقائی نیتاؤں کو سامنے رکھ کر بی جے پی چناؤ میں اترنے کا ارادہ رکھتی ہوں لیکن ابھی بھی حقیقت یہ ہے کہ جیت کے لئے پارٹی کو ایک بار پھر وزیراعظم نریندر مودی کے کرشمے پر زیادہ منحصر رہناپڑے گا۔ خاص کر یوپی جیسی بڑی ریاست کے چناؤ میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے۔ یہ لگتا ہے کہ صحیح بھی ہو کیونکہ تازہ سروے میں بھارتیہ جنتا پارٹی سب سے بڑی پارٹی کی شکل میں ابھر کر سامنے نظر آرہی ہیں۔ انڈیا ٹوڈے۔ ایکسس کے ذریعہ کرائے گئے اوپینن پول کے مطابق اگلے سال ہونے والے چناؤ میں بھاجپا سرکار بنانے کی پوزیشن میں دکھائی پڑرہی ہیں۔ یوپی چناؤ کو لے کر کرائے گئے سروے میں بھاجپا کو 170 سے 180سیٹیں ملنے کا اندازہ لگایاجارہا ہے۔ بی ایس پی دوسرے نمبر پرنظر آرہی ہیں۔ اس کو 115سے 124سیٹیں مل سکتی ہیں سروے کے مطابق ملائم سنگھ یادو کی پارٹی سپا کو بھاری نقصان اٹھاناپڑسکتا ہے۔ سپا دوسرے نمبر پر گھس جائے گی اور پارٹی کو 90سے 103سیٹوں پر اندازہ ہے۔ سماج وادی پارٹی کی اندرونی رسہ کشی پارٹی کو بھاری نقصان پہنچا رہی ہیں۔ سپا کنبے کے اندر جاری سنگرام کو ایک مہینے سے زیادہ ہوچکا ہے۔ لیکن ابھی بھی یہ رکنے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ خود ملائم سنگھ کے آگ میں گھی کا کام کیا ہے انہوں نے کہاہے کہ یوپی کااگلا سی ایم طے نہیں ہوا ہے اس کا فیصلہ چناؤ کے بعد ہوگا ۔ وہی وزیراعلی اکھلیش یادو نے جواب دیا یوپی کااگلا سی پی ایم یوپی کی جنتا ہی طے کرے گی۔ ادھر شیو پال یادو نے اب اپنے طریقے سے تنظیم اور ٹکٹوں کے بٹوارے میں تبدیلی شروع کردی ہیں۔ اس سے اکھلیش حمایتی بے چین ہے ان کی ٹیم اہم ممبر کنارے کئے جارہے ہیں اندرونی کھینچ تان کااثر اب ورکروں اور تنظیم کے عہدے داران اور ممبران اسمبلی پر بھی دکھائی دے رہا ہے۔ بہن جی نے اس سروے کو اسپانسر قرار دیا ہے انہوں نے کہاہے کہ زیادہ تر میڈیا ہاؤس کے مالک دھنا سیٹھ اور سرمایہ دار ہے جو چناؤ کے دوران بھاجپا اور کانگریس جیسی پارٹیوں کی ہوا بنانے کا کام کرتے ہیں۔ یہ سروے بھی اسی کی ایک کڑی ہے ان پارٹیوں کے اشارے پر ہمارا حوصلہ گرانے کے لئے اور یوپی کی عوام کو گمراہ کرنے کے لئے کیاجارہا ہے۔ ا دھر بی جے پی نے اروناچل پردیش سرکار میں شامل ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اسی طرح اروناچل پردیش 15 واں راجیہ بن جائے گا جہاں بی جے پی اقتدار میں ہے ۔ ہندوستان میں 30 ریاستیں اور مرکزی زیرانتظام ریاست ہیں ۔ جموں وکشمیر ۔ راجستھان۔ پنجاب ۔ ہریانہ۔ مہاراشٹر۔ گجرات۔ گوا ۔ چھتیس گڑھ ۔ جھاڑ کھنڈ ۔ آسام۔ مدھیہ پردیش۔ سکم۔ اور ناگالینڈ میں بی جے پی سیدھے طور پر اقتدار میں ہیں یہ اتحادی رول میں ہے۔ بے شک ان ریاستوں میں آج بی جے پی اقتدار میں ہے لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ نریندر مودی کی پارٹی کے ترپ کے اکا ہے۔
(انل نریندر)

اس دیوالی پر چینی سامان کا بائیکاٹ کرو

سوشل میڈیا پر ڈریگن( چین) کے بائیکاٹ مہم سے تاجروں کو دیوالی کے سیزن میں بڑا جھٹکا لگ سکتا ہے۔بھارت۔ پاکستان جاری تناؤ میں چین کے بھارت مخالف رویہ کے بعد سوشل میڈیا، فیس بک، واٹس سب وغیرہ پر چین سے آئے سامان کونہ خریدنے کے لئے اپیل نے اب اپنااثر دکھاناشروع کردیا ہے۔خوردہ کاروباریوں کا کہناہے کہ چینی پروڈکٹس کی مانگ میں 20 فیصدی کی کمی آئی ہے لیکن سرکاری میڈیا کا دعوی ہے کہ ہمارے پروڈکٹس اب بھی پورے بھارت میں مقبول ہے اور بائیکاٹ کی اپیل کو کامیابی نہیں مل سکتی ہیں۔ کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرس نے کہا ہے کہ دیوالی میں چین کے روشنی اور ڈیکوریٹیوں سامان کاکافی استعمال کیا جاتا رہا ہے اور یہ تہوار سے تین مہینے پہلے ہی بازار میں آجاتے ہیں۔ یہ پروڈکٹس اس بار بھی ہول سیلروں کے پاس ہے، لیکن خوردہ کاروباریوں کی طرف سے ڈیمانڈ 20 فیصدی تک کم ہے کیونکہ لوگ ا نہیں خریدیں گے نہیں، دیوالی سے پہلے سرکاری خفیہ ڈائریکٹر نے کروڑوں کی مالیت کے چین میں تیار پٹاخے ضبط کئے ہیں۔ تغلق آباد میں انگلینڈ کنٹینر ڈپو میں 6بڑے کنٹینر سے ناجائز طور سے آئے ان پٹاخوں کو ضبط کیا گیا ہے۔نوئیڈا کے تاجروں نے 150 کروڑ کے چینی سامان کی درآمد کو منسوخ کردیا ہے کیونکہ اس بار لوگوں کے درمیان چینی سامان استعمال نہ کرنے کاپیغام پھیلایاجارہا ہے حالانکہ کچھ تاجروں نے 100 کروڑ روپئے کاسامان خرید لیا ہے ان تاجروں کو گھاٹا ہونے کا ڈر لگ رہا ہے۔ شہر کے تجارتی ایشویشن کاکہنا ہر برس اکیلے دیوالی سیزن کے پٹاخے ، لائٹیں، اور دیگر سجاؤٹی سامان قریب 250 کروڑ روپئے کا کاروبار ہوتا ہے۔ دہشت گردی کے اشو پر پاکستان کے ساتھ کھڑے رہنے کے اپنے رک کا خمیازہ چین کو ہندوستانی بازار سے مل رہی مایوسی کی شکل میں بھگتنا پڑرہا ہے۔ اس دیوالی پر لوگ ملکی سامان اپنانے پر زور دے رہے ہیں۔ مٹی کے دیپوں کی مقبولیت پھر سے پڑرہی ہیں اور اس کی قیمت پانچ روپے سے شروع ہورہی ہیں۔ دیوالی سے پہلے لوگ 20 سے 25 دیا خریدیں کرتے تھے وہی اس بار 50سے 100 دیے خرید رہے ہیں۔ چائنز دیے کی مارکیٹ قدرتی رنگوں سے بنے اس دیو میں لکشمی گنیش جی کی مورتیوں والے دیو کو بھی لوگ ترجیح دے رہے ہیں ان کی ابتدائی قیمت 50 روپئے ہے۔ چینوں لڑی کی فروخت میں بھی گراوٹ آئی ہے چائنامارکیٹ میں انڈین مارکیٹ سے کافی ریوینیو ملتا ہے پھر بھی وہ انڈیا کی جگہ وہ پاکستان کو سپورٹ کررہا ہے لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ چین کا سامان نہ صرف سستا ہوتا ہے بلکہ اس کی کوالٹی بھی بہتر ہوتی ہے اسے میں ہمیں اپنے سامان کو بہتر عمدہ اور سستا بنانا ہوگا تبھی جا کر یہ مہم پوری طرح کامیاب ہوگی۔
(انل نریندر)

16 اکتوبر 2016

کیا ہم تیسری جنگ عظیم کی طرف بڑھ رہے ہیں

شام بحران پر روس اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھتی جارہی ہے اور اگر اس پر لگام نہیں لگتی تو کچھ بھی ہوسکتا ہے، یہاں تک کہ تیسری جنگ عظیم بھی چھڑ سکتی ہے۔ روس کی فوج کی طرف سے جاری تیاری کچھ خاص اشارہ بھی دے رہی ہے۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن کافی جارحانہ فیصلے لیتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ذرائع کے حوالے سے خبر آئی ہے کہ پوتن نے روس کے اعلی حکام، سیاستدانوں اور ان کے خاندان کو اپنے وطن لوٹنے کوکہا ہے۔ اسی سلسلے میں روس نے حال میں برصغیر میں بیلسٹک میزائلوں کا بھی تجربہ کیا ہے۔ پوتن نے روسی ایڈمنسٹریٹو اسٹاف، ریجنل ایڈمنسٹریشن ، لا میکرس اور پبلک کارپوریشن کے ملازمین کو یہ حکم جاری کیا ہے کہ وہ اپنے غیرممالک میں پڑھ رہے بچوں اور وہاں رہ رہے اپنے قریبی لوگوں کو فوراً وطن واپس بلا لیں۔ اگر کچھ میڈیا رپورٹ کی مانیں تو روس کی فوج نے جاپان کے نارتھ میں تعینات اپنی سب مرین سے نیوکلیئر جنگی سامان ڈھونے کی صلاحیت والے راکٹ کا بھی تجربہ کیا ہے۔ روس کی میڈیا ایجنسیوں کے مطابق روس کے نارتھ ویسٹ میں واقع گھریلو سائٹ سے بھی میزائل چھوڑی گئی ہے۔ روس کا جارحانہ قدم یہیں نہیں رکا ہے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق روس نے پولینڈ اور لیتھوینیا کے ساتھ لگی سرحد پر بھی نیوکلیئر صلاحیت والی میزائلیں تعینات کردی ہیں۔ 2011ء سے شام میں خانہ جنگی کے حالات ہیں اور دنیا کی دو بڑی طاقتوں امریکہ اور روس میں اسی کو لیکر کشیدگی ہے۔ شام کی بشر الاسد حکومت اور باغیوں کے درمیان لڑائی چل رہی ہے۔ امریکہ جہاں اسد مخالفین کے ساتھ ہے اور اسد کو ہٹانے پر اڑا ہوا ہے وہیں روس اسد سرکار کی نہ صرف کھل کر مدد کررہا ہے ساتھ ساتھ اسد کو اقتدار میں برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ روس ایلوندو شہر میں اسد سرکار کی مدد کیلئے بمباری کررہا ہے۔ حالانکہ پچھلے مہینے یہاں جنگ بندی تو ہوئی لیکن بمباری لگاتار جاری ہے۔روسی صدر کو لگ رہا ہے کہ دنیا تیسری جنگ عظیم کی طرف بڑھ رہی ہے۔ روس نے جتنے بھی فیصلے لئے ہیں ان کا سیدھا پیغام ہے کہ وہ شام کو لیکر کسی سمجھوتے کو تیار نہیں ہیں۔ امریکہ کا ساتھ دینے والے دیش روس کی شام میں کردار کی تنقید کررہے ہیں۔ فرانس نے حال ہی میں روس پر شام میں جنگی جرائم میں شامل ہونے کا الزام لگایا تھا۔ یہی وجہ رہی کہ روس کے صدر پوتن نے اپنا فرانس کا دورہ منسوخ کیا۔ امریکہ میں صدرارتی چناؤ کمپین اپنے شباب پر ہے۔ پتن ڈونالڈ ٹرمپ کی کھلی حمایت کررہے ہیں۔ انہوں نے یہاں تک کہا ہے کہ اگر ہلیری کلنٹن امریکہ کی اگلی صدر بنتی ہیں تو تیسری جنگ عظیم چھڑ سکتی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ روس اور امریکہ میں کشیدگی کم ہوتی ہے اور جنگ عظیم کی نوبت نہیں آتی۔
(انل نریندر)

عمارتوں پر قبضہ کرنے کی دہشت گردوں کی نئی حکمت عملی

کشمیر وادی میں کرفیو پابندیوں اور علیحدگی پسندوں کی ہڑتال کے سبب پچھلے 97 دنوں سے عام زندگی متاثر ہورہی ہے۔ اس دوران سرحد پار سے ایک بار پھر آتنکی تنظیموں کی ہلچل تیز ہورہی ہے۔ دیکھنے میں آرہا ہے کہ دہشت گردوں کے جموں و کشمیر میں حملے تیز ہوگئے ہیں۔ تازہ مثال سرینگر جموں ہائی وے پر واقع پامپور کی ہے۔ یہاں ایک سرکاری عمارت میں دہشت گردوں کو سکیورٹی فورس نے بدھوار کو 56 گھنٹے کی مشقت کے بعدڈھیر کردیا۔ پیر کو سویرے یہاں گھسے لشکر طیبہ کے ان دونوں دہشت گردوں کے صفائے میں قریب 56 گھنٹے کا وقت لگ گیا۔ ایک افسر کے مطابق بلڈنگ سے 60 سے زیادہ کمروں کی تلاشی میں وقت لگا۔ آتنکی بلڈنگ کی محفوظ جگہوں پر تھے جس سے سکیورٹی ملازم اندر نہیں گھس پا رہے تھے۔ انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی آر) کی اس چھ منزلہ عمارت میں اسی سال فروری میں حملہ ہوا تھا۔ تب 48 گھنٹے مڈبھیڑ چلی تھی۔ خفیہ ایجنسیوں کی مانیں تو اس طرح کے حملے دہشت گردوں کی نئی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق پہلے دہشت گرد سکیورٹی فورس سے مڈ بھیڑ کرنے کے بجائے فدائی دھماکے کیا کرتے تھے لیکن اب وہ انہیں زیادہ سے زیادہ الجھانا چاہتے ہیں۔ پٹھانکوٹ ایئربیس میں بھی دہشت گردوں کا صفایا کرنے میں 80 گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگا تھا۔ مڈ بھیڑ اتنی زیادہ دیر چلے گی دیش دنیا میں میڈیا کوریج اتنی ہی زیادہ ملے گی۔ اس سال بنگلہ دیش کی راجدھانی ڈھاکہ اور 26/11 کے ممبئی حملے میں ہمیں ایسا دیکھنے کو ملا۔ دہشت گردوں کو عمارت میں بنکر جیسی سکیورٹی مل جاتی ہے ان کی لوکیشن کا بھی پختہ پتہ نہیں چلتا۔ سکیورٹی فورس کے پاس محدود متبادل ہوتے ہیں۔ دوسری طرف سکیورٹی فورس نقصان کم کرنے کی حکمت عملی پر کام کرتی ہے۔ اس لئے فوراً عمارت اڑانے کا فیصلہ نہیں کرسکتے۔ دہشت گردوں کا سازو سامان اور کھانے پینے کا سامان ختم ہونے کا انتظار سکیورٹی فورس کے جوان مجبوری میں لمبی کارروائی کرتے ہیں۔ لمبی لڑائی میں آتنکی دنیا کی توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ای ڈی آر کو نشانہ بنا کر یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر ٹھیک ٹھاک حالات کے راستے پر نہیں جاسکتا۔ سرجیکل اسٹرائک کے بعد آتنکی تنظیموں میں کھلبلی مچلی ہوئی ہے۔ ان کی اب کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں دہشت گردوں کوہندوستانی علاقے میں داخل کروا کر حملوں کو انجام دیاجائے۔ سرجیکل اسٹرائک کا بدلہ لیا جائے۔ آٹومیٹک ہتھیاروں سے مسلح دہشت گردوں کی ایک ٹیم نے بدھوار کو نارتھ کشمیر کپواڑہ سیکٹر میں دراندازی کی کوشش کی۔ غور طلب ہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نارتھ کشمیر میں یہ سرحد پار سے گھس پیٹھ کی چوتھی کوشش ہے۔ ظاہرہے ان حملوں میں تیزی آگئی ہے۔ آتنکی تنظیمیں اور پاک فوج کی یہ نئی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
(انل نریندر)

15 اکتوبر 2016

بوکھلائی شریف سرکار دہشت گردوں کوبھول کر صحافیوں کے پیچھے پڑی

دہشت گردوں کو سرپرستی دینے کے سبب آج پوری دنیا میں الگ تھلگ پڑنے سے بوکھلایا پاکستان اپنا سارا غصہ میڈیا پر اتارنے پر آمادہ ہے۔ دہشت گردوں کو ہر ممکن مدد دینے کو لیکر نواز شریف سرکار اور پاک فوج کے درمیان تلخ اختلافات کی خبر دینے والے’ ڈان‘ اخبار کے سینئر صحافی سرل المیڈا کے پاکستان سے باہر جانے پر پاک حکومت نے پابندی لگا دی ہے۔ ’دی ڈان‘ کے ستون اور جرنلسٹ سرل نے ٹوئٹ کر کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ انہیں اخراج کنٹرول فہرست میں رکھا گیا ہے۔ یہ پاکستان سرکار کی حد کنٹرول کا سسٹم ہے۔ اس کے تحت فہرست میں شامل لوگوں کو دیش چھوڑنے سے روکا جاتا ہے۔ المیڈا نے کہا کہ انہوں نے کافی عرصے پہلے سے غیرملکی دورہ کا منصوبہ بنایا ہواتھا۔ اب سے کم سے کم چار ماہ پہلے یہ پلان تھا۔ کئی ایسی چیزیں ہیں جنہیں میں کبھی معاف نہیں کرسکتا۔ نواز سرکار نے اس پابندی پر سرکاری طور پر کوئی بیان تو نہیں جاری کیا لیکن وزیر اعظم نواز شریف کے حکام نے کہا کہ وہ اس من گھڑت کہانی کو چھاپنے کے لئے ذمہ دارلوگوں کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔ بتادیں سرل المیڈا نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ ایک اہم میٹنگ میں فوجی اور سول قیادت کے درمیان مبینہ دراڑ دکھائی پڑ رہی ہے۔ اس میٹنگ میں طاقتور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو کہا گیا تھا کہ آتنکی گروپوں کو اس کی طرف سے حمایت دئے جانے سے پاکستان عالمی سطح سے دنیا میں الگ تھلگ پڑ گیا ہے۔ ایک ہفتے پہلے المیڈا نے دی ڈان اخبار میں پہلے صفحے پر شائع اس خبر میں آگے لکھا تھا ،دراڑ پڑنے کی بنیادی وجہ وہ آتنکی گروپ ہے جو پاکستانی فوج کی سرپرستی میں پھل پھول رہے ہیں۔ بھارت اور افغانستان میں آتنکی حملے کرتے رہتے ہیں۔ مانا جارہا ہے کہ پاکستان کو فوج کے چیف راحیل شریف کے دباؤ کے بعد نواز شریف سرکار نے یہ قدم اٹھایا۔ المیڈا پر لگی پابندی کے خلاف پاکستان کا پورا میڈیا متحد ہوگیا ہے اور سرکار کے اس قدم کی مخالفت ہورہی ہے۔سرل پر دیش چھوڑنے پر روک لگا کر پاکستان نے اپنی مصیبت کو اور بڑھا لیا ہے۔ عالمی برادری کے درمیان پہلے سے ہی بدنام پاکستان اب بین الاقوامی سماچار مافیاؤں میں اس وجہ سے سرخیوں میں ہے کہ اس نے کسی مجرم آتنکی کے دیش چھوڑنے پر پابندی لگانے کے بجائے ایک صحافی پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا۔ اخبار کے مدیر کی جانب سے سرل کی حمایت میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے جو لکھا اس کی سچائی کی جانچ پرکھ کی گئی تھی۔ پاکستانی میڈیا کا ایک گروپ بھی سرل المیڈا کے خلاف کھڑا دکھائی پڑ رہا ہے۔ ایک اخبار نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ ہندوستانی خفیہ ایجنسی را ء کے ایجنٹ ہیں۔ ہم اپنے پاکستانی بھائی صحافی سرل کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پاک سرکار کے اس قدم کی مذمت کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...