فیصلہ ٹرمپ کےٹیرف منسوخ کرنے کا !

ماننا پڑے گا کہ امریکہ میں آج بھی جمہوریت زندہ ہے ۔آئین بالاتر ہے ۔امریکہ کی سپریم کورٹ نے دکھا دیا کہ وہ آئین کی حفاظت کرنے میں کسی کے سامنے نہ تو جھکنے کو تیار ہے اور نہ ہی کسی دباؤ میں آئے گی چاہے وہ امریکہ کے صدر کیوں نہ ہوں ۔امریکی سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز فیصلہ سنایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ورلڈ ٹیرف غیر آئینی ہے۔ امریکہ کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جون رابرٹرس نے فیصلہ 6/3کی اکثریت سے دیا یعنی 6 ججوں نے ٹیرف کو ناجائز بتایا اور 3 اس سے غیر متفق تھے ۔ٹرمپ امریکی ٹریڈ معاہدوں کو نئے سرے سے کرنے کے لئے دنیا بھر میں ٹیرف کا دباؤ بنانے کے لئے استعمال کررہے تھے۔ یہ پہلی بار ہے جب سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے دوسرے عہد کی کسی پالیسی کو فیصلہ کن طور سے منسوخ کیا ہے ۔دیگر سیکٹروں میں عدالت کے کنزرویٹو اکثریت نے اب تک ٹرمپ کو نگراں پاور س کے وسیع استعمال کی چھوٹ دی تھی ۔اس بار سپریم کورٹ میں چھ ججوں کی اکثریت تین کنزرویٹو اور تین لبرل نے کہا کہ بغیر کانگریس (امریکی پارلیمنٹ ) کی واضح اجازت کے اتنے وسیع ٹیرف لاگو کر ٹرمپ نے حد پار کی ہے۔ عدالت نے ٹرمپ کی اس دلیل کو مسترد کر دیا کہ 1977 کا قانون انٹرچنجنل ایمرجنسی اکنامک پاور س ایکٹ ، درپردہ طور سے ٹیرف کی اجازت دیتا ہے ۔جسٹس رابرٹس نے کہا کہ صدر جس اختیار کا دعویٰ کررہے ہیں وہ کسی بھی پیمانہ پر حد سے باہر کا تھا ۔چیف جسٹس نے فیصلے میں لکھا ہے ،اگر کانگریس ٹیر ف لگانے جیسی غیر معمولی اختیار دینا چاہتی ہے تو وہ صاف طور سے کر سکتی ہے ۔انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کو قانونی دلیلوں کو قبول کرنا اور ٹریڈ پالیسی پر ایگزیکٹو اور آئین سازیہ کے لمبے اشتراک کو ختم کر صدر کو بے کنٹرول طاقت دینا ہوگا ۔ٹرمپ کے ٹیرف کو ناجاز بتانے کے فیصلے سے تین کنزرویٹو جج کلیرش تھامس ،سیموئل الیٹو اور بریٹ کیدنو نے رضامندی جتائی ۔ٹرمپ نے ان تینوں ججوں کی تعریف بھی کی ہے ۔کیدنونے کہا کہ کئی قانون صدور کے ٹیرف اور درآمدات پر پابندی لگانے کی اجازت دیتے ہیں ۔ان کے مطابق 1977 کا قانون نیشنل ایمرجنسی کے دوران غیر ملکی خطروں سے نمٹنے کے لئے صدر کو اجازت دیتے ہیں ۔اِدھر ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس میں فیصلے کو خطرناک اور مضحکہ خیز بتایا اور کہا کہ وہ عدالت کے کچھ ممبران سے شرمندہ ہیں ۔انہوں نے کہا یہ فیصلہ غلط ہے ۔لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، کیوں کہ ہمارے پاس بہت طاقتور متبادل موجود ہے ۔ٹرمپ کے پاس دو بڑے متبادل ہیں ۔پہلا: ٹرمپ امریکی کانگریس یعنی نمائندہ ہاؤس اور سینٹ میں ٹیرف کی تجویز کو پاس کرانے کے لئے رکھ سکتے ہیں ۔435 ممبری ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کی رپبلکن 218 جبکہ اپوزیشن ڈیموکریٹ 213 ممبران ہیں جبکہ 100 کی سینٹ میں رپبلکن 53 اور ڈیموکریٹ 47 ہیں ۔ٹیرف کے خلاف سینٹ میں دیکھا جائے تو ٹرمپ کو پارلیمنٹ میں اکثریت ہے اور ٹیرف کو رکھنے سے شاید پرہیز کریں ۔دیگر تقاضے لاگو کر سکتے ہیں ۔لیکن لمبی کاروائی ہوگی ۔ٹرمپ امریکی آئین کی دفعہ 301 کے تحت ٹیرف قانون کو لاگو کر سکتے ہیں ۔صدر سیکورٹی کے تحت ٹیرف کو جائز ٹھہرایاجاتا ہے ۔ٹرمپ نے چین اور کنیڈا اور میکسیکو پر انہیں تقاضوں کے تحت ٹیرف لگایا تھا حالانکہ انہیں تقاضوں کو بھی کورٹ میں چنوتی دی جاسکتی ہے ۔ٹرمپ نے بھی اعلان کر دیا ہے کہ وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔جمعہ کی رات انہوں نے کہا دیگر قانونی اختیارات کی بنیاد پر کیا 10 فیصد ورلڈ ٹیرف لگانے کے حکم پر دستخط کر دئیے ہیں ۔ٹرمپ نے کہا ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے ہم اور زیادہ پونجی اکٹھا کریں گے دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے ۔ساری دنیا میں اب ریفنڈ کی مانگ اٹھنی شروع ہو گئی ہے ۔آگے آگے دیکھتے ہیں ہوتا ہے کیا ؟ (انل نریندر)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

’وائف سواپنگ‘ یعنی بیویوں کی ادلہ بدلی کامقدمہ

’’مجھے تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا۔۔ میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی بہت کم تھا‘‘

سیکس ،ویڈیو اور وصولی!