نواب ملک کے خلاف الزام صحیح لگتے ہیں!

پیسہ کمانا روک تھام ایکٹ سے متعلق معاملوں کی سماعت کرنے والی اسپیشل عدالت نے کہا ہے کہ پہلی نظر میں مہاراشٹر کے وزیر نواب ملک کے خلاف لگے الزام صحیح ظاہر ہو رہے ہیں ۔انفوسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے مہاراشٹر کے وزیر اقلیت امور نواب ملک کو اثاثہ اکٹھا کرنے کے ایک معاملے کی جانچ کے سلسلے میں بدھوار کو گرفتار کیا تھا اس معاملے میں معاملے کی سماعت کر رہی عدالت کے اسپیشل جج آر این روکڑے نے کہا کہ جرم کی جانچ کیلئے ای ڈی کو کافی وقت دینے کی ضرور ت ہے۔کیوں کہ ملک کو حراست میں لیکر ان سے پوچھ تال کرنا ضروری ہے۔ عدالت نے بدھوار کو این سی پی کے سینئر لیڈر نواب ملک کو تین مارچ تک کیلئے ای ڈی کی حراست میں بھیجا تھا عدالت کے حکم کی کاپی جمعہ کو دستیاب ہونے کے بعد یہ جانکاری سامنے آئی ۔ ای ڈی کا کہنا ہے کہ یہ جانچ بھگوڑے ،بدمعاش سرغنہ داو¿د ابراہیم اور اس کے ساتھیوں اور ممبئی انڈر ورلڈ کی سرگرمیوں سے جوڑی پیسہ اکٹھا کرنے کی جانچ سے متعلق ہے ۔عدالت کا کہنا تھا کہ ایسا لگتاہے کہ ملزم نے اہم ترین پہلوو¿ں پر جانچ میں تعاون نہیں دیا ۔اور کہا کہ پہلی نظر میں یہ ماننے کیلئے مناسب بنیاد ہے کہ الزام ای ایم ایل اے کے تحت صحیح ہے ۔ عدالت نے مانا کہ جانچ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور ملک کو حراست میںلیکر پوچھ تاچھ کرنا جرم میں شامل لوگوں کا پتہ لگانے کیلئے ضروری ہے۔ جج نے کہا کہ جرم سے متعلق یہ سرگرمیاں پچھلے 20برسوں یا اس سے زیادہ سے چلی آرہی ہیں ۔ اس لئے جرم کی جانچ کیلئے مناسب وقت دیے جانے کی ضرورت ہے۔ ادھر مہاراشٹر کے وزیر نواب ملک کو برخاست کرنے کی بھاجپا کی مانگ کا شیو سینا نیتا سنجے راوت نے جواب دیا ۔ ان کا کہنا تھاکہ کسی بھی ساتھی وزیر کا استعفیٰ منظور کرنا یا نہ کرنا وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کا مخصوص اختیار ہے۔خیال رہے کہ ای ڈی کے ذریعے گرفتاری کے بعد سے ہی بھاجپا نواب ملک کو کیبنٹ سے ہٹانے کی مانگ کررہی ہے۔ وہیں ملک کو طبی اسباب سے یہاں کے سرکاری اسپتال میں علاج چل رہاہے۔ یہ جانکاری ملک کے دفتر نے دی ہے۔ (انل نریندر)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

’وائف سواپنگ‘ یعنی بیویوں کی ادلہ بدلی کامقدمہ

’’مجھے تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا۔۔ میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی بہت کم تھا‘‘

سیکس ،ویڈیو اور وصولی!