Translater

04 جولائی 2015

مہلا کا جسم اس کا مندر ہے ریپ کیس میں سمجھوتہ نہیں

پچھلے دنوں مدراس ہائی کورٹ کے ایک جج نے آبروریزی معاملے میں ایسا ہی فیصلہ دیا جس سے پورے دیش میں ہلچل مچ گئی۔ اس فیصلے میں ایک آبروریز ملزم کو اس بنیاد پر ضمانت دے دی تھی کہ وہ متاثرہ سے سمجھوتہ کرنے کی کوشش کرے۔اب عزت مآب سپریم کورٹ نے ایک دوسرے فیصلے کے سلسلے میں اس فیصلے کے متن کی سخت نکتہ چینی کی ہے۔ عدالت نے سخت پیغام دیتے ہوئے بدھوار کے روز کہا کہ آبروریزی یا عصمت دری کی کوشش کے معاملوں میں کسی بھی طرح کا لچیلا نقطہ نظر اپنا یا ثالثی کا نظریہ آج بہت بڑی بھول ہوگی۔ جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی والی بنچ نے کہا جب انسانی جسم چھوا جاتا ہے تو اس کی بیش قیمتی عصمت ضائع ہوجاتی ہے۔ جسٹس دیپک مشرا کا کہنا ہے کہ آبروریزی کے معاملے میں سمجھوتہ کرنے کی کوشش کسی خاتون کے وقار کے خلاف ہے۔ خاتون کا وقار کبھی نہ ضائع ہونے والا زیور ہے اور کسی کو بھی اسے گندہ کرنے کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہئے۔ ایسے معاملوں میں کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ خاتون کی عزت کے خلاف ہے جو اس کے لئے سب سے زیادہ اہم ہے۔موجودہ معاملے میں عدالت نے کہا کہ وہ صاف کرنا چاہتے ہیں کہ آبروریزی یا آبروریزی کی کوشش کے معاملے میں کسی بھی صورت میں سمجھوتے کے خیال کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ یہ ایک خاتون کے جسم کے تئیں جرم ہے جو اس کا اپنا مندر ہے ۔ یہ ایسا جرم ہے جو پوری زندگی اسے احساس دلاتا رہے گا اور متاثرہ کی ساکھ پر دھبہ لگتا ہے۔ عدالت نے کہا عزت ہی ایسا بیش قیمتی زیور ہے جس کے بارے میں زندگی میں تصور کیا جاسکتا ہے اور کسی کو بھی مٹانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ عدالت نے 7 سالہ متاثرہ کے والدین اور ملزم مدن لال کے درمیان سمجھوتے سے متاثر ہونے کے لئے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی بھی تنقید کی۔ ہائی کورٹ نے اس معاملے میں ملزم کو قصوروار قراردیا اور اس کی پانچ سال کی قید کی سزا کو منسوخ کردیا تھا۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے سزا کم کرنے کے پیچھے یہ وجہ ہے کہ ملزم نے متاثرہ خاندان کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کرلیا تھا۔ جسٹس وکشا نے عدالتوں سے درخواست کی کہ آبروریزی جیسے گھناؤنے معاملوں میں وہ نرم رخ قطعی نہ اپنائے اور صلاح سمجھوتے کے لئے مجبور نہ کرے۔ عدالت نے کہا عصمت دری کی شکار خاتون کے اس بدن پر گھناؤنا ظلم ہے جسے وہ اپنا مندر سمجھوتی ہے۔ یہ ایسا گھناؤنا جرائم ہے جس سے زندگی بھر دم گھٹتا رہتا ہے اور متاثرہ پر داغ لگ جاتا ہے۔ آبروریزی کے معاملوں میں مجرم اور متاثرہ کے درمیان سمجھوتہ کرنے کا چلن سماج کی سامنتی اور مردوں کی سوچ کا ہی نتیجہ ہے۔
(انل نریندر)

جنتا کے پیسوں کی’آپ‘ میں بندر بانٹ

سادگی کی دہائی دینے والی عام آدمی پارٹی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کا اقتدار سیوا کے بجائے میوہ خانے اور کھلوانے کی پالیسیوں پر چلنے لگا ہے۔ عام آدمی پارٹی صاف سیاست کرنے کے دعوے کے وعدے سے اقتدار میں آئی تھی۔ کیجریوال کی مہربانی سے ’آپ‘ رضاکار اقتدار کی ملائی کاٹ رہے ہیں۔ دہلی کے وزیر اعلی اور ان کے کابینہ وزرا کے دفتروں میں 200 لوگوں کا اسٹاف کام کررہا ہے۔ بھاجپا ممبر اسمبلی اوم پرکاش شرما کے سوال پر اس کی تحریری جانکاری بجٹ سیشن کے آخری دن منگل کو دی گئی تھی۔ جواب میں بتایا گیا کہ صرف سی ایم اور میں کل79 اسٹاف اورڈائیوٹڈ کیٹیگری میں 67 افسر ہے اور معاون ٹرمنس اسٹاف کی تنخواہ 18000 سے 15 لاکھ روپے تک ہے۔ مثلاً سی ایم کے پرائیویٹ سکریٹری وجے کمار 37400 سے 67 ہزار کے گریڈ پر ہیں جن کی کل تنخواہ 98627 روپے ہے جبکہ جوائنٹ سکریٹری کی حیثیت سے مقرر مرلی دھرن کو 15600 سے 3900 روپے کے گریڈ کے مطابق محض49 ہزار روپے ملتے ہیں۔ عام جنتا کی بات کرنے والی ’آپ‘ سرکار میں آپ رضاکار جم کر اقتدار کی ملائی کا ذائقہ لے رہے ہیں۔ کثیر منزلہ پلیئرس بلڈنگ یعنی دہلی سچیوالیہ میں سرکار کی مہربانی سے مختلف دفتروں میں جمے عام رضاکار بھلے ہی جنتا کے دکھ تکلیف کا ازالہ کرنے کا دعوی کرتے ہیں لیکن انہی سے اکھٹے کئے گئے ٹیکس سے بھاری تنخواہ لے کر الگ طرح کا کلچر پیش کررہے ہیں۔ ’آپ‘ رضاکار کی سرکار میں دو طرح کی تقرریاں کی گئی ہیں۔ پہلے زمرے میں پکی اور دوسرے زمرے میں ٹھیکے کی بنیاد پر تقرری کی گئی ہے۔ اس بنیاد پر وہ60 ہزار سے قریب ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ حکومت سے لے رہے ہیں۔ معاملہ یہیں نہیں رکا۔ سرکار کی طرف سے انہیں بنگلہ ،گاڑی جیسی سہولت بھی دستیاب کرائی جارہی ہے۔ ان میں زیادہ تر ’آپ‘ کے رضاکار شامل ہیں جو کیجریوال کے ماتحت انڈیا اگینسٹ کرپشن کے دور سے جڑے ہیں۔ حلف کے بعد کیجریوال نے کہا کہ ان بنیادی سہولیات کے بغیر کام کاج نہیں ہوسکتا۔ ان کی صاف گوئی بہت سے لوگوں کو بھائی تھی لیکن اب مسلسل سچائی سامنے آرہی ہے کہ سرکاری مراعات لینے کا سلسلہ صرف کیبنٹ تک محدود نہیں ہے بلکہ عام آدمی پارٹی کے لیڈروں اور ورکروں کو گھر ، گاڑی کے ساتھ ساتھ لاکھوں روپے کی تنخواہ سے فیضیاب کیا جارہا ہے۔ وزیر اعلی کے سیاسی اور میڈیامشیروں کو جس طرح گھر ، گاڑی اور لاکھوں روپے کی تنخواہ پر مقرر کیا گیا ہے صاف ہے کہ عام آدمی پارٹی اور ان کی سرکار اسی طرح کے وسائل کی بندر بانٹ میں لگ گئی ہے جیسا کرنے کے الزام وہ دوسری پارٹیوں پر لگاتے رہے ہیں۔ اسی طرح جس دھنگ سے درجنوں ممبران اسمبلی کو پارلیمانی سکریٹری بنا کر انہیں سرکاری سہولیات دی گئیں ہیں اس کی مثال تو دہلی میں کسی اور حکومت کے دور میں دیکھنے کو نہیں ملی۔کرپشن کا مطلب صرف کروڑوں کے گھوٹالے نہیں ہوتے۔ آخر یہ کرپشن نہیں تو اور کیا ہے؟ جس شخص کے پاس گاڑی چلانے تک لائسنس نہ رہا ہو اسے کیجریوال سرکار ڈرائیور مقرر کردے اور اسے لائسنس حاصل کرنے کے لئے تین ماہ سے ایک سال کا وقت دے ،ظاہر ہے اپنے نیتاؤں ،ممبران اسمبلی ،رضاکاروں پر برسائی جارہی ان رعایتوں کا ہرجانہ دہلی کی جنتا سے ہی وصولا جائے گا۔ حالانکہ موٹی تنخواہ کا فائدہ اٹھا رہے ایک ’آپ‘ رضاکار کا کہنا ہے کہ اس میں حرج کیا ہے؟ ہم سرکار کے کام کاج سے دن رات جڑے ہوئے ہیں۔ لیکن اس سوال پر کیا جنتا کی گاڑھی کمائی کو اس طرح ’آپ‘ رضاکاروں ،ممبران اسمبلیوں پر لٹانا کہاں تک جائز ہے، وہ بغلیں جھانکنے لگتے ہیں۔ انہی چند قدموں کی وجہ سے جنتامیں اب کیجریوال کی نکتہ چینی شروع ہوچکی ہے۔
(انل نریندر)

03 جولائی 2015

’’گے‘‘ یعنی ہم جنسی کو قانونی حیثیت دینے کی تیاری!

سماج میں ٹرانس جینڈر شادی کے اشو کو لیکر گھمسان مچا ہوا ہے۔ ہندوستانی آئین کی دفعہ377 یعنی ہم جنسی رشتوں کو جرائم کے زمرے میں رکھتی ہے۔ حالانکہ دنیا کے کئی ملکوں میں ’’گے‘‘ میرج کو تسلیم کرلیا گیا ہے اور اس کے مطابق اسے جرائم کے زمرے سے نکال دیا ہے۔ حال ہی میں امریکہ کی بڑی عدالت کے ذریعے اپنے دیش میں ہم جنسی شادی کو جائز ٹھہرایا ہے اور یہ پورے امریکہ میں قابل تسلیم ہوگیا ہے۔ آسٹریلیا میں بڑی اپوزیشن پارٹی لیبر پارٹی نے ہم جنس افراد میں شادی کو قانونی حیثیت دینے سے متعلق ایک ریزولوشن کو پارلیمنٹ میں پیش کردیا ہے۔ کنزرویٹو پارٹی سے وزیر اعظم ٹونی ایبٹ کے احتجاج کے باوجود لیبر پارٹی کے ریزولیوشن کو پارلیمنٹ میں پیش کرنا پڑا۔آئر لینڈ میں ایک ماہ پہلے ہوئے ریفرنڈم میں اس طرح کی روایتوں کو بھاری اکثریت کے ساتھ حمایت ملی جبکہ اس روایتی کیتھولک دیش میں دو دہائی پہلے تک ’گے‘ رشتوں کو لیکر کافی امتیاز برتا جاتا تھا ۔ ادھر ہمارے دیش میں آئینی وزیر سدانند گوڑا نے منگل کے روز کہا بھارت نے ’گے ‘ شادیوں کو جائز قرار دینے والے سپریم کورٹ کے فیصلے کو پلٹنے کا اشو ان کی وزارت کے سامنے زیرغور نہیں ہے۔ان کا یہ بیان امریکہ کی بڑی عدالت کے ذریعے اپنے دیش میں ’گے‘ شادیوں کو جائز ٹھہرانے کے بعد آیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس اشو پر ایک اخبار نے ان کے بیان کو غلط طریقے سے پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اخبار نویس نے رضامندی ظاہر کی کہ اس اشو کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا۔ گوڑ نے مبینہ طور پر اخبار سے کہا کہ بھارت کی آئی پی سی کی دفعہ377 کو ختم کر سکتا ہے اور ’گے‘ شادیوں کو جائز قرار دینے پر غور کرسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی یہ اشو آئے گا تب ہم صرف بحث کے بعد آگے جا سکتے ہیں۔ یہ بیحد حساس مدعا ہے اسے اتنی آسانی سے نہیں عمل میں لایا جاسکتا۔ سماج کی قومی دھارا سے ٹرانس جینڈر فرقے کو جوڑنے اور ان کے سماجی اختیارات سے وابستہ بل کو مرکزی سرکار پارلیمنٹ کے مانسون سیشن میں پیش کرسکتی ہے۔ یہ بات سماجی انصاف و تفویض اختیارات وزیر تھاور چند گہلوت نے کہی۔ ٹرانس جینڈر کے ایک پروگرام میں شامل ہونے آئے گہلوت نے کہا کہ ہمارے کلچر میں ہمیں امتیاز برتنا نہیں سکھایا جاتا۔ آنے والے سیشن میں ٹرانس جینڈر کیلئے تیار ہورہے بل کو لوک سبھا میں پیش کیا جائے گا۔ حالانکہ پچھلے سیشن میں گہلوت نے اس سے جڑے بل کو واپس لینے کی بات کہی تھی۔ ہمارا سماج اس طرح کی شادی پر بٹا ہواہے۔ کچھ لوگ اسے بیماری اور غیر فطری رشتے مانتے ہیں تو کچھ اس کو قبول کرنے کی وکالت کررہے ہیں۔ ایسے نازک معاملے میں مرکزی سرکار کو جلدی نہیں کرنی چاہئے۔ سبھی متعلقہ زیر غور دفعات کو سمجھنا ہوگا اور پھر اگر کوئی نتیجہ نکلتا ہے تو آگے بڑھنے پر غور ہوسکتا ہے۔ ویسے تو ’گے‘ میرج بھارت میں شروع ہوچکی ہیں چاہے وہ غیر قانونی، جائز ہوں۔
(انل نریندر)

کیا دنیامیں پھر آسکتی ہے 1930 جیسی مندی

ریزرو بینک کے گورنر رگھو راجن ان اہم ماہر اقتصادیات میں سے ہیں جنہوں نے 2008 کی اقتصادی مندی کی آہٹ کو بھانپ لیا تھا۔ اس لئے موجودہ عالمی اقتصادی پس منظر پر ان کی اس وارننگ کو سنجیدگی سے لینا ہوگا کہ دنیا کی معیشت ایک بار پھر 1930 جیسی سنگین مندی کے دور میں پھنس سکتی ہے۔ انہوں نے دنیا بھر کے مرکزی بینکوں سے کہا کہ بحران سے نکلنے کیلئے نئے اقدام تلاشنے ہوں گے۔ لندن بزنس اسکول میں ان تقریر کو اس لئے بھی سنجیدگی سے لیاگیا ہے کہ ان کی تشویش کی وجہ ترقی پذیر ممالک کی افراط زر پالیسیاں ہیں جن کا خمیازہ سب کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔انہوں نے کہا حالانکہ بھارت میں حالات الگ ہیں جہاں آر بی آئی کو ابھی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے پالیسی ساز شرحوں میں کٹوتی کرنی ہے سال1929 میں ہوئی مہا مندی کا دور 1939-40 تک چلا تھا۔ مندی کا آغاز 29 اکتوبر 1929 میں امریکہ کے شیئر بازار میں گراوٹ سے ہوا تھا۔گراوٹ کاذہنی طور پر اتنا اثر پڑا کہ لوگوں کے اپنے خرچ میں 10 فیصدی کی کٹوتی کردی تھی جس سے مانگ میں بڑی گراوٹ آئی۔ اس دوران 5 ہزار بینک بند ہوگئے تھے۔ امریکہ میں اسی سال پڑے سوکھے نہیں ذراعتی پیداوار 60 فیصد تک گھٹا دی تھی۔ آہستہ آہستہ اس مہا مندی کا پوری دنیا پر گہرا اثر پڑا اور اس سے نکلنے میں کافی لمبا وقت لگا۔2008 کی مندی میں امریکہ یوروپ کے بینک دیوالیہ ہوئے تھے تو اس کے پیچھے یہی وجہ تھی کہ قرض لینے کے لئے بینکوں سے بے تحاشہ قرض لینے والوں کی دوڑ لگ گئی تھی۔ شکر ہے کہ اپنے بڑے قرض دینے کے ریزروبینک کے قواعد اب بھی کافی سخت ہیں اس لئے انہونی نہیں ہوئی۔ ویسے خدشہ بھی نہیں ہے لیکن صرف اس وجہ سے نہیں کہ راجن کی تشویش دراصل کرنسی کے گرنے کی کوشش کے اسباب بھی ہیں۔ کرنسی کے گھٹنے سے ایک دیش کو نقصان ہوتا ہے تو دوسرا اپنی برآمدات بڑھتا ہے۔ مجبوراً اسے بھی اس راستے پر چلنا پڑتا ہے۔ مہا مندی کے دور میں تب بھی بڑی معیشتوں میں اپنی کرنسیوں کو گھٹانے کی دوڑ لگی تھی۔ رگھو رام راجن کی آگاہی سچ ہوتی دکھائی پڑ رہی ہے۔ گریس کے وزیر اعظم ایلکسس نے پیر کو گریس کے سبھی بینکوں کو بند رکھنے کو کہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایم مشینوں سے پیسہ نکالنے پر بھی پابندی لگادی گئی ہے۔ سرکار کا کہنا ہے کہ ہفتے بھر تک بینکوں میں کام کاج نہیں ہوگا۔ اس دوران کھاتہ ہولڈروں کو دن میں 60 یورو سے زیادہ نکالنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ لوگ اجازت کے پہلے اپنے پیسے کو دیش کے باہر نہیں بھیج سکیں گے۔ رگھو راجن کے نظریات کے برعکس آئی ایم ایف ریسرچ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ صرف کرنسی پالیسی آسان بنانے کو ہی مالیاتی عدم استحکام کیلئے قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ دنیا کے سامنے بڑے مسئلے مالیاتی سسٹم میں عدم استحکام کی حفاظت کے لئے موثر اور قواعد سسٹم کے سبب پیدا ہوا۔سوال تو یہ ہے کہ کرنسی پالیسی اور مالیاتی بازار کے ثالثوں کی نگرانی کے سسٹم کو کیسے چلایا جائے گا تاکہ مستقبل میں بحران دوبارہ نہ کھڑے ہوسکیں۔
(انل نریندر)

02 جولائی 2015

ویاپم گھوٹالے کی الجھتی گتھی! سپریم کورٹ میں معاملہ

مدھیہ پردیش کمرشل امتحان منڈل (ویاپم) کے داخلے اور بھرتی گھوٹالے کے دو اور ملزمان کی موت کو ریاستی سرکار بھلے ہی ایک فطری موت بتا رہی ہو لیکن اس سے وزیر اعلی شیو راج سنگھ چوہان کی مشکلیں بڑھتی جارہی ہیں۔ پردیش کے کمرشل کالجوں میں داخلہ امتحان ، پولیس اور جنگلاتی محافظ اور ناپ تول انسپکٹر سے لیکر ٹھیکہ ٹیچروں کی بھرتی امتحان کا انعقاد کرنے والے ویاپم کے گھوٹالے کی جانچ کررہی ایس آئی ٹی تک نے جبلپور ہائی کورٹ کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ اب تک اس گھوٹالے سے وابستہ 23 گواہوں یا ملزمان کی اچانک موت ہوچکی ہے۔ کانگریس لیڈر دگوجے سنگھ نے اب سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ انہوں نے بڑی عدالت کی نگرانی میں معاملے کی سی بی آئی جانچ کرانے کی مانگ کی ہے اور سپریم کورٹ میں اس مسئلے پر عرضی دائر کی ہے۔ منگلوار کو دگوجے نے کہا کہ معاملے سے وابستہ کم سے کم 24 ملزمان اور گواہوں کی اب تک پراسرار حالات میں موت ہوجانے کے ساتھ یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔ کچھ رپورٹوں میں ایسی اموات کی تعداد40 تک پہنچنے کا دعوی کیا گیا ہے۔ کانگریس سکریٹری جنرل دگوجے سنگھ نے کہا کہ فی الحال گھوٹالے کی جانچ کررہی ریاستی پولیس کی اسپیشل تفتیشی ٹیم نے معاملے میں اس کے جواز اور پولیس سول سروس و عدلیہ کے سینئر افسران اور ساتھ ہی بھاجپا لیڈروں کے ملوث ہونے کے چلتے لاچاری دکھائی ہے۔ دگوجے نے کہا جس معاملے میں پردیش کے وزیر اعلی کا نام بھی شامل ہو، ریاستی سرکار کے تحت آنے والی کوئی ایجنسی جانچ نہیں کرسکتی اس لئے سی بی آئی جانچ ہونی چاہئے۔ یہ معاملہ کچھ کچھ اترپردیش کے قومی دیہی ہیلتھ مشن گھوٹالے کی راہ پر چلتا دکھائی دے رہا ہے، جس میں بھی کئی ملزمان اور گواہوں کی مشتبہ حالات میں موت ہوگئی تھی۔ ظاہر ہے اہم گواہوں اور ملزمان کی موت ہوجانے سے نہ صرف جانچ متاثر ہوسکتی ہے بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ اس بڑے نیٹورک کا خلاصہ بھی نہ ہوپائے جس کے ذریعے اسے انجام دیا جارہا تھا۔ مثلاً جن دو ملزمان کی ابھی موت ہوئی ہے، ان میں سے ایک 29 سالہ اسسٹنٹ پروفیسر نریندر سنگھ تومر کے پتا کا الزام ہے کہ ان کا بیٹا کچھ بڑے ناموں کو سامنے لانے والا تھا۔ یہ معاملہ حالانکہ دو سال پہلے اجاگر ہوا لیکن جانچ سے یہ حقائق سامنے آئے کہ پچھلے 7-8 برسوں کے دوران کم سے کم ایک ہزارلوگوں کی غلط طریقے سے یا تو نوکریوں میں بھرتی ہوئی یا انہیں میڈیکل یا ویٹنری کالجوں میں داخلہ دلایا گیا۔ یہ گھوٹالہ کتنا بڑا ہے اس کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس معاملے میں ایک سابق امتحان عملہ سمیت کئی افسران اور نیتاؤں کی گرفتار ہوچکی ہے۔ گورنر کے ایک ملزم بیٹے تک کی مشتبہ حالات میں موت ہوچکی ہے۔ بیشک یہ معاملہ بہت بڑا ہے جس میں قریب500 ملزمان اب بھی فرار ہیں لیکن متعین وقت پر طریقے سے اس کی جانچ پوری نہ ہوئی تو معاملہ الجھتا جائے گا۔
(انل نریندر)

نقلی دوا کا زہر پھیلتا جارہا ہے

ایک سیکٹر ایسا ہے جس پر سرکار کو فوری توجہ دینا چاہئے یہ ہے نقلی دواؤں کا سیکٹر۔ دنیا کے کسی بھی مہذب دیش میں نقلی دواؤں کا چلن اتنا نہیں جتنا ہمارے دیش میں ہے۔ نقلی دواؤں سے لوگوں کی جانیں چلی جاتی ہیں۔ اسمیک، گانجا، کوکن، ہیروئن جیسی منشیات لینے سے موت نہیں ہوتی۔ موت تبھی ہوتی ہے جب چیز کا زیادہ مقدار میں استعمال ہو لیکن نقلی دوائیں جان لیوا ہیں۔ یہ نقلی دوائیں عام بیماریوں جیسے بیمار، درد، زخم سکھانے کی ہوتی ہیں۔ جراثیم کش دوائیں تک نقلی موجود ہیں۔ ایسے کیمسٹوں کی کمی نہیں ہے جو چند روپے کے لالچ میں مریض کو موت کے منہ میں جھونک دیتے ہیں۔ ان نقلی دواؤں کا عام طور پر غریب طبقہ زیادہ شکار ہوتا ہے۔ یہ گروہ اپنی دواؤں کو جھگی بستی اور نچلے اور کم پڑھے لکھے علاقوں میں بیچنے ہیں، لوگ دوا خریدتے وقت اس کی پیکنگ پر خاص توجہ نہیں دیتے۔ نہ ہی وہ دوا کی ایکسپائری ڈیٹ پر توجہ دیتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کم روپے کی دوائی کے بارے میں کیمسٹ سے زیادہ پوچھ تاچھ نہیں کرتے۔ اگر کرتے بھی ہیں تو گھر میں چلا رہے ڈاکٹری جیسے فرضی ڈاکٹر ان کی دوائیں بدل کر نقلی دوائیں لکھ دیتا ہے۔ نقلی دواؤں پر اصلی دوائی سے 40 فیصدی کا منافع ہوتا ہے۔افسران بتاتے ہیں کہ اگر کسی دوائی کا ایک پتہ40 روپے میں آتا ہے اور اس پر کیمسٹ کو10 روپے کا فائدہ ہوتا ہے تو وہی نقلی دوائی کا پتہ30 روپے میں ملتا ہے اور اس پر کیمسٹ کو 15 سے17 روپے مل جاتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ نقلی دوائی بنانے کے لئے ایک چھوٹا سا کمرہ اور چھوٹی سی دو تین مشینوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوائی بنانے کا سامان بھی آسانی سے میسر ہوجاتا ہے۔ حال ہی میں2016 کی دوائیاں مارکیٹ میں دیکھی گئی ہیں۔ دہلی پولیس نے پچھلے برس نقلی دوا بیچنے والے اور ان کا ساتھ دینے والے کیمسٹ کو گرفتار کیا تھا۔ نقلی دوا بنانے والے جھولا چھاپ ڈاکٹر ایسی دواؤں کی پرچی دینے والے اور نقلی دوا بیچنے والے کیمسٹوں سے ان کی ملی بھگت ہوتی ہے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ آپ اچھے ڈاکٹر کو دکھائیں اور بھروسے مند کیمسٹ سے دوا خریدیں۔ کیمسٹ ان نقلی دواؤں سے اتنا پریشان ہیں تو کچھ پتتے کے پیچھے اپنی دوکان کی اسٹیکر بھی لگا دیتے ہیں۔کچھ نقلی دوا بنانے والے مریض بن کر دوا واپس کرنے کے چکرمیں ان نقلی دواؤں کو کیمسٹوں کو دے جاتے ہیں۔ یہ سماج دشمن عناصر لوگوں کی جان سے کھیل رہے ہیں۔ دکھ کی بات یہ بھی ہے کہ سرکار نہ تو اس طرف توجہ دیتی ہے اور نہ ہی اس کے پاس ایسا کوئی انتظام ہے کہ بازار میں ان نقلی دواؤں کو پکڑا جائے اور قصورواروں کو سخت سزا دی جائے۔ ہم راجدھانی میں مرکزی وزیر صحت اور دہلی حکومت کے وزیر صحت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس نقلی مال کو روکنے کی سنجیدہ کوشش کرے۔ جیسا میں نے کہا کہ دنیا کے کسی ملک میں شاید ہی ایسی نقلی دواؤں کا گورکھ دھندہ چلتا ہو۔
(انل نریندر)

01 جولائی 2015

دہشت گردوں کو ناکام کرنے کیلئے 80 مساجد بند ہوں گی

برطانیہ نے شمالی افریقی دیش تیونس میں ایک ہوٹل پر جمعہ کو ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد دیش میں ایسے ہی اور حملوں کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ اس حملے میں 39 لوگ مارے گئے تھے جس میں 15 برطانوی شہری تھے۔ ادھر فرانس، کویت اور تیونس کے بعد دہشت گردتنظیم اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) سنیچر کو برطانیہ کو دہلانے کے فراق میں تھی لیکن پولیس نے مسلح افواج ڈے پریڈ کے دوران دھماکے کی سازش کو ناکام کردیا ہے۔ لی ریایوے ریجمنٹ کے فوجیوں کی پریڈ دیکھنے آئے لوگوں کو نشانہ بنا کر پریشر کوکر بم کے ذریعے یہ حملہ کیا جانا تھا۔ 2003 میں بھی اس ریجمنٹ کے فوجیوں کو اسلامی کٹرپسندوں نے نشانہ بنایا تھا۔ جمعہ کو تیونس پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد اگلے دن سنیچر کو یہاں کی حکومت نے دیش کی 80 مساجد بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہیں ایک ہفتے کے اندر بند کردیا جائے گا یہ مساجد سرکاری کنٹرول کے باہر ہیں۔ وزیر اعظم حبیب الاشید نے کہا کہ ان مسجدوں میں زہر افشاں تقریریں کی جاتی ہیں اور تشدد بھڑکایا جاتا ہے۔ جمعہ کو تیونس کے سیاحتی مقامی سوس میں ہوئے آتنکی حملے میں 39 لوگ مارے گئے تھے ان میں کافی تعداد میں یوروپی شہری بھی تھے۔ حملے کی ذمہ داری آتنکی گروپ آئی ایس نے لی ہے۔ وزیر اعظم حبیب الاشید نے کہا کہ آئین کے خلاف کام کرنے والی پارٹیوں اور گروپوں پر بھی کارروائی ہوگی۔ اس درمیان برطانوی ٹور آپریٹروں تھامسن اور فرسٹ چوائس نے سیلانیوں کو تیونس سے نکلنے کے لئے 10 جہاز بھیجے ہیں ان سے2500 لوگوں کو بچاکر لایا جاسکے گا۔ دونوں آپریٹروں نے بھی کہا کہ مرنے والوں میں زیادہ تر ان کے گراہک تھے۔ تیونس کے جی ٹی پی کا 15.2 فیصدی حصہ سیاحت سے آتا ہے اور قریب13.2 فیصد ملازمتوں کے مواقع بھی سیاحتی سیکٹر سے جڑے ہیں۔ پچھلے سال تیونس میں آنے والے سیاحوں کی تعداد60 لاکھ تھی۔ جمعہ کو آئی ایس نے سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ساؤس کے ایک ایسے ہوٹل پر حملہ کیا جہاں یہ غیر ملکی سیاح ٹھہرے ہوئے تھے۔ انہوں نے تیونس کے معیشت پر چوٹ پہنچانے کے لئے ایسا مقام چنا جہاں سیاح ٹھہرتے ہیں تاکہ دیش کا ٹورازم متاثر ہو۔ دوسری طرف تیونس کے وزیر اعظم حبیب الاشید کی ہمت کی داد دینی ہوگی کہ انہوں نے 80 مساجد کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان مساجد سے کٹر پسندی کو اکسانے کیلئے تقریریں کی جاتی ہیں لیکن ایسا نہیں کہ ساری مساجد میں کٹر پسندی کا پروپگنڈہ ہوتا ہے لیکن کچھ مساجد میں نوجوانوں کو بھڑکانے کا کام کیا جاتا ہے یہ تلخ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن عوام اور مولویوں و کٹر پسندوں کے ڈر سے کوئی دیش ایسی مساجد پر کسی بھی طرح کی کارروائی کرنے سے کٹراتے ہیں۔ تیونس نے ہمت دکھائی ہے اگر وہ ان 80 مساجد کو بند کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ کام ساری دنیا کے لئے ایک مثال ہوگی۔
(انل نریندر)

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...